Forwarded from Abde Mustafa Organisation
हसद और उसकी तबाह कारियाँ
हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद गज़ाली रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु तहरीर फ़रमाते हैं कि हज़रते मूसा अ़लैहिस्सलाम ने एक शख्स को अ़र्शे आज़म के साये में देखा तो आप ने उस के मर्तबे पर रश्क किया और फ़रमाया ये शख्स रब की बारगाह में मुकर्रम व मुअ़ज़्ज़म है।
फिर अल्लाह त'आला से सवाल किया कि उस का नाम क्या है और ये नेक कौन है? तो अल्लाह त'आला ने उस के नेक कामों में तीन काम को ज़ाहिर फ़रमा दिया : एक ये कि खुदा किसी को नवाज़ता है तो ये शख्स हसद नहीं करता,
दूसरा ये कि ये शख्स अपने माँ-बाप की नाफ़रमानी नहीं करता और
तीसरा ये कि उस शख्स ने कभी चुगल खोरी नहीं की।
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
इमाम गज़ाली रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु लिखते हैं कि हज़रते ज़करिया अ़लैहिस्सलाम ने फ़रमाया : अल्लाह त'आला इरशाद फ़रमाता है कि हासिद मेरी नेमत का दुश्मन है। मेरे फ़ैसले से नाराज़ होता है और मैने अपने बन्दों के दरमियान तो तक़्सीम की है वो (हासिद) इस तक़्सीम पर राज़ी नहीं होता।
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
हुज़ूर ﷺ ने फ़रमाया मुझे अपनी उम्मत पर सब से ज़्यादा इस बात का डर है कि :
ایکثر فیہم المال فیتحاسدون و یقتتلون
(لسان المیزان، ج2، ص75)
यानी उन में माल की कसरत हो जायेगी तो फिर एक-दूसरे से हसद करेंगे और एक दूसरे को क़त्ल करेंगे।
प्यारे भाइयों!
हसद करना, माँ-बाप की ना-फ़रमानी और चुगल खोरी ये तीनों अ़मल जहन्नम में ले जाने वाले हैं और अगर इन में से एक अ़मल भी किसी शख्स में मौजूद है तो वो एक अ़मल भी जहन्नम तक पहुँचाने के लिये काफ़ी है।
अफ्सोस सद अफ्सोस!
आज मुसलमानों में ये तीनों बुरे अ़मल कसरत से पाये जाते हैं। अल्लाह त'आला इन तीनों बुरे कामों से हम को महफूज़ रखे। आमीन सुम्मा आमीन या रब्बल आलमीन।
अ़ब्दे मुस्तफ़ा
हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद गज़ाली रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु तहरीर फ़रमाते हैं कि हज़रते मूसा अ़लैहिस्सलाम ने एक शख्स को अ़र्शे आज़म के साये में देखा तो आप ने उस के मर्तबे पर रश्क किया और फ़रमाया ये शख्स रब की बारगाह में मुकर्रम व मुअ़ज़्ज़म है।
फिर अल्लाह त'आला से सवाल किया कि उस का नाम क्या है और ये नेक कौन है? तो अल्लाह त'आला ने उस के नेक कामों में तीन काम को ज़ाहिर फ़रमा दिया : एक ये कि खुदा किसी को नवाज़ता है तो ये शख्स हसद नहीं करता,
दूसरा ये कि ये शख्स अपने माँ-बाप की नाफ़रमानी नहीं करता और
तीसरा ये कि उस शख्स ने कभी चुगल खोरी नहीं की।
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
इमाम गज़ाली रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु लिखते हैं कि हज़रते ज़करिया अ़लैहिस्सलाम ने फ़रमाया : अल्लाह त'आला इरशाद फ़रमाता है कि हासिद मेरी नेमत का दुश्मन है। मेरे फ़ैसले से नाराज़ होता है और मैने अपने बन्दों के दरमियान तो तक़्सीम की है वो (हासिद) इस तक़्सीम पर राज़ी नहीं होता।
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
हुज़ूर ﷺ ने फ़रमाया मुझे अपनी उम्मत पर सब से ज़्यादा इस बात का डर है कि :
ایکثر فیہم المال فیتحاسدون و یقتتلون
(لسان المیزان، ج2، ص75)
यानी उन में माल की कसरत हो जायेगी तो फिर एक-दूसरे से हसद करेंगे और एक दूसरे को क़त्ल करेंगे।
प्यारे भाइयों!
हसद करना, माँ-बाप की ना-फ़रमानी और चुगल खोरी ये तीनों अ़मल जहन्नम में ले जाने वाले हैं और अगर इन में से एक अ़मल भी किसी शख्स में मौजूद है तो वो एक अ़मल भी जहन्नम तक पहुँचाने के लिये काफ़ी है।
अफ्सोस सद अफ्सोस!
आज मुसलमानों में ये तीनों बुरे अ़मल कसरत से पाये जाते हैं। अल्लाह त'आला इन तीनों बुरे कामों से हम को महफूज़ रखे। आमीन सुम्मा आमीन या रब्बल आलमीन।
अ़ब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حسد اور اس کی تباہ کاریاں
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص کو عرشِ اعظم کے سائے میں دیکھا تو آپ نے اس کے مرتبہ پر رشک کیا اور فرمایا یہ شخص رب کی بارگاہ میں مکرم و معظّم ہے۔
پھر اللہ تعالی سے سوال کیا کہ اس کا نام کیا ہے اور یہ نیک کون ہے؟ تو اللہ تعالی نے اس کے نیک کاموں میں تین نیک کام کو ظاہر فرمادیا: ایک یہ کہ خدا کسی کو نوازتا ہے تو یہ شخص حسد نہیں کرتا،
دوسرا یہ کہ یہ شخص اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہیں کرتا اور
تیسرا یہ کہ اس شخص نے کبھی چغل خوری نہیں کی۔
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
امام غزالی رضی اللہ تعالی عنہ لکھتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ حاسد میری نعمت کا دشمن ہے۔ میرے فیصلے سے ناراض ہوتا ہے اور میں نے اپنے بندوں کے درمیان تو تقسیم کی ہے وہ (حاسد) اس تقسیم پر راضی نہیں ہوتا۔
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ اس بات کا ڈر ہے کہ:
ایکثر فیہم المال فیتحاسدون و یقتتلون
(لسان المیزان، ج2، ص75)
یعنی ان میں مال کی کثرت ہو جائے گی تو پھر ایک دوسرے سے حسد کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔
پیارے بھائیوں!
حسد کرنا، ماں باپ کی نافرمانی اور چغل خوری یہ تینوں عمل جہنم میں لے جانے والے ہیں اور اگر ان میں سے ایک عمل بھی کسی شخص میں موجود ہے تو وہ ایک عمل ہی جہنم تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
افسوس صد افسوس!
آج مسلمانوں میں یہ تینوں برے عمل کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان تینوں برے کاموں سے ہم کو محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
عبد مصطفی
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص کو عرشِ اعظم کے سائے میں دیکھا تو آپ نے اس کے مرتبہ پر رشک کیا اور فرمایا یہ شخص رب کی بارگاہ میں مکرم و معظّم ہے۔
پھر اللہ تعالی سے سوال کیا کہ اس کا نام کیا ہے اور یہ نیک کون ہے؟ تو اللہ تعالی نے اس کے نیک کاموں میں تین نیک کام کو ظاہر فرمادیا: ایک یہ کہ خدا کسی کو نوازتا ہے تو یہ شخص حسد نہیں کرتا،
دوسرا یہ کہ یہ شخص اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہیں کرتا اور
تیسرا یہ کہ اس شخص نے کبھی چغل خوری نہیں کی۔
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
امام غزالی رضی اللہ تعالی عنہ لکھتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ حاسد میری نعمت کا دشمن ہے۔ میرے فیصلے سے ناراض ہوتا ہے اور میں نے اپنے بندوں کے درمیان تو تقسیم کی ہے وہ (حاسد) اس تقسیم پر راضی نہیں ہوتا۔
(احیاء العلوم، ج3، ص422)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ اس بات کا ڈر ہے کہ:
ایکثر فیہم المال فیتحاسدون و یقتتلون
(لسان المیزان، ج2، ص75)
یعنی ان میں مال کی کثرت ہو جائے گی تو پھر ایک دوسرے سے حسد کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔
پیارے بھائیوں!
حسد کرنا، ماں باپ کی نافرمانی اور چغل خوری یہ تینوں عمل جہنم میں لے جانے والے ہیں اور اگر ان میں سے ایک عمل بھی کسی شخص میں موجود ہے تو وہ ایک عمل ہی جہنم تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
افسوس صد افسوس!
آج مسلمانوں میں یہ تینوں برے عمل کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان تینوں برے کاموں سے ہم کو محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
अह़काम की त़रह़ अ़क़ाइद क्यों
तबदील परिवर्तन नहीं होते हैं ?
احکام کی طرح عقائد
کیوں تبدیل نہیں ہوتے؟
Ahkam Ki Tarah Aqaid Kyon
Tabdeel Change Nahin Hote
तबदील परिवर्तन नहीं होते हैं ?
احکام کی طرح عقائد
کیوں تبدیل نہیں ہوتے؟
Ahkam Ki Tarah Aqaid Kyon
Tabdeel Change Nahin Hote
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
अंधेरे में नमाज़ पढ़ना कैसा ?
اندھیرے میں نماز پڑھنا کیسا؟
Andhere Men Namaz?
اندھیرے میں نماز پڑھنا کیسا؟
Andhere Men Namaz?
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
भूलेख खसरा खतौनी भारत
Bhulekh Khasra Khatauni
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔰 Softwares & Techs... 🔰
https://t.me/Soft_And_Techs
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
UP Bhulekh WebSite ↴
http://upbhulekh.gov.in/public/public_ror/Public_ROR.jsp
Yeh App Play Store Par↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.bhulekha.allstatelandrecords
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
बैअ़् नामा بیع نامہ बैनामा Bainama Stamp Paper Photo Ke Sath Mukammal PDF File Free Download Indian Government Website Se Google Par IGRSUP Likh Kar Search Karen, Ya Neeche Diye Gaye Link Par Click Keejiye
https://igrsup.gov.in/igrsup/secondPartyNEWVeiwSroList
Bhulekh Khasra Khatauni
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔰 Softwares & Techs... 🔰
https://t.me/Soft_And_Techs
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
UP Bhulekh WebSite ↴
http://upbhulekh.gov.in/public/public_ror/Public_ROR.jsp
Yeh App Play Store Par↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.bhulekha.allstatelandrecords
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
बैअ़् नामा بیع نامہ बैनामा Bainama Stamp Paper Photo Ke Sath Mukammal PDF File Free Download Indian Government Website Se Google Par IGRSUP Likh Kar Search Karen, Ya Neeche Diye Gaye Link Par Click Keejiye
https://igrsup.gov.in/igrsup/secondPartyNEWVeiwSroList
com.bhulekha.allstatelandrecords.apk
7.5 MB
🔰 Softwares & Techs... 🔰
https://t.me/Soft_And_Techs
https://t.me/Soft_And_Techs
बैअ़् नामा بیع نامہ बैनामा Bainama Stamp Paper Aur Photo Ke Sath Mukammal PDF File Free Download Indian UP Government Website Se Google Par IGRSUP Likh Kar Search Karen, Ya Neeche Diye Gaye Link Par Click Keejiye
https://igrsup.gov.in/igrsup/secondPartyNEWVeiwSroList
Tareeqa ScreenShot Dekhen
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔰 Softwares & Techs... 🔰
https://t.me/Soft_And_Techs
https://igrsup.gov.in/igrsup/secondPartyNEWVeiwSroList
Tareeqa ScreenShot Dekhen
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔰 Softwares & Techs... 🔰
https://t.me/Soft_And_Techs
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 1
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
یہ کہانی ایک ایسے عاشق کی ہے جو ایک سبزی کھانے کے بعد چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتا تھا!
میرا ایک تاجر دوست جو دعوت میں لاکھوں خرچ کر دیتا تھا، ایک دن اس کے گھر دعوت میں جانا ہوا۔
دسترخوان پر دیکیریکہ (ایک قسم کی سبزی) کو لایا گیا تو وہ کھانے سے رک گیا تو ہم بھی رک گئے۔
اس نے کہا کہ مجھے اس سبزی سے بہت اذیت ہوتی ہے لیکن پھر بھی آپ لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے کھا لیتا ہوں۔
کھانے کے بعد جب وہ ہاتھ دھونے گیا تو میں نے دیکھا کہ اس نے چالیس مرتبہ ہاتھ کو دھویا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے اتنی مرتبہ ہاتھ کو کیوں دھویا؟
اس نے کہا کہ مجھے اس سبزی سے یہی اذیت ہے جس کی میں بات کر رہا تھا۔
میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بیان کرنے سے رکا لیکن میرے اصرار پر اس نے اپنا قصہ کچھ یوں بیان کیا:
(اب اس کی کہانی شروع ہوتی ہے)
میرے والد کا انتقال ہوا، اس وقت میری عمر بیس سال تھی۔ والد صاحب نے وراثت میں میرے لیے سرمایۂ تجارت اپنی دکان چھوڑی تھی۔ وفات کے وقت انھوں نے مجھ سے کہا:
"بیٹے! صرف تو میرا وارث ہے۔ مجھ پر کسی کا قرضہ نہیں ہے اور نہ میں نے کسی کا حق دبا رکھا ہے۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے کفن دینا اور اتنا مال مجھ پر صدقہ کرنا اور اتنے کا حج کرنا اور باقی میں اللہ تمھیں برکت دے اور میری یہ وصیت یاد رکھنا کہ مال کو فضول میں خرچ نہ کرنا اور بازار سے وابستہ رہنا اور سب سے پہلے اس میں داخل ہونا اور سب سے آخر میں اس سے باہر نکلنا اور اگر سحری کے وقت جا سکو تو ضرور جانا۔ اگر تم میری نصیحتوں پر عمل کرو گے تو دنیا میں بڑا نام حاصل ہوگا۔"
(پھر ایک لڑکی اس کی زندگی میں آتی ہے... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
یہ کہانی ایک ایسے عاشق کی ہے جو ایک سبزی کھانے کے بعد چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتا تھا!
میرا ایک تاجر دوست جو دعوت میں لاکھوں خرچ کر دیتا تھا، ایک دن اس کے گھر دعوت میں جانا ہوا۔
دسترخوان پر دیکیریکہ (ایک قسم کی سبزی) کو لایا گیا تو وہ کھانے سے رک گیا تو ہم بھی رک گئے۔
اس نے کہا کہ مجھے اس سبزی سے بہت اذیت ہوتی ہے لیکن پھر بھی آپ لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے کھا لیتا ہوں۔
کھانے کے بعد جب وہ ہاتھ دھونے گیا تو میں نے دیکھا کہ اس نے چالیس مرتبہ ہاتھ کو دھویا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے اتنی مرتبہ ہاتھ کو کیوں دھویا؟
اس نے کہا کہ مجھے اس سبزی سے یہی اذیت ہے جس کی میں بات کر رہا تھا۔
میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بیان کرنے سے رکا لیکن میرے اصرار پر اس نے اپنا قصہ کچھ یوں بیان کیا:
(اب اس کی کہانی شروع ہوتی ہے)
میرے والد کا انتقال ہوا، اس وقت میری عمر بیس سال تھی۔ والد صاحب نے وراثت میں میرے لیے سرمایۂ تجارت اپنی دکان چھوڑی تھی۔ وفات کے وقت انھوں نے مجھ سے کہا:
"بیٹے! صرف تو میرا وارث ہے۔ مجھ پر کسی کا قرضہ نہیں ہے اور نہ میں نے کسی کا حق دبا رکھا ہے۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے کفن دینا اور اتنا مال مجھ پر صدقہ کرنا اور اتنے کا حج کرنا اور باقی میں اللہ تمھیں برکت دے اور میری یہ وصیت یاد رکھنا کہ مال کو فضول میں خرچ نہ کرنا اور بازار سے وابستہ رہنا اور سب سے پہلے اس میں داخل ہونا اور سب سے آخر میں اس سے باہر نکلنا اور اگر سحری کے وقت جا سکو تو ضرور جانا۔ اگر تم میری نصیحتوں پر عمل کرو گے تو دنیا میں بڑا نام حاصل ہوگا۔"
(پھر ایک لڑکی اس کی زندگی میں آتی ہے... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 2
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(پچھلی قسط میں آپ نے اس عاشق کے والد کی وصیت کے بارے میں پڑھا تھا پھر وہ عاشق کہتا ہے...)
میرے والد فوت ہو گئے اور میں نے ان کی وصیت پر عمل کیا۔ سحری کے وقت بازار میں داخل ہوتا اور عشا کے بعد واپس آتا تھا۔ میں لوگوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔
جو لوگ کفن دفن کا انتظام نہیں کر سکتے تھے، ان کی ضروریات کو بھی پورا کرتا تھا۔ میرے پاس ضرورت مند لوگ آتے تھے۔ جب کوئی شخص بازار میں کچھ بیچنے آتا اور اس کی چیز نہیں بکتی تھی تو میں اسے بکوا دیتا تھا۔ اسی طرح ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا اور بازار والوں میں میرا ایک نام ہو گیا، انھوں نے میری استقامت دیکھی اور میری عزت کرنا شروع کر دی۔
ایک دن میں بازار میں بیٹھا ہوا تھا اور ابھی بازار گرم نہیں ہوا تھا کہ ایک لڑکی اپنی سواری (ایک مصری گدھے) پر سوار نظر آئی۔ اس کی گدی پر شکاری پرندے کی کھال کا رومال تھا اور ایک خادم بھی ساتھ تھا۔ وہ لڑکی بازار کے آخر تک پہنچی پھر واپس ہوئی اور میرے پاس آ کر اتر پڑی۔ میں اس کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے اس کی عزت کی اور پوچھا کہ آپ کیا چاہتی ہیں؟ پھر میں نے اسے غور سے دیکھا تو وہ اتنی حسین تھی کہ میں نے اس جیسی نہ تو پہلے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد اب تک اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نظر آئی۔
اس نے کہا کہ مجھے ایسا اور ایسا کپڑا درکار ہے۔ جب میں نے اس کی آواز سنی تو اس میں ایک ایسا نغمہ اور ایسی شکل دیکھی جس نے مجھے قتل کر دیا اور میں اسی وقت اس پر فدا ہو گیا اور مجھے اس سے عشق ہو گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ صبر کریں، بھِیڑ کم ہو جائے تو میں آپ کی فرمائش کے کپڑے پیش کر دوں، میرے پاس بہت کم ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں پھر میرے پاس جو کچھ تھا سب سامنے رکھ دیا۔
(آگے آپ جانیں گے کہ اس لڑکی نے ہزاروں کا سامان خریدا اور بنا پیسے دیے چلتی بنی... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(پچھلی قسط میں آپ نے اس عاشق کے والد کی وصیت کے بارے میں پڑھا تھا پھر وہ عاشق کہتا ہے...)
میرے والد فوت ہو گئے اور میں نے ان کی وصیت پر عمل کیا۔ سحری کے وقت بازار میں داخل ہوتا اور عشا کے بعد واپس آتا تھا۔ میں لوگوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔
جو لوگ کفن دفن کا انتظام نہیں کر سکتے تھے، ان کی ضروریات کو بھی پورا کرتا تھا۔ میرے پاس ضرورت مند لوگ آتے تھے۔ جب کوئی شخص بازار میں کچھ بیچنے آتا اور اس کی چیز نہیں بکتی تھی تو میں اسے بکوا دیتا تھا۔ اسی طرح ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا اور بازار والوں میں میرا ایک نام ہو گیا، انھوں نے میری استقامت دیکھی اور میری عزت کرنا شروع کر دی۔
ایک دن میں بازار میں بیٹھا ہوا تھا اور ابھی بازار گرم نہیں ہوا تھا کہ ایک لڑکی اپنی سواری (ایک مصری گدھے) پر سوار نظر آئی۔ اس کی گدی پر شکاری پرندے کی کھال کا رومال تھا اور ایک خادم بھی ساتھ تھا۔ وہ لڑکی بازار کے آخر تک پہنچی پھر واپس ہوئی اور میرے پاس آ کر اتر پڑی۔ میں اس کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے اس کی عزت کی اور پوچھا کہ آپ کیا چاہتی ہیں؟ پھر میں نے اسے غور سے دیکھا تو وہ اتنی حسین تھی کہ میں نے اس جیسی نہ تو پہلے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد اب تک اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نظر آئی۔
اس نے کہا کہ مجھے ایسا اور ایسا کپڑا درکار ہے۔ جب میں نے اس کی آواز سنی تو اس میں ایک ایسا نغمہ اور ایسی شکل دیکھی جس نے مجھے قتل کر دیا اور میں اسی وقت اس پر فدا ہو گیا اور مجھے اس سے عشق ہو گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ صبر کریں، بھِیڑ کم ہو جائے تو میں آپ کی فرمائش کے کپڑے پیش کر دوں، میرے پاس بہت کم ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں پھر میرے پاس جو کچھ تھا سب سامنے رکھ دیا۔
(آگے آپ جانیں گے کہ اس لڑکی نے ہزاروں کا سامان خریدا اور بنا پیسے دیے چلتی بنی... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 3
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
وہ میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور میرے دل میں عشق کی آگ جل رہی تھی۔ اس کی انگلیاں ظاہر ہوئیں تو وہ طلوع ہونے والے چاند کی طرح تھیں۔ اس کا چہرہ چاند کے گھیرے کی طرح تھا۔ میں اس خوف سے اٹھ گیا کہ مجھ پر عشق کا معاملہ اس سے زیادہ سخت نہ ہو جائے اور کہیں میں دیوانہ نہ ہو جاؤں۔
میں نے اس کی ضرورت کے سامان کو جمع کر دیا جس کی قیمت ہزاروں کی بنتی تھی۔ اس نے وہ سامان لیا اور سوار ہو گئی اور مجھے رقم دیے بغیر چلتی بنی!
میں نے اسے کچھ نہیں کہا کیوں کہ اس کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ میں نے اسے جانے دیا اور نہ اس کے گھر کا پوچھا اور نہ تو یہ کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہے۔ جب وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تو میرے دل میں یہ آیا کہ وہ چکر باز تھی اور مجھے بے وقوف بنا کر چلی گئی۔
میں حیران اور پریشان تھا۔ میں نے یہ بات چھپائی تاکہ لوگوں کے قرضوں کی وجہ سے شرمندگی نہ ہو۔ میرے پاس جو مال تھا اس کو بیچ کر اور پاس میں جو نقد رقم تھی اسے ملا کر قرضے اتار دیے۔ وراثت میں جو زمین ملی تھی اس کا غلہ تھا کہ گزارا ہو رہا تھا۔ ایک ہفتے تک یہی حالت تھی کہ میں نے دیکھا کہ وہی لڑکی آ رہی ہے۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو جو کچھ مجھ پر بیتی تھی سب بھول گیا اور اس کے استقبال میں کھڑا ہو گیا۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ وہ لڑکی پہلے سے زیادہ کا سامان خریدتی ہے اور بنا پیسے دیے چلی جاتی ہے... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
وہ میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور میرے دل میں عشق کی آگ جل رہی تھی۔ اس کی انگلیاں ظاہر ہوئیں تو وہ طلوع ہونے والے چاند کی طرح تھیں۔ اس کا چہرہ چاند کے گھیرے کی طرح تھا۔ میں اس خوف سے اٹھ گیا کہ مجھ پر عشق کا معاملہ اس سے زیادہ سخت نہ ہو جائے اور کہیں میں دیوانہ نہ ہو جاؤں۔
میں نے اس کی ضرورت کے سامان کو جمع کر دیا جس کی قیمت ہزاروں کی بنتی تھی۔ اس نے وہ سامان لیا اور سوار ہو گئی اور مجھے رقم دیے بغیر چلتی بنی!
میں نے اسے کچھ نہیں کہا کیوں کہ اس کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ میں نے اسے جانے دیا اور نہ اس کے گھر کا پوچھا اور نہ تو یہ کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہے۔ جب وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تو میرے دل میں یہ آیا کہ وہ چکر باز تھی اور مجھے بے وقوف بنا کر چلی گئی۔
میں حیران اور پریشان تھا۔ میں نے یہ بات چھپائی تاکہ لوگوں کے قرضوں کی وجہ سے شرمندگی نہ ہو۔ میرے پاس جو مال تھا اس کو بیچ کر اور پاس میں جو نقد رقم تھی اسے ملا کر قرضے اتار دیے۔ وراثت میں جو زمین ملی تھی اس کا غلہ تھا کہ گزارا ہو رہا تھا۔ ایک ہفتے تک یہی حالت تھی کہ میں نے دیکھا کہ وہی لڑکی آ رہی ہے۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو جو کچھ مجھ پر بیتی تھی سب بھول گیا اور اس کے استقبال میں کھڑا ہو گیا۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ وہ لڑکی پہلے سے زیادہ کا سامان خریدتی ہے اور بنا پیسے دیے چلی جاتی ہے... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حاصل مطالعہ (قسط 1)
مطالعہ کے آٹھ فوائد:
مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں البتہ ان کثیر فوائد میں سے آٹھ یہاں تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبتی تحریک پیدا کی جا سکے:
پہلا فائدہ، ایمان کی پختگی:
مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید و رسالت کی شمع مزید روشن ہو جائے ورنہ بعض لوگ قرآن و حدیث پڑھ کر بھی نہ صرف گمراہ بلکہ گمراہ گر بنتے ہیں بلکہ بعض تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مشرق سے ایک گروہ ایسا نکلے گا جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
(صحیح البخاری، ج4، ص599، الحدیث 7562)
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ صرف اپنی عقل کے غلط استعمال سے اور خودساختہ باطل اصولوں کے اندھیرے میں قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اس کے برعکس اگر کوئی شخص ایمان کو ترقی اور ونور عطا کرنے والی مستند کتب جیسے تمھید الایمان، بہار شریعت کا پہلا حصہ یا جاءالحق، یا حافظ ملت، عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کا مختصر مگر مدلل رسالہ المصباح الجدید بنامِ حق و باطل کا فرق یا مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ کی العقائد والمسائل کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے جیسا کہ:
فتاویٰ رضویہ کے حاشیےمیں ہے: حسام الحرمین میں اکابرِ علماے حرمین شریفین کے مہری تصدیقات وہ فتاویٰ ہیں جن میں ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج1 (ب) ،ص968)
جاری ہے........
عبد مصطفی
مطالعہ کے آٹھ فوائد:
مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں البتہ ان کثیر فوائد میں سے آٹھ یہاں تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبتی تحریک پیدا کی جا سکے:
پہلا فائدہ، ایمان کی پختگی:
مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید و رسالت کی شمع مزید روشن ہو جائے ورنہ بعض لوگ قرآن و حدیث پڑھ کر بھی نہ صرف گمراہ بلکہ گمراہ گر بنتے ہیں بلکہ بعض تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مشرق سے ایک گروہ ایسا نکلے گا جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
(صحیح البخاری، ج4، ص599، الحدیث 7562)
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ صرف اپنی عقل کے غلط استعمال سے اور خودساختہ باطل اصولوں کے اندھیرے میں قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اس کے برعکس اگر کوئی شخص ایمان کو ترقی اور ونور عطا کرنے والی مستند کتب جیسے تمھید الایمان، بہار شریعت کا پہلا حصہ یا جاءالحق، یا حافظ ملت، عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کا مختصر مگر مدلل رسالہ المصباح الجدید بنامِ حق و باطل کا فرق یا مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ کی العقائد والمسائل کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے جیسا کہ:
فتاویٰ رضویہ کے حاشیےمیں ہے: حسام الحرمین میں اکابرِ علماے حرمین شریفین کے مہری تصدیقات وہ فتاویٰ ہیں جن میں ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج1 (ب) ،ص968)
جاری ہے........
عبد مصطفی