🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*خلیفۂ اعلیٰ حضرت عالمی مبلغ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی رضوی میرٹھی*

خطاب: *_مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی_* ،سیکریٹری جنرل ورلڈاسلامک مشن (لندن)

مرتب: _وسیم احمد رضوی_ (مالیگاؤں)

الحمدللّٰہ!الحمدللّٰہ وکفیٰ وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، امّابعد !
فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔’’اِنَّمَااَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ۔‘‘(سورۃ الرعد، آیت۷)صدق اللّٰہ العلی العظیم!
قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:’’اُرسلت الی الخلق کافۃ۔‘‘(ترمذی شریف، کتاب السیر)صدق النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم!
عزیز ِملت حضرت علامہ عبدالحفیظ صاحب قبلہ سربراہ اعلیٰ الجامعۃالاشرفیہ،محب محترم حضرت علامہ ادریس صاحب بستوی،علماے با وقار،عزیزان ملت اسلامیہ،قابل احترام بزرگو!آئیے ہم اور آپ انتہائی احترام و عقیدت کے ساتھ اپنے اور ساری کائنات کے مرکز عقیدت آقاے دو جہاںحضور رحمت عالم تاج دار ِمدینہ سرورکائنات محمدرسول اللہ ارواحنا فداصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں درودِ پاک کی نذریں پیش کر لیں!۔۔۔۔۔۔۔اللّٰہم صل علیٰ سیدنا و مولانامحمد معدن الجود والکرم وآلہٖ الکرام اجمعین۔
شہید اعظم امام حسین کے یوم شہادت کے موقعے پرشہید ِ عشقِ مصطفی حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (م۔۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ء)کا ذکرِ خیربڑی اہمیت کا حامل ہے۔پوری دنیاشہداے کرب وبلا کی یاد منارہی ہے اور ہم اُس قتیل ِعشق ومحبت کی یاد میں حاضر ہیں؛جنہوں نے شہداے کرب و بلا کے مشن کواکناف عالم میں پہنچانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔حضرت علامہ ادریس بستوی صاحب نے اجمالاًمگر بہت ہی وضاحت کے ساتھ ان کی زندگی کے مختلف گوشوںپر اوران کے حقیقی کارنامے پرروشنی ڈالی۔
دنیا کے مختلف ملکوں میںان کی یاد کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔مصطفی بازار (ممبئی)کی یہ محفل کم و بیش نصف صدی پرانی ہے۔یہاں ہر سال اس عظیم انسان کی یاد میں ہم سب جمع ہوتے ہیں؛ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کوپوری دنیا میں پہنچانے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ جن کی حیات کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک سانس دعوت کے حقیقی تصوراور تبلیغ کے حقیقی مفہوم کو پیش کرنے کے لیے مصروف رہا۔جنہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم نظام کو،ان کے طرزِزندگی کو اور ان کے طرزِحیات کوعقل اور عاطفۂ قلبی دونوں کے ساتھ پیش کریں۔محض عقل رہ نما نہیں ہوسکتی اورمحض دل رہ نما نہیں ہوسکتا۔کہیں عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور کہیںدل کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے اپنے دل کومحبت ِمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے معمورفرمایا اور عقل کواس بات کے لیے آمادہ کیا کہ وہ اسلام پہ اٹھنے والے تمام سوالوں کا جواب دے سکے۔
آپ کو یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ صلیبی جنگوں میں شکستِ فاش کے بعددنیا کی بہت سی قوموں نے اس بات کی کوشش کی کہ اسلام کے چہرے کو غلط طور سے پینٹ(Paint) کیاجائے،اسلام کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جائے؛ اسلام بربریت کا مذہب ہے۔ آپ کو شاید معلوم نہ ہوگا کہ یہ لفظ ’’بربریت‘‘یا’’باربر‘‘یہ بڑی بہادر قوم ،جنہوں نے ایک زمانے تک صلیبی طاقتوں کو روکاتھا،جومراکش کے صحراہوں سے اُٹھی تھی اوراسپین کی آبادیوں میں پہنچ گئی تھی؛ اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ایک مسلمان کو یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ یہ اس ’’بربر قوم ‘‘کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو ایک قوم تھی جس کا تعلق بربریت سے نہیں بلکہ جس کا تعلق اسلام کے دفاع سے تھا۔لیکن !بہر کیف اس کو ’’باربرازم‘‘کے نام سے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا،حال آں کہ’’ سربیت‘‘ کے ظلم کو آج ’’سرب ازم‘‘کے نام سے دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔
میرے عزیز ساتھیواور دوستو! جیسا کے مولانا بستوی نے بتایا کہ حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی صدی کے بلاشبہ سب سے عظیم مبلغ تھے۔امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (م۔۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء)نے اپنے دبستان ِتربیت میںجن لوگوں کو سنوارا تھا اور آراستہ کیا تھا،اس میں ہر طرح کے لوگ تھے۔صدرالشریعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(م۔۱۳۶۷ھ/۱۹۴۸ء) جیسا عظیم فقیہ تھا؛کہ اس صدی اور بعد کی صدی میں ان کی کوئی مثال نہیںہے۔حضرت مولانا ظفرالدین بہاری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (م۔۱۳۸۲ھ/۱۹۶۲ء)جیسا عظیم دانش ور تھا؛ماہرفلکیات ماہر، علوم دینیہ،ماہر علوم جدیدہ۔صدرالافاضل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (م۔۱۳۶۷ھ/۱۹۴۸ء)جیسا عظیم سیاست داں تھا؛جس نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھااور حالات کا مطالعہ کیااور حالات کے مطابق امت مسلمہ کومختلف مقامات میں جمع فرمایااور صحیح رہ نمائی فرمائی۔اسی طرح سے مولانا سید سلیمان اشرف بہاری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ( م۔۱۳۵۸ھ/۱۹۳۹ء) جیسا عظیم محقق تھا جس نے علوم جدیدہ اور علوم قدیمہ میں مہارت حاصل کی اوردنیا کی تمام قوتوں سے اپنا با ضابطہ
لوہا منوایا؛ یہ وہ ذات ہے کہ جس کی ایک کتاب پراس دور کا مستشرق لکھتا ہے کہ علوم عربیہ پر اورعربی زبان پراگر اس کتاب کے حسن کو آشکارا کر دیا جاے تو دنیا میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہوگی؛ وہ بھی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کی درس گاہ کے تربیت یافتہ تھے۔عزیزانِ ملت ِاسلامیہ!ان ہی لوگوں میں حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اعلیٰ حضرت کی نگاہ کرم نے عالمی طور پر دعوت وتبلیغ کے مشن کے لیے منتخب فرمایا تھا۔
عزیزانِ ملت ِاسلامیہ!آپ اندازہ فرمائیں؛ یہ وہ دور نہیں تھاکہ جب لوگ ہوائی جہازوںسے سفر کریں،یہ وہ دور نہیں تھا کہ جب لوگ آسانی کے ساتھ دنیا کو طے کر لیں،اس زمانے کا سفر عام طور پر کشتیوں سے ہوا کرتا تھا یا بحری جہازوں سے ہوا کرتا تھا۔حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جتنے بھی تبلیغی دورے فرمائے ہیںوہ بحری جہازوں سے فرمائے ہیںاورعالم یہ ہے کہ دنیا کے کئی براعظموں کے اُن خطوں میںجہاں تمدن کی کوئی کرن نہیں پہنچی ہے؛ وہاں اسلام کا پیغام لے کے یہ پہنچے ہیں۔آپ اندازہ فرمائیں!کہ ویسٹ انڈیز کا علاقہ آج دنیا کے سامنے ہے،اپنے کھیل کے اعتبار سے اور دوسرے اعتبار سے ۔گزری ہوئی صدی کے آغاز میںویسٹ انڈیزتاریکیوں میںتھا؛بیسویں صدی کے آغاز میں ویسٹ انڈیز نمایا نہیں تھا۔لیکن ویسٹ انڈیز میں اسلام کی تبلیغ کے لیے جس ذات پاک نے سب سے پہلے قدم رکھا ہے وہ حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔آپ اندازہ فرمائیں! اس کے آگے جائیے تو وہ سارے علاقے جو ویسٹ انڈیز سے متأثر ہیں؛ جس میںبرٹش گیانا کا علاقہ ہے،ڈچ گیانا کاعلاقہ ہے،سری نام کا علاقہ ہے،ان علاقوں میں اسلام کی جتنی مؤثِرتبلیغ انہوں نے کی ہے آج بھی لاکھوں افرادان کے اندازِ تربیت اور ان کے اندازِتبلیغ کے وہاں گواہ پائے جاتے ہیں۔ درجنوں تحریکیں ہیں، درجنوں ادارے ہیں،درجنوں جماعتیں ہیں،جو انہوں نے اپنے دور میںاور اپنے زمانۂ تبلیغ میں قائم فرمائیں۔
وہ ہماری طرح صرف بولنے کے عادی نہیں تھے کہ کہیں گئے اور بول کرکے چلے آئے۔بلکہ ان کا مزاج یہ تھا کہ جہاں ضرورت ہوتی وہاں ہفتوں اور مہینوں قیام فرماتے،وہاں کبھی کوئی یتیم خانہ قائم کرتے،کوئی درس گاہ قائم کرتے،کسی پرچے کااجرا فرماتے،کوئی تحریک قائم کرتے اور اس کے بعد وہاں سے سفر کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ویسٹ انڈیز کے علاقے سے لے کرکے اورجنوبی امریکہ کے علاقے سے لے کرکے آپ اگر دیکھیںتوامریکہ کے بہت سے شہروں میںانہوں نے اپنے دور میں تبلیغ فرمائی۔جب وہاںمسلمان بہت تھوڑی تعداد میںتھے،جب وہاںکوئی رابطۂ عالمی اسلامی کا وجود نہیںتھا،جب کسی عالمی تحریک کا وہاںکوئی وجود نہیں تھا؛اس زمانے میںبھی واشنگٹن میں، نیویارک میںاورتمام جگہوںمیںان کی تقریروںاور ان کی تحریروںکا باضابطہ طور پرتذکرہ ملتا ہے۔کینیڈا،جو نئی نئی دنیا کے طور پہ آباد ہورہاتھا،جہاں کوئی مبلغ نہیں پہنچا تھا،جہاں اسلام کی کوئی دعوت نہیں پہنچی تھی،وہاں بھی سب سے پہلے جو ذات گرامی ایک مبلغ کی حیثیت سے پہنچی ہے، علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ہے۔میَں نے ان لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں؛جنہوں نے ان کی زیارت کی ہے، جنہوں نے ان کے چہرے کو دیکھا ہے اور جو ان کی تحریک سے فیض یاب ہوئے ہیں۔
عزیزان ِملت ِاسلامیہ!یہ تو امریکا کا حال ہے،یورپ کی سر زمین پہ آپ دیکھیںتو۱۹۳۰؁ء کے اندروہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔آج یورپ میں کئی کروڑمسلمان آباد ہیں؛لیکن اس زمانے میں خال خال ،کہیں کہیں پر مسلمان پایا جاتا تھااس زمانے میں یورپین اقوام کے سامنے اسلام کا حقیقی تصور پیش کرنے والے حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہی ہیں۔اس کے بعد آپ افریقا کی سرزمین پہ آئیںتوآپ کو معلوم ہوگا کہ کینیاکے ساحل سے لے کر کے ممباسا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے بہت سے مقامات ہیں جہاں حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی درس گاہیں قائم فرمائیں،اپنے ادارے قائم فرمائے اور اپنی تحریک کو لوگوں تک پہنچایا۔آپ کا مزاج یہ تھا کہ آپ جہاں جاتے تھے وہاں اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ کوئی دعوت دے یا نہ دے، کوئی بُلائے یا نا بُلائے، اپنے طور پہ ایک داعی کی حیثیت سے اپنا تعارف کرایا کرتے تھے اور اس کے بعد دین ِ پاک کی تبلیغ کرتے تھے۔بومبے یا کلکتے کے ساحل سے سفرکرنے کے بعد جب بھی وہ کسی جزیرے پہ اترتے تو جہاز رانوں کا یہ کہناہے ،جہاز پہ سفر کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ عجیب انسان ہے یہ شخص؛ جاتا ہے توتنہا جاتا ہے اورواپس آتا ہے تو انسانوں کے ہجوم کے ساتھ واپس آتا ہے۔

موریشش کی سرزمین پر انہوں نے دین ِپاک کاجوکام کیا ہے وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے۔آج بھی دارالعلوم علیمیہ،علیمیہ ہائی اسکول،علیمیہ گرلس کالج،علیمیہ طبیہ کالج،علیمیہ یونی ورسٹی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مساجد جو آپ نے اپنے دور میں تعمیر فرمائی ہی
ں وہ آج اس بات کی گواہ ہیں۔سُرینام کی سب سے پہلی مسجد؛ جنوبی امریکا کی؛ آپ کی زیر نگرانی تعمیر ہوئی ہے۔ اور نوروبی کی عظیم الشان مسجد جس کو صوفی عبداللہ(ولادت۱۲۷۵ھ۔وصال۱۳۷۲ھ/۱۹۵۲ء) نے بنوایا تھاوہ بھی آپ کے زیرنگرانی تعمیر ہوئی ہے اور اس طرح سے آپ دیکھیں تو نوروبی ہے،کینیا ہے،دارالسلام کے علاقے ہیں،تنزانیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ممباسا ہے اور پھر دوسرے بہت سے علاقے ہیں ان علاقوں میں آپ کی خدمات کے اثرات آج بھی پائے جاتے ہیں اور آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔
یہ شمالی اور مشرقی امریکا کا عالم ہے ۔ جنوبی افریقا میں اگر آپ جائیں تو ڈربن کی سرزمین پر، پری ٹوریا کی سرزمین پر اور اسی طرح سے جوہانس برگ کی سرزمین پر اور دوسرے علاقوں میں بھی آپ کی تبلیغ کے اثرات پائے جاتے ہیں،ڈربن کی عظیم الشان مسجد جو کے گرے اسٹریٹ(Gray Street) پہ واقع ہے وہ بھی دراصل آپ کی خدمات کی گواہ ہے اور آپ نے مدتوں وہاں قیام فرمایا ہے۔آج بہت سے مبلغین جو مختلف ناموں سے یادکیے جاتے ہیں؛ یہ وہ لوگ تھے جو ان کے زمانے میں ان کا بستہ اور ان کی نعلین ِپاک اٹھا کر کے آگے بڑھا کرتے تھے ۔
میرے عزیز ساتھیو! ان کی خدمات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مشرق بعید کے وہ علاقے جن علاقوں میں اسلام ابھی پہنچا نہیں تھا؛ وہاں بھی آپ نے دین کی دعوت دی، مساجدتعمیر فرمائیں۔سنگاپور میں جو مسجد تعمیر کی گئی ہے وہ ان کی نگرانی میں تعمیر کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے انڈونیشیا میں،ملیشیا میں اور دوسرے بہت سے علاقوں میں، برما میں، تھائی لینڈ میں ہر مقام پہ دورہ فرمایا ہے اور ہر مقام پہ تبلیغ کی ہے۔ مَیں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج اپنے تمام تر پیٹر و ڈالر اور مادی وسائل کے ساتھ بھی دنیا کی تحریکیں وہاں نہیں پہنچ سکی؛ جہاں وہ تنہا پہنچے تھے اوراکیلے پہنچے تھے۔
اللہ کا شکر ہے! کہ مَیں نے ان علاقوں میں بیش تر علاقوں میں خود بھی دورہ کیا ہے، ان بزرگوں کی زیارت کی ہے، ان لوگوں سے مِلا ہوں جنہوں نے حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کی تھی جو ان کے ہاتھ پہ بیعت ہوئے تھے یا جو ان کے ہاتھ پہ مسلمان ہوئے تھے۔ ایسے درجنوں افراد آج بھی ان کی عظمت اور آج بھی ان کی برتری کے گواہ ہیں۔وہ کیسے تھے؟ان کا انداز ِ تبلیغ کیا تھا؟جیسا کہ مولانا نے بتایا کہ حکمت و دانائی کے ساتھ ساتھ موعظۃ کا وہ انداز پروردگار ِعالم نے عطا فرمایاتھا کہ جس انداز پر لوگ قربان جاتے تھے ،ایک مرتبہ ان کا خطاب سننے کے بعدلوگ پورے پورے براعظم کی وسعتوں کو طے کرکے دوبارہ ان کا خطاب سننے کے لیے دوسرے مقام پر جمع ہوا کرتے تھے۔
عزیزان ِملت ِاسلامیہ! وہ نہ صرف یہ کہ اردو زبان جانتے تھے اردو،عربی زبان،اس کے ساتھ ساتھ انگلش ،فرنچ اور سواحلی زبان۔ یہ وہ زبانیں تھیں،جو پوری دنیا میں جانی جاتی ہیں اور بولی جاتی ہیں۔ تمام افریقا میں سواحلی زبان بولی جاتی ہے۔فرنچ کی کالونیوں میں ،جودنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں،فرنچ بولی جاتی ہے۔انگلش کالونیوں میں انگلش بولی جاتی ہے۔اور عربی زبان ،عرب ممالک میں بولی جاتی ہے۔اور ان تمام زبانوں پر بہ یک وقت ان کو ایسی قدرت حاصل تھی جیسے ہر زبان کو مادری زبان کی حیثیت سے بولتے ہیں۔ اس زمانے میں مفتی ِاعظم ِفلسطین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ؛ جو اپنے دور کے عظیم انسان تھے، جنہوں نے فلسطینی تحریک کوبام ِعروج تک پہنچانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں،جن کے زمانے میں عربوں کے قلب میں باضابطہ خنجر گاڑا گیا اور اسرائیل کا وجود ہوا۔ وہ سیمابی انسان تھے،بے پناہ مضطرب انسان تھے،انہوں نے فلسطینی تحریک کو، مسجد اقصیٰ کی تحریک کو اور موجودہ تحریک کو پوری دنیا تک پہنچایا۔ ان کے ساتھ اور ان کے دوش بہ دوش مولانا عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کئی عالمی کانفرنسوں میں آپ کو نظر آئیں گے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ مولانا عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمات کوحاصل فرمایا بلکہ برمَلا اس بات کا اعتراف کیا کہ "بر صغیر کا تنہا یہ وہ انسان ہے جو میرے لیے وہاں کی بڑی تحریکوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ جس نے میری آواز کو دنیا کے تمام گوشوں میں پہنچایا ہے۔" مسجد اقصیٰ پر قبضہ بعد میں ہوا ہے لیکن بیت المقدس کی سرزمین، یروشلم کی سرزمین اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں نے اپنے تسلط کو بہت پہلے قائم کر لیا تھا۔یہودیوں کے اس تسلط کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں یہودیوں سے آزادی کی تحریک اور اس کے ساتھ ساتھ علمی طور پردنیا میں مسلمانوں کے حقوق کی بات اور عقلی و منطقی طور پر اس بات کا ثابت کرنا کہ بیت المقدس صرف مسلمانوں کا ہے، فلسطین صرف مسلمانوں کا ہے، اس کام کے لیے بھی انہوں نے ایک بار پوری دنیا کا دورہ فرمایا تھا۔

عزیزان ِملت ِاسلامیہ! مفتی ِ اعظم ِفلسطین سے لے کر کے اور دوسری نا معلوم کتنی عظیم شخصیتیں ہیں جو ان کا اعتراف کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔آپ کو مَیں نے
بتایا کہ اسلام کی اس تحریک کو روکنے کے لیے ،اسلام کی اس دعوت کو روکنے کے لیے بہت سی سازشیں کی گئیں ،دنیا میں بہت سے کام کیے گئے ہیں جس سے اسلام اپنے داعیانہ کردار کو،اپنے دعوتی کردار کوفراموش کر سکے۔ لوگ جانتے ہیں، دنیا کو یہ بات معلوم ہے کہ اسلام جب غالب ہوتا ہے تو جہاد کے ذریعے سے اور مغلوب ہوتا ہے تو تبلیغ کے ذریعے سے اپنے نظام کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔
عزیزان ِ ملت ِاسلامیہ! دنیا نے تصورِ جہاد کو بدلنے کی کوشش کی اور تصورِ تبلیغ کو بدلنے کی کوشش کی۔جہاد در اصل تبلیغی چَلَت پھِرَت کا نام رکھ دیا گیا،باضابطہ طورپر اس طرح تقریریں کی جاتی ہیں،اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں کہ جو ایک چلّہ دے وہ ستّر شہیدوں کے برابر ثواب حاصل کر لیتا ہے۔اب کیا دنیا پاگل ہے کہ اپنی جان دینے کی کوشش کرے؟ایک چلّے میں جائیں گے اور ستّر شہید کا ثواب میسّرآجائے گا۔
عزیزان ِملت ِاسلامیہ! اسی طرح سے اللہ کے رسول(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے تبلیغ کاجو حقیقی تصور پیش کیا تھا،دعوت کا جو حقیقی تصور پیش کیا تھا؛ وہ یہ نہیں تھا کہ مسلمانوں ہی کو کلمہ پڑھایا جائے۔ اللہ کے رسول(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ہر روز صبح کو نکلتے تھے اور شام کو پتھر کھا کے واپس آتے تھے۔وہ غیر مسلموں کی زمینوں پر،وہ کفر کی زمینوں پر،وہ شرک کی زمینوں پراسلام کی دعوت دینے کے لیے جایا کرتے تھے۔اسلام اگر آگے بڑھا ہے تودعوت کے ذریعے سے بڑھا ہے۔لیکن اگر دعوت کا نام یہ دے دیا جائے اور تبلیغ کا نام یہ دے دیا جائے کہ لوگ اپنے ہی گھروں میں گھومتے پھرتے رہیں تواسلام کا وہ سیل ِرواں، اسلام کی وہ قوت جو دوسروں تک پہنچنے والی ہے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائے گی۔یہ ایک سازش تھی جو باضابطہ طور پہ کی گئی اور جس میں دنیا کی بہت سی تحریکیں مبتلا ہو گئیں ، لیکن ان تحریکوں کے وجود میں آنے سے پہلے؛ یہ تحریکیں ۴۲ ؁ء کے بعد وجود میں آئی ہیں،ان تحریکوں کے وجود میں آنے سے پہلے اسلام کی حقیقی دعوت اور اسلام کا حقیقی تصور حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے دنیا میں پیش فرمایا ۔وہ صرف مسلموں میں دعوت نہیں دیتے تھے بلکہ مسلموں میں اصلاح کا کام کرتے تھے اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے تھے ۔ان کی دعوت کا اندا ز یہ تھا مَیں نے زِمبابوے میں دیکھا، مَیں نے ڈربن میں دیکھا، مَیں نے ساؤتھ افریقا کے دوسرے علاقوں میں دیکھا کہ ان کی دعوت کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے امیر مریدوں کے ذریعے سے ٹرک بھروایا کرتے تھے ؛مال سے،بریڈ کے ذریعے سے،روٹیوں سے،کپڑے سے اور ان علاقوں میں جایا کرتے تھے جن علاقوں میں لوگ ایک ایک لقمے کو محتاج ہوتے تھے۔جن کے پاس لباس نہیں ہوتا تھا ،وہ جاتے اور ٹاؤن شپ کے علاقے میں کالے جنگلیوں کواپنے ہاتھ سے لباس پہناتے تھے،ان کے لیے دستر خوان بچھاتے تھے،انہیں کھانا کھلاتے تھے اور پھر اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
مَیں نے ایسے علاقوں میں جانے کی کوشش کی ہے ،ان جنگلوں میں جہاں آج بھی جنگلی اور وحشی لوگ بستے ہیں اور ان میں وہ لوگ جو اسلام قبول کر چکے ہیں،جو اسلامی تمدن سے ،جو اسلامی تحریک سے آشنا ہیں وہ آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کی دعوت کا انداز یہ تھا کہ ان کی معاشی ضرورت کو اور معاشی کفالت کو محسوس کرتے تھے۔وہ جاتے تھے اور جانے کے بعد ان کی خدمت کرتے تھے ،ان کی یہ کوشش تھی کہ ان تمام دور دراز علاقوں میں جہاں علم کی روشنی نہیں پہنچی ہے وہاں کم از کم ایک دارالعلوم،ایک ہائی اسکول اور ایک درس گاہ ضرور قائم ہو جائے ۔انہوں نے علمی رسالے نکالے ؛ چناںچہ سنگاپور سے بھی وہ ایک رسالہ نکالتے تھے اور موریشش کی سرزمین سے آج بھی وہ رسالہ سالانہ طور پر نکل رہا ہے ،جو بے شمار گھروں میں پہنچ رہا ہے،جو انگلش زبان میں نکلتا ہے ۔
عزیزان ِملت ِاسلامیہ! یہ ان کی وہ خدمات ہیں جو ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں۔اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بلاشبہ ہزاروں افراد نے ان کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا اور انہوں نے اسلام کو ان علاقوں میں پہنچانے کی کوشش کی؛ جن علاقوں میں لوگ اسلام سے آشنا نہیں تھے ۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ اسلام کے خلاف اٹھتے ہوئے سوالوں کا جواب آپ نے اتنا مدلل دیا کہ جواب سننے والے کو باضابطہ طور پر ان کی عظمت کا اعتراف کرنا پڑا۔
مَیں ایک بات آپ کو بتاؤں ۔۔۔۔۔۔آپ نے برناڈشاکا یہ مشہور جملہ سنا ہوگا کہ ’’مستقبل میں پوری دنیا کا مذہب اسلام ہوگا۔‘‘شاید ہی کوئی لکھنے والا؛ جو اسلام کے حوالے سے مستشرقین کی بات لکھتا ہو،اس نے اس جملے کو نقل نہ کیا ہو۔ہر جماعت کے لوگوں نے اس جملے کو نقل کیا ہے۔درجنوں کتابوں میں مَیں نے پڑھا ہے کہ برناڈشا نے یہ کہا تھا کہ مستقبل کا مذہب اسلام ہوگا،آنے والے دور کا مذہب اسلام ہوگا،اسلام تنہا اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ باضابطہ طور پردنیا کی بہ یک وقت قیادت کرسکے اور انسانیت کی بنیاد پر دنیا کو متحد اور منظم کر سکے۔یہ بات سب کو معلوم ہے،ہر جماعت کے لکھنے والے نے اس جملے ک
و نقل کیا ہے،ہرجماعت کے رائٹر(writer)نے اس جملے کو باضابطہ طور پر انتہائی اہمیت کے ساتھ نقل کیا ہے۔برناڈشا معمولی انسان نہیں تھا بلکہ پوری دنیا میں جانا پہچانا ادیب تھا،جانا پہچانا رائٹر (writer)تھا،جانا پہچانا انسان تھا،لیکن اس نے یہ جملہ کب کہا ہے؟یہ جملہ کس وقت کہا ہے؟یہ لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔اور اگر معلوم بھی تھا تو ظالموں نے محض گروہی عصبیت کی بنیاد پر اس جملے کے پس ِمنظر کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔جملہ تو نقل کرتے نظر آتے ہیں ،جملے کا تذکرہ تو سب نے کیا،برناڈشا نے یہ کہا،برناڈشا نے یہ کہا؛لیکن کب کہا تھا برناڈشا نے؟ یہ لوگ نہیں بتاتے ۔

بات دراصل یہ تھی کہ ممباسا کے ساحل پہ برناڈشا گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے گیا ہوا تھا۔ممباسا میں لاؤڈ اسپیکر سے یہ اعلان ہو رہا تھا کہ ایک مسلم مشنری ،مسلم مبلغ یہاں فلاں ہال میں تبلیغ کرنے والا ہے۔اُسے بڑی حیرت ہوئی کہ کیا اسلام بھی تبلیغ کا مذہب ہے؟اسلام میں بھی مشنریز ہوتے ہیں؟اسلام میں بھی دعوت کا نظام ہے؟۔۔۔۔۔۔۔اُن کا یہ خیال ہے کہ صرف عیسائیت ہی تبلیغی مذہب ہے۔حال آں کہ عیسائیت قطعاً تبلیغی مذہب نہیں ہے۔ قطعاً دعوتی مذہب نہیں ہے۔وہ پیغمبر جو اپنی قوم کو اس طرح سے مخاطب کرتا ہے :!Oh! children of Israil ’’اے اسرائیل کے بیٹو!میں تمہاری طرف نبی بنا کے بھیجا گیا ہوں۔‘‘اُسے پوری دنیا میں دعوت کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟یا اُن کے ماننے والوں کو پوری دنیا میں اپنے دین کی بات کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟یہ اسلام ہے جو یہ نہیں کہتا Oh! children of Makkah! ،Oh! chlidren of `Arab!؛ بلکہ وہ کہتا ہے یَا اَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا!(سورۃ الاعراف، آیت۱۵۸)’’اے تمام کائنات کے انسانو!میں تم سب کی طرف رسول بناکے بھیجا گیا ہوں۔‘‘یہ رسولِ اسلام ہیں جو یہ فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔قُل اِنَّمَااَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ۔(سورۃ الرعد، آیت۷) ’’اے پیغمبرآپ ہی ڈرانے والے ہیں اور آپ ہی دنیا کی ہر قوم کے لیے ہادی بناکے بھیجے گئے ہیں۔‘‘
اسلام انسانیت کا مذہب ہے،یہی وجہ ہے کہ آپ اگر جائزہ لیں تودنیا کے تمام مذاہب کا نام یاتو شخصیتوں پہ رکھا گیا ہے یا جغرافیائی حالات پہ رکھا گیا ہے یا کسی اور بنیاد پہ رکھا گیا ہے۔یہودیت کو یہودیت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ قبیلۂ یہودہ میں پروان چڑھی یا جنابِ یعقوب کا ایک بیٹا اس کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔عیسائیت کو عیسائیت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ جنابِ عیسیٰ کی طرف منسوب ہے۔بودھ مت کو بودھ مت اس لیے کہتے ہیں کہ بودھ کی طرف منسوب ہے یہ مذہب۔زرتشتیت کو زرتشتیت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ زرتشت کی طرف منسوب ہے۔لیکن اسلام کا مذہب نہ مکّی ہے،نہ مدنی ہے،اسلام ہے جس کے معنیٰ اطاعت و فرماںبرداری کے ہے۔دنیا کی جو قوم بھی اطاعت کرے گی وہ مسلمان ہو گی،وفادار ہونے کے اعتبار سے اسلام کو اپنانے کی صلاحیت رکھے گی۔اسلام کے نام میں جو آفاقیت ہے،اسلام کے نام میں جو ساری کائنات کے احاطہ کرنے کی صلاحیت ہے،اسلام کی دعوت پوری کائنات کے لیے ہے۔اللہ کے رسول فرماتے ہیں اُر٘سِل٘تُ اِلی الخَلقِ کأفَّۃ لفظ ’’خلق‘‘ پہ میَں آپ کی توجہ چاہوں گا ،یہ نہیں فرماتے ارسلت الی الانسان کافۃ؛ فرماتے ہیں اُرسلت الی الخلق کافۃ میں صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری کائنات کے لیے نبی بنا کے بھیجا گیا ہوں۔ اب الخلق میں جتنی چیزیں آتی ہیں وہ سب رسولِ پاک کی دعوت اور ان کا مخاطب ہے زمین ہو یا آسمان ہو،ستارے ہوں یا سیارے ہوں،اسلام ہی ساری کائنات کا مذہب ہے۔
علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃاللہ علیہ کا اندازِ تبلیغ یہ تھا ،اندازِ دعوت یہ تھا کہ دیکھو! جناب ِعیسیٰ کی طرف منسوب عیسائیت ہے،اور جنابِ موسیٰ کی طرف منسوب یہودیت ہے ،لیکن ایک یہودی مرنے تک جناب ِعیسیٰ کو اپنا نبی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ،مسلسل ان کی نبوت کاانکار کرتا ہے،ان کی شرافت اور عظمت کا انکار کرتا ہے،ان کے نسبی مرتبے پہ اعتراض کرتا ہے،ان کی مقدس ماں پر الزام عائد کرتا ہے۔ایک یہودی کا رول جناب ِعیسیٰ کے بارے میں یہ ہے۔تو ظاہر ہے یہودیت کو پوی دنیا کا مذہب بنایا جائے تو عیسائی اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔اسی طرح سے ایک عیسائی اپنے ماقبل کے سارے نبیوں کو مانتا ہے مگر محمد ِعربی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا،سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔لیکن ایک مسلمان جب اسلام لاتا ہے تواس کے دین کے تقاضوں میں شامل ہے کہ سارے انبیا کو مانا جائے اور سارے انبیا کو تسلیم کیا جائے ۔اسلام وہ تنہا مذہب ہے کہ جس کو ماننے کے بعد ہر نبی کی حرمت محفوظ ہوتی ہے،ہر دین کا وقار محفوظ ہوتا ہے۔اس لیے دنیا کا اگر کوئی مذہب بن سکتا ہے تو صرف اسلام بن سکتا ہے۔
میرے عزیز ساتھیو اور دوستو! یہ علاحدہ ٹاپک(Topic)ہے کہ اسلام کس طرح آفاقی مذہب ہے اور اس میں علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کا انداز گفتگو کیا تھا۔کسی اور موقع پہ ا
ن شاء اللہ !… بہر کیف!برناڈشا نے یہ سنا کہ کوئی مشنری ،آج اسلامی مبلغ تبلیغ کرے گا۔ تو اسے بڑی حیرت ہوئی کہ کیا اسلام میں بھی دعوت کا نظام ہے؟اس کہ ذہن میں تو یہ بات ڈالی گئی تھی کہ مسلمان صرف تلوار سے اسلام پھیلاتا ہے۔صرف طاقت سے اسلام کو منواتا ہے۔دعوت اور تبلیغ کا کوئی تصور اس کے پاس نہیں ہے۔یہ ایک باطل خیال تھا۔اصل میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پرو پے گنڈا جب بہت زیادہ کر دیا جائے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔کسی نے کہا ہے؛ جھوٹ اتنی بار بولو کہ سچائی اگر ظاہر بھی کی جائے تو کوئی ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔اسلام کے خلاف مستشرقین نے، کرسچینس(عیسائیوں) نے اور اسلام کے مخالف لوگوں نے اس قدر جھوٹ استعمال کیا ہے کہ آج اگر سچائی کہی جائے تو کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا،کوئی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔یہ جھوٹ ایک سو سال سے نہیں ،دو سو سال سے نہیں؛ ’’حطین‘‘کی جنگ میں صلاح الدین ایوبی سے شکست کھانے کے بعد برناڈشا کی قوم نے کم و بیش سات سو سال سے یہ جھوٹ پوری دنیا میں پھیلایا ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے۔حال آں کہ آپ ذرا سوچیں!آپ غور فرمائیں کہ حطین کا میدان روم میں نہیں ہے،حطین کا میدانِ جنگ برطانیا میں نہیں ہے ،حطین کا میدانِ جنگ فرانس میں نہیں ہے،حطین کا میدان جنگ جرمنی میں نہیں ہے،حطین کا میدان جنگ عرب میں ہے،مسلمانوں کی سرزمین پر ہے۔جرمنی،فرانس،بیلجیم،ڈنمارک،ناروے، ہالینڈ، یورپ کے دوسرے ممالک،روم اور اس کے بعد اس کی تمام ریاستیں یہ سب مل کر کے حطین کے میدان میں مسلمانوں کو ایک بار اور پھر ہمیشہ کے لیے فنا کرنے کے لیے جمع ہوئی تھیں۔تو حملہ آور یہ تھے یا حملہ آور ہم تھے؟ہم نے تو اپنا دفاع کیا تھا۔ہم نے تو اپنے کو بچایا تھا۔لیکن اس کے با وجود الزام صلاح الدین ایوبی پر یہ ہے کہ اس نے تلوار سے اسلام پھیلایا ہے۔ سبحان اللہ! ؎

کہاں تک لو گے ہم سے انتقامِ فتحِ ایوبی
دکھاؤگے ہمیں جنگِ صلیبی کا نشاں کب تک؟

بہر کیف! اس قدر پروپے گنڈا کیا گیا کہ برناڈشا بھی متاثر تھا کہ اسلام توصرف طاقت کا مذہب ہے۔جیسے آج کل اسے ٹیررازم(Terrorism)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔مَیں عرض کرنا چاہتا ہوں؛کہ جس قوم نے حُسین کو دیاہو،جس کی آغوش میں حُسین پروان چڑھیں ہواور جنہوں نے اپنی گردن دے کر دنیا کو یہ اندازِ اقتدار پسندی دیا ہوکہ دنیا کا ہر اقتدار پسند اپنے ماننے والوں کی لاش کے اوپر اپنے اقتدار کی عمارت تعمیر کرتا ہے مگرحُسین اپنی لاش پر مذہب کی عمارت تعمیر کرتے ہیں؛وہاں طاقت کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ تو صبرو رضا کا مذہب ہے،یہ تو ایک ایسا مذہب ہے کہ جس نے ہمیشہ قربانیاں دے کر حق کی شمع روشن کی ہے۔اپنے خون سے حق کے چراغ جلائے ہیں اور جب جب امت مسلمہ کا مظلوم خون بہایا گیا ہے تو حق بلند ہوا ہے،حق عظیم ہوا ہے۔اس لیے دنیا کی دوسری قومیں اپنا بہتا ہوا خون دیکھ کے لرزہ بر اندام ہوجاتی ہیں؛مگر ہم تو صدیوں سے اپنے مظلوم خون کو بہتا ہوا دیکھ کے ’’رقصِ بسمل‘‘ کرتے رہے ہیں،ہمیشہ مسرتوں کا اظہار کرتے رہے ہیں۔اس لیے کہ ہر ہر ظلم کے بعدکوئی نہ کوئی اسلام کی صبح طلوع ہوئی ہے۔ ؎
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جب ہزاروں ستارے ڈوبتے ہیں توکوئی صبح آتی ہے،کچھ ستارے آج بھی ڈوب رہے ہیں ،کچھ ستارے میدانِ کرب و بلا میں بھی ڈوبے تھے اور ا س کے بعدصبح حیاتِ طلوع ہوئی اور ہو گی۔ ان شاء اللہ تبارک و تعالیٰ !

تو مَیں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ اس (برناڈشا)کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اسلام تلوار کے زور پہ پھیلا ہے۔۔۔۔۔۔چلیں ذرا دیکھیں !کہ اسلامی مبلغ (علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی)کیا کہتا ہے؟ا س کا اندازِ گفتگوکیا تھا؟ اس کے پاس کیا جواب ہے اس بات کا؟سب سے بڑا سوال تھا جو وہ (برناڈشا)لے کے گیا تھا۔تقریر سے اتنا متاثر ہوا کہ ان کو دعوت دے بیٹھا؛ کہ آپ ہمارے ہَٹ (Hutt)پر،تفریحی مقام پہ تشریف لائیے ،ہم آپ سے کچھ مزید باتیں کرنا چاہتے ہیں۔حضرت علامہ صدیقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ممباسا کے ساحل پر تشریف لے گئے اور اس سے گفتگو شروع کی۔گفتگو بہت طویل ہے۔افسوس کہ وہ ساری گفتگو ریکارڈ نہیں کی جا سکی اور اس زمانے میں ریکارڈ بھی اس قدرنامکمل تھا کہ بڑی مشکل سے چند الفاظ اور چند جملے ہمیں میسر آسکے ہیںجو کتاب کی شکل میں شائع کیے گئے ہیں۔پوری گفتگو ہمارے پاس ریکارڈ نہیں ہے۔لیکن اس گفتگو کو سننے والے کم ازکم میرے سامنے تک موجود رہے ہیںاور انہوں نے گفتگو کی تفصیلات بتائی ہیں کہ برناڈشا نے انہیں دیکھا،سب سے پہلے تو ان کی انتہائی وجیہ نورانی شخصیت سے وہ متاثر ہوا۔ان کے چہرے پہ جو نور تھا ،سرورِکائنات محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جو نور تھا وہ دیکھنے والے کو پہلی نظر میں متاثر کر دیتا تھا۔وہ خیمے سے باہر آیا ،اس نے ادب سے بٹھالااور اس کے بعد کہا:’’کل رات مَیں آپ کی تقریر میں موجود
تھا۔‘‘مولانا نے فرمایا کہ بے پناہ مسرت ہے مجھے؛ کہ آپ جیسا عظیم رائٹر(Writer)اور مصنف میری تقریر میں آیا تھا۔مَیں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ آئے تھے۔ آپ نے گفتگو سنی؟(برناڈشا نے)کہا’’ہاں !گفتگو سنی اور یقینا آپ کی گفتگو دنیا کے دوسرے مبلغین کے مقابلے میں بڑی مختلف تھی۔‘‘اب ظاہر ہے برناڈشا کے مقابلے میں جومبلغین رہے ہوں گے ،جو مشنریز رہے ہوں گے،چرچ کے رہ نما رہے ہوں گے؛ اس نے ان کی بھی تقریریں سنی ہوں گی،اس نے کہا’’بہت مختلف تھی،لیکن بھر بھی میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں،جو میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ہم نے سنا ہے کہ اسلام طاقت کے ذریعے پھیلایا گیا ہے،تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا ہے،آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟‘‘حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی نے فرمایا کہ بلا شبہ مجھے پروپے گنڈے کی طاقت پر یقین تو ہے؛ لیکن اس قدربڑا پروپے گنڈا کہ آپ جیساپڑھا لکھا اور معززانسان بھی اس سے متاثر ہو جائے گا؛مَیں اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔بہر کیف اگر آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے تو آپ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔جس زمانے میں پیغمبر اسلام اللہ کے رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اس وقت عربیہ کا کیاحال تھا؟جزیرۃالعرب کاکیاحال تھا؟مکۂ مکرمہ کاکیاحال تھا؟آ س پاس کے ملکوں کاکیاحال تھا؟اوردنیاکی دو سُپرپاورس(Super powers) کاکیاحال تھا؟اس زمانے میں دو سُپرپاورس تھیں؛ روم اورایران (قیصر وکسریٰ)۔انہوں نے پورے عرب کوباضابطہ طورپر دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا۔آدھے پہ روم کا قبضہ تھایہ شامSirya کاعلاقہ ہے،بیت المقدس کاعلاقہ ہے،جارڈن کاعلاقہ ہے،ان علاقوں پر روم کا قبضہ تھابحرین تک۔اوراس کے بعدکے سارے علاقوںپرایران کاقبضہ تھا،عراق پرایران کاقبضہ تھا،موجودہ کویت پرایران کاقبضہ تھا،یہ سارے علاقے ایران کے مقبوضہ تھے۔مکۂ مکرمہ اور حجاز کی زمین پر نہ ایران کا قبضہ تھا نہ روم کاقبضہ تھا۔ غالبا ًاس کی دو وجہیں تھیںایک وجہ تو معاشی تھی کہ یہاں کچھ پیدا نہیں ہوتا تھا،یہاں کوئی دجلہ نہیں تھا،کوئی فُرات نہیں تھا،کوئی نیل نہیں تھا۔اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اللہ کی یہ مرضی تھی کہ میرا محبوب کسی غلام زمین پہ نہیں؛ آزاد زمین پر جلوہ گر ہو۔اس لیے حجاز کاچھوٹا سا خطہ نسبتاً آزاد تھا۔اسی زمین پر اللہ کے رسول تاج دارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر ہوتے ہیںاور پھر جب وہ جلوہ گر ہوتے ہیں تو انہوں نے کوئی ایسا نعرہ نہیں لگایا جس سے کوئی گروہی، نسلی،خاندانی،ملکی یا جغرافیائی عصبیت ان کے ساتھ ہوجائے۔موقع ایسا تھا کہ وہ یہ نعرہ لگا سکتے تھے کہ اے گروہِ عرب!تم لوگ متحد ہوجاؤ!تمہیں صدیوں سے ایران نے اور صدیوں سے روم نے غلام بنا رکھا ہے۔ہم قیصر وکسریٰ کے اقتدار کو چیلنج کرتے ہیں…اگر وہ کوئی سیاسی لیڈر ہوتے تو یہی نعرہ لگاتے۔لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی نعرہ نہیں لگایا۔انہوں نے دنیا کو مکے کی طرف نہیں بلایاکہ مکے والوں کو یہ یقین ہوجائے کہ چلوہمیں پورے عرب میں سرداری میسرآرہی ہے،مکہ مرکز عرب بننے والا ہے،اس لیے مکے کے نام پر پیغمبر کھڑے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ اپنے قبیلۂ قریش کے حوالے سے بھی آپ نے قوموں کو نہیں بلایا۔بلکہ آپ نے قوموں کو بلایا ہے تو صرف اللہ کے نام سے بلایا،کتابِ الٰہی کے حوالے سے بلایا،نتیجہ یہ ہواکہ پورا عرب مخالف ہو گیا،مکہ مخالف ہوگیا،آپ کا خاندانِ قریش مخالف ہوگیا،وہ تلواریں کہاں تھیں جو رسول کے ساتھ تھیں؟وہ لوگ کہاں تھے جو رسول کے ساتھ صف بستہ تھے؟وہ لوگ کہاں تھے جو پیغمبر کے ساتھ تلوار لے کے کھڑے ہوئے تھے؟پیغمبر تو تنہا تھے، ہر روز تبلیغ کے پھول لے کے جاتے تھے اور پتھر کے زخم برداشت کر کے آتے تھے۔کیا آپ نے ان کی زندگی نہیں پڑھی؟مطالعہ نہیں کیا ہے؟اس کے بعدجو لوگ دین کی دعوت قبول کرتے گئے ،ان کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوتے گئے ۔لیکن یہ عالم تھا کہ اس کے باوجودانہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑا،مدینے کی طرف ہجرت کرنا پڑا،انہیں بے پنہاتکلیفوں سے گزرناپڑا،صلیب ودار کی کتنی منزلیں ان کے سامنے تھیں،انہیں تپتی ہوئی ریت پر کھینچا گیا،اتنے درد اور کرب کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت حق کی حمایت کے لیے تیار ہوئی اور پھر اس جماعت نے جنگ کا آغاز نہیں کیا۔بتاؤ!مکے سے مسلح ہوکر کے بدر کے میدان میں کون سی فوج آئی تھی؟بتاؤ!اُحد کے میدان میں جو دوسری جنگ ہے،یہ جنگ کیامکے میں لڑی گئی ہے یا مدینے کے آس پاس کہیںلڑی گئی ہے؟یہ اُحد کہاں ہے؟حملہ آورباہر سے آئے تھے یا اِنہوں نے خود کہیں حملہ کیا تھا؟بتاؤ!احزاب کی جو سرزمین ہے اس سرزمین میں جنگ کہاں لڑی گئی ہے؟تم دیکھوں گے کہ ابتدائی جتنی جنگیں ہیں؛ یہ سب دفاعی جنگیں ہیںاور رسول اللہ نے اپنے ماننے والوں کی زندگی بچانے کے لیے یہ کہا تھاکہ اپنے دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ…کیا یہ وہی اسلام ہے جو تلوار کے زور پہ پھیلا ہے؟…اس کے بعد انہوں نے اپنی پوری تاریخ بیان کی۔عیس
ائیت اور اسلام میں جہاں جہاںClash(ٹکراؤ)ہواتھاان تمام کو کہا وہ تین لاکھ فوج جو تبوک کے مقام پر جمع کی گئی تھی،بتاؤ!وہ تین لاکھ فوج جو کسریٰ کی طاقتوں سے مسلح تھی،ان کے مقابلے میں وہ تیس ہزار مسلمان محض اپنا دفاع کرنے کے لیے جو گئے تھے؛ یہ اور بات ہے کہ جنگ نہیں ہوئی اور تین لاکھ فوج بھاگ گئی۔لیکن !اس میں مسلمان کہاںتمہیں حملہ آور نظر آتا ہے؟مسلمان کہاں جنگ کرتا ہوا نظر آتا ہے؟قیصر نے ہرموڑ پہ یہ چاہا تھا کہ اسلام کو تباہ کردیا جائے۔ہِرَقل نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہا۔تاریخ کے ایسے ناقابلِ تردید حوالے تھے کہ برناڈشا مبہوت بیٹھا ہوا سن رہا تھا۔ایسا لگتا تھاجیسے تاریخ نئے سرے سے لکھی جا رہی ہو، نئے سرے سے پڑھی جا رہی ہواور نئے سرے سے بولی جارہی ہو۔اور اس کے بعد انہوں نے کہا اسلام پھیلا ہے ،تلوار سے نہیں ؛ہاں!تلوار سے پھیلا ہے لیکن اسلام لوہے کی تلوار سے نہیں مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم )کے اخلاق کی تلوار سے پھیلا ہے۔جب لوہے کی تلوار اٹھتی ہے تو کافر کٹتا ہے اور اخلاق کی تلوار اٹھتی ہے تو کفر کٹتا ہے اور کافر کو حیاتِ ابدی(دولتِ اسلام)مل جاتی ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اک نیا انداز دیا ہے تم ان کے اخلاقِ کریمانہ کا جائزہ لو اور اسلام کی تبلیغی مساعی اور دنیا میں پھیلنے کا مطالعہ ازسرِنوکرو۔خبر دار!پرو پے گنڈے سے متاثر ہونا آپ جیسے لوگوں کا کام نہیں ہے۔
اس (جارج برناڈشا)نے بہت سے اعتراضات ایک کے بعد دیگرے کیے۔(علامہ میرٹھی)ہر ایک کا جواب دیتے رہے۔اخیر میں اس نے کہا،قرآنِ پاک کو رسولِ پاک کا کلام قرار دینے کے لیے وہ کہتا ہے کہ مَیں نے قرآن پڑھا ہے،مجھے جنت اور دوزخ کے بارے میں قرآنِ پاک سے معلومات حاصل ہوئیں،بلا شبہ قرآن جنت ودوزخ کے بارے میں جو تفصیلات بیان کرتا ہے یہ تفصیلات کہیں اور موجود نہیںہے۔بائبل میں بھی جنت اور دوزخ کاتصور ہے لیکن ایک موہوم تصور ہے،ایسا موہوم تصور جس میں نہ نعمتوں کا تذکرہ ہے اور نہ جہنم کے عذاب کی وضاحتیں موجود ہے،کوئی جنت اور دوزخ ParadiseاورHellکو پڑھنے کے بعد کوئی واضح خاکہ نہیں پھیل سکتا۔لیکن قرآن پاک میں اس کی اتنی واضح تصویر پیش کی گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ قرآن پاک لکھنے والے نے خود جاکے دیکھا ہو۔جس طرح سے جہنم کے دہکتے ہوئے شعلوں کا تذکرہ ہے،جہنم کے اندر جلنے والوں کا تذکرہ ہے،جس طرح سے جہنم کے عذاب کا تذکرہ ہے،جس طرح سے جہنم کے فرشتوں کا تذکرہ ہے۔یہ مَیں نے سب کچھ پڑھا ہے مَیں نے مطالعہ کیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کا بڑاگہرا مطالعہ رکھتے تھے،وہ جانتے تھے،انہیں معلوم تھاکہ میری قوم اس قدر برائیوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور صدیوں سے ظلم اور جبر کا شکار ہے کہ اگر مَیں نے اسے جہنم کا بڑا بھیانک تصور نہیں پیش کیا تو میری قوم برائیوں سے بازنہیں آئے گی۔جہنم کا خوف اور جہنم کا لرزہ خیز شاعرانہ تصور جو پیغمبرِاسلام نے پیش کیا ہے وہ اس لیے پیش کیا ہے تاکہ آپ کی قوم گناہوں سے بازآجائے،برائیوں سے باز آجائے۔علامہ صدیقی نے فرمایاکہ یہاں آپ نے دو غلطیاں فرمائی ہیں۔ایک غلطی تو آپ نے یہ فرمائی کہ جہنم کے باب میںآپ کایہ کہنا کہ رسول پاک کا صرف اپنا مشاہدہ تھا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔اور پھر قرآن پاک انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے۔یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔آپ جانتے ہیں،رسولِ پاک کسی مکتب میں نہیں گئے ،کسی درس گاہ میں نہیں گئے،کوئی ان کا مدرس نہیںتھا،اگر کوئی مدرس ہے تو صرف پروردگار عالم ہے؛ جو ان کے قلب پاک پر قرآن کو نازل کررہا ہے۔اس لیے اگر آپ یہ کہیں کہ انہوں نے خود قرآن لکھاتو یہ تاریخی حقایق سے انحراف ہوگا،یہ صداقت سے انحراف ہوگا۔قرآن اللہ نے نازل کیا تھااور ان کے قلب پہ نازل کیا تھا۔اور اللہ ہی جنت و دوزخ کاپیدا کرنے والا ہے۔خالق بہتر تصویر کشی کر سکتا ہے کسی اور کے مقابلے میں۔اور وہ ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ وہ صداقت ہے جو قرآن پاک کے اندر موجود ہے۔
یہ تمام باتیںہوئیں،اسلام کے اخلاقی نظام پر،اسلام کے مادی نظام پر،اسلام کے معاشی نظام پرتفصیلی گفتگو ہوئی اور بعد میں اس نے یہ جملہ کہا تھا’’مولانا!اگر اسلام وہی ہے جو آپ کہہ رہے ہیںتو مَیں پیشین گوئی کرتاہوں؛ اگرچہ مَیں پیشین گوئی کا قائل نہیں ہوںلیکن مَیںپیشین گوئی کرتا ہوں؛اگر اسلام وہی ہے جو آپ کہہ رہے ہیںتو کل پوری دنیا کا مذہب اسلام ہوگا ۔‘‘


برناڈشا سے یہ جملہ کہلوانے والاہمارامقتدا اور ہمارامخدوم عبدالعلیم صدیقی میرٹھی ہے۔یہ جملہ دنیا کو یاد رہ گیا ہے لیکن کب کہا ہے یہ جملہ؟کس مقام پہ کہا ہے؟وہ منظر اور پسِ منظر لوگوں کے سامنے نہیں ہے ۔یاتو یاد نہیں رکھا گیایا جان بوجھ کر کے؛ کیوں کہ دبستانِ اعلیٰ حضرت کے پروردہ تھے اس لیے دشمنوںنے یہ چاہاکہ (علامہ عبدالعلیم)صدیقی کا نام نہ آنے پائے ،صرف جملہ دنیا کے اندر مشہور ہوجائے۔مَیں چیلنج کرتا ہوں ان لوگوں کوجو اس جملے سے واقف ہیںکہ اگر ک
وئی اور پسِ منظر ہوکوئی اور Back Groundہوتولے آؤ۔اور اگر نہیںہے تو علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کی علمی،فکری اور داعیانہ عظمت کا اعتراف کروکہ وہ اس وقت کے سب سے بڑے دباؤ سے اسلام کی عظمت اور برتری کو تسلیم کروارہے ہیں۔
میرے عزیز ساتھیو!اس طرح کے نامعلوم کتنے مقامات ہیں ان کی زندگی میںجن کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے اور جن کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔مَیں یہاں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا؛ اپنے علما ساتھیوں سے،اپنے دوستوںسے کہ ان (علامہ میرٹھی)کاجوطریقۂ تبلیغ تھا اسے ہم بھی اختیار کریں۔میرے عزیز ساتھیو!ان سے ہم سیکھیں۔اپنے بزگوں کا تذکرہ صرف اس لیے نہیں ہے کہ ان کی روح کو ایصالِ ثواب کردیا جائے اور بس سب مطمئن ہو جائے۔مَیں ایصالِ ثواب کا قائل ہوں،الحمدللہ کرتا بھی ہوں اور بہت زیادہ کرتا ہوں۔لیکن اس کے باوجود مَیں یہ کہتا ہوں کہ ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہے۔مَیں آپ کو یہ بتاؤں،دنیا کے کم و بیش ساٹھ ستر ملکوں میں دورہ کیا ہے انہوں نے۔ لیکن زندگی بھرکراچی کی ایک مسجد کے ایک کمرے میںکرائے دار کی حیثیت سے رہتے تھے۔علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کا اپنا مکان آج بھی موجود نہیں،اسی کمرے میں ان کے انتہائی مایہ نازفرزند حضرت علامہ شاہ احمد نورانی(ولادت ۱۹۲۶ء۔وصال۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳ء) اسی کمرے میں آج بھی کرایا دار موجود ہیں۔اور موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد کمیٹی کہہ رہی ہے کہ نکل جاؤاس لیے کہ ہم اس کو مسجد کے اندر شامل کرنا چاہتے ہیں۔اور ا ن کے پاس کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔اگر وہ چاہتے تو کراچی میں سونے کا محل تعمیرکر سکتے تھے،مگر نہیں؛ ان کے باپ حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اپنی پوری زندگی تبلیغ کے لیے وقف فرمائی ہے،دنیا سے کبھی کچھ بھی طلب نہیں فرمایا،اگر کسی مرید نے بہ طورِنذرکچھ پیش کر دیاتوڈربن اور زمبابوے کے غریب علاقوں میں جاکرکے اسے شام تک تقسیم فرمادیا ۔یہ مزاج تھا ان کی تبلیغ کا،یہ انداز تھا ان کی تبلیغ کا،یہ انداز تھا ان کے داعیانہ مزاج کا۔بس ایک خواہش تھی کہ جس رسول کے مشن کو لے کے دنیا میں وہ پھرتے رہے اُنہیں رسول کے قدموں میں کہیں جگہ مل جائے۔یہ خواہش اتنی شدید تھی کہ وہ ہمیشہ اپنی دعا میں؛ اور آج بھی ان کی دعا ان کے مریدوں کے حلقوں میں پڑھی جاتی ہے کہ اے اللہ! ہمیں بقیعِ مقدس میں دفن ہونے کی توفیق عطا فرما۔بایمان ودفن بالبقیع اے اللہ! ایمان پہ خاتمہ فرمااور بقیع میں دفن ہونے کی سعادت عطا فرما۔ان کا یہ عالم تھا کہ کوئی ان سے وصیت بھی کردیتا تواس تمنا میں کہ اس وصیت کو پورا کرنے میںشاید مجھے بھی وہاں جگہ مل جائے ؛ اپنی پوری کوشش کرتے تھے۔صوفی عبداللہ جنہوں نے نیروبی کی جامع مسجداور بہت سی مساجد اس علاقے میںبنوائی ہے ۔انہوں نے کہا تھا مولانا!آپ کے پاس وسائل ہیں،عرب بھی آپ کا بے پنہا احترام کرتے ہیں،اگر مَیں مر جاؤں تو کیا آپ وعدہ کرتے ہیںکہ آپ مجھے بقیع میں دفن کروادیں گے؟آپ نے فرمایا کہ مَیں کوشش کروں گا۔ ان (صوفی عبداللہ) کا انتقال نیروبی میں ہوا ہے اور جنازہ لے کے خود مولانا(عبدالعلیم)تشریف لے گئے ہیںاور بقیع میں اُنہیں دفن کیا۔یہ عالم تھا ان کی محبتِ رسول کا۔جب تک پاکستان نہیں بنا تھا،وہ ہندوستان میں بومبے یا کلکتے کے ساحل سے سفر کرتے اور واپس آتے تھے اور جب اس وطن سے وہ دور ہوگئے توپھر اس کے بعد انہوں نے مدینے کو اپنا وطن بنا لیا۔اب وہ ہندوستان آنے کی بجائے جہاں سے بھی واپس ہوتے تھے مدینہ جاتے تھے۔افریقا سے واپس ہوئے مدینہ گئے،تبلیغ اور دعوت کے بعد جو ساعت گزرتی تھی وہ مدینے پاک میں گزرتی تھی۔اور انتقال کا جب وقت آیا تو مدینے ہی میں تھے۔بڑی مشہور بات ہے کہ ہمیشہ وہ پڑھا کرتے تھے ؎
مدینے جاؤں پھر آؤں مدینے پھر جاؤں
اسی میں عمرِ دو روزہ تمام ہوجائے
انتقال کے سال پہلے سے انہوں نے یہ پڑھنا شروع کیا تھا ؎
مدینے جاؤں نا آؤں وہیں پہ رہ جاؤں
وہیں پہ قصۂ ہستی تمام ہوجائے
پورے ایک سال ان کی زبان پہ ہمیشہ رہا ؎
مدینے جاؤں نا آؤں وہیں پہ رہ جاؤں
وہیں پہ قصۂ ہستی تمام ہوجائے
ہم بھی پڑھتے ہیں،ہمارے شعرا بھی پڑھتے ہیںلیکن قبول نہیںہوتی ہے یہ دعا۔اس لیے کہ ہم صرف زبان سے پڑھتے ہیںمگر وہ دل سے تمنا کر رہے تھے،دل سے کہہ رہے تھے ؎
مدینے جاؤں نا آؤںوہیں پہ رہ جاؤں
وہیں پہ قصۂ ہستی تمام ہوجائے
یہ شعر پورے سال تک پڑھتے رہے،یہاں تک کہ جب وہ مدینے پہنچے تو بیمار ہوئے،بیماری بڑی شدیدتھی اور یقینا نبض چھوٹنے کے قریب پہنچی توقطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(م۔۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء) سرہانے موجود تھے،بڑی دوستی تھی دونوں میں۔فرمایا کہ ایسا لگتا ہے کہ اب یہ میرا آخری سفر ہے،دعا کیجیے کہ میراخاتمہ بالخیر ہو۔ہر مرنے والا یہ تمنا کرتا ہے،خواں چھوٹا ہو یا بڑاہو۔ بڑے مغرور ہیں وہ لوگ جو اپنے بارے میں بڑے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم جنتی ہوگئے ہیں،یادوسروں کوجنت بانٹتے ہیں۔ایسے مشایخ،ایسے لوگ یقینا فریب خوردۂ ظ
لمت ہیں۔جتنا بڑا انسان ہوتا ہے ؛ اسی قدر خشیتِ الٰہی کا مرقع ہوتا ہے وہ۔وہ رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں دعاکیجیے خاتمہ بالخیر ہو،تو اعلیٰ حضرت کی بارگاہ کے ایک تربیت یافتہ کا مزاج کیا ہے سنو!…مولانا ضیاء الدین فرماتے ہیں مولانا غم نہ کیجیے خاتمہ بالخیر ان شاء اللہ ہوگا۔ہمارے اور آپ کے شیخ نے توضمانت لی ہے کہ خاتمہ بالخیر ہوگا۔بڑی حیرت ہوئی؛کہا کہ آپ نے سنا نہیں ہے وہ شعر اعلیٰ حضرت کا؟…یہ شعر پڑھا انہوں نے ان کے انتقال سے پہلے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے ؎
تونے ایمان دیاتو نے جماعت میں لیا
توکریم اب کہیں پھرتا ہے عطیہ تیرا
کیا خیال ہے آپ کا مولانا !اگرکوئی کریم،کوئی سخی کچھ دے دے تو واپس لیتا ہے بلا وجہ؟کہانہیں حضور!…کہا اس وقت تو آپ مطمئن ہیں کہ آپ مؤمن ہیں ؟…کہا ہاں!…تو یہ ایمان اللہ کا عطیہ ہے اوروہ ایسا سخی ہے کہ وہ کبھی بھی یہ دولت واپس نہیں لے گا۔اس لیے آپ کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔چناںچہ خاتمہ ایمان پر ہوا۔اورپھر وہیں جنت البقیع میںام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے قدموں میںمدفون ہوئے۔ان ہی کے قدموں میں جگہ ملی ہے۔اب مَیں بتاؤںکہ کیا انعام ملا ہے ان کوپوری زندگی میںدولت نہ کمانے کا،محل نہ بنانے کا،سرمایہ نہ حاصل کرنے کا؛انعام کتنا بڑا ملا ہے؟…سنو!الجنت تحت اقدام الامھات ’’جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔‘‘…ایک صدیقی مرنے کے بعدصدیقہ کے قدموں میں آرام کر رہا ہے۔اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے؟اور اس سے بڑا مرتبہ کیا ہو سکتا ہے؟
آج دنیا میں بھی کروڑوںمسلمان ہر سال جنت البقیع کے مدفونین پرسلام پڑھنے کے لیے حاضر ہوتے ہیںاور وہ بھی سلام قبول فرماتے ہیں،ان پر بھی سلام پڑھا جاتا ہے۔یہ وہ انعام ہے جو تبلیغ اوردعوت کے راستے میں زحمتیں اٹھانے کے سلسلے میں ان کومیسر آیااور ان کو ملا۔خدا یہ انعام ہمارے علما کو ہمارے ساتھیوں کواور ان کے صدقے میں ہمیں بھی عطا فرمائے!(آمین)…یہ بڑا عظیم انعام ہے،یہ بڑا محترم انعام ہے،اس سے بڑھ کر کسی انعام کا تصور نہیں کیا جاسکتا…تو یہ ان کو انعام میسر آیا،دنیا نہ کمانے کا،دنیا نہ حاصل کرنے کااور سب کچھ قربان کردینے کا،اسلام کے راستے میںاور دین کے راستے میں۔
آج ورلڈ اسلامک مشن یا دنیا میں مسلمانوں کی جو بھی تحریک بنامِ سنیت یا مسلکِ اعلیٰ حضرت باہر کام کر رہی ہیںوہ صدیقی صاحب کی زمین پر کر رہی ہے۔اس بات کو اچھی طرح یاد رکھیے،پہلے انہوں نے بیج ڈالا ہے،انہوں نے اسلامی روایات کو پہنچایا ہے،آج جو بھی پہنچے گا بنامِ سنیت بنامِ اعلیٰ حضرت ؛بلا شبہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت کے اُسی مشن کے تحت پہنچے گااور اُسی کی بنائی ہوئی زمین پہ پہنچے گا۔یہ احسان صبح قیامت تک کے لیے اہل سنت و جماعت پر ان کا ہے اور رہے گا۔ہم بھی اُنہیں کی زمین پہ کام کرتے ہیں،شروع شروع میں جب ہم نے یورپ میں کام کرنا شروع کیا توصرف اس بات کی کوشش میں لگے رہے کہ کسی ملک میں ان کا کوئی مرید مل جائے۔اس لیے کہ لوگ ہمیں نہیں جانتے تھے،ہم سے واقف نہیں تھے۔اگر ایک مرید مل گیا تو ہم نے وہاں ایک ادارہ قائم کر دیا،ہم نے وہاں ایک درس گاہ بنوادی،آج بھی مشن کی پچاسوں عظیم الشان درس گاہیں اورمسجدیں انہیں کے نام پر اور انہیں کے مریدوں کے ذریعے سے قائم ہیں۔ وہ خواہ ساؤتھ افریقا میں ہو،خواہ وہ ممباسا میں ہو،خواہ وہ نیروبی میں ہو،خواہ وہ موریشش میں ہو،خواہ وہ کینیڈا میں ہو،برطانیا میں ہویا پھر یورپ و امریکا کی سرزمین پر ہو،جتنے بڑے ادارے ہیں ان کے مریدوں اور ان کے شناساؤں کے ذریعے سے ہم نے قائم کیے ہیں۔ہم نے صرف یہ کوشش کی ہے کہ جو بچھڑے ہوئے عناصر تھے ان کو ہم جمع کردیں ۔وہ اگر نہ ہوتے ،ان کا نام نہ ہوتا،ان کی خدمات نہ ہوتیںتو ورلڈاسلامک مشن جیسی عالمی تحریک نہ قائم ہو سکتی تھی اور نہ ہمارے اندر یہ طاقت تھی کہ اجنبیوں کے ماحول میں جا کر کے ہم اپنا تعارف کراسکتے تھے۔یہ وہ عظیم احسان ہے جو ان کا ملتِ اسلامیہ کے اوپرہے۔
میرے عزیز ساتھیو!مَیں عرض کررہا تھا،ہم اپنے علما سے یہ کہیں گے کہ جب دین کے لیے انسان نکلتا ہے تو اسی داعیانہ جذبے کے پیشِ نظر اسے نکلنا چاہیے جو حضرتِ صدیقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا تھا،جو ان کے رفقاے کار کاتھا،جس طریقے سے انہوں نے کام کیا ہے؛ اس طریقے سے کام کرنا چاہیے۔ہم منتظر رہتے ہیں؛ہمیں دعوت دی جائے تو ہم جائیں۔اور ان کا یہ عالم تھاکہ ممباسا میں اترتے ہیں،ایک کالج میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مَیںمسلم مشنری ہوں ،تبلیغ کرتا ہوں،کچھ اچھی باتیں بتاتا ہوں،مجھے اپنے کالج میں تقریر کی اجازت دے دو۔اور پھر موقع ملتا ہے وہ اجازت دے دیتے ہیں۔جو بھی جہاز بمبئی یاکلکتے سے روانہ ہوتا ہے اس میں بیٹھ جاتے ہیں،جب بھی کوئی ساحل آتا ہے تو اتر جاتے ہیںاوراس ساحل پر لوگوں کو دعوت دینے کے لیے خود جلسہ کرتے ہیں،خود منتخب کرتے ہیں لوگوں کو،اور اس کے بعدتبلیغ کرتے ہیںاورپھر واپس چلے آتے ہیں۔یہ ان کا طریقہ تھا،یہ ان کا معمول تھا۔
تو میر
ے ساتھیو!ہمیںبھی پوری دنیا میںکام کرنا ہے۔جب تک دنیا میں اسلام ایک غالب قوت کی حیثیت سے ہر فرد تک نہیں پہنچ جاتااس وقت تک مسلم مبلغین کا کام ختم نہیں ہوا ہے۔اگر ہمارایہ یقین ہے کہ اسلام سب کا مذہب ہے،اگر ہمارا یقین ہے کہ اسلام ہر ایک قوم کا مذہب ہے جسے اس(قوم)تک پہچانا ہماری ذمہ داری ہے،ہر ملک اور ہر طبقے کا مذہب ہے اسلام۔تو جب تک ہر فرد تک اسلام کی آواز نہ پہنچے؛ اس وقت تک نہ ہماری ذمہ داریاںختم ہوئی ہیں اورنہ ہی اے گروہِ علما!آپ کی ذمہ داریاں ختم ہوئی ہے۔انہوں نے اپنی زندگی مکمل کی،اپنی پوری زندگی تبلیغ اور دعوت کے راستے میں انہوںنے گزاری۔ہمیں بھی عہد کرنا ہوگاان کے مبارک دن پر کہ ہم بھی اپنی پوری زندگی دین کے لیے وقف کریںاور اس راستے میںجو بھی مصیبتیں اور مشقتیں آئیںانہیںخندہ پیشانی سے قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
میرے عزیز ساتھیو!یہ اک مختصر سی ان کی حیاتِ طیبہ تھی،جو مَیں نے آپ کے سامنے عرض کی۔ان شاء اللہ پھر کبھی تفصیل سے عرض کروں گا۔وما علینا الا البلاغ!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*شاہ فیصل : استعفے سے استعفے تک !!*

غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کشمیر کی زمینی صورت حال کس قدر پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے اس کا اندازہ شاہ فیصل کے دو استعفوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ استعفے ڈیڑھ سال کے وقفے میں منظر عام پر آئے ہیں۔ 2010 میں upsc (یونین پبلک سروس کمیشن) میں ملک بھر میں ٹاپ کرنے والے IAS شاہ فیصل اس وقت سرخیوں میں آگئے تھے جب کشمیر میں ہونے والے "مظالم" کی بنیاد پر 9 جنوری 2019 کو سول سروس سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دیتے وقت انہوں نے کہا تھا:
ان کا استعفیٰ ہندو وادی طاقتوں کے ذریعے 20 کروڑ مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈالنے، انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے، جموں و کشمیر کی خصوصی پہچان پر فریب کارانہ حملوں اور بھارت میں حب الوطنی کے نام پر بڑھتی شدت پسندی ، کشمیر میں بڑھتے قتل وقتال اور نفرتی تہذیب کے خلاف ہے۔"

استعفیٰ دے کر 17 مارچ کو نئی سیاسی پارٹی "جموں کشمیر پیپلز موومنٹ" تشکیل دی۔ اس وقت شاہ فیصل نے "ہوا بدلے گی" نعرہ دے کر نوجوانوں سے ساتھ آنے کی اپیل کی تھی۔
ابھی فیصل کی نومولود پارٹی 6 ماہ کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت 370 اور 35 اے کا خاتمہ کردیا۔ اس معاملے پر کوئی آواز نہ اٹھے اس لیے کشمیر کے سیاسی لیڈران وکارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ، اسی ضمن میں شاہ فیصل کو دہلی ائیرپورٹ سے گرفتار کرکے ان کے گھر میں نظربند کردیا گیا۔ سال بھر کے بعد اب انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی ڈیڑھ سالہ پارٹی کے عہدہ صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے امید کی جارہی کہ وہ جلد ہی اپنی سروس جوائن کر سکتے ہیں !!

شاہ فیصل ایک کامیاب افسر تھے، ان کی ذاتی زندگی پر سکون اور مستقبل نہایت روشن تھا۔ لیکن اپنے صوبے میں ہونے والی "ناانصافی" نے انہیں نوکری کے بجائے سیاسی طاقت کے ذریعے اصلاحات کا بیڑا اٹھانے کی ترغیب دی۔ لیکن ایک سالہ نظربندی نما قید کے درمیان حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ کبھی کشمیر کے امن کی خاطر IAS جیسی نوکری سے استعفیٰ دینے والا نوجوان آج واپس اسی نوکری پر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔


__ کشمیر کی صورت حال نہایت پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے، سیاسی لیڈران کو عوام نہیں "دہلی دربار" کا وفادار سمجھا جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں خاطر خواہ ووٹنگ نہیں ہوپاتی۔کبھی شاہ فیصل نے اسی حقیقت کے بارے میں بی بی سی سے کہا تھا:
"اگر قبولیت کی بات کریں تو جو لوگ علاحدگی پسند ہیں،جو بھارتی دستور کو نہیں مانتے۔ان کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ ہیں۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو علاحدگی پسند وہاں کی مین اسٹریم سیاست کرتے ہیں اور ہماری طرح کے لوگ وہاں کی مین اسٹریم میں نہیں تھے۔"

کشمیر کو لیکرمرکزی حکومت (کانگریس ہو یا بی جے پی) کا نظریہ اور اقدامات ہمیشہ ہی کشمیری عوام میں مشکوک رہے ہیں۔ سیاسی لیڈران "عوامی خواہشات" اور "دہلی دربار" دو پاٹوں کے بیچ پھنسے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے دوسرے نظریے سے بھی دیکھتے ہیں اور سیاسی لیڈروں پر ذاتی مفادات اور سودے بازی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ شاہ فیصل بھی اس الزام سے اچھوتے نہیں رہے، جس وقت انہوں نے سول سروس سے استعفیٰ دیا تھا تو بہت سارے افراد نے انہیں مرکزی حکومت کی کٹھ پتلی قرار دیا تھا، ہمارے شناساؤں میں ایک مفکر نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ:
"ہوسکتا ہے کہ فیصل کو مرکزی حکومت نے اپنی Future Policy کے تحت پلانٹ کیا ہو تاکہ آئندہ کئے جانے والے اقدامات کے خلاف بننے والی رائے عامہ کو فیصل کے چہرے اور اقدامات سے کنفیوز کیا جاسکے اور مناسب موقع پر اپنے حق میں کیا جاسکے۔"
اس شبہ کو اس وجہ سے اور تقویت ملتی ہے کہ شاہ فیصل کا استعفیٰ ڈیڑھ سال سے اب تک منظور نہیں ہوا۔ خبریں یہاں تک آئیں کہ انہوں نے NSA اجیت ڈوبھال سے مشاورت کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ چھن کر آنے والی خبروں کے مطابق انہیں لیفٹیننٹ گورنر(L G) کا صلاح کار بنایا جاسکتا ہے۔
شاہ فیصل کو بھی اس بارے میں اندازہ تھا اسی لیے پارٹی کے عہدہ صدارت سے استعفیٰ دیتے وقت انہوں نے کہا:
"جب میں نے سیاست چنی تو مجھے کٹھ پتلی کہا گیا اب سیاست سے استعفیٰ دے رہا ہوں تو بھی مجھے کٹھ پتلی کہا جارہا ہے ایسے لوگوں پر میں ہنستا ہوں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں امید تھی کہ اپنے گلیمر اور عوامی شبیہ کی بنیاد پر بہت جلد ایک سیاسی مقام حاصل کرلیں گے لیکن کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے انہیں سوچنے پر مجبور کردیا کہ مرکز کے زیر انتظام صوبے میں بے دست و پا لیڈر بننے سے انتظام چلانے والی افسرشاہی کا حصہ بننا اچھا ہے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے دو ٹوک کہا:
"زمینی حقیقت بدل گئی ہے۔اب یہ وہ جگہ بالکل نہیں ہے۔اس لیے میں یہاں کے نئے سیاسی حالات کے تئیں اپنی فکر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سیاسی اعتبار سے صحیح نظر آئے بغیر یہاں سیاست کرنا بہت مشکل ہے۔"

پورے معاملے کا تجزیہ کرنے کے ا
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
یک زاویہ نظر یہ بھی بنتا ہے کہ شاہ فیصل سسٹم کی بالادستی سے کمزور پڑ گئے جیسا کہ ایک بیان میں کہا:
"مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 1949 میں اکثریت 370 لگانے کے حق میں تھی اور 2019 کی اکثریت کا مزاج اسے ہٹانے کے حق میں تھا، ہمیں ملک کے مزاج کو سمجھنا ہوگا اور حقیقت کے ساتھ آنا ہوگا۔"

بہرحال اس فیصلے سے ان لوگوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے جنہیں لگتا تھا کہ شاہ فیصل کی شکل میں ایک نئی طرح کی سیاست کا آغاز ہوگا اور کشمیر میں امن و امان قائم ہوگا۔

23 ذوالحجہ 1441ھ
14 اگست 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#وقت_کی_پکار

ایسی پریشانی اور بے بسی کے عالم میں بھی روز بروز جس طرح سے ہمارے یہاں تقریبات کی کثرت ہوتی جارہی ہے وہ تشویشناک ہے۔

اب ہر شخصیت کے یوم وصال کے ساتھ ساتھ یوم پیدائش بھی منایا جارہا ہے۔ اور اگر اس ممدوح کی زندگی میں کوئی خاص دن تھا تو اسے بھی سلیبریٹ کیا جارہا ہے۔

ہماری ان رسومات اور ان میں در آئی خرافات کو دیکھ کر ہی پڑھے لکھے دانشور لوگ ہمارے قریب نہیں آتے اور سنیوں کو جاہلوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔

جبکہ اب تک اہل سنت کا طریقہ یہی رہا ہے کہ یوم پیدائش صرف آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منایا جاتا رہا ہے بقیہ سب کے یوم وصال منائے جاتے رہے ہیں۔ اور اب بھی یہی کرنے کی ضرورت ہے۔

ورنہ جس تیزی کے ساتھ یوم پیدائش اور یوم وصال اور ایام مخصوصہ کی تقریبات منائی جارہی ہیں کچھ ہی دنوں میں کوئی دن باقی نہ رہے گا جس دن مسلمانوں کا اچھا خاصہ پیسہ ان میں خرچ نہ ہو۔

وہیں تعمیری کام اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہیں گے۔

آج امت مسلمہ کو ضرورت ہے اپنے کالیجوں، ہسپتالوں، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی۔

اگر اس پر وقت رہتے توجہ نہ دی گئی تو پھر زندگی کی تمنا محض خواب ہوگی۔

کرنا تو یہ چاہیے! کہ اپنے اپنے ممدوح کے نام پر جلسہ، جلوس اور قوالی وغیرہ میں لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے اسی ممدوح کے نام سے؛ اسی پیسہ سے ان کے ایصال ثواب کے لیے ایک اسکول قائم کردیں، ہرسال اس میں اضافہ کرتے جائیں۔

کچھ میڈکل اور قانون کے طلبہ کو اسکالرشپ کا انتظام کردیں۔

اگر مریدین و متوسلین صاحب حیثیت ہیں تو میڈیکل کالیج بنوائیں یا مختلف شہروں میں اچھے اسکول قائم کرتے جائیں۔

اگر یہ کام ہوگیا تو وہ ایصال ثواب جو ایک بار میں ختم ہوجاتا تھا اب وہ صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔

اس سے آپ کے ممدوح کو زیادہ خوشی ہوگی۔ اور امت کی مشکلات بھی حل ہونگی۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::مصلیا و مسلما
محررین و ومقررین قوم مسلم کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں۔

قلم کاران و محررین اور خطبا ومقررین بھارتی مسلمانوں کے خستہ حالات کی جانب متوجہ ہوں اور مصائب و مشکلات سے قوم کو باہر نکالنے کی تدابیر بیان کریں۔

ہماری فکر اس قدر غلط راہ پر جا چکی ہے کہ اگر گزارش کی جائے کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور اس سے نجات سے متعلق ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو نہ ہی کوئی پسند کرے گا، نہ ہی قلم کار حضرات مضامین لکھیں گے۔
لیکن کہا جائے کہ فلاں شخصیت کے تعارف کے لئے ایک مجموعہ شائع کرنا ہے تو ہر کوئی داد و تحسین کی بارش کرے گا اور مضامین کے ڈھیر لگ جائیں گے۔

مفکرین کو سوچنا چاہئے کہ بھارتی مسلمانوں کے حالات اس قدر خراب ہیں اور قریبا ازادی کے بعد ہی سے ،بلکہ ۱۸۵۷ کی جنگ ازادی میں مسلمانوں کی شکست اور سلطنت مغلیہ کے خاتمے کے بعد ہی سے خراب ہیں۔
لیکن ہم نے وفات یافتگان کے تعارف میں نہ جانے کتنے مجموعے شائع کر ڈالے ۔
زندہ مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے شاید ایک مجموعہ بھی شائع نہ ہو سکا۔
بھارتی مسلمان تعلیم، سرکاری ملازمت، تجارت و معیشت، سیاست اور نہ جانے کتنے شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کے حالات کو دلتوں سے بدتر بتایا گیا ہے۔
ان سب حالات میں سدھار کے لئے مضامین لکھیں اور مجموعے شائع کریں۔

وفات یافتگان کی سیرت و سوانح بیان کرناصحیح ہے،لیکن زندہ مسلمانوں کی ضرورت و مصیبت پر بھی نظر محبت فرمائیں۔
چند قلم کاران مثلا علامہ غلام مصطفے نعیمی، علامہ خالد ایوب مصباحی صاحب شیرانی، علامہ محمد زاہد علی مرکزی، مولانا محمد شاہد علی مصباحی جالون، علامہ توصف رضا سنبھلی وغیرہم حالات حاضرہ پر اچھا لکھتے ہیں۔
لیکن چند لوگ ملک بھر کے حالات بدل نہیں سکتے۔
کم ازکم بھارت جیسے وسیع و عریض ملک میں چار پانچ سو تربیت یافتہ یا تجربہ کار قلم کار میدان میں اترپڑیں تو ان شاء اللہ تعالی چند سالوں میں حالات بدل جائیں گے
میں ہی اس بات کا اغاز کر دیتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی ماہنامہ پیغام شریعت دہلی کی جانب سے تین ماہ کے اندر ایک ایسا مجموعہ مضامین شائع کر دوں گا جو محض ان مضامین پر مشتمل ہو گا جو بھارتی مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوں۔یہ مجموعہ کمپوٹر ایڈیشن ہو گا۔
قلم کاران ایسے مضامین تحریر فرمائیں اور اس قسم کے مضامین پر نظر پڑے تو محرر سے اجازت لے کر مجھے بھیج دیں۔

طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ؛
09:اگست 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#لباس_شخصیت_کا_تعارف_ہوتا_ہے!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

کچھ وقت پہلے ایک دوست کے ہمراہ ایک فاضل دانشور کی محفل میں جانا ہوا۔فاضل موصوف میرے قدیم شناساؤں میں ہیں۔اپنی مختصر عمر اور محدود مشاہدہ میں، موصوف سا مفکر ومدبر اور بے باک شخصیت کم ہی دیکھی ہیں۔ان کا حد درجہ مخلص ہونا سونے پر سہاگہ ہے۔
چائے نوشی کے دوران مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوتی رہی۔گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی نشست کے بعد ہم نے ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی۔راستے میں ہمارے دوست نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ میں موصوف سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوا۔عدم اطمینان کی وجہ جان کر تھوڑا حیران بھی ہوا لیکن پھر خیال آیا کہ زیادہ تر لوگ ظاہری تراش خراش سے ہی شخصیت کا اندازہ لگایا کرتے ہیں۔مشہور کہاوت ہے:
First impression is the last impression
"پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے"

ہم کسی بھی انسان کو ظاہری تراش خراش سے ہی 60/70 فیصد تک پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔بات کرنے اور تعارف ہوجانے کے بعد یہ تناسب کم یا زیادہ ہوجاتا ہے۔لیکن ظاہری طور پر سامنے والے کی شخصیت کا Dressing sense بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، عربی کی مشہور کہاوت ہے:
الناس باللباس۔
"انسان کی پہچان اس کے کپڑوں سے بھی ہوتی ہے۔"

آقائے دوجہاں ﷺ نے اس پہلو سے بھی امت مسلمہ کی مثالی رہنمائی فرمائی ہے، آپ ﷺ بڑے خوش لباس اور عمدہ وضع قطع والے تھے۔ ظاہری زیب وزینت کا بھرپور خیال فرماتے۔ ستھرا لباس ، خوشبو، سرمہ، تیل اور کنگھی وغیرہ کا مسلسل استعمال فرماتے۔ عیدین اور جمعہ جیسے خاص مواقع پر، سرداروں سے ملاقات کے وقت عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔ ابوالاحوص کے والد بتاتے ہیں میں گھٹیا درجے کا لباس پہن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میرے کپڑے دیکھ کر فرمایا:
آپ کے پاس مال ہے؟
میں نے کہا، جی ہاں۔
آپ نے پوچھا،
کیسا مال؟
میں نے جواب دیا:
"میرے پاس اونٹ، گائیں ، بکریاں ،گھوڑے ، غلام سب کچھ ہیں۔
اس پر آپ ﷺنے فرمایا:
مَن أَنعَمَ اللّه عَلَيهِ نِعمةً، فَانّ اللّه یُحِبّ أن یُرٰی اَثَرُ نِعْمَتِه عَلٰی عَبْدِہ۔ (مسند احمد 438/4)

"جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی ہو تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ اپنے بندے پر اس کا اثر دیکھے۔"
یعنی انسان کے ظاہری حلیہ سے اللہ کی نعمتوں کا اظہار ہونا چاہیے، اس طور پر کہ بندے کے کپڑے اچھے ہوں، نئے نہ ہوں تو بھی صاف ستھرے ضرور ہوں، خوشبو تیل وغیرہ کا استعمال بھی اظہار نعمت کا ذریعہ ہے۔

___ *سلیقہ زندگی*

کپڑوں کے علاوہ انسان کا Living standard بھی شخصیت شناسی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ:
آپ کے کمرے کا ساز وسامان ترتیب سے رکھا ہے کہ نہیں؟
آپ کھاتے کس طرح ہیں؟
مطالعے کی میز پر کتابیں کس طرح رکھی ہیں؟
دیوار پر لگے کیلنڈر کی تاریخ درست ہے کہ نہیں؟

یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے آج کل شخصیت شناسی کا کام لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر انسان کا Standard طے کیا جاتا ہے۔حالانکہ ان عادات کی بنا پر کسی شخصیت کا مکمل تعارف ممکن نہیں ہے۔ یہ اوصاف کسی شخصیت کا صرف ظاہری حصہ بھر ہیں جو ایک حد تک انسان کی بعض عادتوں کا تعارف ہوتے ہیں لیکن مکمل شخصیت کا آئینہ نہیں !!

_____ شخصیت (Personality) انسان کے ذہنی، جسمانی، شخصی، برتاؤ ، رویوں، اوصاف اور کردار کے مجموعہ کا نام ہے۔آسان لفظوں میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو انسان کی ظاہری و باطنی صفات ، فکرو نظریات، اخلاقی اقدار ، جذبات و احساسات ہی کسی انسان کا مکمل تعارف ہوتے ہیں۔ یعنی ظاہری حسن وجمال اور طرز رہائش سے وقتی طور پر کسی شخصیت کا ہلکا پھلکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن کردار کی خوب صورتی اور فکر کی بلندی ہی شخصیت کا اصل تعارف ہوتی ہے۔کیوں کہ انسان کا کردار اور اسکی فکر ہی شخصیت کی اصل ترجمان ہوتی ہے ،انسان محض اپنے کپڑوں اور Living standard کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے خیالات ونظریات کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں:
تا مردے سخن نگفتہ باشد
عیب وہنرش نہفتہ باشد
"جب تک انسان گفتگو نہیں کرتا، اس کے عیب وہنر چھپے رہتے ہیں۔"

کسی بھی شخصیت کے بارے میں اس کی فکرو نظر،اور اسکے کردار کو سامنے رکھ رائے قائم کی جائے ، کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ اچھی فکر ونظر رکھنے والی بعض شخصیات خوش لباسی اور طرز زندگانی میں قدرے سست واقع ہوتی ہیں، ایسے میں محض ظاہرداری کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم کرنا جلد بازی ہے۔حضرت سعدی فرماتے ہیں:
ہر بیشہ گماں مبر کہ خالی است
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
"ہر جھاڑی کو خالی نہ سمجھ
ممکن ہے کہ شیر سویا ہوا ہو۔"

محض سادے اور میلے کپڑے دیکھ کر ہی بندے کو "خالی" سمجھنا بڑی بھول ہے۔ آدمی کا جوہر اس کی گفتگو سے کھلتا ہے۔
یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ آدمی کتنا ہی بڑا مفکر اور اعلی سوچ رکھنے والا کیوں نہ ہو، اگر وہ حد سے زیادہ سادہ ہے تو عوام سادگی کی بنا پر متاثر نہیں ہوپاتی۔اس ل
یے کم از کم جیسی محفل ہو اسی کے مطابق وضع قطع رکھنا بہتر ہے، عیب و ہنر تو تب کھلیں گے جب آپ کلام کریں گے اگر یہ موقع ہی نہ ملا تو مجلس میں شامل افراد آپ کو وقعت ہی نہ دیں گے۔ اس زمانے میں خوش لباسی شخصیت شناسی کا اہم حصہ ہے۔

15 ذوالحجہ 1441ھ
6 اگست 2020 بروز جمعرات