Forwarded from چینل صدائے حق
میں نے عرض کیا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکینَہ"(تصغیر کے ساتھ, سین پر ضمہ, اور کاف پر فتحہ) ہے.
آپ نے اس پر حوالہ طلب فرمایا تو خاکسار نے علامہ فیروزآبادی کی القاموس المحیط کا حوالہ دے دیا.
ظاہر ہے یہ لغوی ساخت کا نہیں بلکہ شہزادی کے نام کے تلفظ کا حوالہ دیا گیا تھا. (کیوں کہ سوال نام ہی کے بارے میں تھا, اس لفظ کی لغوی ساخت کے بارے میں نہیں)
لیکن پھر آپ نے فرمایا کہ:
"یہ لغت کی بات ہے ،اور لغت دونوں ہیں، بفتح السین اور بالضم، فقیر کی گذارش کا مطلب یہ ہے کہ شہزادی پاک کا نام بالضم ہے اس پر کوئی حوالہ ہوتو نوازیں."
اور ہمارے کرم فرما زبیر بھائی نے بھی آپ کے اس اشکال کو درست قرار دیا.
مگر خاکسار کو آپ کے اس اشکال پر حیرت اور تعجب ہوا.
دراصل عربی کی مستند لغات میں قاموس اور اس کی شرح تاج العروس وغیرہ لغات کی یہ خاصیت اور ان کے مصفین کی عادت ہے کہ وہ شخصیات کے ناموں کا وزن بتا کر ان کا تلفظ بھی بیان کرتے ہیں. جس نے بھی قاموس اور تاج العروس وغیرہ پڑھی ہیں اس پر یہ بالکل روشن ہے.
یہی سوچ کر میں نے قاموس کا حوالہ دیا تھا مگر لغت کی بات کَہ کر اسے آپ نے مسترد فرما دیا. اس لیے اب تھوڑی تفصیل پیش ہے:
علامہ فیروزآبادی اور امام محمد مرتضی زبیدی نے "سُکَینَہ" کا صرف لغوی معنی نہیں لکھا ہے بلکہ "بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما" کَہ کر پاک شہزادی کا یہی نام ہونے کی صراحت کی ہے.
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
*"سُکَینَۃ : کجُہَینۃ : الأتان الخفیفۃ السریعۃ, و بہ سُمّیت الجاریۃ الخفیفۃ الروح سُکَینَۃ.
والسُکَینَۃ أیضا اسم البقۃ الداخلۃ أنف نمروذ بن کنعان الخاطئ فأکلت دماغہ.
*و سُکَینَۃُ بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما.*
((ملتقطا من : تاج العروس من جواہر القاموس للامام الزبیدی. مادۃ : س ک ن))
اس عبارت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مبارک شہزادی کا نام(لقب) 'سُکَینَہ' ہے, وہیں ایک دل چسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نمرود کی ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھسنے (اور اس کی ہلاکت کا سبب بننے) والے مچھر/پسو کا نام بھی 'سُکَینَہ' تھا. !!
- ناموں کے تلفظ پر احمد تیمور پاشا کی معروف کتاب "ضبط الأعلام" میں ہے:
*"سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب..............*
*ابن خلكان لم ينص على ضبط في اسمها، و نص صاحب القاموس على أنه كجُهينة، أي بضم السين المهملة و فتح الكاف و سكون الياء المثناة من تحتها، و فتح النون، وبعدها تاء"*
(ضبط الأعلام, ص 74)
- حافظ ابن ماکولا(متوفی 475ھ) کی مشہور کتاب "الإكمال" میں ہے:
"سُكَينَة : بضم السين و فتح الكاف وتخفيفهما و فتح النون، فهي سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب"
(الإكمال لابن ماكولا)
- حافظ ابن ناصر الدین دمشقی(متوفی 842ھ) کی کتاب "توضیح المشتبہ" میں "سُکَینَہ" کے تحت ہے:
"هذا الإسم بضم أوله و فتح الكاف و سكون المثناة تحت و فتح النون، ثم هاء"
ترجمہ : یہ نام پہلے حرف(سین) کے ضمہ, کاف کے فتحہ, یا کے سکون, نون کے فتحہ اور آخر میں ھا کے ساتھ ہے.
امید ہے یہ چند تصریحات ان شاء اللہ کافی ہوں گی.
یہاں یہ بھی عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے دیار میں یہ نام سین کے فتحے کے ساتھ سَکینہ بر وزن سَفینہ زبان زد ہے. اور اب شیعوں کے کچھ قلم کار (ایک مقصد کے تحت) اسی کو درست تلفظ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں. جب کہ درست تلفظ وہی ہے جو ہم نے ائمۂ فن کے حوالے سے اوپر بیان کر دیا ہے.
#نثارمصباحی
8 محرم 1442ھ
آپ نے اس پر حوالہ طلب فرمایا تو خاکسار نے علامہ فیروزآبادی کی القاموس المحیط کا حوالہ دے دیا.
ظاہر ہے یہ لغوی ساخت کا نہیں بلکہ شہزادی کے نام کے تلفظ کا حوالہ دیا گیا تھا. (کیوں کہ سوال نام ہی کے بارے میں تھا, اس لفظ کی لغوی ساخت کے بارے میں نہیں)
لیکن پھر آپ نے فرمایا کہ:
"یہ لغت کی بات ہے ،اور لغت دونوں ہیں، بفتح السین اور بالضم، فقیر کی گذارش کا مطلب یہ ہے کہ شہزادی پاک کا نام بالضم ہے اس پر کوئی حوالہ ہوتو نوازیں."
اور ہمارے کرم فرما زبیر بھائی نے بھی آپ کے اس اشکال کو درست قرار دیا.
مگر خاکسار کو آپ کے اس اشکال پر حیرت اور تعجب ہوا.
دراصل عربی کی مستند لغات میں قاموس اور اس کی شرح تاج العروس وغیرہ لغات کی یہ خاصیت اور ان کے مصفین کی عادت ہے کہ وہ شخصیات کے ناموں کا وزن بتا کر ان کا تلفظ بھی بیان کرتے ہیں. جس نے بھی قاموس اور تاج العروس وغیرہ پڑھی ہیں اس پر یہ بالکل روشن ہے.
یہی سوچ کر میں نے قاموس کا حوالہ دیا تھا مگر لغت کی بات کَہ کر اسے آپ نے مسترد فرما دیا. اس لیے اب تھوڑی تفصیل پیش ہے:
علامہ فیروزآبادی اور امام محمد مرتضی زبیدی نے "سُکَینَہ" کا صرف لغوی معنی نہیں لکھا ہے بلکہ "بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما" کَہ کر پاک شہزادی کا یہی نام ہونے کی صراحت کی ہے.
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
*"سُکَینَۃ : کجُہَینۃ : الأتان الخفیفۃ السریعۃ, و بہ سُمّیت الجاریۃ الخفیفۃ الروح سُکَینَۃ.
والسُکَینَۃ أیضا اسم البقۃ الداخلۃ أنف نمروذ بن کنعان الخاطئ فأکلت دماغہ.
*و سُکَینَۃُ بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما.*
((ملتقطا من : تاج العروس من جواہر القاموس للامام الزبیدی. مادۃ : س ک ن))
اس عبارت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مبارک شہزادی کا نام(لقب) 'سُکَینَہ' ہے, وہیں ایک دل چسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نمرود کی ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھسنے (اور اس کی ہلاکت کا سبب بننے) والے مچھر/پسو کا نام بھی 'سُکَینَہ' تھا. !!
- ناموں کے تلفظ پر احمد تیمور پاشا کی معروف کتاب "ضبط الأعلام" میں ہے:
*"سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب..............*
*ابن خلكان لم ينص على ضبط في اسمها، و نص صاحب القاموس على أنه كجُهينة، أي بضم السين المهملة و فتح الكاف و سكون الياء المثناة من تحتها، و فتح النون، وبعدها تاء"*
(ضبط الأعلام, ص 74)
- حافظ ابن ماکولا(متوفی 475ھ) کی مشہور کتاب "الإكمال" میں ہے:
"سُكَينَة : بضم السين و فتح الكاف وتخفيفهما و فتح النون، فهي سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب"
(الإكمال لابن ماكولا)
- حافظ ابن ناصر الدین دمشقی(متوفی 842ھ) کی کتاب "توضیح المشتبہ" میں "سُکَینَہ" کے تحت ہے:
"هذا الإسم بضم أوله و فتح الكاف و سكون المثناة تحت و فتح النون، ثم هاء"
ترجمہ : یہ نام پہلے حرف(سین) کے ضمہ, کاف کے فتحہ, یا کے سکون, نون کے فتحہ اور آخر میں ھا کے ساتھ ہے.
امید ہے یہ چند تصریحات ان شاء اللہ کافی ہوں گی.
یہاں یہ بھی عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے دیار میں یہ نام سین کے فتحے کے ساتھ سَکینہ بر وزن سَفینہ زبان زد ہے. اور اب شیعوں کے کچھ قلم کار (ایک مقصد کے تحت) اسی کو درست تلفظ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں. جب کہ درست تلفظ وہی ہے جو ہم نے ائمۂ فن کے حوالے سے اوپر بیان کر دیا ہے.
#نثارمصباحی
8 محرم 1442ھ
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کس ماہ کے کتنی تاریخ وسنہ ہجری میں شہید ہوئے؟؟
Anonymous Quiz
5%
1 محرم 20 ہجری
1%
7 ربیع الاول 80 ہجری
92%
10 محرم 61 ہجری
2%
نہیں معلوم علم سیکھنے کی کوشش کروں گا
Forwarded from چینل صدائے حق
مختار بن عبید ثقفی جس نے بعد کربلا ظالموں سے انتقام لیا تھا وہ بعد میں کیا ہوگیا تھا ؟؟
Anonymous Quiz
82%
مرتد
12%
شہید
6%
غازی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
محرم الحرام میں اپنے مرحومین کے نام ایصال ثواب کرنا کیا ہے؟؟
Anonymous Quiz
5%
ناجائز
1%
مکروہ
91%
بلاشبہ جائز
2%
منع
Forwarded from چینل صدائے حق
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک کہاں دفن ہے؟؟
Anonymous Quiz
39%
کربلا
8%
مصر
15%
مدینہ شریف
37%
اس سلسلے میں کئی اقوال ہیں
Forwarded from حسن نوری گونڈوی
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا نام مبارک کیا تھا؟
Anonymous Quiz
8%
امام اعظم
2%
انس بن مالک
88%
نعمان بن ثابت
3%
نہیں معلوم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمدداؤدعلی مصباحی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب: مرد چاندی کی انگوٹھی پہنے جو وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کچھ کم ہو ۔ نئے پیمانے کے حساب سے اس کا وزن "چار گرام تین سو ملی گرام" ہے۔ واللہ تعالی اعلم
الجواب: مرد چاندی کی انگوٹھی پہنے جو وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کچھ کم ہو ۔ نئے پیمانے کے حساب سے اس کا وزن "چار گرام تین سو ملی گرام" ہے۔ واللہ تعالی اعلم
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علماے فرنگی محل,ایک قاری کی نظر میں(1)
خوشتر نورانی کی مدوّن شدہ تحریف زدہ کتاب"علماے فرنگی محل"دیکھنے میں آج پوری رات گزری ہے۔
پہلا باب اور حواشی تفصیل سے دیکھ لیے ہیں.پوری کتاب شاید پہلے باب کے لیے ہی شائع کی گئی ہے یا شائع کروائی گئی ہے۔مجھے بہت افسوس ہوا ہے کہ محقق خوشترصاحب نے مولانا عبد الباری کے سیاسی نظریات اور لغزشوں کے بارے میں بالکل انصاف سے کام نہیں لیا۔مولانا عبدالباری سے سیاسی حوالے سے اختلاف راۓ رکھنے والے راسخ العقیدہ سُنّی علما کو
1.محدود سوچ والا
2.تقسیم کرنے والا
3.فرقہ باز
قرار دیا گیا۔
نام لیے بغیر کثیر تعداد میں سُنّی علما کی توہین آمیز رویہ سے تردید کی گئی ہے۔اخیر عمر میں مولانا عبد الباری نے خاندانِ رضا کے علما کے پاس جا کر توبہ بھی کی تھی۔اس بات کا محقق نے کسی جگہ کوئی ذکر کرنا گوارا نہیں کیا۔ جابجا عبدالماجد دریابادی دیوبندی اور شبلی نعمانی معتزلی دیوبندی کی کتب سے حوالہ جات دیے گئے ہیں۔جب کہ سُنّی علما کے موقف کو پیش کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔مولانا عبدالباری کی تمام سیاسی اور مذہبی غلطیوں کو محض ایک خطا کہہ کر نظر انداز کیا گیا ہے ۔
میری راۓ میں پوری کتاب نے پہلے باب کے مندرجات کی وجہ سے اپنی افادیت گنوا دی ہے۔
خوشتر نورانی کو اگر مولانا عبد الباری کے موقف کو صحیح ثابت کرنا تھا۔تو دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ طرفین کے آرا کو سامنے رکھتے۔مولانا عبدالباری سیاسی حامیوں اور مخالفین کے اختلافات کی تمام وجوہات اور نکات کو زیرِبحث لاتے ہوئے اپنے موقف کے صائب ہونے پر دلائل دیتے۔یہ تو ان سے ہو نہ سکا۔صرف اور صرف غالی ندویوں کی تصانیف سے کاپی/پیسٹ کرتے ہوئے اور سُنّی علمائےکرام کی جانب سے لکھی گئی تصانیف کو نظر انداز کرنا تاریخ نویسی نہیں۔"تاریخ گری" اور"تحریف" ہے ۔
"الطاری الداری"کے مندرجات پر کوئی راۓ نہیں دی گئی۔مولانا عبد الباری اور امام احمد رضا خان قادری کے درمیان ہونے والی خط و کتابت جو کہ ان تحریکات کے بارے میں ایک اہم ترین باب ہے اس کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔
ان سب وجوہ کے ہوتے ہوئے ایسے تذکار کی استنادی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔؟؟؟
تاریخ میں تحریف کے بارے میں ماضی کے قصوں کو اب ہم جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
"تذکرہ علماے ہندوستان" کے بعد"علما ئے فرنگی محل" پڑھ کر میرا یہ ظن یقین میں بدل گیا ہے کہ ھند و پاک میں اہلِ سُنّت کے اندر "متجددین"کا ایسا گروپ پیدا ہو گیا ہے۔جس کے بظاہر معمولاتِ زندگی سُنّیوں سے مِلتے جُلتے ہیں۔نذر و نیاز-فاتحہ خوانی۔دُرود و سلام پر عامل ہیں ۔مگر عقائد کی سطح پر جو اکابرین نے ایک سو سال تک لسانی اور قلمی جہاد فرمایا۔حق و باطل میں امتیاز قائم کیا۔"متجددین" کا یہ گروہ وحدتِ اسلامیہ۔حکمت۔امن رواداری کے نام کی آڑ میں حق و باطل کے اس امتیاز کو دھندلانے کے درپئےہے۔یہ سب کچھ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔لیکن ماضی میں حق گوئی کی طاقت نے ایسے عناصر کو پنپنے ہی نہیں دیا۔باطل نے پینترا بدلا ہے۔اب ندوی۔خارجی۔رافضی۔تفضیلی فکر کے لوگوں کو اکابر کے خانوادوں سے ایسے افراد میسر آ رہے ہیں جو خودنمائی کے خوگر۔اور یک گونہ اپنے اجداد کے کارناموں سے نالاں ہیں۔حُبّ جاہ کی لعنت اور ہماچوں دیگر نیست کے مرض میں گرفتار ہیں۔ایسے صاحب زادگان۔لکھاری۔ پیر ۔ خطیب۔ واعظ۔ باطل قوتوں کاآسان ہدف ہیں۔
خوشتر نورانی کی جملہ تحریروں کو دیکھ لیجیے۔جب سے ان کو پروفیسر معین الدین عقیل جیسے غالی خارجی ۔طاہر القادری اور قمر علی زیدی جیسے رافضی الفکر افراد کی آشیر باد حاصل ہوئی ہے ۔ان کی تحریروں میں واضح طور پر بدلاؤ آچکا ہے۔جام نور کی سابقہ دہائی کی اشاعتوں اور حالیہ اشاعتوں میں واضح طور فرق محسوس کیا جا سکتا ہے ۔پھر سونے اور سہاگہ انکے گرد ناصر رامپوری ۔ذیشان مصباحی ۔صبیح رحمانی ۔ سطحی فکر کے حاملین افراد نے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے ۔کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا آئے بھی تو ان تک نہیں پہنچ پاتا۔
میری تمام سُنّی رضوی اہل قلم سے التجا ہے کہ وہ ہر دو کتب ("تذکرہ علما ے ہندوستان" ۔"علما ے فرنگی محل" ) کے مندرجات پر ناقدانہ نظر ڈال کر اس کے متوازی کوئی جامع تصنیف سامنے لائیں ۔جس میں تاریخ ریکارڈ کی مستند شواہد کی روشنی میں حقیقی معنوں میں تشریح و توضیح کی گئی ہو ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اکابر کے نور بصیرت کو مناظرانہ ۔ فتویٰ کی بجاۓ موضوعی مطالعہ کے انداز سے عام کیا جائے۔ مشکل مقامات کی تفہیم کی جانب توجہ دی جائے! اکابر کے مذہبی ۔اخلاقی ۔ سیاسی اور سماجی نظریات کا عہد حاضر کی مروجہ زبان میں موثر انداز میں تحریری اور تقریری طور پر ابلاغ کیا جائے ۔اور ان مقاصد کے لیے ہر فورم پر اپنے افراد کو تیار کیا جائے ۔
اگر باطل کی ہر کاوش کو صرف اور صرف استغفار سے نظر انداز کرنے پر اکتفا کر لیا گیا تو وہ وقت دُور نہیں جب منہاجی ۔ندوی۔ خارجی فکر کا ایک لکھاری ٹولہ اہلِ سُنّت کی صفوں سے نمودار ہونے کو تیار ہے
خوشتر نورانی کی مدوّن شدہ تحریف زدہ کتاب"علماے فرنگی محل"دیکھنے میں آج پوری رات گزری ہے۔
پہلا باب اور حواشی تفصیل سے دیکھ لیے ہیں.پوری کتاب شاید پہلے باب کے لیے ہی شائع کی گئی ہے یا شائع کروائی گئی ہے۔مجھے بہت افسوس ہوا ہے کہ محقق خوشترصاحب نے مولانا عبد الباری کے سیاسی نظریات اور لغزشوں کے بارے میں بالکل انصاف سے کام نہیں لیا۔مولانا عبدالباری سے سیاسی حوالے سے اختلاف راۓ رکھنے والے راسخ العقیدہ سُنّی علما کو
1.محدود سوچ والا
2.تقسیم کرنے والا
3.فرقہ باز
قرار دیا گیا۔
نام لیے بغیر کثیر تعداد میں سُنّی علما کی توہین آمیز رویہ سے تردید کی گئی ہے۔اخیر عمر میں مولانا عبد الباری نے خاندانِ رضا کے علما کے پاس جا کر توبہ بھی کی تھی۔اس بات کا محقق نے کسی جگہ کوئی ذکر کرنا گوارا نہیں کیا۔ جابجا عبدالماجد دریابادی دیوبندی اور شبلی نعمانی معتزلی دیوبندی کی کتب سے حوالہ جات دیے گئے ہیں۔جب کہ سُنّی علما کے موقف کو پیش کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔مولانا عبدالباری کی تمام سیاسی اور مذہبی غلطیوں کو محض ایک خطا کہہ کر نظر انداز کیا گیا ہے ۔
میری راۓ میں پوری کتاب نے پہلے باب کے مندرجات کی وجہ سے اپنی افادیت گنوا دی ہے۔
خوشتر نورانی کو اگر مولانا عبد الباری کے موقف کو صحیح ثابت کرنا تھا۔تو دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ طرفین کے آرا کو سامنے رکھتے۔مولانا عبدالباری سیاسی حامیوں اور مخالفین کے اختلافات کی تمام وجوہات اور نکات کو زیرِبحث لاتے ہوئے اپنے موقف کے صائب ہونے پر دلائل دیتے۔یہ تو ان سے ہو نہ سکا۔صرف اور صرف غالی ندویوں کی تصانیف سے کاپی/پیسٹ کرتے ہوئے اور سُنّی علمائےکرام کی جانب سے لکھی گئی تصانیف کو نظر انداز کرنا تاریخ نویسی نہیں۔"تاریخ گری" اور"تحریف" ہے ۔
"الطاری الداری"کے مندرجات پر کوئی راۓ نہیں دی گئی۔مولانا عبد الباری اور امام احمد رضا خان قادری کے درمیان ہونے والی خط و کتابت جو کہ ان تحریکات کے بارے میں ایک اہم ترین باب ہے اس کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔
ان سب وجوہ کے ہوتے ہوئے ایسے تذکار کی استنادی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔؟؟؟
تاریخ میں تحریف کے بارے میں ماضی کے قصوں کو اب ہم جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
"تذکرہ علماے ہندوستان" کے بعد"علما ئے فرنگی محل" پڑھ کر میرا یہ ظن یقین میں بدل گیا ہے کہ ھند و پاک میں اہلِ سُنّت کے اندر "متجددین"کا ایسا گروپ پیدا ہو گیا ہے۔جس کے بظاہر معمولاتِ زندگی سُنّیوں سے مِلتے جُلتے ہیں۔نذر و نیاز-فاتحہ خوانی۔دُرود و سلام پر عامل ہیں ۔مگر عقائد کی سطح پر جو اکابرین نے ایک سو سال تک لسانی اور قلمی جہاد فرمایا۔حق و باطل میں امتیاز قائم کیا۔"متجددین" کا یہ گروہ وحدتِ اسلامیہ۔حکمت۔امن رواداری کے نام کی آڑ میں حق و باطل کے اس امتیاز کو دھندلانے کے درپئےہے۔یہ سب کچھ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔لیکن ماضی میں حق گوئی کی طاقت نے ایسے عناصر کو پنپنے ہی نہیں دیا۔باطل نے پینترا بدلا ہے۔اب ندوی۔خارجی۔رافضی۔تفضیلی فکر کے لوگوں کو اکابر کے خانوادوں سے ایسے افراد میسر آ رہے ہیں جو خودنمائی کے خوگر۔اور یک گونہ اپنے اجداد کے کارناموں سے نالاں ہیں۔حُبّ جاہ کی لعنت اور ہماچوں دیگر نیست کے مرض میں گرفتار ہیں۔ایسے صاحب زادگان۔لکھاری۔ پیر ۔ خطیب۔ واعظ۔ باطل قوتوں کاآسان ہدف ہیں۔
خوشتر نورانی کی جملہ تحریروں کو دیکھ لیجیے۔جب سے ان کو پروفیسر معین الدین عقیل جیسے غالی خارجی ۔طاہر القادری اور قمر علی زیدی جیسے رافضی الفکر افراد کی آشیر باد حاصل ہوئی ہے ۔ان کی تحریروں میں واضح طور پر بدلاؤ آچکا ہے۔جام نور کی سابقہ دہائی کی اشاعتوں اور حالیہ اشاعتوں میں واضح طور فرق محسوس کیا جا سکتا ہے ۔پھر سونے اور سہاگہ انکے گرد ناصر رامپوری ۔ذیشان مصباحی ۔صبیح رحمانی ۔ سطحی فکر کے حاملین افراد نے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے ۔کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا آئے بھی تو ان تک نہیں پہنچ پاتا۔
میری تمام سُنّی رضوی اہل قلم سے التجا ہے کہ وہ ہر دو کتب ("تذکرہ علما ے ہندوستان" ۔"علما ے فرنگی محل" ) کے مندرجات پر ناقدانہ نظر ڈال کر اس کے متوازی کوئی جامع تصنیف سامنے لائیں ۔جس میں تاریخ ریکارڈ کی مستند شواہد کی روشنی میں حقیقی معنوں میں تشریح و توضیح کی گئی ہو ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اکابر کے نور بصیرت کو مناظرانہ ۔ فتویٰ کی بجاۓ موضوعی مطالعہ کے انداز سے عام کیا جائے۔ مشکل مقامات کی تفہیم کی جانب توجہ دی جائے! اکابر کے مذہبی ۔اخلاقی ۔ سیاسی اور سماجی نظریات کا عہد حاضر کی مروجہ زبان میں موثر انداز میں تحریری اور تقریری طور پر ابلاغ کیا جائے ۔اور ان مقاصد کے لیے ہر فورم پر اپنے افراد کو تیار کیا جائے ۔
اگر باطل کی ہر کاوش کو صرف اور صرف استغفار سے نظر انداز کرنے پر اکتفا کر لیا گیا تو وہ وقت دُور نہیں جب منہاجی ۔ندوی۔ خارجی فکر کا ایک لکھاری ٹولہ اہلِ سُنّت کی صفوں سے نمودار ہونے کو تیار ہے
📖 علمائے فرنگی محل 📖
اثار الاول من علماء فرنگی محل
✍ مولانا قیام الدین عبد الباری
مترجم📝 ڈاکٹر خوشتر نورانی
@islaamic_Knowledge
کیا یہ ترجمہ/حاشیہ معتبر ہے ؟
فوٹو کے اوپر علامہ میثم قادری
صاحب کی تحریر ضرور پڑھئے!
اثار الاول من علماء فرنگی محل
✍ مولانا قیام الدین عبد الباری
مترجم📝 ڈاکٹر خوشتر نورانی
@islaamic_Knowledge
کیا یہ ترجمہ/حاشیہ معتبر ہے ؟
فوٹو کے اوپر علامہ میثم قادری
صاحب کی تحریر ضرور پڑھئے!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلی حضرت اور علم حدیث!
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کی حدیث دانی کے متعلق علماے عرب کی آرا پڑھ کر اہل محبت اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہونچائیں اور اپنے اضطراب کو دور کریں اور لاعلم یا ہٹ دھرم لوگ اپنی آنکھیں چار کرکے امام علم و فن کی مہارت علم حدیث میں بھی تسلیم کریں۔
آپ حضرات پوسٹ کے اہم اقتباسات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱)علم حدیث میں اعلی حضرت کی مہارت اقوال علماکی روشنی میں:
امام اہل سنت اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت اہل سنت و جماعت کے نزدیک ایسی شخصیت ہے جو پچاس سے زائد علوم و فنون میں مہارت رکھتی ہے بلکہ غیر بھی علم فقہ وغیرہ میں آپ کی مہارت تامہ کا اعتراف کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے،ہاں علم حدیث کی بات آتی ہے؛ تو غیر اپنی لاعلمی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ علم حدیث کو ان کے ماہرین کے ساتھ ہی خاص رکھا جائے، میں یہاں پر محض دعوی کے بجائے علماے کرام خاص کر علماے کعبۃ العلم ازہر شریف کی آرا کو اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کے بارے میں پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں تاکہ اپنوں کا اضطراب دور ہو اور غیروں کی آنکھیں کھلیں اور حق قبول کرنے کی سعی مسعود کرنے کی کوشش کرسکیں، توجہ فرمائیں:
استاذی المکرم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مصطفی محمد ابوعمارۃ دام ظلہ، استاذ علم حدیث: جامعہ ازہر شریف، مصر، فرماتے ہیں:
’’ کتاب ’الھاد الکاف فی حکم الضعاف‘ ایسی عبارتوں کے متعلق گفتگو پر مشتمل ہے جن کو محدثین کرام حدیث ضعیف کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، صاحب کتاب ان عبارات کی عمدہ طریقہ سے تحلیل اور ان کی مراد بیان کرتے ہیں، مثلا آپ کلمہ ’لایصح‘ کی توضیح و تحلیل دیکھ سکتے ہیں جسے محدثین کرام عموما استعمال کرتے ہیں، جس سے عادتا پڑھنے والے کو یہ گمان ہوسکتا ہے کہ جب یہ عبارت محدثین کے کلام پایا جائے؛ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے حالاں کہ یقینی طور پر محدثین کی یہ مراد نہیں؛ کیوں کہ یہ عبارت صحیح کے علاوہ حسن لذاتہ، حسن لغیرہ اور ضعیف کی دونوں قسموں کو شامل ہے؛ لہذا حدیث کے متعلق صحت کی نفی سے حدیث کے حسن یا خفیف ضعیف کی نفی کو مستلزم نہیں۔
اسی طرح مصنف علیہ الرحمۃ مصطلح کے قضایا کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں اور اپنے کلام کی تائید ائمہ علم حدیث کے کلام سے پیش کرتے ہیں، جیسے امام نواوی، عراقی، ابن صلاح اور ابن حجر رحمہم اللہ وغیرہ۔۔۔الخ، اور مصنف علیہ الرحمۃ ناقل محض نہیں بلکہ آپ آرا کے درمیان موازنہ کرتے ہیں، یہ ایسا موازنہ ہے جس کے ذریعہ قاری کو پتہ چلے گا کہ آپ قواعد محدثین کو سمجھنے میں دقت نظر رکھتے ہیں اور قواعد کی حرفیت ہی ٹھہرے نہیں رہتے بلکہ قواعد کے مضمون اور اس کے سیاق و سباق کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی اس سمجھ کو سابقین اہل فن کی سمجھ و فہم سے توثیق بھی کرتے ہیں۔
آپ کے فقہ علم حدیث کا انوکھا پن ہی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: حدیث کے ذریعہ جن قضایا کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے، ان کی تین اقسام ہیں:
عقائد: عقائد میں خبر آحاد کافی نہیں، احکام: ان میں حدیث صحیح لذاتہ، صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ اور حسن لغیرہ کافی ہیں، فضائل: ان میں ضعیف احادیث بھی مقبول ہیں۔۔۔ آپ ان تمام اقسام اور ان کے علاوہ دیگر مباحث رصینہ اور فوائد قیمہ کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں، یہ ایسی گفتگو ہے جو آپ کو صرف اسی کتاب میں ملے گی بلکہ یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ’توضیح الأفکار للصغانی، کی صف میں رکھا جائے؛ کیوں کہ اس کتاب میں علمی مناقشات اور دلائل سے پر گفتگو موجود ہے۔
بہر حال عام طور سے کتاب اپنے باب میں منفرد اور مواد کے اعتبار بے مثال ہے، علم حدیث کا طالب علم اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی علما اس سے اپنا دامن جھاڑ سکتے ہیں (الھاد الکاف فی حکم الضعاف، محدث بریلوی رحمہ اللہ، صKJ، ط: مرکز أھل السنۃ برکات رضا، فوربندر، گجرات، الھند)
فضیلۃ الاستاذ ڈاکٹر محمد فواد شاکر رحمہ اللہ، استاذ: جامعہ عین شمس، قاہرہ مصر، لکھتے ہیں:
’’قاری محترم جو چیز آپ کے ہاتھ میں ہے وہ موہوب ربانی کی بڑی کتاب میں سے ایک کتاب ہےجس سے اللہ تعالی نے شریعت اسلامیہ کے اعلام میں سے ایک علم اور منہج محمدی کا دفاع کرنے والے ایک عظیم فارس کو مختص کیا، وہ ہمارے شیخ امام محدث احمد رضا خاں اپنے زمانہ کے حنفی اعلام میں سے ایک اور سیدی عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے سلسلہ سے منسلک ہیں، ہمارے مبارک و محترم شیخ نے سیدنا و مولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام سننے کے وقت ’تقبیل الإبھامین‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، اس کو حدیث ضعیف کے دراسہ اور اس کے متعلق موقف شریعت کو جاننے کا اہم ذریعہ بنایا؛ اسی وجہ سے آپ نے محدثین کے نزدیک حدیثی الفاظ کے مدلولات کا ذکر کیا، اور کبھی کسی محدث کے نزدیک لفظ حدیثی کوئی مراد ہوگی
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کی حدیث دانی کے متعلق علماے عرب کی آرا پڑھ کر اہل محبت اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہونچائیں اور اپنے اضطراب کو دور کریں اور لاعلم یا ہٹ دھرم لوگ اپنی آنکھیں چار کرکے امام علم و فن کی مہارت علم حدیث میں بھی تسلیم کریں۔
آپ حضرات پوسٹ کے اہم اقتباسات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱)علم حدیث میں اعلی حضرت کی مہارت اقوال علماکی روشنی میں:
امام اہل سنت اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت اہل سنت و جماعت کے نزدیک ایسی شخصیت ہے جو پچاس سے زائد علوم و فنون میں مہارت رکھتی ہے بلکہ غیر بھی علم فقہ وغیرہ میں آپ کی مہارت تامہ کا اعتراف کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے،ہاں علم حدیث کی بات آتی ہے؛ تو غیر اپنی لاعلمی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ علم حدیث کو ان کے ماہرین کے ساتھ ہی خاص رکھا جائے، میں یہاں پر محض دعوی کے بجائے علماے کرام خاص کر علماے کعبۃ العلم ازہر شریف کی آرا کو اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کے بارے میں پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں تاکہ اپنوں کا اضطراب دور ہو اور غیروں کی آنکھیں کھلیں اور حق قبول کرنے کی سعی مسعود کرنے کی کوشش کرسکیں، توجہ فرمائیں:
استاذی المکرم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مصطفی محمد ابوعمارۃ دام ظلہ، استاذ علم حدیث: جامعہ ازہر شریف، مصر، فرماتے ہیں:
’’ کتاب ’الھاد الکاف فی حکم الضعاف‘ ایسی عبارتوں کے متعلق گفتگو پر مشتمل ہے جن کو محدثین کرام حدیث ضعیف کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، صاحب کتاب ان عبارات کی عمدہ طریقہ سے تحلیل اور ان کی مراد بیان کرتے ہیں، مثلا آپ کلمہ ’لایصح‘ کی توضیح و تحلیل دیکھ سکتے ہیں جسے محدثین کرام عموما استعمال کرتے ہیں، جس سے عادتا پڑھنے والے کو یہ گمان ہوسکتا ہے کہ جب یہ عبارت محدثین کے کلام پایا جائے؛ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے حالاں کہ یقینی طور پر محدثین کی یہ مراد نہیں؛ کیوں کہ یہ عبارت صحیح کے علاوہ حسن لذاتہ، حسن لغیرہ اور ضعیف کی دونوں قسموں کو شامل ہے؛ لہذا حدیث کے متعلق صحت کی نفی سے حدیث کے حسن یا خفیف ضعیف کی نفی کو مستلزم نہیں۔
اسی طرح مصنف علیہ الرحمۃ مصطلح کے قضایا کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں اور اپنے کلام کی تائید ائمہ علم حدیث کے کلام سے پیش کرتے ہیں، جیسے امام نواوی، عراقی، ابن صلاح اور ابن حجر رحمہم اللہ وغیرہ۔۔۔الخ، اور مصنف علیہ الرحمۃ ناقل محض نہیں بلکہ آپ آرا کے درمیان موازنہ کرتے ہیں، یہ ایسا موازنہ ہے جس کے ذریعہ قاری کو پتہ چلے گا کہ آپ قواعد محدثین کو سمجھنے میں دقت نظر رکھتے ہیں اور قواعد کی حرفیت ہی ٹھہرے نہیں رہتے بلکہ قواعد کے مضمون اور اس کے سیاق و سباق کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی اس سمجھ کو سابقین اہل فن کی سمجھ و فہم سے توثیق بھی کرتے ہیں۔
آپ کے فقہ علم حدیث کا انوکھا پن ہی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: حدیث کے ذریعہ جن قضایا کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے، ان کی تین اقسام ہیں:
عقائد: عقائد میں خبر آحاد کافی نہیں، احکام: ان میں حدیث صحیح لذاتہ، صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ اور حسن لغیرہ کافی ہیں، فضائل: ان میں ضعیف احادیث بھی مقبول ہیں۔۔۔ آپ ان تمام اقسام اور ان کے علاوہ دیگر مباحث رصینہ اور فوائد قیمہ کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں، یہ ایسی گفتگو ہے جو آپ کو صرف اسی کتاب میں ملے گی بلکہ یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ’توضیح الأفکار للصغانی، کی صف میں رکھا جائے؛ کیوں کہ اس کتاب میں علمی مناقشات اور دلائل سے پر گفتگو موجود ہے۔
بہر حال عام طور سے کتاب اپنے باب میں منفرد اور مواد کے اعتبار بے مثال ہے، علم حدیث کا طالب علم اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی علما اس سے اپنا دامن جھاڑ سکتے ہیں (الھاد الکاف فی حکم الضعاف، محدث بریلوی رحمہ اللہ، صKJ، ط: مرکز أھل السنۃ برکات رضا، فوربندر، گجرات، الھند)
فضیلۃ الاستاذ ڈاکٹر محمد فواد شاکر رحمہ اللہ، استاذ: جامعہ عین شمس، قاہرہ مصر، لکھتے ہیں:
’’قاری محترم جو چیز آپ کے ہاتھ میں ہے وہ موہوب ربانی کی بڑی کتاب میں سے ایک کتاب ہےجس سے اللہ تعالی نے شریعت اسلامیہ کے اعلام میں سے ایک علم اور منہج محمدی کا دفاع کرنے والے ایک عظیم فارس کو مختص کیا، وہ ہمارے شیخ امام محدث احمد رضا خاں اپنے زمانہ کے حنفی اعلام میں سے ایک اور سیدی عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے سلسلہ سے منسلک ہیں، ہمارے مبارک و محترم شیخ نے سیدنا و مولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام سننے کے وقت ’تقبیل الإبھامین‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، اس کو حدیث ضعیف کے دراسہ اور اس کے متعلق موقف شریعت کو جاننے کا اہم ذریعہ بنایا؛ اسی وجہ سے آپ نے محدثین کے نزدیک حدیثی الفاظ کے مدلولات کا ذکر کیا، اور کبھی کسی محدث کے نزدیک لفظ حدیثی کوئی مراد ہوگی
👍1
جو دوسرے کے نزدیک مقصود نہیں ہوگی، نیز اس بات کی تاکید فرمائی کہ کسی راوی کے متہم یا کسی ضعیف طریق یا کسی محدث کا اسے ضعیف قرار دینے کی وجہ سے حدیث پر وضع کا حکم لگانے میں جلدی سخت اٹکل پچھو مارنا ہے، ہاں اگر اس طرح کا حکم لگانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ خوب تفتیش و تدقیق سے کام لیا جائے اور قرائن کا لحاظ کرتے ہوئے اس حدیث پر وضع کا حکم لگایا جائے؛ لہذا اگر یہ چیزیں خبر میں موجود نہ ہوں تو اس پر وضع کا حکم لگانے پر ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہیے؛ کیوں کہ کتنی ایسی احادیث ہیں جو کتب موضوعات میں ذکر کی گئیں اور انہیں موضوع قرار دیا گیا پھر علماے حدیث نے ان پر تعقب کیا اور ان کے دوسرے طرق پائے گیے جس نے ان احادیث کو قوی کرکے ان کے مرتبہ کو بلند کردیا یہاں تک کہ وہ احادیث قابل احتجاج ہوگئیں اور علامہ طیب اللہ ثراہ و جزاہ اللہ عن الإسلام خیرا نے ثابت کیا کہ اہل علم کا کسی حدیث پر عمل کرنا اس کو تقویت بخشتا ہے، آپ نے بہت ساری دلائل پیش کی ہیں جو اس خبر کے مطابق اہل علم کے عمل کرنے کو ثابت کرتی ہیں جس کی وجہ سے آپ نے حدیث ضعیف کا حکم اور حدیث ضعیف و حدیث موضوع کے درمیان فرق بیان کرنے میں تفصیل کی ہے، علامہ محدث رحمہ اللہ نے علوم حدیث کے غایت درجہ دقیق مباحث میں لکھا اور اس کی مزید توضیح تفصیل کی اور بہت سارے مفاہیم سے پردہ اٹھایا جن سے علوم حدیث میں بحث کرنے والوں کا فکر متعلق ہوتی ہے‘‘(الھاد الکاف فی حکم الضعاف، محدث بریلوی رحمہ اللہ، صML، ط: مرکز أھل السنۃ برکات رضا، فوربندر، گجرات، الھند)
ترجمہ: أزھار أحمد أمجدی أزھری
طالب دعا:
أزھار أحمد أمجدی أزھری
فاضل جامعہ ازھر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم، اے۔
خادم: مرکز تربیت افتا، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا۔
موبائل نمبر: 9936691051
ترجمہ: أزھار أحمد أمجدی أزھری
طالب دعا:
أزھار أحمد أمجدی أزھری
فاضل جامعہ ازھر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم، اے۔
خادم: مرکز تربیت افتا، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا۔
موبائل نمبر: 9936691051