Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کلسے یہ مصرع وردِ زباں ہیں ؏
تَرجُمانِ نَبی ، ہَم زُبانِ نَبی
اللہاللہ اس میں اتنی چاشنی ہے کہ الفاظ بیان نہیں کرسکتے ۔
آپ کا ترجمان وہ ہوگا جو الفاظ ہی نہیں ، آپ کی سوچ اور فکر بھی دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتاہو ۔
اور
ہمزبان وہ ہوتا ہے جو وہی بولتا ہےجو آپ بولتے ہیں ، اسی لہجے میں بولتا ہے جس لہجے میں آپ بولنا چاہتے ہیں ۔
میں قربان اُس " عمر فاروق اعظم " پر ، جسے سید عالمﷺ کا ترجمان ، اور ہمزبان ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔
تَرجُمانِ نَبی ، ہَم زُبانِ نَبی
اللہاللہ اس میں اتنی چاشنی ہے کہ الفاظ بیان نہیں کرسکتے ۔
آپ کا ترجمان وہ ہوگا جو الفاظ ہی نہیں ، آپ کی سوچ اور فکر بھی دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتاہو ۔
اور
ہمزبان وہ ہوتا ہے جو وہی بولتا ہےجو آپ بولتے ہیں ، اسی لہجے میں بولتا ہے جس لہجے میں آپ بولنا چاہتے ہیں ۔
میں قربان اُس " عمر فاروق اعظم " پر ، جسے سید عالمﷺ کا ترجمان ، اور ہمزبان ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
محبت کی حقیقت اور دل کی حالت
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں نے ایک مجذوب (یعنی مجنون، دیوانہ) دیکھا جسے بچے پتھر مار رہے تھے، اس کا چہرہ اور سر لہولہان اور شدید زخمی تھا!
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ ان بچوں کوڈانٹنے لگے تو انھوں نے کہا:
''ہمیں چھوڑ دو! ہم اسے قتل کریں گے کیوں کہ یہ کافرہے! اور کہتا ہے کہ اس نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اور وہ اس سے کلام بھی کرتا ہے۔''
تو آپ علیہ الرحمہ نے بچوں سے فرمایا:
اسے چھوڑدو، پھرآپ رحمۃاللہ تعالی علیہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو وہ مسکرا کر باتیں کر رہا تھا اور کہنے لگا:
''اے خوبصورت نوجوان! آپ کااحسان ہے، یہ بچے تو مجھے برابھلا کَہ رہے تھے۔''
اس کے بعد اس نے پوچھا: ''وہ میرے متعلق کیا کَہ رہے تھے؟'' آپ رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بتایا: ''وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یہ کہ وہ تم سے کلام بھی کرتا ہے۔''
یہ سن کراس نے ایک زوردار چیخ ماری، پھرکہنے لگا:
''اے شبلی! حق تعالی کی محبت وقربت سے مجھے سکون ملتا ہے، اگر لمحہ بھر بھی وہ مجھ سے چھپ جائے تو میں درد فراق سے پارہ پارہ ہو جاؤں۔''
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں سمجھ گیا کہ یہ مجذوب اخلاص والے خاص بندوں میں سے ہے۔
میں نے اس سے پوچھا: ''اے میرے دوست! محبت کی حقیقت کیا ہے؟''
تواس نے جواب دیا:
''اے شبلی! اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر میں ڈال دیا جائے(تووہ خشک ہوکر) یا پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ غبارکے بکھرے ہوئے باریک ذرے ہو جائیں! لہذا اس دل پر کیسا طوفان گزرے گا جس کو محبت نے اضطراب اور گریہ وزاری کا لباس پہنا دیا ہو، اور سخت پیاس نے اس کے اندر جلن اور حسرت دیدار کو بڑھا دیا ہو۔''
(الروض الفائق، ص35)
اللہ اللہ!
واقعی محبت کوئی عام شے نہیں، یہ عاشق کو جلا دیتی ہے۔
اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر کو خشک کر سکتا ہے اور پہاڑوں کو بکھرنے پر مجبور کر سکتا ہے تو پھر دل کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے وہ الفاظ سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔
عبد مصطفی
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں نے ایک مجذوب (یعنی مجنون، دیوانہ) دیکھا جسے بچے پتھر مار رہے تھے، اس کا چہرہ اور سر لہولہان اور شدید زخمی تھا!
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ ان بچوں کوڈانٹنے لگے تو انھوں نے کہا:
''ہمیں چھوڑ دو! ہم اسے قتل کریں گے کیوں کہ یہ کافرہے! اور کہتا ہے کہ اس نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اور وہ اس سے کلام بھی کرتا ہے۔''
تو آپ علیہ الرحمہ نے بچوں سے فرمایا:
اسے چھوڑدو، پھرآپ رحمۃاللہ تعالی علیہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو وہ مسکرا کر باتیں کر رہا تھا اور کہنے لگا:
''اے خوبصورت نوجوان! آپ کااحسان ہے، یہ بچے تو مجھے برابھلا کَہ رہے تھے۔''
اس کے بعد اس نے پوچھا: ''وہ میرے متعلق کیا کَہ رہے تھے؟'' آپ رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بتایا: ''وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یہ کہ وہ تم سے کلام بھی کرتا ہے۔''
یہ سن کراس نے ایک زوردار چیخ ماری، پھرکہنے لگا:
''اے شبلی! حق تعالی کی محبت وقربت سے مجھے سکون ملتا ہے، اگر لمحہ بھر بھی وہ مجھ سے چھپ جائے تو میں درد فراق سے پارہ پارہ ہو جاؤں۔''
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں سمجھ گیا کہ یہ مجذوب اخلاص والے خاص بندوں میں سے ہے۔
میں نے اس سے پوچھا: ''اے میرے دوست! محبت کی حقیقت کیا ہے؟''
تواس نے جواب دیا:
''اے شبلی! اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر میں ڈال دیا جائے(تووہ خشک ہوکر) یا پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ غبارکے بکھرے ہوئے باریک ذرے ہو جائیں! لہذا اس دل پر کیسا طوفان گزرے گا جس کو محبت نے اضطراب اور گریہ وزاری کا لباس پہنا دیا ہو، اور سخت پیاس نے اس کے اندر جلن اور حسرت دیدار کو بڑھا دیا ہو۔''
(الروض الفائق، ص35)
اللہ اللہ!
واقعی محبت کوئی عام شے نہیں، یہ عاشق کو جلا دیتی ہے۔
اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر کو خشک کر سکتا ہے اور پہاڑوں کو بکھرنے پر مجبور کر سکتا ہے تو پھر دل کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے وہ الفاظ سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خَطِّ تَواَم
لکھنے کے انداز کو " خَطّ " کہتے ہیں ۔
خَطّ کی مختلف قسمیں ہیں ، جن میں ایک قسم " خَطِّ تَوْاَمْ " بھی ہے ۔
خط توام میں جو لکھائی کی جاتی ہے اُس کے لیے ایک نہیں ، دو ورقے استعمال ہوتے ہیں ، جن پر الفاظ کا ایک ایک حصہ لکھاجاتا ہے ، اور تحریر کے ارد گرد نَقش و نِگار بنا دیےجاتے ہیں ۔
دیکھنے والا پہلی نظر میں دیکھ کر انھیں نقش و نگار ہی سمجھتا ہے ، لیکن جب دونوں ورقے ملا کر غور کرتاہے تو پھر اُس پر عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو خط توام میں ترتیب دی گئی تحریر ہے ۔
حدیث پاک میں ہے :
امام حَسن رضی اللہ عنہ سر سے لے کر سینے تک رسول اللہﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ، اور امام حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نچلے حصے میں رسول اللہ کے مُشابِہ تھے ۔
( ترمذی شریف ، ر 3779 )
امام عشق و محبت ، سیدی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
خط توام کی تعریف آپ کو اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی ، آپ نے حدیث پاک بھی پڑھ لی ، اور شعر بھی ملاحظہ کرلیا ۔
اب شعر سمجھیے!
حسن و حسین پاک کو ہر ایک نے اپنی اپنی نظر سے دیکھا ، اور اپنے اپنے لہجے میں بیان کیا ۔
لیکن جب میں نے دیکھا تو اش اش کر اٹھا کہ:
" یہ تو نور کے دو ورقے ہیں ، جن پر " خط توام " میں شکل مصطفیٰ بنائی گئی ہے ۔ "
اس شکل پاک کو سمجھنےکے لیے دونوں ورقے ملانا ضروری تھا ، جس کا شعور اللہ کریم ﷻ نے صرف اہل سنت کو بخشا ۔
اسی شعور سے اہل سنت نے جب نور کے دونوں ورقوں ( حسن و حسین پاک ) کو ، عقیدے کے پاکیزہ ہاتھوں سے ملایا ، تو انھیں رُخِ پاک ﷺ کا نظارا ہو گیا ؛ پھر انھوں نے کبھی بھی ان ورقوں کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
لکھنے کے انداز کو " خَطّ " کہتے ہیں ۔
خَطّ کی مختلف قسمیں ہیں ، جن میں ایک قسم " خَطِّ تَوْاَمْ " بھی ہے ۔
خط توام میں جو لکھائی کی جاتی ہے اُس کے لیے ایک نہیں ، دو ورقے استعمال ہوتے ہیں ، جن پر الفاظ کا ایک ایک حصہ لکھاجاتا ہے ، اور تحریر کے ارد گرد نَقش و نِگار بنا دیےجاتے ہیں ۔
دیکھنے والا پہلی نظر میں دیکھ کر انھیں نقش و نگار ہی سمجھتا ہے ، لیکن جب دونوں ورقے ملا کر غور کرتاہے تو پھر اُس پر عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو خط توام میں ترتیب دی گئی تحریر ہے ۔
حدیث پاک میں ہے :
امام حَسن رضی اللہ عنہ سر سے لے کر سینے تک رسول اللہﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ، اور امام حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نچلے حصے میں رسول اللہ کے مُشابِہ تھے ۔
( ترمذی شریف ، ر 3779 )
امام عشق و محبت ، سیدی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
خط توام کی تعریف آپ کو اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی ، آپ نے حدیث پاک بھی پڑھ لی ، اور شعر بھی ملاحظہ کرلیا ۔
اب شعر سمجھیے!
حسن و حسین پاک کو ہر ایک نے اپنی اپنی نظر سے دیکھا ، اور اپنے اپنے لہجے میں بیان کیا ۔
لیکن جب میں نے دیکھا تو اش اش کر اٹھا کہ:
" یہ تو نور کے دو ورقے ہیں ، جن پر " خط توام " میں شکل مصطفیٰ بنائی گئی ہے ۔ "
اس شکل پاک کو سمجھنےکے لیے دونوں ورقے ملانا ضروری تھا ، جس کا شعور اللہ کریم ﷻ نے صرف اہل سنت کو بخشا ۔
اسی شعور سے اہل سنت نے جب نور کے دونوں ورقوں ( حسن و حسین پاک ) کو ، عقیدے کے پاکیزہ ہاتھوں سے ملایا ، تو انھیں رُخِ پاک ﷺ کا نظارا ہو گیا ؛ پھر انھوں نے کبھی بھی ان ورقوں کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
🕯 *_واقعۂ کربلا کا درسِ زرّیں_*
یادیں ہماری تاریخ کا لازمہ ہیں۔ زندہ قومیں یادوں کے زرّیں نقوش پر ارتقا کی منازل طے کرتی ہیں؛ اور اپنے قومی وَقار کو بلند کرتی ہیں۔ نئے اسلامی سال کے عشرۂ اول کے سِرے پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور واقعۂ کربلاکی یاد منائی جاتی ہے۔ ہر سال یادوں کے تابندہ نقوش اجاگر کیے جاتے ہیں؛ اور نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا سامان مہیا کیا جاتا ہے-
یادِ امام حسین و شہدائے کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سال بہ سال منانے سے کیا فائدہ؟ یہ سوال ہر ذی شعور کے ذہن میں اُبھرتا ہے۔
*عقلی اعتبار سے:*
دین متین آخری دین ہے۔ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لیے دین کا نظام و ضابطہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے مکمل ہوگیا۔ قوانینِ اسلامی میں تغیر و تبدّل کا امکان بھی متصوّر نہیں۔ جس کا حسی نتیجہ نکلا کہ ’شریعت‘ کے معاملے میں کسی طرح کی’نئی صورت‘ قابلِ قبول نہیں اور یہ دین کے فطری اُصولوں کے عین مطابق ہے کہ؛ شریعت پر استقامت اختیار کی جائے۔ شریعت کے قصرِ بلند کو اس کی اصل صورت پر باقی رکھا جائے- اس کے چہرے پر غبار نہ آنے دیا جائے- نظامِ فکرِ اسلامی کو منہاجِ نبوت کے مطابق آگے بڑھایا جائے- آمریت و ملوکیت کے غیر شرعی رُخ کو موڑ دیا جائے- اسی لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی اطاعت سے انکار کیا۔ یہ انکارِ بیعت ٹھوس شرعی و عقلی بنیادوں پر تھا جس کے شواہد موجود تھے۔
*عزم و یقیں*
بہر حال ہمیں چاہیے کہ حال کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے شہادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عزم و یقین کے بلند مینار تعمیر کریں؛ جس کی روشنی میں مشرکینِ ہند کی سازشوں کے اندھیرے دَم توڑ جائیں- کفر کے ایواں لرز اُٹھیں- لیکن! اس راہ میں بیداری؛ شریعتِ اسلامی پر بے پناہ استقامت اور استحکام کی ضرورت ہے:
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلبیت
(برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا بریلوی)
✍ غلام مصطفٰی رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
٢٨ اگست ٢٠٢٠ء
یادیں ہماری تاریخ کا لازمہ ہیں۔ زندہ قومیں یادوں کے زرّیں نقوش پر ارتقا کی منازل طے کرتی ہیں؛ اور اپنے قومی وَقار کو بلند کرتی ہیں۔ نئے اسلامی سال کے عشرۂ اول کے سِرے پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور واقعۂ کربلاکی یاد منائی جاتی ہے۔ ہر سال یادوں کے تابندہ نقوش اجاگر کیے جاتے ہیں؛ اور نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا سامان مہیا کیا جاتا ہے-
یادِ امام حسین و شہدائے کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سال بہ سال منانے سے کیا فائدہ؟ یہ سوال ہر ذی شعور کے ذہن میں اُبھرتا ہے۔
*عقلی اعتبار سے:*
دین متین آخری دین ہے۔ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لیے دین کا نظام و ضابطہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے مکمل ہوگیا۔ قوانینِ اسلامی میں تغیر و تبدّل کا امکان بھی متصوّر نہیں۔ جس کا حسی نتیجہ نکلا کہ ’شریعت‘ کے معاملے میں کسی طرح کی’نئی صورت‘ قابلِ قبول نہیں اور یہ دین کے فطری اُصولوں کے عین مطابق ہے کہ؛ شریعت پر استقامت اختیار کی جائے۔ شریعت کے قصرِ بلند کو اس کی اصل صورت پر باقی رکھا جائے- اس کے چہرے پر غبار نہ آنے دیا جائے- نظامِ فکرِ اسلامی کو منہاجِ نبوت کے مطابق آگے بڑھایا جائے- آمریت و ملوکیت کے غیر شرعی رُخ کو موڑ دیا جائے- اسی لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی اطاعت سے انکار کیا۔ یہ انکارِ بیعت ٹھوس شرعی و عقلی بنیادوں پر تھا جس کے شواہد موجود تھے۔
*عزم و یقیں*
بہر حال ہمیں چاہیے کہ حال کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے شہادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عزم و یقین کے بلند مینار تعمیر کریں؛ جس کی روشنی میں مشرکینِ ہند کی سازشوں کے اندھیرے دَم توڑ جائیں- کفر کے ایواں لرز اُٹھیں- لیکن! اس راہ میں بیداری؛ شریعتِ اسلامی پر بے پناہ استقامت اور استحکام کی ضرورت ہے:
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلبیت
(برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا بریلوی)
✍ غلام مصطفٰی رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
٢٨ اگست ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Shahzad Razvi
موجودہ مسئلہ فدک اور عصمت اجتہاد انبیاء کے سلسلے میں افراط و تفریط سے پاک خالص علمی تحقیقی اور حق خالص کو اجاگر کرتی منفرد تحریر 👆👆👆
بنام
*مسلک اسلاف اہل سنت دربارہ عصمت اجتہاد انبیاء و عظمت اہل بیت و صحابہ*
عليهم الصلوة والثناء
از قلم
سلطان العلماء حضرت علامہ مولانا الشاہ *مفتی محمد کوثر حسن* صاحب قبلہ قادری رضوی ادام اللہ ظلہ علی أهل السنة والجماعة
گزارش:
خود بھی مطالعہ فرمائیں اور اہل علم تک پہنچائیں
جزاک اللہ خیرا
بنام
*مسلک اسلاف اہل سنت دربارہ عصمت اجتہاد انبیاء و عظمت اہل بیت و صحابہ*
عليهم الصلوة والثناء
از قلم
سلطان العلماء حضرت علامہ مولانا الشاہ *مفتی محمد کوثر حسن* صاحب قبلہ قادری رضوی ادام اللہ ظلہ علی أهل السنة والجماعة
گزارش:
خود بھی مطالعہ فرمائیں اور اہل علم تک پہنچائیں
جزاک اللہ خیرا
Forwarded from Shahzad Razvi
عصمتِ_اجتھادِ_انبیاء_اور_مسلکِ_اسلاف.pdf
1.4 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*قہقہہ*
________________
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
لیکن یہ بات سب کو معلوم نہیں ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے جو وضو ٹوٹتا ہے وہ وضو صرف نماز کے حق میں ٹوٹتا ہے دوسرے کام کے حق میں نہیں ٹوٹتا بلکہ باقی رہتا ہے
جی ہاں!
در اصل اس میں اختلاف ہوا کہ قہقہہ سے آخر وضو کیوں ٹوٹتا ہے
ایک قول کے مطابق قہقہہ نجاست حکمیہ ہے اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے
دوسرے قول کے مطابق قہقہہ کوئی نجاست نہیں ہے بلکہ یہ ایک آواز ہے اور نماز میں قہقہہ کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ سزا کے طور پر ہے
لہذا اگر نماز میں قہقہہ لگا دیا تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور اب اسے بغیر وضو بنائے نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ ایسی صورت میں وضو بنانے کا حکم حدیث پاک سے ثابت ہے
لیکن نماز کے علاوہ دوسرا کام یعنی قرآن مجید چھونے کے بارے میں اختلاف ہے تو
پہلے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز نہیں
اور
دوسرے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز ہے
اور یہی قول راجح ہے
کیوں کہ یہ قیاس اور حدیث دونوں کے موافق ہے
قیاس کے موافق یوں کہ قہقہہ کوئی بدن سے نکلنے والی گندگی نہیں ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے
اور حدیث کے موافق یوں کہ حدیث پاک میں صرف وضو بنانے کا حکم ہے اور یہ وضو ٹوٹنے کو لازم نہیں
________________
دیکھیں :
💡النھر الفائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٥٨، ٥٩، دار الکتب العلمیۃ
💡البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٧٧، ٧٨، دار الکتب العلمیۃ مع
💡حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحر الرائق
💡رد المحتار علی الدر المختار ج١ ص٤٨١ دار الثقافۃ و التراث، دمشق، سوریۃ
*عــــــزیـــــز مـصبــاحی*
________________
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
لیکن یہ بات سب کو معلوم نہیں ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے جو وضو ٹوٹتا ہے وہ وضو صرف نماز کے حق میں ٹوٹتا ہے دوسرے کام کے حق میں نہیں ٹوٹتا بلکہ باقی رہتا ہے
جی ہاں!
در اصل اس میں اختلاف ہوا کہ قہقہہ سے آخر وضو کیوں ٹوٹتا ہے
ایک قول کے مطابق قہقہہ نجاست حکمیہ ہے اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے
دوسرے قول کے مطابق قہقہہ کوئی نجاست نہیں ہے بلکہ یہ ایک آواز ہے اور نماز میں قہقہہ کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ سزا کے طور پر ہے
لہذا اگر نماز میں قہقہہ لگا دیا تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور اب اسے بغیر وضو بنائے نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ ایسی صورت میں وضو بنانے کا حکم حدیث پاک سے ثابت ہے
لیکن نماز کے علاوہ دوسرا کام یعنی قرآن مجید چھونے کے بارے میں اختلاف ہے تو
پہلے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز نہیں
اور
دوسرے قول کے مطابق بغیر دوبارہ وضو بنائے قرآن چھونا جائز ہے
اور یہی قول راجح ہے
کیوں کہ یہ قیاس اور حدیث دونوں کے موافق ہے
قیاس کے موافق یوں کہ قہقہہ کوئی بدن سے نکلنے والی گندگی نہیں ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے
اور حدیث کے موافق یوں کہ حدیث پاک میں صرف وضو بنانے کا حکم ہے اور یہ وضو ٹوٹنے کو لازم نہیں
________________
دیکھیں :
💡النھر الفائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٥٨، ٥٩، دار الکتب العلمیۃ
💡البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج١، ص٧٧، ٧٨، دار الکتب العلمیۃ مع
💡حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحر الرائق
💡رد المحتار علی الدر المختار ج١ ص٤٨١ دار الثقافۃ و التراث، دمشق، سوریۃ
*عــــــزیـــــز مـصبــاحی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM