#شخصی_تربیت_کا_صحیح_اور_غلط_طریقہ
ہر مسلمان مستقل طور پر شرعی احکام کا مکلف ہے۔ہم جو کچھ کریں گے،اس بارے میں کل بروز حشر ہم سے سوال ہو گا۔نہ ہمارے اعمال کے بارے میں دوسروں سے سوال ہو گا،نہ ہی دوسروں کے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال ہو گا۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں بھی داڑھی نہیں رکھتا۔فلاں بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ بھی غیبت و چغل خوری میں مبتلا رہتا ہے۔فلاں مسلمان بھی سود لیتا ہے،یعنی شیطان غلط قسم کے انسانوں اور بے عمل مسلمانوں کی طرف اس کے ذہن کو موڑ دیتا ہے،پھر غلط اعمال و اخلاق میں اسے مبتلا کر دیتا ہے۔
صالحین کو دیکھ کر اپنی ذاتی تربیت:
اللہ تعالی نے شیطان کے اسی فریب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے بندوں کو یہ نسخہ بتایا کہ صالحین کے طریقے پر رہو۔
قران مجید میں متعدد ایات مقدسہ میں اس مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔
سورہ فاتحہ میں ہے: اہدنا الصراط المستقیم::صراط الذین انعمت علیہم۔
دیگر مقام پر "کونوا مع الصادقین"اور اس مفہوم کو بیان کرنے والی ایات مبارکہ موجود ہیں۔
ان قرانی ایات طیبہ سے ہمیں یہ واضح نظریہ ملتا ہے کہ اپنی شخصی تربیت میں صالحین پر نظر رکھنی ہے،نہ کہ غلط قسم کے لوگوں کا تصور ذہن میں مستحکم کر لیا جائے،پھر وہ لوگ جن برائیوں میں مبتلا ہیں،ہم بھی ان برائیوں میں خود کو مبتلا کر دیں۔
ہمیں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے اعمال صالحہ و اخلاق دیکھ کر اپنے اپ کو بھی ان اعمال و اخلاق حسنہ کا پابند بنانا چاہئے۔جب ہم اپنے دل میں ان صالحین کے نقش قدم پر چلنے کا عزم مصمم کر لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر بہت کچھ سدھار پیدا کر لیں گے اور اپنی اصلاح میں بہت حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔
خود احتسابی کے ذریعہ اپنی ذاتی تربیت:
قران مجید میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندوں کو حق و باطل، صحیح اور غلط بتا دیا ہے۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جو صحیح اور حق ہے،ہمارے بندے اس کو اختیار کریں اور جو غلط و باطل ہے،اس کو ترک کریں۔
اس کا اہم طریقہ علم شریعت سے اشنائی اور اپنا محاسبہ ہے۔شرعی احکام فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں میں دلائل کے ساتھ موجود ہیں۔علمائے دین نے ہماری اسانی کے لئے بہت سی فقہی کتابیں مقامی زبانوں میں اسان طرز پر تصنیف فرمائی ہیں۔اردو زبان میں فقہ حنفی کے لئے قانون شریعت اور بہار شریعت بہت حد تک کافی اور ہماری ضرورتوں کو پوری کرنے والی ہیں۔
عبادات،معاملات،حقوق اللہ و حقوق العباد،اسلامی اخلاق و اداب ودیگر ضرورت کے مسائل ان کتابوں میں پڑھیں اور پھر اپنا محاسبہ کریں۔
اپنے محاسبہ کا ایک وقت مقرر کر لیں،مثلا ہر دن عشا کے بعد اپنے ان تمام اعمال پر چند لمحے غور کریں جو کچھ اعمال دن بھر میں اپ سے صادر ہوئے ہیں۔ان میں سے جو غلط ہیں،ان کو ترک کرنے کا عہد اپنے دل میں کریں۔جو صحیح اعمال ہیں،ان کی پابندی کی نیت اپنے دل میں کریں۔
ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں اپ اپنی ذاتی تربیت اور خود احتسابی کے نتائج اپنی اںکھوں سے دیکھیں گے۔
جب اپ دیکھیں کہ اپ کا باطن غلط اعمال و اخلاق پر اپ کو مطعون کر رہا ہے،اور ان اعمال قبیحہ کے صدور پر اپ کا نفس اپ کو ملامت کر رہا ہے تو اپ سمجھ لیں کہ طاعت و بندگی کے باب میں اپ کی ترقی ہو چکی ہے۔اپ نفس امارہ کی قید و بند سے نکل کر نفس لوامہ کی منزل تک ا چکے ہیں۔رحمت الہی سے بعید نہیں کہ اپ کو نفس مطمئنہ تک ترقی عطا فرما دی جائے۔
جب اپ فضل الہی سے نفس مطمئنہ تک رسائی پا لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی شیطانی وسوسوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور دوسروں کی صالح تربیت بھی کر سکیں گے۔اپنی تربیت میں پختگی اور قوت کے بعد دوسروں کا مربی و معلم ہو جاتاہے۔
ابتدائی مرحلہ میں دنیا والوں کے اعمال سے انکھیں موند لو،ورنہ اس کے اعمال قبیحہ کی طرف شیطان تمہارا ذہن موڑ دے گا۔بس ابھی یہ سوچنا ہے کہ جو ادمی غلط راہ پر ہے،وہ بارگاہ خداوندی میں اپنا حساب دے گا۔کسی دوسرے کے اعمال سے ہمارا کیا تعلق۔
اگر ہو سکے تو ہم کسی کی اصلاح کی کوشش کریں،نہ کہ دوسروں کے اعمال قبیحہ و اخلاق رذیلہ کو دیکھ کر خود کو برائیوں میں مبتلا کر لیں:واللہ الہادی وہو الموفق
طارق انور مصباحی
مدیر:
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:
05:اگست2020
ہر مسلمان مستقل طور پر شرعی احکام کا مکلف ہے۔ہم جو کچھ کریں گے،اس بارے میں کل بروز حشر ہم سے سوال ہو گا۔نہ ہمارے اعمال کے بارے میں دوسروں سے سوال ہو گا،نہ ہی دوسروں کے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال ہو گا۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں بھی داڑھی نہیں رکھتا۔فلاں بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ بھی غیبت و چغل خوری میں مبتلا رہتا ہے۔فلاں مسلمان بھی سود لیتا ہے،یعنی شیطان غلط قسم کے انسانوں اور بے عمل مسلمانوں کی طرف اس کے ذہن کو موڑ دیتا ہے،پھر غلط اعمال و اخلاق میں اسے مبتلا کر دیتا ہے۔
صالحین کو دیکھ کر اپنی ذاتی تربیت:
اللہ تعالی نے شیطان کے اسی فریب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے بندوں کو یہ نسخہ بتایا کہ صالحین کے طریقے پر رہو۔
قران مجید میں متعدد ایات مقدسہ میں اس مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔
سورہ فاتحہ میں ہے: اہدنا الصراط المستقیم::صراط الذین انعمت علیہم۔
دیگر مقام پر "کونوا مع الصادقین"اور اس مفہوم کو بیان کرنے والی ایات مبارکہ موجود ہیں۔
ان قرانی ایات طیبہ سے ہمیں یہ واضح نظریہ ملتا ہے کہ اپنی شخصی تربیت میں صالحین پر نظر رکھنی ہے،نہ کہ غلط قسم کے لوگوں کا تصور ذہن میں مستحکم کر لیا جائے،پھر وہ لوگ جن برائیوں میں مبتلا ہیں،ہم بھی ان برائیوں میں خود کو مبتلا کر دیں۔
ہمیں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے اعمال صالحہ و اخلاق دیکھ کر اپنے اپ کو بھی ان اعمال و اخلاق حسنہ کا پابند بنانا چاہئے۔جب ہم اپنے دل میں ان صالحین کے نقش قدم پر چلنے کا عزم مصمم کر لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر بہت کچھ سدھار پیدا کر لیں گے اور اپنی اصلاح میں بہت حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔
خود احتسابی کے ذریعہ اپنی ذاتی تربیت:
قران مجید میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندوں کو حق و باطل، صحیح اور غلط بتا دیا ہے۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جو صحیح اور حق ہے،ہمارے بندے اس کو اختیار کریں اور جو غلط و باطل ہے،اس کو ترک کریں۔
اس کا اہم طریقہ علم شریعت سے اشنائی اور اپنا محاسبہ ہے۔شرعی احکام فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں میں دلائل کے ساتھ موجود ہیں۔علمائے دین نے ہماری اسانی کے لئے بہت سی فقہی کتابیں مقامی زبانوں میں اسان طرز پر تصنیف فرمائی ہیں۔اردو زبان میں فقہ حنفی کے لئے قانون شریعت اور بہار شریعت بہت حد تک کافی اور ہماری ضرورتوں کو پوری کرنے والی ہیں۔
عبادات،معاملات،حقوق اللہ و حقوق العباد،اسلامی اخلاق و اداب ودیگر ضرورت کے مسائل ان کتابوں میں پڑھیں اور پھر اپنا محاسبہ کریں۔
اپنے محاسبہ کا ایک وقت مقرر کر لیں،مثلا ہر دن عشا کے بعد اپنے ان تمام اعمال پر چند لمحے غور کریں جو کچھ اعمال دن بھر میں اپ سے صادر ہوئے ہیں۔ان میں سے جو غلط ہیں،ان کو ترک کرنے کا عہد اپنے دل میں کریں۔جو صحیح اعمال ہیں،ان کی پابندی کی نیت اپنے دل میں کریں۔
ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں اپ اپنی ذاتی تربیت اور خود احتسابی کے نتائج اپنی اںکھوں سے دیکھیں گے۔
جب اپ دیکھیں کہ اپ کا باطن غلط اعمال و اخلاق پر اپ کو مطعون کر رہا ہے،اور ان اعمال قبیحہ کے صدور پر اپ کا نفس اپ کو ملامت کر رہا ہے تو اپ سمجھ لیں کہ طاعت و بندگی کے باب میں اپ کی ترقی ہو چکی ہے۔اپ نفس امارہ کی قید و بند سے نکل کر نفس لوامہ کی منزل تک ا چکے ہیں۔رحمت الہی سے بعید نہیں کہ اپ کو نفس مطمئنہ تک ترقی عطا فرما دی جائے۔
جب اپ فضل الہی سے نفس مطمئنہ تک رسائی پا لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی شیطانی وسوسوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور دوسروں کی صالح تربیت بھی کر سکیں گے۔اپنی تربیت میں پختگی اور قوت کے بعد دوسروں کا مربی و معلم ہو جاتاہے۔
ابتدائی مرحلہ میں دنیا والوں کے اعمال سے انکھیں موند لو،ورنہ اس کے اعمال قبیحہ کی طرف شیطان تمہارا ذہن موڑ دے گا۔بس ابھی یہ سوچنا ہے کہ جو ادمی غلط راہ پر ہے،وہ بارگاہ خداوندی میں اپنا حساب دے گا۔کسی دوسرے کے اعمال سے ہمارا کیا تعلق۔
اگر ہو سکے تو ہم کسی کی اصلاح کی کوشش کریں،نہ کہ دوسروں کے اعمال قبیحہ و اخلاق رذیلہ کو دیکھ کر خود کو برائیوں میں مبتلا کر لیں:واللہ الہادی وہو الموفق
طارق انور مصباحی
مدیر:
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:
05:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باسمہ تعالی وبحمدہ والصلوات والتسلیمات علی حبیبہ المصطفے والہ
#کورونا_وائرس_اور_دنیا_کا_بدلتا_ماحول
کسی بھی مخلوق کی تخلیق رب تعالی ہی فرماتا ہے۔بندوں کو تخلیق کی قدرت نہیں دی گئی۔
اگر کورونا وائرس بھی کسی مخلوق جراثیم کا نام ہے تو اس کی تخلیق بھی رب تعالی کی جانب سے ہی ہو سکتی ہے۔انسان کچھ کیمیکل اور دواوں کے ذریعہ اس کو مزید زہریلا بنا سکتا ہے۔اسی طرح دواوں کے اثرات سے اس کے زہر اور ضرر کو کم بھی کر سکتا ہے۔کسی ابادی میں سازش کے ذریعہ اس کو پھیلایا بھی جا سکتا ہے۔
موجودہ عہد میں کورونا وائرس سے متعلق متضاد نظریات سامنے ائے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس سانس کی نالیوں اور گزرگاہوں میں جب کثیر تعداد میں بیٹھ جائے تو سانس کی امد و رفت میں پریشانی ہونے لگتی ہے۔
پھیپھڑوں تک اگر سانس نہ پہنچ سکے تو موت کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ جراثیم پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں وینٹیلیٹر کے ذریعہ انسانی جسم میں اکسیجن پہنچایا جاتا ہے اور دواوں کے ذریعہ وائرس کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
اس وائرس کی کیفیت ایسی ہے کہ جیسے انسان کا گلا دب جائے اور سانس اندر نہ جا سکے تو دم گھٹنے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ وائرس بھی سانس کے راستے کو بند کر دیتا ہے اور انسان کی موت ہو جاتی ہے۔
جو لوگ پہلے سے ہی سانس کی تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوں،ان کے لئے یہ وائرس زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس سے بچنے کا اسان طریقہ یہ ہے کہ ادمی ان گھریلو نسخوں کو اختیار کر لے جو ایسے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں،مثلا دن بھر میں چند بار اجوائن کو چبا کر کھا لینا،کالی مرچ اور ادرک کی چائے پینا،پودینہ کی چٹنی کا استعمال کرنا،کلونجی کے چند دانے چبا کر کھا لینا،وغیرہ۔
اسی درمیان یہ خبر بھی ملی ہے کہ کبھی ڈاکٹروں کی بے توجہی کے سبب کورونا وائرس کا بعض مریض صحت یاب نہیں ہو پاتا۔
بعض ڈاکٹروں کے بارے میں یہ خبر بھی ملی ہے کہ وہ مریض کے اعضائے رئیسہ یعنی کڈنی وغیرہ نکال لیتے ہیں اور مریض راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔
کورونا وائرس کے سبب حالیہ چند ماہ میں دنیا کے بہت سے ممالک میں موقع بہ موقع لاک ڈاون ہوا۔دنیا بھر میں ماسک کا استعمال لازم قرار پایا۔سوشل ڈسٹنس کا حکم دیا گیا اور اس سے بچنے کی طرح طرح کی تدبیریں اپنائی گئیں۔
بھارت میں کچھ اضافی امور بھی انجام دیئے گئے،مثلا تالی اور تھالی بجوائی گئی،موم بتیاں روشن کی گئیں،بعض لوگوں نے گو متر کی پارٹیاں منعقد کیں۔
کورونا وائرس سے منسلک ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسی لاک ڈاون کے عہد میں فائیو جی5G نیٹ ورک کے ٹاورز مختلف ممالک میں نصب کئے جا رہے ہیں۔اس کے ذریعہ اس ٹاور کے متعلقہ علاقے کے تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی۔ہر انسان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ 5G ٹاور کے ذریعہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شعاعوں کے سبب کینسر اور خاص کر دماغی کینسر ہونے کا زبردست خطرہ ہے۔فائیو جی نیٹ ورک کے ٹاورز ہر وقت شدت کے ساتھ الیکٹرو میگنٹک شعاعیں چھوڑتے رہتے ہیں۔
جن شہروں میں فائیو جی ٹاورز نصب کئے جاتے ہیں،ان شہروں کو "میگا اسمارٹ سٹی"کا نام دیا جاتا ہے۔
جب اس ٹاور کے نقصانات اس قدر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ انسانی دنیا کو ترقی کی اس خطرناک منزل سے پیچھے ہی رکھا جائے۔کسی شہر کو میگا اسمارٹ سٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔4Gکے نقصانات ہی بہت زیادہ ہیں۔اب اس سے بھی اگے بڑھنا بیکار ہے۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے
روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
طارق انور مصباحی
مدیر؛
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ: 04:اگست 2020
#کورونا_وائرس_اور_دنیا_کا_بدلتا_ماحول
کسی بھی مخلوق کی تخلیق رب تعالی ہی فرماتا ہے۔بندوں کو تخلیق کی قدرت نہیں دی گئی۔
اگر کورونا وائرس بھی کسی مخلوق جراثیم کا نام ہے تو اس کی تخلیق بھی رب تعالی کی جانب سے ہی ہو سکتی ہے۔انسان کچھ کیمیکل اور دواوں کے ذریعہ اس کو مزید زہریلا بنا سکتا ہے۔اسی طرح دواوں کے اثرات سے اس کے زہر اور ضرر کو کم بھی کر سکتا ہے۔کسی ابادی میں سازش کے ذریعہ اس کو پھیلایا بھی جا سکتا ہے۔
موجودہ عہد میں کورونا وائرس سے متعلق متضاد نظریات سامنے ائے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس سانس کی نالیوں اور گزرگاہوں میں جب کثیر تعداد میں بیٹھ جائے تو سانس کی امد و رفت میں پریشانی ہونے لگتی ہے۔
پھیپھڑوں تک اگر سانس نہ پہنچ سکے تو موت کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ جراثیم پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں وینٹیلیٹر کے ذریعہ انسانی جسم میں اکسیجن پہنچایا جاتا ہے اور دواوں کے ذریعہ وائرس کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
اس وائرس کی کیفیت ایسی ہے کہ جیسے انسان کا گلا دب جائے اور سانس اندر نہ جا سکے تو دم گھٹنے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ وائرس بھی سانس کے راستے کو بند کر دیتا ہے اور انسان کی موت ہو جاتی ہے۔
جو لوگ پہلے سے ہی سانس کی تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوں،ان کے لئے یہ وائرس زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس سے بچنے کا اسان طریقہ یہ ہے کہ ادمی ان گھریلو نسخوں کو اختیار کر لے جو ایسے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں،مثلا دن بھر میں چند بار اجوائن کو چبا کر کھا لینا،کالی مرچ اور ادرک کی چائے پینا،پودینہ کی چٹنی کا استعمال کرنا،کلونجی کے چند دانے چبا کر کھا لینا،وغیرہ۔
اسی درمیان یہ خبر بھی ملی ہے کہ کبھی ڈاکٹروں کی بے توجہی کے سبب کورونا وائرس کا بعض مریض صحت یاب نہیں ہو پاتا۔
بعض ڈاکٹروں کے بارے میں یہ خبر بھی ملی ہے کہ وہ مریض کے اعضائے رئیسہ یعنی کڈنی وغیرہ نکال لیتے ہیں اور مریض راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔
کورونا وائرس کے سبب حالیہ چند ماہ میں دنیا کے بہت سے ممالک میں موقع بہ موقع لاک ڈاون ہوا۔دنیا بھر میں ماسک کا استعمال لازم قرار پایا۔سوشل ڈسٹنس کا حکم دیا گیا اور اس سے بچنے کی طرح طرح کی تدبیریں اپنائی گئیں۔
بھارت میں کچھ اضافی امور بھی انجام دیئے گئے،مثلا تالی اور تھالی بجوائی گئی،موم بتیاں روشن کی گئیں،بعض لوگوں نے گو متر کی پارٹیاں منعقد کیں۔
کورونا وائرس سے منسلک ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسی لاک ڈاون کے عہد میں فائیو جی5G نیٹ ورک کے ٹاورز مختلف ممالک میں نصب کئے جا رہے ہیں۔اس کے ذریعہ اس ٹاور کے متعلقہ علاقے کے تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی۔ہر انسان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ 5G ٹاور کے ذریعہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شعاعوں کے سبب کینسر اور خاص کر دماغی کینسر ہونے کا زبردست خطرہ ہے۔فائیو جی نیٹ ورک کے ٹاورز ہر وقت شدت کے ساتھ الیکٹرو میگنٹک شعاعیں چھوڑتے رہتے ہیں۔
جن شہروں میں فائیو جی ٹاورز نصب کئے جاتے ہیں،ان شہروں کو "میگا اسمارٹ سٹی"کا نام دیا جاتا ہے۔
جب اس ٹاور کے نقصانات اس قدر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ انسانی دنیا کو ترقی کی اس خطرناک منزل سے پیچھے ہی رکھا جائے۔کسی شہر کو میگا اسمارٹ سٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔4Gکے نقصانات ہی بہت زیادہ ہیں۔اب اس سے بھی اگے بڑھنا بیکار ہے۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے
روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
طارق انور مصباحی
مدیر؛
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ: 04:اگست 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر کسی پر محبت رسول کا اتنا غلبہہوجائے کہ اسے آپ ﷺ کے شہر مبارک کے کتے بھی پیارے لگیں ، تو یہ قابل ملامت نہیں ۔
سیدنا و مولانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:
لواني اعلم ان كلبا يحب عمر لاحببته۔
اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی کتا حضرت عمر سے محبت کرتا ہے ، تو مجھے وہ بھیپیارا لگے گا ۔
( تاریخ مدینۃ دمشق۔۔۔۔۔۔ ، الجزء الرابع والاربعون ، ص 376 )
لیکن .............
سگانِ مدینہ کے سرِعام پاؤں چوم کر ، اِس کی تصویریں سوشل میڈیا پر عام کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔
سگِ طیبہکے پاؤں چومنے والا اگر تو واقعی اِس حد تک محبتِ رسول میں فنا ہوچکا ہے کہ اُسے محبوب ﷺ ، اور نسبتِ محبوب کے سوا کچھ یاد ہی نہیں رہا ، تو اس پر کوئی سخت حکم نہیں لگایا جاسکتا ؛ لیکن اس حرکت کو عوام میں مشہور کرنا کئی مفاسد کے دروازے کھول سکتاہے ۔
رسولاللہ ﷺ کی پیروی کریں ، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو حرز جاں بنائیں ، دن رات توبہ استغفار کریں ، تلاوت قرآن اور نعت شریف کو ورد زباں رکھیں ؛ یہ اعمال محبت رسول کی معراج ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-8-2020 ء
سیدنا و مولانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:
لواني اعلم ان كلبا يحب عمر لاحببته۔
اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی کتا حضرت عمر سے محبت کرتا ہے ، تو مجھے وہ بھیپیارا لگے گا ۔
( تاریخ مدینۃ دمشق۔۔۔۔۔۔ ، الجزء الرابع والاربعون ، ص 376 )
لیکن .............
سگانِ مدینہ کے سرِعام پاؤں چوم کر ، اِس کی تصویریں سوشل میڈیا پر عام کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔
سگِ طیبہکے پاؤں چومنے والا اگر تو واقعی اِس حد تک محبتِ رسول میں فنا ہوچکا ہے کہ اُسے محبوب ﷺ ، اور نسبتِ محبوب کے سوا کچھ یاد ہی نہیں رہا ، تو اس پر کوئی سخت حکم نہیں لگایا جاسکتا ؛ لیکن اس حرکت کو عوام میں مشہور کرنا کئی مفاسد کے دروازے کھول سکتاہے ۔
رسولاللہ ﷺ کی پیروی کریں ، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو حرز جاں بنائیں ، دن رات توبہ استغفار کریں ، تلاوت قرآن اور نعت شریف کو ورد زباں رکھیں ؛ یہ اعمال محبت رسول کی معراج ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سَنہ 1441ہجری کا آخری مہینہ گزر رہا ہے ، رب تعالیٰ عافیت سے گزارے ۔
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کشمیر اور بابری مسجد کا حل آنسو نہیں ، عملی اقدام ہے ؛ جیسے ترکوں نے آیا صوفیہ کے لیے کیا ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصطفی کمال ، جدید ترکوں کا " قائد اعظم " ہے ۔
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اقبال مرحوم کا ایک دعائیہ کلام ہے ؎
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ:
بیروت ، عَجمان ، نَجف اور جدہ میں آگ کا بھڑک اٹھنا اور ہزاروں مسلمانوں کا اس کی زد میں آجانا ، املاک تباہ ہوجانا سب " اچانک " ہوا ؟؟
ہرگز نہیں !!
ایساپوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا ہےاور مسلم ممالک کے خلاف منصوبہ بندیاں عرصہ دراز سے چل رہی ہیں ۔
ان مظالم کاحل ، امت مسلمہ کا اتحاد اور مسلمان حکمرانوں کا شعور ہے ۔
اس سلسلے میں ہم یہ کرسکتے ہیں کہ:
جن سیاست دانوں ، حکومتی اور فوجی عہدے داروں تک ہماری رسائی ہے ان کا شعور بیدار کریں ، ان میں اسلامی اور قومی فکر پیدا کریں ، انھیں سمجھائیں کہ مسلمان ہونے کا کیا معنی ہے ۔
نیز ایسے لوگ تیار کریں جو ایمانی غیرت ، اسلامی فکر ، اور سیاسی بصیرت رکھتے ہوں ؛ مردہ ضمیر ، ڈرپوک ، عیاش اور بکاؤ نہ ہوں ۔
ایسے لوگ ہی ظالموں کے ہاتھ روک سکیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
7-8-2020 ء
بیروت ، عَجمان ، نَجف اور جدہ میں آگ کا بھڑک اٹھنا اور ہزاروں مسلمانوں کا اس کی زد میں آجانا ، املاک تباہ ہوجانا سب " اچانک " ہوا ؟؟
ہرگز نہیں !!
ایساپوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا ہےاور مسلم ممالک کے خلاف منصوبہ بندیاں عرصہ دراز سے چل رہی ہیں ۔
ان مظالم کاحل ، امت مسلمہ کا اتحاد اور مسلمان حکمرانوں کا شعور ہے ۔
اس سلسلے میں ہم یہ کرسکتے ہیں کہ:
جن سیاست دانوں ، حکومتی اور فوجی عہدے داروں تک ہماری رسائی ہے ان کا شعور بیدار کریں ، ان میں اسلامی اور قومی فکر پیدا کریں ، انھیں سمجھائیں کہ مسلمان ہونے کا کیا معنی ہے ۔
نیز ایسے لوگ تیار کریں جو ایمانی غیرت ، اسلامی فکر ، اور سیاسی بصیرت رکھتے ہوں ؛ مردہ ضمیر ، ڈرپوک ، عیاش اور بکاؤ نہ ہوں ۔
ایسے لوگ ہی ظالموں کے ہاتھ روک سکیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
7-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کہاں گئے وہ لوگ ! 🥀
شعر گوئی بہت عمدہ فن ہے ، شعر فہمی بھی کمال کی چیز ہے ، لیکن شعر سمجھ کر اس سے کما حقہ محظوظ ہونا ہر کسی کا کام نہیں ۔
کہا جاتا ہے فَرزدق کے سامنےکسی نے حضرت لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھا ؎
وجَلا السیول عن الطّلول کانھا
زبرتجد متونھا اقلامھا
( سیلابوں نے کھنڈروں کومٹی میں دب جانے کے بعد ظاہر کردیا ،گویا کہ وہ کتابیں ہیں جن کے قلموں نے ان کی کتابت کودوبارہ چمکادیا )
فرزدق یہ شعر سن کرسجدے میں گر گیا -
کسی نے کہا:
ابوفراس ! یہ سجدہ کیسا ؟
کہنے لگا:
انکم تعرفون سجدۃ القران وانا اعرف سجدۃ الشعر -
تم قران کے سجدوں کوجانتے ہو ، میں شعر کے سجدوں کوجانتاہوں -
(خاص الخاص ، امام ابومنصور ثعالبی (م 429 ھ) ، ص 147 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
مرزا غالب نے مومن خان مومن کا یہ شعر دیکھا ؎
تم میرے پاس ہوتے ہوگویا
جب کوئی دوسرانہیں ہوتا
تو کہنے لگا:
مومن کے اس شعر کے بدلے میں اپناپورا دیوان دینے کوتیارہوں ۔
( اردوشاعری کاتنقیدی مطالعہ ، ڈاکٹر سنبل نگار ، ص 54 ، دارالنورلاہور )
مولانا غنیمت کنجاہی رحمہاللہ کا شعر ہے ؎
بگفتا قیمتش ، گفتم نگاهی
بگفتا کمترک ، گفتم که گاهی
( میرے محبوب نے میرے دل کے ٹکڑوں کی قیمت پوچھی تو میں نے کہاتیری نگاہ ۔
کہنے لگا یہ قیمت زیادہ ہے ، کچھ کم کرو ۔
میں نے کہا میرے محبوب ہمیشہ نہ سہی ، کبھی کبھی نگاہ فرمادینا )
پیر نصیر الدین نصیر یہ شعر پڑھ کر ، جھوم گئے اور کنجاہ مولانا غنیمت کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے ۔
خود کہتے ہیں:
میں نےمولانا غنیمت کی اس مصرعے پر قدم بوسی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اللہ نے بڑی شاعرانہ صلاحیتیں عطافرمائی ہیں ، لیکن ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میں نے اُن کی قبر چومی ۔
✍️لقمان شاہد
10-8-2020ء
شعر گوئی بہت عمدہ فن ہے ، شعر فہمی بھی کمال کی چیز ہے ، لیکن شعر سمجھ کر اس سے کما حقہ محظوظ ہونا ہر کسی کا کام نہیں ۔
کہا جاتا ہے فَرزدق کے سامنےکسی نے حضرت لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھا ؎
وجَلا السیول عن الطّلول کانھا
زبرتجد متونھا اقلامھا
( سیلابوں نے کھنڈروں کومٹی میں دب جانے کے بعد ظاہر کردیا ،گویا کہ وہ کتابیں ہیں جن کے قلموں نے ان کی کتابت کودوبارہ چمکادیا )
فرزدق یہ شعر سن کرسجدے میں گر گیا -
کسی نے کہا:
ابوفراس ! یہ سجدہ کیسا ؟
کہنے لگا:
انکم تعرفون سجدۃ القران وانا اعرف سجدۃ الشعر -
تم قران کے سجدوں کوجانتے ہو ، میں شعر کے سجدوں کوجانتاہوں -
(خاص الخاص ، امام ابومنصور ثعالبی (م 429 ھ) ، ص 147 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
مرزا غالب نے مومن خان مومن کا یہ شعر دیکھا ؎
تم میرے پاس ہوتے ہوگویا
جب کوئی دوسرانہیں ہوتا
تو کہنے لگا:
مومن کے اس شعر کے بدلے میں اپناپورا دیوان دینے کوتیارہوں ۔
( اردوشاعری کاتنقیدی مطالعہ ، ڈاکٹر سنبل نگار ، ص 54 ، دارالنورلاہور )
مولانا غنیمت کنجاہی رحمہاللہ کا شعر ہے ؎
بگفتا قیمتش ، گفتم نگاهی
بگفتا کمترک ، گفتم که گاهی
( میرے محبوب نے میرے دل کے ٹکڑوں کی قیمت پوچھی تو میں نے کہاتیری نگاہ ۔
کہنے لگا یہ قیمت زیادہ ہے ، کچھ کم کرو ۔
میں نے کہا میرے محبوب ہمیشہ نہ سہی ، کبھی کبھی نگاہ فرمادینا )
پیر نصیر الدین نصیر یہ شعر پڑھ کر ، جھوم گئے اور کنجاہ مولانا غنیمت کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے ۔
خود کہتے ہیں:
میں نےمولانا غنیمت کی اس مصرعے پر قدم بوسی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اللہ نے بڑی شاعرانہ صلاحیتیں عطافرمائی ہیں ، لیکن ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میں نے اُن کی قبر چومی ۔
✍️لقمان شاہد
10-8-2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دن بھر آپ نے فیس بک پر بہت ساری چیزیں دیکھی اور پڑھی ہوں گی ......... چلیں سوتے وقت یہ سطریں بھی پڑھ لیں ۔
سید ادیب رائے پوری مرحوم کا نعتیہ کلام ہے ؎
جو لَمحے تھے سُکُوں کے ، سب مدینے میں گُزار آئے
وَطَن میں اے دلِ مُضطَر تجھے کیسے قرار آئے
اس میں ایک شعر ہے ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
ادیب نے اِس شعر میں ہَوا کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
¹خَزاں
²نَسِیم
³صَبا
⁴بَہار
خزاں: ایسی ہوا ہوتی ہےجس سے پتے جھڑ جاتے ہیں ، پھول مرجھا جاتے ہیں ۔
نسیم: ہوا کا وہ خوش گوار جھونکا ہوتا ہے جو پاس سے گزرے تو پرسکون کرجاتا ہے ۔
صبا: اُس پیاری ہوا کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت گوشۂ شمال و مشرق سے چلتی ہے اور غنچے تک کھلا دیتی ہے ۔
بہار: وہ ہوا ہے جو مرجھائے ہوئے پھول کھلاتی ہے ، خشک ٹہنیاں سر سبز کرتی ہے ، جس کے چلنے سے باغ میں بہار آتی ہے ، چمن میں نکھار آتا ہے ۔
اب شعر سمجھیے!
ان چاروں ہواؤں نے جب مدینہ پاک میں داخلے کی کوشش کی تو حکم ہوا:
خزاں ! تمھارا اس شہر میں داخلہ ممنوع ہے ، تم طیببہ کی گلیوں سے گزرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔
اے نسیم ، صبا اور بہار ! تم تینوں کوئے حبیب میں آسکتی ہو اور بار بار آسکتی ہو ۔ ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طَیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
✍️لقمان شاہد
11-8-2020ء
سید ادیب رائے پوری مرحوم کا نعتیہ کلام ہے ؎
جو لَمحے تھے سُکُوں کے ، سب مدینے میں گُزار آئے
وَطَن میں اے دلِ مُضطَر تجھے کیسے قرار آئے
اس میں ایک شعر ہے ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
ادیب نے اِس شعر میں ہَوا کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
¹خَزاں
²نَسِیم
³صَبا
⁴بَہار
خزاں: ایسی ہوا ہوتی ہےجس سے پتے جھڑ جاتے ہیں ، پھول مرجھا جاتے ہیں ۔
نسیم: ہوا کا وہ خوش گوار جھونکا ہوتا ہے جو پاس سے گزرے تو پرسکون کرجاتا ہے ۔
صبا: اُس پیاری ہوا کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت گوشۂ شمال و مشرق سے چلتی ہے اور غنچے تک کھلا دیتی ہے ۔
بہار: وہ ہوا ہے جو مرجھائے ہوئے پھول کھلاتی ہے ، خشک ٹہنیاں سر سبز کرتی ہے ، جس کے چلنے سے باغ میں بہار آتی ہے ، چمن میں نکھار آتا ہے ۔
اب شعر سمجھیے!
ان چاروں ہواؤں نے جب مدینہ پاک میں داخلے کی کوشش کی تو حکم ہوا:
خزاں ! تمھارا اس شہر میں داخلہ ممنوع ہے ، تم طیببہ کی گلیوں سے گزرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔
اے نسیم ، صبا اور بہار ! تم تینوں کوئے حبیب میں آسکتی ہو اور بار بار آسکتی ہو ۔ ؎
خَزاں کو حُکم ہے داخِل نہ ہو طَیبہ کی گلیوں میں
اِجازت ہے نَسیم آئے ، صَبا آئے ، بہار آئے
✍️لقمان شاہد
11-8-2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
¹ معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:
صدقہ کرنے کا ثواب دس گُنا ہے ، اور قرضہ دینے کا ثواب اٹھارہ گُنا ۔
² جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک بار قرض دیتاہے ، اسے اُتنامال دو بار صدقہ کرنے کاثواب ملتاہے ۔
( الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، ر 1324 ، 1325 )
جب اللہ کے پیارے حبیب چاہتے ہیں کہ میرے صاحبِ ثَروت اُمتی ، میرے ضرورت مند اُمتیوں کو قرضہ دیا کریں ، تو کیوں نہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کیمحبت میں ایسا کرنے والے بن جائیں !!
آپ میرے لیے دعا کریں ، میں آپ کے لیے کرتا ہوں کہ:
رب تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ ، مسلمانوں کو قرضہ دینے والا بنادے ۔
✍️لقمان شاہد
12-8-2020 ء
¹ معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:
صدقہ کرنے کا ثواب دس گُنا ہے ، اور قرضہ دینے کا ثواب اٹھارہ گُنا ۔
² جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک بار قرض دیتاہے ، اسے اُتنامال دو بار صدقہ کرنے کاثواب ملتاہے ۔
( الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، ر 1324 ، 1325 )
جب اللہ کے پیارے حبیب چاہتے ہیں کہ میرے صاحبِ ثَروت اُمتی ، میرے ضرورت مند اُمتیوں کو قرضہ دیا کریں ، تو کیوں نہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کیمحبت میں ایسا کرنے والے بن جائیں !!
آپ میرے لیے دعا کریں ، میں آپ کے لیے کرتا ہوں کہ:
رب تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ ، مسلمانوں کو قرضہ دینے والا بنادے ۔
✍️لقمان شاہد
12-8-2020 ء