Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Nazir Attari)
اپنی اپنی مساجد کے اماموں کو ضرور پڑھوائیں
#امامت، #خطابت_اور_عصری_عنوانات
تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن ”جماعت رضاے مصطفی“ مغربی بنگال
عوام اور علمی حلقوں میں ، ائمہ حضرات کی جو بات سب سے زیادہ سرخی میں رہتی ہے ، وہ ان کی تقریر اور خطابت ہے۔
میں نے اس تعلق سے ، سنجیدہ قارئین سے چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کی ہے:
(١) ایک رمضان کی بات ہے؛ شہر کی جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا ، اذان سے پہلے خطیب و امام صاحب سے مل کر چند منٹ بولنے کی اجازت چاہی اور وہ نہیں مل سکی۔ میں نے امام صاحب سے عرض کیا:
”امید ہے حضرت ! آپ نے تقریر کی مکمل تیاری کر لی ہوگی !“۔
اس پر حضرت کے غیر ذمہ دارانہ جواب سے مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ ان کا جملہ تھا، ”تیاری کیا کرنی ہے! دیکھا جائے گا ، جو آئے گا بول ڈالیں گے“۔
بیان شروع ہوا تو ”وہی ڈھاک کے تین پات“، ایک لمبا سا عربی خطبہ ، تمہید کے مقفٰی و مسجع جملے مترنم درود شریف ، درود پاک کی فضیلت میں چند احادیث ، پھر ایک اور بار ……اتنا ہی نہیں……طاق (وتر) عدد کی برکت سمجھا کر ایک بار اور درود شریف۔ خدا خدا کر کے موضوع سخن پر آئے تو وہی گھسا پٹا عنوان؛ کوئی پیغام نہیں…… درس عبرت نہیں……سوز و گداز نہیں……عزم و حوصلہ نہیں…… جذبہ نہ ایثار ، قیادت نہ رہنمائی ، نہ درد نہ طرب ، بس ؛ آئیں بائیں شائیں اور…… وما علینا الا البلاغ۔
ان کی تقریر بنفسہ بری نہیں تھی؛ لیکن مدرسوں کی ابتدائی جماعتوں میں ”مقتضائے حال“، ”معرفت زمان“ اور ”مقام و محل“ وغیرہ کے جو اسباق پڑھائے گئے تھے، وہ کس لئے؟ بروئے کار کب لائے جائیں گے؟ منبر رسول ﷺ میں کھڑے ہو کر اتنی بڑی لاپروائی نا اہلی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ ڈاکٹر اقبال کی نظر میں وہ قائد اور رہنما بننے میں ناکام ہیں ، وہ فقط ” بے چارے دو رکعت کے امام“ ہیں اور بس۔
(٢) جب ملک بھر میں CAA جیسے دستور مخالف قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ، ملک کا پورا سنجیدہ طبقہ سڑکوں پر سراپا احتجاج تھا۔ شہر میں بند اور ریلی کا پروگرام تھا ، امام صاحب سے کہا: ”حضور! جمعہ میں اس تعلق سے بیداری والی تقریر کریں!“ پہلے تو وہ سراپا سوالیہ نشان بن گئے، پھر تھوڑی دیر میں کہنے لگے: ”اچھا اچھا ٹھیک ہے“۔ جب تقریر شروع ہوئی تو کبھی کربلا کا میدان تو کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے کار نامے ، کبھی قوت مسلم تو کبھی ”گرمئی خون مسلم“۔
آپ بتائیے! وہاں عوام کو اس قانون کی خرابیوں سے آگاہ کرنا تھا یا نمازیوں کو میدان جہاد میں کودنے کے لئے تیار کرنا !
ایک امام سب کے مقتدٰی اور رہبر ہوتے ہیں ، عصری مُدّوں پر ان کی علمی دسترس مقتدیوں میں سب سے کم ہو ، اس سے بڑھ کر حیران کن اور کیا ہوگا؟ علامہ اقبال کو بھی یقیناً ایسے ہی کسی امام سے سابقہ پڑا ہوگا ، جو انھیں کہنا پڑا۔ ؎
قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیا ہے ؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام!
#امامت_کا_عہدہ مجروح کیوں ہو رہا ہے؟
عام اور خاص دونوں طبقے میں خطابت کی پاکیزگی مسلسل مجروح ہوتی جارہی ہے ، معیار گھٹ رہا ہے ، کمیت بڑھ رہی ہے ، کیفیت مکدر ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خود خطبا میں ہے:
ہمارے ملک میں سب سے پاکیزگی اور سنجیدگی سے کسی کی بات سنی جاتی ہے تو وہ اماموں کی۔ کانفرنسوں کے لئے مہینوں تشہیر ہوتی ہے ، تب جا کر بڑی مشکل سے لوگ جمع ہوتے ہیں ؛ لیکن مساجد کا حال یہ ہے کہ لوگ مکمل تیاری کے ساتھ ، طہارت اور نفاست کو مکمل ملحوظ رکھ کر ، عمدہ کپڑے زیب تن کر کے ، وقت سے پہلے ہی اپنی نششتیں لے لیتے ہیں۔ ایک بڑے شہر میں ہزاروں مسجدیں ہوتی ہیں، ایک ایک مسجد میں دو دو سو نمازی بھی آئیں تو صرف ایک متوسط شہر میں ہفتہ میں کم از کم دو لاکھ لوگوں تک اہم اور ضروری پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں ، ان کے سامنے قوم و ملت کے سرگرم مسائل رکھے جا سکتے ہیں ، ان کے خوابیدہ جذبات و احساسات کو آسانی سے جگایا جا سکتا ہے۔ أئمہ اگر پوری دیانت داری سے ” قوم سے خطاب “ کی یہ ذمہ داری انجام دیں تو دعوے سے کھ سکتا ہوں ، کبھی کسی کانفرنس ، جلسہ اور اجتماع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ملک کے سارے ائمہ ہر ہفتہ متعین پیغام لے کر قوم سے مخاطب ہوں تو سمجھ لیجیے اسی دن انقلاب آگیا۔ اس جانب روشن مستقبل کی پیش رفت کو ، شایان شان پزیرائی ملنی چاہیے۔
اس سلسلے میں عہد رسالت کی مسجد نبوی اور اسکے شب و روز ہمارے
#امامت، #خطابت_اور_عصری_عنوانات
تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن ”جماعت رضاے مصطفی“ مغربی بنگال
عوام اور علمی حلقوں میں ، ائمہ حضرات کی جو بات سب سے زیادہ سرخی میں رہتی ہے ، وہ ان کی تقریر اور خطابت ہے۔
میں نے اس تعلق سے ، سنجیدہ قارئین سے چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کی ہے:
(١) ایک رمضان کی بات ہے؛ شہر کی جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا ، اذان سے پہلے خطیب و امام صاحب سے مل کر چند منٹ بولنے کی اجازت چاہی اور وہ نہیں مل سکی۔ میں نے امام صاحب سے عرض کیا:
”امید ہے حضرت ! آپ نے تقریر کی مکمل تیاری کر لی ہوگی !“۔
اس پر حضرت کے غیر ذمہ دارانہ جواب سے مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ ان کا جملہ تھا، ”تیاری کیا کرنی ہے! دیکھا جائے گا ، جو آئے گا بول ڈالیں گے“۔
بیان شروع ہوا تو ”وہی ڈھاک کے تین پات“، ایک لمبا سا عربی خطبہ ، تمہید کے مقفٰی و مسجع جملے مترنم درود شریف ، درود پاک کی فضیلت میں چند احادیث ، پھر ایک اور بار ……اتنا ہی نہیں……طاق (وتر) عدد کی برکت سمجھا کر ایک بار اور درود شریف۔ خدا خدا کر کے موضوع سخن پر آئے تو وہی گھسا پٹا عنوان؛ کوئی پیغام نہیں…… درس عبرت نہیں……سوز و گداز نہیں……عزم و حوصلہ نہیں…… جذبہ نہ ایثار ، قیادت نہ رہنمائی ، نہ درد نہ طرب ، بس ؛ آئیں بائیں شائیں اور…… وما علینا الا البلاغ۔
ان کی تقریر بنفسہ بری نہیں تھی؛ لیکن مدرسوں کی ابتدائی جماعتوں میں ”مقتضائے حال“، ”معرفت زمان“ اور ”مقام و محل“ وغیرہ کے جو اسباق پڑھائے گئے تھے، وہ کس لئے؟ بروئے کار کب لائے جائیں گے؟ منبر رسول ﷺ میں کھڑے ہو کر اتنی بڑی لاپروائی نا اہلی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ ڈاکٹر اقبال کی نظر میں وہ قائد اور رہنما بننے میں ناکام ہیں ، وہ فقط ” بے چارے دو رکعت کے امام“ ہیں اور بس۔
(٢) جب ملک بھر میں CAA جیسے دستور مخالف قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ، ملک کا پورا سنجیدہ طبقہ سڑکوں پر سراپا احتجاج تھا۔ شہر میں بند اور ریلی کا پروگرام تھا ، امام صاحب سے کہا: ”حضور! جمعہ میں اس تعلق سے بیداری والی تقریر کریں!“ پہلے تو وہ سراپا سوالیہ نشان بن گئے، پھر تھوڑی دیر میں کہنے لگے: ”اچھا اچھا ٹھیک ہے“۔ جب تقریر شروع ہوئی تو کبھی کربلا کا میدان تو کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے کار نامے ، کبھی قوت مسلم تو کبھی ”گرمئی خون مسلم“۔
آپ بتائیے! وہاں عوام کو اس قانون کی خرابیوں سے آگاہ کرنا تھا یا نمازیوں کو میدان جہاد میں کودنے کے لئے تیار کرنا !
ایک امام سب کے مقتدٰی اور رہبر ہوتے ہیں ، عصری مُدّوں پر ان کی علمی دسترس مقتدیوں میں سب سے کم ہو ، اس سے بڑھ کر حیران کن اور کیا ہوگا؟ علامہ اقبال کو بھی یقیناً ایسے ہی کسی امام سے سابقہ پڑا ہوگا ، جو انھیں کہنا پڑا۔ ؎
قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیا ہے ؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام!
#امامت_کا_عہدہ مجروح کیوں ہو رہا ہے؟
عام اور خاص دونوں طبقے میں خطابت کی پاکیزگی مسلسل مجروح ہوتی جارہی ہے ، معیار گھٹ رہا ہے ، کمیت بڑھ رہی ہے ، کیفیت مکدر ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خود خطبا میں ہے:
ہمارے ملک میں سب سے پاکیزگی اور سنجیدگی سے کسی کی بات سنی جاتی ہے تو وہ اماموں کی۔ کانفرنسوں کے لئے مہینوں تشہیر ہوتی ہے ، تب جا کر بڑی مشکل سے لوگ جمع ہوتے ہیں ؛ لیکن مساجد کا حال یہ ہے کہ لوگ مکمل تیاری کے ساتھ ، طہارت اور نفاست کو مکمل ملحوظ رکھ کر ، عمدہ کپڑے زیب تن کر کے ، وقت سے پہلے ہی اپنی نششتیں لے لیتے ہیں۔ ایک بڑے شہر میں ہزاروں مسجدیں ہوتی ہیں، ایک ایک مسجد میں دو دو سو نمازی بھی آئیں تو صرف ایک متوسط شہر میں ہفتہ میں کم از کم دو لاکھ لوگوں تک اہم اور ضروری پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں ، ان کے سامنے قوم و ملت کے سرگرم مسائل رکھے جا سکتے ہیں ، ان کے خوابیدہ جذبات و احساسات کو آسانی سے جگایا جا سکتا ہے۔ أئمہ اگر پوری دیانت داری سے ” قوم سے خطاب “ کی یہ ذمہ داری انجام دیں تو دعوے سے کھ سکتا ہوں ، کبھی کسی کانفرنس ، جلسہ اور اجتماع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ملک کے سارے ائمہ ہر ہفتہ متعین پیغام لے کر قوم سے مخاطب ہوں تو سمجھ لیجیے اسی دن انقلاب آگیا۔ اس جانب روشن مستقبل کی پیش رفت کو ، شایان شان پزیرائی ملنی چاہیے۔
اس سلسلے میں عہد رسالت کی مسجد نبوی اور اسکے شب و روز ہمارے
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Nazir Attari)
ائمہ کے لئے سب سے پہلا اور کار آمد آئیڈیل ہو سکتے ہیں۔
#مسجد_نبوی_اور_عصر_حاصر_کے_ائمہ:
حضور رحمت عالم ﷺ کی مسجد ، اسلامی دنیا کی پہلی درس گاہ اور مسلمانوں کی اولین باضابطہ تربیت گاہ بھی ہے۔ مسجد نبوی کی تاریخ پڑھنے سے سر سری طور پر مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
آقائے کائنات ﷺ اور حضور کے بعد خلفاے اربعہ مسجد نبوی میں مختصر اور جامع خطاب فرمایا کرتے ، صرف کام کی باتیں کرتے اور بڑی وضاحت سے کرتے ؛ وہاں لایعنی ، جھوٹی اور غیر مستند باتیں کبھی نہیں ہوتیں ؛ وہاں اصحاب صفہ نامی اہل اللہ کی ایک بہترین جماعت کی اعلا تربیت ہوتی؛ حضور ﷺ جب بھی خطاب فرماتے، مناسب اور زود اثر لہجہ اپناتے ، نہ ضرورت سے زیادہ آواز بلند ہوتی اور نہ ہی بہت تیز بولتے، آپ کا انداز بڑا انوکھا اور فصیحانہ ہوتا؛ تقریریں نہ بےحد طویل ہوتیں نہ ہی مغلق اور غیر واضح ؛ مسجد نبوی میں خطابت کی ذمہ داری سنبھالنے والوں کا اعلا کردار ، ان کے گفتار کا آئینہ دار ہوتا ، جو کہتے، اس پر خود سختی سے عمل پیرا ہوتے ؛ ان کا سب سے بڑا اور اولین ماخذ قرآن ہوتا ، پھر افعال و اقوال رسول ﷺ؛ بے ضرورت اور لایعنی قصے کہانیوں سے اجتناب (abstain) کرتے۔ اِن تمام باتوں کو ائمہ ذہن میں رکھیں تو اُن کی تقریروں میں نہ صرف تاثیر کا فن پیدا ہوگا ؛ بلکہ ان کی شخصیت بھی مقبول اور متاثر کن ہوتی جائے گی۔
اس کے علاوہ پیارے آقا حضور رحمت عالم ﷺ کی سیرت میں ایک کامیاب خطیب کی ساری خوبیاں کامل درجے میں موجود ہیں۔ ضرورت مطالعے کی ہے۔ محلے یا گاؤں والے اپنے بَل پر مسجد کی ساری ضرورتیں پوری کرتے ہیں ، امام کے کھانے پینے رہنے کا انتظام کرتے ہیں__ ان کی خبر گیری کرتے ہیں____ بدلے میں ان کو کیا چاہیے! دینی رہنمائی اور بس۔ یہی تو ہمارا مشن ہے۔ تھوڑی محنت کر کے ائمہ کچھ وقت مطالعہ میں لگائیں تو دھیرے دھیرے وہ ماحول شناس ، حساس اور نباض ہو جائیں گے۔ قوم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت بھی پروان چڑھتی جائے گی۔ ؎
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے ، منوائی نہیں جاتی
https://t.me/SirfUrduTahrir/4538
#مسجد_نبوی_اور_عصر_حاصر_کے_ائمہ:
حضور رحمت عالم ﷺ کی مسجد ، اسلامی دنیا کی پہلی درس گاہ اور مسلمانوں کی اولین باضابطہ تربیت گاہ بھی ہے۔ مسجد نبوی کی تاریخ پڑھنے سے سر سری طور پر مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
آقائے کائنات ﷺ اور حضور کے بعد خلفاے اربعہ مسجد نبوی میں مختصر اور جامع خطاب فرمایا کرتے ، صرف کام کی باتیں کرتے اور بڑی وضاحت سے کرتے ؛ وہاں لایعنی ، جھوٹی اور غیر مستند باتیں کبھی نہیں ہوتیں ؛ وہاں اصحاب صفہ نامی اہل اللہ کی ایک بہترین جماعت کی اعلا تربیت ہوتی؛ حضور ﷺ جب بھی خطاب فرماتے، مناسب اور زود اثر لہجہ اپناتے ، نہ ضرورت سے زیادہ آواز بلند ہوتی اور نہ ہی بہت تیز بولتے، آپ کا انداز بڑا انوکھا اور فصیحانہ ہوتا؛ تقریریں نہ بےحد طویل ہوتیں نہ ہی مغلق اور غیر واضح ؛ مسجد نبوی میں خطابت کی ذمہ داری سنبھالنے والوں کا اعلا کردار ، ان کے گفتار کا آئینہ دار ہوتا ، جو کہتے، اس پر خود سختی سے عمل پیرا ہوتے ؛ ان کا سب سے بڑا اور اولین ماخذ قرآن ہوتا ، پھر افعال و اقوال رسول ﷺ؛ بے ضرورت اور لایعنی قصے کہانیوں سے اجتناب (abstain) کرتے۔ اِن تمام باتوں کو ائمہ ذہن میں رکھیں تو اُن کی تقریروں میں نہ صرف تاثیر کا فن پیدا ہوگا ؛ بلکہ ان کی شخصیت بھی مقبول اور متاثر کن ہوتی جائے گی۔
اس کے علاوہ پیارے آقا حضور رحمت عالم ﷺ کی سیرت میں ایک کامیاب خطیب کی ساری خوبیاں کامل درجے میں موجود ہیں۔ ضرورت مطالعے کی ہے۔ محلے یا گاؤں والے اپنے بَل پر مسجد کی ساری ضرورتیں پوری کرتے ہیں ، امام کے کھانے پینے رہنے کا انتظام کرتے ہیں__ ان کی خبر گیری کرتے ہیں____ بدلے میں ان کو کیا چاہیے! دینی رہنمائی اور بس۔ یہی تو ہمارا مشن ہے۔ تھوڑی محنت کر کے ائمہ کچھ وقت مطالعہ میں لگائیں تو دھیرے دھیرے وہ ماحول شناس ، حساس اور نباض ہو جائیں گے۔ قوم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت بھی پروان چڑھتی جائے گی۔ ؎
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے ، منوائی نہیں جاتی
https://t.me/SirfUrduTahrir/4538
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
اپنی اپنی مساجد کے اماموں کو ضرور پڑھوائیں
#امامت، #خطابت_اور_عصری_عنوانات
تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن ”جماعت رضاے مصطفی“ مغربی بنگال
عوام اور علمی حلقوں میں ، ائمہ حضرات کی جو بات سب سے زیادہ سرخی میں رہتی ہے ، وہ ان کی تقریر اور…
#امامت، #خطابت_اور_عصری_عنوانات
تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن ”جماعت رضاے مصطفی“ مغربی بنگال
عوام اور علمی حلقوں میں ، ائمہ حضرات کی جو بات سب سے زیادہ سرخی میں رہتی ہے ، وہ ان کی تقریر اور…
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عید غدیر کا شرعی حکم 📖
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اب پتہ چلا شیعہ
عید غدیر کیوں مناتے ہیں؟؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
عید غدیر مناؤ متعہ فری میں پاؤ
اس بُرے مذہب پہ لعنت کِیجیے!
عید غدیر کیوں مناتے ہیں؟؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
عید غدیر مناؤ متعہ فری میں پاؤ
اس بُرے مذہب پہ لعنت کِیجیے!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
The Prophet of Rahmah, the Owner of Jannah ﷺ has stated:
لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ
Urdu: ہر نبی کے لیے جنت میں ایک رفیق ہے اور جنت میں میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔
English: Every Prophet will have a (special) companion in paradise and my (special) companion in paradise is Usman son of Affan.
Roman: Har Nabi ke liye Jannat mein aik Rafeeq hay aur Jannat mein Mere Rafeeq Usman bin Affan hain.
German: Jeder Prophet hat einen Gefährten im Paradies und mein Gefährte im Paradies ist Uthman Ibn Affan.
Dutch: Iedere Profeet zal een (speciale) metgezel in het paradijs hebben en Mijn (speciale) metgezel in het paradijs is 'Uthmān de zoon van 'Affān.
French: Chaque Prophète aura un compagnon (spécial) au paradis et mon compagnon (spécial) au paradis est Usman, fils d'Affan.
Spanish: Todos los profetas tienen un compañero especial en el paraíso y mi compañero especial en el paraíso es Usman hijo de Affan.
Danish: Enhver profet vil have en nær ledsager i Paradis, og min nære ledsager i Paradis er Usman bin ‘Affan
Persian: هر پیامبر رفیقی در بهشت دارد، رفیق من در بهشت عثمان بن عفان (رضي الله عنه) است
Hindi: हर नबी के लिए जन्नत में एक रफीक़ है और जन्नत में मेरे रफीक़ उस्मान बिन अफ्फान हैं।
Gujarati: દરેક નબી માટે સ્વર્ગમાં એક સાથી છે અને સ્વર્ગમાં મારો સાથી ઉસ્માન બિન અફાન છે
Tamil: ஒவ்வொரு நபிக்கும் சுவர்க்கத்தில் ஒரு தோழர் இருப்பார். அந்த சுவர்க்கத்தில் எனது தோழர் உஸ்மான் பின் அஃப்பான் (ரழியல்லாஹு அன்ஹு).
Sinhala: සියලූම නබිවරුන් හට ස්වර්ගයෙහි කලණ මිතුරෙක් ඇත, එහි මාගේ කලණ මිතුරා උස්මාන් බින් අෆ්ෆාන්ය.
Bangla: প্রত্যেক নবীর জন্য জান্নাতে একজন সাথী আছে এবং জান্নাতে আমার সাথী হচ্ছে উসমান ইবনে আফফান।
Kannada: ಪ್ರತಿಯೊಬ್ಬ ಪ್ರವಾದಿಗೂ ಸ್ವರ್ಗದಲ್ಲಿ ಒಬ್ಬ ಜೊತೆಗಾರ ಇರುತ್ತಾರೆ, ಮತ್ತೆ ನನ್ನ ಸ್ವರ್ಗದ ಜೊತೆಗಾರ ಉಸ್ಮಾನ್ ಬಿನ್ ಅಫ್ಫಾನ ಆಗಿದ್ದಾರೆ.
Malay: Setiap Nabi memiliki teman karib di syurga dan teman karibku di syurga adalah Usman bin 'Affan.
Chichewa: Mtumiki wina aliyense adzakhala ndi mzake (wapadera) ku mparadiso ndipo mnzanga (wapadera) ku mparadiso ndi Usman mwana wa Affan.
Portuguese: Todo profeta terá um companheiro (especial) no paraíso e o meu companheiro (especial) no paraíso é Usman, filho de Affan.
Swahili: Kila Mtume atakuwa na rafiki Peponi na rafiki yangu Peponi atakuwa Uthman bin Affan.
Russian: У каждого Пророка будет (особый) спутник в раю, а мой (особенный) спутник в раю - Усман бин Аффан
Bosnian: Sa svakim Poslanikom biće društvo u đenetu, a moje društvo je Osman sin Affanov
Slovenian: Vsak Poslanec bo imel družbo v Raju in moja družba bo Osman sin Affanov.
Turkish: Cennette her peygamberin bir arkadaşı olur. Orada benim arkadaşım da Osman bin Affan’dır.
(سنن ابن ماجه، كتاب السنة، باب في فضائل أصحاب رسول الله ﷺ، الحديث 109)
لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ
Urdu: ہر نبی کے لیے جنت میں ایک رفیق ہے اور جنت میں میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔
English: Every Prophet will have a (special) companion in paradise and my (special) companion in paradise is Usman son of Affan.
Roman: Har Nabi ke liye Jannat mein aik Rafeeq hay aur Jannat mein Mere Rafeeq Usman bin Affan hain.
German: Jeder Prophet hat einen Gefährten im Paradies und mein Gefährte im Paradies ist Uthman Ibn Affan.
Dutch: Iedere Profeet zal een (speciale) metgezel in het paradijs hebben en Mijn (speciale) metgezel in het paradijs is 'Uthmān de zoon van 'Affān.
French: Chaque Prophète aura un compagnon (spécial) au paradis et mon compagnon (spécial) au paradis est Usman, fils d'Affan.
Spanish: Todos los profetas tienen un compañero especial en el paraíso y mi compañero especial en el paraíso es Usman hijo de Affan.
Danish: Enhver profet vil have en nær ledsager i Paradis, og min nære ledsager i Paradis er Usman bin ‘Affan
Persian: هر پیامبر رفیقی در بهشت دارد، رفیق من در بهشت عثمان بن عفان (رضي الله عنه) است
Hindi: हर नबी के लिए जन्नत में एक रफीक़ है और जन्नत में मेरे रफीक़ उस्मान बिन अफ्फान हैं।
Gujarati: દરેક નબી માટે સ્વર્ગમાં એક સાથી છે અને સ્વર્ગમાં મારો સાથી ઉસ્માન બિન અફાન છે
Tamil: ஒவ்வொரு நபிக்கும் சுவர்க்கத்தில் ஒரு தோழர் இருப்பார். அந்த சுவர்க்கத்தில் எனது தோழர் உஸ்மான் பின் அஃப்பான் (ரழியல்லாஹு அன்ஹு).
Sinhala: සියලූම නබිවරුන් හට ස්වර්ගයෙහි කලණ මිතුරෙක් ඇත, එහි මාගේ කලණ මිතුරා උස්මාන් බින් අෆ්ෆාන්ය.
Bangla: প্রত্যেক নবীর জন্য জান্নাতে একজন সাথী আছে এবং জান্নাতে আমার সাথী হচ্ছে উসমান ইবনে আফফান।
Kannada: ಪ್ರತಿಯೊಬ್ಬ ಪ್ರವಾದಿಗೂ ಸ್ವರ್ಗದಲ್ಲಿ ಒಬ್ಬ ಜೊತೆಗಾರ ಇರುತ್ತಾರೆ, ಮತ್ತೆ ನನ್ನ ಸ್ವರ್ಗದ ಜೊತೆಗಾರ ಉಸ್ಮಾನ್ ಬಿನ್ ಅಫ್ಫಾನ ಆಗಿದ್ದಾರೆ.
Malay: Setiap Nabi memiliki teman karib di syurga dan teman karibku di syurga adalah Usman bin 'Affan.
Chichewa: Mtumiki wina aliyense adzakhala ndi mzake (wapadera) ku mparadiso ndipo mnzanga (wapadera) ku mparadiso ndi Usman mwana wa Affan.
Portuguese: Todo profeta terá um companheiro (especial) no paraíso e o meu companheiro (especial) no paraíso é Usman, filho de Affan.
Swahili: Kila Mtume atakuwa na rafiki Peponi na rafiki yangu Peponi atakuwa Uthman bin Affan.
Russian: У каждого Пророка будет (особый) спутник в раю, а мой (особенный) спутник в раю - Усман бин Аффан
Bosnian: Sa svakim Poslanikom biće društvo u đenetu, a moje društvo je Osman sin Affanov
Slovenian: Vsak Poslanec bo imel družbo v Raju in moja družba bo Osman sin Affanov.
Turkish: Cennette her peygamberin bir arkadaşı olur. Orada benim arkadaşım da Osman bin Affan’dır.
(سنن ابن ماجه، كتاب السنة، باب في فضائل أصحاب رسول الله ﷺ، الحديث 109)
لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ
Har Nabi Ke Liye Jannat Men Aek Rafeeq Hai Aur Jannat Men Mere Rafeeq Usman Bin Affan Hain
ہر نبی کے لیے جنت میں ایک رفیق ہے! اور جنت میں میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں!
Har Nabi Ke Liye Jannat Men Aek Rafeeq Hai Aur Jannat Men Mere Rafeeq Usman Bin Affan Hain
ہر نبی کے لیے جنت میں ایک رفیق ہے! اور جنت میں میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
حضرت سیدنا عثمان غنی رضیاللہعنہ
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻