🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اسلامی نیا سال ۲۴۴۱؁ھ مبارڪ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے؟
(قسط اول)

دو سال قبل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق اختلاف شروع ہوا تو ہم نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا،کیوں کہ اس بارے میں اسلاف کرام کے صریح اقوال موجود تھے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی ہیں،اس لئے ان کی شان میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا جو صحابہ کرام کی شان کے لائق نہ ہو۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال پر اختلاف شروع ہوا تو ہم اس امید میں تھے کہ جلد ہی یہ معاملہ ختم ہو جائے گا۔

جب یہ معلوم ہوا کہ متکلم کو اہل سنت و جماعت سے خارج بتایا جانے لگا ہے تو ہم نے 18:جولائی2020کو ایک مختصر سی تحریر جاری کی کہ ان شاء اللہ تعالی اس بارے میں کچھ تحریر کروں گا۔

مذکورہ خبر سن کر یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اسلامی اصول وضوابط کا غیر مناسب استعمال کیا جا رہا ہے،اور لفظ خطا کا حکم بیان کرنے میں خطا ہو رہی ہے،کیوں کہ اس لفظ کا حکم کہیں مذکور نہیں تو ہر ایک محقق اپنی تحقیق کے مطابق حکم بیان کر رہے ہیں۔ان متخالف اقوال میں تمام اقوال حق نہیں ہو سکتے۔

متکلم کے بیان اول میں لفظ خطا کا مطلق استعمال اور پھر خطائے اجتہادی سے اپنی مراد بیان کر دینے کے بعد مسئلہ اس منزل میں باقی نہیں رہتا کہ متکلم کو اہل سنت و جماعت سے خارج کر دیا جائے۔

20:جولائی 2020 کو متکلم موصوف کو گرفتار کر لیا گیا۔جس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔

اس حادثے سے بالکل واضح ہو گیا کہ اسلامی اصول و قوانین کا غیر محل میں استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر مجرم کو مجرم ثابت کیا جا رہا ہے۔
خواہ یہ امر شعوری طور پر ہو،یا لا شعوری طور پر۔

میری تحریروں سے مقصود متکلم کا دفاع نہیں،بلکہ مذہب اسلام اور مسلک اہل سنت و جماعت کا تحفظ ہے۔

26:جولائی 2020 کو "ڈاکٹر جلالی اور اصحاب جلال وکمال"کے عنوان سے ہم نے اپنا مضمون سوشل میڈیا پر جاری کیا۔
قسط دوم میں امکان ذاتی اور امکان وقوعی کی توضیح سے متعلق ہم نے متکلم کی توضیح کو تسلیم نہ کیا اور متکلم سے اس پر نظر ثانی کی درخواست کی۔
اسی طرح قسط اول میں اغاز بحث سے قبل ہی متکلم سے مشروط توبہ ورجوع کی گزارش کی۔قسط سوم میں بھی اس کا اعادہ کیا۔

بیان اول کے بعد متکلم نے توضیح و تشریح کے طور پر متعدد بیانات جاری کئے۔ان توضیحی بیانات میں بعض باتیں تشریح طلب ہیں۔

اسی طرح فریق دوم کی تحقیق و تحریر میں بھی بعض امور تشریح طلب ہیں۔

اگر خود میری تحریر میں بھی کوئی بات تشریح طلب ہو تو ان شاء اللہ تعالی ضرور توضیح پیش کروں گا۔اللہ تعالی ہم سب کو توفیق صالح عطا فرمائے۔امین

چوں کہ اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کا حکم اسلامی کتابوں میں صریح طور پر مذکور نہیں تو ہر فریق اصول و ضوابط کی روشنی میں جواب تلاش کرے گا،اس لئے سوالوں کے ذریعہ اسلامی اصول وضوابط کے محل استعمال کی جانب متوجہ کرنا مقصود ہے۔

مستقبل میں بھی اس طرح کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔

جن جدید امور کا صریح حکم اسلامی کتابوں میں مذکور نہ ہو تو شرعی اصول و قوانین کی روشنی میں ان مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
اس طریق کار میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اصول کا استعمال برمحل ہے،یا بے محل؟

مسئلہ حاضرہ کی مناسبت سے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں؛

سوال اول؛

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کو چادر تطہیر حاصل ہے۔دونوں شہزادگان عالی مرتبت پنجتن پاک کے زمرہ میں شامل ہیں۔دونوں شہزادگان کرام کا شمار صحابہ کرام میں ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دونوں شہزادگان گرامی کی محبت کو اپنی محبت،اور ان دونوں سے دشمنی کو اپنی ذات مبارک سے دشمنی قرار دیا۔ان دونوں بلند مرتبہ شہزادگان کرام کو اپنا بیٹا قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ میری نسل ان دونوں سے جاری ہو گی۔

دونوں شہزادگان عظام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ان کے علاوہ بہت سے فضائل و مناقب احادیث طیبہ میں موجود ہیں۔
دونوں شہزادگان والا درجات اپنے اپنے عہد میں قطب اکبر کی منزل میں فائز ہیں۔

سب وشتم،طعن وتشنیع،زد وکوب،تذلیل وتحقیر وغیرہ سے پڑھ کر بے ادبی قتل کا جرم ہے۔

سید الشہدا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے میدان کربلا میں اتمام حجت فرما دیا تھا۔یہاں تک کہ یزیدی لشکر کے اولین سپہ سالار حر بن یزید تمیمی یزیدی فوج سے الگ ہو کر حسینی جماعت میں شریک ہو گئے تھے۔حق اور باطل بالکل واضح ہو چکا تھا۔

ان سب حقائق کے باوجود محض دولت و حکومت کے لالچ میں یزیدیوں نے ظلم کے طور پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا۔

سوال ہے کہ مذکورہ بالا حقائق کے مد نظر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بد کردار قاتلین مثلا شمر بن ذی الجوشن،خولی بن یزید اصبحی،سپہ سالار عمرو بن سعد٬حاکم کوفہ عبید اللہ بن زیاد وغیرہم اہل سنت سے خارج ہیں یا نہیں؟

یا صرف فاسق و فاجر اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں؟

میدان کربلا میں اتمام حجت کے سبب حق و باطل واضح تھا اور سید مظلوم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ صحابی
1
ہیں اور صحابی کی بے ادبی کا حکم عام مومنین کی بے ادبی کے حکم سے زیادہ سخت ہے۔
قتل سے بڑھ بے ادبی کیا ہو سکتی ہے،پھر اس قتل کا کیا حکم ہے؟

چوں کہ یہ معاملہ صدی اول کا ہے۔حادثہ کربلا 10؛محرم الحرام 61 سال ہجری کو پیش ایا،اس لئے اسلاف کرام کی تحریروں سے جواب دیا جائے۔

اہل سنت و جماعت کا متفق علیہ قول بیان کیا جائے۔
اگر اختلاف ہو تو راجح قول بیان کیا جائے۔

خود سے اصول و قوانین کو منطبق کر کے جواب نہ دیں۔

خیال رہے کہ یزید پلید کے بارے میں سوال نہیں ہے،بلکہ میدان کربلا میں جو قاتلین تھے،ان اشقیا و ظالمین سے متعلق سوال ہے۔

سوال دوم:

محتمل لفظ اور صریح لفظ کے احکام الگ ہیں یا ایک ہی ہیں؟
کیا صریح لفظ کے احکام کو محتمل لفظ پر منطبق کیا جا سکتا ہے؟

مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کے کلام کفری معنی میں صریح متعین ہیں۔لفظ خطا محتمل ہے تو متعین کلام کے احکام محتمل لفظ پر کیسے منطبق ہو سکتے ہیں؟

سوال سوم؛

لفظ خطا محتمل ہے یا صریح؟

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ؛
14:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے؟

قسط دوم

معصوم عن الخطا اور محفوظ عن الخطا گناہ و معصیت سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔
یہاں خطا سے گناہ کی دونوں قسمیں مراد ہیں،یعنی کبیرہ وصغیرہ دونوں سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔صغیرہ میں قصد و بلا قصد اور منفرہ وغیر منفرہ وغیرہ کی تفصیل اور کچھ اختلاف ہے۔

اصحاب فضل کے لئے لفظ خطا کا استعمال حرام قطعی بالکل نہیں ہے۔حرام قطعی ضروریات دین میں سے ہوتا ہے۔اس کے لئے قطعی بالمعنی الاخص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

شراب نوشی حرام قطعی اور ضروریات دین سے ہے۔اگر کوئی شراب نوشی کو حرام مانتا ہو،اور شراب نوشی بھی کرتا ہو،لیکن چھپ کر پیتا ہو تو مومن اور فاسق ہے،لیکن فاسق معلن نہیں۔

اگر شراب نوشی کو حرام مانتا ہے اور شراب نوشی بھی کرتا ہے اور اعلانیہ شراب نوشی کرتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے،لیکن گمراہ یا کافر نہیں۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کے عدم جواز پر نہ کوئی قطعی بالمعن الاخص دلیل موجود ہے،نہ کوئی قطعی بالمعنی الاعم دلیل،بلکہ کوئی صحیح حدیث بھی موجود نہیں۔فقہائے کرام کی بھی صراحت موجود نہیں۔

اس کے باوجود اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کو بعض محققین نے ضلالت و گمرہی اور اہل سنت سے خروج کا سبب ثابت فرما دیا۔
خطا سے بڑھ کر لفظ "سیئہ"ہے۔اہل فضل کے لئے اس کا استعمال بھی بتا دیا جائے،کیوں کہ اہل علم دہراتے رہتے ہیں؛
حسنات الابرار سیئات المقربین
یہ مشائخ صوفیا علیہم الرحمہ سے منقول ہے۔اس میں حسنہ کو سیئہ کہا گیا،یعنی معصیت و گناہ اور اس کی نسبت مقربین کی طرف کی گئی ہے۔مقربین میں لغوی طور پر تو ہر بندہ مقرب شامل ہے۔عرف میں تمام اولیائے کرام کو یہ لفظ شامل ہوتا ہے۔

اگر کسی لفظ سے بے ادبی سمجھ میں اتی ہو تو بے ادبی کے مختلف درجات ہیں۔بعض بے ادبی کفر،بعض ضلالت و گمرہی،بعض حرام،اور بعض حرام سے بھی نیچے ہے۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کو بے ادبی ثابت کرنے کے لئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ایک روایت کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،لیکن کوئی فقہی یا کلامی جزئیہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ایک حدیٹ مختلف الفاظ میں مروی ہے،لیکن وہ حدیث محدثین کے یہاں صحیح نہیں۔
وہ حدیث مندرجہ ذیل ہے۔

1:عن معاذ بن جبل:ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما اراد ان یسرح معاذا الی الیمن۔استشار ناسا من اصحابہ۔فیہم ابو بکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ و الزبیر و اسید بن حضیر فاستشارہم۔
فقال ابو بکر: لو لا انک استشرتنا،ما تکلمنا۔
فقال؛ انی فیما لم یوح الی کاحدکم۔
قال: فتکلم القوم،فتکلم کل انسان برایہ۔
فقال: ما تری یا معاذ؟
قال: اری ما قال ابو بکر۔
فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؛
ان اللہ عز وجل یکرہ فوق سمائہ ان یخطا ابو بکر رضی اللہ عنہ۔(الطبرانی فی الکبیر۔مسند الشامیین۔المسند للشاشی)
یہ روایت ابو العطوف راوی کی وجہ سے درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔بعض نے اس کو موضوع کہا ہے۔

2_ان اللہ یکرہ فی السماء ان یخطئ ابو بکر الصدیق فی الارض۔
اس روایت کو محدث ابن جوزی حنبلی نے موضوع قرار دیا ہے۔

اگر بالفرض مذکورہ بالا روایت کو قابل استدلال مان لیا جائے تو مندرجہ ذیل سوالات بھی اس سے منسلک ہوں گے۔

سوال اول؛

جس روایت میں مصدر خطا کا معروف صیغہ استعمال ہوا۔اس کا مفہوم یہ ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے خطا نہیں ہو گی۔اس سے یہ کیسے ثابت ہو گا کہ دوسرے غیر معصومین سے بھی خطا نہیں ہو گی؟
یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خصوصیت ہو سکتی ہے،بلکہ یہی ظاہر ہے،کیوں کہ اس مجلس میں دیگر محفوظین عن الخطا موجود ہیں۔اس کے باوجود عدم خطا کی نسبت کسی ایک کی جانب کرنا تخصیص کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری بات یہ بھی واضح ہے کہ یہاں اس خطا کا ذکر ہے،جس سے محفوظین عن الخطا محفوظ نہیں ہیں۔
جس خطا سے محفوظین بفضل الہی محفوظ کر دئیے گئے ہیں،اس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر تمام محفوظین شریک ہوں گے،پھر اس امر میں کسی ایک محفوظ کی تخصیص کا کوئی معنی نہیں۔

اگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی تخصیص نہ مانی جائے تو عدم تخصیص کی وجہ بیان کرنی ہو گی۔

اگر تخصیص مانی جائے تو اس روایت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جس خطا سے محفوظین محفوظ نہیں ہیں،وہ دیگر کے حق میں قابل صدور ہو،اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ناقابل صدورہو۔

جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں تخصیص مان لی جائے تو یہاں دو صورت ہو گی۔
اول یہ کہ خاص مذکورہ مشاورتی امر میں خطا سے محفوظ ہونا مراد ہو،اور یہی ظاہر ہے۔
دوسری صورت یہ کہ ہر امر میں ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہونا مراد ہو تو یہ محل نظر ہے۔

خاص مذکورہ مشاورتی امر میں عدم خطا مراد ہو تو اس مشاورتی امر میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو رفق بالناس یعنی لوگوں کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا
،جیسا کہ مسند الشاشی میں اس کی صراحت ہے۔

یہاں عدم خطا کا مفہوم یہ ہو گا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا مشورہ صحیح ہے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ جو حاکم بن کر یمن جا رہے ہیں،وہ لوگوں کے ساتھ نرم سلوک کریں اور یہی اللہ تعالی کو بھی پسند ہے۔

کیا یہاں دوسری صورت مراد ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو ہر قسم کی خطا سے محفوظ فرما دیا ہے؟

در اصل یہ مسئلہ کہ کیا اللہ تعالی نے کسی انسان محفوظ غیر معصوم کو ہر قسم کی خطا یعنی سہو و نسیان،زلت و لغزش،بھول چوک اور اجتہادی خطا وغیرہ سب سے محفوظ فرما دیا ہے۔یہ محل تحقیق ہے۔

حضرات ملائکہ کرام علیہم السلام سہو و نسیان اور غفلت و سستی سے بھی پاک رکھے گئے ہیں۔بنی ادم کے معصومین سہو و نسیان سے معصوم نہیں۔

کسی انسان محفوظ غیر معصوم کو ہر قسم کی خطا سے محفوظ رکھنا رحمت الہی سے بعید نہیں اور قدرت الہی سے خارج نہیں،لیکن کسی ایسی روایت کے سبب یہ عقیدہ بنا لینا بالکل صحیح نہیں جو محدثین کے یہاں صحیح بھی نہ ہو،بلکہ اہل علم جس کے موضوع ہونے کی صراحت کرتے ہوں۔

دوسری بات یہ کہ حضرات اولو العزم انبیائے کرام علیہم الصلوہ و السلام کی حیات طیبہ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی حیات مقدسہ میں سہو و نسیان اور اس نوع کے امور کا ذکر ملتا ہے،جو نہ گناہ صغیرہ ہیں،نہ گناہ کبیرہ، بلکہ محض سہو و نسیان ہیں۔

ایسی صورت میں کسی انسان محفوظ غیر معصوم کا ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہونا قابل تحقیق ہے۔

کسی انسان غیر معصوم کو اس صفت کے عطا ہونے کا جواز اور عطا کا وقوع محل نظر ہے۔

بعض امور کا شمار بشری تقاضوں میں ہوتا ہے۔
مشہور مقولہ ہے؛
الانسان مرکب من الخطاء والنسیان

حضور اقدس سید المعصومین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اپنے ذاتی عمل میں سہو و نسیان ثابت ہے۔
در حقیقت عصمت انبیائے کرام علیہم الصلوہ و السلام وحفاظت محفوظین کے مفہوم میں سہو و نسیان وغیرہ امور سے عصمت و حفاظت کا مفہوم شامل نہیں۔

نہ ہی نادر طور پر سہو و نسیان وغیرہ امور کا صدور معیوب ہے،نہ ہی ان امور کا شمار گناہ میں ہے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فدیہ لے کر قیدیوں کو ازاد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔اس کو قبول فرمایا گیا اور نافذ کیا گیا۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا مشورہ قیدیوں کو قتل کرنے کا تھا۔اس کو قبول نہیں فرمایا گیا۔

رب تعالی نے قران مجید میں فدیہ لے کر ازادی دینے کی تائید نہیں فرمائی۔اس کا ذکر قران مجید میں ہے۔

اب یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہیں۔

حضرات اہل بیت عظام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو روافض نے حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوہ و السلام سے بھی افضل بتا دیا ہے۔
مذہب اہل سنت و جماعت افراط و تفریط سے پاک ہے۔

نہ کوئی ایسی بات کی جائے جو اصحاب عظمت شان کے خلاف ہو۔

نہ ہی کوئی ایسی تاویل و تشریح کی جائے جو شریعت کے خلاف ہو۔

ہمارے ان مضامین میں اہل فضل سے متعلق بعض امور کا ذکر محض مسئلہ شرعیہ کی تحقیق کی حاجت کے سبب ہو جاتا ہے،ورنہ ذکر کی حاجت نہیں۔

یہود ونصاری نے حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کو معبود بنا لیا تھا تو حکم ربانی قران مجید میں ایا کہ زبان اقدس سے اعلان فرما دیں۔
انما انا بشر مثلکم (القران)
اس اعلان سے مقصود یہی تھا کہ نبی کو نبی اور خدا کو خدا سمجھا جائے اور جس کا جو مقام اللہ و رسول (عز وجل و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)نے بیان فرمایا،بندگان الہی اسی پر قائم رییں۔

سوال دوم؛

مجہول صیغہ کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو خاطی قرار دینا رب تعالی کو ناپسند ہے۔

خواہ خاطی قرار دینا لفظ خطا کے ذریعہ ہو یا دیگر الفاظ کے ذریعہ خاطی قرار دیا جائے۔

اس روایت سے صریح طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف لفظ خطا کی نسبت نہ کی جائے،بلکہ ان کو خاطی قرار دینے پر اللہ تعالی کی ناپسندیدگی کا ذکر ہے۔

وہاں لفظ خطا کی نسبت اور استعمال کی بحث نہیں تھی،بلکہ مشورہ میں خاطی قرار دینے کی بات تھی۔

کسی کو کسی امر میں خاطی قرار دینے کے لئے لفظ خاطی کے علاوہ متعدد الفاظ استعمال ہو سکتے ہیں،مثلا زید کا مشورہ غیر صحیح ہے،غیر صواب ہے،فاسد ہے،باطل ہے،ہالک ہے،نقصان دہ ہے،عقل کے خلاف ہے۔بدعقلی پر مبنی ہے،احمقانہ فیصلہ ہے۔وغیرہ

کسی کے مشورہ کو عملی طور پر خطا قرار دینے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو قبول نہ کیا جائے،بلکہ اس کے متضاد و متخالف مشورہ کو قبول کیا جائے۔

اس روایت سے خاطی قرار دینے کا عدم جواز بھی صریح طور پر ثابت نہیں,کیوں کہ اللہ تعالی کے ہر ناپسندیدہ امر کا ناجائز ہونا لازم نہیں۔

سوال سوم؛

ممکن ہے کہ اس بات کا تعلق اس وقت کے مشاورتی معاملہ سے ہو۔دیگر امور سے اس کا تعلق نہ ہو۔وہ اس طرح کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم کو
اللہ تعالی کی وحی کے ذریعہ معلوم ہو چکا ہو کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اس مشورہ میں صحیح ہیں۔
اسی لئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہو کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو غیر صحیح(خاطی)قرار دینا رب تعالی کو پسند نہیں۔

سوال چہارم؛

حدیث مذکور میں خطا سے کون سا معنی مراد ہے؟
عربی زبان میں بھی لفظ خطا مشترک ہے۔
مشترک کے تمام معانی ایک ساتھ مراد نہیں ہوتے۔

اگر مذکورہ مشاورتی امر کو ملحوظ رکھا جائے تو یہاں خطا سے بھول چوک،سہو و نسیان مراد ہو گا۔یہاں نہ اجتہاد تھا،نہ خطائے اجتہادی مراد ہو گی۔

سوال پنجم؛

اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف خطا کی نسبت کسی بھی امر میں کی جائے تو یہ رب تعالی کو ناپسند ہے تو یہ
امر دیگر اہل فضل کے لئے ثابت ہو گا یا نہیں؟

یا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے مخصوص فضائل میں شمار ہو گا؟

مثلا رب تعالی فرما دے کہ میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک نیکی پر ایک ہزار ثواب دوں گا تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو گا کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی ایک نیکی پر ایک ہزار یا پانچ سو ثواب ملے گا؟

سوال ششم؛

کیا عربی زبان اور اردو زبان میں لفظ خطا کے معانی یکساں ہیں؟

کیا حکم شرعی میں اردو زبان اور اہل اردو کے عرف کا لحاظ نہیں ہو گا؟

سوال ہفتم؛

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف کسی نے خطا کی نسبت کی تو یہ بے ادبی ہو گی،یا کذب بیانی؟ یا دونوں ہے؟

جب اللہ تعالی نے ان کی طرف خطا کی نسبت کو ناپسند فرمایا تو اس کا ایک مفہوم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نےاپ کو خطا سے محفوظ فرما دیا ہے تو جو حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب خطا کی نسبت کرے،وہ کذب بیانی کر رہا ہے،اور خلاف واقع وخلاف حقیقت بات بول رہا ہے۔یہی کذب ہے۔

جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے تین بیٹے ہوں اور کسی کو صحیح سے معلوم ہو کہ اپ کے تین بیٹے ہیں،لیکن وہ کہتا ہے کہ دو ہی بیٹے تھے تو یہ کذب بیانی ہے۔یہاں بے ادبی کا مفہوم ظاہر نہیں ہوتا۔

سوال ہشتم؛

اگر مذکورہ روایت کے سبب دیگر اہل فضل کے لئے بھی لفظ خطا کو ممنوع تسلیم کرلیا جائے تو اہل فضل کی طرف لفظ خطا کی نسبت مکروہ تحریمی ہو گی یا مکروہ تنزیہی؟
یا اسائت یا خلاف اولی؟
یا مباح و ناپسندیدہ؟

ہر ناپسندیدہ امر غیر مباح و ناجائز نہیں ہوتا۔

طلاق کو ابغض المباحات کہا گیا ہے۔طلاق کے بارے میں حدیث شریف میں وارد ہے۔
ان من ابغض الحلال الی اللہ الطلاق۔

علامہ علی قاری حنفی علیہ الرحمہ نے رقم فرمایا۔ان ابغض المباحات الی اللہ عند اللہ الطلاق۔فنص علی اباحتہ و کونہ مبغوضا۔وہو لا یستلزم ترتب لازم المکروہ الشرعی۔الا لو کان مکروہا بالمعنی الاصطلاحی۔(مرقات المفاتیح جلد دہم ص 216-مکتبہ شاملہ)

اس مقام پر علامہ علی قاری نے متعدد ایسے امور کو بیان فرمایا ہے جو رب تعالی کے یہاں مبغوض اور ناپسندیدہ ہیں،لیکن شریعت خداوندی میں جائز ہیں۔

جب کوئی امر جائز ہے تو اس کا مرتکب گنہ گار بھی نہیں ہو گا۔گمراہ یا کافر ہونا بہت دور کی بات ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو امر اللہ تعالی کو ناپسند ہو،لیکن جائز ہو تو اس کا مرتکب گنہ گار نہیں

تو پھر جو امر بندوں کو ناپسندہو،لیکن شریعت میں جائز ہو تو اس کا مرتکب گنہ گار کیسے ہو گا؟

اولیائے کرام کا وہ طبقہ جو فرقہ ملامتیہ میں شمار ہوتا ہے۔حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ العزیز نے کشف المحجوب میں اس طبقے کا ذکر فرمایا ہے۔اس طبقے کے اولیائے کرام کسی مقصد کی خاطر ایسے اعمال انجام دیتے ہیں جو شریعت میں جائز ہیں،لیکن عام مومنین کو پسند نہیں۔

ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ وہ حج کے بعد رمضان کے مہینے میں واپس ا رہے تھے۔کسی شہر کے حاکم کو حضرت کی امد کی اطلاع ہوئی تو اپنے اعوان و انصار،لشکر و افواج اور اہل شہر کے ساتھ حضرت کے استقبال کے لئے شہر کے باہر کھڑے تھے۔
اللہ کے ولی نے سوچا کہ جب لوگ اس طرح میرا شاہانہ استقبال کریں گے تو نفس خوش ہو جائے گا اور مجھے غلط راہ پر ڈال سکتا ہے۔
وہ جب استقبال کرنے والے مجمع کے قریب ائے تو اپنی جھولی سے روٹی کے ٹکڑے نکالے اور کھانے لگے۔یہ دیکھ کر عقیدت مندوں کا ہجوم غائب ہونے لگا۔

چوں کہ وہ مسافر تھے تو ان کے لئے حالت سفر میں رخصت کا حکم تھا اور یہاں نفس کشی کی ضرورت تھی،کیوں کہ نفس کشی اولیائے کرام کا بہت قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔
یہاں گرچہ رمضان میں روٹی کھانا ان ولی کے جائز تھا،لیکن عقیدت مندوں کو پسند نہ ایا اور یکے بعد دیگرے لوگ غائب ہوتے گئے۔
اس بزرگ کو بھی نفس کشی کی ضرورت تھی۔شرعی طور پر نہ عقیدت مندوں پر کوئی الزام ہے،نہ اس ولی اللہ پر کوئی الزام۔واللہ تعالی اعلم

اگر لفظ خطا کے استعمال سے متعلق کوئی فقہی جزئیہ مل جائے تو سب سے بہتر ہے۔

غیر منصوص مسائل میں فقہائے کرام کو تحقیق کا حق حاصل ہے،لیکن اس تحقیق پر جو سوالات وارد ہوں گے،ان کے جواب بھی دینے ہوں گے۔

ان شاء اللہ
تعالی مزید سوالات مرقوم ہوں گے۔جو اصل موضوع سے ہی متعلق ہوں گے۔

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ؛
18:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#امارات_اسرائیل_معاہدہ_حقائق_کے_آئینے_میں!!

غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
روشن مستقبل دہلی

کبھی عربوں کے لیے اچھوت رہا اسرائیل اب ان کا تجارتی شراکت دار اور حلیف بنتا جارہا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے *"امن معاہدہ"* کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کے لیے مظلوم فسلطینی نہیں،تجارتی مفاد زیادہ عزیز ہیں۔ اس معاہدے کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں پر اپنی ناجائز بستیوں کا تعمیراتی منصوبہ ترک کر دے گا۔ حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو (Benjamin Netanyahu) نے کہا ہے کہ:
"انہوں نے فی الحال ویسٹ بینک(غرب اردن) پر قبضے کے منصوبے کو مؤخر کردیا ہے لیکن اس منصوبے سے جڑے دستاویز میری میز پر رکھے رہیں گے۔"

اس بیان کے ذریعے اسرائیل نے صاف کردیا ہے کہ وہ اپنی جارحیت سے وقت طور پر رکا ہے باز نہیں آیا، ابھی تو عربوں کو جھانسہ دینے کے لیے وقتی طور پر اپنے منصوبے کو مؤخر کیا ہے لیکن موقع دیکھتے ہی پھر سے شروع کردیا جائے گا۔

1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے غرب اردن(west Bank) پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہیں زمینوں پر اسرائیل غیر قانونی طریقے پر اپنی بستیاں تعمیر کررہا ہے۔ اب تک تقریباً 140 یہودی بستیاں تعمیر ہوچکی ہیں جن میں قریب 6 لاکھ یہودی آباد ہیں۔
اسرائیلی بستیاں فلسطین کے بیچو بیچ جگہ جگہ آباد ہیں۔ ہر دو فلسطینی بستیوں کے بیچ یہودی بستی آباد ہے۔اسرائیلی فوج ان بستیوں کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔ عام فلسطینی ان علاقوں میں داخل بھی نہیں ہوسکتے اس طرح سے فلسطینی اپنے ہی علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے مجبور رہتے ہیں اور قید وبند جیسی زندگی گزارتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں، اقوام متحدہ سمیت تمام ممالک انہیں غیر قانونی مانتے ہیں لیکن یہ محض دکھاوا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس سازش میں پوری مغربی دنیا شامل ہے۔ بغیر ان کی شہ کے اسرائیل ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا۔ ایسا نہیں ہوتا تو اب تک اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی لیکن اسرائیل کے خلاف صرف مذمتی قرارداد پیش کرکے پلّہ جھاڑ لیا جاتا ہے اور عیش پرست عرب حکمران اسی سے مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن میں آباد یہودی بستیوں میں شرح پیدائش فلسطینیوں سے دوگنا ہے، عام فلسطینی عورتوں میں شرح پیدائش 3.2 ہے جبکہ یہودی آبادی میں یہ شرح 7.59 تک پہنچ جاتی ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت شرح پیدائش بڑھائی جارہی ہے تاکہ یہودی آبادی فلسطینیوں کے برابر کی جاسکے-

_ امارات-اسرائیل معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ معاہدہ ہوا تو فلسطین کے نام پر ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی کو سرے سے بات چیت میں شامل تک نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے کو فلسطینی اتھارٹی نے "پیٹھ میں خنجر مارنا" قرار دیا ہے۔ فلسطین کے سینئر افسر حنان اشراوی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تجارتی تعلقات کو لیکر اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔
یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایما پر ہوا ہے۔ حالانکہ پہلے ہی امارات کے اسرائیل سے خفیہ مراسم قائم تھے لیکن اب ٹرمپ کے اشارے پر حیا کا رسمی پردہ بھی اٹھا دیا گیا۔ ٹرمپ نے ہی سب سے پہلے اس معاہدے کا اعلان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا تاکہ اس کے ذریعے ان کی گرتی ہوئی شبیہ کو سنبھالا مل سکے اور صدارتی انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔اس معاہدے سے فلسطینی کاز کو رتّی بھر بھی فائدہ نہیں ملے گا ہاں اس معاہدے سے امارات کو تجارتی، سائنسی اور دفاعی امور میں فوائد ملنے کے امکان ہیں جبکہ اسرائیل کو امارات کے روپ میں ایک بڑی منڈی ہاتھ آئے گی جہاں وہ اپنے ہتھیار ، جاسوسی آلات اور دیگر تجارتی ساز وسامان فروخت کر سکے گا۔ معاہدے کے بعد اسرائیل کو امید ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی اسے تسلیم کریں گے۔ مصر اور اردن جیسے مسلم ملکوں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ ترکی، ایران اور پاکستان جیسے ممالک نے اس معاہدے کو منافقت اور فلسطین کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔

_اس معاہدے کا ایک زاویہ نظر یہ بھی ہے کہ عرب حکمران اب یہ مان چکے ہیں کہ اسرائیل کا وجود ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جسے جھٹلانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں! نہ ہی عربوں کے پاس اتنی طاقت ہے کہ بزور بازو اسرائیل کی گردن پکڑ سکیں! اس لیے اب ان کے دماغوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ چکی ہے کہ ایک طاقت ور ملک سے دشمنی کرنے سے بہتر دوستی کرنا ہے، دشمنی میں خسارہ ہی خسارہ ہے جبکہ دوستی میں کثیر فوائد ہیں۔ اس لیے ماضی کی شرم ناک شکست کے باوجود انہیں اسرائیل سے کوئی دقت محسوس نہیں ہورہی ہے۔
عرصہ دراز سے مغربی لابی نے عرب حکمرانوں کے دل ودماغ میں ایران کا خوف بٹھا رکھا ہے جبکہ پچھلے کچھ وقت سے انہوں نے ترکی کو عرب قیادت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتیں عرب حکمرانوں کو ترکی وایران سے خوف زدہ کرت
ی ہیں اور بچاؤ کے نام پر مغرب اور اسرائیل سے دوستی کرنے کا آفر دیتی ہیں تاکہ عرب تکنیکی اور دفاعی امور میں مضبوط ہوسکیں۔ اسی ہوّے کے خوف سے عرب حکمران اسرائیل سے خفیہ تعلقات نبھاتے آئے ہیں لیکن اب انہوں نے سب کچھ کھلے بندوں کرنے کی ٹھان لی ہے۔ امارات سے پہلے مصر اور اُردن اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں، امارات کے بعد بحرین ، مراکش اور قطر بھی جلد ہی اسرائیل کو علانیہ تسلیم کر سکتے ہیں۔
عرب حکمرانوں کی اسرائیل نوازی کے پیچھے اسرائیل کا تکنیکی اور دفاعی امور میں مضبوط ہونا مانا جاتا ہے۔اسی لیے عرب حکمران اسرائیل سے تعلقات جوڑنا چاہتے ہیں۔ تکنیکی مہارت کے حصول اور ملکی حفاظت کے لیے ایسے معاہدات کسی بھی ملک کی اولین ترجیح ہونا چاہیے لیکن ان حکمرانوں کو شرم آنا چاہئے کہ کروڑوں کی آبادی اور دنیا بھر کی دولت رکھنے والے عرب ممالک ایک ایسے ملک کے محتاج ہیں جس کا پون صدی پہلے تک وجود تک نہیں تھا اور جس کی کل آبادی محض 80 لاکھ ہے مگر وہاں بجٹ کا بڑا حصہ فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ہر شہری پر 18 سال کی عمر میں فوجی تربیت حاصل کرنا لازمی ہے۔ مرد تین سال اور عورت دو سال فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں لازمی تربیت کے بعد ہر سال کئی کئی ہفتے ریزرو فوجی تربیت کے لیے زیادہ تر افراد رضا کارانہ اپنی خدمت پیش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے پاس تقریباً ساڑھے چار لاکھ ریزرو فوجی ہمیشہ موجود رہتے ہیں جنہیں ایمرجنسی میں کبھی بھی کہیں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جاسوسی آلات بنانے والے سات اہم ممالک میں اسرائیل شامل ہے۔ 1991ء میں عراق کی اسکڈ مزائل حملوں کے بعد ہر گھر میں ایک ایسا کمرہ بنایا جاتا ہے جہاں کیمیائی ہتھیاروں کا اثر نہ ہوسکے۔ ریسرچ اور تحقیق کے میدان میں اسرائیل بہت آگے ہے انٹل اور مائکروسافٹ نے امریکہ کے باہر سب سے پہلے اپنے ریسرچ سینٹر اسرائیل میں ہی قائم کیے تھے۔پانی کی بچت اور جیو تھرمل توانائی میں اسرائیل پہلے نمبر پر ہے۔اسرائیل کے مقابلے عرب حکمرانوں کے ذوق کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے صرف چھٹیاں گزارنے کے لیے فرانس میں 1 ہزار 857 کروڑ روپے کی مالیت کا محل اور ایک پینٹنگ کو 45 کروڑ ڈالر میں خریدا تھا۔تقریباً ہر عرب حکمراں کا ذوق اسی کے آس پاس ہے الا ماشاء اللہ.... اس لیے دنیا بھر کی دولت رکھنے والے عیاش حکمران ایک معمولی سے ملک کی مدد لینے کے محتاج ہیں مگر اسرائیل سے معاہدہ کرنے والے عرب ممالک خوش فہمی میں نہ رہیں ، اسرائیل کی دوستی اپنے ساتھ بدامنی اور فتنہ و فساد بھی لاتی ہے تاکہ ہتھیاروں کا مارکیٹ بھی بنا رہے اور متعلقہ حکومت بھی اس کے قابو میں رہے۔

2 محرم الحرام 1442ھ
22 اگست 2020 بروز ہفتہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#قیام_اسرائیل_کا_تاریخی_پس_منظر!!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

پون صدی پہلے تک اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لیکن برطانوی حکومت کی سرپرستی اور یہود و نصاریٰ کی مشترکہ سازشوں کے تحت فلسطینی زمین پر جبراً یہ ملک بسایا گیا۔ یہ بات کس قدر حیران کن ہے کہ عیسائی حکمرانوں نے ہی یہودیوں کو کئی سو سالوں تک بیت المقدس میں داخل نہیں ہونے دیا، انہیں قتل کیا ، ان کے معبد "ہیکل سلیمانی" کو تباہ کرکے اپنا گرجا تعمیر کیا لیکن آج اسلام دشمنی میں دونوں قومیں میں شیر وشکر بنی ہوئی ہیں۔ تاریخی شواہد کے مطابق 70 عیسوی میں رومی جنرل طیطس(م 81ء) نے بیت المقدس پر حملہ کرکے تقریباً پانچ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جو زندہ بچ گئے انہیں جلاوطن کرکے بیت المقدس میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اس حملے میں یہودی معبد "ہیکل سلیمانی" تباہ کردیا گیا تھا اس کے کھنڈرات میں محض ایک دیوار رہ گئی تھی جسے آج کل wailing wall (دیوار گریہ) کہا جاتا ہے۔ رومی پہلے بت پرست تھے لیکن بعد میں مسیحی مذہب اختیار کرلیا تھا، تبدیلی مذہب کے بعد بھی یہودیوں کو امن نہیں ملا نہ ہی ان پر مظالم کا سلسلہ بند ہوا۔
خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت 16ھ/637ء میں فلسطین اسلامی ریاست کا حصہ بنا۔ 1099 عیسوی میں یہاں دوبارہ صلیبی حکومت قائم ہوگئی۔اقتدار ملتے ہی صلیبی فوجوں نے 70؍ہزار مسلمانوں کو قتل کیا۔اس کے بعد538ھ؍1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین کو دوبارہ فتح کیا اور صلیبی قبضے سے آزاد کرایا۔بعدہ یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے تحت آگیا۔ 18ویں صدی کے اختتام تک سلطنت عثمانیہ انتہائی کمزور ہوچکی تھی اس لیے یہودیوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کو بڑی رقم کا لالچ دے کر کہا کہ وہ فلسطینی علاقہ یہودیوں کے حوالے کردیں بدلے میں وہ خلافت کے سارے قرضے ادا کردیں گے۔جواب میں سلطان نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر انہیں دکھایا اور کہا،اگر فلسطین کا اتنا حصہ بھی تم لینا چاہوگے تو نہیں ملے گا۔ سلطان عبدالحمید کی معزولی اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔جب تک سلطنت عثمانیہ قائم تھی یہودی عزائم پورے نہیں ہوسکتے تھے لیکن پہلی عالمی جنگ (1914-1918) نے سلطنت عثمانیہ کو انتہائی کمزور کر دیا تھا جس کے باعث بہت سارے علاقے ہاتھ سے نکل گئے،انہیں علاقوں میں فلسطین بھی شامل تھا جو 1917ء میں سلطنت برطانیہ کی تحویل میں آیا اور انگریزوں نے یہاں یہودی ریاست بسانے کا اعلان کیا۔ جس کے عوض میں یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کے مالی نقصانات کا خرچہ ادا کیا۔ اس ڈیل کے بعد برطانیہ نے دنیا بھر میں آباد یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے کی اجازت دی۔ تقریباً 30 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا حالانکہ اسے لیکر فلسطینی شہریوں اور یہودیوں کے مابین تنازع چلتا رہا لیکن برطانوی شہ کی وجہ سے یہودیوں کا آنا جاری رہا۔ جب ایک اچھی بڑی تعداد یہاں آباد ہوگئی تو 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو تقسیم کرکے ایک عرب اور ایک یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا۔برطانیہ نے 1948 میں اس علاقے سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اس طرح 14؍مئی 1948 کو دنیا کے نقشے پر اسرائیل نام کی ریاست وجود میں آئی۔ جسے عرب ممالک نے مسترد کردیا لیکن برطانیہ ویوروپ کے مدد کے سہارے اسرائیل نے فلسطین کے اچھے خاصے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت تک بیت المقدس (موجودہ یروشلم) اسرائیلی قبضے سے آزاد تھا اور یہاں پر اُردُن (Jordan) کا قبضہ برقرار رہا۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ میں مصر کے صحرائے سینا ، شام کی گولان پہاڑیوں اور اُردن کے زیر قبضہ بیت المقدس پر اسرائیل قابض ہوگیا اس جنگ میں اسرائیلی کامیابی کے پیچھے برطانیہ،فرانس اور امریکہ کی عسکری مدد کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی بے پناہ تیاریاں اور مذہبی جنون بھی شامل تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر اس بار ہار گئے تو دوبارہ کبھی بیت المقدس کا کا منہ نہیں دیکھ پائیں گے۔ اس لیے وہ نہایت بے خوفی اور منصوبہ بندی سے لڑے اور محض چھ دنوں میں ہی عربوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ حالانکہ بعد میں مصر نے صحرائے سینا کا علاقہ واپس حاصل کرلیا لیکن گولان پہاڑیاں اور بیت المقدس ابھی بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔

____ اقوام متحدہ نے اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور مختلف قرار دادوں میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1967 سے پہلے کی پوزیشن پر واپس لوٹ جائے لیکن اسرائیل نے کبھی بھی کسی قرارداد کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے باقی ماندہ فلسطینی علاقوں پر بھی اسرائیل جبراً یہودی بستیاں قائم کرتا جارہا ہے۔ عرب ممالک اور اقوام متحدہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں لیکن اسرائیلی تیزی کے ساتھ فلسطینی علاقوں پر قبضہ بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔ ان قبضوں کے پیچھے یہودیوں کا وہ منصوبہ ہے جسے "اسرائیل عظمی" (Great
er Israel) کہا جاتا ہے۔ یہودی تصور کے مطابق گریٹر اسرائیل وہ خطہ زمین ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت قائم تھی۔ اس وقت یہ خطہ زمین حجاز مقدس(موجودہ سعودی عرب) عراق ، مصر ، شام ، اردن اور فلسطین پر مشتمل ہے۔ یہودیوں کا منصوبہ ہے کہ اس مکمل خطہ زمین پر قبضہ کیا جائے اور اس پر عظیم مملکت یہود "گریٹر اسرائیل" قائم کی جائے۔
ایک طرف اسرائیل اپنے ہدف کے حصول میں جی جان سے لگا ہے لیکن مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اپنی عیاشی اور فضول خرچیوں سے فرصت نہیں ہے۔ جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو OIC کا اجلاس بلا کر ایک مذمتی قرار داد پاس کرکے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی شکایت کرکے پلّہ جھاڑ لیتے ہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ خود اسرائیلی جارحیت میں برابر کا شریک ہے ایسا نہیں ہوتا اقوام متحدہ کی
قرارداد کے مطابق اسرائیل کے ساتھ ہی آزاد فلسطین کا قیام بھی ہونا تھا لیکن سازشاً ایسا نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے آج بھی فلسطین ایک آزاد ملک کا درجہ پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جبکہ اسرائیل مَن مانی کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر اپنی ناجائز بستیاں قائم کرتا چلا جا رہا ہے۔

یکم محرم الحرام 1442ھ
21 اگست 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM