Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*اطلاق خطا اور گستاخی کا شور : ایک تجزیاتی مطالعہ*
تحریر : خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ *غلام مصطفےٰ نعیمی* صاحب قبلہ
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام، دہلی
*قسط-1*
ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کے ایک جملے پر پاک وہند میں خوب تنازع برپا ہے۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ہم نے اس معاملے پر سکوت زیادہ بہتر سمجھا لیکن بدلتے حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مذکورہ معاملے کے اہم پہلوؤں پر تجزیاتی تحریر لکھی جائے تاکہ عوام وخواص فریقین کے دعووں اور دلائل سے باخبر ہوسکیں اور کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکیں۔
چند ماہ قبل "شان مولیٰ علی رضی اللہ عنہ" سیمینار میں باغ فدک کے ضمن میں جلالی صاحب نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی کتاب "تصفیہ مابین سنی وشیعہ" کا ایک اقتباس پڑھ کر اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ کَہ دیا کہ:
"مطالبہ فدک کے وقت سیدہ فاطمہ خطاء(اجتہادی) پر تھیں۔"
دوران تقریر اور بعد میں مہینوں تقریر کے متعلق کہیں کوئی بات سننے میں نہیں آئی لیکن کسی بندے نے سیاق و سباق سے ہٹا کر محض اسی جملے کی کلپ "گستاخی فاطمہ" کے کیپشن کے ساتھ وائرل کردی دیکھتے ہی دیکھتے پڑوسی ملک میں جلالی صاحب کی مخالفت شروع ہوگئی۔مخالفت کرنے والوں میں تین گروہ اہم ہیں:
1-رافضی
2- سنفضی(نیم سنی نیم رافضی)
3-بعض سنی علما ومشائخ
مخالفین میں یہی تین گروہ پیش پیش ہیں۔درجہ بندی کے بعد اختلافی نقطہ نظر کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔
رافضی طبقہ اہل بیت اطہار کو "معصوم" گردانتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ سے عقیدہ اہل سنت کے مخالف رہے ہیں اس لیے ان کی مخالفت باعث حیرت نہیں.
سنفضی/تفضیلی طبقے کے افراد بظاہر خود کو سنی کہلاتے ہیں لیکن مزاجاً روافض کی اتباع وپیروی کرتے ہیں اس لیے جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے تو عقیدہ اہل سنت کی مخالفت اور روافض کی حمایت کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔حالیہ معاملے میں جیسے ہی روافض نے شور مچایا تو امیدوں کے عین مطابق سنفضی اور تفضیلی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے مخالفت کی مہم میں شانہ بشانہ شریک ہوگئے۔
اختلاف کرنے والوں میں کئی ذمہ دار سنی علما ومشائخ بھی شامل ہیں۔ان میں سے بعض نے لفظ "خطا" کے استعمال کو بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے توبہ ورجوع کا مطالبہ کیا۔تو بعض علما نے مذکورہ جملے کو محض تعبیری خطا قرار دیا اور سیدہ فاطمہ کے شایان شان نہ سمجھتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سنی علما ومشائخ کے مخلصانہ مشوروں کو قبول کرتے جلالی صاحب نے اپنے جملے سے رجوع کرتے ہوئے یہ بیان دیا:
"ہم سیرت فاطمہ اور فدک کے بیان میں بھی سیدہ فاطمہ کی جانب خطائے اجتہادی کا ذکر جائز نہیں سمجھتے لیکن روافض کے رد کے وقت بمجبوری خاص اسی موقع پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن روافض کے فریب سے عوام اہل سنت کے اعتقادی تحفظ کی خاطر ہم اس لفظ کو ترک کرتے ہیں۔"
اس وضاحت کے بعد بھی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑا الٹا جلالی صاحب کی مخالفت میں لابنگ بڑھتی گئی،نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے بائکاٹ کی اپیلیں جاری ہونے لگیں اور بعض سیاست دانوں کی مہربانیوں سے قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی۔
اپنے موقف کی وضاحت اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے "شان بتول کانفرنس ، بے خطا بے گناہ سیدہ زہرا کانفرنس" جیسی کئی کانفرنس منعقد کی گئیں جن میں جلالی صاحب نے نہایت عالمانہ اور مؤدبانہ لب و لہجے میں گھنٹوں خطاب کیا لیکن مخالفین پر ان خطابات کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
*حالیہ معاملے پر ایک نظر*
جلالی صاحب کے بیان پر رافضی، طبقے کے علاوہ تفضیلی، سنفضی اور بعض سنی علما ومشائخ کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔شیعوں نے اپنی فطرت کے مطابق تبرا اور گالی بازی شروع کردی ان کی اتباع وپیروی میں سنفضی طبقہ بھی آگے آیا اور دونوں نے مل کر جلالی صاحب کو "ولد الزنا، نطفہ نامعلوم، مردود، حرامی، حیضی بچہ،منافق شیطان، ناصبی،یزیدی، جیسی گالیاں دے کر اپنے ذوق خاص کا اظہار کیا۔اب جس گروہ کے نزدیک جماعت صحابہ پر تبرا اور گالی گلوچ مذہبی کلچر کا حصہ ہو اس کی بدزبانی سے بھلا کون محفوظ رہ سکتا ہے؟
ایسے گالی بازوں کے جواب سے ہم بھی معذور ہیں اور "قالوا سلاما" میں ہی عافیت جانتے ہیں۔
رہ جاتے ہیں سنی علما ومشائخ کے اعتراضات،ان میں معترضین کے دو طبقے ہیں:
1-بعض حضرات نے اسے تعبیری خطا قرار دیا اور "احترام اہل بیت" کے پیش نظر اس جملے سے رجوع کا مطالبہ کیا۔
2-بعض کے نزدیک"سیدہ کی جانب خطا کی نسبت شدید گستاخی اور بے ادبی ہے جس سے توبہ ورجوع لازمی ہے۔"
طبقہ اول نے محبت اہل بیت اور لحاظ عرف کے باعث "مذکورہ جملے"کو بدلنے کی اپیل کی۔ان کی یہ اپیل یقیناً ان کے خلوص اور محبت اہل بیت کی دلیل ہے۔ ہمیں بھی اس حد تک ان سے اتفاق ہے کہ عوامی عرف کے پیش نظر "مطالبہ فدک" میں یہی مضمون مزید بہتر انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا۔جیسا کہ "مشکلات الحدیث" میں غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی نے کی
تحریر : خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ *غلام مصطفےٰ نعیمی* صاحب قبلہ
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام، دہلی
*قسط-1*
ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کے ایک جملے پر پاک وہند میں خوب تنازع برپا ہے۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ہم نے اس معاملے پر سکوت زیادہ بہتر سمجھا لیکن بدلتے حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مذکورہ معاملے کے اہم پہلوؤں پر تجزیاتی تحریر لکھی جائے تاکہ عوام وخواص فریقین کے دعووں اور دلائل سے باخبر ہوسکیں اور کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکیں۔
چند ماہ قبل "شان مولیٰ علی رضی اللہ عنہ" سیمینار میں باغ فدک کے ضمن میں جلالی صاحب نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی کتاب "تصفیہ مابین سنی وشیعہ" کا ایک اقتباس پڑھ کر اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ کَہ دیا کہ:
"مطالبہ فدک کے وقت سیدہ فاطمہ خطاء(اجتہادی) پر تھیں۔"
دوران تقریر اور بعد میں مہینوں تقریر کے متعلق کہیں کوئی بات سننے میں نہیں آئی لیکن کسی بندے نے سیاق و سباق سے ہٹا کر محض اسی جملے کی کلپ "گستاخی فاطمہ" کے کیپشن کے ساتھ وائرل کردی دیکھتے ہی دیکھتے پڑوسی ملک میں جلالی صاحب کی مخالفت شروع ہوگئی۔مخالفت کرنے والوں میں تین گروہ اہم ہیں:
1-رافضی
2- سنفضی(نیم سنی نیم رافضی)
3-بعض سنی علما ومشائخ
مخالفین میں یہی تین گروہ پیش پیش ہیں۔درجہ بندی کے بعد اختلافی نقطہ نظر کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔
رافضی طبقہ اہل بیت اطہار کو "معصوم" گردانتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ سے عقیدہ اہل سنت کے مخالف رہے ہیں اس لیے ان کی مخالفت باعث حیرت نہیں.
سنفضی/تفضیلی طبقے کے افراد بظاہر خود کو سنی کہلاتے ہیں لیکن مزاجاً روافض کی اتباع وپیروی کرتے ہیں اس لیے جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے تو عقیدہ اہل سنت کی مخالفت اور روافض کی حمایت کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔حالیہ معاملے میں جیسے ہی روافض نے شور مچایا تو امیدوں کے عین مطابق سنفضی اور تفضیلی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے مخالفت کی مہم میں شانہ بشانہ شریک ہوگئے۔
اختلاف کرنے والوں میں کئی ذمہ دار سنی علما ومشائخ بھی شامل ہیں۔ان میں سے بعض نے لفظ "خطا" کے استعمال کو بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے توبہ ورجوع کا مطالبہ کیا۔تو بعض علما نے مذکورہ جملے کو محض تعبیری خطا قرار دیا اور سیدہ فاطمہ کے شایان شان نہ سمجھتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سنی علما ومشائخ کے مخلصانہ مشوروں کو قبول کرتے جلالی صاحب نے اپنے جملے سے رجوع کرتے ہوئے یہ بیان دیا:
"ہم سیرت فاطمہ اور فدک کے بیان میں بھی سیدہ فاطمہ کی جانب خطائے اجتہادی کا ذکر جائز نہیں سمجھتے لیکن روافض کے رد کے وقت بمجبوری خاص اسی موقع پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن روافض کے فریب سے عوام اہل سنت کے اعتقادی تحفظ کی خاطر ہم اس لفظ کو ترک کرتے ہیں۔"
اس وضاحت کے بعد بھی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑا الٹا جلالی صاحب کی مخالفت میں لابنگ بڑھتی گئی،نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے بائکاٹ کی اپیلیں جاری ہونے لگیں اور بعض سیاست دانوں کی مہربانیوں سے قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی۔
اپنے موقف کی وضاحت اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے "شان بتول کانفرنس ، بے خطا بے گناہ سیدہ زہرا کانفرنس" جیسی کئی کانفرنس منعقد کی گئیں جن میں جلالی صاحب نے نہایت عالمانہ اور مؤدبانہ لب و لہجے میں گھنٹوں خطاب کیا لیکن مخالفین پر ان خطابات کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
*حالیہ معاملے پر ایک نظر*
جلالی صاحب کے بیان پر رافضی، طبقے کے علاوہ تفضیلی، سنفضی اور بعض سنی علما ومشائخ کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔شیعوں نے اپنی فطرت کے مطابق تبرا اور گالی بازی شروع کردی ان کی اتباع وپیروی میں سنفضی طبقہ بھی آگے آیا اور دونوں نے مل کر جلالی صاحب کو "ولد الزنا، نطفہ نامعلوم، مردود، حرامی، حیضی بچہ،منافق شیطان، ناصبی،یزیدی، جیسی گالیاں دے کر اپنے ذوق خاص کا اظہار کیا۔اب جس گروہ کے نزدیک جماعت صحابہ پر تبرا اور گالی گلوچ مذہبی کلچر کا حصہ ہو اس کی بدزبانی سے بھلا کون محفوظ رہ سکتا ہے؟
ایسے گالی بازوں کے جواب سے ہم بھی معذور ہیں اور "قالوا سلاما" میں ہی عافیت جانتے ہیں۔
رہ جاتے ہیں سنی علما ومشائخ کے اعتراضات،ان میں معترضین کے دو طبقے ہیں:
1-بعض حضرات نے اسے تعبیری خطا قرار دیا اور "احترام اہل بیت" کے پیش نظر اس جملے سے رجوع کا مطالبہ کیا۔
2-بعض کے نزدیک"سیدہ کی جانب خطا کی نسبت شدید گستاخی اور بے ادبی ہے جس سے توبہ ورجوع لازمی ہے۔"
طبقہ اول نے محبت اہل بیت اور لحاظ عرف کے باعث "مذکورہ جملے"کو بدلنے کی اپیل کی۔ان کی یہ اپیل یقیناً ان کے خلوص اور محبت اہل بیت کی دلیل ہے۔ ہمیں بھی اس حد تک ان سے اتفاق ہے کہ عوامی عرف کے پیش نظر "مطالبہ فدک" میں یہی مضمون مزید بہتر انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا۔جیسا کہ "مشکلات الحدیث" میں غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی نے کی
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ا ہے جس کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد سے مختلف قرار دیتے ہوئے اجتہاد صدیقی کو "بہتر" قرار دیا ہے۔
غزالی زماں کے اقتباس کی تشریح کی جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ "قضیہ فدک" میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہی مبنی بر صواب تھا۔لیکن آپ نے عرف کے پیش نظر ان لفظوں سے پرہیز کیا جن سے رافضی اور رافضی نواز اہل سنت کو ورغلا سکتے تھے جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔
طبقہ دوم نے "نسبت خطا" کو سیدہ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز اختیار کیا ہوا ہے۔جذباتیت کی طغیانی میں وہ مسلسل اس بات کو دُہرا رہے ہیں کہ سیدہ کی جانب خطا کا اطلاق کسی طور پر جائز نہیں ہے ایسا کرنا ناصبیت اور بدبختی کی نشانی ہے۔
ان حضرات کے جذباتی رد عمل سے ایکبارگی تو اہل بیت کے تئیں ان کی محبت ظاہر ہوتی ہے لیکن معاملے کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے کہ ان "جذباتی دیوانوں" میں وہ "روشن خیال" بھی مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں جو سیدہ فاطمہ کے بابا سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں کی جانے والی صریح گستاخیوں پر نہ صرف پہلو بدلتے ہیں بلکہ گستاخوں کو شرعی حکم سے بچانے کے لیے تاویلات فاسدہ سے بھی کام لیتے ہیں۔
ایک طرف یہ "جذباتی دیوانے" سیدہ کی جناب میں "خطائے اجتہادی" کا جملہ استعمال کرنے والے کو اہل سنت سے خارج کرنے کی مہم چلا رہے ہیں تو دوسری جانب آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں صریح گستاخیاں کرنے والوں، گستاخیوں کی اشاعت،وکالت اور تبلیغ کرنے والوں سے یاریاں نبھاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ نظر آتے ہیں۔آخر یہ دو رنگی کیوں؟
سیدہ فاطمہ سے محبت کا دعوی تو سیدہ کے بابا کے دشمنوں سے یارانہ کیسا؟
طبقہ ثانی میں وہ افراد بھی ہیں جو "روشن خیال دیوانوں" سے مزاجاً الگ ہیں اور وہ "نسبت خطا" کو محض بے ادبی تسلیم کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لفظ خطا مطلقاً بولا گیا ہے اور مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے۔اس تشریح کے مطابق خطا سے خطائے معصیت کا ماننا لازم آتا ہے جو یقیناً سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کی جناب میں شدید گستاخی ہے۔
اپنے فہم کے مطابق ان حضرات کا استدلال درست اور بجا ہے لیکن جلالی صاحب پر اس کا انطباق اس لیے درست نہیں ہے کیوں کہ وہ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ان کی مراد "خطائے اجتہادی" ہے جو نہ گناہ ہے نہ بے ادبی، بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔تو جو چیز باعث اجر ہو اسے کسی معظم شخصیت کی جانب منسوب کرنا ہرگز ہرگز بے ادبی اور گستاخی نہیں ہے۔
کسی قول کی اصل مراد قائل ہی بیان کر سکتا ہے جب قائل اپنی مراد ظاہر کر چکا تو خود سے اس قول کی مراد متعین کرنا علمی اصولوں کے خلاف ہے،اگر جملے میں کوئی متحمل لفظ موجود ہو تب بھی قائل کو دیکھا جائے گا کہ وہ کس سوچ وفکر کا حامل ہے،اعلی حضرت فرماتے ہیں:
"بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ۔
"ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہے۔"(فتاوی رضویہ ج:29/ص35)
اقتباس بالا کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہاں لفظ "خطا" کے قائل علامہ اشرف آصف جلالی ہیں،جن کی فکر ونظر محتاج تعارف نہیں ہے۔
🔸موصوف بلاشبہ اہل سنت کے نامور محقق،اور متصلب عالم دین ہیں۔
🔸"توحید سیمینار" میں آپ کے تحقیقی خطابات اور تصنیفات بہترین علمی سرمایہ ہیں۔
🔸مذکورہ جملہ بھی"شان مولی علی سیمینار" میں ادا کیا گیا۔(ذرا سوچیں!جو شخص مولی علی کی عظمت بیان کرنے بیٹھا ہو،کیا وہ بانوئے مرتضیٰ کی توہین کرے گا؟)
🔸ماقبل کے جملے میں سیدہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا:
"اہل بیت سے خطا کا امکان تو ہے لیکن رب نے حفاظت فرما دی ہے۔"
🔸مذکورہ جملے کے فوراً بعد "سیدہ کی عظمت " کا بیان کیا۔
🔸عقائد اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں موصوف کی قابل قدر خدمات ہیں۔
🔸روافض کے رد میں "عدالت صدیق اکبر،عظمت صحابہ" جیسے کئی اہم سیمینار منعقد کرکے سیکڑوں گھنٹوں پر مشتمل کئی تحقیقی خطاب فرما چکے ہیں۔
عقائد اہل سنت کی حفاظت اور بدعقیدوں کی تردید میں آپ کا نام مشعل راہ ہے۔ایسی پاک فکر ونظر اور خدمات کا وسیع دائرہ رکھنے والے عالم دین پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی کا الزام لگانا علمی دیانت اور انصاف کا خون کرنا ہے۔جس شخص کی پوری زندگی دفاع صحابہ اور عظمت اہل بیت میں گزر رہی ہے، اسے بے ادب قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟
21 ذوالقعدہ 1441ھ
13 جولائی 2020 بروز پیر
غزالی زماں کے اقتباس کی تشریح کی جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ "قضیہ فدک" میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہی مبنی بر صواب تھا۔لیکن آپ نے عرف کے پیش نظر ان لفظوں سے پرہیز کیا جن سے رافضی اور رافضی نواز اہل سنت کو ورغلا سکتے تھے جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔
طبقہ دوم نے "نسبت خطا" کو سیدہ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز اختیار کیا ہوا ہے۔جذباتیت کی طغیانی میں وہ مسلسل اس بات کو دُہرا رہے ہیں کہ سیدہ کی جانب خطا کا اطلاق کسی طور پر جائز نہیں ہے ایسا کرنا ناصبیت اور بدبختی کی نشانی ہے۔
ان حضرات کے جذباتی رد عمل سے ایکبارگی تو اہل بیت کے تئیں ان کی محبت ظاہر ہوتی ہے لیکن معاملے کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے کہ ان "جذباتی دیوانوں" میں وہ "روشن خیال" بھی مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں جو سیدہ فاطمہ کے بابا سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں کی جانے والی صریح گستاخیوں پر نہ صرف پہلو بدلتے ہیں بلکہ گستاخوں کو شرعی حکم سے بچانے کے لیے تاویلات فاسدہ سے بھی کام لیتے ہیں۔
ایک طرف یہ "جذباتی دیوانے" سیدہ کی جناب میں "خطائے اجتہادی" کا جملہ استعمال کرنے والے کو اہل سنت سے خارج کرنے کی مہم چلا رہے ہیں تو دوسری جانب آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں صریح گستاخیاں کرنے والوں، گستاخیوں کی اشاعت،وکالت اور تبلیغ کرنے والوں سے یاریاں نبھاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ نظر آتے ہیں۔آخر یہ دو رنگی کیوں؟
سیدہ فاطمہ سے محبت کا دعوی تو سیدہ کے بابا کے دشمنوں سے یارانہ کیسا؟
طبقہ ثانی میں وہ افراد بھی ہیں جو "روشن خیال دیوانوں" سے مزاجاً الگ ہیں اور وہ "نسبت خطا" کو محض بے ادبی تسلیم کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لفظ خطا مطلقاً بولا گیا ہے اور مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے۔اس تشریح کے مطابق خطا سے خطائے معصیت کا ماننا لازم آتا ہے جو یقیناً سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کی جناب میں شدید گستاخی ہے۔
اپنے فہم کے مطابق ان حضرات کا استدلال درست اور بجا ہے لیکن جلالی صاحب پر اس کا انطباق اس لیے درست نہیں ہے کیوں کہ وہ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ان کی مراد "خطائے اجتہادی" ہے جو نہ گناہ ہے نہ بے ادبی، بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔تو جو چیز باعث اجر ہو اسے کسی معظم شخصیت کی جانب منسوب کرنا ہرگز ہرگز بے ادبی اور گستاخی نہیں ہے۔
کسی قول کی اصل مراد قائل ہی بیان کر سکتا ہے جب قائل اپنی مراد ظاہر کر چکا تو خود سے اس قول کی مراد متعین کرنا علمی اصولوں کے خلاف ہے،اگر جملے میں کوئی متحمل لفظ موجود ہو تب بھی قائل کو دیکھا جائے گا کہ وہ کس سوچ وفکر کا حامل ہے،اعلی حضرت فرماتے ہیں:
"بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ۔
"ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہے۔"(فتاوی رضویہ ج:29/ص35)
اقتباس بالا کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہاں لفظ "خطا" کے قائل علامہ اشرف آصف جلالی ہیں،جن کی فکر ونظر محتاج تعارف نہیں ہے۔
🔸موصوف بلاشبہ اہل سنت کے نامور محقق،اور متصلب عالم دین ہیں۔
🔸"توحید سیمینار" میں آپ کے تحقیقی خطابات اور تصنیفات بہترین علمی سرمایہ ہیں۔
🔸مذکورہ جملہ بھی"شان مولی علی سیمینار" میں ادا کیا گیا۔(ذرا سوچیں!جو شخص مولی علی کی عظمت بیان کرنے بیٹھا ہو،کیا وہ بانوئے مرتضیٰ کی توہین کرے گا؟)
🔸ماقبل کے جملے میں سیدہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا:
"اہل بیت سے خطا کا امکان تو ہے لیکن رب نے حفاظت فرما دی ہے۔"
🔸مذکورہ جملے کے فوراً بعد "سیدہ کی عظمت " کا بیان کیا۔
🔸عقائد اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں موصوف کی قابل قدر خدمات ہیں۔
🔸روافض کے رد میں "عدالت صدیق اکبر،عظمت صحابہ" جیسے کئی اہم سیمینار منعقد کرکے سیکڑوں گھنٹوں پر مشتمل کئی تحقیقی خطاب فرما چکے ہیں۔
عقائد اہل سنت کی حفاظت اور بدعقیدوں کی تردید میں آپ کا نام مشعل راہ ہے۔ایسی پاک فکر ونظر اور خدمات کا وسیع دائرہ رکھنے والے عالم دین پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی کا الزام لگانا علمی دیانت اور انصاف کا خون کرنا ہے۔جس شخص کی پوری زندگی دفاع صحابہ اور عظمت اہل بیت میں گزر رہی ہے، اسے بے ادب قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟
21 ذوالقعدہ 1441ھ
13 جولائی 2020 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم…
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے دادا تین بھائی تھے! ❶ عبد الرؤوف خاں ❷ نواب خاں عرف کھنڈارا ❸ اصغر خاں عرف سیٹھ ≣ عبد الرؤوف خاں کے تین بیٹے تھے ❶ عبد الواحد خاں ❷ شمشیر خاں ❸ عبد الرحمٰن خاں عرف ٹھیکیدار خاں ≣ نواب خاں عرف کھنڈارا کے ایک بیٹے کُٹُّوۡ خاں تھے! - اور اصغر خاں سے کوئی اولاد نہیں! ≣ عبد الواحد خاں سے تین بیٹے ❶ بھوجنگی خاں ❷ مسلم خاں ❸ مولانا اسلام خان مصباحی ≣ شمشیر خاں اور عبد الرحمٰن خاں سے کوئی اولاد نہیں - اس حساب سے کٹو خاں مولانا اسلام خان مصباحی کے چچا ہوئے!
کُٹُّوۡ خاں کے اِنتقال کے بعد کٹو خاں کی بیوی نے ۸۹۹۱ء میں اپنا گھر ۲۷×۱۵ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے بیچ کر اپنے میکے چلی گئیں! بیع نامہ بھی ہو گیا تھا -
پھر کچھ دِنوں کے بعد بھوجنگی خاں ابن عبد الواحد خاں نے خریدنے والوں سے کہا کہ یہ گھر ہمارے چچا کا ہے اور ہمارے گھر سے مِلا ہوا ہے! لہٰذا آپ لوگ یہ گھر مجھ سے بیچ دو! گاؤں محلہ کے لوگوں نے بھی کہا کہ ہاں بھائی دے دو -
تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ یہ گھر خریدنے میں اور بیع نامہ و پولیس کیس میں ہم لوگوں کا تقریباً بائیس ہزار روپیہ خرچہ ہوا ہے! لہٰذا آپ ہمیں دے دیں اور یہ گھر لے لیں - بھوجنگی خاں نے بائیس ہزار روپیہ دے کر گھر خرید لیا اور پنچ نامہ بھی لکھوا لیا تھا - پنچ نامہ لکھتے وقت بیع نامہ کا کاغذ موجود تھا -
بیع نامہ میں ایک کمرہ 27×15 صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے - ساتھ ہی ساتھ چَوۡہَدِّیۡ بھی لکھا ہوا ہے! چوہدی میں پچھم کی طرف کنواں لکھا ہے!
کٹو خاں اور مولانا اسلام خان مصباحی کے گھر کے پچھم کی طرف مولانا اسلام خان مصباحی کے پَر دادا جو چھہ بھائی تھے ان چھہ بھائیوں کی طرف سے تعزیہ اور مجلس کے لئے خالی جگہ چھوڑا گیا تھا - اس خالی جگہ کے پچھم کی طرف سڑک ہے اور سڑک کے بعد کنواں ہے -
اب مولانا اسلام خان مصباحی وہ خالی جگہ جو تعزیہ اور مجلس کے لئے چھوڑا گیا تھا اس پر قبضہ کر رہے ہیں تو بقیہ پانچ بھائیوں کی اولادوں نے کہا کہ یہ خالی جگہ ہم سب کے داداؤں نے چھوڑا تھا لہٰذا اس میں ہم سب کا حصہ ہے - تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ منگرے خاں نے یہ خالی جگہ بھی بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے ہمارے پاس پنچ نامہ لکھا ہوا موجود ہے اس میں لکھا ہے کہ پچھم کی طرف کنواں ہے لہٰذا کنواں تک ہمارا ہی حصہ ہے - مولانا مبارک خان مصباحی اور مولانا ہارون خان علیمی نے بھی کہا کہ ہاں آپ لوگوں کا حصہ منگرے خاں نے بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے - اس وقت وہاں گاؤں محلہ کے تقریباً دو ڈھائی درجن لوگ موجود تھے!
شام کو پولیس آئی تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ ہم دونوں لوگوں نے ساجھے میں صرف گھر خریدا تھا اور گھر ہی بیچا تھا - خالی جگہ نہ ہم نے خریدا تھا اور نہ ہی بیچا تھا - اور پچھم کی طرف جو کنواں لکھا ہے وہ چوہدی کے طور پر لکھا گیا تھا - اور چوہدی ہمیشہ لکھا جاتا ہے خواہ کم جگہ خریدو یا زیادہ - اور اس وقت کے ناپنے والے لکھنے والے اور گواہ ابھی بھی زندہ ہیں ان سے بھی پوچھ سکتے ہیں!
پھر دوسرے دِن محلہ اور گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ آپ سب کے جو دادا پر دادا تھے وہ کُل چھہ بھائی تھے اور یہی اصل گھر ہے - لہٰذا تعزیہ اور مجلس کے لئے جو جگہ چھوڑا گیا تھا اس کو چھوڑ کر بقیہ جگہ پھر سے ناپ کر اسے ایک بٹا چھہ کر لیجئے - سب لوگوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے! - تو تعزیہ اور مجلس والی خالی جگہ چھوڑ کر ناپنے کے بعد ایک بٹا چھہ کیا گیا تو ایک حصہ پر چار بِسۡوَانۡسِیۡ کم چار بِسوا آیا - مولانا اسلام خان مصباحی کا گھر ناپا گیا تو چار بِسوا نکلا - تو لوگوں نے کہا کہ آپ اور کٹو کے دادا پَر دادا ایک ہی ہیں لہٰذا آپ کو ایک بٹا چھہ میں سے ایک حصہ مل گیا - اور آپ کا چار بِسوانسی زیادہ بھی ہے - لہٰذا آپ خالی جگہ پر قبضہ نہ کریں کیونکہ اس میں سب کا حصہ ہے - اگر عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے آپ سے زیادہ جگہ بیچا ہے تو آپ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے لیجئے -
تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ ہم منگرے خاں پر کیس کرینگے کورٹ جائینگے مقدمہ دائر کرینگے! ہم شریعت پر چلتے ہیں!
لہٰذا عرض یہ ہے کہ جب دو لوگوں (عبد المنان خاں اور منگرے خاں) نے مِل کر ساجھے میں ایک گھر ۲۷×۱۵ خریدا تھا اور اسی گھر کو دونوں لوگوں نے بھوجنگی خاں سے بیچ دیا تھا - تو اب ان تینوں مولانا صاحبان کا صرف منگرے خاں پر جھوٹا الزام لگانا کیسا ہے؟ کیا یہ شرعی گواہ اور امامت کے قابل ہیں یا نہیں؟ حکم شرع بیان فرما دیں! جَزَاكَ اللہُ تَعَالیٰ خَیۡراً فِی الدَّارَیۡنۡ
المستفتی : منگرے خاں ابن ابراہیم خاں
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا پوسٹ گوٹٹی ضلع بہرائچ شریف یو پی الہند
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے دادا تین بھائی تھے! ❶ عبد الرؤوف خاں ❷ نواب خاں عرف کھنڈارا ❸ اصغر خاں عرف سیٹھ ≣ عبد الرؤوف خاں کے تین بیٹے تھے ❶ عبد الواحد خاں ❷ شمشیر خاں ❸ عبد الرحمٰن خاں عرف ٹھیکیدار خاں ≣ نواب خاں عرف کھنڈارا کے ایک بیٹے کُٹُّوۡ خاں تھے! - اور اصغر خاں سے کوئی اولاد نہیں! ≣ عبد الواحد خاں سے تین بیٹے ❶ بھوجنگی خاں ❷ مسلم خاں ❸ مولانا اسلام خان مصباحی ≣ شمشیر خاں اور عبد الرحمٰن خاں سے کوئی اولاد نہیں - اس حساب سے کٹو خاں مولانا اسلام خان مصباحی کے چچا ہوئے!
کُٹُّوۡ خاں کے اِنتقال کے بعد کٹو خاں کی بیوی نے ۸۹۹۱ء میں اپنا گھر ۲۷×۱۵ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے بیچ کر اپنے میکے چلی گئیں! بیع نامہ بھی ہو گیا تھا -
پھر کچھ دِنوں کے بعد بھوجنگی خاں ابن عبد الواحد خاں نے خریدنے والوں سے کہا کہ یہ گھر ہمارے چچا کا ہے اور ہمارے گھر سے مِلا ہوا ہے! لہٰذا آپ لوگ یہ گھر مجھ سے بیچ دو! گاؤں محلہ کے لوگوں نے بھی کہا کہ ہاں بھائی دے دو -
تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ یہ گھر خریدنے میں اور بیع نامہ و پولیس کیس میں ہم لوگوں کا تقریباً بائیس ہزار روپیہ خرچہ ہوا ہے! لہٰذا آپ ہمیں دے دیں اور یہ گھر لے لیں - بھوجنگی خاں نے بائیس ہزار روپیہ دے کر گھر خرید لیا اور پنچ نامہ بھی لکھوا لیا تھا - پنچ نامہ لکھتے وقت بیع نامہ کا کاغذ موجود تھا -
بیع نامہ میں ایک کمرہ 27×15 صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے - ساتھ ہی ساتھ چَوۡہَدِّیۡ بھی لکھا ہوا ہے! چوہدی میں پچھم کی طرف کنواں لکھا ہے!
کٹو خاں اور مولانا اسلام خان مصباحی کے گھر کے پچھم کی طرف مولانا اسلام خان مصباحی کے پَر دادا جو چھہ بھائی تھے ان چھہ بھائیوں کی طرف سے تعزیہ اور مجلس کے لئے خالی جگہ چھوڑا گیا تھا - اس خالی جگہ کے پچھم کی طرف سڑک ہے اور سڑک کے بعد کنواں ہے -
اب مولانا اسلام خان مصباحی وہ خالی جگہ جو تعزیہ اور مجلس کے لئے چھوڑا گیا تھا اس پر قبضہ کر رہے ہیں تو بقیہ پانچ بھائیوں کی اولادوں نے کہا کہ یہ خالی جگہ ہم سب کے داداؤں نے چھوڑا تھا لہٰذا اس میں ہم سب کا حصہ ہے - تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ منگرے خاں نے یہ خالی جگہ بھی بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے ہمارے پاس پنچ نامہ لکھا ہوا موجود ہے اس میں لکھا ہے کہ پچھم کی طرف کنواں ہے لہٰذا کنواں تک ہمارا ہی حصہ ہے - مولانا مبارک خان مصباحی اور مولانا ہارون خان علیمی نے بھی کہا کہ ہاں آپ لوگوں کا حصہ منگرے خاں نے بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے - اس وقت وہاں گاؤں محلہ کے تقریباً دو ڈھائی درجن لوگ موجود تھے!
شام کو پولیس آئی تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ ہم دونوں لوگوں نے ساجھے میں صرف گھر خریدا تھا اور گھر ہی بیچا تھا - خالی جگہ نہ ہم نے خریدا تھا اور نہ ہی بیچا تھا - اور پچھم کی طرف جو کنواں لکھا ہے وہ چوہدی کے طور پر لکھا گیا تھا - اور چوہدی ہمیشہ لکھا جاتا ہے خواہ کم جگہ خریدو یا زیادہ - اور اس وقت کے ناپنے والے لکھنے والے اور گواہ ابھی بھی زندہ ہیں ان سے بھی پوچھ سکتے ہیں!
پھر دوسرے دِن محلہ اور گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ آپ سب کے جو دادا پر دادا تھے وہ کُل چھہ بھائی تھے اور یہی اصل گھر ہے - لہٰذا تعزیہ اور مجلس کے لئے جو جگہ چھوڑا گیا تھا اس کو چھوڑ کر بقیہ جگہ پھر سے ناپ کر اسے ایک بٹا چھہ کر لیجئے - سب لوگوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے! - تو تعزیہ اور مجلس والی خالی جگہ چھوڑ کر ناپنے کے بعد ایک بٹا چھہ کیا گیا تو ایک حصہ پر چار بِسۡوَانۡسِیۡ کم چار بِسوا آیا - مولانا اسلام خان مصباحی کا گھر ناپا گیا تو چار بِسوا نکلا - تو لوگوں نے کہا کہ آپ اور کٹو کے دادا پَر دادا ایک ہی ہیں لہٰذا آپ کو ایک بٹا چھہ میں سے ایک حصہ مل گیا - اور آپ کا چار بِسوانسی زیادہ بھی ہے - لہٰذا آپ خالی جگہ پر قبضہ نہ کریں کیونکہ اس میں سب کا حصہ ہے - اگر عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے آپ سے زیادہ جگہ بیچا ہے تو آپ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے لیجئے -
تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ ہم منگرے خاں پر کیس کرینگے کورٹ جائینگے مقدمہ دائر کرینگے! ہم شریعت پر چلتے ہیں!
لہٰذا عرض یہ ہے کہ جب دو لوگوں (عبد المنان خاں اور منگرے خاں) نے مِل کر ساجھے میں ایک گھر ۲۷×۱۵ خریدا تھا اور اسی گھر کو دونوں لوگوں نے بھوجنگی خاں سے بیچ دیا تھا - تو اب ان تینوں مولانا صاحبان کا صرف منگرے خاں پر جھوٹا الزام لگانا کیسا ہے؟ کیا یہ شرعی گواہ اور امامت کے قابل ہیں یا نہیں؟ حکم شرع بیان فرما دیں! جَزَاكَ اللہُ تَعَالیٰ خَیۡراً فِی الدَّارَیۡنۡ
المستفتی : منگرے خاں ابن ابراہیم خاں
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا پوسٹ گوٹٹی ضلع بہرائچ شریف یو پی الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے دادا تین بھائی تھے! ❶ عبد الرؤوف خاں ❷ نواب خاں عرف کھنڈارا ❸ اصغر خاں عرف سیٹھ…
متروکہ زمین پر قبضہ کا حکم!!!
مولانا اسلام خان مصباحی
مولانا مبارک خان مصباحی
مولانا ہارون خان علیمی کا
منگرے خاں پر جھوٹا الزام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ
ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡᵁᴾ الہند
مولانا اسلام خان مصباحی
مولانا مبارک خان مصباحی
مولانا ہارون خان علیمی کا
منگرے خاں پر جھوٹا الزام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ
ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡᵁᴾ الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مقبوضہ_زمین_بہرائچ_شریف_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
متروکہ_زمین_پر_قبضہ_کا_حکم_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
493.3 KB
مسئلہ متروکہ زمین بہرائچ شریف
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
मतरूका ज़मीन पर क़ब्ज़ा का ह़ुक्म!
मौलाना इस्लाम ख़ान मिस़बाह़ी
मौलाना मुबारक ख़ान मिस़बाह़ी
मौलाना हारून ख़ान अ़लीमी
का मंगरे ख़ाँ पर झूठा इलज़ाम
@AhleSunnat_HindiBooks
✍ ख़लीफ़ए ह़ुज़ूर ताजुश् शरीआ़
व मुह़द्दिसे कबीर ह़ज़़रत अ़ल्लामा
मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी स़ाह़ब
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी.हिन्द
मौलाना इस्लाम ख़ान मिस़बाह़ी
मौलाना मुबारक ख़ान मिस़बाह़ी
मौलाना हारून ख़ान अ़लीमी
का मंगरे ख़ाँ पर झूठा इलज़ाम
@AhleSunnat_HindiBooks
✍ ख़लीफ़ए ह़ुज़ूर ताजुश् शरीआ़
व मुह़द्दिसे कबीर ह़ज़़रत अ़ल्लामा
मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी स़ाह़ब
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी.हिन्द
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
मतरूका_ज़मीन_पर_क़ब्ज़ा_का_ह़ुक्म_मोलवी_गाँव_महरथा.pdf
1.6 MB
मतरूका ज़मीन पर क़ब्ज़ा 📖
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी. हिन्द
@AhleSunnat_HindiBooks
✍मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी
नूरी दारुल इफ़्ता मदीना मस्जिदᵘᵏ
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी. हिन्द
@AhleSunnat_HindiBooks
✍मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी
नूरी दारुल इफ़्ता मदीना मस्जिदᵘᵏ
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
मसअला मक़बूज़ा ज़मीन !!
मौलाना इस्लाम ख़ान मिस़बाह़ी के दादा अ़ब्दुर् रऊफ़ ख़ाँ ने अपने तीन चचाओं (अ़ज़ीम ख़ाँ, जवाहिर ख़ाँ, बुद्धू ख़ाँ) को ज़मीन (खेत) में बराबर ह़िस़्स़ा नहीं दिया था!
@AhleSunnat_HindiBooks
✍ ख़लीफ़ए ह़ुज़ूर ताजुश् शरीआ़
व मुह़द्दिसे कबीर ह़ज़़रत अ़ल्लामा
मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी स़ाह़ब
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी.हिन्द
मौलाना इस्लाम ख़ान मिस़बाह़ी के दादा अ़ब्दुर् रऊफ़ ख़ाँ ने अपने तीन चचाओं (अ़ज़ीम ख़ाँ, जवाहिर ख़ाँ, बुद्धू ख़ाँ) को ज़मीन (खेत) में बराबर ह़िस़्स़ा नहीं दिया था!
@AhleSunnat_HindiBooks
✍ ख़लीफ़ए ह़ुज़ूर ताजुश् शरीआ़
व मुह़द्दिसे कबीर ह़ज़़रत अ़ल्लामा
मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी स़ाह़ब
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी.हिन्द
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
मसअला_मक़बूज़ा_ज़मीन_मोलवी_गाँव_महरथा.pdf
923.3 KB
मसअला मक़बूज़ा ज़मीन !! 📖
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी. हिन्द
@AhleSunnat_HindiBooks
✍मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी
नूरी दारुल इफ़्ता मदीना मस्जिदᵘᵏ
मोलवी गाँव महरथा , पोस्ट गोटुट्टी
ज़िला बहराइच शरीफ़ यू.पी. हिन्द
@AhleSunnat_HindiBooks
✍मुफ़्ती ज़ुल्फ़क़ार ख़ान नई़मी
नूरी दारुल इफ़्ता मदीना मस्जिदᵘᵏ
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
📖 مسئلہ مقبوضہ زمین 📖 مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں نے اپنے تین چچاؤں (¹عظیم خاں ²جواہر خاں ³بدھو خاں) کو زمین (کھیت) میں برابر حصہ نہیں دیا تھا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی نہیں دیا ہے! ... Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge خلیفۂ تاج الشریعہ…
یہ فتویٰ (سوال جواب) ہِندِی میں↑
Yeh Fatwa (Q&A) Hindi Men↑
Yeh Fatwa (Q&A) Hindi Men↑
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اجتماعی قربانی کورس
🆔 @islaamic_Knowledge
قربانی کے بعض اہم مسائل
قربانی کی شرائط
قربانی کا وقت
قربانی کے جانور اور ان کی عمر
وہ جانور جنکی قربانی جائز ہے
وہ جانور جنکی قربانی جائز نہیں
🆔 @islaamic_Knowledge
قربانی کے بعض اہم مسائل
قربانی کی شرائط
قربانی کا وقت
قربانی کے جانور اور ان کی عمر
وہ جانور جنکی قربانی جائز ہے
وہ جانور جنکی قربانی جائز نہیں
اجتماعی قربانی کورس - اہم مسائل.pdf
11.9 MB
ijtimai Qurbani Course
@islaamic_Knowledge
@islaamic_Knowledge