Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ـــ بابری مسجد ــ
📝 شمس الزماں خان جامعی صابری
اگر ملک ہاتھ سے جاتا ہے تو جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی
(ڈاکٹر اقبال)
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر بہت سے اولیاء کرام نے جنم لیا ہے اور کچھ دوسرے ملکوں سے بھی تشریف لائے اور ان کو ہر مذہب کے لوگ ادب واحترم سے دیکھتے ہیں اور اس ملک پر بہت سے بادشاہوں راجاؤں نے اپنی حکومت بھی قائم کی جن میں مغل بادشاہوں نے تقریبا چار پانچ سوسال حکومت کی مغل بادشاہوں میں سب سے پہلا بادشاہ "بابر" تھا جس نے ہندوستان کو فتح کرکے اس پر مغل حکومت کی بنیاد رکھی ــ ہندوستان میں ایک ضلع "فیض آباد" ہے جہاں "اجودھیا"نام کی ایک جگہ ہے. شہنشاہ بابر ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے فقیرو کے بھیس میں کابل کے راستے سے یہاں آیا اور اجودھیا کے ایک بلند ٹیلے پر اسکی ملاقات اس دور کے مقتدر بزرگ "شاہ جلال الدین" رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت موسی عاشقان رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی ان بزرگان دین نے بابر کی التجا پر اس کی امداد باطنی کے لیے دعاء کی اور حکم کیا اگر تیری مراد پوری ہوجائے تو اس ٹیلے پر ایک مسجد تعمیر کرواناــ
12ویں رجب المرجب 933ہجری کو بابر نے ہندوستان کو فتح کیا اس نے "اودھ"میں اپنے گورنر"میرباقی" کے ذریعے 935ہجری میں اس ویران ٹیلے پر ایک مسجد تعیر کرائی جو آج تک "بابری مسجد " کے نام سے منسوب ہے ــ
عبادت گاہ خواہ کسی بھی مسلک کے ماننے والوں کی ہو ایک ایسا قابل احترام مقام ہے جہاں انسان اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اپنے معبود سے بے لوث اپنے روحانی رشتے کو استوار کرتا ہے اور دنیا کے تمام مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مذہبی عبادت گاہیں شروفساد اور بغض وتعصب کے جذبے سے بالاتر ہوتی ہے بابری مسجد کی تاریخی حیثیت تو اس کے کتبہ سے ظاہر ہوتی ہے ــ اس مسجد پر لکھے ہوئے کچھ اشعار یہ ہیں ــ
بفرمودہ شاہ بابر کہ عدلش
بنائست باکاخ گردوں ملاقی
بناکردہ ایں مہبط قدسیاں را
امیر سعادت شاہ میر باقی
بود خیر باقی وسال بنائش
عیاں شدشد چوں گفتم بود خیر باقی 935ھ
اس کا مطلب یہ کہ شاہ بابرکے حکم سے عدل پروری، کاخ گردوں سے ملتی ہے ـ اس کو سعادت حاصل کرنے والے میرباقی نے بنوایا ـ جو اب فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے خدا کرے یہ کارے خیر باقی رہے یہی وجہ ہے کہ اس کے تعمیری سال کا مادہ "بود خیرباقی 935ہجری ہے ــ
مسجد کے اندرونی حصہ میں ممبر کے پاس دائیں طرف یہ کتبہ ہے ــ
بسا بلکہ باکاخ گردوں عنا
بن ایں کرد ایں خانہ پائے دار
امیر سعادت نشاں میر خاں
بماند ہمیشہ چنیں بانشینی
چناں شہریار زمین وزماں
(حوالہ بابری مسجد )
بابری مسجد کو رام جنم بھومی کے جارحانہ عمل پر اظہار خیال سے پہلے یہ بات طے کرنا ضروری ہے کہ تاریخی حقائق کی روشنی میں کیا رام جنم بھومی واقعی وہ جگہ ہے جہاں رام چندر جی کا جنم ہوا ـ اور یہ جگہ وہی ہے جہاں پر 457 برس سے بابری مسجد آباد تھی ــــ
بابری مسجد کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ سکندر لودھی کی بابرک نامی سپہ سالار بنگال کے فتح کے بعد وہاں آئے اور ایک بلند ٹیلے پر "فیض آباد "اجودھیا میں ایک عالی شان مسجدر تعمیر کرائی تھی اور وہ بابرک نامی مسجد کہلائی اور کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا نام " بابری مسجد" پڑگیا لیکن اس روایت کے مقابلے میں دگر مستند حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ بابر فقیروں کے بھیس میں ہندوستان فتح کرنے سے پہلے آیا اور اسی نے بابری مسجد تعمیر کروائی ـــ
(بابری مسجد حقائق کے آئینے میں )
(جاری)
📝 شمس الزماں خان جامعی صابری
اگر ملک ہاتھ سے جاتا ہے تو جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی
(ڈاکٹر اقبال)
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر بہت سے اولیاء کرام نے جنم لیا ہے اور کچھ دوسرے ملکوں سے بھی تشریف لائے اور ان کو ہر مذہب کے لوگ ادب واحترم سے دیکھتے ہیں اور اس ملک پر بہت سے بادشاہوں راجاؤں نے اپنی حکومت بھی قائم کی جن میں مغل بادشاہوں نے تقریبا چار پانچ سوسال حکومت کی مغل بادشاہوں میں سب سے پہلا بادشاہ "بابر" تھا جس نے ہندوستان کو فتح کرکے اس پر مغل حکومت کی بنیاد رکھی ــ ہندوستان میں ایک ضلع "فیض آباد" ہے جہاں "اجودھیا"نام کی ایک جگہ ہے. شہنشاہ بابر ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے فقیرو کے بھیس میں کابل کے راستے سے یہاں آیا اور اجودھیا کے ایک بلند ٹیلے پر اسکی ملاقات اس دور کے مقتدر بزرگ "شاہ جلال الدین" رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت موسی عاشقان رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی ان بزرگان دین نے بابر کی التجا پر اس کی امداد باطنی کے لیے دعاء کی اور حکم کیا اگر تیری مراد پوری ہوجائے تو اس ٹیلے پر ایک مسجد تعمیر کرواناــ
12ویں رجب المرجب 933ہجری کو بابر نے ہندوستان کو فتح کیا اس نے "اودھ"میں اپنے گورنر"میرباقی" کے ذریعے 935ہجری میں اس ویران ٹیلے پر ایک مسجد تعیر کرائی جو آج تک "بابری مسجد " کے نام سے منسوب ہے ــ
عبادت گاہ خواہ کسی بھی مسلک کے ماننے والوں کی ہو ایک ایسا قابل احترام مقام ہے جہاں انسان اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اپنے معبود سے بے لوث اپنے روحانی رشتے کو استوار کرتا ہے اور دنیا کے تمام مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مذہبی عبادت گاہیں شروفساد اور بغض وتعصب کے جذبے سے بالاتر ہوتی ہے بابری مسجد کی تاریخی حیثیت تو اس کے کتبہ سے ظاہر ہوتی ہے ــ اس مسجد پر لکھے ہوئے کچھ اشعار یہ ہیں ــ
بفرمودہ شاہ بابر کہ عدلش
بنائست باکاخ گردوں ملاقی
بناکردہ ایں مہبط قدسیاں را
امیر سعادت شاہ میر باقی
بود خیر باقی وسال بنائش
عیاں شدشد چوں گفتم بود خیر باقی 935ھ
اس کا مطلب یہ کہ شاہ بابرکے حکم سے عدل پروری، کاخ گردوں سے ملتی ہے ـ اس کو سعادت حاصل کرنے والے میرباقی نے بنوایا ـ جو اب فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے خدا کرے یہ کارے خیر باقی رہے یہی وجہ ہے کہ اس کے تعمیری سال کا مادہ "بود خیرباقی 935ہجری ہے ــ
مسجد کے اندرونی حصہ میں ممبر کے پاس دائیں طرف یہ کتبہ ہے ــ
بسا بلکہ باکاخ گردوں عنا
بن ایں کرد ایں خانہ پائے دار
امیر سعادت نشاں میر خاں
بماند ہمیشہ چنیں بانشینی
چناں شہریار زمین وزماں
(حوالہ بابری مسجد )
بابری مسجد کو رام جنم بھومی کے جارحانہ عمل پر اظہار خیال سے پہلے یہ بات طے کرنا ضروری ہے کہ تاریخی حقائق کی روشنی میں کیا رام جنم بھومی واقعی وہ جگہ ہے جہاں رام چندر جی کا جنم ہوا ـ اور یہ جگہ وہی ہے جہاں پر 457 برس سے بابری مسجد آباد تھی ــــ
بابری مسجد کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ سکندر لودھی کی بابرک نامی سپہ سالار بنگال کے فتح کے بعد وہاں آئے اور ایک بلند ٹیلے پر "فیض آباد "اجودھیا میں ایک عالی شان مسجدر تعمیر کرائی تھی اور وہ بابرک نامی مسجد کہلائی اور کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا نام " بابری مسجد" پڑگیا لیکن اس روایت کے مقابلے میں دگر مستند حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ بابر فقیروں کے بھیس میں ہندوستان فتح کرنے سے پہلے آیا اور اسی نے بابری مسجد تعمیر کروائی ـــ
(بابری مسجد حقائق کے آئینے میں )
(جاری)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
باسمہ تعالی وبحمدہ والصلوات والتسلیمات علی حبیبہ المصطفے والہ
رام اور رام مندر
بھارت کی ہسٹری میں رام نام کا کوئی راجہ یا راجہ کا پتر نہیں گزرا۔
پشیا متر شنگ ایک برہمن تھا۔یہ موریہ سلطنت کے اخری راجہ برہ درتھ کا سپہ سالار تھا۔اس نے اس راجہ کو 180:قبل مسیح میں قتل کر دیا اور موریہ سلطنت کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے برہمنی حکومت قائم کر لی۔
ساکیت یعنی موجودہ اجودھیا کو اپنا دار السلطنت بنایا۔
موریہ سلطنت بھارت کی مول نواسی قوم کی حکومت تھی۔موریہ سلطنت کے سبب بھارت سے برہمنوں اور اریوں کی حکومت کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
اسی طرح موریہ سلطنت کے مشہور بادشاہ اشوک سمراٹ کے بودھ دھرم کو قبول کر لینے کے سبب برہمنوں کا بنایا ہوا ویدک دھرم(ہندو دھرم/سناتن دھرم)بھی بہت محدود ہو چکا تھا۔
موریہ سلطنت کا دار السلطنت پاٹلی پتر(پٹنہ:بہار)تھا۔
جب پشیا متر شنگ نے موریہ سلطنت کے اخری راجہ کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو اس نے بے شمار بودھوں اور مول نواسی لوگوں کو قتل کیا۔
بودھ دھرم کے مذہبی مقامات کو تہس نہس کیا اور برہمنی حکومت قائم کرلیا۔
اس طرح پشیا متر شنگ برہمنوں کا ہیرو بن گیا۔
متعدد شواہد موجود ہیں کہ برہمن قوم اسی پشیا متر شنگ کو رام کے نام سے یاد کرتی ہے۔
وشنو،شیو اور برہما کو چھوڑ کر
رام کو بھگوان بنا کر پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی مول نواسی اقوام کے اندر محکومیت کا تصور اور برہمنوں کے اندر حاکمیت کا جذبہ بیدار کیا جائے۔
یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کی جگہ کبھی کوئی مندر نہیں تھا۔
جب 1855 میں مسلمانوں کے درمیان یہ بات پھیلی کہ بابری مسجد سے ایک کیلو میٹر دور ہنومان گڑھی مندر کسی مسجد کو توڑ کر بنایا گیا تو مولوی غلام حسین کے کہنے پر جولائی 1855میں
پانچ سو مسلمان جمع ہوئے اور ہنومان گڑھی مندر گئے۔
وہاں اٹھ ہزار بیراگی موجود تھے۔ان بیراگیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور بہت سے مسلمانوں کو قتل کر دیا۔کچھ مسلمان جان بچا کر بھاگ نکلے اور بابری مسجد میں پناہ لئے۔بیراگیوں کا ہجوم بھی ان کے تعاقب میں تھا۔وہ لوگ بابری مسجد پہنچ کر پناہ گزیں مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالے،پھر واپس چلے گئے۔
اخر کار یہ معاملہ لکھنو کے شیعہ نواب کے پاس پہنچا۔
اس نے تین لوگوں کی ایک ٹیم اس بات کی تحقیق کے لئے مقرر کیا کہ یہاں کبھی مسجد تھی یا نہیں؟ان تین میں ایک مسلم،ایک ہندو اور ایک انگریز تھا۔
اس ٹیم نے بتایا کہ حالیہ پچیس تیس سال کے اندر کسی مسجد کو توڑ کر ہنومان گڑھی مندر بنانے کی خبر نہیں۔شاید اس سے قبل بھی ایسا نہ ہوا ہو۔
اس رپورٹ کے بعد نواب نے فریقین کو مطمئن کرنے کے لئے کہا کہ کسی مندر کو توڑا نہیں جائے گا،بلکہ ہم ہنومان گڑھی مندر کے قریب ایک مسجد بنوا دیتے ہیں۔مسلمان اپنی مسجد میں عبادت کریں اور ہندو اپنے مندر میں۔
نواب کے اس فیصلہ کو سن کر ہنومان گڑھی کے بیراگیوں اور پجاریوں نے سوچا کہ یہاں مسجد بن جائے گی تو ہمیشہ جھگڑے کا خطرہ رہے گا۔وہ لوگ نواب کے فیصلے کو بھی روک نہیں سکتے تھے۔اس لئے ان لوگوں نے سوچا کہ مسلمانوں کو کسی ایسے معاملے میں الجھا دو کہ وہ ہنومان گڑھی مندر کو بھول جائیں۔
اس لئے ہنومان گڑھی مندر کے مہنت نے 1857میں بابری مسجد کے باہر اسی کے احاطے میں ایک دیڑھ فٹ کا رام چبوترہ بنا دیا اور یہ مشہور کر دیا کہ یہاں رام کا جنم ہوا تھا۔
مسلمانوں کی جانب سے مخالفت ہوئی،پھر بابری مسجد کے خطیب و امام مولوی اصغر علی نے 30:نومبر 1858کو اس کے خلاف مجسٹریٹ کورٹ میں کیس درج کرا دیا،پھر مولوی موصوف نے 1860,1877,1883,1884میں اسی چبوترے کے بارے میں مجسٹریٹ کورٹ میں پیٹیشن دائر کی۔
نرموہی اکھاڑا کے رگھور داس مہنت نے اسی چبوترہ کی جگہ مندر بنانے کے لئے 15:جنوری 1885کوفیض اباد کورٹ میں پیٹیشن داخل کی۔ چوں کہ وہ جگہ مسجد کے احاطے میں تھی،اس لئے کورٹ نے کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں دی۔کیس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
فیض اباد کورٹ کے سب جج ہری کشن نے رگھور داس کے کیس کو24:دسمبر1885کو ڈسمسڈ کردیا،پھررگھور داس نے ڈسٹرکٹ جج چیمیر کے یہاں پیٹیشن دائر کی،وہاں سے بھی مارچ 1856میں یہ کیس خارج ہو گیا۔
اس کے بعد رگھور داس نے کورٹ اف جوڈیشیل کمشنر میں اپیل دائر کی۔یہ کورٹ اس زمانے میں ہائی کورٹ کے مساوی سمجھا جاتا تھا۔اس کے جج ڈبلیو ینگ نے 01:نومبر1886کو یہ کیس خارج کر دیا اور چبوترہ کے پاس کسی تعمیر کی اجازت نہیں دی۔جوڈیشیل مجسٹریٹ نے پہلے دونوں جج کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ رام چبوترہ کی ملکیت سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت ہمارے پاس پیش نہیں کیا گیا۔
انگریزی حکومت نے 1861میں ہی رام چبوترہ اور بابری مسجد کے درمیان ایک دیوار قائم کر دیاتھا،تاکہ دونوں قوموں میں اختلاف نہ ہو۔
اب لوگ بابری مسجد میں الجھ گئے اور ہنومان گڑھی مندر کو بھول چکے تھے۔
اس وقت بھی کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے بالکل بیچ میں رام
رام اور رام مندر
بھارت کی ہسٹری میں رام نام کا کوئی راجہ یا راجہ کا پتر نہیں گزرا۔
پشیا متر شنگ ایک برہمن تھا۔یہ موریہ سلطنت کے اخری راجہ برہ درتھ کا سپہ سالار تھا۔اس نے اس راجہ کو 180:قبل مسیح میں قتل کر دیا اور موریہ سلطنت کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے برہمنی حکومت قائم کر لی۔
ساکیت یعنی موجودہ اجودھیا کو اپنا دار السلطنت بنایا۔
موریہ سلطنت بھارت کی مول نواسی قوم کی حکومت تھی۔موریہ سلطنت کے سبب بھارت سے برہمنوں اور اریوں کی حکومت کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
اسی طرح موریہ سلطنت کے مشہور بادشاہ اشوک سمراٹ کے بودھ دھرم کو قبول کر لینے کے سبب برہمنوں کا بنایا ہوا ویدک دھرم(ہندو دھرم/سناتن دھرم)بھی بہت محدود ہو چکا تھا۔
موریہ سلطنت کا دار السلطنت پاٹلی پتر(پٹنہ:بہار)تھا۔
جب پشیا متر شنگ نے موریہ سلطنت کے اخری راجہ کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو اس نے بے شمار بودھوں اور مول نواسی لوگوں کو قتل کیا۔
بودھ دھرم کے مذہبی مقامات کو تہس نہس کیا اور برہمنی حکومت قائم کرلیا۔
اس طرح پشیا متر شنگ برہمنوں کا ہیرو بن گیا۔
متعدد شواہد موجود ہیں کہ برہمن قوم اسی پشیا متر شنگ کو رام کے نام سے یاد کرتی ہے۔
وشنو،شیو اور برہما کو چھوڑ کر
رام کو بھگوان بنا کر پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی مول نواسی اقوام کے اندر محکومیت کا تصور اور برہمنوں کے اندر حاکمیت کا جذبہ بیدار کیا جائے۔
یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کی جگہ کبھی کوئی مندر نہیں تھا۔
جب 1855 میں مسلمانوں کے درمیان یہ بات پھیلی کہ بابری مسجد سے ایک کیلو میٹر دور ہنومان گڑھی مندر کسی مسجد کو توڑ کر بنایا گیا تو مولوی غلام حسین کے کہنے پر جولائی 1855میں
پانچ سو مسلمان جمع ہوئے اور ہنومان گڑھی مندر گئے۔
وہاں اٹھ ہزار بیراگی موجود تھے۔ان بیراگیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور بہت سے مسلمانوں کو قتل کر دیا۔کچھ مسلمان جان بچا کر بھاگ نکلے اور بابری مسجد میں پناہ لئے۔بیراگیوں کا ہجوم بھی ان کے تعاقب میں تھا۔وہ لوگ بابری مسجد پہنچ کر پناہ گزیں مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالے،پھر واپس چلے گئے۔
اخر کار یہ معاملہ لکھنو کے شیعہ نواب کے پاس پہنچا۔
اس نے تین لوگوں کی ایک ٹیم اس بات کی تحقیق کے لئے مقرر کیا کہ یہاں کبھی مسجد تھی یا نہیں؟ان تین میں ایک مسلم،ایک ہندو اور ایک انگریز تھا۔
اس ٹیم نے بتایا کہ حالیہ پچیس تیس سال کے اندر کسی مسجد کو توڑ کر ہنومان گڑھی مندر بنانے کی خبر نہیں۔شاید اس سے قبل بھی ایسا نہ ہوا ہو۔
اس رپورٹ کے بعد نواب نے فریقین کو مطمئن کرنے کے لئے کہا کہ کسی مندر کو توڑا نہیں جائے گا،بلکہ ہم ہنومان گڑھی مندر کے قریب ایک مسجد بنوا دیتے ہیں۔مسلمان اپنی مسجد میں عبادت کریں اور ہندو اپنے مندر میں۔
نواب کے اس فیصلہ کو سن کر ہنومان گڑھی کے بیراگیوں اور پجاریوں نے سوچا کہ یہاں مسجد بن جائے گی تو ہمیشہ جھگڑے کا خطرہ رہے گا۔وہ لوگ نواب کے فیصلے کو بھی روک نہیں سکتے تھے۔اس لئے ان لوگوں نے سوچا کہ مسلمانوں کو کسی ایسے معاملے میں الجھا دو کہ وہ ہنومان گڑھی مندر کو بھول جائیں۔
اس لئے ہنومان گڑھی مندر کے مہنت نے 1857میں بابری مسجد کے باہر اسی کے احاطے میں ایک دیڑھ فٹ کا رام چبوترہ بنا دیا اور یہ مشہور کر دیا کہ یہاں رام کا جنم ہوا تھا۔
مسلمانوں کی جانب سے مخالفت ہوئی،پھر بابری مسجد کے خطیب و امام مولوی اصغر علی نے 30:نومبر 1858کو اس کے خلاف مجسٹریٹ کورٹ میں کیس درج کرا دیا،پھر مولوی موصوف نے 1860,1877,1883,1884میں اسی چبوترے کے بارے میں مجسٹریٹ کورٹ میں پیٹیشن دائر کی۔
نرموہی اکھاڑا کے رگھور داس مہنت نے اسی چبوترہ کی جگہ مندر بنانے کے لئے 15:جنوری 1885کوفیض اباد کورٹ میں پیٹیشن داخل کی۔ چوں کہ وہ جگہ مسجد کے احاطے میں تھی،اس لئے کورٹ نے کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں دی۔کیس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
فیض اباد کورٹ کے سب جج ہری کشن نے رگھور داس کے کیس کو24:دسمبر1885کو ڈسمسڈ کردیا،پھررگھور داس نے ڈسٹرکٹ جج چیمیر کے یہاں پیٹیشن دائر کی،وہاں سے بھی مارچ 1856میں یہ کیس خارج ہو گیا۔
اس کے بعد رگھور داس نے کورٹ اف جوڈیشیل کمشنر میں اپیل دائر کی۔یہ کورٹ اس زمانے میں ہائی کورٹ کے مساوی سمجھا جاتا تھا۔اس کے جج ڈبلیو ینگ نے 01:نومبر1886کو یہ کیس خارج کر دیا اور چبوترہ کے پاس کسی تعمیر کی اجازت نہیں دی۔جوڈیشیل مجسٹریٹ نے پہلے دونوں جج کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ رام چبوترہ کی ملکیت سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت ہمارے پاس پیش نہیں کیا گیا۔
انگریزی حکومت نے 1861میں ہی رام چبوترہ اور بابری مسجد کے درمیان ایک دیوار قائم کر دیاتھا،تاکہ دونوں قوموں میں اختلاف نہ ہو۔
اب لوگ بابری مسجد میں الجھ گئے اور ہنومان گڑھی مندر کو بھول چکے تھے۔
اس وقت بھی کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے بالکل بیچ میں رام
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
کا جنم ہوا تھا۔
یہ سازش ازادی ہند کے بعد ہوئی اور 22:دسمبر1949کو مسجد کے اندر مورتی رکھ دی گئی۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم دانشوروں کی توجہ سیاسی امور سے ہٹا کر مسجد مندر کی طرف پھیر دی جائے اور برہمن قوم بھارت میں اسانی کے ساتھ حکومت کرتی رہے۔
بھارت کی مول نواسی اقوام کو1909میں مارلے منٹو ایکٹ انے کے بعد ہی برہمنوں نے ہندو بنا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا۔
سب کو یہ معلوم تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، اس کے باوجود مسجد توڑ دی گئی،پھر اج 05:اگست 2020کو اسی جگہ مندر بنانے کے لئے سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔مسجد توڑ کر اسی جگہ مندر بنانے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس کی کمزوری اور بے بسی کا احساس دلایا جائے۔
اس طرح کسی قوم کی ہمت توڑ دی جاتی ہے۔جب ہمت ٹوٹ جاتی ہے تو وہ قوم مثل غلام،بلکہ بدتر از غلام ہو جاتی ہے۔کیا اپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ کتنے مولوی نما شیاطین ایک بت کدہ کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور مبارک بادیاں بانٹ رہے ہیں۔اپنی مسجد کی تباہی و بربادی کا کچھ افسوس نہیں۔یہ غلامی ہے یا غلامی سے بدتر کوئی کیفیت؟
اب برہمنوں کے سامنے نہ مسلمان سر اٹھانے کے لائق رہے،نہ مول نواسی اقوام۔
اب اگر بہوجن سماج(غیر ارین اقوام)سیاسی محاذ پرمتحد نہ ہو،اور ہر قوم اپنا الگ سیاسی باجا بجائے تو معاملہ مزید خطرناک ہوتا جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ؛
05:اگست2020
یہ سازش ازادی ہند کے بعد ہوئی اور 22:دسمبر1949کو مسجد کے اندر مورتی رکھ دی گئی۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم دانشوروں کی توجہ سیاسی امور سے ہٹا کر مسجد مندر کی طرف پھیر دی جائے اور برہمن قوم بھارت میں اسانی کے ساتھ حکومت کرتی رہے۔
بھارت کی مول نواسی اقوام کو1909میں مارلے منٹو ایکٹ انے کے بعد ہی برہمنوں نے ہندو بنا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا۔
سب کو یہ معلوم تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، اس کے باوجود مسجد توڑ دی گئی،پھر اج 05:اگست 2020کو اسی جگہ مندر بنانے کے لئے سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔مسجد توڑ کر اسی جگہ مندر بنانے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس کی کمزوری اور بے بسی کا احساس دلایا جائے۔
اس طرح کسی قوم کی ہمت توڑ دی جاتی ہے۔جب ہمت ٹوٹ جاتی ہے تو وہ قوم مثل غلام،بلکہ بدتر از غلام ہو جاتی ہے۔کیا اپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ کتنے مولوی نما شیاطین ایک بت کدہ کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور مبارک بادیاں بانٹ رہے ہیں۔اپنی مسجد کی تباہی و بربادی کا کچھ افسوس نہیں۔یہ غلامی ہے یا غلامی سے بدتر کوئی کیفیت؟
اب برہمنوں کے سامنے نہ مسلمان سر اٹھانے کے لائق رہے،نہ مول نواسی اقوام۔
اب اگر بہوجن سماج(غیر ارین اقوام)سیاسی محاذ پرمتحد نہ ہو،اور ہر قوم اپنا الگ سیاسی باجا بجائے تو معاملہ مزید خطرناک ہوتا جائے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ؛
05:اگست2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باسمہ تعالی وبحمدہ والصلوات والتسلیمات علی حبیبہ المصطفے والہ
بابری مسجد؛ ذہن میں محفوظ کچھ یادیں
اج تک یہ یادیں ذہن میں محفوظ ہیں کہ جب بابری مسجد کی شہادت نہیں ہوئی تھی تو بھارت کے مسلمان انتہائی شان و شوکت کے ساتھ جیتے تھے۔ماحول اس قدر خوفناک بھی نہیں تھا،نہ ہی عوام و خواص میں اس قدر عصبیت و نفرت بھری ہوئی تھی۔ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے درمیان اعتماد بھی بحال تھا۔عام طور پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت بھرا سلوک بھی کرتے تھے۔
بابری مسجد کی شہادت سے قبل بنارس
میں فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں اتی تھیں۔اس وقت اتر پردیش میں ملائم سنگھ کی حکومت تھی۔اسی عہد میں بابری مسجد کے گنبد پر بہت سے کارسیوک اسے منہدم کرنے چڑھ گئے تھے۔کارسیوکوں کو پولیس والوں نے نیچے اترنے کہا۔جب وہ کسی صورت کنٹرول میں نہ ائے تو پولیس نے گولیاں چلا دیں۔کئی ایک کار سیوک وہیں پر دم توڑ دئیے۔
بھارت کے ماحول میں تعصب و نفرت اس وقت سے نظر انے لگی،جب لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ مندر سے رتھ یاترا نکالا۔ملک بھر میں جابجا فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے۔ہم نے اپنی اںکھوں سے بہار میں اڈوانی کا رتھ یاترا روڈ پر گزرتے دیکھا تھا۔اڈوانی کے رتھ کے اگے پیچھے بہت سی فور وہیلر گاڑیاں تھیں۔
چند گھنٹوں بعد ہی خبر ملی کہ سمستی پور میں لالو پرساد یادو کے حکم سے اڈوانی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
06:دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کا دہشت ناک حادثہ پیش ایا۔اس وقت ہم لوگ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں زیر تعلیم تھے۔
کچھ بڑے طلبہ نیوز کے واسطے ریڈیو رکھتے تھے۔جیسے ہی بابری مسجد پر حملے کی خبر ائی۔غیر اعلانیہ طور پر درس بند ہو گیا۔بچے ہاسٹل میں جمع ہو کر نیوز سننے لگے۔اساتذہ کرام بھی درس گاہی بلڈنگ میں خبر سننے لگے۔
اساتذہ و طلبہ سب کے سب غم و الم سے نڈھال ہو گئے۔ہر چہار جانب رنج و افسوس کا ماحول پیدا ہو گیا۔شام کے وقت دار الحدیث ہال(موجودہ اسٹاف روم)میں تمام طلبہ و اساتذہ جمع ہوئے۔حضور محدث کبیر صاحب قبلہ نے اپنے بیان میں بہت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم لوگوں نے حضور مجاہد ملت قدس سرہ العزیز کی تحریک خاکساران حق کا سپورٹ نہیں کیا اور اس کو قوت نہ دے سکے۔اج وہ تحریک قوت و طاقت کے ساتھ ہوتی تو ہمارا سہارا بنتی۔
کئی دنوں تک درس گاہوں میں تعلیم بند رہی۔رسمی طور پر اساتذہ و طلبہ کلاس روم میں حاضر ہوتے۔عجب ماحول تھا۔اساتذہ و طلبہ سب پر غم و الم چھایا نظر اتا تھا۔اس موقع پر کئی بار طلبہ کو دار الحدیث ہال میں جمع کیا گیا تھا۔بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دعائیں کی گئی تھیں۔
وزیر اعظم نرسمہا راو نے 6:دسمبر کی شام کو دوبارہ بابری مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔یوپی کےبھاجپائی وزیر اعلی کلیان سنگھ نے شام کو استعفی دے دیا۔ایک دن کے لئے وہ جیل گیا۔بابری مسجد کے انہدام کے کیس میں اڈوانی،مرلی منوہر جوشی،کلیان سنگھ،اوما بھارتی اور بہت سے لوگوں پر کیس درج ہوا۔وشو ہندو پریشد،بی جے پی اور شیو سینا کے لوگوں نے اس انہدام میں اہم کردار نبھایا تھا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد اشرفیہ کے مین گیٹ کے پاس پولیس فورس متعین کر دیا گیا۔عارضی طور پر کئی ایک ہوٹل گیٹ کے اندر منتقل کر دئیے گئے۔گیٹ کے باہر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔رات کو قدیم ہاسٹل کے دونوں گیٹ بند ہو جاتے اور بڑے طلبہ راتوں بھر ہاسٹل کی چھت پر باری باری پہرہ دیتے۔یہ سلسلہ شعبان تک جاری رہا،پھر سالانہ امتحان کے بعد چھٹی ہو گئی۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔یو پی کے بہت سے مدارس میں چھٹی کردی گئی تھی۔
اس پاس کے چھوٹے مدارس کے بہت سے طلبہ جامعہ اشرفیہ ا گئے تھے۔
اسی عہد میں ممبئ میں بم بلاسٹ ہوا تھا۔ملک بھر میں نفرت و تعصب کی شدت محسوس کی جانے لگی تھی۔ملک کی دونوں بڑی قوموں کا باہمی اعتماد ٹوٹ چکا تھا۔عجب سرا سیمگی کا ماحول ملک بھر میں پیدا ہو چکا تھا۔
اس کے بعد رضااکیڈمی ممبئی نے 6:دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانا شروع کیا۔
بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ بھارت کی جمہوریت کی روح بھی جاں بلب ہو گئی تھی۔
بابری مسجد کا کیس فیض اباد سے الہ اباد منتقل کر دیا گیا۔الہ اباد کے فیصلے کو فریقین نے تسلیم نہیں کیا اور معاملہ سپریم کورٹ اگیا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد کجرات فساد:2002نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دیا۔
09:نومبر 2019کو سپریم کورٹ نے رام مندر کے حق میں فیصلہ دیا۔اب اج یعنی 05:اگست 2020کو رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
ابھی تو سورج طلوع ہونے میں کئی گھنٹے باقی ہیں۔
ان شاء اللہ تعالی کبھی وہ سورج بھی طلوع ہو گا کہ بھارت میں انصاف پروری کی بہار ا جائے گی۔امیدوں پر دنیا قائم ہے۔ہم بھی امیدوں کے سہارے جی رہے ہیں۔
یہ غیر مرتب اور منتشر تحریر ہے۔جو ذہن میں محفوظ یاد داشتوں کو اپنے احباب تک پہنچانے کے لئے رقم کی گئی ہے۔
کیا ہمارے بچپن کا بھارت کبھی واپس ائے گا؟
کیا بھارتی اقوام میں پھر کبھی وہ اعتماد و
بابری مسجد؛ ذہن میں محفوظ کچھ یادیں
اج تک یہ یادیں ذہن میں محفوظ ہیں کہ جب بابری مسجد کی شہادت نہیں ہوئی تھی تو بھارت کے مسلمان انتہائی شان و شوکت کے ساتھ جیتے تھے۔ماحول اس قدر خوفناک بھی نہیں تھا،نہ ہی عوام و خواص میں اس قدر عصبیت و نفرت بھری ہوئی تھی۔ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے درمیان اعتماد بھی بحال تھا۔عام طور پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت بھرا سلوک بھی کرتے تھے۔
بابری مسجد کی شہادت سے قبل بنارس
میں فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں اتی تھیں۔اس وقت اتر پردیش میں ملائم سنگھ کی حکومت تھی۔اسی عہد میں بابری مسجد کے گنبد پر بہت سے کارسیوک اسے منہدم کرنے چڑھ گئے تھے۔کارسیوکوں کو پولیس والوں نے نیچے اترنے کہا۔جب وہ کسی صورت کنٹرول میں نہ ائے تو پولیس نے گولیاں چلا دیں۔کئی ایک کار سیوک وہیں پر دم توڑ دئیے۔
بھارت کے ماحول میں تعصب و نفرت اس وقت سے نظر انے لگی،جب لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ مندر سے رتھ یاترا نکالا۔ملک بھر میں جابجا فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے۔ہم نے اپنی اںکھوں سے بہار میں اڈوانی کا رتھ یاترا روڈ پر گزرتے دیکھا تھا۔اڈوانی کے رتھ کے اگے پیچھے بہت سی فور وہیلر گاڑیاں تھیں۔
چند گھنٹوں بعد ہی خبر ملی کہ سمستی پور میں لالو پرساد یادو کے حکم سے اڈوانی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
06:دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کا دہشت ناک حادثہ پیش ایا۔اس وقت ہم لوگ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں زیر تعلیم تھے۔
کچھ بڑے طلبہ نیوز کے واسطے ریڈیو رکھتے تھے۔جیسے ہی بابری مسجد پر حملے کی خبر ائی۔غیر اعلانیہ طور پر درس بند ہو گیا۔بچے ہاسٹل میں جمع ہو کر نیوز سننے لگے۔اساتذہ کرام بھی درس گاہی بلڈنگ میں خبر سننے لگے۔
اساتذہ و طلبہ سب کے سب غم و الم سے نڈھال ہو گئے۔ہر چہار جانب رنج و افسوس کا ماحول پیدا ہو گیا۔شام کے وقت دار الحدیث ہال(موجودہ اسٹاف روم)میں تمام طلبہ و اساتذہ جمع ہوئے۔حضور محدث کبیر صاحب قبلہ نے اپنے بیان میں بہت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم لوگوں نے حضور مجاہد ملت قدس سرہ العزیز کی تحریک خاکساران حق کا سپورٹ نہیں کیا اور اس کو قوت نہ دے سکے۔اج وہ تحریک قوت و طاقت کے ساتھ ہوتی تو ہمارا سہارا بنتی۔
کئی دنوں تک درس گاہوں میں تعلیم بند رہی۔رسمی طور پر اساتذہ و طلبہ کلاس روم میں حاضر ہوتے۔عجب ماحول تھا۔اساتذہ و طلبہ سب پر غم و الم چھایا نظر اتا تھا۔اس موقع پر کئی بار طلبہ کو دار الحدیث ہال میں جمع کیا گیا تھا۔بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دعائیں کی گئی تھیں۔
وزیر اعظم نرسمہا راو نے 6:دسمبر کی شام کو دوبارہ بابری مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔یوپی کےبھاجپائی وزیر اعلی کلیان سنگھ نے شام کو استعفی دے دیا۔ایک دن کے لئے وہ جیل گیا۔بابری مسجد کے انہدام کے کیس میں اڈوانی،مرلی منوہر جوشی،کلیان سنگھ،اوما بھارتی اور بہت سے لوگوں پر کیس درج ہوا۔وشو ہندو پریشد،بی جے پی اور شیو سینا کے لوگوں نے اس انہدام میں اہم کردار نبھایا تھا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد اشرفیہ کے مین گیٹ کے پاس پولیس فورس متعین کر دیا گیا۔عارضی طور پر کئی ایک ہوٹل گیٹ کے اندر منتقل کر دئیے گئے۔گیٹ کے باہر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔رات کو قدیم ہاسٹل کے دونوں گیٹ بند ہو جاتے اور بڑے طلبہ راتوں بھر ہاسٹل کی چھت پر باری باری پہرہ دیتے۔یہ سلسلہ شعبان تک جاری رہا،پھر سالانہ امتحان کے بعد چھٹی ہو گئی۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔یو پی کے بہت سے مدارس میں چھٹی کردی گئی تھی۔
اس پاس کے چھوٹے مدارس کے بہت سے طلبہ جامعہ اشرفیہ ا گئے تھے۔
اسی عہد میں ممبئ میں بم بلاسٹ ہوا تھا۔ملک بھر میں نفرت و تعصب کی شدت محسوس کی جانے لگی تھی۔ملک کی دونوں بڑی قوموں کا باہمی اعتماد ٹوٹ چکا تھا۔عجب سرا سیمگی کا ماحول ملک بھر میں پیدا ہو چکا تھا۔
اس کے بعد رضااکیڈمی ممبئی نے 6:دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانا شروع کیا۔
بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ بھارت کی جمہوریت کی روح بھی جاں بلب ہو گئی تھی۔
بابری مسجد کا کیس فیض اباد سے الہ اباد منتقل کر دیا گیا۔الہ اباد کے فیصلے کو فریقین نے تسلیم نہیں کیا اور معاملہ سپریم کورٹ اگیا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد کجرات فساد:2002نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دیا۔
09:نومبر 2019کو سپریم کورٹ نے رام مندر کے حق میں فیصلہ دیا۔اب اج یعنی 05:اگست 2020کو رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
ابھی تو سورج طلوع ہونے میں کئی گھنٹے باقی ہیں۔
ان شاء اللہ تعالی کبھی وہ سورج بھی طلوع ہو گا کہ بھارت میں انصاف پروری کی بہار ا جائے گی۔امیدوں پر دنیا قائم ہے۔ہم بھی امیدوں کے سہارے جی رہے ہیں۔
یہ غیر مرتب اور منتشر تحریر ہے۔جو ذہن میں محفوظ یاد داشتوں کو اپنے احباب تک پہنچانے کے لئے رقم کی گئی ہے۔
کیا ہمارے بچپن کا بھارت کبھی واپس ائے گا؟
کیا بھارتی اقوام میں پھر کبھی وہ اعتماد و
محبت واپس ا سکے گی؟
کیا اب ہم سب کو اسی طرح نفرت و عداوت کے ماحول میں جینا ہو گا؟
کیا کوئی میرے سوالوں کے صحیح جواب دے گا؟
شاید جواب کے لئے بہت انتظار کرنا ہو گا۔ممکن ہے کہ ایک مدت تک ہر طرف سناٹا چھایا رہے۔
ہم اگلی نسلوں کو کیسا بھارت سونپنے جا رہے ہیں۔ایسی وراثت کہ جس میں تعصب،عداوت،نفرت،قتل و غارت گری،مظلوموں کی چیخ و پکار،غریبوں کی فاقہ کشی،تنگ دستوں کی خود کشی،فریب و دغا بازی،عورتوں کی عصمت دری،رشوت خوری و نا انصافی اور نہ جانے کتنے عیوب موجود ہیں۔ملک کے حالات دیکھ کر رونا اتا ہے۔اس کے علاوہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
ا عندلیب مل کے کریں اہ و زاریاں
تو ہائے گل پکارے میں پکاروں ہائے دل
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:
05:اگست 2020
شب چہار شنبہ؛بوقت:1,40
کیا اب ہم سب کو اسی طرح نفرت و عداوت کے ماحول میں جینا ہو گا؟
کیا کوئی میرے سوالوں کے صحیح جواب دے گا؟
شاید جواب کے لئے بہت انتظار کرنا ہو گا۔ممکن ہے کہ ایک مدت تک ہر طرف سناٹا چھایا رہے۔
ہم اگلی نسلوں کو کیسا بھارت سونپنے جا رہے ہیں۔ایسی وراثت کہ جس میں تعصب،عداوت،نفرت،قتل و غارت گری،مظلوموں کی چیخ و پکار،غریبوں کی فاقہ کشی،تنگ دستوں کی خود کشی،فریب و دغا بازی،عورتوں کی عصمت دری،رشوت خوری و نا انصافی اور نہ جانے کتنے عیوب موجود ہیں۔ملک کے حالات دیکھ کر رونا اتا ہے۔اس کے علاوہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
ا عندلیب مل کے کریں اہ و زاریاں
تو ہائے گل پکارے میں پکاروں ہائے دل
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:
05:اگست 2020
شب چہار شنبہ؛بوقت:1,40
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
آہ آہ!
ہمارے مربی و پیشوا خلیفئہ مفتئی اعظم ہند حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ،
انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ کریم حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم!
ہمارے مربی و پیشوا خلیفئہ مفتئی اعظم ہند حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ،
انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ کریم حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم!
د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
آہ آہ! ہمارے مربی و پیشوا خلیفئہ مفتئی اعظم ہند حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ، انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ کریم حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمین بجاہ النبی الامین…
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
اشکوں کی صدا
آہ ۔۔۔۔ مفتئ اعظم مہاراشٹر ، فخر اہلسنن ، عطائے غوث و خواجہ ، جلوۂ نوری ، ضیائے برکات ، فیض در اشرف ، پیکر علم و فن ، مرشد کامل ، صاحب زہد و تقوی ، اشرف الفقہاء حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف قادری نوری برکاتی علیہ الرحمہ ، خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند ، ناگپور مہاراشٹر،،
ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے
وصال 15 ذی الحجہ 1441ھج 6 اگست بروز جمعرات
10 بجکر 40 منٹ پر
°°°°°°°°
یہ کہنے کی بھی نہیں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا
جہانِ حق کا وہ مہتاب ، ہم کو چھوڑ گیا
جمال مفتئ اعظم ، وہ اشرف الفقہا
کرم کا گوہر نایاب ہم کو چھوڑ گیا
خبر ملی جو وصالِ مجیب اشرف کی
یہ سن کے سب ہوئے بیتاب ، ہم کو چھوڑ گیا
تڑپ رہے ہیں جدائ سے سارے اہلسنن
مثالِ ماہئِ بـے آب ، ہم کو چھوڑ گیا
زمیں اداس ، فلک غمزدہ ، فضا خاموش
ہیں شَل زمانے کے اعصاب، ہم کو چھوڑ گیا
فراقِ مرشدِ کامل سہیں گے ہم کیسے
پکارے رو کے یہ احباب ، ہم کو چھوڑ گیا
اجالا جس کا تھا حق ساز و حق نواز تمام
وہ آفتابِ جہاں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا
ملا ہے جس کی قیادت سے سنیت کو عروج
وہ پاسبانی کا سِیماب ، ہمکو چھوڑ گیا
ملی ہے جس سے ہمیں نسبتِ رضا کی کرن
ضیائے نوری کا وہ باب ، ہم کو چھوڑ گیا
چراغِ عشق رسالت پہ جس کا تھا پہرہ
وہ دے کے حق کی تب و تاب ہم کو چھوڑ گیا
رہے گا اُس کی عطاؤں کا سلسلہ جاری
اگرچہ فن کا وہ میزاب ، ہم کو چھوڑ گیا
وہ جس نے گلشن ملت کی آبیاری کی
خدا رکھے اُسے شاداب ، ہم کو چھوڑ گیا
لحد میں خلد بریں کے حسیں نظارے ہوں
رہے وہ فضل سے سیراب ، ہم کو چھوڑ گیا
فریدی ! اُس کے اصولوں کو ہم نہ چھوڑیں گے
سکھا کے عشق کے آداب ، ہم کو چھوڑ گیا
°°°°°°°°°°°
از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
آہ ۔۔۔۔ مفتئ اعظم مہاراشٹر ، فخر اہلسنن ، عطائے غوث و خواجہ ، جلوۂ نوری ، ضیائے برکات ، فیض در اشرف ، پیکر علم و فن ، مرشد کامل ، صاحب زہد و تقوی ، اشرف الفقہاء حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف قادری نوری برکاتی علیہ الرحمہ ، خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند ، ناگپور مہاراشٹر،،
ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے
وصال 15 ذی الحجہ 1441ھج 6 اگست بروز جمعرات
10 بجکر 40 منٹ پر
°°°°°°°°
یہ کہنے کی بھی نہیں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا
جہانِ حق کا وہ مہتاب ، ہم کو چھوڑ گیا
جمال مفتئ اعظم ، وہ اشرف الفقہا
کرم کا گوہر نایاب ہم کو چھوڑ گیا
خبر ملی جو وصالِ مجیب اشرف کی
یہ سن کے سب ہوئے بیتاب ، ہم کو چھوڑ گیا
تڑپ رہے ہیں جدائ سے سارے اہلسنن
مثالِ ماہئِ بـے آب ، ہم کو چھوڑ گیا
زمیں اداس ، فلک غمزدہ ، فضا خاموش
ہیں شَل زمانے کے اعصاب، ہم کو چھوڑ گیا
فراقِ مرشدِ کامل سہیں گے ہم کیسے
پکارے رو کے یہ احباب ، ہم کو چھوڑ گیا
اجالا جس کا تھا حق ساز و حق نواز تمام
وہ آفتابِ جہاں تاب ، ہم کو چھوڑ گیا
ملا ہے جس کی قیادت سے سنیت کو عروج
وہ پاسبانی کا سِیماب ، ہمکو چھوڑ گیا
ملی ہے جس سے ہمیں نسبتِ رضا کی کرن
ضیائے نوری کا وہ باب ، ہم کو چھوڑ گیا
چراغِ عشق رسالت پہ جس کا تھا پہرہ
وہ دے کے حق کی تب و تاب ہم کو چھوڑ گیا
رہے گا اُس کی عطاؤں کا سلسلہ جاری
اگرچہ فن کا وہ میزاب ، ہم کو چھوڑ گیا
وہ جس نے گلشن ملت کی آبیاری کی
خدا رکھے اُسے شاداب ، ہم کو چھوڑ گیا
لحد میں خلد بریں کے حسیں نظارے ہوں
رہے وہ فضل سے سیراب ، ہم کو چھوڑ گیا
فریدی ! اُس کے اصولوں کو ہم نہ چھوڑیں گے
سکھا کے عشق کے آداب ، ہم کو چھوڑ گیا
°°°°°°°°°°°
از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Mohd Gulrez Misbahi
مختصر سوانح خلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی اعظم مہاراشٹر، اشرف الفقہا حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۔
ولادت۔آپ کی ولادت باسعادت آپ کے وطن مالوف قصبہ گھوسی، ضلع مئو کے محلہ کریم الدین(یوپی) کے خوشحال علم دوست گھرانے میں مورخہ 2/رمضان المبارک 1356ھ مطابق 6/نومبر 1937ء بروز سنیچر صبح کے وقت ہوئی ۔
شجرہ نسب۔۔حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب ابن حضرت الحاج محمد حسن صاحب ابن حضرت حافظ محمد جمیع اللہ صاحب ابن شیخ الحفاظ حضرت الحاج الحافظ احمد صاحب علہیم الرضوان۔
تعلیم۔آپ کی تعلیم ابتدا سے اخیر تک قابل اور لائق وفائق اساتذہ کی نگرانی میں ہوئی ۔قرآن شریف ناظرہ محلہ کریم الدین پور کے ایک بزرگ جناب میانجی محمد تقی سے پڑھا ۔اردو اور حساب وغیرہ درجہ چہارم تک کی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں ہوئی، پرائمری درجہ چہارم پاس کرنے کے بعد اسی مدرسہ میں فارسی کی ابتدائی کتابیں حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب علیہ الرحمۃ امجد نگر گھوسی سے پڑھیں اس کے بعد فارسی کی دیگر کتابیں تین سال تک حضرت مولانا سعید خان صاحب علیہ الرحمۃ(فتح پور گھوسی) سے پڑھیں ۔عربی کی چند ابتدائی کتابیں اپنے چچاحضرت مولانا شمس الدین صاحب سے اور باقی کتابیں کافیہ تک شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق صاحب. امجدی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔
1951ء میں شارح بخاری بحکم حضور حافظ ملت محدث مرادآبادی دارالعلوم فضل رحمانیہ پچیڑا ضلع گونڈہ(یوپی) تشریف لے گئے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ساتھ اسی مدرسہ میں چلے آئے یہاں دو سال رہ کر شرح جامی تک کی کتابیں شارح بخاری سے پڑھیں ۔اس وقت دار العلوم فضل رحمانیہ میں شہزادہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا قاری رضاء المصطفے صاحب امجدی دامت برکاتھم العالیہ مدرس تھے ان سے بھی چند کتابیں پڑھیں۔
1953ءمیں حضرت شارح بخاری، حضور سرکار مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا نوری علیہ الرحمۃ کی طلب پر بریلی شریف تشریف لے گیے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ہمراہ حاضر ہوئے ۔وہاں مرکزی دار العلوم مظہر اسلام میں تعلیم مکمل فرمائی ۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی دار العلوم مظہر اسلام میں جن اساتذہ سے اکتساب علم کیا ان کے اسماے گرامی یہ ہیں۔
(1).فقیہ العصر، نائب مفتئ اعظم ہند، شارح بخاری، مفتی شریف الحق صاحب امجدی علیہ الرحمہ۔
(2).شیخ العلماء مولانا مفتی غلام جیلانی علیہ الرحمہ (آپ کے سگے ماموں جان).
(3).صدر العلما مولانا مفتی ثناء اللہ امجدی اعظمی علیہ الرحمہ (مظہر اسلام بریلی شریف).
(4).شیخ المعقولات، مولانا معین الدین خان صاحب علیہ الرحمہ (فتح پور قصبہ گھوسی)
(5).صدر العلما مفتی تحسین رضا خان صاحب بریلوی علیہ الرحمہ
مذکورہ بالا اساتذہ میں سے آپ نے سب سے زیادہ کتابیں حضور شارح بخاری سے پڑھیں۔اس لیے اکثر فرمایا کرتے کہ حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب قبلہ میرے استاذ کل ہیں ۔آپ نے چند کتابوں کے علاوہ اول تا آخر زیادہ تر کتابیں آپ ہی سے پڑھی ہیں ۔حضرت شارح بخاری علیہ الرحمہ اپنے اس علمی اور روحانی فرزند پر ناز فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں میرا ایک ہی شاگرد مجیب اشرف ایسا ہے جس نے اول تاآخر میرے پاس رہ کر تعلیم وتربیت حاصل کی ہے ۔
حضرت شارح بخاری کواپنے اس شاگرد رشید پر کس قدر ناز تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1992ءمیں حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب عرس قاسمی میں شرکت کی غرض سے مارہرہ مطہرہ حاضر ہوئے، بعد نماز مغرب صاحب سجادہ حضور احسن العلماء حضرت مصطفی حیدر حسن میاں علیہ الرحمہ سے شرف ملاقات کے لیے مجلس میں حاضر ہوئے وہاں پہلے سے شارح بخاری مفتی شریف الحق تشریف فرماتھے حضرت کو دیکھ کر شارح بخاری بہت خوش ہوئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔اور سرکار احسن العماء سے تعارف کراتے ہوئے فرمایا ۔
حضور یہ مجیب اشرف، حضرت شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی صاحب اور رئیس الاذکیاء مولانا غلام یزدانی صاحب اعظمی کے بھانجے ہیں ۔اور میرا وہ شاگرد ہے کہ کل قیامت میں میرے رب نے اگر مجھ سے سوال کیا کہ شریف الحق کیا لایا ہے(یہ کہ کر حضرت رونے لگے اور بھرائی آواز میں فرمایا) تو عرض کردوں گا مجیب اشرف کو لایا ہوں ۔یہ سن کر حاضرین اور خود احسن العلماء علیہ الرحمہ کی آنکھیں نمناک ہوگئیں ۔حضور احسن العلماء نے اس وقت آپ کے سر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں ۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور اشرف الفقہا پر حضور مفتی شریف الحق صاحب کو کتنا ناز تھا۔
درس وتدریس۔۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی 1958ء میں وسط ہند کی مشہور ومعروف قدیم درسگاہ جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور کو ایک قابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت تھی بانی جامعہ حضرت علامہ مفتی عبد الرشید صاحب قبلہ علیہ الرحمہ (فتح پوری )نے حضور مفتی اعظم ہند اور مفتی شریف الحق صاحب کو ایک خط لکھ کر روانہ کیا کہ جامعہ عربیہ کے لیے ایک لائق وقابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت ہے لہذا آپ روانہ فرمائیں ۔دونوں بزرگوں کی نظر انتخاب حضور اشرف العلماء پر پڑھی اور
ولادت۔آپ کی ولادت باسعادت آپ کے وطن مالوف قصبہ گھوسی، ضلع مئو کے محلہ کریم الدین(یوپی) کے خوشحال علم دوست گھرانے میں مورخہ 2/رمضان المبارک 1356ھ مطابق 6/نومبر 1937ء بروز سنیچر صبح کے وقت ہوئی ۔
شجرہ نسب۔۔حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب ابن حضرت الحاج محمد حسن صاحب ابن حضرت حافظ محمد جمیع اللہ صاحب ابن شیخ الحفاظ حضرت الحاج الحافظ احمد صاحب علہیم الرضوان۔
تعلیم۔آپ کی تعلیم ابتدا سے اخیر تک قابل اور لائق وفائق اساتذہ کی نگرانی میں ہوئی ۔قرآن شریف ناظرہ محلہ کریم الدین پور کے ایک بزرگ جناب میانجی محمد تقی سے پڑھا ۔اردو اور حساب وغیرہ درجہ چہارم تک کی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں ہوئی، پرائمری درجہ چہارم پاس کرنے کے بعد اسی مدرسہ میں فارسی کی ابتدائی کتابیں حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب علیہ الرحمۃ امجد نگر گھوسی سے پڑھیں اس کے بعد فارسی کی دیگر کتابیں تین سال تک حضرت مولانا سعید خان صاحب علیہ الرحمۃ(فتح پور گھوسی) سے پڑھیں ۔عربی کی چند ابتدائی کتابیں اپنے چچاحضرت مولانا شمس الدین صاحب سے اور باقی کتابیں کافیہ تک شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق صاحب. امجدی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔
1951ء میں شارح بخاری بحکم حضور حافظ ملت محدث مرادآبادی دارالعلوم فضل رحمانیہ پچیڑا ضلع گونڈہ(یوپی) تشریف لے گئے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ساتھ اسی مدرسہ میں چلے آئے یہاں دو سال رہ کر شرح جامی تک کی کتابیں شارح بخاری سے پڑھیں ۔اس وقت دار العلوم فضل رحمانیہ میں شہزادہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا قاری رضاء المصطفے صاحب امجدی دامت برکاتھم العالیہ مدرس تھے ان سے بھی چند کتابیں پڑھیں۔
1953ءمیں حضرت شارح بخاری، حضور سرکار مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا نوری علیہ الرحمۃ کی طلب پر بریلی شریف تشریف لے گیے آپ بھی اپنے استاذ محترم کے ہمراہ حاضر ہوئے ۔وہاں مرکزی دار العلوم مظہر اسلام میں تعلیم مکمل فرمائی ۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی دار العلوم مظہر اسلام میں جن اساتذہ سے اکتساب علم کیا ان کے اسماے گرامی یہ ہیں۔
(1).فقیہ العصر، نائب مفتئ اعظم ہند، شارح بخاری، مفتی شریف الحق صاحب امجدی علیہ الرحمہ۔
(2).شیخ العلماء مولانا مفتی غلام جیلانی علیہ الرحمہ (آپ کے سگے ماموں جان).
(3).صدر العلما مولانا مفتی ثناء اللہ امجدی اعظمی علیہ الرحمہ (مظہر اسلام بریلی شریف).
(4).شیخ المعقولات، مولانا معین الدین خان صاحب علیہ الرحمہ (فتح پور قصبہ گھوسی)
(5).صدر العلما مفتی تحسین رضا خان صاحب بریلوی علیہ الرحمہ
مذکورہ بالا اساتذہ میں سے آپ نے سب سے زیادہ کتابیں حضور شارح بخاری سے پڑھیں۔اس لیے اکثر فرمایا کرتے کہ حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب قبلہ میرے استاذ کل ہیں ۔آپ نے چند کتابوں کے علاوہ اول تا آخر زیادہ تر کتابیں آپ ہی سے پڑھی ہیں ۔حضرت شارح بخاری علیہ الرحمہ اپنے اس علمی اور روحانی فرزند پر ناز فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں میرا ایک ہی شاگرد مجیب اشرف ایسا ہے جس نے اول تاآخر میرے پاس رہ کر تعلیم وتربیت حاصل کی ہے ۔
حضرت شارح بخاری کواپنے اس شاگرد رشید پر کس قدر ناز تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1992ءمیں حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب عرس قاسمی میں شرکت کی غرض سے مارہرہ مطہرہ حاضر ہوئے، بعد نماز مغرب صاحب سجادہ حضور احسن العلماء حضرت مصطفی حیدر حسن میاں علیہ الرحمہ سے شرف ملاقات کے لیے مجلس میں حاضر ہوئے وہاں پہلے سے شارح بخاری مفتی شریف الحق تشریف فرماتھے حضرت کو دیکھ کر شارح بخاری بہت خوش ہوئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔اور سرکار احسن العماء سے تعارف کراتے ہوئے فرمایا ۔
حضور یہ مجیب اشرف، حضرت شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی صاحب اور رئیس الاذکیاء مولانا غلام یزدانی صاحب اعظمی کے بھانجے ہیں ۔اور میرا وہ شاگرد ہے کہ کل قیامت میں میرے رب نے اگر مجھ سے سوال کیا کہ شریف الحق کیا لایا ہے(یہ کہ کر حضرت رونے لگے اور بھرائی آواز میں فرمایا) تو عرض کردوں گا مجیب اشرف کو لایا ہوں ۔یہ سن کر حاضرین اور خود احسن العلماء علیہ الرحمہ کی آنکھیں نمناک ہوگئیں ۔حضور احسن العلماء نے اس وقت آپ کے سر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں ۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور اشرف الفقہا پر حضور مفتی شریف الحق صاحب کو کتنا ناز تھا۔
درس وتدریس۔۔1957ءمیں آپ کی فراغت ہوئی 1958ء میں وسط ہند کی مشہور ومعروف قدیم درسگاہ جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور کو ایک قابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت تھی بانی جامعہ حضرت علامہ مفتی عبد الرشید صاحب قبلہ علیہ الرحمہ (فتح پوری )نے حضور مفتی اعظم ہند اور مفتی شریف الحق صاحب کو ایک خط لکھ کر روانہ کیا کہ جامعہ عربیہ کے لیے ایک لائق وقابل نائب شیخ الحدیث کی ضرورت ہے لہذا آپ روانہ فرمائیں ۔دونوں بزرگوں کی نظر انتخاب حضور اشرف العلماء پر پڑھی اور
Forwarded from Mohd Gulrez Misbahi
کم عمر عالم نبیل کو ناگ پور بھیج دیا ۔
آپ نے جامعہ عربیہ کی شاخ کامٹی میں دوسال تک منصب صدارت پر رہ کر خدمات انجام دیں چند سال تک آپ نے نائب شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات انجام دیں پھر آپ نے جامعہ سے علیحدگی اختیار کرلی اور 1966ءمیں الجامعۃ الرضویہ دار العلوم امجدیہ ناگ پور کی داغ بیل ڈالی ۔
آپ کے مشہور تلامذہ۔
یوں تو آپ کے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن کچھ کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔(1).حضرت علامہ مولانا سید محمد حسینی صاحب قبلہ آستانہ عالیہ شمسیہ، رائچور۔
(2).حضرت علامہ مولانا عبد الغنی صاحب علیہ الرحمہ۔
(3).مفتی اندور حضرت مفتی حبیب یار خان صاحب قبلہ۔
(4).حضرت علامہ مولانا مفتی نسیم صاحب صاحب شیخ الحدیث رضا دار الیتامی ناگ پور ۔
(5).حضرت علامہ مولانا عبدالحبیب صاحب قبلہ بانی رضا دار الیتامی، ناگ پور ۔
بیعت وخلافت۔آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں 24صفر المظفر 1375ء کو حضور مفتی اعظم ہند کے دست حق پر بیعت کی
اور حضور مفتی شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمہ کے ساتھ اسی روز سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، رضویہ کے تعویذات، اعمال اور نقوش کی تحریری اجازت عنایت فرمائی ۔
تصنیفات۔۔آپ نےکثیر مشاغل کے باوجود کچھ کتابیں بھی تالیف فرمائیں جن میں سے جو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں وہ یہ ہیں۔(1).خطبات کولمبو ۔(2).ارشاد المرشد۔(3).تحسین العیادۃ۔(4).پیکر استقامت وکرامت (حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ)
وصال۔ 6/اگست 2020ءبروز جمعرات دس بج کر چالیس منٹ پر ناگ پور مہاراشٹر میں وصال ہوگیا۔
اللہ تعالی حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کے فیوض وبرکات سے ہمیں مالا مال فرمائے ۔
۔۔
محمد گل ریز رضا مصباحی بریلی شریف۔
جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگ پور
6/اگست 2020ءبروز جمعرات۔
آپ نے جامعہ عربیہ کی شاخ کامٹی میں دوسال تک منصب صدارت پر رہ کر خدمات انجام دیں چند سال تک آپ نے نائب شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات انجام دیں پھر آپ نے جامعہ سے علیحدگی اختیار کرلی اور 1966ءمیں الجامعۃ الرضویہ دار العلوم امجدیہ ناگ پور کی داغ بیل ڈالی ۔
آپ کے مشہور تلامذہ۔
یوں تو آپ کے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن کچھ کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔(1).حضرت علامہ مولانا سید محمد حسینی صاحب قبلہ آستانہ عالیہ شمسیہ، رائچور۔
(2).حضرت علامہ مولانا عبد الغنی صاحب علیہ الرحمہ۔
(3).مفتی اندور حضرت مفتی حبیب یار خان صاحب قبلہ۔
(4).حضرت علامہ مولانا مفتی نسیم صاحب صاحب شیخ الحدیث رضا دار الیتامی ناگ پور ۔
(5).حضرت علامہ مولانا عبدالحبیب صاحب قبلہ بانی رضا دار الیتامی، ناگ پور ۔
بیعت وخلافت۔آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں 24صفر المظفر 1375ء کو حضور مفتی اعظم ہند کے دست حق پر بیعت کی
اور حضور مفتی شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمہ کے ساتھ اسی روز سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، رضویہ کے تعویذات، اعمال اور نقوش کی تحریری اجازت عنایت فرمائی ۔
تصنیفات۔۔آپ نےکثیر مشاغل کے باوجود کچھ کتابیں بھی تالیف فرمائیں جن میں سے جو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں وہ یہ ہیں۔(1).خطبات کولمبو ۔(2).ارشاد المرشد۔(3).تحسین العیادۃ۔(4).پیکر استقامت وکرامت (حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ)
وصال۔ 6/اگست 2020ءبروز جمعرات دس بج کر چالیس منٹ پر ناگ پور مہاراشٹر میں وصال ہوگیا۔
اللہ تعالی حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کے فیوض وبرکات سے ہمیں مالا مال فرمائے ۔
۔۔
محمد گل ریز رضا مصباحی بریلی شریف۔
جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگ پور
6/اگست 2020ءبروز جمعرات۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
आला हज़रत की नसीहत इमामे अहले सुन्नत सरकार आला हज़रत रहीमुल्लाहु त'आला नसीहत करते हुए इरशाद फरमाते हैं! "देखो नर्मी के जो फवाईद है वो सख़्ती में हरगिज़ हासिल नहीं हो सकते, जिन लोगों के अकाईद मुज़ब्ज़ब हो उनसे भी नर्मी बरती जाए कि वो ठीक हो जाएंगे, ये जो वहाबिया…
हुज़ूर से हमने क्या सीखा?
हुज़ूर -ए- अकरम ﷺ के नीचे एक मर्तबा नर्म बिस्तर बिछा दिया गया तो आप ने फरमाया : मैं दुनिया में आराम करने नहीं आया।
(شمائل ترمذی، ص22)
आप हर वक़्त अल्लाह का ज़िक्र करते थे।
(بخاری و مسلم)
आप एक दिन में दो मर्तबा कभी भी अपने पेट को नहीं भरते थे।
(ترمذی، 2356)
आप ने कभी दो दिन मुसलसल गंदुम की रोटी नहीं खाई हत्ता के विसाल हो गया।
(مسلم، 7445)
आपने कभी आईन्दा के लिए ज़खीरा नहीं किया।
(ترمذی، 2362)
आप अपने घर के काम काज खुद करते थे और अहले खाना का हाथ बटाते बटाते नमाज़ का वक़्त आ जाता तो नमाज़ के लिए निकल जाते।
(بخاری، 676)
हम अगर खुद को देखें तो दुनिया से दिल लगा बैठे हैं,
लज़ीज़ खाने वो भी एक दिन में तीन वक़्त!
अच्छे कपड़े, नर्म बिस्तर और फिर आईन्दा के लिए हर चीज़ का ज़खीरा!
अल्लाह त'आला हमें दुनिया की रंगीनियों से बचाए
✍ अब्दे मुस्तफ़ा
हुज़ूर -ए- अकरम ﷺ के नीचे एक मर्तबा नर्म बिस्तर बिछा दिया गया तो आप ने फरमाया : मैं दुनिया में आराम करने नहीं आया।
(شمائل ترمذی، ص22)
आप हर वक़्त अल्लाह का ज़िक्र करते थे।
(بخاری و مسلم)
आप एक दिन में दो मर्तबा कभी भी अपने पेट को नहीं भरते थे।
(ترمذی، 2356)
आप ने कभी दो दिन मुसलसल गंदुम की रोटी नहीं खाई हत्ता के विसाल हो गया।
(مسلم، 7445)
आपने कभी आईन्दा के लिए ज़खीरा नहीं किया।
(ترمذی، 2362)
आप अपने घर के काम काज खुद करते थे और अहले खाना का हाथ बटाते बटाते नमाज़ का वक़्त आ जाता तो नमाज़ के लिए निकल जाते।
(بخاری، 676)
हम अगर खुद को देखें तो दुनिया से दिल लगा बैठे हैं,
लज़ीज़ खाने वो भी एक दिन में तीन वक़्त!
अच्छे कपड़े, नर्म बिस्तर और फिर आईन्दा के लिए हर चीज़ का ज़खीरा!
अल्लाह त'आला हमें दुनिया की रंगीनियों से बचाए
✍ अब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضور سے ہم نے کیا سیکھا؟
حضورِ اکرم ﷺ کے نیچے ایک مرتبہ نرم بستر بچھا دیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں دنیا میں آرام کرنے نہیں آیا۔
(شمائل ترمذی، ص22)
آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
(بخاری و مسلم)
آپ ایک دن میں دو مرتبہ کبھی بھی اپنے پیٹ کو نہیں بھرتے تھے۔
(ترمذی، 2356)
آپ نے کبھی دو دن مسلسل گندم کی روٹی نہیں کھائی حتیٰ کہ وصال ہو گیا۔
(مسلم، 7445)
آپ نے کبھی آئندہ کے لیے ذخیرہ نہیں کیا۔
(ترمذی، 2362)
آپ اپنے گھر کے کام کاج خود کرتے تھے اور اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔
(بخاری، 676)
ہم اگر خود کو دیکھیں تو دنیا سے دل لگا بیٹھے ہیں۔
لذیذ کھانا وہ بھی ایک دن میں تین وقت!
اچھے کپڑے، نرم بستر اور پھر آئندہ کے لیے ہر چیز کا ذخیرہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی رنگینیوں سے بچائے۔
عبد مصطفیٰ
حضورِ اکرم ﷺ کے نیچے ایک مرتبہ نرم بستر بچھا دیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں دنیا میں آرام کرنے نہیں آیا۔
(شمائل ترمذی، ص22)
آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
(بخاری و مسلم)
آپ ایک دن میں دو مرتبہ کبھی بھی اپنے پیٹ کو نہیں بھرتے تھے۔
(ترمذی، 2356)
آپ نے کبھی دو دن مسلسل گندم کی روٹی نہیں کھائی حتیٰ کہ وصال ہو گیا۔
(مسلم، 7445)
آپ نے کبھی آئندہ کے لیے ذخیرہ نہیں کیا۔
(ترمذی، 2362)
آپ اپنے گھر کے کام کاج خود کرتے تھے اور اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔
(بخاری، 676)
ہم اگر خود کو دیکھیں تو دنیا سے دل لگا بیٹھے ہیں۔
لذیذ کھانا وہ بھی ایک دن میں تین وقت!
اچھے کپڑے، نرم بستر اور پھر آئندہ کے لیے ہر چیز کا ذخیرہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی رنگینیوں سے بچائے۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM