Forwarded from Shahzad Razvi
عصمتِ_اجتھادِ_انبیاء_اور_مسلکِ_اسلاف.pdf
1.4 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*قہقہہ*
________________
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
لیکن یہ بات سب کو معلوم نہیں ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے جو وضو ٹوٹتا ہے وہ وضو صرف نماز کے حق میں ٹوٹتا ہے دوسرے کام کے حق میں نہیں ٹوٹتا بلکہ باقی رہتا ہے
جی ہاں!
در اصل اس میں اختلاف ہوا کہ قہقہہ سے آخر وضو کیوں ٹوٹتا ہے
ایک قول کے مطابق قہقہہ نجاست حکمیہ ہے اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے
دوسرے قول کے مطابق قہقہہ کوئی نجاست نہیں ہے بلکہ یہ ایک آواز ہے اور نماز میں قہقہہ کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ سزا کے طور پر ہے
لہذا اگر نماز میں قہقہہ لگا دیا تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور اب اسے بغیر وضو بنائے نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ ایسی صورت میں وضو بنانے کا حکم حدیث پاک سے ثابت ہے
لیکن نماز کے علاوہ دوسرا کام یعنی قرآن مجید چھونے کے بارے میں اختلاف ہے تو
پہلے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز نہیں
اور
دوسرے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز ہے
اور یہی قول راجح ہے
کیوں کہ یہ قیاس اور حدیث دونوں کے موافق ہے
قیاس کے موافق یوں کہ قہقہہ کوئی بدن سے نکلنے والی گندگی نہیں ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے
اور حدیث کے موافق یوں کہ حدیث پاک میں صرف وضو بنانے کا حکم ہے اور یہ وضو ٹوٹنے کو لازم نہیں
________________
دیکھیں :
💡النھر الفائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٥٨، ٥٩، دار الکتب العلمیۃ
💡البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٧٧، ٧٨، دار الکتب العلمیۃ مع
💡حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحر الرائق
💡رد المحتار علی الدر المختار ج١ ص٤٨١ دار الثقافۃ و التراث، دمشق، سوریۃ
*عــــــزیـــــز مـصبــاحی*
________________
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
لیکن یہ بات سب کو معلوم نہیں ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے جو وضو ٹوٹتا ہے وہ وضو صرف نماز کے حق میں ٹوٹتا ہے دوسرے کام کے حق میں نہیں ٹوٹتا بلکہ باقی رہتا ہے
جی ہاں!
در اصل اس میں اختلاف ہوا کہ قہقہہ سے آخر وضو کیوں ٹوٹتا ہے
ایک قول کے مطابق قہقہہ نجاست حکمیہ ہے اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے
دوسرے قول کے مطابق قہقہہ کوئی نجاست نہیں ہے بلکہ یہ ایک آواز ہے اور نماز میں قہقہہ کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ سزا کے طور پر ہے
لہذا اگر نماز میں قہقہہ لگا دیا تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور اب اسے بغیر وضو بنائے نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ ایسی صورت میں وضو بنانے کا حکم حدیث پاک سے ثابت ہے
لیکن نماز کے علاوہ دوسرا کام یعنی قرآن مجید چھونے کے بارے میں اختلاف ہے تو
پہلے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز نہیں
اور
دوسرے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز ہے
اور یہی قول راجح ہے
کیوں کہ یہ قیاس اور حدیث دونوں کے موافق ہے
قیاس کے موافق یوں کہ قہقہہ کوئی بدن سے نکلنے والی گندگی نہیں ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے
اور حدیث کے موافق یوں کہ حدیث پاک میں صرف وضو بنانے کا حکم ہے اور یہ وضو ٹوٹنے کو لازم نہیں
________________
دیکھیں :
💡النھر الفائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٥٨، ٥٩، دار الکتب العلمیۃ
💡البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٧٧، ٧٨، دار الکتب العلمیۃ مع
💡حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحر الرائق
💡رد المحتار علی الدر المختار ج١ ص٤٨١ دار الثقافۃ و التراث، دمشق، سوریۃ
*عــــــزیـــــز مـصبــاحی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کچھ کرنا ہوگا
بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا کچھ تو کرنا ہوگا۔
سوچنا اچھا ہے پر صرف سوچنا اچھا نہیں۔
کم سے کم اپنی سوچ، اپنی فکر، اپنے خیال کا اظہار کیجیے تاکہ دوسروں کے لیے وہ ایک مقصد بن جائے۔
آپ قادر ہیں جس پر وہ تو کریں،
ہر شخص اپنا بہتر دکھانے کی کوشش کرے۔
سکوت موت ہے۔
کوہرام مچانا ہوگا۔
جس شعبے میں جائیں تو اپنی پوری طاقت لگا دیں۔
ہار اسی وقت مانیں جب آخری سانس آجائے۔
تسلسل کے ساتھ تھوڑا عمل بھی خوب فائدہ دیتا ہے۔
آج سے شروع کریں جو آپ کر سکتے ہیں۔
نہ سوچیں کہ آپ کے بس کا نہیں بلکہ اتر جائیں میدان میں
کرنا ہی ہوگا ورنہ کون آئے گا؟
کیا ہم سب ایک دوسرے پر الزام دیتے رہیں گے یا خود اپنی طاقت کے مطابق اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق میدانِ عمل میں آئیں گے؟
فیصلہ آپ کا ہے کہ یا تو موقعوں کے انتظار میں انتظار بن جائیں یا خود موقع بن کر آگے بڑھیں۔
عبد مصطفی
بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا کچھ تو کرنا ہوگا۔
سوچنا اچھا ہے پر صرف سوچنا اچھا نہیں۔
کم سے کم اپنی سوچ، اپنی فکر، اپنے خیال کا اظہار کیجیے تاکہ دوسروں کے لیے وہ ایک مقصد بن جائے۔
آپ قادر ہیں جس پر وہ تو کریں،
ہر شخص اپنا بہتر دکھانے کی کوشش کرے۔
سکوت موت ہے۔
کوہرام مچانا ہوگا۔
جس شعبے میں جائیں تو اپنی پوری طاقت لگا دیں۔
ہار اسی وقت مانیں جب آخری سانس آجائے۔
تسلسل کے ساتھ تھوڑا عمل بھی خوب فائدہ دیتا ہے۔
آج سے شروع کریں جو آپ کر سکتے ہیں۔
نہ سوچیں کہ آپ کے بس کا نہیں بلکہ اتر جائیں میدان میں
کرنا ہی ہوگا ورنہ کون آئے گا؟
کیا ہم سب ایک دوسرے پر الزام دیتے رہیں گے یا خود اپنی طاقت کے مطابق اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق میدانِ عمل میں آئیں گے؟
فیصلہ آپ کا ہے کہ یا تو موقعوں کے انتظار میں انتظار بن جائیں یا خود موقع بن کر آگے بڑھیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
سچ کہا
*جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دییے ہیں*
امام اہلسنت سے 1332ھ میں سوال ہوا کہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ *جو شخص داڑھی اور مونچھیں اور بھنویں منڈائے ہوئے ہوں تو مسلمانوں کو ایسے شخص کا مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*
*اور جو شخص داڑھی مونچھ منڈائے ہو اور کانوں میں مندرے پہنے ہو تو اس کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*
*اور جو شخص گیسو دراز ہو اور گیسو اس کے مقام ہنسلی سے نیچے ہوں تو ایسے شخص کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں یعنی یہ تینوں شخص قابل پیشوائی ہیں یا نہیں؟* بینوا توجروا
اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے، اور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگی، ظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکا، مگر دل میں زنانہ، اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے، عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے، کلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننے، سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی، اسے انکر کھا پہننے، ٹوپی رکھنے، عمامہ باندھنے، گھوڑے پر چڑھنے، تلوار اٹھانے، تیرا ندازی کرنے، مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء، رواہ احمد ۱؎ والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔اللہ کی لعت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔
ناشر حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اوجین ایم پی
8485880123
https://chat.whatsapp.com/JjHqWJtLSTqKwAaSZsdHuR
*جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دییے ہیں*
امام اہلسنت سے 1332ھ میں سوال ہوا کہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ *جو شخص داڑھی اور مونچھیں اور بھنویں منڈائے ہوئے ہوں تو مسلمانوں کو ایسے شخص کا مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*
*اور جو شخص داڑھی مونچھ منڈائے ہو اور کانوں میں مندرے پہنے ہو تو اس کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں؟*
*اور جو شخص گیسو دراز ہو اور گیسو اس کے مقام ہنسلی سے نیچے ہوں تو ایسے شخص کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں یعنی یہ تینوں شخص قابل پیشوائی ہیں یا نہیں؟* بینوا توجروا
اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے، اور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگی، ظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکا، مگر دل میں زنانہ، اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے، عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے، کلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننے، سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی، اسے انکر کھا پہننے، ٹوپی رکھنے، عمامہ باندھنے، گھوڑے پر چڑھنے، تلوار اٹھانے، تیرا ندازی کرنے، مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء، رواہ احمد ۱؎ والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔اللہ کی لعت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔
ناشر حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اوجین ایم پی
8485880123
https://chat.whatsapp.com/JjHqWJtLSTqKwAaSZsdHuR
WhatsApp.com
صدائے حق 3
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
[28/08, 12:18 pm] مولانا نثار مصباحی: ہنس مکھ اور تیز طرار بچی کو سُکینَہ کہا جاتا ہے.
مشہور آن لائن ڈکشنری "المعانی" میں ہے :
السُّكَيْنَةُ : الجارية الخفيفةُ الرُّوح الظريفةُ النشيطةُ.
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکَینَہ" تھا.
[28/08, 12:22 pm] +91 91987 53786: شہزادی امام کانام سُکینہ تھا کسی حوالےسےافادہ فرمائیں،
[28/08, 12:28 pm] مولانا نثار مصباحی: علامہ مجد الدین فیروزآبادی رحمہ اللہ (متوفی 817ھ) نے القاموس المحیط میں اس کی صراحت کی ہے کہ یہ "سُکَینہ" بر وزنِ "جُہَینہ" ہے.
مشہور آن لائن ڈکشنری "المعانی" میں ہے :
السُّكَيْنَةُ : الجارية الخفيفةُ الرُّوح الظريفةُ النشيطةُ.
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکَینَہ" تھا.
[28/08, 12:22 pm] +91 91987 53786: شہزادی امام کانام سُکینہ تھا کسی حوالےسےافادہ فرمائیں،
[28/08, 12:28 pm] مولانا نثار مصباحی: علامہ مجد الدین فیروزآبادی رحمہ اللہ (متوفی 817ھ) نے القاموس المحیط میں اس کی صراحت کی ہے کہ یہ "سُکَینہ" بر وزنِ "جُہَینہ" ہے.
Forwarded from چینل صدائے حق
سیراعلام النبلاءمیں یہی اعراب لکھا
Forwarded from چینل صدائے حق
میں نے عرض کیا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہزادی کا نام "سُکینَہ"(تصغیر کے ساتھ, سین پر ضمہ, اور کاف پر فتحہ) ہے.
آپ نے اس پر حوالہ طلب فرمایا تو خاکسار نے علامہ فیروزآبادی کی القاموس المحیط کا حوالہ دے دیا.
ظاہر ہے یہ لغوی ساخت کا نہیں بلکہ شہزادی کے نام کے تلفظ کا حوالہ دیا گیا تھا. (کیوں کہ سوال نام ہی کے بارے میں تھا, اس لفظ کی لغوی ساخت کے بارے میں نہیں)
لیکن پھر آپ نے فرمایا کہ:
"یہ لغت کی بات ہے ،اور لغت دونوں ہیں، بفتح السین اور بالضم، فقیر کی گذارش کا مطلب یہ ہے کہ شہزادی پاک کا نام بالضم ہے اس پر کوئی حوالہ ہوتو نوازیں."
اور ہمارے کرم فرما زبیر بھائی نے بھی آپ کے اس اشکال کو درست قرار دیا.
مگر خاکسار کو آپ کے اس اشکال پر حیرت اور تعجب ہوا.
دراصل عربی کی مستند لغات میں قاموس اور اس کی شرح تاج العروس وغیرہ لغات کی یہ خاصیت اور ان کے مصفین کی عادت ہے کہ وہ شخصیات کے ناموں کا وزن بتا کر ان کا تلفظ بھی بیان کرتے ہیں. جس نے بھی قاموس اور تاج العروس وغیرہ پڑھی ہیں اس پر یہ بالکل روشن ہے.
یہی سوچ کر میں نے قاموس کا حوالہ دیا تھا مگر لغت کی بات کَہ کر اسے آپ نے مسترد فرما دیا. اس لیے اب تھوڑی تفصیل پیش ہے:
علامہ فیروزآبادی اور امام محمد مرتضی زبیدی نے "سُکَینَہ" کا صرف لغوی معنی نہیں لکھا ہے بلکہ "بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما" کَہ کر پاک شہزادی کا یہی نام ہونے کی صراحت کی ہے.
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
*"سُکَینَۃ : کجُہَینۃ : الأتان الخفیفۃ السریعۃ, و بہ سُمّیت الجاریۃ الخفیفۃ الروح سُکَینَۃ.
والسُکَینَۃ أیضا اسم البقۃ الداخلۃ أنف نمروذ بن کنعان الخاطئ فأکلت دماغہ.
*و سُکَینَۃُ بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما.*
((ملتقطا من : تاج العروس من جواہر القاموس للامام الزبیدی. مادۃ : س ک ن))
اس عبارت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مبارک شہزادی کا نام(لقب) 'سُکَینَہ' ہے, وہیں ایک دل چسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نمرود کی ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھسنے (اور اس کی ہلاکت کا سبب بننے) والے مچھر/پسو کا نام بھی 'سُکَینَہ' تھا. !!
- ناموں کے تلفظ پر احمد تیمور پاشا کی معروف کتاب "ضبط الأعلام" میں ہے:
*"سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب..............*
*ابن خلكان لم ينص على ضبط في اسمها، و نص صاحب القاموس على أنه كجُهينة، أي بضم السين المهملة و فتح الكاف و سكون الياء المثناة من تحتها، و فتح النون، وبعدها تاء"*
(ضبط الأعلام, ص 74)
- حافظ ابن ماکولا(متوفی 475ھ) کی مشہور کتاب "الإكمال" میں ہے:
"سُكَينَة : بضم السين و فتح الكاف وتخفيفهما و فتح النون، فهي سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب"
(الإكمال لابن ماكولا)
- حافظ ابن ناصر الدین دمشقی(متوفی 842ھ) کی کتاب "توضیح المشتبہ" میں "سُکَینَہ" کے تحت ہے:
"هذا الإسم بضم أوله و فتح الكاف و سكون المثناة تحت و فتح النون، ثم هاء"
ترجمہ : یہ نام پہلے حرف(سین) کے ضمہ, کاف کے فتحہ, یا کے سکون, نون کے فتحہ اور آخر میں ھا کے ساتھ ہے.
امید ہے یہ چند تصریحات ان شاء اللہ کافی ہوں گی.
یہاں یہ بھی عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے دیار میں یہ نام سین کے فتحے کے ساتھ سَکینہ بر وزن سَفینہ زبان زد ہے. اور اب شیعوں کے کچھ قلم کار (ایک مقصد کے تحت) اسی کو درست تلفظ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں. جب کہ درست تلفظ وہی ہے جو ہم نے ائمۂ فن کے حوالے سے اوپر بیان کر دیا ہے.
#نثارمصباحی
8 محرم 1442ھ
آپ نے اس پر حوالہ طلب فرمایا تو خاکسار نے علامہ فیروزآبادی کی القاموس المحیط کا حوالہ دے دیا.
ظاہر ہے یہ لغوی ساخت کا نہیں بلکہ شہزادی کے نام کے تلفظ کا حوالہ دیا گیا تھا. (کیوں کہ سوال نام ہی کے بارے میں تھا, اس لفظ کی لغوی ساخت کے بارے میں نہیں)
لیکن پھر آپ نے فرمایا کہ:
"یہ لغت کی بات ہے ،اور لغت دونوں ہیں، بفتح السین اور بالضم، فقیر کی گذارش کا مطلب یہ ہے کہ شہزادی پاک کا نام بالضم ہے اس پر کوئی حوالہ ہوتو نوازیں."
اور ہمارے کرم فرما زبیر بھائی نے بھی آپ کے اس اشکال کو درست قرار دیا.
مگر خاکسار کو آپ کے اس اشکال پر حیرت اور تعجب ہوا.
دراصل عربی کی مستند لغات میں قاموس اور اس کی شرح تاج العروس وغیرہ لغات کی یہ خاصیت اور ان کے مصفین کی عادت ہے کہ وہ شخصیات کے ناموں کا وزن بتا کر ان کا تلفظ بھی بیان کرتے ہیں. جس نے بھی قاموس اور تاج العروس وغیرہ پڑھی ہیں اس پر یہ بالکل روشن ہے.
یہی سوچ کر میں نے قاموس کا حوالہ دیا تھا مگر لغت کی بات کَہ کر اسے آپ نے مسترد فرما دیا. اس لیے اب تھوڑی تفصیل پیش ہے:
علامہ فیروزآبادی اور امام محمد مرتضی زبیدی نے "سُکَینَہ" کا صرف لغوی معنی نہیں لکھا ہے بلکہ "بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما" کَہ کر پاک شہزادی کا یہی نام ہونے کی صراحت کی ہے.
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
*"سُکَینَۃ : کجُہَینۃ : الأتان الخفیفۃ السریعۃ, و بہ سُمّیت الجاریۃ الخفیفۃ الروح سُکَینَۃ.
والسُکَینَۃ أیضا اسم البقۃ الداخلۃ أنف نمروذ بن کنعان الخاطئ فأکلت دماغہ.
*و سُکَینَۃُ بنت الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما.*
((ملتقطا من : تاج العروس من جواہر القاموس للامام الزبیدی. مادۃ : س ک ن))
اس عبارت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مبارک شہزادی کا نام(لقب) 'سُکَینَہ' ہے, وہیں ایک دل چسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نمرود کی ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھسنے (اور اس کی ہلاکت کا سبب بننے) والے مچھر/پسو کا نام بھی 'سُکَینَہ' تھا. !!
- ناموں کے تلفظ پر احمد تیمور پاشا کی معروف کتاب "ضبط الأعلام" میں ہے:
*"سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب..............*
*ابن خلكان لم ينص على ضبط في اسمها، و نص صاحب القاموس على أنه كجُهينة، أي بضم السين المهملة و فتح الكاف و سكون الياء المثناة من تحتها، و فتح النون، وبعدها تاء"*
(ضبط الأعلام, ص 74)
- حافظ ابن ماکولا(متوفی 475ھ) کی مشہور کتاب "الإكمال" میں ہے:
"سُكَينَة : بضم السين و فتح الكاف وتخفيفهما و فتح النون، فهي سكينة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب"
(الإكمال لابن ماكولا)
- حافظ ابن ناصر الدین دمشقی(متوفی 842ھ) کی کتاب "توضیح المشتبہ" میں "سُکَینَہ" کے تحت ہے:
"هذا الإسم بضم أوله و فتح الكاف و سكون المثناة تحت و فتح النون، ثم هاء"
ترجمہ : یہ نام پہلے حرف(سین) کے ضمہ, کاف کے فتحہ, یا کے سکون, نون کے فتحہ اور آخر میں ھا کے ساتھ ہے.
امید ہے یہ چند تصریحات ان شاء اللہ کافی ہوں گی.
یہاں یہ بھی عرض کرنا مناسب ہے کہ ہمارے دیار میں یہ نام سین کے فتحے کے ساتھ سَکینہ بر وزن سَفینہ زبان زد ہے. اور اب شیعوں کے کچھ قلم کار (ایک مقصد کے تحت) اسی کو درست تلفظ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں. جب کہ درست تلفظ وہی ہے جو ہم نے ائمۂ فن کے حوالے سے اوپر بیان کر دیا ہے.
#نثارمصباحی
8 محرم 1442ھ
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کس ماہ کے کتنی تاریخ وسنہ ہجری میں شہید ہوئے؟؟
Anonymous Quiz
5%
1 محرم 20 ہجری
1%
7 ربیع الاول 80 ہجری
92%
10 محرم 61 ہجری
2%
نہیں معلوم علم سیکھنے کی کوشش کروں گا
Forwarded from چینل صدائے حق
مختار بن عبید ثقفی جس نے بعد کربلا ظالموں سے انتقام لیا تھا وہ بعد میں کیا ہوگیا تھا ؟؟
Anonymous Quiz
82%
مرتد
12%
شہید
6%
غازی