🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آہ آہ!

ہمارے مربی و پیشوا خلیفئہ مفتئی اعظم ہند حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ،
انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ کریم حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
اشکوں کی صدا

آہ ۔۔۔۔ مفتئ اعظم مہاراشٹر ، فخر اہلسنن ، عطائے غوث و خواجہ ، جلوۂ نوری ، ضیائے برکات ، فیض در اشرف ، پیکر علم و فن ، مرشد کامل ، صاحب زہد و تقوی ، اشرف الفقہاء حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف قادری نوری برکاتی علیہ الرحمہ ، خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند ، ناگپور مہاراشٹر،،
ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے
وصال 15 ذی الحجہ 1441ھج 6 اگست بروز جمعرات
10 بجکر 40 منٹ پر

°°°°°°°°
یہ کہنے کی بھی نہیں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا
جہانِ حق کا وہ مہتاب ، ہم کو چھوڑ گیا

جمال مفتئ اعظم ، وہ اشرف الفقہا
کرم کا گوہر نایاب ہم کو چھوڑ گیا

خبر ملی جو وصالِ مجیب اشرف کی
یہ سن کے سب ہوئے بیتاب ، ہم کو چھوڑ گیا

تڑپ رہے ہیں جدائ سے سارے اہلسنن
مثالِ ماہئِ بـے آب ، ہم کو چھوڑ گیا

زمیں اداس ، فلک غمزدہ ، فضا خاموش
ہیں شَل زمانے کے اعصاب، ہم کو چھوڑ گیا

فراقِ مرشدِ کامل سہیں گے ہم کیسے
پکارے رو کے یہ احباب ، ہم کو چھوڑ گیا

اجالا جس کا تھا حق ساز و حق نواز تمام
وہ آفتابِ جہاں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا

ملا ہے جس کی قیادت سے سنیت کو عروج
وہ پاسبانی کا سِیماب ، ہمکو چھوڑ گیا

ملی ہے جس سے ہمیں نسبتِ رضا کی کرن
ضیائے نوری کا وہ باب ، ہم کو چھوڑ گیا

چراغِ عشق رسالت پہ جس کا تھا پہرہ
وہ دے کے حق کی تب و تاب ہم کو چھوڑ گیا

رہے گا اُس کی عطاؤں کا سلسلہ جاری
اگرچہ فن کا وہ میزاب ، ہم کو چھوڑ گیا

وہ جس نے گلشن ملت کی آبیاری کی
خدا رکھے اُسے شاداب ، ہم کو چھوڑ گیا

لحد میں خلد بریں کے حسیں نظارے ہوں
رہے وہ فضل سے سیراب ، ہم کو چھوڑ گیا

فریدی ! اُس کے اصولوں کو ہم نہ چھوڑیں گے
سکھا کے عشق کے آداب ، ہم کو چھوڑ گیا

°°°°°°°°°°°
از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Mohd Gulrez Misbahi
مختصر سوانح خلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی اعظم مہاراشٹر، اشرف الفقہا حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۔

ولادت۔آپ کی ولادت باسعادت آپ کے وطن مالوف قصبہ گھوسی، ضلع مئو کے محلہ کریم الدین(یوپی) کے خوشحال علم دوست گھرانے میں مورخہ 2/رمضان المبارک 1356ھ مطابق 6/نومبر 1937ء بروز سنیچر صبح کے وقت ہوئی ۔

شجرہ نسب۔۔حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب ابن حضرت الحاج محمد حسن صاحب ابن حضرت حافظ محمد جمیع اللہ صاحب ابن شیخ الحفاظ حضرت الحاج الحافظ احمد صاحب علہیم الرضوان۔
تعلیم۔آپ کی تعلیم ابتدا سے اخیر تک قابل اور لائق وفائق اساتذہ کی نگرانی میں ہوئی ۔قرآن شریف ناظرہ محلہ کریم الدین پور کے ایک بزرگ جناب میانجی محمد تقی سے پڑھا ۔اردو اور حساب وغیرہ درجہ چہارم تک کی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں ہوئی، پرائمری درجہ چہارم پاس کرنے کے بعد اسی مدرسہ میں فارسی کی ابتدائی کتابیں حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب علیہ الرحمۃ امجد نگر گھوسی سے پڑھیں اس کے بعد فارسی کی دیگر کتابیں تین سال تک حضرت مولانا سعید خان صاحب علیہ الرحمۃ(فتح پور گھوسی) سے پڑھیں ۔عربی کی چند ابتدائی کتابیں اپنے چچاحضرت مولانا شمس الدین صاحب سے اور باقی کتابیں کافیہ تک شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق صاحب. امجدی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔
1951ء میں شارح بخاری بحکم حضور حافظ ملت محدث مرادآبادی دارالعلوم فضل رحمانیہ پچیڑا ضلع گونڈہ(یوپی) تشریف لے گئے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ساتھ اسی مدرسہ میں چلے آئے یہاں دو سال رہ کر شرح جامی تک کی کتابیں شارح بخاری سے پڑھیں ۔اس وقت دار العلوم فضل رحمانیہ میں شہزادہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا قاری رضاء المصطفے صاحب امجدی دامت برکاتھم العالیہ مدرس تھے ان سے بھی چند کتابیں پڑھیں۔
1953ءمیں حضرت شارح بخاری، حضور سرکار مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا نوری علیہ الرحمۃ کی طلب پر بریلی شریف تشریف لے گیے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ہمراہ حاضر ہوئے ۔وہاں مرکزی دار العلوم مظہر اسلام میں تعلیم مکمل فرمائی ۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی دار العلوم مظہر اسلام میں جن اساتذہ سے اکتساب علم کیا ان کے اسماے گرامی یہ ہیں۔
(1).فقیہ العصر، نائب مفتئ اعظم ہند، شارح بخاری، مفتی شریف الحق صاحب امجدی علیہ الرحمہ۔
(2).شیخ العلماء مولانا مفتی غلام جیلانی علیہ الرحمہ (آپ کے سگے ماموں جان).
(3).صدر العلما مولانا مفتی ثناء اللہ امجدی اعظمی علیہ الرحمہ (مظہر اسلام بریلی شریف).
(4).شیخ المعقولات، مولانا معین الدین خان صاحب علیہ الرحمہ (فتح پور قصبہ گھوسی)
(5).صدر العلما مفتی تحسین رضا خان صاحب بریلوی علیہ الرحمہ
مذکورہ بالا اساتذہ میں سے آپ نے سب سے زیادہ کتابیں حضور شارح بخاری سے پڑھیں۔اس لیے اکثر فرمایا کرتے کہ حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب قبلہ میرے استاذ کل ہیں ۔آپ نے چند کتابوں کے علاوہ اول تا آخر زیادہ تر کتابیں آپ ہی سے پڑھی ہیں ۔حضرت شارح بخاری علیہ الرحمہ اپنے اس علمی اور روحانی فرزند پر ناز فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں میرا ایک ہی شاگرد مجیب اشرف ایسا ہے جس نے اول تاآخر میرے پاس رہ کر تعلیم وتربیت حاصل کی ہے ۔
حضرت شارح بخاری کواپنے اس شاگرد رشید پر کس قدر ناز تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1992ءمیں حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب عرس قاسمی میں شرکت کی غرض سے مارہرہ مطہرہ حاضر ہوئے، بعد نماز مغرب صاحب سجادہ حضور احسن العلماء حضرت مصطفی حیدر حسن میاں علیہ الرحمہ سے شرف ملاقات کے لیے مجلس میں حاضر ہوئے وہاں پہلے سے شارح بخاری مفتی شریف الحق تشریف فرماتھے حضرت کو دیکھ کر شارح بخاری بہت خوش ہوئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔اور سرکار احسن العماء سے تعارف کراتے ہوئے فرمایا ۔
حضور یہ مجیب اشرف، حضرت شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی صاحب اور رئیس الاذکیاء مولانا غلام یزدانی صاحب اعظمی کے بھانجے ہیں ۔اور میرا وہ شاگرد ہے کہ کل قیامت میں میرے رب نے اگر مجھ سے سوال کیا کہ شریف الحق کیا لایا ہے(یہ کہ کر حضرت رونے لگے اور بھرائی آواز میں فرمایا) تو عرض کردوں گا مجیب اشرف کو لایا ہوں ۔یہ سن کر حاضرین اور خود احسن العلماء علیہ الرحمہ کی آنکھیں نمناک ہوگئیں ۔حضور احسن العلماء نے اس وقت آپ کے سر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں ۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور اشرف الفقہا پر حضور مفتی شریف الحق صاحب کو کتنا ناز تھا۔

درس وتدریس۔۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی 1958ء میں وسط ہند کی مشہور ومعروف قدیم درسگاہ جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور کو ایک قابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت تھی بانی جامعہ حضرت علامہ مفتی عبد الرشید صاحب قبلہ علیہ الرحمہ (فتح پوری )نے حضور مفتی اعظم ہند اور مفتی شریف الحق صاحب کو ایک خط لکھ کر روانہ کیا کہ جامعہ عربیہ کے لیے ایک لائق وقابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت ہے لہذا آپ روانہ فرمائیں ۔دونوں بزرگوں کی نظر انتخاب حضور اشرف العلماء پر پڑھی اور
Forwarded from Mohd Gulrez Misbahi
کم عمر عالم نبیل کو ناگ پور بھیج دیا ۔
آپ نے جامعہ عربیہ کی شاخ کامٹی میں دوسال تک منصب صدارت پر رہ کر خدمات انجام دیں چند سال تک آپ نے نائب شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات انجام دیں پھر آپ نے جامعہ سے علیحدگی اختیار کرلی اور 1966ءمیں الجامعۃ الرضویہ دار العلوم امجدیہ ناگ پور کی داغ بیل ڈالی ۔

آپ کے مشہور تلامذہ۔
یوں تو آپ کے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن کچھ کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔(1).حضرت علامہ مولانا سید محمد حسینی صاحب قبلہ آستانہ عالیہ شمسیہ، رائچور۔
(2).حضرت علامہ مولانا عبد الغنی صاحب علیہ الرحمہ۔
(3).مفتی اندور حضرت مفتی حبیب یار خان صاحب قبلہ۔
(4).حضرت علامہ مولانا مفتی نسیم صاحب صاحب شیخ الحدیث رضا دار الیتامی ناگ پور ۔
(5).حضرت علامہ مولانا عبدالحبیب صاحب قبلہ بانی رضا دار الیتامی، ناگ پور ۔
بیعت وخلافت۔آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں 24صفر المظفر 1375ء کو حضور مفتی اعظم ہند کے دست حق پر بیعت کی
اور حضور مفتی شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمہ کے ساتھ اسی روز سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، رضویہ کے تعویذات، اعمال اور نقوش کی تحریری اجازت عنایت فرمائی ۔
تصنیفات۔۔آپ نےکثیر مشاغل کے باوجود کچھ کتابیں بھی تالیف فرمائیں جن میں سے جو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں وہ یہ ہیں۔(1).خطبات کولمبو ۔(2).ارشاد المرشد۔(3).تحسین العیادۃ۔(4).پیکر استقامت وکرامت (حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ)

وصال۔ 6/اگست 2020ءبروز جمعرات دس بج کر چالیس منٹ پر ناگ پور مہاراشٹر میں وصال ہوگیا۔
اللہ تعالی حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کے فیوض وبرکات سے ہمیں مالا مال فرمائے ۔
۔۔
محمد گل ریز رضا مصباحی بریلی شریف۔
جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگ پور
6/اگست 2020ءبروز جمعرات۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
आला हज़रत की नसीहत इमामे अहले सुन्नत सरकार आला हज़रत रहीमुल्लाहु त'आला नसीहत करते हुए इरशाद फरमाते हैं! "देखो नर्मी के जो फवाईद है वो सख़्ती में हरगिज़ हासिल नहीं हो सकते, जिन लोगों के अकाईद मुज़ब्ज़ब हो उनसे भी नर्मी बरती जाए कि वो ठीक हो जाएंगे, ये जो वहाबिया…
हुज़ूर से हमने क्या सीखा?

हुज़ूर -ए- अकरम ﷺ के नीचे एक मर्तबा नर्म बिस्तर बिछा दिया गया तो आप ने फरमाया : मैं दुनिया में आराम करने नहीं आया।

(شمائل ترمذی، ص22)

आप हर वक़्त अल्लाह का ज़िक्र करते थे।

(بخاری و مسلم)

आप एक दिन में दो मर्तबा कभी भी अपने पेट को नहीं भरते थे।

(ترمذی، 2356)

आप ने कभी दो दिन मुसलसल गंदुम की रोटी नहीं खाई हत्ता के विसाल हो गया।

(مسلم، 7445)

आपने कभी आईन्दा के लिए ज़खीरा नहीं किया।

(ترمذی، 2362)

आप अपने घर के काम काज खुद करते थे और अहले खाना का हाथ बटाते बटाते नमाज़ का वक़्त आ जाता तो नमाज़ के लिए निकल जाते।

(بخاری، 676)

हम अगर खुद को देखें तो दुनिया से दिल लगा बैठे हैं,
लज़ीज़ खाने वो भी एक दिन में तीन वक़्त!
अच्छे कपड़े, नर्म बिस्तर और फिर आईन्दा के लिए हर चीज़ का ज़खीरा!

अल्लाह त'आला हमें दुनिया की रंगीनियों से बचाए

अब्दे मुस्तफ़ा
حضور سے ہم نے کیا سیکھا؟

حضورِ اکرم ﷺ کے نیچے ایک مرتبہ نرم بستر بچھا دیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں دنیا میں آرام کرنے نہیں آیا۔

(شمائل ترمذی، ص22)

آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔

(بخاری و مسلم)

آپ ایک دن میں دو مرتبہ کبھی بھی اپنے پیٹ کو نہیں بھرتے تھے۔

(ترمذی، 2356)

آپ نے کبھی دو دن مسلسل گندم کی روٹی نہیں کھائی حتیٰ کہ وصال ہو گیا۔

(مسلم، 7445)

آپ نے کبھی آئندہ کے لیے ذخیرہ نہیں کیا۔

(ترمذی، 2362)

آپ اپنے گھر کے کام کاج خود کرتے تھے اور اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔

(بخاری، 676)

ہم اگر خود کو دیکھیں تو دنیا سے دل لگا بیٹھے ہیں۔
لذیذ کھانا وہ بھی ایک دن میں تین وقت!
اچھے کپڑے، نرم بستر اور پھر آئندہ کے لیے ہر چیز کا ذخیرہ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی رنگینیوں سے بچائے۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کرونا کا خوف اور امید و یقین کا سہارا
از قلم مفتی علی اصغر
.
16ذی الحجہ شب1441
6 اگست 2020
بفضلہ تعالی آج ہمارے ملک پاکستان میں اکثر امور پر لاک ڈاؤن ختم ہونے کا اعلان ہوا. تجارتی مارکیٹوں سمیت بہت سارے شعبہ زندگی کو کھولنے کا اعلان ہوا (بفضلہ کہنے میں سینما اور تھیٹر وغیرہ شامل نہیں ) امید ہے کہ دینی مدارس جلد کھلیں گے اور دینی اجتماعات بھی جلد شروع ہوں گے
اگر ہم اس پورے پیریڈ پر ایک نگاہ ڈالیں تو نہ جانے ہمیں کن کن کیفیات سے گزرنا پڑا
👈شروع میں تجسس و سنسنی
👈پھر سخت خوف تھا،
👈جو نفسا نفسی ہم نے اس دور میں دیکھی ہے کبھی نہ دیکھی تھی کہ ہاتھ ملانے کا معاملہ ہو یا کہ قریب بیٹھنے کا یا اشیاء کو چھونے کا ہر چیز ہمیں شجر ممنوعہ کی طرح نظر آنے لگی تھی
بہت سارے لوگوں پر تو حد سے زیادہ خوف طاری ہوا میں ایک فیملی کو جانتا ہوں جس کے بچے اب تک گھر کے اندر ہیں مجال ہے کہ گلی میں آجائیں نا جانے کس کس کے گھر میں اب تک خوف و وحشت نے ڈیرا ڈال رکھا ہوگا

حکمراں ہو یا طبیب یا پھر سائنس دان سب ہی بے بس نظر آئے

کاروبار و تجارت بند ہونے پر خصوصا لاکھوں مزدور لوگوں کے بیروزگار ہونے پر یقینا ایک بحران نے جنم لیا. سفید پوش لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے
مساجد میں جمعہ اور تراویح پر پابندی اور عام نمازوں کی ادائیگی سے روکے جانے پر نا قابل بیان افسوس اور دکھ تھا

جب کثرت سے اموات ہونے لگی تو کرونا کو مذاق کہنے والوں کو بھی اسے سیریس لینا پڑا
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مساجد میں روز ہی جنازہ ہو رہا ہوتا تھا

اس پورے پیریڈ میں آمدو رفت بھی بہت زیادہ متاثر ہوئی چھوٹے شہروں والے بڑے شہروں میں آنے جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ نا ہونے پر سخت پریشان ہوئے ہر شخص تو پرائیوٹ کار اور گاڑی کا متحمل نہیں تھا
پردیسیوں کو عید پر گھر جانے کے لئے بے حد دشواریوں کا سامنا رہا

آفٹر کرونا شاکس کا سلسلہ گو کہ بند نہیں ہوا لیکن آج ہم جس اطمینان اور تسلی بخش کیفیت میں ہیں اللہ تعالی کا یہ بہت بڑا کرم ہے
لوگوں کی امیدیں ٹوٹتی رہیں اور بندھتی رہیں لیکن شب ظلمت کافور ہوئی اور اب یقین و امید کا اجالا ہو چکا ہے

پوری دنیا کے لوگ بے بس نظر آئے غیر یقینی کے سمندر میں ڈبکیاں لیتے نظر آئے یہ عجز اور بے بسی انہیں بہت کچھ سکھا گئی
تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں اسباب سب ڈھیر ہو گئے
اور سب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے

وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے وہی خدا ہے
جل جلالہ و عز برھانہ
.
تکلیف اور آزمائش ہو یا وبا و بیماری ہو آفات ہوں یا حادثات یہ ایک امتحان ہوتا ہے ایک ایسی بھٹی کی طرح ہوتا ہے کہ جس میں لوہا ڈالا جائے تو اس کا میل اور زنگ صاف ہو جاتا ہے اس بھٹی سے انسان گزرتا ہےتوہوتا یہ ہے کہ کچھ لوگ اس سے گزر کر گناہ صاف کروالیتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو تکلیف پر صبر اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تکلیف دور ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں
دوسرے قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں یہ بھٹی الٹا نقصان پہنچاتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صبر و شکر سے محروم ہوتے ہیں

اس پورے پیریڈ میں جو بھی مسلمان دنیا سے وبا کی وجہ سے گئے اللہ تعالی کی رضا ان کے ساتھ ہو دنیا کے بعض ممالک میں ابھی اس وبا کا زور باقی ہے اللہ تعالی وہاں کے مسلمانوں کو بھی اس آزمائش سے محفوظ فرمائے

ہم نے تو اس وبا سے یہ سبق بھی سیکھا ہے کہ ہماری مساجد بہت کم وقت کے لئے بند رہی اور زیاد تر کھلی رہیں اللہ تعالی نے کرم کیا وبا کے لئے اذانیں بھی ہوتی رہیں اس کی بھی برکات شامل حال رہی نہ جانے اللہ تعالی کے کس کس مقبول بندے کی دعا بھی ہماری مددگار بنی

اے اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں اب تک اس وبا سے محفوظ رکھا آئندہ بھی آفات و بلیات، حوادثات و مشکلات، مصائب و الام اور اور وبا و موذی امراض سے محفوظ فرما
آمین

https://t.me/MuftiAliAsgherAttari/278
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Nazir Attari)
اپنی اپنی مساجد کے اماموں کو ضرور پڑھوائیں

#امامت، #خطابت_اور_عصری_عنوانات

تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن ”جماعت رضاے مصطفی“ مغربی بنگال

عوام اور علمی حلقوں میں ، ائمہ حضرات کی جو بات سب سے زیادہ سرخی میں رہتی ہے ، وہ ان کی تقریر اور خطابت ہے۔
میں نے اس تعلق سے ، سنجیدہ قارئین سے چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کی ہے:
(١) ایک رمضان کی بات ہے؛ شہر کی جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا ، اذان سے پہلے خطیب و امام صاحب سے مل کر چند منٹ بولنے کی اجازت چاہی اور وہ نہیں مل سکی۔ میں نے امام صاحب سے عرض کیا:
”امید ہے حضرت ! آپ نے تقریر کی مکمل تیاری کر لی ہوگی !“۔
اس پر حضرت کے غیر ذمہ دارانہ جواب سے مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ ان کا جملہ تھا، ”تیاری کیا کرنی ہے! دیکھا جائے گا ، جو آئے گا بول ڈالیں گے“۔
بیان شروع ہوا تو ”وہی ڈھاک کے تین پات“، ایک لمبا سا عربی خطبہ ، تمہید کے مقفٰی و مسجع جملے مترنم درود شریف ، درود پاک کی فضیلت میں چند احادیث ، پھر ایک اور بار ……اتنا ہی نہیں……طاق (وتر) عدد کی برکت سمجھا کر ایک بار اور درود شریف۔ خدا خدا کر کے موضوع سخن پر آئے تو وہی گھسا پٹا عنوان؛ کوئی پیغام نہیں…… درس عبرت نہیں……سوز و گداز نہیں……عزم و حوصلہ نہیں…… جذبہ نہ ایثار ، قیادت نہ رہنمائی ، نہ درد نہ طرب ، بس ؛ آئیں بائیں شائیں اور…… وما علینا الا البلاغ۔
ان کی تقریر بنفسہ بری نہیں تھی؛ لیکن مدرسوں کی ابتدائی جماعتوں میں ”مقتضائے حال“، ”معرفت زمان“ اور ”مقام و محل“ وغیرہ کے جو اسباق پڑھائے گئے تھے، وہ کس لئے؟ بروئے کار کب لائے جائیں گے؟ منبر رسول ﷺ میں کھڑے ہو کر اتنی بڑی لاپروائی نا اہلی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ ڈاکٹر اقبال کی نظر میں وہ قائد اور رہنما بننے میں ناکام ہیں ، وہ فقط ” بے چارے دو رکعت کے امام“ ہیں اور بس۔

(٢) جب ملک بھر میں CAA جیسے دستور مخالف قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ، ملک کا پورا سنجیدہ طبقہ سڑکوں پر سراپا احتجاج تھا۔ شہر میں بند اور ریلی کا پروگرام تھا ، امام صاحب سے کہا: ”حضور! جمعہ میں اس تعلق سے بیداری والی تقریر کریں!“ پہلے تو وہ سراپا سوالیہ نشان بن گئے، پھر تھوڑی دیر میں کہنے لگے: ”اچھا اچھا ٹھیک ہے“۔ جب تقریر شروع ہوئی تو کبھی کربلا کا میدان تو کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے کار نامے ، کبھی قوت مسلم تو کبھی ”گرمئی خون مسلم“۔
آپ بتائیے! وہاں عوام کو اس قانون کی خرابیوں سے آگاہ کرنا تھا یا نمازیوں کو میدان جہاد میں کودنے کے لئے تیار کرنا !
ایک امام سب کے مقتدٰی اور رہبر ہوتے ہیں ، عصری مُدّوں پر ان کی علمی دسترس مقتدیوں میں سب سے کم ہو ، اس سے بڑھ کر حیران کن اور کیا ہوگا؟ علامہ اقبال کو بھی یقیناً ایسے ہی کسی امام سے سابقہ پڑا ہوگا ، جو انھیں کہنا پڑا۔ ؎
قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیا ہے ؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام!

#امامت_کا_عہدہ مجروح کیوں ہو رہا ہے؟
عام اور خاص دونوں طبقے میں خطابت کی پاکیزگی مسلسل مجروح ہوتی جارہی ہے ، معیار گھٹ رہا ہے ، کمیت بڑھ رہی ہے ، کیفیت مکدر ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خود خطبا میں ہے:
ہمارے ملک میں سب سے پاکیزگی اور سنجیدگی سے کسی کی بات سنی جاتی ہے تو وہ اماموں کی۔ کانفرنسوں کے لئے مہینوں تشہیر ہوتی ہے ، تب جا کر بڑی مشکل سے لوگ جمع ہوتے ہیں ؛ لیکن مساجد کا حال یہ ہے کہ لوگ مکمل تیاری کے ساتھ ، طہارت اور نفاست کو مکمل ملحوظ رکھ کر ، عمدہ کپڑے زیب تن کر کے ، وقت سے پہلے ہی اپنی نششتیں لے لیتے ہیں۔ ایک بڑے شہر میں ہزاروں مسجدیں ہوتی ہیں، ایک ایک مسجد میں دو دو سو نمازی بھی آئیں تو صرف ایک متوسط شہر میں ہفتہ میں کم از کم دو لاکھ لوگوں تک اہم اور ضروری پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں ، ان کے سامنے قوم و ملت کے سرگرم مسائل رکھے جا سکتے ہیں ، ان کے خوابیدہ جذبات و احساسات کو آسانی سے جگایا جا سکتا ہے۔ أئمہ اگر پوری دیانت داری سے ” قوم سے خطاب “ کی یہ ذمہ داری انجام دیں تو دعوے سے کھ سکتا ہوں ، کبھی کسی کانفرنس ، جلسہ اور اجتماع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ملک کے سارے ائمہ ہر ہفتہ متعین پیغام لے کر قوم سے مخاطب ہوں تو سمجھ لیجیے اسی دن انقلاب آگیا۔ اس جانب روشن مستقبل کی پیش رفت کو ، شایان شان پزیرائی ملنی چاہیے۔

اس سلسلے میں عہد رسالت کی مسجد نبوی اور اسکے شب و روز ہمارے
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Nazir Attari)
ائمہ کے لئے سب سے پہلا اور کار آمد آئیڈیل ہو سکتے ہیں۔

#مسجد_نبوی_اور_عصر_حاصر_کے_ائمہ:
حضور رحمت عالم ﷺ کی مسجد ، اسلامی دنیا کی پہلی درس گاہ اور مسلمانوں کی اولین باضابطہ تربیت گاہ بھی ہے۔ مسجد نبوی کی تاریخ پڑھنے سے سر سری طور پر مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

آقائے کائنات ﷺ اور حضور کے بعد خلفاے اربعہ مسجد نبوی میں مختصر اور جامع خطاب فرمایا کرتے ، صرف کام کی باتیں کرتے اور بڑی وضاحت سے کرتے ؛ وہاں لایعنی ، جھوٹی اور غیر مستند باتیں کبھی نہیں ہوتیں ؛ وہاں اصحاب صفہ نامی اہل اللہ کی ایک بہترین جماعت کی اعلا تربیت ہوتی؛ حضور ﷺ جب بھی خطاب فرماتے، مناسب اور زود اثر لہجہ اپناتے ، نہ ضرورت سے زیادہ آواز بلند ہوتی اور نہ ہی بہت تیز بولتے، آپ کا انداز بڑا انوکھا اور فصیحانہ ہوتا؛ تقریریں نہ بےحد طویل ہوتیں نہ ہی مغلق اور غیر واضح ؛ مسجد نبوی میں خطابت کی ذمہ داری سنبھالنے والوں کا اعلا کردار ، ان کے گفتار کا آئینہ دار ہوتا ، جو کہتے، اس پر خود سختی سے عمل پیرا ہوتے ؛ ان کا سب سے بڑا اور اولین ماخذ قرآن ہوتا ، پھر افعال و اقوال رسول ﷺ؛ بے ضرورت اور لایعنی قصے کہانیوں سے اجتناب (abstain) کرتے۔ اِن تمام باتوں کو ائمہ ذہن میں رکھیں تو اُن کی تقریروں میں نہ صرف تاثیر کا فن پیدا ہوگا ؛ بلکہ ان کی شخصیت بھی مقبول اور متاثر کن ہوتی جائے گی۔

اس کے علاوہ پیارے آقا حضور رحمت عالم ﷺ کی سیرت میں ایک کامیاب خطیب کی ساری خوبیاں کامل درجے میں موجود ہیں۔ ضرورت مطالعے کی ہے۔ محلے یا گاؤں والے اپنے بَل پر مسجد کی ساری ضرورتیں پوری کرتے ہیں ، امام کے کھانے پینے رہنے کا انتظام کرتے ہیں__ ان کی خبر گیری کرتے ہیں____ بدلے میں ان کو کیا چاہیے! دینی رہنمائی اور بس۔ یہی تو ہمارا مشن ہے۔ تھوڑی محنت کر کے ائمہ کچھ وقت مطالعہ میں لگائیں تو دھیرے دھیرے وہ ماحول شناس ، حساس اور نباض ہو جائیں گے۔ قوم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت بھی پروان چڑھتی جائے گی۔ ؎

صداقت ہو تو دل سینوں سے کھچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے ، منوائی نہیں جاتی

https://t.me/SirfUrduTahrir/4538
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عید غدیر کا شرعی حکم 📖
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
#مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالوی‌صَاحَبۡ‌دَامَتۡ‌بَرَکَاتُہُم‌ُالۡعَالِیَہۡ