#وقت_کی_پکار
ایسی پریشانی اور بے بسی کے عالم میں بھی روز بروز جس طرح سے ہمارے یہاں تقریبات کی کثرت ہوتی جارہی ہے وہ تشویشناک ہے۔
اب ہر شخصیت کے یوم وصال کے ساتھ ساتھ یوم پیدائش بھی منایا جارہا ہے۔ اور اگر اس ممدوح کی زندگی میں کوئی خاص دن تھا تو اسے بھی سلیبریٹ کیا جارہا ہے۔
ہماری ان رسومات اور ان میں در آئی خرافات کو دیکھ کر ہی پڑھے لکھے دانشور لوگ ہمارے قریب نہیں آتے اور سنیوں کو جاہلوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔
جبکہ اب تک اہل سنت کا طریقہ یہی رہا ہے کہ یوم پیدائش صرف آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منایا جاتا رہا ہے بقیہ سب کے یوم وصال منائے جاتے رہے ہیں۔ اور اب بھی یہی کرنے کی ضرورت ہے۔
ورنہ جس تیزی کے ساتھ یوم پیدائش اور یوم وصال اور ایام مخصوصہ کی تقریبات منائی جارہی ہیں کچھ ہی دنوں میں کوئی دن باقی نہ رہے گا جس دن مسلمانوں کا اچھا خاصہ پیسہ ان میں خرچ نہ ہو۔
وہیں تعمیری کام اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہیں گے۔
آج امت مسلمہ کو ضرورت ہے اپنے کالیجوں، ہسپتالوں، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی۔
اگر اس پر وقت رہتے توجہ نہ دی گئی تو پھر زندگی کی تمنا محض خواب ہوگی۔
کرنا تو یہ چاہیے! کہ اپنے اپنے ممدوح کے نام پر جلسہ، جلوس اور قوالی وغیرہ میں لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے اسی ممدوح کے نام سے؛ اسی پیسہ سے ان کے ایصال ثواب کے لیے ایک اسکول قائم کردیں، ہرسال اس میں اضافہ کرتے جائیں۔
کچھ میڈکل اور قانون کے طلبہ کو اسکالرشپ کا انتظام کردیں۔
اگر مریدین و متوسلین صاحب حیثیت ہیں تو میڈیکل کالیج بنوائیں یا مختلف شہروں میں اچھے اسکول قائم کرتے جائیں۔
اگر یہ کام ہوگیا تو وہ ایصال ثواب جو ایک بار میں ختم ہوجاتا تھا اب وہ صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔
اس سے آپ کے ممدوح کو زیادہ خوشی ہوگی۔ اور امت کی مشکلات بھی حل ہونگی۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
ایسی پریشانی اور بے بسی کے عالم میں بھی روز بروز جس طرح سے ہمارے یہاں تقریبات کی کثرت ہوتی جارہی ہے وہ تشویشناک ہے۔
اب ہر شخصیت کے یوم وصال کے ساتھ ساتھ یوم پیدائش بھی منایا جارہا ہے۔ اور اگر اس ممدوح کی زندگی میں کوئی خاص دن تھا تو اسے بھی سلیبریٹ کیا جارہا ہے۔
ہماری ان رسومات اور ان میں در آئی خرافات کو دیکھ کر ہی پڑھے لکھے دانشور لوگ ہمارے قریب نہیں آتے اور سنیوں کو جاہلوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔
جبکہ اب تک اہل سنت کا طریقہ یہی رہا ہے کہ یوم پیدائش صرف آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منایا جاتا رہا ہے بقیہ سب کے یوم وصال منائے جاتے رہے ہیں۔ اور اب بھی یہی کرنے کی ضرورت ہے۔
ورنہ جس تیزی کے ساتھ یوم پیدائش اور یوم وصال اور ایام مخصوصہ کی تقریبات منائی جارہی ہیں کچھ ہی دنوں میں کوئی دن باقی نہ رہے گا جس دن مسلمانوں کا اچھا خاصہ پیسہ ان میں خرچ نہ ہو۔
وہیں تعمیری کام اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہیں گے۔
آج امت مسلمہ کو ضرورت ہے اپنے کالیجوں، ہسپتالوں، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی۔
اگر اس پر وقت رہتے توجہ نہ دی گئی تو پھر زندگی کی تمنا محض خواب ہوگی۔
کرنا تو یہ چاہیے! کہ اپنے اپنے ممدوح کے نام پر جلسہ، جلوس اور قوالی وغیرہ میں لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے اسی ممدوح کے نام سے؛ اسی پیسہ سے ان کے ایصال ثواب کے لیے ایک اسکول قائم کردیں، ہرسال اس میں اضافہ کرتے جائیں۔
کچھ میڈکل اور قانون کے طلبہ کو اسکالرشپ کا انتظام کردیں۔
اگر مریدین و متوسلین صاحب حیثیت ہیں تو میڈیکل کالیج بنوائیں یا مختلف شہروں میں اچھے اسکول قائم کرتے جائیں۔
اگر یہ کام ہوگیا تو وہ ایصال ثواب جو ایک بار میں ختم ہوجاتا تھا اب وہ صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔
اس سے آپ کے ممدوح کو زیادہ خوشی ہوگی۔ اور امت کی مشکلات بھی حل ہونگی۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::مصلیا و مسلما
محررین و ومقررین قوم مسلم کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں۔
قلم کاران و محررین اور خطبا ومقررین بھارتی مسلمانوں کے خستہ حالات کی جانب متوجہ ہوں اور مصائب و مشکلات سے قوم کو باہر نکالنے کی تدابیر بیان کریں۔
ہماری فکر اس قدر غلط راہ پر جا چکی ہے کہ اگر گزارش کی جائے کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور اس سے نجات سے متعلق ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو نہ ہی کوئی پسند کرے گا، نہ ہی قلم کار حضرات مضامین لکھیں گے۔
لیکن کہا جائے کہ فلاں شخصیت کے تعارف کے لئے ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو ہر کوئی داد و تحسین کی بارش کرے گا اور مضامین کے ڈھیر لگ جائیں گے۔
مفکرین کو سوچنا چاہئے کہ بھارتی مسلمانوں کے حالات اس قدر خراب ہیں اور قریبا ازادی کے بعد ہی سے ،بلکہ ۱۸۵۷ کی جنگ ازادی میں مسلمانوں کی شکست اور سلطنت مغلیہ کے خاتمے کے بعد ہی سے خراب ہیں۔
لیکن ہم نے وفات یافتگان کے تعارف میں نہ جانے کتنے مجموعے شائع کر ڈالے ۔
زندہ مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے شاید ایک مجموعہ بھی شائع نہ ہو سکا۔
بھارتی مسلمان تعلیم، سرکاری ملازمت، تجارت و معیشت، سیاست اور نہ جانے کتنے شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کے حالات کو دلتوں سے بدتر بتایا گیا ہے۔
ان سب حالات میں سدھار کے لئے مضامین لکھیں اور مجموعے شائع کریں۔
وفات یافتگان کی سیرت و سوانح بیان کرناصحیح ہے،لیکن زندہ مسلمانوں کی ضرورت و مصیبت پر بھی نظر محبت فرمائیں۔
چند قلم کاران مثلا علامہ غلام مصطفے نعیمی، علامہ خالد ایوب مصباحی صاحب شیرانی، علامہ محمد زاہد علی مرکزی، مولانا محمد شاہد علی مصباحی جالون، علامہ توصف رضا سنبھلی وغیرہم حالات حاضرہ پر اچھا لکھتے ہیں۔
لیکن چند لوگ ملک بھر کے حالات بدل نہیں سکتے۔
کم ازکم بھارت جیسے وسیع و عریض ملک میں چار پانچ سو تربیت یافتہ یا تجربہ کار قلم کار میدان میں اترپڑیں تو ان شاء اللہ تعالی چند سالوں میں حالات بدل جائیں گے
میں ہی اس بات کا اغاز کر دیتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی ماہنامہ پیغام شریعت دہلی کی جانب سے تین ماہ کے اندر ایک ایسا مجموعہ مضامین شائع کر دوں گا جو محض ان مضامین پر مشتمل ہو گا جو بھارتی مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوں۔یہ مجموعہ کمپوٹر ایڈیشن ہو گا۔
قلم کاران ایسے مضامین تحریر فرمائیں اور اس قسم کے مضامین پر نظر پڑے تو محرر سے اجازت لے کر مجھے بھیج دیں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ؛
09:اگست 2020
محررین و ومقررین قوم مسلم کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں۔
قلم کاران و محررین اور خطبا ومقررین بھارتی مسلمانوں کے خستہ حالات کی جانب متوجہ ہوں اور مصائب و مشکلات سے قوم کو باہر نکالنے کی تدابیر بیان کریں۔
ہماری فکر اس قدر غلط راہ پر جا چکی ہے کہ اگر گزارش کی جائے کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور اس سے نجات سے متعلق ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو نہ ہی کوئی پسند کرے گا، نہ ہی قلم کار حضرات مضامین لکھیں گے۔
لیکن کہا جائے کہ فلاں شخصیت کے تعارف کے لئے ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو ہر کوئی داد و تحسین کی بارش کرے گا اور مضامین کے ڈھیر لگ جائیں گے۔
مفکرین کو سوچنا چاہئے کہ بھارتی مسلمانوں کے حالات اس قدر خراب ہیں اور قریبا ازادی کے بعد ہی سے ،بلکہ ۱۸۵۷ کی جنگ ازادی میں مسلمانوں کی شکست اور سلطنت مغلیہ کے خاتمے کے بعد ہی سے خراب ہیں۔
لیکن ہم نے وفات یافتگان کے تعارف میں نہ جانے کتنے مجموعے شائع کر ڈالے ۔
زندہ مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے شاید ایک مجموعہ بھی شائع نہ ہو سکا۔
بھارتی مسلمان تعلیم، سرکاری ملازمت، تجارت و معیشت، سیاست اور نہ جانے کتنے شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کے حالات کو دلتوں سے بدتر بتایا گیا ہے۔
ان سب حالات میں سدھار کے لئے مضامین لکھیں اور مجموعے شائع کریں۔
وفات یافتگان کی سیرت و سوانح بیان کرناصحیح ہے،لیکن زندہ مسلمانوں کی ضرورت و مصیبت پر بھی نظر محبت فرمائیں۔
چند قلم کاران مثلا علامہ غلام مصطفے نعیمی، علامہ خالد ایوب مصباحی صاحب شیرانی، علامہ محمد زاہد علی مرکزی، مولانا محمد شاہد علی مصباحی جالون، علامہ توصف رضا سنبھلی وغیرہم حالات حاضرہ پر اچھا لکھتے ہیں۔
لیکن چند لوگ ملک بھر کے حالات بدل نہیں سکتے۔
کم ازکم بھارت جیسے وسیع و عریض ملک میں چار پانچ سو تربیت یافتہ یا تجربہ کار قلم کار میدان میں اترپڑیں تو ان شاء اللہ تعالی چند سالوں میں حالات بدل جائیں گے
میں ہی اس بات کا اغاز کر دیتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی ماہنامہ پیغام شریعت دہلی کی جانب سے تین ماہ کے اندر ایک ایسا مجموعہ مضامین شائع کر دوں گا جو محض ان مضامین پر مشتمل ہو گا جو بھارتی مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوں۔یہ مجموعہ کمپوٹر ایڈیشن ہو گا۔
قلم کاران ایسے مضامین تحریر فرمائیں اور اس قسم کے مضامین پر نظر پڑے تو محرر سے اجازت لے کر مجھے بھیج دیں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ؛
09:اگست 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#لباس_شخصیت_کا_تعارف_ہوتا_ہے!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
کچھ وقت پہلے ایک دوست کے ہمراہ ایک فاضل دانشور کی محفل میں جانا ہوا۔فاضل موصوف میرے قدیم شناساؤں میں ہیں۔اپنی مختصر عمر اور محدود مشاہدہ میں، موصوف سا مفکر ومدبر اور بے باک شخصیت کم ہی دیکھی ہیں۔ان کا حد درجہ مخلص ہونا سونے پر سہاگہ ہے۔
چائے نوشی کے دوران مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوتی رہی۔گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی نشست کے بعد ہم نے ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی۔راستے میں ہمارے دوست نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ میں موصوف سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوا۔عدم اطمینان کی وجہ جان کر تھوڑا حیران بھی ہوا لیکن پھر خیال آیا کہ زیادہ تر لوگ ظاہری تراش خراش سے ہی شخصیت کا اندازہ لگایا کرتے ہیں۔مشہور کہاوت ہے:
First impression is the last impression
"پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے"
ہم کسی بھی انسان کو ظاہری تراش خراش سے ہی 60/70 فیصد تک پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔بات کرنے اور تعارف ہوجانے کے بعد یہ تناسب کم یا زیادہ ہوجاتا ہے۔لیکن ظاہری طور پر سامنے والے کی شخصیت کا Dressing sense بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، عربی کی مشہور کہاوت ہے:
الناس باللباس۔
"انسان کی پہچان اس کے کپڑوں سے بھی ہوتی ہے۔"
آقائے دوجہاں ﷺ نے اس پہلو سے بھی امت مسلمہ کی مثالی رہنمائی فرمائی ہے، آپ ﷺ بڑے خوش لباس اور عمدہ وضع قطع والے تھے۔ ظاہری زیب وزینت کا بھرپور خیال فرماتے۔ ستھرا لباس ، خوشبو، سرمہ، تیل اور کنگھی وغیرہ کا مسلسل استعمال فرماتے۔ عیدین اور جمعہ جیسے خاص مواقع پر، سرداروں سے ملاقات کے وقت عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔ ابوالاحوص کے والد بتاتے ہیں میں گھٹیا درجے کا لباس پہن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میرے کپڑے دیکھ کر فرمایا:
آپ کے پاس مال ہے؟
میں نے کہا، جی ہاں۔
آپ نے پوچھا،
کیسا مال؟
میں نے جواب دیا:
"میرے پاس اونٹ، گائیں ، بکریاں ،گھوڑے ، غلام سب کچھ ہیں۔
اس پر آپ ﷺنے فرمایا:
مَن أَنعَمَ اللّه عَلَيهِ نِعمةً، فَانّ اللّه یُحِبّ أن یُرٰی اَثَرُ نِعْمَتِه عَلٰی عَبْدِہ۔ (مسند احمد 438/4)
"جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی ہو تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ اپنے بندے پر اس کا اثر دیکھے۔"
یعنی انسان کے ظاہری حلیہ سے اللہ کی نعمتوں کا اظہار ہونا چاہیے، اس طور پر کہ بندے کے کپڑے اچھے ہوں، نئے نہ ہوں تو بھی صاف ستھرے ضرور ہوں، خوشبو تیل وغیرہ کا استعمال بھی اظہار نعمت کا ذریعہ ہے۔
___ *سلیقہ زندگی*
کپڑوں کے علاوہ انسان کا Living standard بھی شخصیت شناسی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ:
آپ کے کمرے کا ساز وسامان ترتیب سے رکھا ہے کہ نہیں؟
آپ کھاتے کس طرح ہیں؟
مطالعے کی میز پر کتابیں کس طرح رکھی ہیں؟
دیوار پر لگے کیلنڈر کی تاریخ درست ہے کہ نہیں؟
یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے آج کل شخصیت شناسی کا کام لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر انسان کا Standard طے کیا جاتا ہے۔حالانکہ ان عادات کی بنا پر کسی شخصیت کا مکمل تعارف ممکن نہیں ہے۔ یہ اوصاف کسی شخصیت کا صرف ظاہری حصہ بھر ہیں جو ایک حد تک انسان کی بعض عادتوں کا تعارف ہوتے ہیں لیکن مکمل شخصیت کا آئینہ نہیں !!
_____ شخصیت (Personality) انسان کے ذہنی، جسمانی، شخصی، برتاؤ ، رویوں، اوصاف اور کردار کے مجموعہ کا نام ہے۔آسان لفظوں میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو انسان کی ظاہری و باطنی صفات ، فکرو نظریات، اخلاقی اقدار ، جذبات و احساسات ہی کسی انسان کا مکمل تعارف ہوتے ہیں۔ یعنی ظاہری حسن وجمال اور طرز رہائش سے وقتی طور پر کسی شخصیت کا ہلکا پھلکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن کردار کی خوب صورتی اور فکر کی بلندی ہی شخصیت کا اصل تعارف ہوتی ہے۔کیوں کہ انسان کا کردار اور اسکی فکر ہی شخصیت کی اصل ترجمان ہوتی ہے ،انسان محض اپنے کپڑوں اور Living standard کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے خیالات ونظریات کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں:
تا مردے سخن نگفتہ باشد
عیب وہنرش نہفتہ باشد
"جب تک انسان گفتگو نہیں کرتا، اس کے عیب وہنر چھپے رہتے ہیں۔"
کسی بھی شخصیت کے بارے میں اس کی فکرو نظر،اور اسکے کردار کو سامنے رکھ رائے قائم کی جائے ، کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ اچھی فکر ونظر رکھنے والی بعض شخصیات خوش لباسی اور طرز زندگانی میں قدرے سست واقع ہوتی ہیں، ایسے میں محض ظاہرداری کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم کرنا جلد بازی ہے۔حضرت سعدی فرماتے ہیں:
ہر بیشہ گماں مبر کہ خالی است
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
"ہر جھاڑی کو خالی نہ سمجھ
ممکن ہے کہ شیر سویا ہوا ہو۔"
محض سادے اور میلے کپڑے دیکھ کر ہی بندے کو "خالی" سمجھنا بڑی بھول ہے۔ آدمی کا جوہر اس کی گفتگو سے کھلتا ہے۔
یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ آدمی کتنا ہی بڑا مفکر اور اعلی سوچ رکھنے والا کیوں نہ ہو، اگر وہ حد سے زیادہ سادہ ہے تو عوام سادگی کی بنا پر متاثر نہیں ہوپاتی۔اس ل
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
کچھ وقت پہلے ایک دوست کے ہمراہ ایک فاضل دانشور کی محفل میں جانا ہوا۔فاضل موصوف میرے قدیم شناساؤں میں ہیں۔اپنی مختصر عمر اور محدود مشاہدہ میں، موصوف سا مفکر ومدبر اور بے باک شخصیت کم ہی دیکھی ہیں۔ان کا حد درجہ مخلص ہونا سونے پر سہاگہ ہے۔
چائے نوشی کے دوران مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوتی رہی۔گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی نشست کے بعد ہم نے ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی۔راستے میں ہمارے دوست نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ میں موصوف سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوا۔عدم اطمینان کی وجہ جان کر تھوڑا حیران بھی ہوا لیکن پھر خیال آیا کہ زیادہ تر لوگ ظاہری تراش خراش سے ہی شخصیت کا اندازہ لگایا کرتے ہیں۔مشہور کہاوت ہے:
First impression is the last impression
"پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے"
ہم کسی بھی انسان کو ظاہری تراش خراش سے ہی 60/70 فیصد تک پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔بات کرنے اور تعارف ہوجانے کے بعد یہ تناسب کم یا زیادہ ہوجاتا ہے۔لیکن ظاہری طور پر سامنے والے کی شخصیت کا Dressing sense بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، عربی کی مشہور کہاوت ہے:
الناس باللباس۔
"انسان کی پہچان اس کے کپڑوں سے بھی ہوتی ہے۔"
آقائے دوجہاں ﷺ نے اس پہلو سے بھی امت مسلمہ کی مثالی رہنمائی فرمائی ہے، آپ ﷺ بڑے خوش لباس اور عمدہ وضع قطع والے تھے۔ ظاہری زیب وزینت کا بھرپور خیال فرماتے۔ ستھرا لباس ، خوشبو، سرمہ، تیل اور کنگھی وغیرہ کا مسلسل استعمال فرماتے۔ عیدین اور جمعہ جیسے خاص مواقع پر، سرداروں سے ملاقات کے وقت عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔ ابوالاحوص کے والد بتاتے ہیں میں گھٹیا درجے کا لباس پہن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میرے کپڑے دیکھ کر فرمایا:
آپ کے پاس مال ہے؟
میں نے کہا، جی ہاں۔
آپ نے پوچھا،
کیسا مال؟
میں نے جواب دیا:
"میرے پاس اونٹ، گائیں ، بکریاں ،گھوڑے ، غلام سب کچھ ہیں۔
اس پر آپ ﷺنے فرمایا:
مَن أَنعَمَ اللّه عَلَيهِ نِعمةً، فَانّ اللّه یُحِبّ أن یُرٰی اَثَرُ نِعْمَتِه عَلٰی عَبْدِہ۔ (مسند احمد 438/4)
"جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی ہو تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ اپنے بندے پر اس کا اثر دیکھے۔"
یعنی انسان کے ظاہری حلیہ سے اللہ کی نعمتوں کا اظہار ہونا چاہیے، اس طور پر کہ بندے کے کپڑے اچھے ہوں، نئے نہ ہوں تو بھی صاف ستھرے ضرور ہوں، خوشبو تیل وغیرہ کا استعمال بھی اظہار نعمت کا ذریعہ ہے۔
___ *سلیقہ زندگی*
کپڑوں کے علاوہ انسان کا Living standard بھی شخصیت شناسی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ:
آپ کے کمرے کا ساز وسامان ترتیب سے رکھا ہے کہ نہیں؟
آپ کھاتے کس طرح ہیں؟
مطالعے کی میز پر کتابیں کس طرح رکھی ہیں؟
دیوار پر لگے کیلنڈر کی تاریخ درست ہے کہ نہیں؟
یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے آج کل شخصیت شناسی کا کام لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر انسان کا Standard طے کیا جاتا ہے۔حالانکہ ان عادات کی بنا پر کسی شخصیت کا مکمل تعارف ممکن نہیں ہے۔ یہ اوصاف کسی شخصیت کا صرف ظاہری حصہ بھر ہیں جو ایک حد تک انسان کی بعض عادتوں کا تعارف ہوتے ہیں لیکن مکمل شخصیت کا آئینہ نہیں !!
_____ شخصیت (Personality) انسان کے ذہنی، جسمانی، شخصی، برتاؤ ، رویوں، اوصاف اور کردار کے مجموعہ کا نام ہے۔آسان لفظوں میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو انسان کی ظاہری و باطنی صفات ، فکرو نظریات، اخلاقی اقدار ، جذبات و احساسات ہی کسی انسان کا مکمل تعارف ہوتے ہیں۔ یعنی ظاہری حسن وجمال اور طرز رہائش سے وقتی طور پر کسی شخصیت کا ہلکا پھلکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن کردار کی خوب صورتی اور فکر کی بلندی ہی شخصیت کا اصل تعارف ہوتی ہے۔کیوں کہ انسان کا کردار اور اسکی فکر ہی شخصیت کی اصل ترجمان ہوتی ہے ،انسان محض اپنے کپڑوں اور Living standard کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے خیالات ونظریات کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں:
تا مردے سخن نگفتہ باشد
عیب وہنرش نہفتہ باشد
"جب تک انسان گفتگو نہیں کرتا، اس کے عیب وہنر چھپے رہتے ہیں۔"
کسی بھی شخصیت کے بارے میں اس کی فکرو نظر،اور اسکے کردار کو سامنے رکھ رائے قائم کی جائے ، کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ اچھی فکر ونظر رکھنے والی بعض شخصیات خوش لباسی اور طرز زندگانی میں قدرے سست واقع ہوتی ہیں، ایسے میں محض ظاہرداری کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم کرنا جلد بازی ہے۔حضرت سعدی فرماتے ہیں:
ہر بیشہ گماں مبر کہ خالی است
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
"ہر جھاڑی کو خالی نہ سمجھ
ممکن ہے کہ شیر سویا ہوا ہو۔"
محض سادے اور میلے کپڑے دیکھ کر ہی بندے کو "خالی" سمجھنا بڑی بھول ہے۔ آدمی کا جوہر اس کی گفتگو سے کھلتا ہے۔
یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ آدمی کتنا ہی بڑا مفکر اور اعلی سوچ رکھنے والا کیوں نہ ہو، اگر وہ حد سے زیادہ سادہ ہے تو عوام سادگی کی بنا پر متاثر نہیں ہوپاتی۔اس ل
یے کم از کم جیسی محفل ہو اسی کے مطابق وضع قطع رکھنا بہتر ہے، عیب و ہنر تو تب کھلیں گے جب آپ کلام کریں گے اگر یہ موقع ہی نہ ملا تو مجلس میں شامل افراد آپ کو وقعت ہی نہ دیں گے۔ اس زمانے میں خوش لباسی شخصیت شناسی کا اہم حصہ ہے۔
15 ذوالحجہ 1441ھ
6 اگست 2020 بروز جمعرات
15 ذوالحجہ 1441ھ
6 اگست 2020 بروز جمعرات
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#شخصی_تربیت_کا_صحیح_اور_غلط_طریقہ
ہر مسلمان مستقل طور پر شرعی احکام کا مکلف ہے۔ہم جو کچھ کریں گے،اس بارے میں کل بروز حشر ہم سے سوال ہو گا۔نہ ہمارے اعمال کے بارے میں دوسروں سے سوال ہو گا،نہ ہی دوسروں کے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال ہو گا۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں بھی داڑھی نہیں رکھتا۔فلاں بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ بھی غیبت و چغل خوری میں مبتلا رہتا ہے۔فلاں مسلمان بھی سود لیتا ہے،یعنی شیطان غلط قسم کے انسانوں اور بے عمل مسلمانوں کی طرف اس کے ذہن کو موڑ دیتا ہے،پھر غلط اعمال و اخلاق میں اسے مبتلا کر دیتا ہے۔
صالحین کو دیکھ کر اپنی ذاتی تربیت:
اللہ تعالی نے شیطان کے اسی فریب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے بندوں کو یہ نسخہ بتایا کہ صالحین کے طریقے پر رہو۔
قران مجید میں متعدد ایات مقدسہ میں اس مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔
سورہ فاتحہ میں ہے: اہدنا الصراط المستقیم::صراط الذین انعمت علیہم۔
دیگر مقام پر "کونوا مع الصادقین"اور اس مفہوم کو بیان کرنے والی ایات مبارکہ موجود ہیں۔
ان قرانی ایات طیبہ سے ہمیں یہ واضح نظریہ ملتا ہے کہ اپنی شخصی تربیت میں صالحین پر نظر رکھنی ہے،نہ کہ غلط قسم کے لوگوں کا تصور ذہن میں مستحکم کر لیا جائے،پھر وہ لوگ جن برائیوں میں مبتلا ہیں،ہم بھی ان برائیوں میں خود کو مبتلا کر دیں۔
ہمیں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے اعمال صالحہ و اخلاق دیکھ کر اپنے اپ کو بھی ان اعمال و اخلاق حسنہ کا پابند بنانا چاہئے۔جب ہم اپنے دل میں ان صالحین کے نقش قدم پر چلنے کا عزم مصمم کر لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر بہت کچھ سدھار پیدا کر لیں گے اور اپنی اصلاح میں بہت حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔
خود احتسابی کے ذریعہ اپنی ذاتی تربیت:
قران مجید میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندوں کو حق و باطل، صحیح اور غلط بتا دیا ہے۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جو صحیح اور حق ہے،ہمارے بندے اس کو اختیار کریں اور جو غلط و باطل ہے،اس کو ترک کریں۔
اس کا اہم طریقہ علم شریعت سے اشنائی اور اپنا محاسبہ ہے۔شرعی احکام فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں میں دلائل کے ساتھ موجود ہیں۔علمائے دین نے ہماری اسانی کے لئے بہت سی فقہی کتابیں مقامی زبانوں میں اسان طرز پر تصنیف فرمائی ہیں۔اردو زبان میں فقہ حنفی کے لئے قانون شریعت اور بہار شریعت بہت حد تک کافی اور ہماری ضرورتوں کو پوری کرنے والی ہیں۔
عبادات،معاملات،حقوق اللہ و حقوق العباد،اسلامی اخلاق و اداب ودیگر ضرورت کے مسائل ان کتابوں میں پڑھیں اور پھر اپنا محاسبہ کریں۔
اپنے محاسبہ کا ایک وقت مقرر کر لیں،مثلا ہر دن عشا کے بعد اپنے ان تمام اعمال پر چند لمحے غور کریں جو کچھ اعمال دن بھر میں اپ سے صادر ہوئے ہیں۔ان میں سے جو غلط ہیں،ان کو ترک کرنے کا عہد اپنے دل میں کریں۔جو صحیح اعمال ہیں،ان کی پابندی کی نیت اپنے دل میں کریں۔
ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں اپ اپنی ذاتی تربیت اور خود احتسابی کے نتائج اپنی اںکھوں سے دیکھیں گے۔
جب اپ دیکھیں کہ اپ کا باطن غلط اعمال و اخلاق پر اپ کو مطعون کر رہا ہے،اور ان اعمال قبیحہ کے صدور پر اپ کا نفس اپ کو ملامت کر رہا ہے تو اپ سمجھ لیں کہ طاعت و بندگی کے باب میں اپ کی ترقی ہو چکی ہے۔اپ نفس امارہ کی قید و بند سے نکل کر نفس لوامہ کی منزل تک ا چکے ہیں۔رحمت الہی سے بعید نہیں کہ اپ کو نفس مطمئنہ تک ترقی عطا فرما دی جائے۔
جب اپ فضل الہی سے نفس مطمئنہ تک رسائی پا لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی شیطانی وسوسوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور دوسروں کی صالح تربیت بھی کر سکیں گے۔اپنی تربیت میں پختگی اور قوت کے بعد دوسروں کا مربی و معلم ہو جاتاہے۔
ابتدائی مرحلہ میں دنیا والوں کے اعمال سے انکھیں موند لو،ورنہ اس کے اعمال قبیحہ کی طرف شیطان تمہارا ذہن موڑ دے گا۔بس ابھی یہ سوچنا ہے کہ جو ادمی غلط راہ پر ہے،وہ بارگاہ خداوندی میں اپنا حساب دے گا۔کسی دوسرے کے اعمال سے ہمارا کیا تعلق۔
اگر ہو سکے تو ہم کسی کی اصلاح کی کوشش کریں،نہ کہ دوسروں کے اعمال قبیحہ و اخلاق رذیلہ کو دیکھ کر خود کو برائیوں میں مبتلا کر لیں:واللہ الہادی وہو الموفق
طارق انور مصباحی
مدیر:
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:
05:اگست2020
ہر مسلمان مستقل طور پر شرعی احکام کا مکلف ہے۔ہم جو کچھ کریں گے،اس بارے میں کل بروز حشر ہم سے سوال ہو گا۔نہ ہمارے اعمال کے بارے میں دوسروں سے سوال ہو گا،نہ ہی دوسروں کے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال ہو گا۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں بھی داڑھی نہیں رکھتا۔فلاں بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ بھی غیبت و چغل خوری میں مبتلا رہتا ہے۔فلاں مسلمان بھی سود لیتا ہے،یعنی شیطان غلط قسم کے انسانوں اور بے عمل مسلمانوں کی طرف اس کے ذہن کو موڑ دیتا ہے،پھر غلط اعمال و اخلاق میں اسے مبتلا کر دیتا ہے۔
صالحین کو دیکھ کر اپنی ذاتی تربیت:
اللہ تعالی نے شیطان کے اسی فریب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے بندوں کو یہ نسخہ بتایا کہ صالحین کے طریقے پر رہو۔
قران مجید میں متعدد ایات مقدسہ میں اس مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔
سورہ فاتحہ میں ہے: اہدنا الصراط المستقیم::صراط الذین انعمت علیہم۔
دیگر مقام پر "کونوا مع الصادقین"اور اس مفہوم کو بیان کرنے والی ایات مبارکہ موجود ہیں۔
ان قرانی ایات طیبہ سے ہمیں یہ واضح نظریہ ملتا ہے کہ اپنی شخصی تربیت میں صالحین پر نظر رکھنی ہے،نہ کہ غلط قسم کے لوگوں کا تصور ذہن میں مستحکم کر لیا جائے،پھر وہ لوگ جن برائیوں میں مبتلا ہیں،ہم بھی ان برائیوں میں خود کو مبتلا کر دیں۔
ہمیں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے اعمال صالحہ و اخلاق دیکھ کر اپنے اپ کو بھی ان اعمال و اخلاق حسنہ کا پابند بنانا چاہئے۔جب ہم اپنے دل میں ان صالحین کے نقش قدم پر چلنے کا عزم مصمم کر لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی رفتہ رفتہ ہم اپنے اندر بہت کچھ سدھار پیدا کر لیں گے اور اپنی اصلاح میں بہت حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔
خود احتسابی کے ذریعہ اپنی ذاتی تربیت:
قران مجید میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندوں کو حق و باطل، صحیح اور غلط بتا دیا ہے۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جو صحیح اور حق ہے،ہمارے بندے اس کو اختیار کریں اور جو غلط و باطل ہے،اس کو ترک کریں۔
اس کا اہم طریقہ علم شریعت سے اشنائی اور اپنا محاسبہ ہے۔شرعی احکام فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں میں دلائل کے ساتھ موجود ہیں۔علمائے دین نے ہماری اسانی کے لئے بہت سی فقہی کتابیں مقامی زبانوں میں اسان طرز پر تصنیف فرمائی ہیں۔اردو زبان میں فقہ حنفی کے لئے قانون شریعت اور بہار شریعت بہت حد تک کافی اور ہماری ضرورتوں کو پوری کرنے والی ہیں۔
عبادات،معاملات،حقوق اللہ و حقوق العباد،اسلامی اخلاق و اداب ودیگر ضرورت کے مسائل ان کتابوں میں پڑھیں اور پھر اپنا محاسبہ کریں۔
اپنے محاسبہ کا ایک وقت مقرر کر لیں،مثلا ہر دن عشا کے بعد اپنے ان تمام اعمال پر چند لمحے غور کریں جو کچھ اعمال دن بھر میں اپ سے صادر ہوئے ہیں۔ان میں سے جو غلط ہیں،ان کو ترک کرنے کا عہد اپنے دل میں کریں۔جو صحیح اعمال ہیں،ان کی پابندی کی نیت اپنے دل میں کریں۔
ان شاء اللہ تعالی چند ماہ میں اپ اپنی ذاتی تربیت اور خود احتسابی کے نتائج اپنی اںکھوں سے دیکھیں گے۔
جب اپ دیکھیں کہ اپ کا باطن غلط اعمال و اخلاق پر اپ کو مطعون کر رہا ہے،اور ان اعمال قبیحہ کے صدور پر اپ کا نفس اپ کو ملامت کر رہا ہے تو اپ سمجھ لیں کہ طاعت و بندگی کے باب میں اپ کی ترقی ہو چکی ہے۔اپ نفس امارہ کی قید و بند سے نکل کر نفس لوامہ کی منزل تک ا چکے ہیں۔رحمت الہی سے بعید نہیں کہ اپ کو نفس مطمئنہ تک ترقی عطا فرما دی جائے۔
جب اپ فضل الہی سے نفس مطمئنہ تک رسائی پا لیں گے تو ان شاء اللہ تعالی شیطانی وسوسوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور دوسروں کی صالح تربیت بھی کر سکیں گے۔اپنی تربیت میں پختگی اور قوت کے بعد دوسروں کا مربی و معلم ہو جاتاہے۔
ابتدائی مرحلہ میں دنیا والوں کے اعمال سے انکھیں موند لو،ورنہ اس کے اعمال قبیحہ کی طرف شیطان تمہارا ذہن موڑ دے گا۔بس ابھی یہ سوچنا ہے کہ جو ادمی غلط راہ پر ہے،وہ بارگاہ خداوندی میں اپنا حساب دے گا۔کسی دوسرے کے اعمال سے ہمارا کیا تعلق۔
اگر ہو سکے تو ہم کسی کی اصلاح کی کوشش کریں،نہ کہ دوسروں کے اعمال قبیحہ و اخلاق رذیلہ کو دیکھ کر خود کو برائیوں میں مبتلا کر لیں:واللہ الہادی وہو الموفق
طارق انور مصباحی
مدیر:
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:
05:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باسمہ تعالی وبحمدہ والصلوات والتسلیمات علی حبیبہ المصطفے والہ
#کورونا_وائرس_اور_دنیا_کا_بدلتا_ماحول
کسی بھی مخلوق کی تخلیق رب تعالی ہی فرماتا ہے۔بندوں کو تخلیق کی قدرت نہیں دی گئی۔
اگر کورونا وائرس بھی کسی مخلوق جراثیم کا نام ہے تو اس کی تخلیق بھی رب تعالی کی جانب سے ہی ہو سکتی ہے۔انسان کچھ کیمیکل اور دواوں کے ذریعہ اس کو مزید زہریلا بنا سکتا ہے۔اسی طرح دواوں کے اثرات سے اس کے زہر اور ضرر کو کم بھی کر سکتا ہے۔کسی ابادی میں سازش کے ذریعہ اس کو پھیلایا بھی جا سکتا ہے۔
موجودہ عہد میں کورونا وائرس سے متعلق متضاد نظریات سامنے ائے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس سانس کی نالیوں اور گزرگاہوں میں جب کثیر تعداد میں بیٹھ جائے تو سانس کی امد و رفت میں پریشانی ہونے لگتی ہے۔
پھیپھڑوں تک اگر سانس نہ پہنچ سکے تو موت کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ جراثیم پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں وینٹیلیٹر کے ذریعہ انسانی جسم میں اکسیجن پہنچایا جاتا ہے اور دواوں کے ذریعہ وائرس کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
اس وائرس کی کیفیت ایسی ہے کہ جیسے انسان کا گلا دب جائے اور سانس اندر نہ جا سکے تو دم گھٹنے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ وائرس بھی سانس کے راستے کو بند کر دیتا ہے اور انسان کی موت ہو جاتی ہے۔
جو لوگ پہلے سے ہی سانس کی تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوں،ان کے لئے یہ وائرس زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس سے بچنے کا اسان طریقہ یہ ہے کہ ادمی ان گھریلو نسخوں کو اختیار کر لے جو ایسے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں،مثلا دن بھر میں چند بار اجوائن کو چبا کر کھا لینا،کالی مرچ اور ادرک کی چائے پینا،پودینہ کی چٹنی کا استعمال کرنا،کلونجی کے چند دانے چبا کر کھا لینا،وغیرہ۔
اسی درمیان یہ خبر بھی ملی ہے کہ کبھی ڈاکٹروں کی بے توجہی کے سبب کورونا وائرس کا بعض مریض صحت یاب نہیں ہو پاتا۔
بعض ڈاکٹروں کے بارے میں یہ خبر بھی ملی ہے کہ وہ مریض کے اعضائے رئیسہ یعنی کڈنی وغیرہ نکال لیتے ہیں اور مریض راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔
کورونا وائرس کے سبب حالیہ چند ماہ میں دنیا کے بہت سے ممالک میں موقع بہ موقع لاک ڈاون ہوا۔دنیا بھر میں ماسک کا استعمال لازم قرار پایا۔سوشل ڈسٹنس کا حکم دیا گیا اور اس سے بچنے کی طرح طرح کی تدبیریں اپنائی گئیں۔
بھارت میں کچھ اضافی امور بھی انجام دیئے گئے،مثلا تالی اور تھالی بجوائی گئی،موم بتیاں روشن کی گئیں،بعض لوگوں نے گو متر کی پارٹیاں منعقد کیں۔
کورونا وائرس سے منسلک ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسی لاک ڈاون کے عہد میں فائیو جی5G نیٹ ورک کے ٹاورز مختلف ممالک میں نصب کئے جا رہے ہیں۔اس کے ذریعہ اس ٹاور کے متعلقہ علاقے کے تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی۔ہر انسان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ 5G ٹاور کے ذریعہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شعاعوں کے سبب کینسر اور خاص کر دماغی کینسر ہونے کا زبردست خطرہ ہے۔فائیو جی نیٹ ورک کے ٹاورز ہر وقت شدت کے ساتھ الیکٹرو میگنٹک شعاعیں چھوڑتے رہتے ہیں۔
جن شہروں میں فائیو جی ٹاورز نصب کئے جاتے ہیں،ان شہروں کو "میگا اسمارٹ سٹی"کا نام دیا جاتا ہے۔
جب اس ٹاور کے نقصانات اس قدر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ انسانی دنیا کو ترقی کی اس خطرناک منزل سے پیچھے ہی رکھا جائے۔کسی شہر کو میگا اسمارٹ سٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔4Gکے نقصانات ہی بہت زیادہ ہیں۔اب اس سے بھی اگے بڑھنا بیکار ہے۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے
روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
طارق انور مصباحی
مدیر؛
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ: 04:اگست 2020
#کورونا_وائرس_اور_دنیا_کا_بدلتا_ماحول
کسی بھی مخلوق کی تخلیق رب تعالی ہی فرماتا ہے۔بندوں کو تخلیق کی قدرت نہیں دی گئی۔
اگر کورونا وائرس بھی کسی مخلوق جراثیم کا نام ہے تو اس کی تخلیق بھی رب تعالی کی جانب سے ہی ہو سکتی ہے۔انسان کچھ کیمیکل اور دواوں کے ذریعہ اس کو مزید زہریلا بنا سکتا ہے۔اسی طرح دواوں کے اثرات سے اس کے زہر اور ضرر کو کم بھی کر سکتا ہے۔کسی ابادی میں سازش کے ذریعہ اس کو پھیلایا بھی جا سکتا ہے۔
موجودہ عہد میں کورونا وائرس سے متعلق متضاد نظریات سامنے ائے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس سانس کی نالیوں اور گزرگاہوں میں جب کثیر تعداد میں بیٹھ جائے تو سانس کی امد و رفت میں پریشانی ہونے لگتی ہے۔
پھیپھڑوں تک اگر سانس نہ پہنچ سکے تو موت کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ جراثیم پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں وینٹیلیٹر کے ذریعہ انسانی جسم میں اکسیجن پہنچایا جاتا ہے اور دواوں کے ذریعہ وائرس کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
اس وائرس کی کیفیت ایسی ہے کہ جیسے انسان کا گلا دب جائے اور سانس اندر نہ جا سکے تو دم گھٹنے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ وائرس بھی سانس کے راستے کو بند کر دیتا ہے اور انسان کی موت ہو جاتی ہے۔
جو لوگ پہلے سے ہی سانس کی تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوں،ان کے لئے یہ وائرس زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس سے بچنے کا اسان طریقہ یہ ہے کہ ادمی ان گھریلو نسخوں کو اختیار کر لے جو ایسے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں،مثلا دن بھر میں چند بار اجوائن کو چبا کر کھا لینا،کالی مرچ اور ادرک کی چائے پینا،پودینہ کی چٹنی کا استعمال کرنا،کلونجی کے چند دانے چبا کر کھا لینا،وغیرہ۔
اسی درمیان یہ خبر بھی ملی ہے کہ کبھی ڈاکٹروں کی بے توجہی کے سبب کورونا وائرس کا بعض مریض صحت یاب نہیں ہو پاتا۔
بعض ڈاکٹروں کے بارے میں یہ خبر بھی ملی ہے کہ وہ مریض کے اعضائے رئیسہ یعنی کڈنی وغیرہ نکال لیتے ہیں اور مریض راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔
کورونا وائرس کے سبب حالیہ چند ماہ میں دنیا کے بہت سے ممالک میں موقع بہ موقع لاک ڈاون ہوا۔دنیا بھر میں ماسک کا استعمال لازم قرار پایا۔سوشل ڈسٹنس کا حکم دیا گیا اور اس سے بچنے کی طرح طرح کی تدبیریں اپنائی گئیں۔
بھارت میں کچھ اضافی امور بھی انجام دیئے گئے،مثلا تالی اور تھالی بجوائی گئی،موم بتیاں روشن کی گئیں،بعض لوگوں نے گو متر کی پارٹیاں منعقد کیں۔
کورونا وائرس سے منسلک ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسی لاک ڈاون کے عہد میں فائیو جی5G نیٹ ورک کے ٹاورز مختلف ممالک میں نصب کئے جا رہے ہیں۔اس کے ذریعہ اس ٹاور کے متعلقہ علاقے کے تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی۔ہر انسان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ 5G ٹاور کے ذریعہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شعاعوں کے سبب کینسر اور خاص کر دماغی کینسر ہونے کا زبردست خطرہ ہے۔فائیو جی نیٹ ورک کے ٹاورز ہر وقت شدت کے ساتھ الیکٹرو میگنٹک شعاعیں چھوڑتے رہتے ہیں۔
جن شہروں میں فائیو جی ٹاورز نصب کئے جاتے ہیں،ان شہروں کو "میگا اسمارٹ سٹی"کا نام دیا جاتا ہے۔
جب اس ٹاور کے نقصانات اس قدر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ انسانی دنیا کو ترقی کی اس خطرناک منزل سے پیچھے ہی رکھا جائے۔کسی شہر کو میگا اسمارٹ سٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔4Gکے نقصانات ہی بہت زیادہ ہیں۔اب اس سے بھی اگے بڑھنا بیکار ہے۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے
روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
طارق انور مصباحی
مدیر؛
ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ: 04:اگست 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر کسی پر محبت رسول کا اتنا غلبہہوجائے کہ اسے آپ ﷺ کے شہر مبارک کے کتے بھی پیارے لگیں ، تو یہ قابل ملامت نہیں ۔
سیدنا و مولانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:
لواني اعلم ان كلبا يحب عمر لاحببته۔
اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی کتا حضرت عمر سے محبت کرتا ہے ، تو مجھے وہ بھیپیارا لگے گا ۔
( تاریخ مدینۃ دمشق۔۔۔۔۔۔ ، الجزء الرابع والاربعون ، ص 376 )
لیکن .............
سگانِ مدینہ کے سرِعام پاؤں چوم کر ، اِس کی تصویریں سوشل میڈیا پر عام کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔
سگِ طیبہکے پاؤں چومنے والا اگر تو واقعی اِس حد تک محبتِ رسول میں فنا ہوچکا ہے کہ اُسے محبوب ﷺ ، اور نسبتِ محبوب کے سوا کچھ یاد ہی نہیں رہا ، تو اس پر کوئی سخت حکم نہیں لگایا جاسکتا ؛ لیکن اس حرکت کو عوام میں مشہور کرنا کئی مفاسد کے دروازے کھول سکتاہے ۔
رسولاللہ ﷺ کی پیروی کریں ، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو حرز جاں بنائیں ، دن رات توبہ استغفار کریں ، تلاوت قرآن اور نعت شریف کو ورد زباں رکھیں ؛ یہ اعمال محبت رسول کی معراج ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-8-2020 ء
سیدنا و مولانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:
لواني اعلم ان كلبا يحب عمر لاحببته۔
اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی کتا حضرت عمر سے محبت کرتا ہے ، تو مجھے وہ بھیپیارا لگے گا ۔
( تاریخ مدینۃ دمشق۔۔۔۔۔۔ ، الجزء الرابع والاربعون ، ص 376 )
لیکن .............
سگانِ مدینہ کے سرِعام پاؤں چوم کر ، اِس کی تصویریں سوشل میڈیا پر عام کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔
سگِ طیبہکے پاؤں چومنے والا اگر تو واقعی اِس حد تک محبتِ رسول میں فنا ہوچکا ہے کہ اُسے محبوب ﷺ ، اور نسبتِ محبوب کے سوا کچھ یاد ہی نہیں رہا ، تو اس پر کوئی سخت حکم نہیں لگایا جاسکتا ؛ لیکن اس حرکت کو عوام میں مشہور کرنا کئی مفاسد کے دروازے کھول سکتاہے ۔
رسولاللہ ﷺ کی پیروی کریں ، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو حرز جاں بنائیں ، دن رات توبہ استغفار کریں ، تلاوت قرآن اور نعت شریف کو ورد زباں رکھیں ؛ یہ اعمال محبت رسول کی معراج ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سَنہ 1441ہجری کا آخری مہینہ گزر رہا ہے ، رب تعالیٰ عافیت سے گزارے ۔
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
اِس سال بہ کثرت علما و مشائخ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔
آج ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اِس سال وصال فرمانے والے جملہ علما و مشائخ کے ایسے مستند علمی و عملی حالات ، کتابی شکل میں جع کردیے جائیں ، جن سے تادیر نفع حاصل کیا جاسکے ۔
اس کام کو تحریری شکل دینے کے لیے اَدیب و اَریب ، حضرت مولانا محمد حسن رضا مشرف القادری حفظہ اللہ کمر بستہہوچکے ہیں ، اللہ پاک ان کی مدد فرمائے ۔
اس سلسلے میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، کیوں کہ یہ کام ہم سب کے مل کر کرنے والا ہے ، اور یہ ہم سب کی کوششوں سے ہی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔
آپ کو جس جس عالمِ دین اور پیرِ طریقت کے متعلق مستند معلومات ہیں ، براہِ کرم اس واٹس ایپ نمبر پر دیجیے ، اور نہ ختم ہونے والا اجر کمائیے ۔
03013189252📱
( پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک والے احباب: 00923013189252 )
✍️لقمان شاہد
12-12-1441 ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کشمیر اور بابری مسجد کا حل آنسو نہیں ، عملی اقدام ہے ؛ جیسے ترکوں نے آیا صوفیہ کے لیے کیا ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
بچوں اور بڑوں میں خالص اسلامی فکر پیدا کریں ، اسلامی فکر رکھنے والوں کو حکومتی عہدوں پر فائز کروانے کی بھر پور کوشش کریں ۔
غلبہ فکر سے حاصل ہوتا ہے ، آنسو بہانے ، نعرے مارنے ، احتجاج کرنے ، ریلیاں نکالنے اور گانے گانے سے نہیں ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصطفی کمال ، جدید ترکوں کا " قائد اعظم " ہے ۔
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
یہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا ، لیکن اِسے آج بھی" اَتاتُرک " یعنی ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔
موجودہ تُرک صدر کی سوچ اور فکر اتاترک سے یکسر مختلف ہے ، اور لازمی طور پر وہ اس کے ملحدانہ عقائد و نظریات سے بھی بیزار ہوں گے ۔
لیکن .............
انھوں نے اس کی مخالفت کے بجائے ، اس کے پھیلائے ہوئے کفر و الحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔
اتاترک نے ہیرو بننے کے لیے جن مجاہدین اسلام سے تعلق توڑا تھا ، موجودہ صدر " اتاترک کو کچھ کہے بغیر " انھی مجاہدین سے اپنی قوم کا رشتہبحال کررہے ہیں ۔
اللہ کرے پاک و ہند والوں کا بھی جھوٹے قائدوں ، اور جعلی ہیرووں کے بجائے :
محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری ، قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری سے رشتہ جڑجائے ؛ تاکہ یہ بابری مسجد اور کشمیر پر نوحے اور ترانے نہ لکھیں ، " آیا صوفیہ " کی طرح ان سے آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔
کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے :
" بُرے کی برائی ختم کردیں تو برا خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے ، لیکن ............. ہاتھ دھو کر بُرے کے پیچھے ہی پڑے رہیں تو برائی ایک نئی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ "
✍️لقمان شاہد
5-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اقبال مرحوم کا ایک دعائیہ کلام ہے ؎
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
یا ربّ! دلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو رُوح کو تڑپا دے
اِس کا ایک شعر ہے ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
اِس شہر کے خُوگر کو پھر وُسعتِ صَحرا دے
فارسی زبان میں ہَرَن کو آہُو کہتے ہیں ۔
آہو کئی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ، جن میں ایک تیز رفتاری بھی ہے ۔
کہا جاتا ہے :
ہَرن 90 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی دوڑ سکتا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
تیز دوڑنا اگرچہ ہَرن کی فطرت کاحصہ ہے ، لیکن اسے تیز دوڑنے کے لیے صحرا ( یعنی ایسا کھلا میدان ) چاہیے ، جہاں نہ کوئی درخت ہو ، نہ کوئی فصل ہو ، نہ کوئی روک رکاوٹ ۔۔۔۔۔۔۔
ہُوا یہ کہ:
ہرن صحرا کا راستہ بھول کر شہر میں آگھسا ، یہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی ۔
یہ بے چارہ دوڑنا چاہتا تھا ، لیکن شہر کی بندشوں میں دوڑ نہیں سکتا تھا ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گاڑی جتنی مرضی تیز رفتار ہو ، روڈ کے بغیر دوڑ نہیں سکتی ؛ اُس کی تیز رفتاری سے اُسی صورت محظوظ ہوا جا سکتا ہے جب وہ صاف ستھرے روڈ پر فراٹے بھرے ، راستے میں کوئی روک رکاوٹ نہ ہو ۔
اب شعر سمجھیے!
مسلمان ایک ہَرَن کی طرح تھا ، جس کی دنیا جہان فتح کرنے کی رفتار بہت تیز تھی ، لیکن یہ بھٹک گیا ۔
صحراے حرم ( اسلامی فکر کے میدان ) کی طرف جانے کے بجائے ، شہر ( فرنگی فکر ) کی طرف جا نکلا ، جہاں اِسے طرح طرح کی رکاوٹیں ( فیشن ، عیاشی ، بے راہ روی ، مایوسی ، غلامی ، بزدلی وغیرہ ) پیش آئیں ، جنھوں نے اس کی دوڑ کوتاہ کردی۔
افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ! لیکن..........
اس سے زیادہ افسوس اس پر ہے کہ:
یہ آہُو شہر کا خُوگر ( عادی ) ہو کر ، اپنے صحرا کا راستہ بھول بیٹھا ۔
اے میرے رب! میں اس بھٹکے ہوئے آہو کی فریاد کس سے کروں ...... !!
میرے مالک ! تجھی سے عرض ہے کہ اِس ؎
بھٹکے ہوئے آہُو کو ، پھر سُوئے حَرَم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
✍️لقمان شاہد
6-8-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM