Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سَنہ 1441ہجری کا آخری مہینہ گزر رہا ہے ، رب تعالیٰ عافیت سے گزارے ۔
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کشمیر اور بابری مسجد کا حل آنسو نہیں ، عملی اقدام ہے ؛ جیسے ترکوں نے آیا صوفیہ کے لیے کیا ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصطفی کمال ، جدید ترکوں کا " قائد اعظم " ہے ۔
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اقبال مرحوم کا ایک دعائیہ کلام ہے ؎
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ:
بیروت ، عَجمان ، نَجف اور جدہ میں آگ کا بھڑک اٹھنا اور ہزاروں مسلمانوں کا اس کی زد میں آجانا ، املاک تباہ ہوجانا سب " اچانک " ہوا ؟؟
ہرگز نہیں !!
ایساپوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا ہےاور مسلم ممالک کے خلاف منصوبہ بندیاں عرصہ دراز سے چل رہی ہیں ۔
ان مظالم کاحل ، امت مسلمہ کا اتحاد اور مسلمان حکمرانوں کا شعور ہے ۔
اس سلسلے میں ہم یہ کرسکتے ہیں کہ:
جن سیاست دانوں ، حکومتی اور فوجی عہدے داروں تک ہماری رسائی ہے ان کا شعور بیدار کریں ، ان میں اسلامی اور قومی فکر پیدا کریں ، انھیں سمجھائیں کہ مسلمان ہونے کا کیا معنی ہے ۔
نیز ایسے لوگ تیار کریں جو ایمانی غیرت ، اسلامی فکر ، اور سیاسی بصیرت رکھتے ہوں ؛ مردہ ضمیر ، ڈرپوک ، عیاش اور بکاؤ نہ ہوں ۔
ایسے لوگ ہی ظالموں کے ہاتھ روک سکیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
7-8-2020 ء
بیروت ، عَجمان ، نَجف اور جدہ میں آگ کا بھڑک اٹھنا اور ہزاروں مسلمانوں کا اس کی زد میں آجانا ، املاک تباہ ہوجانا سب " اچانک " ہوا ؟؟
ہرگز نہیں !!
ایساپوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا ہےاور مسلم ممالک کے خلاف منصوبہ بندیاں عرصہ دراز سے چل رہی ہیں ۔
ان مظالم کاحل ، امت مسلمہ کا اتحاد اور مسلمان حکمرانوں کا شعور ہے ۔
اس سلسلے میں ہم یہ کرسکتے ہیں کہ:
جن سیاست دانوں ، حکومتی اور فوجی عہدے داروں تک ہماری رسائی ہے ان کا شعور بیدار کریں ، ان میں اسلامی اور قومی فکر پیدا کریں ، انھیں سمجھائیں کہ مسلمان ہونے کا کیا معنی ہے ۔
نیز ایسے لوگ تیار کریں جو ایمانی غیرت ، اسلامی فکر ، اور سیاسی بصیرت رکھتے ہوں ؛ مردہ ضمیر ، ڈرپوک ، عیاش اور بکاؤ نہ ہوں ۔
ایسے لوگ ہی ظالموں کے ہاتھ روک سکیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
7-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کہاں گئے وہ لوگ ! 🥀
شعر گوئی بہت عمدہ فن ہے ، شعر فہمی بھی کمال کی چیز ہے ، لیکن شعر سمجھ کر اس سے کما حقہ محظوظ ہونا ہر کسی کا کام نہیں ۔
کہا جاتا ہے فَرزدق کے سامنےکسی نے حضرت لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھا ؎
وجَلا السیول عن الطّلول کانھا
زبرتجد متونھا اقلامھا
( سیلابوں نے کھنڈروں کومٹی میں دب جانے کے بعد ظاہر کردیا ،گویا کہ وہ کتابیں ہیں جن کے قلموں نے ان کی کتابت کودوبارہ چمکادیا )
فرزدق یہ شعر سن کرسجدے میں گر گیا -
کسی نے کہا:
ابوفراس ! یہ سجدہ کیسا ؟
کہنے لگا:
انکم تعرفون سجدۃ القران وانا اعرف سجدۃ الشعر -
تم قران کے سجدوں کوجانتے ہو ، میں شعر کے سجدوں کوجانتاہوں -
(خاص الخاص ، امام ابومنصور ثعالبی (م 429 ھ) ، ص 147 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
مرزا غالب نے مومن خان مومن کا یہ شعر دیکھا ؎
تم میرے پاس ہوتے ہوگویا
جب کوئی دوسرانہیں ہوتا
تو کہنے لگا:
مومن کے اس شعر کے بدلے میں اپناپورا دیوان دینے کوتیارہوں ۔
( اردوشاعری کاتنقیدی مطالعہ ، ڈاکٹر سنبل نگار ، ص 54 ، دارالنورلاہور )
مولانا غنیمت کنجاہی رحمہاللہ کا شعر ہے ؎
بگفتا قیمتش ، گفتم نگاهی
بگفتا کمترک ، گفتم که گاهی
( میرے محبوب نے میرے دل کے ٹکڑوں کی قیمت پوچھی تو میں نے کہاتیری نگاہ ۔
کہنے لگا یہ قیمت زیادہ ہے ، کچھ کم کرو ۔
میں نے کہا میرے محبوب ہمیشہ نہ سہی ، کبھی کبھی نگاہ فرمادینا )
پیر نصیر الدین نصیر یہ شعر پڑھ کر ، جھوم گئے اور کنجاہ مولانا غنیمت کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے ۔
خود کہتے ہیں:
میں نےمولانا غنیمت کی اس مصرعے پر قدم بوسی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اللہ نے بڑی شاعرانہ صلاحیتیں عطافرمائی ہیں ، لیکن ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میں نے اُن کی قبر چومی ۔
✍️لقمان شاہد
10-8-2020ء
شعر گوئی بہت عمدہ فن ہے ، شعر فہمی بھی کمال کی چیز ہے ، لیکن شعر سمجھ کر اس سے کما حقہ محظوظ ہونا ہر کسی کا کام نہیں ۔
کہا جاتا ہے فَرزدق کے سامنےکسی نے حضرت لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھا ؎
وجَلا السیول عن الطّلول کانھا
زبرتجد متونھا اقلامھا
( سیلابوں نے کھنڈروں کومٹی میں دب جانے کے بعد ظاہر کردیا ،گویا کہ وہ کتابیں ہیں جن کے قلموں نے ان کی کتابت کودوبارہ چمکادیا )
فرزدق یہ شعر سن کرسجدے میں گر گیا -
کسی نے کہا:
ابوفراس ! یہ سجدہ کیسا ؟
کہنے لگا:
انکم تعرفون سجدۃ القران وانا اعرف سجدۃ الشعر -
تم قران کے سجدوں کوجانتے ہو ، میں شعر کے سجدوں کوجانتاہوں -
(خاص الخاص ، امام ابومنصور ثعالبی (م 429 ھ) ، ص 147 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
مرزا غالب نے مومن خان مومن کا یہ شعر دیکھا ؎
تم میرے پاس ہوتے ہوگویا
جب کوئی دوسرانہیں ہوتا
تو کہنے لگا:
مومن کے اس شعر کے بدلے میں اپناپورا دیوان دینے کوتیارہوں ۔
( اردوشاعری کاتنقیدی مطالعہ ، ڈاکٹر سنبل نگار ، ص 54 ، دارالنورلاہور )
مولانا غنیمت کنجاہی رحمہاللہ کا شعر ہے ؎
بگفتا قیمتش ، گفتم نگاهی
بگفتا کمترک ، گفتم که گاهی
( میرے محبوب نے میرے دل کے ٹکڑوں کی قیمت پوچھی تو میں نے کہاتیری نگاہ ۔
کہنے لگا یہ قیمت زیادہ ہے ، کچھ کم کرو ۔
میں نے کہا میرے محبوب ہمیشہ نہ سہی ، کبھی کبھی نگاہ فرمادینا )
پیر نصیر الدین نصیر یہ شعر پڑھ کر ، جھوم گئے اور کنجاہ مولانا غنیمت کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے ۔
خود کہتے ہیں:
میں نےمولانا غنیمت کی اس مصرعے پر قدم بوسی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اللہ نے بڑی شاعرانہ صلاحیتیں عطافرمائی ہیں ، لیکن ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میں نے اُن کی قبر چومی ۔
✍️لقمان شاہد
10-8-2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دن بھر آپ نے فیس بک پر بہت ساری چیزیں دیکھی اور پڑھی ہوں گی ......... چلیں سوتے وقت یہ سطریں بھی پڑھ لیں ۔
سید ادیب رائے پوری مرحوم کا نعتیہ کلام ہے ؎
جو لَمحے تھے سُکُوں کے ، سب مدینے میں گُزار آئے
وَطَن میں اے دلِ مُضطَر تجھے کیسے قرار آئے
اس میں ایک شعر ہے ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
ادیب نے اِس شعر میں ہَوا کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
¹خَزاں
²نَسِیم
³صَبا
⁴بَہار
خزاں: ایسی ہوا ہوتی ہےجس سے پتے جھڑ جاتے ہیں ، پھول مرجھا جاتے ہیں ۔
نسیم: ہوا کا وہ خوش گوار جھونکا ہوتا ہے جو پاس سے گزرے تو پرسکون کرجاتا ہے ۔
صبا: اُس پیاری ہوا کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت گوشۂ شمال و مشرق سے چلتی ہے اور غنچے تک کھلا دیتی ہے ۔
بہار: وہ ہوا ہے جو مرجھائے ہوئے پھول کھلاتی ہے ، خشک ٹہنیاں سر سبز کرتی ہے ، جس کے چلنے سے باغ میں بہار آتی ہے ، چمن میں نکھار آتا ہے ۔
اب شعر سمجھیے!
ان چاروں ہواؤں نے جب مدینہ پاک میں داخلے کی کوشش کی تو حکم ہوا:
خزاں ! تمھارا اس شہر میں داخلہ ممنوع ہے ، تم طیببہ کی گلیوں سے گزرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔
اے نسیم ، صبا اور بہار ! تم تینوں کوئے حبیب میں آسکتی ہو اور بار بار آسکتی ہو ۔ ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طَیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
✍️لقمان شاہد
11-8-2020ء
سید ادیب رائے پوری مرحوم کا نعتیہ کلام ہے ؎
جو لَمحے تھے سُکُوں کے ، سب مدینے میں گُزار آئے
وَطَن میں اے دلِ مُضطَر تجھے کیسے قرار آئے
اس میں ایک شعر ہے ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
ادیب نے اِس شعر میں ہَوا کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
¹خَزاں
²نَسِیم
³صَبا
⁴بَہار
خزاں: ایسی ہوا ہوتی ہےجس سے پتے جھڑ جاتے ہیں ، پھول مرجھا جاتے ہیں ۔
نسیم: ہوا کا وہ خوش گوار جھونکا ہوتا ہے جو پاس سے گزرے تو پرسکون کرجاتا ہے ۔
صبا: اُس پیاری ہوا کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت گوشۂ شمال و مشرق سے چلتی ہے اور غنچے تک کھلا دیتی ہے ۔
بہار: وہ ہوا ہے جو مرجھائے ہوئے پھول کھلاتی ہے ، خشک ٹہنیاں سر سبز کرتی ہے ، جس کے چلنے سے باغ میں بہار آتی ہے ، چمن میں نکھار آتا ہے ۔
اب شعر سمجھیے!
ان چاروں ہواؤں نے جب مدینہ پاک میں داخلے کی کوشش کی تو حکم ہوا:
خزاں ! تمھارا اس شہر میں داخلہ ممنوع ہے ، تم طیببہ کی گلیوں سے گزرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔
اے نسیم ، صبا اور بہار ! تم تینوں کوئے حبیب میں آسکتی ہو اور بار بار آسکتی ہو ۔ ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طَیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
✍️لقمان شاہد
11-8-2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
¹ معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:
صدقہ کرنے کا ثواب دس گُنا ہے ، اور قرضہ دینے کا ثواب اٹھارہ گُنا ۔
² جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک بار قرض دیتاہے ، اسے اُتنامال دو بار صدقہ کرنے کاثواب ملتاہے ۔
( الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، ر 1324 ، 1325 )
جب اللہ کے پیارے حبیب چاہتے ہیں کہ میرے صاحبِ ثَروت اُمتی ، میرے ضرورت مند اُمتیوں کو قرضہ دیا کریں ، تو کیوں نہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کیمحبت میں ایسا کرنے والے بن جائیں !!
آپ میرے لیے دعا کریں ، میں آپ کے لیے کرتا ہوں کہ:
رب تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ ، مسلمانوں کو قرضہ دینے والا بنادے ۔
✍️لقمان شاہد
12-8-2020 ء
¹ معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:
صدقہ کرنے کا ثواب دس گُنا ہے ، اور قرضہ دینے کا ثواب اٹھارہ گُنا ۔
² جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک بار قرض دیتاہے ، اسے اُتنامال دو بار صدقہ کرنے کاثواب ملتاہے ۔
( الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، ر 1324 ، 1325 )
جب اللہ کے پیارے حبیب چاہتے ہیں کہ میرے صاحبِ ثَروت اُمتی ، میرے ضرورت مند اُمتیوں کو قرضہ دیا کریں ، تو کیوں نہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کیمحبت میں ایسا کرنے والے بن جائیں !!
آپ میرے لیے دعا کریں ، میں آپ کے لیے کرتا ہوں کہ:
رب تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ ، مسلمانوں کو قرضہ دینے والا بنادے ۔
✍️لقمان شاہد
12-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گجرات شہر کے قریب ایکگاؤں ہے جس کانام " مدینہ " ہے ۔
جب اِس گاؤں کا کوئی فرد آکر کہتا ہے :
" میں مدینے سے آیا ہوں " ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو دل ، بے ساختہ " مدینہ طیبہ ، مدینہ منورہ ، مدینہ پاک ، مدینہ شریف ، مدینۃ النبی " کی طرف کھنچنے لگتا ہے ۔
اللہ اللہ ، لفظِ مدینہ کتنا پیارا ہے !!
اس لفظ میں جو لذت ہے وہ دنیا کے کسی شہر کے نام میں نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-8-2020 ء
جب اِس گاؤں کا کوئی فرد آکر کہتا ہے :
" میں مدینے سے آیا ہوں " ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو دل ، بے ساختہ " مدینہ طیبہ ، مدینہ منورہ ، مدینہ پاک ، مدینہ شریف ، مدینۃ النبی " کی طرف کھنچنے لگتا ہے ۔
اللہ اللہ ، لفظِ مدینہ کتنا پیارا ہے !!
اس لفظ میں جو لذت ہے وہ دنیا کے کسی شہر کے نام میں نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
13-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سنہ 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔
اس سال ، محتاط اندازے کے مطابق:
" پندرہ لاکھ مسلمان قتل ہوئے ، اور اسی لاکھ مسلمان اربوں کی جائیداد سےمحروم ہوئے تھے ، تب جا کے پاکستان بنا ۔ "
ان قربانیوں کو یاد رکھیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے وفا کریں ۔
یہ قربانیاں حکمران طبقے کی عیاشیوں اور فحاشیوں کے لیے نہیں دی گئیں ، " لا الہ الا اللہ " کی سربلندی کے لیے دی گئیں ۔
✍️لقمان شاہد
14-8-2020 ء
اس سال ، محتاط اندازے کے مطابق:
" پندرہ لاکھ مسلمان قتل ہوئے ، اور اسی لاکھ مسلمان اربوں کی جائیداد سےمحروم ہوئے تھے ، تب جا کے پاکستان بنا ۔ "
ان قربانیوں کو یاد رکھیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے وفا کریں ۔
یہ قربانیاں حکمران طبقے کی عیاشیوں اور فحاشیوں کے لیے نہیں دی گئیں ، " لا الہ الا اللہ " کی سربلندی کے لیے دی گئیں ۔
✍️لقمان شاہد
14-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM