🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ کرنا ہوگا

بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا کچھ تو کرنا ہوگا۔
سوچنا اچھا ہے پر صرف سوچنا اچھا نہیں۔
کم سے کم اپنی سوچ، اپنی فکر، اپنے خیال کا اظہار کیجیے تاکہ دوسروں کے لیے وہ ایک مقصد بن جائے۔

آپ قادر ہیں جس پر وہ تو کریں،
ہر شخص اپنا بہتر دکھانے کی کوشش کرے۔
سکوت موت ہے۔
کوہرام مچانا ہوگا۔
جس شعبے میں جائیں تو اپنی پوری طاقت لگا دیں۔
ہار اسی وقت مانیں جب آخری سانس آجائے۔

تسلسل کے ساتھ تھوڑا عمل بھی خوب فائدہ دیتا ہے۔
آج سے شروع کریں جو آپ کر سکتے ہیں۔
نہ سوچیں کہ آپ کے بس کا نہیں بلکہ اتر جائیں میدان میں

کرنا ہی ہوگا ورنہ کون آئے گا؟
کیا ہم سب ایک دوسرے پر الزام دیتے رہیں گے یا خود اپنی طاقت کے مطابق اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق میدانِ عمل میں آئیں گے؟

فیصلہ آپ کا ہے کہ یا تو موقعوں کے انتظار میں انتظار بن جائیں یا خود موقع بن کر آگے بڑھیں۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
سچ کہا
*جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دییے ہیں*
امام اہلسنت سے 1332ھ میں سوال ہوا کہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ *جو شخص داڑھی اور مونچھیں اور بھنویں منڈائے ہوئے ہوں تو مسلمانوں کو ایسے شخص کا مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*

*اور جو شخص داڑھی مونچھ منڈائے ہو اور کانوں میں مندرے پہنے ہو تو اس کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*

*اور جو شخص گیسو دراز ہو اور گیسو اس کے مقام ہنسلی سے نیچے ہوں تو ایسے شخص کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں یعنی یہ تینوں شخص قابل پیشوائی ہیں یا نہیں؟* بینوا توجروا

اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے، اور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگی، ظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکا، مگر دل میں زنانہ، اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے، عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے، کلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننے، سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی، اسے انکر کھا پہننے، ٹوپی رکھنے، عمامہ باندھنے، گھوڑے پر چڑھنے، تلوار اٹھانے، تیرا ندازی کرنے، مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء، رواہ احمد ۱؎ والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔اللہ کی لعت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔

ناشر حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اوجین ایم پی
8485880123
https://chat.whatsapp.com/JjHqWJtLSTqKwAaSZsdHuR
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
[28/08, 12:18 pm] مولانا نثار مصباحی: ہنس مکھ اور تیز طرار بچی کو سُکینَہ کہا جاتا ہے.
مشہور آن لائن ڈکشنری "المعانی" میں ہے :
السُّكَيْنَةُ : الجارية الخفيفةُ الرُّوح الظريفةُ النشيطةُ.

امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکَینَہ" تھا.
[28/08, 12:22 pm] +91 91987 53786: شہزادی امام کانام سُکینہ تھا کسی حوالےسےافادہ فرمائیں،
[28/08, 12:28 pm] مولانا نثار مصباحی: علامہ مجد الدین فیروزآبادی رحمہ اللہ (متوفی 817ھ) نے القاموس المحیط میں اس کی صراحت کی ہے کہ یہ "سُکَینہ" بر وزنِ "جُہَینہ" ہے.
Forwarded from چینل صدائے حق
سیراعلام النبلاءمیں یہی اعراب لکھا
Forwarded from چینل صدائے حق
میں نے عرض کیا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکینَہ"(تصغیر کے ساتھ, سین پر ضمہ, اور کاف پر فتحہ) ہے.
آپ نے اس پر حوالہ طلب فرمایا تو خاکسار نے علامہ فیروزآبادی کی القاموس المحیط کا حوالہ دے دیا.
ظاہر ہے یہ لغوی ساخت کا نہیں بلکہ شہزادی کے نام کے تلفظ کا حوالہ دیا گیا تھا. (کیوں کہ سوال نام ہی کے بارے میں تھا, اس لفظ کی لغوی ساخت کے بارے میں نہیں)
لیکن پھر آپ نے فرمایا کہ:
"یہ لغت کی بات ہے ،اور لغت دونوں ہیں، بفتح السین اور بالضم، فقیر کی گذارش کا مطلب یہ ہے کہ شہزادی پاک کا نام بالضم ہے اس پر کوئی حوالہ ہوتو نوازیں."
اور ہمارے کرم فرما زبیر بھائی نے بھی آپ کے اس اشکال کو درست قرار دیا.

مگر خاکسار کو آپ کے اس اشکال پر حیرت اور تعجب ہوا.
دراصل عربی کی مستند لغات میں قاموس اور اس کی شرح تاج العروس وغیرہ لغات کی یہ خاصیت اور ان کے مصفین کی عادت ہے کہ وہ شخصیات کے ناموں کا وزن بتا کر ان کا تلفظ بھی بیان کرتے ہیں. جس نے بھی قاموس اور تاج العروس وغیرہ پڑھی ہیں اس پر یہ بالکل روشن ہے.
یہی سوچ کر میں نے قاموس کا حوالہ دیا تھا مگر لغت کی بات کَہ کر اسے آپ نے مسترد فرما دیا. اس لیے اب تھوڑی تفصیل پیش ہے:
علامہ فیروزآبادی اور امام محمد مرتضی زبیدی نے "سُکَینَہ" کا صرف لغوی معنی نہیں لکھا ہے بلکہ "بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما" کَہ کر پاک شہزادی کا یہی نام ہونے کی صراحت کی ہے.
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
*"سُکَینَۃ : کجُہَینۃ : الأتان الخفیفۃ السریعۃ, و بہ سُمّیت الجاریۃ الخفیفۃ الروح سُکَینَۃ.
والسُکَینَۃ أیضا اسم البقۃ الداخلۃ أنف نمروذ بن کنعان الخاطئ فأکلت دماغہ.
*و سُکَینَۃُ بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما.*
((ملتقطا من : تاج العروس من جواہر القاموس للامام الزبیدی. مادۃ : س ک ن))

اس عبارت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مبارک شہزادی کا نام(لقب) 'سُکَینَہ' ہے, وہیں ایک دل چسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نمرود کی ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھسنے (اور اس کی ہلاکت کا سبب بننے) والے مچھر/پسو کا نام بھی 'سُکَینَہ' تھا. !!

- ناموں کے تلفظ پر احمد تیمور پاشا کی معروف کتاب "ضبط الأعلام" میں ہے:
*"سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب..............*
*ابن خلكان لم ينص على ضبط في اسمها، و نص صاحب القاموس على أنه كجُهينة، أي بضم السين المهملة و فتح الكاف و سكون الياء المثناة من تحتها، و فتح النون، وبعدها تاء"*
(ضبط الأعلام, ص 74)

- حافظ ابن ماکولا(متوفی 475ھ) کی مشہور کتاب "الإكمال" میں ہے:
"سُكَينَة : بضم السين و فتح الكاف وتخفيفهما و فتح النون، فهي سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب"
(الإكمال لابن ماكولا)

- حافظ ابن ناصر الدین دمشقی(متوفی 842ھ) کی کتاب "توضیح المشتبہ" میں "سُکَینَہ" کے تحت ہے:
"هذا الإسم بضم أوله و فتح الكاف و سكون المثناة تحت و فتح النون، ثم هاء"
ترجمہ : یہ نام پہلے حرف(سین) کے ضمہ, کاف کے فتحہ, یا کے سکون, نون کے فتحہ اور آخر میں ھا کے ساتھ ہے.

امید ہے یہ چند تصریحات ان شاء اللہ کافی ہوں گی.

یہاں یہ بھی عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے دیار میں یہ نام سین کے فتحے کے ساتھ سَکینہ بر وزن سَفینہ زبان زد ہے. اور اب شیعوں کے کچھ قلم کار (ایک مقصد کے تحت) اسی کو درست تلفظ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں. جب کہ درست تلفظ وہی ہے جو ہم نے ائمۂ فن کے حوالے سے اوپر بیان کر دیا ہے.

#نثارمصباحی
8 محرم 1442ھ
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کس ماہ کے کتنی تاریخ وسنہ ہجری میں شہید ہوئے؟؟
Anonymous Quiz
5%
1 محرم 20 ہجری
1%
7 ربیع الاول 80 ہجری
92%
10 محرم 61 ہجری
2%
نہیں معلوم علم سیکھنے کی کوشش کروں گا
Forwarded from چینل صدائے حق
مختار بن عبید ثقفی جس نے بعد کربلا ظالموں سے انتقام لیا تھا وہ بعد میں کیا ہوگیا تھا ؟؟
Anonymous Quiz
82%
مرتد
12%
شہید
6%
غازی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
محرم الحرام میں اپنے مرحومین کے نام ایصال ثواب کرنا کیا ہے؟؟
Anonymous Quiz
5%
ناجائز
1%
مکروہ
91%
بلاشبہ جائز
2%
منع
Forwarded from چینل صدائے حق
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک کہاں دفن ہے؟؟
Anonymous Quiz
39%
کربلا
8%
مصر
15%
مدینہ شریف
37%
اس سلسلے میں کئی اقوال ہیں
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا نام مبارک کیا تھا؟
Anonymous Quiz
8%
امام اعظم
2%
انس بن مالک
88%
نعمان بن ثابت
3%
نہیں معلوم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمدداؤدعلی مصباحی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب: مرد چاندی کی انگوٹھی پہنے جو وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کچھ کم ہو ۔ نئے پیمانے کے حساب سے اس کا وزن "چار گرام تین سو ملی گرام" ہے۔ واللہ تعالی اعلم
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علماے فرنگی محل,ایک قاری کی نظر میں(1)

خوشتر نورانی کی مدوّن شدہ تحریف زدہ کتاب"علماے فرنگی محل"دیکھنے میں آج پوری رات گزری ہے۔
پہلا باب اور حواشی تفصیل سے دیکھ لیے ہیں.پوری کتاب شاید پہلے باب کے لیے ہی شائع کی گئی ہے یا شائع کروائی گئی ہے۔مجھے بہت افسوس ہوا ہے کہ محقق خوشترصاحب نے مولانا عبد الباری کے سیاسی نظریات اور لغزشوں کے بارے میں بالکل انصاف سے کام نہیں لیا۔مولانا عبدالباری سے سیاسی حوالے سے اختلاف راۓ رکھنے والے راسخ العقیدہ سُنّی علما کو
1.محدود سوچ والا
2.تقسیم کرنے والا
3.فرقہ باز
قرار دیا گیا۔
نام لیے بغیر کثیر تعداد میں سُنّی علما کی توہین آمیز رویہ سے تردید کی گئی ہے۔اخیر عمر میں مولانا عبد الباری نے خاندانِ رضا کے علما کے پاس جا کر توبہ بھی کی تھی۔اس بات کا محقق نے کسی جگہ کوئی ذکر کرنا گوارا نہیں کیا۔ جابجا عبدالماجد دریابادی دیوبندی اور شبلی نعمانی معتزلی دیوبندی کی کتب سے حوالہ جات دیے گئے ہیں۔جب کہ سُنّی علما کے موقف کو پیش کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔مولانا عبدالباری کی تمام سیاسی اور مذہبی غلطیوں کو محض ایک خطا کہہ کر نظر انداز کیا گیا ہے ۔
میری راۓ میں پوری کتاب نے پہلے باب کے مندرجات کی وجہ سے اپنی افادیت گنوا دی ہے۔
خوشتر نورانی کو اگر مولانا عبد الباری کے موقف کو صحیح ثابت کرنا تھا۔تو دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ طرفین کے آرا کو سامنے رکھتے۔مولانا عبدالباری سیاسی حامیوں اور مخالفین کے اختلافات کی تمام وجوہات اور نکات کو زیرِبحث لاتے ہوئے اپنے موقف کے صائب ہونے پر دلائل دیتے۔یہ تو ان سے ہو نہ سکا۔صرف اور صرف غالی ندویوں کی تصانیف سے کاپی/پیسٹ کرتے ہوئے اور سُنّی علمائےکرام کی جانب سے لکھی گئی تصانیف کو نظر انداز کرنا تاریخ نویسی نہیں۔"تاریخ گری" اور"تحریف" ہے ۔
"الطاری الداری"کے مندرجات پر کوئی راۓ نہیں دی گئی۔مولانا عبد الباری اور امام احمد رضا خان قادری کے درمیان ہونے والی خط و کتابت جو کہ ان تحریکات کے بارے میں ایک اہم ترین باب ہے اس کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔
ان سب وجوہ کے ہوتے ہوئے ایسے تذکار کی استنادی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔؟؟؟
تاریخ میں تحریف کے بارے میں ماضی کے قصوں کو اب ہم جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
"تذکرہ علماے ہندوستان" کے بعد"علما ئے فرنگی محل" پڑھ کر میرا یہ ظن یقین میں بدل گیا ہے کہ ھند و پاک میں اہلِ سُنّت کے اندر "متجددین"کا ایسا گروپ پیدا ہو گیا ہے۔جس کے بظاہر معمولاتِ زندگی سُنّیوں سے مِلتے جُلتے ہیں۔نذر و نیاز-فاتحہ خوانی۔دُرود و سلام پر عامل ہیں ۔مگر عقائد کی سطح پر جو اکابرین نے ایک سو سال تک لسانی اور قلمی جہاد فرمایا۔حق و باطل میں امتیاز قائم کیا۔"متجددین" کا یہ گروہ وحدتِ اسلامیہ۔حکمت۔امن رواداری کے نام کی آڑ میں حق و باطل کے اس امتیاز کو دھندلانے کے درپئےہے۔یہ سب کچھ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔لیکن ماضی میں حق گوئی کی طاقت نے ایسے عناصر کو پنپنے ہی نہیں دیا۔باطل نے پینترا بدلا ہے۔اب ندوی۔خارجی۔رافضی۔تفضیلی فکر کے لوگوں کو اکابر کے خانوادوں سے ایسے افراد میسر آ رہے ہیں جو خودنمائی کے خوگر۔اور یک گونہ اپنے اجداد کے کارناموں سے نالاں ہیں۔حُبّ جاہ کی لعنت اور ہماچوں دیگر نیست کے مرض میں گرفتار ہیں۔ایسے صاحب زادگان۔لکھاری۔ پیر ۔ خطیب۔ واعظ۔ باطل قوتوں کاآسان ہدف ہیں۔
خوشتر نورانی کی جملہ تحریروں کو دیکھ لیجیے۔جب سے ان کو پروفیسر معین الدین عقیل جیسے غالی خارجی ۔طاہر القادری اور قمر علی زیدی جیسے رافضی الفکر افراد کی آشیر باد حاصل ہوئی ہے ۔ان کی تحریروں میں واضح طور پر بدلاؤ آچکا ہے۔جام نور کی سابقہ دہائی کی اشاعتوں اور حالیہ اشاعتوں میں واضح طور فرق محسوس کیا جا سکتا ہے ۔پھر سونے اور سہاگہ انکے گرد ناصر رامپوری ۔ذیشان مصباحی ۔صبیح رحمانی ۔ سطحی فکر کے حاملین افراد نے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے ۔کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا آئے بھی تو ان تک نہیں پہنچ پاتا۔
میری تمام سُنّی رضوی اہل قلم سے التجا ہے کہ وہ ہر دو کتب ("تذکرہ علما ے ہندوستان" ۔"علما ے فرنگی محل" ) کے مندرجات پر ناقدانہ نظر ڈال کر اس کے متوازی کوئی جامع تصنیف سامنے لائیں ۔جس میں تاریخ ریکارڈ کی مستند شواہد کی روشنی میں حقیقی معنوں میں تشریح و توضیح کی گئی ہو ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اکابر کے نور بصیرت کو مناظرانہ ۔ فتویٰ کی بجاۓ موضوعی مطالعہ کے انداز سے عام کیا جائے۔ مشکل مقامات کی تفہیم کی جانب توجہ دی جائے! اکابر کے مذہبی ۔اخلاقی ۔ سیاسی اور سماجی نظریات کا عہد حاضر کی مروجہ زبان میں موثر انداز میں تحریری اور تقریری طور پر ابلاغ کیا جائے ۔اور ان مقاصد کے لیے ہر فورم پر اپنے افراد کو تیار کیا جائے ۔
اگر باطل کی ہر کاوش کو صرف اور صرف استغفار سے نظر انداز کرنے پر اکتفا کر لیا گیا تو وہ وقت دُور نہیں جب منہاجی ۔ندوی۔ خارجی فکر کا ایک لکھاری ٹولہ اہلِ سُنّت کی صفوں سے نمودار ہونے کو تیار ہے
📖 علمائے فرنگی محل 📖
اثار الاول من علماء فرنگی محل
مولانا قیام الدین عبد الباری
مترجم📝 ڈاکٹر خوشتر نورانی
@islaamic_Knowledge
کیا یہ ترجمہ/حاشیہ معتبر ہے ؟
فوٹو کے اوپر علامہ میثم قادری
صاحب کی تحریر ضرور پڑھئے!