🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ ایک سال پرانی تحریر تھی ، آج نظر سے گزری تو نظر انداز نہ کرسکا ۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہا دوبارہ آپ کی نذر کردوں ۔
آپ اس پر پھر نظر ڈال کر ، نظر نوازی کا شرف عطا کردیں ۔

🐎 مجاہد کا گھوڑا 🐎

ایک دوست پوچھ رہے تھے:
اسلامی ممالک کے پاس اتنے ٹینک ، توپیں ، میزائل ، بارود اور جہاز ہیں ؛ پھر بھی میدان جہاد کی طرف رُخ کیوں نہیں کرتے ؟؟

میں نے انھیں کہا ، غالباً حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
سلطان رکن الدین بیبرس کے زمانے میں کسی مجاہد کے پاس ایک گھوڑا تھا ، جو میدان جنگ میں خوب بھاگ دوڑ کرتا ۔
ایک دفعہ لڑائی کے دوران وہ سُست پڑ گیا تو مجاہد نے اسے آگےبڑھنے کے لیے مارا ، لیکن وہ آگے نہ بڑھا ، پیچھے ہی پیچھے ہٹتا گیا ۔
مجاہد کو اس کی حرکت پر بہت غصہ آیا اور حیرانگی بھی ہوئی ۔
وہ رات کو سویا تو اس نے خواب میں اپنے گھوڑے کو دیکھا اور اُسے میدان جہاد میں سستی کرنے پر ملامت کرنے لگا ۔
اِس پر گھوڑے نے کہا:
” میں دشمن پر کیسے چڑھائی کرتا ، جب کہ تم نے میرے لیےکھوٹے پیسے سے چارہ خریدا تھا ! “

مجاہد صبح اٹھ کر چارہ بیچنے والے کے پاس گیا ، تو چارہ فروش نے اسے دیکھتے ہی کہا:

کل تم مجھے کھوٹا درہم دے گئے تھے!!

اب آپ خود ہی غور کرلیں کہ:
جس گھوڑے کو ایک بار کھوٹے پیسے کا چارہ کھلایا جائے جب وہ بھی میدانِ جہاد میں آگے نہیں بڑھتا تو وہ ٹینک ، گاڑیاں ، اور جہاز کیسے آگے بڑھیں گے جن کی پرورش میں سودکا پیسہ بھی شامل ہے!

اِنھیں ” جہاد فی سبیل اللہ “ کی طرف لے جانا ہے تو اِن کی پرورش پاکیزہ مال سے کرنی ہوگی ، نیز انھیں میدان جہاد میں لے جانے والے فوجیوں کی غذا بھی سود وغیرہ سے پاک کرنی ہوگی ۔

یہ عِلم ، یہ حِکمت ، یہ تَدَبُّر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لَہو ، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

ظاہِر میں تجارت ہے ، حقیقت میں جُوَا ہے
سُود ایک کا ، لاکھوں کے لیے مرگِ مَفاجات

وہ قوم کہ فیضانِ سَماوِی سے ہو محروم
حَد اُس کے کمالات کی ہے بَرق و بخارات

لقمان شاہد
16/8/2019 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम के वाक़िये पर तहक़ीक़ (पार्ट 5) अल्लामा बदरुद्दीन अयेनी हनफी रहिमहुल्लाहु त'आला लिखते हैं कि हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम ने जो फरमाया था की ऐ रब मुझे सख्त तकलीफ पहुंची है तो इस तकलीफ के बयान में हस्बे जेल अक़्वाल हैं : (1) हज़रते अय्यूब…
हज़रत अय्यूब अलैहिस्सलाम के वाक़िये पर तहक़ीक़ (पार्ट 6)

(5) हज़रते हसन बसरी ने बयान किया की इबलीसे लईन एक बकरी का बच्चा ले कर हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम की बीवी के पास आया और कहा :
तुम अपने शौहर से कहो के इस बकरी के बच्चे को मेरे नाम पर जबह कर दें फिर वो तंदूरस्त हो जायेंगे फिर वो ले कर गयी और बताया तो हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम ने फरमाया के तुम मुझे हलाक करने लगी थी!
जब अल्लाह ने मुझे शिफा दी तो मैं तुम्हें 100 कोड़े मारुंगा।
फिर आपने अपनी बीवी को घर से निकाल दिया और अकेले रह गये तब ये कहा की "मुझे सख्त तकलीफ पहुंची है" इनके अलावा और भी अक़्वाल हैं।

अगर ये ऐतराज़ किया जाये के जब हज़रते अय्यूब अलैहिस्सलाम को इब्तेदा मे तकलीफ़ पहुंची तो उस वक़्त आपने दुआ क्यूं नहीं की?
इस का जवाब ये है की उन्हें इल्म था की ये तक़्दीर है और बंदा तक़्दीर में तसर्रुफ नहीं कर सकता और दुसरा जवाब ये है की इब्तेदा में इसलिये दुआ नहीं की ताकी बीमारी से आपको ज़्यादा सवाब मिले।

और इस आयत में ये है की तू रहम करने वालो से ज़्यादा रहम करने वाला है
ब जाहिर चाहिये था की वो अल्लाह से दुआ करते की मेरी इस तकलीफ़ को दूर फरमा पर आपने दुआ की के तू सब से ज़्यादा रहम करने वाला है गोया इस में आप अलैहिस्सलाम ने कहा के तू रहम करने वाला है और मेरे हाल पर रहम फरमा और मुझे इस मर्ज़ से शिफा अता फरमा।

जारी है...

अब्दे मुस्तफ़ा
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق
(پارٹ 6)

(5) حضرت حسن بصری نے بیان کیا کہ ابلیس لعین ایک بکری کا بچہ لے کر حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی کے پاس آیا اور کہا:
تم اپنے شوہر سے کہو کہ اس بکری کے بچے کو میرے نام پر ذبح کر دیں پھر وہ تندرست ہو جائیں گے پھر وہ لے کر گئیں اور بتایا تو حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ تم مجھے ہلاک کرنے لگی تھی،
جب اللہ نے مجھے شفا دی تو میں تمھیں سو کوڑے ماروں گا پھر آپ نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا اور اکیلے رہ گئے تب یہ کہا کہ "مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے" ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب حضرت ایوب علیہ سلام کو ابتدا میں تکلیف پہنچی تو اس وقت آپ نے دعا کیوں نہیں کی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ انھیں علم تھا کہ یہ تقدیر ہے اور بندہ تقدیر میں تصرف نہیں کرسکتا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ ابتدا میں اس لیے دعا نہیں کی تاکہ بیماری سے آپ کو زیادہ ثواب ملے۔

اور اس آیت میں یہ ہے کہ تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
بہ ظاہر یہ چاہیے تھا کہ وہ اللہ سے دعا کرتے کہ میری اس تکلیف کو دور فرما پر آپ نے دعا کی کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے گویا اس میں آپ علیہ السلام نے کہا کہ تو رحم کرنے والا ہے اور میرے حال پر رحم فرما اور مجھے اس مرض سے شفا عطا فرما۔

جاری ہے......

عبد مصطفیٰ
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 pinned «ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات قسط نمبر ❶ = مولانا حسن نوری https://t.me/islaamic_Knowledge/3025 ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات قسط نمبر ❷ = مولانا حسن نوری https://t.me/islaamic_Knowledge/3027 ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات قسط نمبر ❸ =…»
اسلامی نیا سال ۲۴۴۱؁ھ مبارڪ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے؟
(قسط اول)

دو سال قبل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق اختلاف شروع ہوا تو ہم نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا،کیوں کہ اس بارے میں اسلاف کرام کے صریح اقوال موجود تھے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی ہیں،اس لئے ان کی شان میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا جو صحابہ کرام کی شان کے لائق نہ ہو۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال پر اختلاف شروع ہوا تو ہم اس امید میں تھے کہ جلد ہی یہ معاملہ ختم ہو جائے گا۔

جب یہ معلوم ہوا کہ متکلم کو اہل سنت و جماعت سے خارج بتایا جانے لگا ہے تو ہم نے 18:جولائی2020کو ایک مختصر سی تحریر جاری کی کہ ان شاء اللہ تعالی اس بارے میں کچھ تحریر کروں گا۔

مذکورہ خبر سن کر یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اسلامی اصول وضوابط کا غیر مناسب استعمال کیا جا رہا ہے،اور لفظ خطا کا حکم بیان کرنے میں خطا ہو رہی ہے،کیوں کہ اس لفظ کا حکم کہیں مذکور نہیں تو ہر ایک محقق اپنی تحقیق کے مطابق حکم بیان کر رہے ہیں۔ان متخالف اقوال میں تمام اقوال حق نہیں ہو سکتے۔

متکلم کے بیان اول میں لفظ خطا کا مطلق استعمال اور پھر خطائے اجتہادی سے اپنی مراد بیان کر دینے کے بعد مسئلہ اس منزل میں باقی نہیں رہتا کہ متکلم کو اہل سنت و جماعت سے خارج کر دیا جائے۔

20:جولائی 2020 کو متکلم موصوف کو گرفتار کر لیا گیا۔جس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔

اس حادثے سے بالکل واضح ہو گیا کہ اسلامی اصول و قوانین کا غیر محل میں استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر مجرم کو مجرم ثابت کیا جا رہا ہے۔
خواہ یہ امر شعوری طور پر ہو،یا لا شعوری طور پر۔

میری تحریروں سے مقصود متکلم کا دفاع نہیں،بلکہ مذہب اسلام اور مسلک اہل سنت و جماعت کا تحفظ ہے۔

26:جولائی 2020 کو "ڈاکٹر جلالی اور اصحاب جلال وکمال"کے عنوان سے ہم نے اپنا مضمون سوشل میڈیا پر جاری کیا۔
قسط دوم میں امکان ذاتی اور امکان وقوعی کی توضیح سے متعلق ہم نے متکلم کی توضیح کو تسلیم نہ کیا اور متکلم سے اس پر نظر ثانی کی درخواست کی۔
اسی طرح قسط اول میں اغاز بحث سے قبل ہی متکلم سے مشروط توبہ ورجوع کی گزارش کی۔قسط سوم میں بھی اس کا اعادہ کیا۔

بیان اول کے بعد متکلم نے توضیح و تشریح کے طور پر متعدد بیانات جاری کئے۔ان توضیحی بیانات میں بعض باتیں تشریح طلب ہیں۔

اسی طرح فریق دوم کی تحقیق و تحریر میں بھی بعض امور تشریح طلب ہیں۔

اگر خود میری تحریر میں بھی کوئی بات تشریح طلب ہو تو ان شاء اللہ تعالی ضرور توضیح پیش کروں گا۔اللہ تعالی ہم سب کو توفیق صالح عطا فرمائے۔امین

چوں کہ اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کا حکم اسلامی کتابوں میں صریح طور پر مذکور نہیں تو ہر فریق اصول و ضوابط کی روشنی میں جواب تلاش کرے گا،اس لئے سوالوں کے ذریعہ اسلامی اصول وضوابط کے محل استعمال کی جانب متوجہ کرنا مقصود ہے۔

مستقبل میں بھی اس طرح کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔

جن جدید امور کا صریح حکم اسلامی کتابوں میں مذکور نہ ہو تو شرعی اصول و قوانین کی روشنی میں ان مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
اس طریق کار میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اصول کا استعمال برمحل ہے،یا بے محل؟

مسئلہ حاضرہ کی مناسبت سے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں؛

سوال اول؛

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کو چادر تطہیر حاصل ہے۔دونوں شہزادگان عالی مرتبت پنجتن پاک کے زمرہ میں شامل ہیں۔دونوں شہزادگان کرام کا شمار صحابہ کرام میں ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دونوں شہزادگان گرامی کی محبت کو اپنی محبت،اور ان دونوں سے دشمنی کو اپنی ذات مبارک سے دشمنی قرار دیا۔ان دونوں بلند مرتبہ شہزادگان کرام کو اپنا بیٹا قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ میری نسل ان دونوں سے جاری ہو گی۔

دونوں شہزادگان عظام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ان کے علاوہ بہت سے فضائل و مناقب احادیث طیبہ میں موجود ہیں۔
دونوں شہزادگان والا درجات اپنے اپنے عہد میں قطب اکبر کی منزل میں فائز ہیں۔

سب وشتم،طعن وتشنیع،زد وکوب،تذلیل وتحقیر وغیرہ سے پڑھ کر بے ادبی قتل کا جرم ہے۔

سید الشہدا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے میدان کربلا میں اتمام حجت فرما دیا تھا۔یہاں تک کہ یزیدی لشکر کے اولین سپہ سالار حر بن یزید تمیمی یزیدی فوج سے الگ ہو کر حسینی جماعت میں شریک ہو گئے تھے۔حق اور باطل بالکل واضح ہو چکا تھا۔

ان سب حقائق کے باوجود محض دولت و حکومت کے لالچ میں یزیدیوں نے ظلم کے طور پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا۔

سوال ہے کہ مذکورہ بالا حقائق کے مد نظر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بد کردار قاتلین مثلا شمر بن ذی الجوشن،خولی بن یزید اصبحی،سپہ سالار عمرو بن سعد٬حاکم کوفہ عبید اللہ بن زیاد وغیرہم اہل سنت سے خارج ہیں یا نہیں؟

یا صرف فاسق و فاجر اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں؟

میدان کربلا میں اتمام حجت کے سبب حق و باطل واضح تھا اور سید مظلوم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ صحابی
1
ہیں اور صحابی کی بے ادبی کا حکم عام مومنین کی بے ادبی کے حکم سے زیادہ سخت ہے۔
قتل سے بڑھ بے ادبی کیا ہو سکتی ہے،پھر اس قتل کا کیا حکم ہے؟

چوں کہ یہ معاملہ صدی اول کا ہے۔حادثہ کربلا 10؛محرم الحرام 61 سال ہجری کو پیش ایا،اس لئے اسلاف کرام کی تحریروں سے جواب دیا جائے۔

اہل سنت و جماعت کا متفق علیہ قول بیان کیا جائے۔
اگر اختلاف ہو تو راجح قول بیان کیا جائے۔

خود سے اصول و قوانین کو منطبق کر کے جواب نہ دیں۔

خیال رہے کہ یزید پلید کے بارے میں سوال نہیں ہے،بلکہ میدان کربلا میں جو قاتلین تھے،ان اشقیا و ظالمین سے متعلق سوال ہے۔

سوال دوم:

محتمل لفظ اور صریح لفظ کے احکام الگ ہیں یا ایک ہی ہیں؟
کیا صریح لفظ کے احکام کو محتمل لفظ پر منطبق کیا جا سکتا ہے؟

مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کے کلام کفری معنی میں صریح متعین ہیں۔لفظ خطا محتمل ہے تو متعین کلام کے احکام محتمل لفظ پر کیسے منطبق ہو سکتے ہیں؟

سوال سوم؛

لفظ خطا محتمل ہے یا صریح؟

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ؛
14:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے؟

قسط دوم

معصوم عن الخطا اور محفوظ عن الخطا گناہ و معصیت سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔
یہاں خطا سے گناہ کی دونوں قسمیں مراد ہیں،یعنی کبیرہ وصغیرہ دونوں سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔صغیرہ میں قصد و بلا قصد اور منفرہ وغیر منفرہ وغیرہ کی تفصیل اور کچھ اختلاف ہے۔

اصحاب فضل کے لئے لفظ خطا کا استعمال حرام قطعی بالکل نہیں ہے۔حرام قطعی ضروریات دین میں سے ہوتا ہے۔اس کے لئے قطعی بالمعنی الاخص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

شراب نوشی حرام قطعی اور ضروریات دین سے ہے۔اگر کوئی شراب نوشی کو حرام مانتا ہو،اور شراب نوشی بھی کرتا ہو،لیکن چھپ کر پیتا ہو تو مومن اور فاسق ہے،لیکن فاسق معلن نہیں۔

اگر شراب نوشی کو حرام مانتا ہے اور شراب نوشی بھی کرتا ہے اور اعلانیہ شراب نوشی کرتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے،لیکن گمراہ یا کافر نہیں۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کے عدم جواز پر نہ کوئی قطعی بالمعن الاخص دلیل موجود ہے،نہ کوئی قطعی بالمعنی الاعم دلیل،بلکہ کوئی صحیح حدیث بھی موجود نہیں۔فقہائے کرام کی بھی صراحت موجود نہیں۔

اس کے باوجود اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کو بعض محققین نے ضلالت و گمرہی اور اہل سنت سے خروج کا سبب ثابت فرما دیا۔
خطا سے بڑھ کر لفظ "سیئہ"ہے۔اہل فضل کے لئے اس کا استعمال بھی بتا دیا جائے،کیوں کہ اہل علم دہراتے رہتے ہیں؛
حسنات الابرار سیئات المقربین
یہ مشائخ صوفیا علیہم الرحمہ سے منقول ہے۔اس میں حسنہ کو سیئہ کہا گیا،یعنی معصیت و گناہ اور اس کی نسبت مقربین کی طرف کی گئی ہے۔مقربین میں لغوی طور پر تو ہر بندہ مقرب شامل ہے۔عرف میں تمام اولیائے کرام کو یہ لفظ شامل ہوتا ہے۔

اگر کسی لفظ سے بے ادبی سمجھ میں اتی ہو تو بے ادبی کے مختلف درجات ہیں۔بعض بے ادبی کفر،بعض ضلالت و گمرہی،بعض حرام،اور بعض حرام سے بھی نیچے ہے۔

اہل فضل کے لئے لفظ خطا کے استعمال کو بے ادبی ثابت کرنے کے لئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ایک روایت کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،لیکن کوئی فقہی یا کلامی جزئیہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ایک حدیٹ مختلف الفاظ میں مروی ہے،لیکن وہ حدیث محدثین کے یہاں صحیح نہیں۔
وہ حدیث مندرجہ ذیل ہے۔

1:عن معاذ بن جبل:ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما اراد ان یسرح معاذا الی الیمن۔استشار ناسا من اصحابہ۔فیہم ابو بکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ و الزبیر و اسید بن حضیر فاستشارہم۔
فقال ابو بکر: لو لا انک استشرتنا،ما تکلمنا۔
فقال؛ انی فیما لم یوح الی کاحدکم۔
قال: فتکلم القوم،فتکلم کل انسان برایہ۔
فقال: ما تری یا معاذ؟
قال: اری ما قال ابو بکر۔
فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؛
ان اللہ عز وجل یکرہ فوق سمائہ ان یخطا ابو بکر رضی اللہ عنہ۔(الطبرانی فی الکبیر۔مسند الشامیین۔المسند للشاشی)
یہ روایت ابو العطوف راوی کی وجہ سے درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔بعض نے اس کو موضوع کہا ہے۔

2_ان اللہ یکرہ فی السماء ان یخطئ ابو بکر الصدیق فی الارض۔
اس روایت کو محدث ابن جوزی حنبلی نے موضوع قرار دیا ہے۔

اگر بالفرض مذکورہ بالا روایت کو قابل استدلال مان لیا جائے تو مندرجہ ذیل سوالات بھی اس سے منسلک ہوں گے۔

سوال اول؛

جس روایت میں مصدر خطا کا معروف صیغہ استعمال ہوا۔اس کا مفہوم یہ ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے خطا نہیں ہو گی۔اس سے یہ کیسے ثابت ہو گا کہ دوسرے غیر معصومین سے بھی خطا نہیں ہو گی؟
یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خصوصیت ہو سکتی ہے،بلکہ یہی ظاہر ہے،کیوں کہ اس مجلس میں دیگر محفوظین عن الخطا موجود ہیں۔اس کے باوجود عدم خطا کی نسبت کسی ایک کی جانب کرنا تخصیص کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری بات یہ بھی واضح ہے کہ یہاں اس خطا کا ذکر ہے،جس سے محفوظین عن الخطا محفوظ نہیں ہیں۔
جس خطا سے محفوظین بفضل الہی محفوظ کر دئیے گئے ہیں،اس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر تمام محفوظین شریک ہوں گے،پھر اس امر میں کسی ایک محفوظ کی تخصیص کا کوئی معنی نہیں۔

اگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی تخصیص نہ مانی جائے تو عدم تخصیص کی وجہ بیان کرنی ہو گی۔

اگر تخصیص مانی جائے تو اس روایت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جس خطا سے محفوظین محفوظ نہیں ہیں،وہ دیگر کے حق میں قابل صدور ہو،اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ناقابل صدورہو۔

جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں تخصیص مان لی جائے تو یہاں دو صورت ہو گی۔
اول یہ کہ خاص مذکورہ مشاورتی امر میں خطا سے محفوظ ہونا مراد ہو،اور یہی ظاہر ہے۔
دوسری صورت یہ کہ ہر امر میں ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہونا مراد ہو تو یہ محل نظر ہے۔

خاص مذکورہ مشاورتی امر میں عدم خطا مراد ہو تو اس مشاورتی امر میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو رفق بالناس یعنی لوگوں کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا