یزید کو امام حسین کے مد مقابل
شعر : یزید کی قبر کا نام نشان
فاتحہ حسنین ک شاہ عبد العزیز
یوم عاشورہ کے روزہ کی فضیلت
حضرت موسیٰ نے عاشورہ کا روزہ
یہود و نصاریٰ اور یوم عاشورہ
عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال
شعر اتر رہے ہیں زیارت کے واسطے
تعزیہ داری شاہ عبد العزیز کی نظر
پیدائش کے ساتھ شہادت کی شہرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁴
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
شعر : یزید کی قبر کا نام نشان
فاتحہ حسنین ک شاہ عبد العزیز
یوم عاشورہ کے روزہ کی فضیلت
حضرت موسیٰ نے عاشورہ کا روزہ
یہود و نصاریٰ اور یوم عاشورہ
عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال
شعر اتر رہے ہیں زیارت کے واسطے
تعزیہ داری شاہ عبد العزیز کی نظر
پیدائش کے ساتھ شہادت کی شہرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁴
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رات کو درگاہِ محدث اعظم پاکستان سے متصل ، سُنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں حاضری نصیب ہوئی ۔
ہم چار لوگ تھے ، ہم نے ارادہ کیا کہ باجماعت نماز پڑھیں ۔
جوں ہی جماعت کروانے لگے تو ہمیں منع کردیا گیا کہ آپ جماعت نہیں کروا سکتے ، اکیلے اکیلے نماز پڑھیں ۔
اِس مسجد میں باقاعدہ لکھ کر بھی لگایا ہوا ہے کہ:
دوسری جماعت کروانا منع ہے ۔
اور اگر کوئی مسافر یا معذورِ شرعی دوسری جماعت کروانا چاہے ، تو اُسے پورے التزام سے منع کرتے ہیں ۔
مسجدوالوں کا یہ رویہ بالکل غلط ہے ، جماعتِ ثانی کے متعلق اس شدت کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔
جماعت ثانی کی جب خود رسول اللہ ﷺ نے عملاً ترغیب دلائی ہے تو پھر کسی کو اِس شدت سے منع کرنے کا کیسے حق پہنچتا ہے ۔
جب علماے ربانیین کے مابین تفہیمِ مسئلہمختلف فیہ ہو جائے تو شدت ویسے ہی ختم ہوجاتی ہے ، نہ کہ وہ مسئلہ شدت پسندی کیبھینٹ چڑھادیا جاتا ہے ۔
جامع ترمذی وغیرہ میں صحیح حدیث ہےکہ:
ایک صحابی مسجد میں اس وقت پہنچے جب رسول اللہ ﷺ جماعت کروا چکے تھے ۔
سرکارﷺ نے جب دیکھا کہان کی جماعت رہ گئی ہے تو صحابہ سے فرمایا:
تم میں سے کون ہےجو اس کے ساتھ تجارت کرے گا ؟
( یعنی ان کے ساتھ نفل کی نیت سے کھڑا ہو گا ، تاکہ یہ جماعت کرا لیں ۔
اس طرح اِنھیں باجماعت فرض پڑھنے کا ثواب مل جائے ، اور ساتھ کھڑے ہونے والے کو نفل کا اجر مل جائے ، اور اجر و ثواب کی ایک طرح سے تجارت ہوجائے )
آپ ﷺ کا ارشاد سن کر ایک شخص کھڑے ہوئے اور اُن کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی ۔ رضی اللہ عنھما
اجلہ صحابہ ، تابعین ، ائمہ اور علما نے دوسری جماعت کی اجازت دی ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت نوراللہ مرقدہ کا فتوی بھی دوسری جماعت کے جواز پر ہے ۔
منتظمین سنی رضوی جامع مسجد سے مودبانہ گزارش ہے کہ جہاں آپ نے اور بہت ساری چیزوں کی عملاً چھوٹ دے رکھی ہے ، اِس کارِ خیر کی بھی دے دیں ۔
اللہ آپ سے راضی ہو ، اُسﷻ کے بندوں کو صفیں باندھ کر اسے یاد کرنے دیا کریں !
✍️لقمان شاہد
25-8-2020 ء
ہم چار لوگ تھے ، ہم نے ارادہ کیا کہ باجماعت نماز پڑھیں ۔
جوں ہی جماعت کروانے لگے تو ہمیں منع کردیا گیا کہ آپ جماعت نہیں کروا سکتے ، اکیلے اکیلے نماز پڑھیں ۔
اِس مسجد میں باقاعدہ لکھ کر بھی لگایا ہوا ہے کہ:
دوسری جماعت کروانا منع ہے ۔
اور اگر کوئی مسافر یا معذورِ شرعی دوسری جماعت کروانا چاہے ، تو اُسے پورے التزام سے منع کرتے ہیں ۔
مسجدوالوں کا یہ رویہ بالکل غلط ہے ، جماعتِ ثانی کے متعلق اس شدت کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔
جماعت ثانی کی جب خود رسول اللہ ﷺ نے عملاً ترغیب دلائی ہے تو پھر کسی کو اِس شدت سے منع کرنے کا کیسے حق پہنچتا ہے ۔
جب علماے ربانیین کے مابین تفہیمِ مسئلہمختلف فیہ ہو جائے تو شدت ویسے ہی ختم ہوجاتی ہے ، نہ کہ وہ مسئلہ شدت پسندی کیبھینٹ چڑھادیا جاتا ہے ۔
جامع ترمذی وغیرہ میں صحیح حدیث ہےکہ:
ایک صحابی مسجد میں اس وقت پہنچے جب رسول اللہ ﷺ جماعت کروا چکے تھے ۔
سرکارﷺ نے جب دیکھا کہان کی جماعت رہ گئی ہے تو صحابہ سے فرمایا:
تم میں سے کون ہےجو اس کے ساتھ تجارت کرے گا ؟
( یعنی ان کے ساتھ نفل کی نیت سے کھڑا ہو گا ، تاکہ یہ جماعت کرا لیں ۔
اس طرح اِنھیں باجماعت فرض پڑھنے کا ثواب مل جائے ، اور ساتھ کھڑے ہونے والے کو نفل کا اجر مل جائے ، اور اجر و ثواب کی ایک طرح سے تجارت ہوجائے )
آپ ﷺ کا ارشاد سن کر ایک شخص کھڑے ہوئے اور اُن کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی ۔ رضی اللہ عنھما
اجلہ صحابہ ، تابعین ، ائمہ اور علما نے دوسری جماعت کی اجازت دی ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت نوراللہ مرقدہ کا فتوی بھی دوسری جماعت کے جواز پر ہے ۔
منتظمین سنی رضوی جامع مسجد سے مودبانہ گزارش ہے کہ جہاں آپ نے اور بہت ساری چیزوں کی عملاً چھوٹ دے رکھی ہے ، اِس کارِ خیر کی بھی دے دیں ۔
اللہ آپ سے راضی ہو ، اُسﷻ کے بندوں کو صفیں باندھ کر اسے یاد کرنے دیا کریں !
✍️لقمان شاہد
25-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نبی مکرم ﷺنے فرمایا:
جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوں اور لوگ میرے صحابہ کو برا کہنے لگیں ، تو اُس وقت عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہیے ۔
جو عالم ایسا نہیں کرے گا اُس پر اللہ ، اُس کے فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی ۔
( مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ ، للسیوطی ، ص 66 ، ط الجامعۃ الاسلامیہ المدینہ المنورۃ ، 1409ھ )
یہ حدیث کئی محدثین نے نقل کی ہے ۔ اگرچہ سنداً ضعیف ہے ، لیکن اس میں بیان کی گئی وعید بہت قوی ہے !
ہم ایسے زمانے میں ہیں جب بدعتیں عام ہوچکی ہیں ، اور لوگ صحابہ کرام علیھم الرضوان کو علانیہ برا کَہ رہے ہیں ، معاذ اللہ ثم معاذاللہ ۔
اب علما کے لیے علم چھپانا جائز نہیں رہا ، ان پر صحابہ کرام کا دفاع لازم ہے —
خطیب بغدادی اس حدیث پاک کے آگے یہ الفاظ بھی لائے ہیں کہ:
ایسے حالات میں علم چھپانے والے عالم کا اللہ پاک فرض و نفل بھی قبول نہیں فرمائے گا ۔ ( العیاذباللہ )
( انظر: الجامع الاخلاق الراوی وآداب السامع ، ج 2 ، ص 118 ، ر 1354 ، ط مکتبۃ المعارف الریاض )
جو علماے اہل سنت سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں ، وہ بھی مقدور بھر صحابہ کرام علیھم الرضوان کا دفاع کریں ، پروردگارِ عالم اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھے گا —
✍ لقمان شاہد
23/5/2018 ء
جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوں اور لوگ میرے صحابہ کو برا کہنے لگیں ، تو اُس وقت عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہیے ۔
جو عالم ایسا نہیں کرے گا اُس پر اللہ ، اُس کے فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی ۔
( مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ ، للسیوطی ، ص 66 ، ط الجامعۃ الاسلامیہ المدینہ المنورۃ ، 1409ھ )
یہ حدیث کئی محدثین نے نقل کی ہے ۔ اگرچہ سنداً ضعیف ہے ، لیکن اس میں بیان کی گئی وعید بہت قوی ہے !
ہم ایسے زمانے میں ہیں جب بدعتیں عام ہوچکی ہیں ، اور لوگ صحابہ کرام علیھم الرضوان کو علانیہ برا کَہ رہے ہیں ، معاذ اللہ ثم معاذاللہ ۔
اب علما کے لیے علم چھپانا جائز نہیں رہا ، ان پر صحابہ کرام کا دفاع لازم ہے —
خطیب بغدادی اس حدیث پاک کے آگے یہ الفاظ بھی لائے ہیں کہ:
ایسے حالات میں علم چھپانے والے عالم کا اللہ پاک فرض و نفل بھی قبول نہیں فرمائے گا ۔ ( العیاذباللہ )
( انظر: الجامع الاخلاق الراوی وآداب السامع ، ج 2 ، ص 118 ، ر 1354 ، ط مکتبۃ المعارف الریاض )
جو علماے اہل سنت سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں ، وہ بھی مقدور بھر صحابہ کرام علیھم الرضوان کا دفاع کریں ، پروردگارِ عالم اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھے گا —
✍ لقمان شاہد
23/5/2018 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دن پہلے شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والے عالم جواد نقوی نے کہا تھا کہ مصدقہ اطلاع کے مطابق:
بعض ذاکر جو پہلے دس مجالس پڑھنے کا 10 لاکھ لیتے تھے ، اب انھوں نے اپنی فیس بڑھاکر 35 لاکھ کردی ہے ۔
کیوں کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ فرقہ واریت کو اچھی ہوا دے لیں گے ۔
اسی قبیل کے ایک ذاکر ، آصف رضا ملعون نے پرسوں خلیفۂ رسول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی بدترین گستاخی کی ہے ، تاکہ مسلمانوں کا خون کھولے اور ملک میں خون خرابہ شروع ہوجائے ۔
یہ بدبخت دینِ اسلام کے دشمن تو ہیں ہی ، ملک کے بھی غدار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان غداروں کو سرِعام پھانسی دینی چاہیے تاکہ ملک میں امن قائم ہوسکے اور فرقہواریت کو ہوا نہ ملے ۔
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
بعض ذاکر جو پہلے دس مجالس پڑھنے کا 10 لاکھ لیتے تھے ، اب انھوں نے اپنی فیس بڑھاکر 35 لاکھ کردی ہے ۔
کیوں کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ فرقہ واریت کو اچھی ہوا دے لیں گے ۔
اسی قبیل کے ایک ذاکر ، آصف رضا ملعون نے پرسوں خلیفۂ رسول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی بدترین گستاخی کی ہے ، تاکہ مسلمانوں کا خون کھولے اور ملک میں خون خرابہ شروع ہوجائے ۔
یہ بدبخت دینِ اسلام کے دشمن تو ہیں ہی ، ملک کے بھی غدار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان غداروں کو سرِعام پھانسی دینی چاہیے تاکہ ملک میں امن قائم ہوسکے اور فرقہواریت کو ہوا نہ ملے ۔
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکیلا ذاکر ہی گستاخِ صدیق نہیں ۔
وہ مجمع ......... جس نے گستاخی پر داد دی ، اور وہ مذہب ....... جس نے ایسا مجمع پروان چڑھایا ، سب گستاخی میں برابر ہیں ۔
رب تعالیاِس مغضوب قوم کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے ۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ایک قریب المرگ شخص سے جب کہا گیا کلمہ شریف پڑھو ، تو وہ کہنے لگا:
مجھ سے نہیں پڑھا جاتا ، کیوں کہ میرا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا جو مجھے سیدینا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کوبرا کہنے کی تلقین کرتے تھے ۔
( شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور للسیوطی ، باب مایقول الانسان فی مرض الموت……………… ر 222 ، ص 48 ، ط مؤسسة الکتب الثقافیة بیروت )
یااللہ ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرمانا ، ہمیں ایسےلوگوں کے سائے سے بھی دور رکھنا جو پیارے حبیب ﷺ کے آل و اصحاب کے گستاخ ہیں ؎
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں
مدفن مِرا محبوب کے قدموں میں بنادے
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
وہ مجمع ......... جس نے گستاخی پر داد دی ، اور وہ مذہب ....... جس نے ایسا مجمع پروان چڑھایا ، سب گستاخی میں برابر ہیں ۔
رب تعالیاِس مغضوب قوم کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے ۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ایک قریب المرگ شخص سے جب کہا گیا کلمہ شریف پڑھو ، تو وہ کہنے لگا:
مجھ سے نہیں پڑھا جاتا ، کیوں کہ میرا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا جو مجھے سیدینا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کوبرا کہنے کی تلقین کرتے تھے ۔
( شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور للسیوطی ، باب مایقول الانسان فی مرض الموت……………… ر 222 ، ص 48 ، ط مؤسسة الکتب الثقافیة بیروت )
یااللہ ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرمانا ، ہمیں ایسےلوگوں کے سائے سے بھی دور رکھنا جو پیارے حبیب ﷺ کے آل و اصحاب کے گستاخ ہیں ؎
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں
مدفن مِرا محبوب کے قدموں میں بنادے
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کلسے یہ مصرع وردِ زباں ہیں ؏
تَرجُمانِ نَبی ، ہَم زُبانِ نَبی
اللہاللہ اس میں اتنی چاشنی ہے کہ الفاظ بیان نہیں کرسکتے ۔
آپ کا ترجمان وہ ہوگا جو الفاظ ہی نہیں ، آپ کی سوچ اور فکر بھی دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتاہو ۔
اور
ہمزبان وہ ہوتا ہے جو وہی بولتا ہےجو آپ بولتے ہیں ، اسی لہجے میں بولتا ہے جس لہجے میں آپ بولنا چاہتے ہیں ۔
میں قربان اُس " عمر فاروق اعظم " پر ، جسے سید عالمﷺ کا ترجمان ، اور ہمزبان ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔
تَرجُمانِ نَبی ، ہَم زُبانِ نَبی
اللہاللہ اس میں اتنی چاشنی ہے کہ الفاظ بیان نہیں کرسکتے ۔
آپ کا ترجمان وہ ہوگا جو الفاظ ہی نہیں ، آپ کی سوچ اور فکر بھی دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتاہو ۔
اور
ہمزبان وہ ہوتا ہے جو وہی بولتا ہےجو آپ بولتے ہیں ، اسی لہجے میں بولتا ہے جس لہجے میں آپ بولنا چاہتے ہیں ۔
میں قربان اُس " عمر فاروق اعظم " پر ، جسے سید عالمﷺ کا ترجمان ، اور ہمزبان ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
محبت کی حقیقت اور دل کی حالت
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں نے ایک مجذوب (یعنی مجنون، دیوانہ) دیکھا جسے بچے پتھر مار رہے تھے، اس کا چہرہ اور سر لہولہان اور شدید زخمی تھا!
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ ان بچوں کوڈانٹنے لگے تو انھوں نے کہا:
''ہمیں چھوڑ دو! ہم اسے قتل کریں گے کیوں کہ یہ کافرہے! اور کہتا ہے کہ اس نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اور وہ اس سے کلام بھی کرتا ہے۔''
تو آپ علیہ الرحمہ نے بچوں سے فرمایا:
اسے چھوڑدو، پھرآپ رحمۃاللہ تعالی علیہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو وہ مسکرا کر باتیں کر رہا تھا اور کہنے لگا:
''اے خوبصورت نوجوان! آپ کااحسان ہے، یہ بچے تو مجھے برابھلا کَہ رہے تھے۔''
اس کے بعد اس نے پوچھا: ''وہ میرے متعلق کیا کَہ رہے تھے؟'' آپ رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بتایا: ''وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یہ کہ وہ تم سے کلام بھی کرتا ہے۔''
یہ سن کراس نے ایک زوردار چیخ ماری، پھرکہنے لگا:
''اے شبلی! حق تعالی کی محبت وقربت سے مجھے سکون ملتا ہے، اگر لمحہ بھر بھی وہ مجھ سے چھپ جائے تو میں درد فراق سے پارہ پارہ ہو جاؤں۔''
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں سمجھ گیا کہ یہ مجذوب اخلاص والے خاص بندوں میں سے ہے۔
میں نے اس سے پوچھا: ''اے میرے دوست! محبت کی حقیقت کیا ہے؟''
تواس نے جواب دیا:
''اے شبلی! اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر میں ڈال دیا جائے(تووہ خشک ہوکر) یا پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ غبارکے بکھرے ہوئے باریک ذرے ہو جائیں! لہذا اس دل پر کیسا طوفان گزرے گا جس کو محبت نے اضطراب اور گریہ وزاری کا لباس پہنا دیا ہو، اور سخت پیاس نے اس کے اندر جلن اور حسرت دیدار کو بڑھا دیا ہو۔''
(الروض الفائق، ص35)
اللہ اللہ!
واقعی محبت کوئی عام شے نہیں، یہ عاشق کو جلا دیتی ہے۔
اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر کو خشک کر سکتا ہے اور پہاڑوں کو بکھرنے پر مجبور کر سکتا ہے تو پھر دل کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے وہ الفاظ سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔
عبد مصطفی
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں نے ایک مجذوب (یعنی مجنون، دیوانہ) دیکھا جسے بچے پتھر مار رہے تھے، اس کا چہرہ اور سر لہولہان اور شدید زخمی تھا!
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ ان بچوں کوڈانٹنے لگے تو انھوں نے کہا:
''ہمیں چھوڑ دو! ہم اسے قتل کریں گے کیوں کہ یہ کافرہے! اور کہتا ہے کہ اس نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اور وہ اس سے کلام بھی کرتا ہے۔''
تو آپ علیہ الرحمہ نے بچوں سے فرمایا:
اسے چھوڑدو، پھرآپ رحمۃاللہ تعالی علیہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو وہ مسکرا کر باتیں کر رہا تھا اور کہنے لگا:
''اے خوبصورت نوجوان! آپ کااحسان ہے، یہ بچے تو مجھے برابھلا کَہ رہے تھے۔''
اس کے بعد اس نے پوچھا: ''وہ میرے متعلق کیا کَہ رہے تھے؟'' آپ رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بتایا: ''وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یہ کہ وہ تم سے کلام بھی کرتا ہے۔''
یہ سن کراس نے ایک زوردار چیخ ماری، پھرکہنے لگا:
''اے شبلی! حق تعالی کی محبت وقربت سے مجھے سکون ملتا ہے، اگر لمحہ بھر بھی وہ مجھ سے چھپ جائے تو میں درد فراق سے پارہ پارہ ہو جاؤں۔''
حضرت سیدنا شبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں سمجھ گیا کہ یہ مجذوب اخلاص والے خاص بندوں میں سے ہے۔
میں نے اس سے پوچھا: ''اے میرے دوست! محبت کی حقیقت کیا ہے؟''
تواس نے جواب دیا:
''اے شبلی! اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر میں ڈال دیا جائے(تووہ خشک ہوکر) یا پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ غبارکے بکھرے ہوئے باریک ذرے ہو جائیں! لہذا اس دل پر کیسا طوفان گزرے گا جس کو محبت نے اضطراب اور گریہ وزاری کا لباس پہنا دیا ہو، اور سخت پیاس نے اس کے اندر جلن اور حسرت دیدار کو بڑھا دیا ہو۔''
(الروض الفائق، ص35)
اللہ اللہ!
واقعی محبت کوئی عام شے نہیں، یہ عاشق کو جلا دیتی ہے۔
اگر محبت کا ایک قطرہ سمندر کو خشک کر سکتا ہے اور پہاڑوں کو بکھرنے پر مجبور کر سکتا ہے تو پھر دل کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے وہ الفاظ سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خَطِّ تَواَم
لکھنے کے انداز کو " خَطّ " کہتے ہیں ۔
خَطّ کی مختلف قسمیں ہیں ، جن میں ایک قسم " خَطِّ تَوْاَمْ " بھی ہے ۔
خط توام میں جو لکھائی کی جاتی ہے اُس کے لیے ایک نہیں ، دو ورقے استعمال ہوتے ہیں ، جن پر الفاظ کا ایک ایک حصہ لکھاجاتا ہے ، اور تحریر کے ارد گرد نَقش و نِگار بنا دیےجاتے ہیں ۔
دیکھنے والا پہلی نظر میں دیکھ کر انھیں نقش و نگار ہی سمجھتا ہے ، لیکن جب دونوں ورقے ملا کر غور کرتاہے تو پھر اُس پر عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو خط توام میں ترتیب دی گئی تحریر ہے ۔
حدیث پاک میں ہے :
امام حَسن رضی اللہ عنہ سر سے لے کر سینے تک رسول اللہﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ، اور امام حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نچلے حصے میں رسول اللہ کے مُشابِہ تھے ۔
( ترمذی شریف ، ر 3779 )
امام عشق و محبت ، سیدی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
خط توام کی تعریف آپ کو اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی ، آپ نے حدیث پاک بھی پڑھ لی ، اور شعر بھی ملاحظہ کرلیا ۔
اب شعر سمجھیے!
حسن و حسین پاک کو ہر ایک نے اپنی اپنی نظر سے دیکھا ، اور اپنے اپنے لہجے میں بیان کیا ۔
لیکن جب میں نے دیکھا تو اش اش کر اٹھا کہ:
" یہ تو نور کے دو ورقے ہیں ، جن پر " خط توام " میں شکل مصطفیٰ بنائی گئی ہے ۔ "
اس شکل پاک کو سمجھنےکے لیے دونوں ورقے ملانا ضروری تھا ، جس کا شعور اللہ کریم ﷻ نے صرف اہل سنت کو بخشا ۔
اسی شعور سے اہل سنت نے جب نور کے دونوں ورقوں ( حسن و حسین پاک ) کو ، عقیدے کے پاکیزہ ہاتھوں سے ملایا ، تو انھیں رُخِ پاک ﷺ کا نظارا ہو گیا ؛ پھر انھوں نے کبھی بھی ان ورقوں کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
لکھنے کے انداز کو " خَطّ " کہتے ہیں ۔
خَطّ کی مختلف قسمیں ہیں ، جن میں ایک قسم " خَطِّ تَوْاَمْ " بھی ہے ۔
خط توام میں جو لکھائی کی جاتی ہے اُس کے لیے ایک نہیں ، دو ورقے استعمال ہوتے ہیں ، جن پر الفاظ کا ایک ایک حصہ لکھاجاتا ہے ، اور تحریر کے ارد گرد نَقش و نِگار بنا دیےجاتے ہیں ۔
دیکھنے والا پہلی نظر میں دیکھ کر انھیں نقش و نگار ہی سمجھتا ہے ، لیکن جب دونوں ورقے ملا کر غور کرتاہے تو پھر اُس پر عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو خط توام میں ترتیب دی گئی تحریر ہے ۔
حدیث پاک میں ہے :
امام حَسن رضی اللہ عنہ سر سے لے کر سینے تک رسول اللہﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ، اور امام حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نچلے حصے میں رسول اللہ کے مُشابِہ تھے ۔
( ترمذی شریف ، ر 3779 )
امام عشق و محبت ، سیدی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
خط توام کی تعریف آپ کو اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی ، آپ نے حدیث پاک بھی پڑھ لی ، اور شعر بھی ملاحظہ کرلیا ۔
اب شعر سمجھیے!
حسن و حسین پاک کو ہر ایک نے اپنی اپنی نظر سے دیکھا ، اور اپنے اپنے لہجے میں بیان کیا ۔
لیکن جب میں نے دیکھا تو اش اش کر اٹھا کہ:
" یہ تو نور کے دو ورقے ہیں ، جن پر " خط توام " میں شکل مصطفیٰ بنائی گئی ہے ۔ "
اس شکل پاک کو سمجھنےکے لیے دونوں ورقے ملانا ضروری تھا ، جس کا شعور اللہ کریم ﷻ نے صرف اہل سنت کو بخشا ۔
اسی شعور سے اہل سنت نے جب نور کے دونوں ورقوں ( حسن و حسین پاک ) کو ، عقیدے کے پاکیزہ ہاتھوں سے ملایا ، تو انھیں رُخِ پاک ﷺ کا نظارا ہو گیا ؛ پھر انھوں نے کبھی بھی ان ورقوں کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ؎
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عِیاں
خَطِّ تَواَم میں لکھا ہے یہ دو وَرقہ نُور کا
✍️لقمان شاہد
27-8-2020 ء
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
🕯 *_واقعۂ کربلا کا درسِ زرّیں_*
یادیں ہماری تاریخ کا لازمہ ہیں۔ زندہ قومیں یادوں کے زرّیں نقوش پر ارتقا کی منازل طے کرتی ہیں؛ اور اپنے قومی وَقار کو بلند کرتی ہیں۔ نئے اسلامی سال کے عشرۂ اول کے سِرے پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور واقعۂ کربلاکی یاد منائی جاتی ہے۔ ہر سال یادوں کے تابندہ نقوش اجاگر کیے جاتے ہیں؛ اور نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا سامان مہیا کیا جاتا ہے-
یادِ امام حسین و شہدائے کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سال بہ سال منانے سے کیا فائدہ؟ یہ سوال ہر ذی شعور کے ذہن میں اُبھرتا ہے۔
*عقلی اعتبار سے:*
دین متین آخری دین ہے۔ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لیے دین کا نظام و ضابطہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے مکمل ہوگیا۔ قوانینِ اسلامی میں تغیر و تبدّل کا امکان بھی متصوّر نہیں۔ جس کا حسی نتیجہ نکلا کہ ’شریعت‘ کے معاملے میں کسی طرح کی’نئی صورت‘ قابلِ قبول نہیں اور یہ دین کے فطری اُصولوں کے عین مطابق ہے کہ؛ شریعت پر استقامت اختیار کی جائے۔ شریعت کے قصرِ بلند کو اس کی اصل صورت پر باقی رکھا جائے- اس کے چہرے پر غبار نہ آنے دیا جائے- نظامِ فکرِ اسلامی کو منہاجِ نبوت کے مطابق آگے بڑھایا جائے- آمریت و ملوکیت کے غیر شرعی رُخ کو موڑ دیا جائے- اسی لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی اطاعت سے انکار کیا۔ یہ انکارِ بیعت ٹھوس شرعی و عقلی بنیادوں پر تھا جس کے شواہد موجود تھے۔
*عزم و یقیں*
بہر حال ہمیں چاہیے کہ حال کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے شہادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عزم و یقین کے بلند مینار تعمیر کریں؛ جس کی روشنی میں مشرکینِ ہند کی سازشوں کے اندھیرے دَم توڑ جائیں- کفر کے ایواں لرز اُٹھیں- لیکن! اس راہ میں بیداری؛ شریعتِ اسلامی پر بے پناہ استقامت اور استحکام کی ضرورت ہے:
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلبیت
(برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا بریلوی)
✍ غلام مصطفٰی رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
٢٨ اگست ٢٠٢٠ء
یادیں ہماری تاریخ کا لازمہ ہیں۔ زندہ قومیں یادوں کے زرّیں نقوش پر ارتقا کی منازل طے کرتی ہیں؛ اور اپنے قومی وَقار کو بلند کرتی ہیں۔ نئے اسلامی سال کے عشرۂ اول کے سِرے پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور واقعۂ کربلاکی یاد منائی جاتی ہے۔ ہر سال یادوں کے تابندہ نقوش اجاگر کیے جاتے ہیں؛ اور نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا سامان مہیا کیا جاتا ہے-
یادِ امام حسین و شہدائے کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سال بہ سال منانے سے کیا فائدہ؟ یہ سوال ہر ذی شعور کے ذہن میں اُبھرتا ہے۔
*عقلی اعتبار سے:*
دین متین آخری دین ہے۔ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لیے دین کا نظام و ضابطہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے مکمل ہوگیا۔ قوانینِ اسلامی میں تغیر و تبدّل کا امکان بھی متصوّر نہیں۔ جس کا حسی نتیجہ نکلا کہ ’شریعت‘ کے معاملے میں کسی طرح کی’نئی صورت‘ قابلِ قبول نہیں اور یہ دین کے فطری اُصولوں کے عین مطابق ہے کہ؛ شریعت پر استقامت اختیار کی جائے۔ شریعت کے قصرِ بلند کو اس کی اصل صورت پر باقی رکھا جائے- اس کے چہرے پر غبار نہ آنے دیا جائے- نظامِ فکرِ اسلامی کو منہاجِ نبوت کے مطابق آگے بڑھایا جائے- آمریت و ملوکیت کے غیر شرعی رُخ کو موڑ دیا جائے- اسی لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی اطاعت سے انکار کیا۔ یہ انکارِ بیعت ٹھوس شرعی و عقلی بنیادوں پر تھا جس کے شواہد موجود تھے۔
*عزم و یقیں*
بہر حال ہمیں چاہیے کہ حال کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے شہادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عزم و یقین کے بلند مینار تعمیر کریں؛ جس کی روشنی میں مشرکینِ ہند کی سازشوں کے اندھیرے دَم توڑ جائیں- کفر کے ایواں لرز اُٹھیں- لیکن! اس راہ میں بیداری؛ شریعتِ اسلامی پر بے پناہ استقامت اور استحکام کی ضرورت ہے:
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلبیت
(برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا بریلوی)
✍ غلام مصطفٰی رضوی
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
***
٢٨ اگست ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Shahzad Razvi
موجودہ مسئلہ فدک اور عصمت اجتہاد انبیاء کے سلسلے میں افراط و تفریط سے پاک خالص علمی تحقیقی اور حق خالص کو اجاگر کرتی منفرد تحریر 👆👆👆
بنام
*مسلک اسلاف اہل سنت دربارہ عصمت اجتہاد انبیاء و عظمت اہل بیت و صحابہ*
عليهم الصلوة والثناء
از قلم
سلطان العلماء حضرت علامہ مولانا الشاہ *مفتی محمد کوثر حسن* صاحب قبلہ قادری رضوی ادام اللہ ظلہ علی أهل السنة والجماعة
گزارش:
خود بھی مطالعہ فرمائیں اور اہل علم تک پہنچائیں
جزاک اللہ خیرا
بنام
*مسلک اسلاف اہل سنت دربارہ عصمت اجتہاد انبیاء و عظمت اہل بیت و صحابہ*
عليهم الصلوة والثناء
از قلم
سلطان العلماء حضرت علامہ مولانا الشاہ *مفتی محمد کوثر حسن* صاحب قبلہ قادری رضوی ادام اللہ ظلہ علی أهل السنة والجماعة
گزارش:
خود بھی مطالعہ فرمائیں اور اہل علم تک پہنچائیں
جزاک اللہ خیرا