Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆
*عاشورہ کے دن پانیوں میں زم زم شریف کی آمد ــ ایک تحقیق*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوال: کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ دس محرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔؟
سائل :
{فیضان سرور مصباحی ـ انڈیا }
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب: عاشورہ کی رات آب زم زم شریف کے تمام پانیوں میں پہنچنے کی بات پر کوئی مستند روایت میرے علم میں نہیں ہے۔ البتہ تین کتابوں بلا سند یہ بات صیغۂ تمریض کے ساتھ مذکور ہے۔
(1) چنانچہ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
نقل ان اللہ عزوجل یخرق ليلة عاشوراء زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة كما في "الروض الفائق"
(تفسير روح البيان ٤ صفحة ١٥٢ دار الكتب العلمية)
(2) صاحبِ روح البیان کی آخری عبارت "" كما في الروض الفائق"" سے واضح ہے کہ انھوں نے اس کو "الروض الفائق" سے نقل کیا ہے، الروض الفائق کی طرف رجوع کیا تو وہاں مجھے یہ عبارت ملی :
و قد ذكر ان الله تعالي يخرق في تلك الليلة ''يعني ليلة عاشوراء'' زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة.
(الروض الفائق في المواعظ والرقائق المجلس الثاني والأربعين صفحة ١٧٧)
[نوٹ: اصل نسخہ دعوت اسلامی کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔ حوالہ وہیں سے ماخوذ ہے۔]
(3) علامہ عبد الرحمن ابن الجوزی علیہ الرحمہ نے بھی اس کو بیان فرمایا ہے۔ مگر آپ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ سے مروی نہیں، وہ لکھتے ہیں :
و قد ذکر ان اللہ تعالی يخرق فی تلك الليلة زم زم الي سائر المياه فمن استعمل او اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة. و هذا ليس بحديث بل يروي عن علي بن ابن ابي طالب رضي الله عنه.
(سلوة الاخزان بما روي عن ذوي العرفان صفحة ٧٣ دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
معنوی اعتبار سے غور کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کتب میں "یخرق" کا لفظ آیا ہے جو کہ 'خرق' سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے شگاف کرنا، پھاڑنا، سوراخ کرنا، روشن دان کھولنا وغیرہ۔ ان معانی کی روشنی میں مذکورہ عبارات کا مطلب ہے اللہ تعالی عاشورہ کی شب چاہ زمزم کی حاجز اور اس کی تہہ کو پھاڑ کر آب زمزم کا رشتہ زمین کے اندر موجود تمام پانیوں سے جوڑ دیتا ہے۔ اس طرح زمزم کا پانی زمین میں موجود تمام پانیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا جو پانی شب عاشورہ سے قبل ہی سطح زمین سے نکل کر کسی برتن میں آجائیں، اس کو یہ فضیلت شامل نہیں ۔
خلاصۂ کلام : عاشور کے دن آب زمزم تمام پانیوں میں پہنچنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ اس کا تعلق بزرگانِ دین کے مجربات سے ہوسکتا ہے؛ علامہ ابن الجوزی نے اس کا انتساب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے، گویا وہ اپنی تحقیق میں اس کو موقوفاً ثابت مانتے ہیں. واللہ تعالٰی اعلم
ـــــــ تحریر :
ابو الحسن محمد شعیب خان
١٠/محرم الحرام ١٤٤٢ھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوال: کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ دس محرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔؟
سائل :
{فیضان سرور مصباحی ـ انڈیا }
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب: عاشورہ کی رات آب زم زم شریف کے تمام پانیوں میں پہنچنے کی بات پر کوئی مستند روایت میرے علم میں نہیں ہے۔ البتہ تین کتابوں بلا سند یہ بات صیغۂ تمریض کے ساتھ مذکور ہے۔
(1) چنانچہ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
نقل ان اللہ عزوجل یخرق ليلة عاشوراء زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة كما في "الروض الفائق"
(تفسير روح البيان ٤ صفحة ١٥٢ دار الكتب العلمية)
(2) صاحبِ روح البیان کی آخری عبارت "" كما في الروض الفائق"" سے واضح ہے کہ انھوں نے اس کو "الروض الفائق" سے نقل کیا ہے، الروض الفائق کی طرف رجوع کیا تو وہاں مجھے یہ عبارت ملی :
و قد ذكر ان الله تعالي يخرق في تلك الليلة ''يعني ليلة عاشوراء'' زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة.
(الروض الفائق في المواعظ والرقائق المجلس الثاني والأربعين صفحة ١٧٧)
[نوٹ: اصل نسخہ دعوت اسلامی کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔ حوالہ وہیں سے ماخوذ ہے۔]
(3) علامہ عبد الرحمن ابن الجوزی علیہ الرحمہ نے بھی اس کو بیان فرمایا ہے۔ مگر آپ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ سے مروی نہیں، وہ لکھتے ہیں :
و قد ذکر ان اللہ تعالی يخرق فی تلك الليلة زم زم الي سائر المياه فمن استعمل او اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة. و هذا ليس بحديث بل يروي عن علي بن ابن ابي طالب رضي الله عنه.
(سلوة الاخزان بما روي عن ذوي العرفان صفحة ٧٣ دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
معنوی اعتبار سے غور کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کتب میں "یخرق" کا لفظ آیا ہے جو کہ 'خرق' سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے شگاف کرنا، پھاڑنا، سوراخ کرنا، روشن دان کھولنا وغیرہ۔ ان معانی کی روشنی میں مذکورہ عبارات کا مطلب ہے اللہ تعالی عاشورہ کی شب چاہ زمزم کی حاجز اور اس کی تہہ کو پھاڑ کر آب زمزم کا رشتہ زمین کے اندر موجود تمام پانیوں سے جوڑ دیتا ہے۔ اس طرح زمزم کا پانی زمین میں موجود تمام پانیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا جو پانی شب عاشورہ سے قبل ہی سطح زمین سے نکل کر کسی برتن میں آجائیں، اس کو یہ فضیلت شامل نہیں ۔
خلاصۂ کلام : عاشور کے دن آب زمزم تمام پانیوں میں پہنچنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ اس کا تعلق بزرگانِ دین کے مجربات سے ہوسکتا ہے؛ علامہ ابن الجوزی نے اس کا انتساب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے، گویا وہ اپنی تحقیق میں اس کو موقوفاً ثابت مانتے ہیں. واللہ تعالٰی اعلم
ـــــــ تحریر :
ابو الحسن محمد شعیب خان
١٠/محرم الحرام ١٤٤٢ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت
محرم الحرام کے مہینے میں ہمارے علاقے UP (گاؤں) میں غیر مسلم بھی شیرینی، کھانا اور شربت پر امام حسین و شہیدان کربلا کے نام سے نیاز دِلاتے ہیں!
1 غیر مسلم کے گھر نیاز کرنا کیسا؟
2 غیر مسلم کے دوکان سے غیر مسلم کی بنائی ہوئی چیز (شیرینی مِٹھائی) خرید کر لانا اور اس پر فاتحہ کرنا کیسا؟
3غیر مسلم کے گھر کا کھانا دال چاول/سبزی روٹی پر فاتحہ دینا کیسا ہے؟
4 غیر مسلم کے گھر گوشت (مرغ بکرا مچھلی) [غیر مسلم کا ذبیحہ] پر فاتحہ کرنا کیسا ہے ؟
5 غیر مسلم کے گھر گوشت (مرغ بکرا مچھلی) [سنی مسلم کا ذبیحہ] پر فاتحہ کرنا کیسا ہے ؟
6 ہندہ کے شوہر کا کئی سال پہلے انتقال ہو گیا ہے، ہندہ گاؤں ہی کے ایک بَرما (کُرمی) کو اپنے گھر رات اور دن میں اکیلے بلاتی رہتی ہے، زنا بھی کراتی ہے، اور وہ کُرمی خرچہ بھی دیتا ہے، ہندہ فاتحہ کے لئے بُلائے تو فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
7 تعزیہ اور چھڑ (بَڑا عَلَمۡ) کے سامنے فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
8 کربلا (جہاں تعزیہ اور عَلَمۡ دفن کرتے ہیں) پر فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
9 تعزیہ عَلَمۡ اور کربلا پر لوبان سُلگانا اگربتی جَلا کر لگانا عطر لگانا کیسا ہے؟
سائل ضیاء المصطفیٰ قادری بہرائچی
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت
محرم الحرام کے مہینے میں ہمارے علاقے UP (گاؤں) میں غیر مسلم بھی شیرینی، کھانا اور شربت پر امام حسین و شہیدان کربلا کے نام سے نیاز دِلاتے ہیں!
1 غیر مسلم کے گھر نیاز کرنا کیسا؟
2 غیر مسلم کے دوکان سے غیر مسلم کی بنائی ہوئی چیز (شیرینی مِٹھائی) خرید کر لانا اور اس پر فاتحہ کرنا کیسا؟
3غیر مسلم کے گھر کا کھانا دال چاول/سبزی روٹی پر فاتحہ دینا کیسا ہے؟
4 غیر مسلم کے گھر گوشت (مرغ بکرا مچھلی) [غیر مسلم کا ذبیحہ] پر فاتحہ کرنا کیسا ہے ؟
5 غیر مسلم کے گھر گوشت (مرغ بکرا مچھلی) [سنی مسلم کا ذبیحہ] پر فاتحہ کرنا کیسا ہے ؟
6 ہندہ کے شوہر کا کئی سال پہلے انتقال ہو گیا ہے، ہندہ گاؤں ہی کے ایک بَرما (کُرمی) کو اپنے گھر رات اور دن میں اکیلے بلاتی رہتی ہے، زنا بھی کراتی ہے، اور وہ کُرمی خرچہ بھی دیتا ہے، ہندہ فاتحہ کے لئے بُلائے تو فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
7 تعزیہ اور چھڑ (بَڑا عَلَمۡ) کے سامنے فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
8 کربلا (جہاں تعزیہ اور عَلَمۡ دفن کرتے ہیں) پر فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
9 تعزیہ عَلَمۡ اور کربلا پر لوبان سُلگانا اگربتی جَلا کر لگانا عطر لگانا کیسا ہے؟
سائل ضیاء المصطفیٰ قادری بہرائچی
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
الجواب۔۱ ناجائز ہے کہ کافر کا کوئی عمل قابل قبول نہیں البتہ اس سے شیرینی لیکر اپنی طرف سے فاتحہ دلاکر تقسیم کرسکتے ہیں۔واللہ تعالی اعلم
۲۔جائز ہے البتہ بچنا بہتر ہے ۔واللہ تعالی اعلم
۳۔غیر مسلم نے مسلم کو کھانا ہبہ کردیا ہے اور مسلم اسی پر فاتحہ دلانا چاہتا ہے تو دلا سکتا ہے کوئی حرج نہیں۔واللہ تعالی اعلم
۴۔غیر مسلم کا گوشت مردار و حرام ہے فاتحہ بھی ناجائز و حرام۔واللہ تعالی اعلم
۵۔سنی مسلم کے ذبح کرنے سے لیکر پک کر تیار ہونے تک مسلم کی نظر میں رہا تو وہ حلال ہے اسے کھا سکتے ہیں مگر کافر کے کھانے پر فاتحہ ناجائز و حرام اور اگر کسی وقت مسلم کی نظر سے اوجھل ہوگیا تو اس کا کھانا بھی حرام۔واللہ تعالی اعلم
۶۔برصدق مستفتی ہندہ سخت فاسقہ فاجرہ ہے فورا اس حرکت سے باز آے اور توبہ و استغفار کرے نیز خوب صدقہ و خیرات کرے کہ صدقہ معاون توبہ ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو سارے لوگوں پر لازم ہے کہ اس کا شوشل بائکاٹ کردیں اس کے ساتھ کسی قسم کا راہ و رسم نہ رکھیں اس کے گھر فاتحہ کیلئے بھی نہ جائیں شاید اس سے عبرت حاصل کرے قال اللہ تعالی فی کتابہ الکریم"واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین"۔واللہ تعالی اعلم
۷۔ناجائز ہے۔واللہ تعالی اعلم
۸۔ناجائز ہے کہ اس سے ایک امر ناجائز(مصنوعی کربلا) کی وقعت لوگوں کی نظر میں ظاہر کرنا ہے۔واللہ تعالی اعلم
۱۰۔ناجائز و حرام ہے کہ اسراف ہے۔واللہ تعالی اعلم
۲۔جائز ہے البتہ بچنا بہتر ہے ۔واللہ تعالی اعلم
۳۔غیر مسلم نے مسلم کو کھانا ہبہ کردیا ہے اور مسلم اسی پر فاتحہ دلانا چاہتا ہے تو دلا سکتا ہے کوئی حرج نہیں۔واللہ تعالی اعلم
۴۔غیر مسلم کا گوشت مردار و حرام ہے فاتحہ بھی ناجائز و حرام۔واللہ تعالی اعلم
۵۔سنی مسلم کے ذبح کرنے سے لیکر پک کر تیار ہونے تک مسلم کی نظر میں رہا تو وہ حلال ہے اسے کھا سکتے ہیں مگر کافر کے کھانے پر فاتحہ ناجائز و حرام اور اگر کسی وقت مسلم کی نظر سے اوجھل ہوگیا تو اس کا کھانا بھی حرام۔واللہ تعالی اعلم
۶۔برصدق مستفتی ہندہ سخت فاسقہ فاجرہ ہے فورا اس حرکت سے باز آے اور توبہ و استغفار کرے نیز خوب صدقہ و خیرات کرے کہ صدقہ معاون توبہ ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو سارے لوگوں پر لازم ہے کہ اس کا شوشل بائکاٹ کردیں اس کے ساتھ کسی قسم کا راہ و رسم نہ رکھیں اس کے گھر فاتحہ کیلئے بھی نہ جائیں شاید اس سے عبرت حاصل کرے قال اللہ تعالی فی کتابہ الکریم"واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین"۔واللہ تعالی اعلم
۷۔ناجائز ہے۔واللہ تعالی اعلم
۸۔ناجائز ہے کہ اس سے ایک امر ناجائز(مصنوعی کربلا) کی وقعت لوگوں کی نظر میں ظاہر کرنا ہے۔واللہ تعالی اعلم
۱۰۔ناجائز و حرام ہے کہ اسراف ہے۔واللہ تعالی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
हज़रत अय्यूब अलैहिस्सलाम के वाक़िये पर तहक़ीक़ (पार्ट 6) (5) हज़रते हसन बसरी ने बयान किया की इबलीसे लईन एक बकरी का बच्चा ले कर हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम की बीवी के पास आया और कहा : तुम अपने शौहर से कहो के इस बकरी के बच्चे को मेरे नाम पर जबह कर दें फिर वो तंदूरस्त…
हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम के वाक़िये पर तहक़ीक़
(पार्ट 7)
हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम की बीमारी के क़िस्से के मुतअ़ल्लिक़ इमाम इब्ने अबी हातिम, इमाम इब्ने जरीर, इमाम इब्ने हिब्बान और हाकिम ने अपनी अपनी सनदों के साथ हज़रते अ़नस रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु से ये रिवायत की है कि हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम मर्ज़ में 13 साल मुब्तिला रहे और खालिद बिन दरीक ने कहा कि 80 साल की उम्र में आप के साथ ये मामला पेश आया था और हज़रते इब्ने अ़ब्बास ने फ़रमाया कि वो इस मुसीबत में 7 साल मुब्तिला रहे और उन पर ये मुसीबत 70 साल की उम्र में आयी थी।
हसन बसरी की तरफ मन्सूब है कि उन्होंने कहा कि हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम को बनी इसराईल के कचरा घर में फेंक दिया गया था और वो 7 साल तक इस में पड़े रहे।
ये रिवायत सहीह नहीं है।
अल्लाह त'आला अपने नबियों को बा-वक़ार हालत में रखता है और उनको कूड़े करकट की जगह फेंक देना और सात साल तक उनका वहाँ पड़े रहना उनके वक़ार और उनकी अज़मत के मनफ़ी है।
अल्लाह त'आला अपने नबियों के मुतल्लिक़ फ़रमाता है :
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (آل عمرن : 33)
"बेशक अल्लाह ने चुन लिया आदम और नूह और इब्राहीम की औलाद और इमरान की औलाद को (उनके ज़माने के) सारे जहान वालों पर"
जारी है.......
अ़ब्दे मुस्तफ़ा
(पार्ट 7)
हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम की बीमारी के क़िस्से के मुतअ़ल्लिक़ इमाम इब्ने अबी हातिम, इमाम इब्ने जरीर, इमाम इब्ने हिब्बान और हाकिम ने अपनी अपनी सनदों के साथ हज़रते अ़नस रदिअल्लाहु त'आला अ़न्हु से ये रिवायत की है कि हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम मर्ज़ में 13 साल मुब्तिला रहे और खालिद बिन दरीक ने कहा कि 80 साल की उम्र में आप के साथ ये मामला पेश आया था और हज़रते इब्ने अ़ब्बास ने फ़रमाया कि वो इस मुसीबत में 7 साल मुब्तिला रहे और उन पर ये मुसीबत 70 साल की उम्र में आयी थी।
हसन बसरी की तरफ मन्सूब है कि उन्होंने कहा कि हज़रते अय्यूब अ़लैहिस्सलाम को बनी इसराईल के कचरा घर में फेंक दिया गया था और वो 7 साल तक इस में पड़े रहे।
ये रिवायत सहीह नहीं है।
अल्लाह त'आला अपने नबियों को बा-वक़ार हालत में रखता है और उनको कूड़े करकट की जगह फेंक देना और सात साल तक उनका वहाँ पड़े रहना उनके वक़ार और उनकी अज़मत के मनफ़ी है।
अल्लाह त'आला अपने नबियों के मुतल्लिक़ फ़रमाता है :
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (آل عمرن : 33)
"बेशक अल्लाह ने चुन लिया आदम और नूह और इब्राहीम की औलाद और इमरान की औलाद को (उनके ज़माने के) सारे जहान वालों पर"
जारी है.......
अ़ब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق
(پارٹ 7)
حضرتِ ایوب علیہ السلام کی بیماری کے قصے کے متعلق امام ابن ابی حاتم، امام ابن جریر، امام ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام مرض میں 13 سال مبتلا رہے اور خالد بن دریک نے کہا کہ 80 سال کی عمر میں آپ کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ اس مصیبت میں 7 سال مبتلا رہے اور ان پر یہ میصبت 70 سال کی عمر میں آئی تھی۔
حسن بصری کی طرف منسوب ہے کہ انھوں نے کہا کہ حضرتِ ایوب علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے کچرا گھر میں پھینک دیا گیا تھا اور وہ 7 سال تک اس میں پڑے رہے تھے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو باوقار حالت میں رکھتا ہے اور ان کو کوڑے کرکٹ کی جگہ پھینک دینا اور سات سال تک ان کا وہاں پڑے رہنا ان کے وقار اور ان کی عظمت کے منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے متعلق فرماتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (آل عمرن : 33)
"بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی اولاد اور عمران کی اولاد کو (ان کے زمانے کے) سارے جہان والوں پر۔"
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
(پارٹ 7)
حضرتِ ایوب علیہ السلام کی بیماری کے قصے کے متعلق امام ابن ابی حاتم، امام ابن جریر، امام ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام مرض میں 13 سال مبتلا رہے اور خالد بن دریک نے کہا کہ 80 سال کی عمر میں آپ کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ اس مصیبت میں 7 سال مبتلا رہے اور ان پر یہ میصبت 70 سال کی عمر میں آئی تھی۔
حسن بصری کی طرف منسوب ہے کہ انھوں نے کہا کہ حضرتِ ایوب علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے کچرا گھر میں پھینک دیا گیا تھا اور وہ 7 سال تک اس میں پڑے رہے تھے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو باوقار حالت میں رکھتا ہے اور ان کو کوڑے کرکٹ کی جگہ پھینک دینا اور سات سال تک ان کا وہاں پڑے رہنا ان کے وقار اور ان کی عظمت کے منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے متعلق فرماتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (آل عمرن : 33)
"بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی اولاد اور عمران کی اولاد کو (ان کے زمانے کے) سارے جہان والوں پر۔"
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
तकलीफ़ देने वाले
किसी को तकलीफ़ देना बहुत बुरी बात है।
आप ने जो तकलीफ़ किसी को पहुंचाई है वो ना जाने उसे कहां पहुंचा दे !
हम क्या कहें के तकलीफ़ देना कितना बड़ा जुर्म है...,
एक मसला शायाद अपने सुना होगा जो फिक़्ह की किताबों में आदाब ए मस्जिद के हवाले से मिलता है के :
و یمنع منه کل موذ ولو بلسانه (در مختار)
यानी मस्जिद (में जाने) से हर इज़ा (तकलीफ़) देने वाले को रोका जाएगा अगर्चे वो ज़ुबान से इजा़ दे!
तकलीफ़ देने वाले कभी सुकून से नहीं रह सकते, उनका सुकून जाता नहीं बल्कि जल्दी छीन लिया जाता है।
हम जान कर और बाज़ अवका़त अनजाने में किसी को तकलीफ़ पहुंचा देते है!
हमे अब ये इरादा कर लेना चाहिए के बिना किसी शरई वजह के किसी को तकलीफ़ नहीं पहुंचाएंगे चाहे वो लिख़ कर हो, बोल कर हो या किसी और तरीक़े से।
अल्लाह पाक हमे किसी के दिल आजा़री का सबब बनने से बचाए।
अब्दे मुस्तफा़
किसी को तकलीफ़ देना बहुत बुरी बात है।
आप ने जो तकलीफ़ किसी को पहुंचाई है वो ना जाने उसे कहां पहुंचा दे !
हम क्या कहें के तकलीफ़ देना कितना बड़ा जुर्म है...,
एक मसला शायाद अपने सुना होगा जो फिक़्ह की किताबों में आदाब ए मस्जिद के हवाले से मिलता है के :
و یمنع منه کل موذ ولو بلسانه (در مختار)
यानी मस्जिद (में जाने) से हर इज़ा (तकलीफ़) देने वाले को रोका जाएगा अगर्चे वो ज़ुबान से इजा़ दे!
तकलीफ़ देने वाले कभी सुकून से नहीं रह सकते, उनका सुकून जाता नहीं बल्कि जल्दी छीन लिया जाता है।
हम जान कर और बाज़ अवका़त अनजाने में किसी को तकलीफ़ पहुंचा देते है!
हमे अब ये इरादा कर लेना चाहिए के बिना किसी शरई वजह के किसी को तकलीफ़ नहीं पहुंचाएंगे चाहे वो लिख़ कर हो, बोल कर हो या किसी और तरीक़े से।
अल्लाह पाक हमे किसी के दिल आजा़री का सबब बनने से बचाए।
अब्दे मुस्तफा़
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
تکلیف دینے والے
کسی کو تکلیف دینا بہت بُری بات ہے۔
آپ نے جو تکلیف کسی کو پہنچائی ہے وہ نہ جانے اسے کہاں پہنچا دے؟
ہم کیا کہیں کہ تکلیف دینا کتنا بڑا جرم ہے...
ایک مسئلہ شاید آپ نے سنا ہوگا جو فقہ کی کتابوں میں آداب مسجد کے حوالے سے ملتا ہے کہ:
و یمنع منه کل موذ ولو بلسانه
(در مختار)
یعنی مسجد (میں جانے) سے ہر ایذا (تکلیف) دینے والے کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذا دے۔
تکلیف دینے والے کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے ان کا سکون جاتا نہیں بلکہ جلد چھین لیا جاتا ہے۔
ہم جان کر اور بعض اوقات انجانے میں کسی کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں۔
ہمیں ابھی ارادہ کر لینا چاہیے کہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے چاہے وہ لکھ کر ہو، بول کر ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اللہ تعالی ہمیں کسی کی دل آزاری کا سبب بننے سے بچائے۔
عبد مصطفیٰ
کسی کو تکلیف دینا بہت بُری بات ہے۔
آپ نے جو تکلیف کسی کو پہنچائی ہے وہ نہ جانے اسے کہاں پہنچا دے؟
ہم کیا کہیں کہ تکلیف دینا کتنا بڑا جرم ہے...
ایک مسئلہ شاید آپ نے سنا ہوگا جو فقہ کی کتابوں میں آداب مسجد کے حوالے سے ملتا ہے کہ:
و یمنع منه کل موذ ولو بلسانه
(در مختار)
یعنی مسجد (میں جانے) سے ہر ایذا (تکلیف) دینے والے کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذا دے۔
تکلیف دینے والے کبھی سکون سے نہیں رہ سکتے ان کا سکون جاتا نہیں بلکہ جلد چھین لیا جاتا ہے۔
ہم جان کر اور بعض اوقات انجانے میں کسی کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں۔
ہمیں ابھی ارادہ کر لینا چاہیے کہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے چاہے وہ لکھ کر ہو، بول کر ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اللہ تعالی ہمیں کسی کی دل آزاری کا سبب بننے سے بچائے۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
हक़ बोलने से ना डरिए
चापलूसी का बाज़ार गर्म है,
कई पढ़े लिखे लोग भी दही में सही मिलाने के आदी हो चुके हैं तो ऐसे में हक़ बोलना जिहाद से कम नहीं है।
अल्लाह पाक ने जिन्हें हक़ गोई की दौलत अता फरमाई है वो बयान करने में किसी से नहीं डरते।
मुखालिफत तो होती है और परेशानियां सामने आती हैं पर बिना किसी का लिहाज़ लिए हक़ बोलने वाले याद रखे जाते हैं।
हक़ बोलने में किसी से ना डरिए,
कोई आपका क्या बिगाड़ सकता है?
जब मुखालिफ़तो का तूफान दिखाई दे और आपको गिराने के लिए कोशिशें की जा रही हो तो याद कर लें के आप अकेले नहीं।
अगर बिगाड़ने वाले हैं तो फिर संवारने वाले भी हैं।
आला हज़रत रहिमहुल्लाहु तआला का ये शेर गुनगुनाते रहिये और हक़ की सदा बुलंद करते रहिये।
सुन लें आदा मैं बिगड़ने का नहीं
वो सलामत है बनाने वाले
अब्दे मुस्तफ़ा
चापलूसी का बाज़ार गर्म है,
कई पढ़े लिखे लोग भी दही में सही मिलाने के आदी हो चुके हैं तो ऐसे में हक़ बोलना जिहाद से कम नहीं है।
अल्लाह पाक ने जिन्हें हक़ गोई की दौलत अता फरमाई है वो बयान करने में किसी से नहीं डरते।
मुखालिफत तो होती है और परेशानियां सामने आती हैं पर बिना किसी का लिहाज़ लिए हक़ बोलने वाले याद रखे जाते हैं।
हक़ बोलने में किसी से ना डरिए,
कोई आपका क्या बिगाड़ सकता है?
जब मुखालिफ़तो का तूफान दिखाई दे और आपको गिराने के लिए कोशिशें की जा रही हो तो याद कर लें के आप अकेले नहीं।
अगर बिगाड़ने वाले हैं तो फिर संवारने वाले भी हैं।
आला हज़रत रहिमहुल्लाहु तआला का ये शेर गुनगुनाते रहिये और हक़ की सदा बुलंद करते रहिये।
सुन लें आदा मैं बिगड़ने का नहीं
वो सलामत है बनाने वाले
अब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حق بولنے سے نہ ڈریے
چاپلوسی کا بازار گرم ہے،
کئی پڑھے لکھے لوگ بھی دہی میں سہی ملانے کے عادی ہو چکے ہیں تو ایسے میں حق بولنا جہاد سے کم نہیں۔
اللہ تعالی نے جنھیں حق گوئی کی دولت عطا فرمائی ہے وہ بیان کرنے میں کسی سے نہیں ڈرتے۔
مخالفت تو ہوتی ہے اور پریشانیاں سامنے آتی ہیں پر بنا کسی کا لحاظ کیے حق بولنے والے یاد رکھے جاتے ہیں۔
حق بولنے میں کسی سے نہ ڈریے
کوئی آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
جب مخالفتوں کا طوفان دکھائی دے اور آپ کو گرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہوں تو یاد کر لیں کہ آپ اکیلے نہیں۔
اگر بگاڑنے والے ہیں تو پھر سنوارنے والے بھی ہیں۔
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر گنگناتے رہیے اور حق کی صدا بلند کرتے رہیے۔
سن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے
عبد مصطفی
چاپلوسی کا بازار گرم ہے،
کئی پڑھے لکھے لوگ بھی دہی میں سہی ملانے کے عادی ہو چکے ہیں تو ایسے میں حق بولنا جہاد سے کم نہیں۔
اللہ تعالی نے جنھیں حق گوئی کی دولت عطا فرمائی ہے وہ بیان کرنے میں کسی سے نہیں ڈرتے۔
مخالفت تو ہوتی ہے اور پریشانیاں سامنے آتی ہیں پر بنا کسی کا لحاظ کیے حق بولنے والے یاد رکھے جاتے ہیں۔
حق بولنے میں کسی سے نہ ڈریے
کوئی آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
جب مخالفتوں کا طوفان دکھائی دے اور آپ کو گرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہوں تو یاد کر لیں کہ آپ اکیلے نہیں۔
اگر بگاڑنے والے ہیں تو پھر سنوارنے والے بھی ہیں۔
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر گنگناتے رہیے اور حق کی صدا بلند کرتے رہیے۔
سن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
عرسِ حضور مفتی اعظم کی مناسبت سے.... علمی تحریر
*مفتی اعظم کا زہد و تقویٰ*
رشحاتِ فکر: بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ
مطبوعہ: نوری مشن مالیگاؤں
مشاہدات کی بزم سجی ہے…محبوبانِ خدا کا ذکرِ جمیل ہو رہا ہے…سبحان اللہ! تذکرہ مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا…وہ بھی بزبانِ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ…جو مجالسِ حضور مفتی اعظم کے حاضر باش تھے…جنھوں نے پیکرِ تقویٰ و استقامت کے پاکیزہ شب و روز مشاہدہ کیے…ان کی عظمتوں کی قندیلیں حریمِ قلب میں آویزاں پائیں… ان کی مقبولیت کا جھومر بلندیوں پر نصب دیکھا…آپ بھی چند لمحے مادیت کی گرداب سے نکل کر صحبتِ محبوبانِ الٰہی میں بیٹھیں…بحرالعلوم نے ان محاسن و خوبیوں کا ذکر کیا جو کتاب و سُنّت میں مذکور ہیں…جن سے تعمیرِ شخصیت کا مرحلہ طے ہوتا ہے…اللہ کریم نےحضور مفتی اعظم پر وہ فضل فرمایا کہ خوبیوں کا جامع بنایا…خشیت سے نوازا…انعاماتِ خسروانہ کی بارانِ تطہیر سے سیراب کیا…حضور مفتی اعظم خوب چمکے...اور زمانے کو چمکا دیا…تحفظِ شریعت کا فریضہ انجام دیا…اقتدارِ باطل کے سامنے سینہ سپر ہوگئے…حکومتیں جُھک گئیں…تخت و تاج سرنگوں ہو گئے... اسلام کی عظمتوں کا پھریرا کشورِ ہند پر لہرانے لگا…آپ بھی ایسے مردِ درویش کے تقویٰ شعار لمحوں کا نظارہ محسوس نگاہوں سے کریں…بحرالعلوم نے کیسی بزم آراستہ کی…جہاں ہر طرف نکہتیں پھیلی ہوئی ہیں…پورا چمن مہک رہا ہے…
غلام مصطفیٰ رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
*مفتی اعظم کا زہد و تقویٰ*
رشحاتِ فکر: بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ
مطبوعہ: نوری مشن مالیگاؤں
مشاہدات کی بزم سجی ہے…محبوبانِ خدا کا ذکرِ جمیل ہو رہا ہے…سبحان اللہ! تذکرہ مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا…وہ بھی بزبانِ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ…جو مجالسِ حضور مفتی اعظم کے حاضر باش تھے…جنھوں نے پیکرِ تقویٰ و استقامت کے پاکیزہ شب و روز مشاہدہ کیے…ان کی عظمتوں کی قندیلیں حریمِ قلب میں آویزاں پائیں… ان کی مقبولیت کا جھومر بلندیوں پر نصب دیکھا…آپ بھی چند لمحے مادیت کی گرداب سے نکل کر صحبتِ محبوبانِ الٰہی میں بیٹھیں…بحرالعلوم نے ان محاسن و خوبیوں کا ذکر کیا جو کتاب و سُنّت میں مذکور ہیں…جن سے تعمیرِ شخصیت کا مرحلہ طے ہوتا ہے…اللہ کریم نےحضور مفتی اعظم پر وہ فضل فرمایا کہ خوبیوں کا جامع بنایا…خشیت سے نوازا…انعاماتِ خسروانہ کی بارانِ تطہیر سے سیراب کیا…حضور مفتی اعظم خوب چمکے...اور زمانے کو چمکا دیا…تحفظِ شریعت کا فریضہ انجام دیا…اقتدارِ باطل کے سامنے سینہ سپر ہوگئے…حکومتیں جُھک گئیں…تخت و تاج سرنگوں ہو گئے... اسلام کی عظمتوں کا پھریرا کشورِ ہند پر لہرانے لگا…آپ بھی ایسے مردِ درویش کے تقویٰ شعار لمحوں کا نظارہ محسوس نگاہوں سے کریں…بحرالعلوم نے کیسی بزم آراستہ کی…جہاں ہر طرف نکہتیں پھیلی ہوئی ہیں…پورا چمن مہک رہا ہے…
غلام مصطفیٰ رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور مفتی اعظم اور راہِ عزیمت و استقامت*
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" فقہی تدبر و بصیرت پر علمی شاہکار
(بموقع : عرسِ حضور مفتی اعظم)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
حیاتِ حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ہر گوشہ روشن و درخشاں ہے- آپ کی تقویٰ شعار زندگی مشعلِ راہ اور نمونۂ عمل ہے- جس پر آپ کے تلامذہ، خلفا اور مریدین کے مشاہدات کے کثیر اوراق موجود ہیں-
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) نے اپنی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" میں اپنے مرشدِ گرامی کی حیاتِ طیبہ کے کئی ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے؛ جس سے اسلامی روایات و قوانین کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے متعدد ابواب اجاگر ہوتے ہیں- اور دین متین کی تقویت کا سامان مہیا ہوتا ہے-
١٤۱۰ھ میں میں ممبئی کی سرزمین پر مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی کا ایمان افروز و سنجیدہ خطاب ہوا تھا؛ جس میں آپ نے فقہ اسلامی کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم کی فقہی بصیرت و استقامت فی الدین کے کئی گوشے اجاگر کیے- اسے تحریر کا پیرہن حضرت مفتی محمد اشرف رضا قادری ممبئی نے زیب کرایا- ٣٢ برسوں پہلے دارالعلوم امام احمد رضا ممبئی نے اس خطاب کو تحریری شکل میں شائع کیا۔ مدت سے یہ کتاب نایاب و کمیاب تھی- نوری مشن مالیگاؤں سے اس کی افادیت کے پیشِ نظر عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر اشاعت عمل میں آ رہی ہے- قدیم مطبوعہ نسخہ کی فراہمی کے لیے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی صاحب کے ممنون ہیں- اس کتاب کے بعض پہلوؤں پر یہاں روشنی ڈالی جاتی ہے-
(١) فقہ اسلامی میں زمانے کی رعایت کی آڑ میں اسلامی قوانین سے انحراف کی فضا تشکیل دی جا رہی ہے؛ علامہ قمرالزماں اعظمی فرماتے ہیں: "اسلام کو معذرت کا مذہب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام کو منزل اعتذار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔"
حضور مفتی اعظم نے عزیمت و استقامت کی راہ اختیار کی؛ علامہ اعظمی فرماتے ہیں:
"اے سرکار مفتی اعظم ہند! ہم آپ کی عظمتوں کے قربان کہ زمانہ رُخصتیں تلاش کر رہا ہے۔ جواز تلاش کر رہاہے۔ مذبوحی حرکتیں کر رہاہے۔ اباحتیں تلاش کر رہا ہے۔ دارالافتاء بک گئے ہیں۔ درس گاہیں فروخت ہو گئی ہیں۔ اور قوموں کا وقار یقیناً غیروں کے دروازہ پر قربان کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ نے مسائل میں ہمیشہ عزیمتوں کا راستہ دکھایا ہے، رُخصتوں کا راستہ نہیں دکھایا ہے۔"
(٢) فقہ حنفی جو فقہ کی اساس ہے؛ اس کی حفاظت کے لیے مفتی اعظم کی مساعی جمیلہ کے ضمن میں علامہ اعظمی کہتے ہیں:
" آج اگر سرکار امام ابو حنیفہ اپنی ظاہری زندگی کے ساتھ جلوہ افروز ہو جائیں تو یقیناً اپنے اس روحانی فرزند کو اپنی آنکھوں سے لگا لیں گے۔ یقیناً اپنے سینوں سے لگا لیں گے۔ اس لیے کہ آج بھی بریلی کا دارالافتاء دراصل بریلی کا دارالافتاء نہیں ہے؛ بلکہ بغداد میں امام اعظم کے دارالافتاء کی ترجمانی کر رہا ہے۔"
وجہ یہی ہے کہ دارالافتاء بریلی اقتدار باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوا؛ شریعت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا حکم برملا صادر فرمایا- نسبدی سے متعلق حضور مفتی اعظم کا فتویٰ اس پر شاہد ہے- علامہ اعظمی اسی رخ سے فرماتے ہیں:"بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اُصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے...... آج بھی حنفیت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو اعلیٰ حضرت کے مشن کی بنیاد پر؛ حضور مفتی اعظم ہند کے مشن کی بنیاد پر۔"
(٣) دُنیا کی باطل قوتوں نے چاہا کہ درس گاہوں کو سرنگوں کر دیں؛ اسلامی دانش گاہوں کا تشخص ختم کر دیں؛ دارالافتاء کو جھکا لیں... اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے- یہی سبب ہے کہ عرب ممالک کے کئی مراکز ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے یہود و انگریز کے کاز کو تقویت ملتی ہے- حضور مفتی اعظم نے مصالحت کو راہ نہیں دی؛ بلکہ حکم شریعت کے تفوق و برتری کو پیش نظر رکھا- استقامت فی الدین کی اسی جہت کو علامہ اعظمی ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:
"اعلیٰ حضرت کے تفقہ کی عملی مثال سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند نےدُ نیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ اپنے مقام سے ہٹ سکتا ہے، مگر شریعت کا کوئی جزئیہ اپنے مقام سے ہٹ نہیں سکتا۔ شریعت کا کوئی بھی مسئلہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتا۔ یہ وہ استقامت فی الدین تھی جو آج دُنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہے۔"
بہر کیف! موجودہ حالات میں تصلب دینی اور فقہ اسلامی کے فیصلوں پر استقامت سے ہی ہم اپنے اسلامی وقار کا تحفظ کر سکتے ہیں- مصالحت اور معذرت خواہانہ انداز مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا- اس لیے حضور مفتی اعظم کے تفقہ فی الدین اور تصلب فی الدین کا باب ہم سب کے لیے مشعلِ راہ اور استقامت کا روشن مینار ہے-
مذکورہ کتاب کئی جہتوں سے افادیت کی حامل ہے؛ تحفظ شریعت اسلامی کے تئیں حضور مفتی اعظم کی خدمات کو اجاگر
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" فقہی تدبر و بصیرت پر علمی شاہکار
(بموقع : عرسِ حضور مفتی اعظم)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
حیاتِ حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ہر گوشہ روشن و درخشاں ہے- آپ کی تقویٰ شعار زندگی مشعلِ راہ اور نمونۂ عمل ہے- جس پر آپ کے تلامذہ، خلفا اور مریدین کے مشاہدات کے کثیر اوراق موجود ہیں-
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) نے اپنی کتاب "ذکرِ حضور مفتی اعظم ہند" میں اپنے مرشدِ گرامی کی حیاتِ طیبہ کے کئی ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے؛ جس سے اسلامی روایات و قوانین کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے متعدد ابواب اجاگر ہوتے ہیں- اور دین متین کی تقویت کا سامان مہیا ہوتا ہے-
١٤۱۰ھ میں میں ممبئی کی سرزمین پر مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی کا ایمان افروز و سنجیدہ خطاب ہوا تھا؛ جس میں آپ نے فقہ اسلامی کے تحفظ کے لیے حضور مفتی اعظم کی فقہی بصیرت و استقامت فی الدین کے کئی گوشے اجاگر کیے- اسے تحریر کا پیرہن حضرت مفتی محمد اشرف رضا قادری ممبئی نے زیب کرایا- ٣٢ برسوں پہلے دارالعلوم امام احمد رضا ممبئی نے اس خطاب کو تحریری شکل میں شائع کیا۔ مدت سے یہ کتاب نایاب و کمیاب تھی- نوری مشن مالیگاؤں سے اس کی افادیت کے پیشِ نظر عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ پر اشاعت عمل میں آ رہی ہے- قدیم مطبوعہ نسخہ کی فراہمی کے لیے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی صاحب کے ممنون ہیں- اس کتاب کے بعض پہلوؤں پر یہاں روشنی ڈالی جاتی ہے-
(١) فقہ اسلامی میں زمانے کی رعایت کی آڑ میں اسلامی قوانین سے انحراف کی فضا تشکیل دی جا رہی ہے؛ علامہ قمرالزماں اعظمی فرماتے ہیں: "اسلام کو معذرت کا مذہب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام کو منزل اعتذار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔"
حضور مفتی اعظم نے عزیمت و استقامت کی راہ اختیار کی؛ علامہ اعظمی فرماتے ہیں:
"اے سرکار مفتی اعظم ہند! ہم آپ کی عظمتوں کے قربان کہ زمانہ رُخصتیں تلاش کر رہا ہے۔ جواز تلاش کر رہاہے۔ مذبوحی حرکتیں کر رہاہے۔ اباحتیں تلاش کر رہا ہے۔ دارالافتاء بک گئے ہیں۔ درس گاہیں فروخت ہو گئی ہیں۔ اور قوموں کا وقار یقیناً غیروں کے دروازہ پر قربان کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ نے مسائل میں ہمیشہ عزیمتوں کا راستہ دکھایا ہے، رُخصتوں کا راستہ نہیں دکھایا ہے۔"
(٢) فقہ حنفی جو فقہ کی اساس ہے؛ اس کی حفاظت کے لیے مفتی اعظم کی مساعی جمیلہ کے ضمن میں علامہ اعظمی کہتے ہیں:
" آج اگر سرکار امام ابو حنیفہ اپنی ظاہری زندگی کے ساتھ جلوہ افروز ہو جائیں تو یقیناً اپنے اس روحانی فرزند کو اپنی آنکھوں سے لگا لیں گے۔ یقیناً اپنے سینوں سے لگا لیں گے۔ اس لیے کہ آج بھی بریلی کا دارالافتاء دراصل بریلی کا دارالافتاء نہیں ہے؛ بلکہ بغداد میں امام اعظم کے دارالافتاء کی ترجمانی کر رہا ہے۔"
وجہ یہی ہے کہ دارالافتاء بریلی اقتدار باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوا؛ شریعت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا حکم برملا صادر فرمایا- نسبدی سے متعلق حضور مفتی اعظم کا فتویٰ اس پر شاہد ہے- علامہ اعظمی اسی رخ سے فرماتے ہیں:"بریلی تنہا وہ مقام ہے جہاں سے فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے۔ اُصولِ فقہ کی آبرو رکھی جاتی ہے...... آج بھی حنفیت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو اعلیٰ حضرت کے مشن کی بنیاد پر؛ حضور مفتی اعظم ہند کے مشن کی بنیاد پر۔"
(٣) دُنیا کی باطل قوتوں نے چاہا کہ درس گاہوں کو سرنگوں کر دیں؛ اسلامی دانش گاہوں کا تشخص ختم کر دیں؛ دارالافتاء کو جھکا لیں... اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے- یہی سبب ہے کہ عرب ممالک کے کئی مراکز ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے یہود و انگریز کے کاز کو تقویت ملتی ہے- حضور مفتی اعظم نے مصالحت کو راہ نہیں دی؛ بلکہ حکم شریعت کے تفوق و برتری کو پیش نظر رکھا- استقامت فی الدین کی اسی جہت کو علامہ اعظمی ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:
"اعلیٰ حضرت کے تفقہ کی عملی مثال سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند نےدُ نیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ اپنے مقام سے ہٹ سکتا ہے، مگر شریعت کا کوئی جزئیہ اپنے مقام سے ہٹ نہیں سکتا۔ شریعت کا کوئی بھی مسئلہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتا۔ یہ وہ استقامت فی الدین تھی جو آج دُنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہے۔"
بہر کیف! موجودہ حالات میں تصلب دینی اور فقہ اسلامی کے فیصلوں پر استقامت سے ہی ہم اپنے اسلامی وقار کا تحفظ کر سکتے ہیں- مصالحت اور معذرت خواہانہ انداز مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا- اس لیے حضور مفتی اعظم کے تفقہ فی الدین اور تصلب فی الدین کا باب ہم سب کے لیے مشعلِ راہ اور استقامت کا روشن مینار ہے-
مذکورہ کتاب کئی جہتوں سے افادیت کی حامل ہے؛ تحفظ شریعت اسلامی کے تئیں حضور مفتی اعظم کی خدمات کو اجاگر
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کرنے کے لیے اس کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے-
***
٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM