Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کرنے کے لیے اس کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے-
***
٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
Kalam E Nazmi کلامِ نظمی
۱۴؍ محرم الحرام عرس حضور مفتی اعظم کی مناسبت سے سرکار نظمی کی تحریر فرمودہ منقبتِ مفتی اعظم قدس سرہٗ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناقب مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضویت ماتم کناں ہے، مضطرب برکاتیت
کون دے پرسا کسے، اور کون کس کو تعزیت
کسکے دامن میں چھپیں اور کس سے اب بپتا کہیں
ایک سناٹا ہے گرد کاروانِ سنیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حق نے بخشا تھا ہمیں ایسا مجلیّٰ آئینہ
خُلق میں تھا جو سراپا مصطفیٰ کا آئینہ
شاہ برکت شاہ حمزہ پیشوا کا آئینہ
بوالحسین احمد نوری ضیا کا آئینہ
زندگی ان کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
قول و فعل و حال میں تھے مرتضیٰ کا آئینہ
حق نما، حق بین و حق گو، حق پرست و حق پسند
مرد حق، مشتاق حق، حق کی ضیا کا آئینہ
جس کا نصب العین تھا اعلان حق، تبلیغ حق
زندگی جس کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
اپنے مرشد حضرت نوری سے جو نوری بنا
صورت و سیرت میں وہ احمد رضا کا آئینہ
قوم نے جس کو دیا تھا مفتی اعظم لقب
شارح قرآں، حدیث مصطفیٰ کا آئینہ
جس کی آنکھوں میں جھلکتی تھی حیا عثمان کی
ظلِّ ذی النورین عثماں کی ضیا کا آئینہ
ذوالفقار حیدری کا جانشیں جس کا قلم
قول و فعل و حال میں وہ مرتضیٰ کا آئینہ
دل کا اچھا تن کا ستھرا مرد کامل با صفا
اچھے پیارے شمس دیں بدر العلیٰ کا آئینہ
تازگی ایمان میں آتی تھی جس کو دیکھ کر
ستھرے پیارے نور حق شمس الضحیٰ کا آئینہ
جس کی ہیبت اہل باطل کے دلوں پر ثبت تھی
وہ رضائے مصطفیٰ شیر خدا کا آئینہ
جلوہ صدیق و فاروق و غنی مشکل کشا
مظہر حسنین اور غوث الوریٰ کا آئینہ
مسلک برکاتیت کا وہ عَلَم بردار تھا
تھا سراسر اپنے مرشد کی دعا کا آئینہ
یہ مناقب نظمی نے لکھے قلم برداشتہ
ہے قلم نظمی کا نوری کی عطا کا آئینہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ
۱۴؍ محرم الحرام عرس حضور مفتی اعظم کی مناسبت سے سرکار نظمی کی تحریر فرمودہ منقبتِ مفتی اعظم قدس سرہٗ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناقب مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضویت ماتم کناں ہے، مضطرب برکاتیت
کون دے پرسا کسے، اور کون کس کو تعزیت
کسکے دامن میں چھپیں اور کس سے اب بپتا کہیں
ایک سناٹا ہے گرد کاروانِ سنیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حق نے بخشا تھا ہمیں ایسا مجلیّٰ آئینہ
خُلق میں تھا جو سراپا مصطفیٰ کا آئینہ
شاہ برکت شاہ حمزہ پیشوا کا آئینہ
بوالحسین احمد نوری ضیا کا آئینہ
زندگی ان کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
قول و فعل و حال میں تھے مرتضیٰ کا آئینہ
حق نما، حق بین و حق گو، حق پرست و حق پسند
مرد حق، مشتاق حق، حق کی ضیا کا آئینہ
جس کا نصب العین تھا اعلان حق، تبلیغ حق
زندگی جس کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
اپنے مرشد حضرت نوری سے جو نوری بنا
صورت و سیرت میں وہ احمد رضا کا آئینہ
قوم نے جس کو دیا تھا مفتی اعظم لقب
شارح قرآں، حدیث مصطفیٰ کا آئینہ
جس کی آنکھوں میں جھلکتی تھی حیا عثمان کی
ظلِّ ذی النورین عثماں کی ضیا کا آئینہ
ذوالفقار حیدری کا جانشیں جس کا قلم
قول و فعل و حال میں وہ مرتضیٰ کا آئینہ
دل کا اچھا تن کا ستھرا مرد کامل با صفا
اچھے پیارے شمس دیں بدر العلیٰ کا آئینہ
تازگی ایمان میں آتی تھی جس کو دیکھ کر
ستھرے پیارے نور حق شمس الضحیٰ کا آئینہ
جس کی ہیبت اہل باطل کے دلوں پر ثبت تھی
وہ رضائے مصطفیٰ شیر خدا کا آئینہ
جلوہ صدیق و فاروق و غنی مشکل کشا
مظہر حسنین اور غوث الوریٰ کا آئینہ
مسلک برکاتیت کا وہ عَلَم بردار تھا
تھا سراسر اپنے مرشد کی دعا کا آئینہ
یہ مناقب نظمی نے لکھے قلم برداشتہ
ہے قلم نظمی کا نوری کی عطا کا آئینہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
عرس نوری مبارک
قل شریف
1:40 AM
قل شریف
1:40 AM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
’’ذکر حضور مفتی اعظم‘‘ نوری مشن کی ۱۲۱؍ویں اشاعت منظر عام پر
حضور مفتی اعظم کی تقویٰ شعار زندگی و فقہی خدمات پر علامہ قمرالزماں اعظمی کی تحریر
مالیگاؤں: عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر نوری مشن مالیگاؤں نے مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے خطاب کا تحریری مرقع ’’ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ مفکرِ اسلام نے اپنے خطاب میں حضور مفتی اعظم کے تقویٰ، تدبر، فقہی بصیرت، داعیانہ کردار اور مثالی حیات کی کئی جھلکیاں اُجاگر کی ہیں اور نیابتِ امام اعظم کے رُخ سے بھی مفتی اعظم کی فقہی شان بیان کی ہے۔ آپ نے دلائل و مشاہدات کی روشنی میں اسلامی قوانین کے تحفظ میں مفتی اعظم کے نمایاں کردار کے ضمن میں یہ بات کہی ہے کہ ’’بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔‘‘ خطاب کو تحریری شکل میں مفتی محمد اشرف رضا قادری (ممبئی) نے ترتیب دیا ہے اور نوری مشن سے خوب صورت انداز میں اشاعت عمل میں آئی۔ یہ کتاب مدینہ کتاب گھر، مدینہ مسجد (مالیگاؤں) سے بلا قیمت حاصل کریں۔ بیرونی قارئین پی ڈی ایف فائل کے لیے ان نمبرات پر واٹس ایپ یا ٹیلی گرام رابطہ کریں:
غلام مصطفیٰ رضوی
+919325028586
فرید رضوی
+919273574090
معین پٹھان رضوی
+917588815888
٭ نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭
٣ ستمبر ٢٠٢٠ء
حضور مفتی اعظم کی تقویٰ شعار زندگی و فقہی خدمات پر علامہ قمرالزماں اعظمی کی تحریر
مالیگاؤں: عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر نوری مشن مالیگاؤں نے مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے خطاب کا تحریری مرقع ’’ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ مفکرِ اسلام نے اپنے خطاب میں حضور مفتی اعظم کے تقویٰ، تدبر، فقہی بصیرت، داعیانہ کردار اور مثالی حیات کی کئی جھلکیاں اُجاگر کی ہیں اور نیابتِ امام اعظم کے رُخ سے بھی مفتی اعظم کی فقہی شان بیان کی ہے۔ آپ نے دلائل و مشاہدات کی روشنی میں اسلامی قوانین کے تحفظ میں مفتی اعظم کے نمایاں کردار کے ضمن میں یہ بات کہی ہے کہ ’’بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔‘‘ خطاب کو تحریری شکل میں مفتی محمد اشرف رضا قادری (ممبئی) نے ترتیب دیا ہے اور نوری مشن سے خوب صورت انداز میں اشاعت عمل میں آئی۔ یہ کتاب مدینہ کتاب گھر، مدینہ مسجد (مالیگاؤں) سے بلا قیمت حاصل کریں۔ بیرونی قارئین پی ڈی ایف فائل کے لیے ان نمبرات پر واٹس ایپ یا ٹیلی گرام رابطہ کریں:
غلام مصطفیٰ رضوی
+919325028586
فرید رضوی
+919273574090
معین پٹھان رضوی
+917588815888
٭ نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭
٣ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
داڑھی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
سائل:غلام مصطفی طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، بالکل منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ناجائز و گناہ ہے۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسلمان مردوں کے لیے داڑھی ایک مشت(مٹھی،چارانگل) رکھنا واجب ہے۔ایک مشت داڑھی کا وجوب درج ذیل دلائل سے ثابت ہے۔چنانچہ بخاری،مسلم،ابوداؤد،ترمذی ودیگر کتب احادیث میں ہے۔والنظم للاول ”عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ“
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
(صحیح البخاری، کتاب اللباس،باب تقلیم الاظفار،جلد2،صفحہ398،مطبوعہ لاھور)
فتح القدیر، غنیۃ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے ۔والفظ للآخر”وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج“
ترجمہ: بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندوؤں اور بعض انگریزوں کا طریقہ ہے۔
( درر شرح غرر ، کتاب الصیام ،فصل حامل او مرضع خافت، ج1،ص208،داراحیاء الکتب العربیہ ،بیروت)
شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”حلق کردن لحیہ حرام است…وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ا ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند“
ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے… اور بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے، حالانکہ وہ واجب ہے۔
(اشعۃ اللمعات ،جلد 1صفحہ212،مکتبہ نوریہ رضویہ ،سکھر)
مزید تفصیل کے لیے امام اہل سنت اعلی ٰحضرت علیہ رحمۃ رب العزت کے رسالہ ”لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحٰی“ کا مطالعہ فرمائیں۔
جوشخص داڑھی منڈواتا ہو یا کٹوا کرایک مٹھی سے کم کرتا ہو،وہ فاسق معلن ہے۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”داڑھی منڈانا اور کتروا کر حدِ شرع سے کم کرانا ،دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔“
(فتاوی رضویہ،جلد06،صفحہ505،رضافاؤنڈیشن،لاهور)
صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:”داڑھی کو کتر کرایک مشت سے کم کرنا،ناجائز و حرام ہے۔۔اور جب یہ معصیت اور گناہ ہے تو چند بار کرنے سے کبیرہ و فسق ہو گا کہ اسرار علی الصغیرہ کبیرہ ہے اور اس کا بالاعلان ہوناخود ظاہر محتاج بیان نہیں۔“
(فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ76، مکتبہ رضویہ،کراچی)
یاد رہے ! فاسق معلن کوامام بناناگناہ ہےاورفاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی ہے اور اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی، تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔“
(فتاویٰ رضویہ ،جلد6،صفحہ603،رضا فاؤنڈیشن،لاهور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں)اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
یا اس لنک پر کلک کر کے وٹس اپ پہ میسج کریں۔
https://wa.me/message/LNJS36RMGEVAD1
یا فیس بک پر اس آئی ڈی پر میسج کریں۔
https://www.facebook.com/SyedKamran786
03/09/2020
08:15 Pm
سائل:غلام مصطفی طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، بالکل منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ناجائز و گناہ ہے۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسلمان مردوں کے لیے داڑھی ایک مشت(مٹھی،چارانگل) رکھنا واجب ہے۔ایک مشت داڑھی کا وجوب درج ذیل دلائل سے ثابت ہے۔چنانچہ بخاری،مسلم،ابوداؤد،ترمذی ودیگر کتب احادیث میں ہے۔والنظم للاول ”عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ“
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
(صحیح البخاری، کتاب اللباس،باب تقلیم الاظفار،جلد2،صفحہ398،مطبوعہ لاھور)
فتح القدیر، غنیۃ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے ۔والفظ للآخر”وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج“
ترجمہ: بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندوؤں اور بعض انگریزوں کا طریقہ ہے۔
( درر شرح غرر ، کتاب الصیام ،فصل حامل او مرضع خافت، ج1،ص208،داراحیاء الکتب العربیہ ،بیروت)
شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”حلق کردن لحیہ حرام است…وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ا ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند“
ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے… اور بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے، حالانکہ وہ واجب ہے۔
(اشعۃ اللمعات ،جلد 1صفحہ212،مکتبہ نوریہ رضویہ ،سکھر)
مزید تفصیل کے لیے امام اہل سنت اعلی ٰحضرت علیہ رحمۃ رب العزت کے رسالہ ”لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحٰی“ کا مطالعہ فرمائیں۔
جوشخص داڑھی منڈواتا ہو یا کٹوا کرایک مٹھی سے کم کرتا ہو،وہ فاسق معلن ہے۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”داڑھی منڈانا اور کتروا کر حدِ شرع سے کم کرانا ،دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔“
(فتاوی رضویہ،جلد06،صفحہ505،رضافاؤنڈیشن،لاهور)
صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:”داڑھی کو کتر کرایک مشت سے کم کرنا،ناجائز و حرام ہے۔۔اور جب یہ معصیت اور گناہ ہے تو چند بار کرنے سے کبیرہ و فسق ہو گا کہ اسرار علی الصغیرہ کبیرہ ہے اور اس کا بالاعلان ہوناخود ظاہر محتاج بیان نہیں۔“
(فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ76، مکتبہ رضویہ،کراچی)
یاد رہے ! فاسق معلن کوامام بناناگناہ ہےاورفاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی ہے اور اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی، تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔“
(فتاویٰ رضویہ ،جلد6،صفحہ603،رضا فاؤنڈیشن،لاهور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں)اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
یا اس لنک پر کلک کر کے وٹس اپ پہ میسج کریں۔
https://wa.me/message/LNJS36RMGEVAD1
یا فیس بک پر اس آئی ڈی پر میسج کریں۔
https://www.facebook.com/SyedKamran786
03/09/2020
08:15 Pm
WhatsApp.com
Share on WhatsApp
WhatsApp Messenger: More than 2 billion people
in over 180 countries use WhatsApp to stay in touch with friends and
family, anytime and anywhere. WhatsApp is free and offers simple, secure,
reliable messaging and calling, available…
in over 180 countries use WhatsApp to stay in touch with friends and
family, anytime and anywhere. WhatsApp is free and offers simple, secure,
reliable messaging and calling, available…
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حقیقت
انسان جو دیکھتا ہے اسے ہی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ ہمارے ایمان کا اکثر حصہ ایسی باتوں پر مشتمل ہے جو ہم نے دیکھا ہی نہیں!
دکھائی دینے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی،
حقیقت بالکل دور نہیں ہمارے سامنے ہے۔
حقیقت میں خود کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے خود کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔
حقیقت ایک آئینہ ہے جس کے لیے ظاہری آنکھیں بھی شرط نہیں۔
یوں کَہ لیں کہ یہ ایک احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اگر حقیقت پر ان چھوٹی سی آنکھوں سے قبضہ کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی انتہا نہیں۔
حقیقت کو دیکھنے کے لیے دل ضروری ہے،
ایک ایسا دل جو دیکھ سکے ورنہ یہ آنکھیں دریا کو سمندر سمجھ لیتی ہیں۔
عبد مصطفیٰ
انسان جو دیکھتا ہے اسے ہی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ ہمارے ایمان کا اکثر حصہ ایسی باتوں پر مشتمل ہے جو ہم نے دیکھا ہی نہیں!
دکھائی دینے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی،
حقیقت بالکل دور نہیں ہمارے سامنے ہے۔
حقیقت میں خود کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے خود کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔
حقیقت ایک آئینہ ہے جس کے لیے ظاہری آنکھیں بھی شرط نہیں۔
یوں کَہ لیں کہ یہ ایک احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اگر حقیقت پر ان چھوٹی سی آنکھوں سے قبضہ کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی انتہا نہیں۔
حقیقت کو دیکھنے کے لیے دل ضروری ہے،
ایک ایسا دل جو دیکھ سکے ورنہ یہ آنکھیں دریا کو سمندر سمجھ لیتی ہیں۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہندستان میں ایک تحریک چلی تھی جسے شُدھی ( یعنی ہندو بنانے والی تحریک ) کہاجاتا تھا ۔
اُس تحریک نے جب لاکھوں مسلمانوں کو مرتد بنادیا تو اس وقت دین کا درد رکھنے والے علما و عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت عقل مندی سے ، بھیس بدل کر اس تحریک کا نہ صرف زور توڑا ، بلکہ ساڑھے چار لاکھ مرتدین کو دوبارہ مسلمان کیا ، اور ڈیڑھ لاکھ ہندووں کو بھی کلمہ اسلام پڑھا دیا ۔
( دیکھیے: بھیگی پلکوں کا بوجھ ، دیوتا کی شکتی ، ص 143 ، ط شبیر برادرز لاہور )
جب شُدھی تحریک عروج پر تھی اُس وقت مولانا سید غلام قطب الدین برہمچاری ہندووں کاروپ دھار کر بنارس کے سب سے بڑے مندر میں چلے گئے تھے اور کئی سال تک پنڈتوں سے پڑھتے رہے ۔
آپ نے بڑی محنت سے نہ صرف ہندو مذہب کی جملہ کتابیں ( وید اور شاستر وغیرہ ) پڑھ لیں ، بلکہ اس مذہب کے اسرار و رموز بھی بہ خوبی سیکھ لیے ، اور انھیں استعمال میں لاکر لاتعداد ہندووں کو مسلمان کیا ۔
ایک دن آپ کو معلوم ہوا کہ بدایون کے اطراف میں دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اور دیگر لوگ بھی شُدھی کے فتنے کا شکار ہورہے ہیں ، تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور اسی وقت اس طرف روانہ ہوگئے ۔
وہاں پہنچ کر شام کے وقت آپ نے جسم پر بھبھوت ملا ، ماتھے پر قشقہ لگایا ، اور گلے میں چندن کی مالا ڈال کر پیپل کے درخت کے نیچے آنکھیں بند کرکے ، ایک ٹانگ پر کھڑے ہوگئے ، اور دو دن اسی حالت میں کھڑے رہے ۔
آپ کی اس حالت سے کثیر تعداد میں ہندو اور پنڈت متاثر ہوئے اور آپ کو دیوتا سمجھنے لگے ۔
آپ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدت مند سیکڑوں ، ہزاروں ہندووں کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطل کو ختم کرنے کے لیے صرف تقریریں اور تحریریں ہی کافی نہیں ہوتیں ، بعض دفعہ سید غلام قطب الدین جیسی قربانی بھی دینی پڑتی ہے ۔
اور جو علما ایسی قربانی دیں انھیں برداشت بھی کرنا پڑتا ہے ۔
سید صاحب جب مندر میں رہتے تھے تو حضرت شاہ عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ چوری چُھپے آپ کو پراٹھے اور کباب دے کرآتے تھے ۔
✍️لقمان شاہد
2-9-2020 ء
اُس تحریک نے جب لاکھوں مسلمانوں کو مرتد بنادیا تو اس وقت دین کا درد رکھنے والے علما و عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت عقل مندی سے ، بھیس بدل کر اس تحریک کا نہ صرف زور توڑا ، بلکہ ساڑھے چار لاکھ مرتدین کو دوبارہ مسلمان کیا ، اور ڈیڑھ لاکھ ہندووں کو بھی کلمہ اسلام پڑھا دیا ۔
( دیکھیے: بھیگی پلکوں کا بوجھ ، دیوتا کی شکتی ، ص 143 ، ط شبیر برادرز لاہور )
جب شُدھی تحریک عروج پر تھی اُس وقت مولانا سید غلام قطب الدین برہمچاری ہندووں کاروپ دھار کر بنارس کے سب سے بڑے مندر میں چلے گئے تھے اور کئی سال تک پنڈتوں سے پڑھتے رہے ۔
آپ نے بڑی محنت سے نہ صرف ہندو مذہب کی جملہ کتابیں ( وید اور شاستر وغیرہ ) پڑھ لیں ، بلکہ اس مذہب کے اسرار و رموز بھی بہ خوبی سیکھ لیے ، اور انھیں استعمال میں لاکر لاتعداد ہندووں کو مسلمان کیا ۔
ایک دن آپ کو معلوم ہوا کہ بدایون کے اطراف میں دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اور دیگر لوگ بھی شُدھی کے فتنے کا شکار ہورہے ہیں ، تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور اسی وقت اس طرف روانہ ہوگئے ۔
وہاں پہنچ کر شام کے وقت آپ نے جسم پر بھبھوت ملا ، ماتھے پر قشقہ لگایا ، اور گلے میں چندن کی مالا ڈال کر پیپل کے درخت کے نیچے آنکھیں بند کرکے ، ایک ٹانگ پر کھڑے ہوگئے ، اور دو دن اسی حالت میں کھڑے رہے ۔
آپ کی اس حالت سے کثیر تعداد میں ہندو اور پنڈت متاثر ہوئے اور آپ کو دیوتا سمجھنے لگے ۔
آپ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدت مند سیکڑوں ، ہزاروں ہندووں کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطل کو ختم کرنے کے لیے صرف تقریریں اور تحریریں ہی کافی نہیں ہوتیں ، بعض دفعہ سید غلام قطب الدین جیسی قربانی بھی دینی پڑتی ہے ۔
اور جو علما ایسی قربانی دیں انھیں برداشت بھی کرنا پڑتا ہے ۔
سید صاحب جب مندر میں رہتے تھے تو حضرت شاہ عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ چوری چُھپے آپ کو پراٹھے اور کباب دے کرآتے تھے ۔
✍️لقمان شاہد
2-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر کوئی زِندیق کسی صحابیِ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کرے ، تو آپ حکمت کے ساتھ اُس کے شر کو دفع کرنے کی کوشش کیا کریں ، اپنے ہی علما کو طعنے دینے نہ شروع کردیا کریں ۔
" جو لشکر اپنے سپہ سالاروں پر اعتماد نہیں کرتا ، وہ بہت جلد شکست کھاجاتا ہے ۔ "
آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح گستاخانِ صحابہ کے متعلق آپ کے جذبات ہیں ، اسی طرح آپ کے علماے کرام کے بھی ہیں ؛ بس طریقہ تردید الگ الگ ہے ۔
بعض علماے کرام تو بہ ظاہر خاموش رہ کر بھی ، بولنے والوں سے زیادہ دفاعِ صحابہ کر جاتے ہیں ، اور مضبوط بنیادوں پر کر جاتےہیں ۔
رب تعالیٰ ہمیں جملہ علماے اہل سنت کا ادب نصیب کرے ، علما کی بے جا توہین بندے کو رَاندۂ دَرگاہ کردیتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
" جو لشکر اپنے سپہ سالاروں پر اعتماد نہیں کرتا ، وہ بہت جلد شکست کھاجاتا ہے ۔ "
آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح گستاخانِ صحابہ کے متعلق آپ کے جذبات ہیں ، اسی طرح آپ کے علماے کرام کے بھی ہیں ؛ بس طریقہ تردید الگ الگ ہے ۔
بعض علماے کرام تو بہ ظاہر خاموش رہ کر بھی ، بولنے والوں سے زیادہ دفاعِ صحابہ کر جاتے ہیں ، اور مضبوط بنیادوں پر کر جاتےہیں ۔
رب تعالیٰ ہمیں جملہ علماے اہل سنت کا ادب نصیب کرے ، علما کی بے جا توہین بندے کو رَاندۂ دَرگاہ کردیتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کم سن بیٹی نے یہ کَہ کر دل خوش کردیاہے کہ:
" بابا جس قبر پر کالا جھنڈا لگا ہوا ہو ، اس پر دعا نہیں مانگتے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اُس بندے کی قبر ہوتی ہے جسے اللہ نے ( گستاخی صحابہ کی ) سزا دی ہوتی ہے ۔ "
اپنے بچوں کو صحابہ اور اہل بیت علیھم الرضوان کے دشمنوں کی پہچان کروائیں ، اور ہمیشہ اُن کی صحبت مجلس سے بچنے کی تلقین کرتے رہا کریں ، تاکہ ان کا ایمان محفوظ رہے ۔
✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
" بابا جس قبر پر کالا جھنڈا لگا ہوا ہو ، اس پر دعا نہیں مانگتے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اُس بندے کی قبر ہوتی ہے جسے اللہ نے ( گستاخی صحابہ کی ) سزا دی ہوتی ہے ۔ "
اپنے بچوں کو صحابہ اور اہل بیت علیھم الرضوان کے دشمنوں کی پہچان کروائیں ، اور ہمیشہ اُن کی صحبت مجلس سے بچنے کی تلقین کرتے رہا کریں ، تاکہ ان کا ایمان محفوظ رہے ۔
✍️لقمان شاہد
31-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
10 दिनों के 2 बहुत अहम और हर बा-कार आदमी के लिए जरुरी कोर्सेज:
पहला कोर्स:- *मीडिया ट्रेनिंग कोर्स*
इस कोर्स में सेक्शन वाइस ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *प्रिंट मीडिया सेक्शन में:-* ख़बर कैसे बनती है, समाचार और रिपोर्ट लिखने के अंदाज़ और न्यूज़ की समझ।
(2) *सोशल मीडिया सेक्शन में:-* साइबर क़ानून क्या हैं, ऑनलाइन रहने का शिष्टाचार क्या है और सोशल मीडिया की सामग्री कैसे बनती है?
(3) *प्रोडक्शन सेक्शन में:-* अच्छे वीडियो कैसे बनाएं और काम के सॉफ्टवेयर एवं अप्लीकेशन कौन सी हैं?
दूसरा कोर्स:- *पर्सनेलिटी डवलपमेंट कोर्स*
इस कोर्स में ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *मैनरिज़्म किसे कहते हैं:-* आप अपनी शख़्सियत में दिखने की ताकत को पहचान कर बॉडी लैंग्वेज में क्या तबदीली लाएं?
(2) *मनोदशा यानी नफ़्सियात किसे कहते हैं:-* मानसिक शक्ति यानी रूहानी ताक़त कैसे बढ़ाएं, इसका इमोशनल इंटेलिजेंस से क्या तअल्लुक़ है और नए आइडिया कैसे आते हैं?
(3) *आत्म निरीक्षण यानी अहलियत किसे कहते हैं:-* ज़िंदगी में महारत कैसे हासिल करें, ज़बान और सामग्री कैसे बनती है और जीवन का लक्ष्य कैसे निर्धारित करें?
*About Teacher & Trainer:-*
दोनों कोर्सेज के टीचर और ट्रेनर मशहूर पत्रकार, फलसफी और वक्ता *डॉ अख़लाक़ अहमद उस्मानी*, दिल्ली होंगे।
*कोर्स डिटेल:-* कोर्सेज की रियल फीस Rs.5,000/= है लेकिन *तहरीक उलमा ए हिंद* और *इदार ए क़ुरआन* की तरफ से कंसीशन के बाद शरीक होने वालों को केवल Rs.500/= अदा करने होंगे। यह फीस रजिस्ट्रेशन के साथ एडवांस अदा करनी होगी। कोर्स रोज़ाना क़रीब 1 घंटे का होगा और दस दिन चलेगा। यह अवधि 5-14 सितम्बर 2020 होगी।
*नोट:-* केवल 2 दिन बाकी हैं, ख्वाहिश मंद जल्दी करें।
अधिक जानकारी और एडमिशन के लिए राब्ता करें: 981188 4866/ 98290 49081
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/755486945021826/
पहला कोर्स:- *मीडिया ट्रेनिंग कोर्स*
इस कोर्स में सेक्शन वाइस ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *प्रिंट मीडिया सेक्शन में:-* ख़बर कैसे बनती है, समाचार और रिपोर्ट लिखने के अंदाज़ और न्यूज़ की समझ।
(2) *सोशल मीडिया सेक्शन में:-* साइबर क़ानून क्या हैं, ऑनलाइन रहने का शिष्टाचार क्या है और सोशल मीडिया की सामग्री कैसे बनती है?
(3) *प्रोडक्शन सेक्शन में:-* अच्छे वीडियो कैसे बनाएं और काम के सॉफ्टवेयर एवं अप्लीकेशन कौन सी हैं?
दूसरा कोर्स:- *पर्सनेलिटी डवलपमेंट कोर्स*
इस कोर्स में ये बातें सिखाई जाएंगी:
(1) *मैनरिज़्म किसे कहते हैं:-* आप अपनी शख़्सियत में दिखने की ताकत को पहचान कर बॉडी लैंग्वेज में क्या तबदीली लाएं?
(2) *मनोदशा यानी नफ़्सियात किसे कहते हैं:-* मानसिक शक्ति यानी रूहानी ताक़त कैसे बढ़ाएं, इसका इमोशनल इंटेलिजेंस से क्या तअल्लुक़ है और नए आइडिया कैसे आते हैं?
(3) *आत्म निरीक्षण यानी अहलियत किसे कहते हैं:-* ज़िंदगी में महारत कैसे हासिल करें, ज़बान और सामग्री कैसे बनती है और जीवन का लक्ष्य कैसे निर्धारित करें?
*About Teacher & Trainer:-*
दोनों कोर्सेज के टीचर और ट्रेनर मशहूर पत्रकार, फलसफी और वक्ता *डॉ अख़लाक़ अहमद उस्मानी*, दिल्ली होंगे।
*कोर्स डिटेल:-* कोर्सेज की रियल फीस Rs.5,000/= है लेकिन *तहरीक उलमा ए हिंद* और *इदार ए क़ुरआन* की तरफ से कंसीशन के बाद शरीक होने वालों को केवल Rs.500/= अदा करने होंगे। यह फीस रजिस्ट्रेशन के साथ एडवांस अदा करनी होगी। कोर्स रोज़ाना क़रीब 1 घंटे का होगा और दस दिन चलेगा। यह अवधि 5-14 सितम्बर 2020 होगी।
*नोट:-* केवल 2 दिन बाकी हैं, ख्वाहिश मंद जल्दी करें।
अधिक जानकारी और एडमिशन के लिए राब्ता करें: 981188 4866/ 98290 49081
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/755486945021826/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زبدۃ الواصلین، حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہروی علیه رحمة الله القوي کی ولادت ۱۱۳۱ھ مارہرہ شریف (یو پی) ہند میں ہوئی اور یہیں ۱٤ محرم الحرام ۱۱۹۸ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔ آپ کا مزار شریف ”درگاہ شاہ برکت الله“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ ۲۰ تا ۲۳)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/