🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
داڑھی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
سائل:غلام مصطفی طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، بالکل منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ناجائز و گناہ ہے۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسلمان مردوں کے لیے داڑھی ایک مشت(مٹھی،چارانگل) رکھنا واجب ہے۔ایک مشت داڑھی کا وجوب درج ذیل دلائل سے ثابت ہے۔چنانچہ بخاری،مسلم،ابوداؤد،ترمذی ودیگر کتب احادیث میں ہے۔والنظم للاول ”عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ“
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
(صحیح البخاری، کتاب اللباس،باب تقلیم الاظفار،جلد2،صفحہ398،مطبوعہ لاھور)
فتح القدیر، غنیۃ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے ۔والفظ للآخر”وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج“
ترجمہ: بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندوؤں اور بعض انگریزوں کا طریقہ ہے۔
( درر شرح غرر ، کتاب الصیام ،فصل حامل او مرضع خافت، ج1،ص208،داراحیاء الکتب العربیہ ،بیروت)
شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”حلق کردن لحیہ حرام است…وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ا ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند“
ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے… اور بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے، حالانکہ وہ واجب ہے۔
(اشعۃ اللمعات ،جلد 1صفحہ212،مکتبہ نوریہ رضویہ ،سکھر)
مزید تفصیل کے لیے امام اہل سنت اعلی ٰحضرت علیہ رحمۃ رب العزت کے رسالہ ”لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحٰی“ کا مطالعہ فرمائیں۔
جوشخص داڑھی منڈواتا ہو یا کٹوا کرایک مٹھی سے کم کرتا ہو،وہ فاسق معلن ہے۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”داڑھی منڈانا اور کتروا کر حدِ شرع سے کم کرانا ،دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔“
(فتاوی رضویہ،جلد06،صفحہ505،رضافاؤنڈیشن،لاهور)
صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:”داڑھی کو کتر کرایک مشت سے کم کرنا،ناجائز و حرام ہے۔۔اور جب یہ معصیت اور گناہ ہے تو چند بار کرنے سے کبیرہ و فسق ہو گا کہ اسرار علی الصغیرہ کبیرہ ہے اور اس کا بالاعلان ہوناخود ظاہر محتاج بیان نہیں۔“
(فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ76، مکتبہ رضویہ،کراچی)
یاد رہے ! فاسق معلن کوامام بناناگناہ ہےاورفاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی ہے اور اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی، تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔“
(فتاویٰ رضویہ ،جلد6،صفحہ603،رضا فاؤنڈیشن،لاهور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں)اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
یا اس لنک پر کلک کر کے وٹس اپ پہ میسج کریں۔
https://wa.me/message/LNJS36RMGEVAD1
یا فیس بک پر اس آئی ڈی پر میسج کریں۔
https://www.facebook.com/SyedKamran786
03/09/2020
08:15 Pm
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حقیقت

انسان جو دیکھتا ہے اسے ہی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ ہمارے ایمان کا اکثر حصہ ایسی باتوں پر مشتمل ہے جو ہم نے دیکھا ہی نہیں!

دکھائی دینے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی،
حقیقت بالکل دور نہیں ہمارے سامنے ہے۔

حقیقت میں خود کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے خود کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔
حقیقت ایک آئینہ ہے جس کے لیے ظاہری آنکھیں بھی شرط نہیں۔

یوں کَہ لیں کہ یہ ایک احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اگر حقیقت پر ان چھوٹی سی آنکھوں سے قبضہ کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی انتہا نہیں۔

حقیقت کو دیکھنے کے لیے دل ضروری ہے،
ایک ایسا دل جو دیکھ سکے ورنہ یہ آنکھیں دریا کو سمندر سمجھ لیتی ہیں۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہندستان میں ایک تحریک چلی تھی جسے شُدھی ( یعنی ہندو بنانے والی تحریک ) کہاجاتا تھا ۔

اُس تحریک نے جب لاکھوں مسلمانوں کو مرتد بنادیا تو اس وقت دین کا درد رکھنے والے علما و عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت عقل مندی سے ، بھیس بدل کر اس تحریک کا نہ صرف زور توڑا ، بلکہ ساڑھے چار لاکھ مرتدین کو دوبارہ مسلمان کیا ، اور ڈیڑھ لاکھ ہندووں کو بھی کلمہ اسلام پڑھا دیا ۔

( دیکھیے: بھیگی پلکوں کا بوجھ ، دیوتا کی شکتی ، ص 143 ، ط شبیر برادرز لاہور )

جب شُدھی تحریک عروج پر تھی اُس وقت مولانا سید غلام قطب الدین برہمچاری ہندووں کاروپ دھار کر بنارس کے سب سے بڑے مندر میں چلے گئے تھے اور کئی سال تک پنڈتوں سے پڑھتے رہے ۔
آپ نے بڑی محنت سے نہ صرف ہندو مذہب کی جملہ کتابیں ( وید اور شاستر وغیرہ ) پڑھ لیں ، بلکہ اس مذہب کے اسرار و رموز بھی بہ خوبی سیکھ لیے ، اور انھیں استعمال میں لاکر لاتعداد ہندووں کو مسلمان کیا ۔

ایک دن آپ کو معلوم ہوا کہ بدایون کے اطراف میں دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اور دیگر لوگ بھی شُدھی کے فتنے کا شکار ہورہے ہیں ، تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور اسی وقت اس طرف روانہ ہوگئے ۔
وہاں پہنچ کر شام کے وقت آپ نے جسم پر بھبھوت ملا ، ماتھے پر قشقہ لگایا ، اور گلے میں چندن کی مالا ڈال کر پیپل کے درخت کے نیچے آنکھیں بند کرکے ، ایک ٹانگ پر کھڑے ہوگئے ، اور دو دن اسی حالت میں کھڑے رہے ۔
آپ کی اس حالت سے کثیر تعداد میں ہندو اور پنڈت متاثر ہوئے اور آپ کو دیوتا سمجھنے لگے ۔
آپ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدت مند سیکڑوں ، ہزاروں ہندووں کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باطل کو ختم کرنے کے لیے صرف تقریریں اور تحریریں ہی کافی نہیں ہوتیں ، بعض دفعہ سید غلام قطب الدین جیسی قربانی بھی دینی پڑتی ہے ۔

اور جو علما ایسی قربانی دیں انھیں برداشت بھی کرنا پڑتا ہے ۔
سید صاحب جب مندر میں رہتے تھے تو حضرت شاہ عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ چوری چُھپے آپ کو پراٹھے اور کباب دے کرآتے تھے ۔

✍️لقمان شاہد
2-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر کوئی زِندیق کسی صحابیِ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کرے ، تو آپ حکمت کے ساتھ اُس کے شر کو دفع کرنے کی کوشش کیا کریں ، اپنے ہی علما کو طعنے دینے نہ شروع کردیا کریں ۔

" جو لشکر اپنے سپہ سالاروں پر اعتماد نہیں کرتا ، وہ بہت جلد شکست کھاجاتا ہے ۔ "

آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح گستاخانِ صحابہ کے متعلق آپ کے جذبات ہیں ، اسی طرح آپ کے علماے کرام کے بھی ہیں ؛ بس طریقہ تردید الگ الگ ہے ۔

بعض علماے کرام تو بہ ظاہر خاموش رہ کر بھی ، بولنے والوں سے زیادہ دفاعِ صحابہ کر جاتے ہیں ، اور مضبوط بنیادوں پر کر جاتےہیں ۔

رب تعالیٰ ہمیں جملہ علماے اہل سنت کا ادب نصیب کرے ، علما کی بے جا توہین بندے کو رَاندۂ دَرگاہ کردیتی ہے ۔

✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کم‌ سن بیٹی نے یہ کَہ کر دل خوش کردیاہے کہ:

" بابا جس قبر پر کالا جھنڈا لگا ہوا ہو ، اس پر دعا نہیں مانگتے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اُس بندے کی قبر ہوتی ہے جسے اللہ نے ( گستاخی صحابہ کی ) سزا دی ہوتی ہے ۔ "

اپنے بچوں کو صحابہ اور اہل بیت علیھم الرضوان کے دشمنوں کی پہچان کروائیں ، اور ہمیشہ اُن کی صحبت مجلس سے بچنے کی تلقین کرتے رہا کریں ، تاکہ ان کا ایمان محفوظ رہے ۔

✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
10 दिनों के 2 बहुत अहम और हर बा-कार आदमी के लिए जरुरी कोर्सेज:

पहला कोर्स:- *मीडिया ट्रेनिंग कोर्स*

इस कोर्स में सेक्शन वाइस ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *प्रिंट मीडिया सेक्शन में:-* ख़बर कैसे बनती है, समाचार और रिपोर्ट लिखने के अंदाज़ और न्यूज़ की समझ।
(2) *सोशल मीडिया सेक्शन में:-* साइबर क़ानून क्या हैं, ऑनलाइन रहने का शिष्टाचार क्या है और सोशल मीडिया की सामग्री कैसे बनती है?
(3) *प्रोडक्शन सेक्शन में:-* अच्छे वीडियो कैसे बनाएं और काम के सॉफ्टवेयर एवं अप्लीकेशन कौन सी हैं?

दूसरा कोर्स:- *पर्सनेलिटी डवलपमेंट कोर्स*

इस कोर्स में ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *मैनरिज़्म किसे कहते हैं:-* आप अपनी शख़्सियत में दिखने की ताकत को पहचान कर बॉडी लैंग्वेज में क्या तबदीली लाएं?
(2) *मनोदशा यानी नफ़्सियात किसे कहते हैं:-* मानसिक शक्ति यानी रूहानी ताक़त कैसे बढ़ाएं, इसका इमोशनल इंटेलिजेंस से क्या तअल्लुक़ है और नए आइडिया कैसे आते हैं?
(3) *आत्म निरीक्षण यानी अहलियत किसे कहते हैं:-* ज़िंदगी में महारत कैसे हासिल करें, ज़बान और सामग्री कैसे बनती है और जीवन का लक्ष्य कैसे निर्धारित करें?

*About Teacher & Trainer:-*
दोनों कोर्सेज के टीचर और ट्रेनर मशहूर पत्रकार, फलसफी और वक्ता *डॉ अख़लाक़ अहमद उस्मानी*, दिल्ली होंगे।

*कोर्स डिटेल:-* कोर्सेज की रियल फीस Rs.5,000/= है लेकिन *तहरीक उलमा ए हिंद* और *इदार ए क़ुरआन* की तरफ से कंसीशन के बाद शरीक होने वालों को केवल Rs.500/= अदा करने होंगे। यह फीस रजिस्ट्रेशन के साथ एडवांस अदा करनी होगी। कोर्स रोज़ाना क़रीब 1 घंटे का होगा और दस दिन चलेगा। यह अवधि 5-14 सितम्बर 2020 होगी।

*नोट:-* केवल 2 दिन बाकी हैं, ख्वाहिश मंद जल्दी करें।

अधिक जानकारी और एडमिशन के लिए राब्ता करें: 981188 4866/ 98290 49081

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/755486945021826/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زبدۃ الواصلین، حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہروی علیه رحمة الله القوي کی ولادت ۱۱۳۱ھ مارہرہ شریف (یو پی) ہند میں ہوئی اور یہیں ۱٤ محرم الحرام ۱۱۹۸ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔ آپ کا مزار شریف ”درگاہ شاہ برکت الله“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ ۲۰ تا ۲۳)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 230:*
1- امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلامی کیلنڈر کی بنیاد کب رکھی ؟
2- آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنفرم تاریخِ شہادت کونسی ہے ؟
3- آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ کس نے پڑھایا اور تدفین کہاں ہوئی ؟
بینوا بالکتاب و توجروا عبدالحساب
سائل : اکرام الدین پنجاب پاکستان
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
*1-* امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلامی کیلنڈر (ہجری تقویم) کی بنیاد سترہ (17) ہجری میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مشورے سے رکھی۔
چنانچہ علامہ حافظ فقیہ ابو زکریا محی الدین بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ابتداء التاریخ فی الاسلام من ھجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من مکۃ الی المدینۃ و ھذا مجمع علیہ و اول من ارخ بالھجرۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سنۃ سبع عشرۃ من الھجرۃ"*
یعنی اسلام میں تاریخ کی ابتداء، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمانے سے ہوئی ہے، اور اس پر اجماع (اتفاق) کیا گیا ہے، اور سب سے پہلے جس نے سترہ (17) ہجری میں ہجری تاریخ کی بنیاد رکھی وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔
*(تھذیب الاسماء و اللغات، فصل بدء التاریخ الھجری، جلد 1 صفحہ 20 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
امام ابو الفرج عبدالرحمن بن جوزی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و انما ارخ عمر بعد سبع عشرۃ من مھاجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"*
یعنی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے سترہ (17) ہجری (شروع ہونے) کے بعد (ہجری تقویم) کی بنیاد رکھی۔
*(المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، جلد 4 صفحہ 227 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
فیضانِ فاروقِ اعظم میں *"سیرتِ سید الانبیاء"* اور *"تاریخِ طبری"* کے حوالے سے ہے کہ :
"بعض علماء کرام نے ہجری تقویم کی وضع کی نسبت عہدِ نبوی کی طرف کی ہے اور بعض علماء نے عہدِ فاروقی کی طرف کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو اوّلاً مقام قباء میں قیام فرمایا۔ ابھی قباء میں قیام فرما تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نئی تقویم ہجری کی وضع کا حکم دیا چنانچہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اُسے ہجرت سے شروع کیا اور اس سنہ کی ابتداء محرم الحرام سے کی کیونکہ حجاج اسی مہینے اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں۔واضح رہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہجری تقویم کی وضع کا حکم دیا تھا جبکہ اسی وضع کی ہوئی ہجری تقویم کا باقاعدہ حساب کتاب مسلمانوں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دور سے رکھنا شروع کیا۔ لہٰذا دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں۔"
*(فیضانِ فاروقِ اعظم جلد اول صفحہ 723، 724 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*2-* حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت میں اختلاف ہے، جمہور آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک جب بدھ دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو ذوالحجہ کی چار راتیں باقی تھیں یعنی 26 ذوالحجہ تھی، جبکہ بعض کا مؤقف یہ ہے کہ جب بدھ دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو ذوالحجہ کی تین راتیں باقی تھیں یعنی 27 ذوالحجہ تھی۔
اور اس بات میں بعض آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم، جمہور آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے ساتھ متفق ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد تین راتیں حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور چوتھی رات سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہو گئی، تو چونکہ ذوالحجہ کا یہ مہینہ انتیس (29) کا تھا اسلیے جمہور آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک یکم محرم الحرام اتوار کو بنتی ہے اور ان کے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت محرم الحرام کی چاند رات میں ہوئی ہے جبکہ بعض آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک یکم محرم الحرام ہفتے کے دن بنتی ہے تو ان کے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت یکم محرم الحرام ہفتے کے دن میں ہوئی ہے، بہرحال جمہور آئمہ کرام اور یہ بعض آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم یکم محرم الحرام میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے قائل ہیں۔
چنانچہ تاریخ الخمیس میں ہے :
*"طعن عمر یوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث و عشرین من الھجرۃ کذا فی التذنیب و دفن یوم الاحد صبیحۃ ھلال المحرم و قیل ان وفاتہ کانت غرۃ المحرم من سنۃ اربع و عشرین کما مر"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدھ کے دن زخمی کیے گئے تو سن 23 ہجری کے ماہِ ذی الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور ایسے ہی *"التذنیب"* میں ہے اور اتوار والے دن یکم محرم الحرام کو دفن کیے گئے۔ اور کہا گیا ہے کہ بیشک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سن 24 ہجری یکم محرم الحرام کے چاند را
ت میں ہوئی ہے، جیسا کہ گزر چکا۔
*(تاریخ الخميس جلد 2 صفحہ 250 ناشر دار صادر بیروت)*
امام ابوالولید سلیمان بن خلف باجی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"طعن یوم الاربعاء لثلاث بقین من ذی الحجۃ و مات بعد ذلک بثلاث یوم السبت غرۃ المحرم سنۃ اربع و عشرین"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدھ کے دن زخمی کیے گئے تو ذی الحجہ میں سے تین راتیں باقی تھیں اور اس واقعہ کے تین راتوں کے بعد ہفتے والے دن یکم محرم الحرام سن 24 ہجری کو آپ رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے۔
*(التعدیل و التخریج جلد3 صفحہ 935)*
امام حافظ الحدیث ابوحفص عمرو بن علی فلاس رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں :
*"انہ مات یوم السبت غرۃ المحرم سنۃ اربع و عشرین"*
یعنی بیشک حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہفتے کے دن یکم محرم الحرام سن 24 ہجری کو فوت ہوئے۔
*(شرح التبصرۃ و التذکرۃ جلد 2 صفحہ 303)*
عظیم محدث و مفسر امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و قد قیل ان وفاتہ کانت فی غرۃ المحرم سنۃ اربع و عشرین"*
یعنی اور تحقیق کہا گیا ہے کہ بیشک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سن 24 ہجری یکم محرم الحرام کے چاند رات میں ہوئی ہے۔
*(تاریخ طبری، تاریخ الرسل و الملوک، جلد 4 صفحہ 193 دارالمعارف بمصر)*
پھر امام ابو جعفر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یکم محرم کی چاند رات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے قائل حضرات اپنے مؤقف کی تائید میں اسماعیل بن محمد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ يوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذي الحجہ سنۃ ثلاث و عشرین و دفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنۃ اربع و عشرین"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدھ کے دن زخمی ہوئے تو سن 23 ہجری کے ذو الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اتوار کے دن سن 24 ہجری کے محرم الحرام کی صبح کو دفن کیا گیا۔
*(تاریخ طبری، تاریخ الرسل و الملوک، جلد 4 صفحہ 193 دارالمعارف بمصر)*
*نوٹ :*
امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کی اس تصریح سے ان آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے مؤقف کی بھی وضاحت ہوگئی کہ جنہوں نے یکم محرم الحرام کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین بیان کی ہے کہ ان سب کے نزدیک بھی یکم محرم الحرام میں آپ رضی اللہ عنہ کی ہوئی ہے۔
اب ہم ان آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر يوم الاربعاء لثلاث بقین من ذي الحجۃ ثم بقی ثلاثۃ ايام ثم مات رحمه الله"*
یعنی جب بدھ کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو ذوالحجہ میں سے تین دن باقی تھے پھر آپ تین روز تک زندہ رہے پھر آپ کا وصال (انتقال) ہوگیا، اللہ پاک کی آپ پر رحمت ہو۔
*(کتاب المحن صفحہ 66 دارالغرب الاسلامی)*
حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقين من ذي الحجۃ سنۃ ثلاث و عشرین ودفن يوم الاحد صبيحۃ هلال المحرم"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سن 23 ہجری، بدھ کے دن زخمی ہوئے تو ذو الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اتوار کے دن یکم محرم الحرام کی صبح کو دفن کیا گیا۔
*(تلقیح فھوم اھل الاثر فی عیون التاریخ و السیر لابن الجوزی صفحہ 51 مطبوعہ دہلی)*
اسماعیل بن محمد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذي الحجہ سنۃ 23 و دفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنۃ 24"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدھ کے دن زخمی ہوئے تو سن 23 ہجری کے ذو الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اتوار کے دن سن 24 ہجری کے محرم الحرام کی صبح کو دفن کیا گیا۔
*(المنتخب من ذیل المذیل لابن جریرالطبری صفحہ 11)*
ابو بکر بن اسمعیل بن محمد بن سعد اپنے والد سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر یوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذی الحجۃ، سنۃ ثلاث و عشرین، ودفن یوم الاحد صباح ھلال المحرم سنۃ اربع و عشرین وکانت خلافتہ عشر سنین و خمسۃ اشھر و احد و عشرین یوما"*
یعنی (جب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا تو 23 سن ہجری کے ذی الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور ان کو 24 سن ہجری کے یکم محرم الحرام کی صبح کو دفن کیا گیا اور ان کی خلافت دس (10) سال، پانچ (5) ماہ اور اکیس (21) دن تھی.
*(اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابہ جلد 3 صفحہ 676 دارالفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع)*
ابو بکر بن اسمعیل بن محمد بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں :
*"طعن عمر یوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذی الحجۃ، سنۃ ثلاث و عشرین، ودفن یوم الاحد صباح ھلال المحرم سنۃ اربع و عشرین فکانت ولایتہ عشر سنین و خمسۃ اشھر و احدی و عشرین"*
یعنی (جب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا تو 23 سن ہجری کے
ذی الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور ان کو 24 سن ہجری کے یکم محرم الحرام کی صبح کو دفن کیا گیا، پس ان کی ولایت (خلافت) دس (10) سال، پانچ (5) ماہ اور اکیس (21) دن تھی.
*(تہذیب الاسماء و اللغات جلد اول صفحہ 278 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
تاریخ خلیفہ بن خیاط میں ہے :
*"طعن لثلاث بقين من ذي الحجۃ فعاش ثلاثۃ ايام"*
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو ذوالحجہ میں سے تین دن باقی تھے پس آپ رضی اللہ عنہ تین دن زندہ رہے۔
*(تاریخ خلیفہ بن خیاط، مقتل عمر و عمرہ، و مدۃ خلافتہ، صفحہ 152 دار الطیبۃ للنشر و التوزیع الریاض)*
امام ابو الفرج عبدالرحمن بن جوزی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"جرحہ ابو لؤلؤۃ۔ واسمہ فیروز :- فبقی ثلاثا یصلی گی ثیابہ التی جرح فیھا و توفی فصلی علیہ صہیب"*
یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابو لؤلؤه نے زخمی کیا جس کا نام فیروز تھا، پس آپ رضی اللہ عنہ تین دن زندہ رہے، جن کپڑوں میں آپ رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، انہیں میں آپ رضی اللہ عنہ نماز ادا کرتے رہے، اور آپ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
*(المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، جلد 4 صفحہ 329 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
امام بن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ایک اور کتاب میں تحریر فرماتے ہیں :
"محمد بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو 26 ذی الحجہ 23 ہجری بروز بدھ کو زخمی کیا گیا۔
24 ھ بروز ہفتہ کے دن یکم محرم الحرام کی چاند رات کو سپردِ خاک کیا گیا۔"
*(مناقب امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب، مترجم صفحہ 366 شاکر پبلی کیشنز لاہور)*
امام جلال الدین عبدالرحمن سيوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"اصيب عمر يوم الاربعاء ودفن يوم الاحد مستهل المحرم الحرام"*
یعنی حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور یکم محرم الحرام کو اتوار والے دن آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا۔
*(تاریخ الخلفاء صفحہ 110 دار ابن حرم)*
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"آپ 26 چھبیس ذی الحجہ بدھ کے دن ۲۳ھ؁ زخمی کیے گئے اور یکم محرم اتوار کے دن دفن کیے گئے، تریسٹھ (63) سال عمر پائی۔"
*(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8 صفحہ 303 قادری پبلشرز اردو بازار لاہور)*
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب تحریر فرماتے ہیں :
"محمد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھبیس (26) ذوالحجہ سن 23 ھ بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن یکم محرم الحرام سن 24 ھ کو آپ وصال ہو گیا، اسی دن آپ کو دفن کیا گیا، دس سال، پانچ ماہ اور اکیس (21) دن آپ کی خلافت رہی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ کو دفن کیا۔"
*(شرح صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 922 فرید بک سٹال لاہور)*
شیخِ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال میں الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"نَمازِ فَجْر میں ایک بدبخت ابو لؤلؤ فیروز نامی (مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) کافِر نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر خنجر سے وار کیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ زَخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تیسرے دن شرفِ شہادَت سے مُشرَّف ہوگئے۔ بوقتِ شہادت عُمْر شریف 63 برس تھی۔ حضرتِ سیِّدُنا صُُہَیْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نَمازِ جنازہ پڑھائی اور گوہرِ نایاب، فیضانِ نُبُوَّت سے فَیضیاب خلیفۂ رسالت مآب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روضۂ مُبارَکہ کے اندر یکم مُحَرَّمُ الْحرام 24 ہجری اتوار کے دن حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلوئے اَنور میں مَدفون ہوئے جو کہ سرکارِ انام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پہلوئے پاک میں آرام فرما ہیں۔"
*(کراماتِ فاروقِ اعظم صفحہ 6 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ 1:*
جن بعض آئمہ کرام نے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 26 یا 27 ذوالحجہ لکھی ہے، اس میں شہادت سے مراد سببِ شہادت (یعنی زخمی ہونا) ہے.
چنانچہ فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث میں ہے :
*"و اما قول المزی و تبعہ الذھبی -: انہ قتل لاربع او ثلاث بقین من ذی الحجۃ فارادا بذلک حین طعن ابی لؤلؤۃ لہ فانہ کان عند صلوۃ الصبح من یوم الاربعاء، لاربع۔ و قیل : لثلاث بقین منہ، و عاش بعد ذلک ثلاثۃ ایام"*
یعنی اور بہرحال امام مزی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا ان کی (اس بات میں) اتباع کرنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب شہید کیے گئے تو ذوالحجہ میں سے چار یا تین راتیں باقی تھیں، پس ان دونوں حضرات نے اس (شہادت) سے ابولؤلؤہ کا آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کرنا مراد لیا ہے، پس بیشک بدھ والے دن صبح کی نماز کے وقت جب آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو ذو
الحجہ میں سے چار راتیں باقی تھیں اور بعض نے کہا ہے کہ تین راتیں باقی تھیں، اور اس واقعہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ تین دن زندہ رہے۔
*(فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث، جلد 4 صفحہ 321 مکتبۃ دار المنھاج للنشر و التوزیع الریاض)*
اسی طرح امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کتاب کے اسی مقام پر ابن ابی الدنیا کی روایت کردہ سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بھی اسی طرح تاویل فرمائی ہے کہ 26 ذوالحجہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سے مراد آپ رضی اللہ عنہ کا زخمی ہونا مراد ہے۔
اور ان حضرات کے قول کی امام زین الدین ابو الفضل عبدالرحیم بن حسین عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے *"شرح التبصرۃ و التذکرۃ جلد 2 صفحہ 303"* پر بالکل یہی تاویل بیان فرمائی ہے۔
اور اگر 26 یا 27 ذوالحجہ میں شہادت والے قول سے شہادت ہی مراد لیا جائے اور سببِ شہادت (یعنی زخمی ہونا) مراد نہ لیا جائے (جبکہ جہمور آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک یکم محرم الحرام میں آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی) تو یہ بات عقلِ سلیم کے خلاف ہوگی کہ بھلا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم شرعی عذر کے بغیر تدفین میں چار یا پانچ دن کی تاخیر کیوں کریں گے ؟
*نوٹ 2:*
اسی طرح یہ قول کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت ذوالحجہ کے آخر میں ہوئی، یہ قول بھی اکابر آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم اور مؤرخین کی ایک جماعت کا ہے لیکن اس کے مقابلے میں یکم محرم الحرام کو شہادت والا قول ہمارے نزدیک راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس قول پر یہ اشکال (اعتراض) وارد ہوتا ہے کہ اگر ذوالحجہ کی آخری تاریخ میں شہادت واقع ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کو یکم محرم الحرام تک مؤخر نہ فرماتے کیونکہ شرعی طور پر جلدی دفن کرنے کا حکم ہے اور یہاں تاخیر کا کوئی عذر نہیں تھا، پس اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت سن 24 ہجری کے محرم الحرام کی چاند رات میں ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین بروز اتوار یکم محرم الحرام کی صبح میں ہوئی۔
*3-* امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا نمازِ جنازہ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے چار تکبیروں کے ساتھ پڑھایا اور آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں اس طرح دفن کیا گیا کہ آپ کا سرِ مبارک امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کندھے کے برابر اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک کوکھ (ازار باندھنے کی جگہ) کے برابر تھا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کندھے کے برابر تھا۔
چنانچہ چنانچہ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھما میں سے ہر ایک نے فرمایا :
*"قم یا ابا یحیٰ فصل علیہ، فصلی علیہ صہیب"*
اے ابو یحییٰ اٹھیے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جنازہ پڑھیے، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھی (پڑھائی)۔
*(تہذیب الاسماء و اللغات جلد اول صفحہ 280 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
*"من صلی علی عمر ؟ "*
حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی ؟
تو فرمایا :
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے۔
(پھر) پوچھا :
*"کم کبر علیہ؟ "*
انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کتنی تکبیریں کہیں؟
تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
*"اربعا"*
یعنی انہوں نے چار تکبیریں کہیں۔
*(تہذیب الاسماء و اللغات جلد اول صفحہ 280 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
اسدالغابہ میں ہے :
*"ولما قضی عمر رضی اللہ عنہ، صلی علیہ صھیب، وکبر علیہ اربعا"*
یعنی اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصال فرمایا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ پر جنازہ پڑھایا اور آپ پر چار تکبیریں کہیں۔
*(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 3 صفحہ 676 دارالفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع)*
تاریخ الخلفاء میں ہے :
"حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازے کی نماز حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی۔"
*(تاریخ الخلفاء مترجم صفحہ 310 پروگریسو بکس)*
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"حضرت صہیب نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ گنبدِ خضریٰ میں پہلوئے مصطفیٰ میں دفن ہوئے۔"
*(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 صفحہ 40 قادری پبلشرز اردو بازار لاہور)*
فیضانِ فاروق اعظم میں ہے :
"امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نمازِ جنازہ حضرت سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی، آپ قدیم الاسلام اور مہاجرین اَوّلین صحابہ میں سے تھے، تمام غزوات میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ کے نماز جنازہ پڑھانے کی وجہ یہ تھی کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَال
ٰی عَنْہ نے اپنے انتقال سے قبل نیا خلیفہ منتخب ہونے تک آپ ہی کو نمازیں پڑھانے کی وصیت فرمائی تھی یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جسد مبارک کو غسل وکفن دینے کے بعد نماز جنازہ کے لیے چارپائی پر رکھا گیا تو حضرت سیِّدُنا عثمان غنی و سیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھے لیکن حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دونوں کو منع فرما دیا کیونکہ ابھی نئے خلیفہ کا انتخاب نہ ہوا تھا، اگر ان دونوں میں سے کوئی نماز جنازہ پڑھاتا تو ہوسکتا تھا کہ لوگ اسی کو خلیفہ سمجھتے اسی لیے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وصیت کے مطابق سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز جنازہ پڑھانے کا حکم دیا۔"
*(فیضانِ فاروق اعظم جلد اول صفحہ 775، 776 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
خالد بن ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
*"دفن عمر فی بیت النبی، وجعل راس ابی بکر عند کتفی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وجعل راس عمر عند حقوی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"*
یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان میں دفن کیے گئے، اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مبارک سر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کندھے کے برابر رکھا گیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مبارک سر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک کوکھ (ازار باندھنے کی جگہ) کے برابر رکھا گیا۔
*(تہذیب الاسماء و اللغات جلد اول صفحہ 281 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
29/08/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج آپ کا فتویٰ دربارہ امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ :
انہوں نے اسلامی کیلنڈر کی بنیاد کب رکھی؟
ان کی کنفرم تاریخِ شہادت کیا ہے؟
اور ان کا جنازہ کس نے پڑھایا ؟ آپ کا فتویٰ دیکھ کر دل باغ بہار ہوگیا، آپ نے تحقیق کا حق ادا کیا، بندہ ناچیز اس کی تائید و تصویب کرتا ہے، اللہ پاک آپ کی عمر میں، علم میں، فیضان میں برکتیں عطاء فرمائے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM