🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
تکلیف دینے والے

کسی کو تکلیف دینا بہت بُری بات ہے۔

آپ نے جو تکلیف کسی کو پہنچائی ہے وہ نہ جانے اسے کہاں پہنچا دے؟

ہم کیا کہیں کہ تکلیف دینا کتنا بڑا جرم ہے...
ایک مسئلہ شاید آپ نے سنا ہوگا جو فقہ کی کتابوں میں آداب مسجد کے حوالے سے ملتا ہے کہ:

و یمنع منه کل موذ ولو بلسانه
(در مختار)

یعنی مسجد (میں جانے) سے ہر ایذا (تکلیف) دینے والے کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذا دے۔

تکلیف دینے والے کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے ان کا سکون جاتا نہیں بلکہ جلد چھین لیا جاتا ہے۔
ہم جان کر اور بعض اوقات انجانے میں کسی کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں۔
ہمیں ابھی ارادہ کر لینا چاہیے کہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے چاہے وہ لکھ کر ہو، بول کر ہو یا کسی اور طریقے سے۔

اللہ تعالی ہمیں کسی کی دل آزاری کا سبب بننے سے بچائے۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
हक़ बोलने से ना डरिए

चापलूसी का बाज़ार गर्म है,
कई पढ़े लिखे लोग भी दही में सही मिलाने के आदी हो चुके हैं तो ऐसे में हक़ बोलना जिहाद से कम नहीं है।

अल्लाह पाक ने जिन्हें हक़ गोई की दौलत अता फरमाई है वो बयान करने में किसी से नहीं डरते।
मुखालिफत तो होती है और परेशानियां सामने आती हैं पर बिना किसी का लिहाज़ लिए हक़ बोलने वाले याद रखे जाते हैं।

हक़ बोलने में किसी से ना डरिए,
कोई आपका क्या बिगाड़ सकता है?

जब मुखालिफ़तो का तूफान दिखाई दे और आपको गिराने के लिए कोशिशें की जा रही हो तो याद कर लें के आप अकेले नहीं।
अगर बिगाड़ने वाले हैं तो फिर संवारने वाले भी हैं।

आला हज़रत रहिमहुल्लाहु तआला का ये शेर गुनगुनाते रहिये और हक़ की सदा बुलंद करते रहिये।

सुन लें आदा मैं बिगड़ने का नहीं
वो सलामत है बनाने वाले

अब्दे मुस्तफ़ा
حق بولنے سے نہ ڈریے

چاپلوسی کا بازار گرم ہے،
کئی پڑھے لکھے لوگ بھی دہی میں سہی ملانے کے عادی ہو چکے ہیں تو ایسے میں حق بولنا جہاد سے کم نہیں۔

اللہ تعالی نے جنھیں حق گوئی کی دولت عطا فرمائی ہے وہ بیان کرنے میں کسی سے نہیں ڈرتے۔
مخالفت تو ہوتی ہے اور پریشانیاں سامنے آتی ہیں پر بنا کسی کا لحاظ کیے حق بولنے والے یاد رکھے جاتے ہیں۔

حق بولنے میں کسی سے نہ ڈریے
کوئی آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟

جب مخالفتوں کا طوفان دکھائی دے اور آپ کو گرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہوں تو یاد کر لیں کہ آپ اکیلے نہیں۔
اگر بگاڑنے والے ہیں تو پھر سنوارنے والے بھی ہیں۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر گنگناتے رہیے اور حق کی صدا بلند کرتے رہیے۔

سن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
عرسِ حضور مفتی اعظم کی مناسبت سے.... علمی تحریر
*مفتی اعظم کا زہد و تقویٰ*
رشحاتِ فکر: بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ
مطبوعہ: نوری مشن مالیگاؤں

مشاہدات کی بزم سجی ہے…محبوبانِ خدا کا ذکرِ جمیل ہو رہا ہے…سبحان اللہ! تذکرہ مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا…وہ بھی بزبانِ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ…جو مجالسِ حضور مفتی اعظم کے حاضر باش تھے…جنھوں نے پیکرِ تقویٰ و استقامت کے پاکیزہ شب و روز مشاہدہ کیے…ان کی عظمتوں کی قندیلیں حریمِ قلب میں آویزاں پائیں… ان کی مقبولیت کا جھومر بلندیوں پر نصب دیکھا…آپ بھی چند لمحے مادیت کی گرداب سے نکل کر صحبتِ محبوبانِ الٰہی میں بیٹھیں…بحرالعلوم نے ان محاسن و خوبیوں کا ذکر کیا جو کتاب و سُنّت میں مذکور ہیں…جن سے تعمیرِ شخصیت کا مرحلہ طے ہوتا ہے…اللہ کریم نےحضور مفتی اعظم پر وہ فضل فرمایا کہ خوبیوں کا جامع بنایا…خشیت سے نوازا…انعاماتِ خسروانہ کی بارانِ تطہیر سے سیراب کیا…حضور مفتی اعظم خوب چمکے...اور زمانے کو چمکا دیا…تحفظِ شریعت کا فریضہ انجام دیا…اقتدارِ باطل کے سامنے سینہ سپر ہوگئے…حکومتیں جُھک گئیں…تخت و تاج سرنگوں ہو گئے... اسلام کی عظمتوں کا پھریرا کشورِ ہند پر لہرانے لگا…آپ بھی ایسے مردِ درویش کے تقویٰ شعار لمحوں کا نظارہ محسوس نگاہوں سے کریں…بحرالعلوم نے کیسی بزم آراستہ کی…جہاں ہر طرف نکہتیں پھیلی ہوئی ہیں…پورا چمن مہک رہا ہے…

غلام مصطفیٰ رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور مفتی اعظم اور راہِ عزیمت و استقامت*
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" فقہی تدبر و بصیرت پر علمی شاہکار

(بموقع : عرسِ حضور مفتی اعظم)

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

حیاتِ حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ہر گوشہ روشن و درخشاں ہے- آپ کی تقویٰ شعار زندگی مشعلِ راہ اور نمونۂ عمل ہے- جس پر آپ کے تلامذہ، خلفا اور مریدین کے مشاہدات کے کثیر اوراق موجود ہیں-
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) نے اپنی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" میں اپنے مرشدِ گرامی کی حیاتِ طیبہ کے کئی ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے؛ جس سے اسلامی روایات و قوانین کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے متعدد ابواب اجاگر ہوتے ہیں- اور دین متین کی تقویت کا سامان مہیا ہوتا ہے-
١٤۱۰ھ میں میں ممبئی کی سرزمین پر مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی کا ایمان افروز و سنجیدہ خطاب ہوا تھا؛ جس میں آپ نے فقہ اسلامی کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم کی فقہی بصیرت و استقامت فی الدین کے کئی گوشے اجاگر کیے- اسے تحریر کا پیرہن حضرت مفتی محمد اشرف رضا قادری ممبئی نے زیب کرایا- ٣٢ برسوں پہلے دارالعلوم امام احمد رضا ممبئی نے اس خطاب کو تحریری شکل میں شائع کیا۔ مدت سے یہ کتاب نایاب و کمیاب تھی- نوری مشن مالیگاؤں سے اس کی افادیت کے پیشِ نظر عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر اشاعت عمل میں آ رہی ہے- قدیم مطبوعہ نسخہ کی فراہمی کے لیے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی صاحب کے ممنون ہیں- اس کتاب کے بعض پہلوؤں پر یہاں روشنی ڈالی جاتی ہے-

(١) فقہ اسلامی میں زمانے کی رعایت کی آڑ میں اسلامی قوانین سے انحراف کی فضا تشکیل دی جا رہی ہے؛ علامہ قمرالزماں اعظمی فرماتے ہیں: "اسلام کو معذرت کا مذہب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام کو منزل اعتذار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔"
حضور مفتی اعظم نے عزیمت و استقامت کی راہ اختیار کی؛ علامہ اعظمی فرماتے ہیں:
"اے سرکار مفتی اعظم ہند! ہم آپ کی عظمتوں کے قربان کہ زمانہ رُخصتیں تلاش کر رہا ہے۔ جواز تلاش کر رہاہے۔ مذبوحی حرکتیں کر رہاہے۔ اباحتیں تلاش کر رہا ہے۔ دارالافتاء بک گئے ہیں۔ درس گاہیں فروخت ہو گئی ہیں۔ اور قوموں کا وقار یقیناً غیروں کے دروازہ پر قربان کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ نے مسائل میں ہمیشہ عزیمتوں کا راستہ دکھایا ہے، رُخصتوں کا راستہ نہیں دکھایا ہے۔"

(٢) فقہ حنفی جو فقہ کی اساس ہے؛ اس کی حفاظت کے لیے مفتی اعظم کی مساعی جمیلہ کے ضمن میں علامہ اعظمی کہتے ہیں:
" آج اگر سرکار امام ابو حنیفہ اپنی ظاہری زندگی کے ساتھ جلوہ افروز ہو جائیں تو یقیناً اپنے اس روحانی فرزند کو اپنی آنکھوں سے لگا لیں گے۔ یقیناً اپنے سینوں سے لگا لیں گے۔ اس لیے کہ آج بھی بریلی کا دارالافتاء دراصل بریلی کا دارالافتاء نہیں ہے؛ بلکہ بغداد میں امام اعظم کے دارالافتاء کی ترجمانی کر رہا ہے۔"
وجہ یہی ہے کہ دارالافتاء بریلی اقتدار باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوا؛ شریعت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا حکم برملا صادر فرمایا- نسبدی سے متعلق حضور مفتی اعظم کا فتویٰ اس پر شاہد ہے- علامہ اعظمی اسی رخ سے فرماتے ہیں:"بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اُصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے...... آج بھی حنفیت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو اعلیٰ حضرت کے مشن کی بنیاد پر؛ حضور مفتی اعظم ہند کے مشن کی بنیاد پر۔"

(٣) دُنیا کی باطل قوتوں نے چاہا کہ درس گاہوں کو سرنگوں کر دیں؛ اسلامی دانش گاہوں کا تشخص ختم کر دیں؛ دارالافتاء کو جھکا لیں... اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے- یہی سبب ہے کہ عرب ممالک کے کئی مراکز ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے یہود و انگریز کے کاز کو تقویت ملتی ہے- حضور مفتی اعظم نے مصالحت کو راہ نہیں دی؛ بلکہ حکم شریعت کے تفوق و برتری کو پیش نظر رکھا- استقامت فی الدین کی اسی جہت کو علامہ اعظمی ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:
"اعلیٰ حضرت کے تفقہ کی عملی مثال سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند نےدُ نیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ اپنے مقام سے ہٹ سکتا ہے، مگر شریعت کا کوئی جزئیہ اپنے مقام سے ہٹ نہیں سکتا۔ شریعت کا کوئی بھی مسئلہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتا۔ یہ وہ استقامت فی الدین تھی جو آج دُنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہے۔"
بہر کیف! موجودہ حالات میں تصلب دینی اور فقہ اسلامی کے فیصلوں پر استقامت سے ہی ہم اپنے اسلامی وقار کا تحفظ کر سکتے ہیں- مصالحت اور معذرت خواہانہ انداز مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا- اس لیے حضور مفتی اعظم کے تفقہ فی الدین اور تصلب فی الدین کا باب ہم سب کے لیے مشعلِ راہ اور استقامت کا روشن مینار ہے-
مذکورہ کتاب کئی جہتوں سے افادیت کی حامل ہے؛ تحفظ شریعت اسلامی کے تئیں حضور مفتی اعظم کی خدمات کو اجاگر
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کرنے کے لیے اس کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے-
***
٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Kalam E Nazmi کلامِ نظمی
۱۴؍ محرم الحرام عرس حضور مفتی اعظم کی مناسبت سے سرکار نظمی کی تحریر فرمودہ منقبتِ مفتی اعظم قدس سرہٗ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناقب مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضویت ماتم کناں ہے، مضطرب برکاتیت
کون دے پرسا کسے، اور کون کس کو تعزیت
کسکے دامن میں چھپیں اور کس سے اب بپتا کہیں
ایک سناٹا ہے گرد کاروانِ سنیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حق نے بخشا تھا ہمیں ایسا مجلیّٰ آئینہ
خُلق میں تھا جو سراپا مصطفیٰ کا آئینہ
شاہ برکت شاہ حمزہ پیشوا کا آئینہ
بوالحسین احمد نوری ضیا کا آئینہ
زندگی ان کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
قول و فعل و حال میں تھے مرتضیٰ کا آئینہ
حق نما، حق بین و حق گو، حق پرست و حق پسند
مرد حق، مشتاق حق، حق کی ضیا کا آئینہ
جس کا نصب العین تھا اعلان حق، تبلیغ حق
زندگی جس کی تھی شرع مصطفیٰ کا آئینہ
اپنے مرشد حضرت نوری سے جو نوری بنا
صورت و سیرت میں وہ احمد رضا کا آئینہ
قوم نے جس کو دیا تھا مفتی اعظم لقب
شارح قرآں، حدیث مصطفیٰ کا آئینہ
جس کی آنکھوں میں جھلکتی تھی حیا عثمان کی
ظلِّ ذی النورین عثماں کی ضیا کا آئینہ
ذوالفقار حیدری کا جانشیں جس کا قلم
قول و فعل و حال میں وہ مرتضیٰ کا آئینہ
دل کا اچھا تن کا ستھرا مرد کامل با صفا
اچھے پیارے شمس دیں بدر العلیٰ کا آئینہ
تازگی ایمان میں آتی تھی جس کو دیکھ کر
ستھرے پیارے نور حق شمس الضحیٰ کا آئینہ
جس کی ہیبت اہل باطل کے دلوں پر ثبت تھی
وہ رضائے مصطفیٰ شیر خدا کا آئینہ
جلوہ صدیق و فاروق و غنی مشکل کشا
مظہر حسنین اور غوث الوریٰ کا آئینہ
مسلک برکاتیت کا وہ عَلَم بردار تھا
تھا سراسر اپنے مرشد کی دعا کا آئینہ
یہ مناقب نظمی نے لکھے قلم برداشتہ
ہے قلم نظمی کا نوری کی عطا کا آئینہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ
عرس نوری مبارک
قل شریف
1:40 AM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
’’ذکر حضور مفتی اعظم‘‘ نوری مشن کی ۱۲۱؍ویں اشاعت منظر عام پر

حضور مفتی اعظم کی تقویٰ شعار زندگی و فقہی خدمات پر علامہ قمرالزماں اعظمی کی تحریر

مالیگاؤں: عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر نوری مشن مالیگاؤں نے مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے خطاب کا تحریری مرقع ’’ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ مفکرِ اسلام نے اپنے خطاب میں حضور مفتی اعظم کے تقویٰ، تدبر، فقہی بصیرت، داعیانہ کردار اور مثالی حیات کی کئی جھلکیاں اُجاگر کی ہیں اور نیابتِ امام اعظم کے رُخ سے بھی مفتی اعظم کی فقہی شان بیان کی ہے۔ آپ نے دلائل و مشاہدات کی روشنی میں اسلامی قوانین کے تحفظ میں مفتی اعظم کے نمایاں کردار کے ضمن میں یہ بات کہی ہے کہ ’’بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔‘‘ خطاب کو تحریری شکل میں مفتی محمد اشرف رضا قادری (ممبئی) نے ترتیب دیا ہے اور نوری مشن سے خوب صورت انداز میں اشاعت عمل میں آئی۔ یہ کتاب مدینہ کتاب گھر، مدینہ مسجد (مالیگاؤں) سے بلا قیمت حاصل کریں۔ بیرونی قارئین پی ڈی ایف فائل کے لیے ان نمبرات پر واٹس ایپ یا ٹیلی گرام رابطہ کریں:
غلام مصطفیٰ رضوی
+919325028586
فرید رضوی
+919273574090
معین پٹھان رضوی
+917588815888
٭ نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭
٣ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
داڑھی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
سائل:غلام مصطفی طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، بالکل منڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ناجائز و گناہ ہے۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسلمان مردوں کے لیے داڑھی ایک مشت(مٹھی،چارانگل) رکھنا واجب ہے۔ایک مشت داڑھی کا وجوب درج ذیل دلائل سے ثابت ہے۔چنانچہ بخاری،مسلم،ابوداؤد،ترمذی ودیگر کتب احادیث میں ہے۔والنظم للاول ”عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ“
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
(صحیح البخاری، کتاب اللباس،باب تقلیم الاظفار،جلد2،صفحہ398،مطبوعہ لاھور)
فتح القدیر، غنیۃ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے ۔والفظ للآخر”وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج“
ترجمہ: بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندوؤں اور بعض انگریزوں کا طریقہ ہے۔
( درر شرح غرر ، کتاب الصیام ،فصل حامل او مرضع خافت، ج1،ص208،داراحیاء الکتب العربیہ ،بیروت)
شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”حلق کردن لحیہ حرام است…وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ا ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند“
ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے… اور بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے، حالانکہ وہ واجب ہے۔
(اشعۃ اللمعات ،جلد 1صفحہ212،مکتبہ نوریہ رضویہ ،سکھر)
مزید تفصیل کے لیے امام اہل سنت اعلی ٰحضرت علیہ رحمۃ رب العزت کے رسالہ ”لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحٰی“ کا مطالعہ فرمائیں۔
جوشخص داڑھی منڈواتا ہو یا کٹوا کرایک مٹھی سے کم کرتا ہو،وہ فاسق معلن ہے۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”داڑھی منڈانا اور کتروا کر حدِ شرع سے کم کرانا ،دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔“
(فتاوی رضویہ،جلد06،صفحہ505،رضافاؤنڈیشن،لاهور)
صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:”داڑھی کو کتر کرایک مشت سے کم کرنا،ناجائز و حرام ہے۔۔اور جب یہ معصیت اور گناہ ہے تو چند بار کرنے سے کبیرہ و فسق ہو گا کہ اسرار علی الصغیرہ کبیرہ ہے اور اس کا بالاعلان ہوناخود ظاہر محتاج بیان نہیں۔“
(فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ76، مکتبہ رضویہ،کراچی)
یاد رہے ! فاسق معلن کوامام بناناگناہ ہےاورفاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی ہے اور اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی، تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔“
(فتاویٰ رضویہ ،جلد6،صفحہ603،رضا فاؤنڈیشن،لاهور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں)اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
یا اس لنک پر کلک کر کے وٹس اپ پہ میسج کریں۔
https://wa.me/message/LNJS36RMGEVAD1
یا فیس بک پر اس آئی ڈی پر میسج کریں۔
https://www.facebook.com/SyedKamran786
03/09/2020
08:15 Pm
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حقیقت

انسان جو دیکھتا ہے اسے ہی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ ہمارے ایمان کا اکثر حصہ ایسی باتوں پر مشتمل ہے جو ہم نے دیکھا ہی نہیں!

دکھائی دینے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی،
حقیقت بالکل دور نہیں ہمارے سامنے ہے۔

حقیقت میں خود کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے خود کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔
حقیقت ایک آئینہ ہے جس کے لیے ظاہری آنکھیں بھی شرط نہیں۔

یوں کَہ لیں کہ یہ ایک احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اگر حقیقت پر ان چھوٹی سی آنکھوں سے قبضہ کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی انتہا نہیں۔

حقیقت کو دیکھنے کے لیے دل ضروری ہے،
ایک ایسا دل جو دیکھ سکے ورنہ یہ آنکھیں دریا کو سمندر سمجھ لیتی ہیں۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہندستان میں ایک تحریک چلی تھی جسے شُدھی ( یعنی ہندو بنانے والی تحریک ) کہاجاتا تھا ۔

اُس تحریک نے جب لاکھوں مسلمانوں کو مرتد بنادیا تو اس وقت دین کا درد رکھنے والے علما و عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت عقل مندی سے ، بھیس بدل کر اس تحریک کا نہ صرف زور توڑا ، بلکہ ساڑھے چار لاکھ مرتدین کو دوبارہ مسلمان کیا ، اور ڈیڑھ لاکھ ہندووں کو بھی کلمہ اسلام پڑھا دیا ۔

( دیکھیے: بھیگی پلکوں کا بوجھ ، دیوتا کی شکتی ، ص 143 ، ط شبیر برادرز لاہور )

جب شُدھی تحریک عروج پر تھی اُس وقت مولانا سید غلام قطب الدین برہمچاری ہندووں کاروپ دھار کر بنارس کے سب سے بڑے مندر میں چلے گئے تھے اور کئی سال تک پنڈتوں سے پڑھتے رہے ۔
آپ نے بڑی محنت سے نہ صرف ہندو مذہب کی جملہ کتابیں ( وید اور شاستر وغیرہ ) پڑھ لیں ، بلکہ اس مذہب کے اسرار و رموز بھی بہ خوبی سیکھ لیے ، اور انھیں استعمال میں لاکر لاتعداد ہندووں کو مسلمان کیا ۔

ایک دن آپ کو معلوم ہوا کہ بدایون کے اطراف میں دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اور دیگر لوگ بھی شُدھی کے فتنے کا شکار ہورہے ہیں ، تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور اسی وقت اس طرف روانہ ہوگئے ۔
وہاں پہنچ کر شام کے وقت آپ نے جسم پر بھبھوت ملا ، ماتھے پر قشقہ لگایا ، اور گلے میں چندن کی مالا ڈال کر پیپل کے درخت کے نیچے آنکھیں بند کرکے ، ایک ٹانگ پر کھڑے ہوگئے ، اور دو دن اسی حالت میں کھڑے رہے ۔
آپ کی اس حالت سے کثیر تعداد میں ہندو اور پنڈت متاثر ہوئے اور آپ کو دیوتا سمجھنے لگے ۔
آپ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدت مند سیکڑوں ، ہزاروں ہندووں کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باطل کو ختم کرنے کے لیے صرف تقریریں اور تحریریں ہی کافی نہیں ہوتیں ، بعض دفعہ سید غلام قطب الدین جیسی قربانی بھی دینی پڑتی ہے ۔

اور جو علما ایسی قربانی دیں انھیں برداشت بھی کرنا پڑتا ہے ۔
سید صاحب جب مندر میں رہتے تھے تو حضرت شاہ عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ چوری چُھپے آپ کو پراٹھے اور کباب دے کرآتے تھے ۔

✍️لقمان شاہد
2-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM