🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌷السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
🌹چند ماہ پہلے ترکی کے صدر رجب طيب اردوگان نے ايک بہت بڑے مجمع ميں تقرير کرتے ہوئے ايک واقعہ سنايا، مجمع نے ٹکٹکی باندھے اسے سنا۔ شائقين کے ليے يو ٹيوب پر وہ تقرير موجود ہے۔ راقم السطور وہ واقعہ يہاں من وعن اردو ميں بيان کرنے کے بعد اس پر ايک مختصر تبصرہ پيش کرے گا۔ پہلے واقعہ پڑھيں:

ميں آپ لوگوں کو تاريخ کا ايک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔ بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا۔ اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکتبے اور محل ڈھا ديے۔

يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں۔ اسی ظالم حکم راں نے جو بہت دور سے آيا تھا ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہوگيا۔

(ميں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس واقعے کو بہت غور سے سيريس ہوکر سنيں)
🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏
ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہونچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلاگيا۔
ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟ کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔

تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟ نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا، اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نا فرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔
دنيا، مال ودولت اور زمين جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔ يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا، مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟ نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کرليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔
اور پھر وہی ہوا وقت نے ثابت کردیا
تبصرہ:
اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔
حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔ رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔
مسلمانوں کے ليے بھی اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے تنبيہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہوجائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گی۔.

منقول : محمد جنید مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس واقعہ واس کے نتائج ہمارے علماء ائمہ مشائخ اساتذہ گھر خاندان کے بڑے بوڑھے اپنے انداز و پیرائے اور لحظہ میں وقتاً فوقتاً اپنے ما تحتوں و عزیزوں کو بتاتے و سناتے رہیں تو تبدیلی و انقلاب ضرور رو نما ہوگا ۔ بازاری مقرروں و پیشہ ور خطیبوں اور بے ادب فاسق و فاجر گو شاعروں کو نظر انداز کرنا ضروری ہے! ان لوگوں نے سنیت کو نقصان پہونچایا اور اسلام کو بدنام کیا۔عوام متقی علماء و صالحین سے دور ہوتی گئی۔
اشرف رضا قادری ممبئی ۸
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مفتی نثار احمد مصباحی کی وال سے..

مسجد آیا صوفیا

سلطان محمد الفاتح نے 1453ء میں قسطنطنیہ(استانبول) فتح کرنے کے بعد ایک بھی چرچ کو مسجد میں تبدیل نہیں کیا. نہ معاوضہ دے کر اور نہ ہی بغیر معاوضے کے. البتہ انھوں نے اپنی ذاتی رقم لگا کر "آیا صوفیا" کو عیسائیوں سے خرید کر اسے باقاعدہ مسجد بنایا. تقریبا 500 سال تک اس کی یہ حیثیت برقرار رہی. پھر لادینی حکمراں اتاترک مصطفی کمال پاشا نے اسے 1934ء میں میوزیم بنا دیا. اب قانونی طور پر دوبارہ 86 سال بعد اس کی اصل حیثیت پر اسے لوٹا دیا گیا ہے. اب اس میں اذان و جماعت کے ساتھ نمازیں ادا کی جائیں گی. (جن لوگوں نے بھی اس کے لیے جد و جہد کی ہے اللہ عزوجل ان کی کوششیں اور محنتیں قبول فرمائے.)
سلطان محمد الفاتح اگر چاہتے تو بغیر کسی معاوضے کے اس سابقہ چرچ کو مسجد میں بدل سکتے تھے, کیوں کہ شرعی قواعِد اور اس وقت کے جنگی قوانین کی رو سے انھیں یہ حق حاصل تھا. مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا, بلکہ زرِ کثیر صَرف کرکے اسے عیسائیوں سے خریدا اور پھر اسے مسجد بنایا. !!
آج کچھ لبرل, متجدد اور ملحد اسے چرچ سے جبراً مسجد بنائے جانے کا جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں. انھیں اس کا اپنی اصل حیثیت پر لوٹنا بہت گراں گزر رہا ہے.
اس جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید اِن لِنکس میں دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1378470342352241&id=100005678646486

https://www.facebook.com/100004720954224/posts/1606213522879331/

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1376679312721974&id=100011397551858

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1572728002908363&id=914495205398316

#نثارمصباحی
11جولائی 2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مسجد آیا صوفیا کی بحالی: روشن صبح کا استعارہ*


"جن کے ہاتھوں میں دامنِ مصطفیٰ ﷺ ہو؛ وہ بے راہ نہیں ہوتے۔ وہ اسلام سے پختہ وابستگی رکھتے ہیں۔ اپنے مذہبی آثار کی بحالی کے لیے منصفانہ تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں۔"

غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

    سوشل میڈیا پر ایک کلپ نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں محوِ حیرت تھا؛ ترکی کے سربراہ رجب طیب اردگان نے والہانہ انداز میں رسول اللہ ﷺ کی نعت پیش کی۔ وارفتگیِ شوق اور محبتِ رسول ﷺ کا یہ نظارہ اِس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ یہ حکمراں یہود و نصاریٰ کی غلامی کا شکار نہیں ہے۔ یہ تو مکینِ گنبد خضریٰ سے محبت و الفت کی سوغات بانٹ رہا ہے کہ؛ نعت پاک کا مفہوم کچھ اِس طرح تھا:

"یارسول اللہﷺ! آپ کی محبت مجھے طیبہ کھینچ لائی۔یارسول اللہﷺ! آپ کے فراق میں مَیں سرگرداں ہوں۔ یارسول اللہ ﷺ! میں محبتوں کی بزم میں آپ کی عطا سے پہنچ گیا ہوں۔ یارسول اللہﷺ! آپ کی رحمت ہادی ہے، ہر اِک آپ کا طالب ہے۔ ذہن و قلب جلوؤں سے روشن ہیں۔ میں آپ پر فِدا یارسول اللہﷺ۔ مِری روح و دل صدقے یارسول اللہﷺ!…"

یہ محبتوں کا نغمہ تھا…یہ عشقِ رسول ﷺ کی بولی تھی…دل سے نکلی تھی…تعمیری فکر کا اشاریہ تھی…اِسی لیے آج ساری دُنیا کے مسلمان ترکوں کو قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں…

    ہم نے ان حکمرانوں کو بھی دیکھا…جو مسلم مملکتوں کے سربراہ ہیں…لیکن مغربی طاقتوں کے قدموں میں پڑے ہیں…انھیں بھی دیکھا جو پاکیزہ زمیں کی دولت سے ٹرمپ کو تحائف سے نواز رہے ہیں…انھیں بھی دیکھا جو فلسطین کے خونِ مسلم بہائے جانے پر خاموش ہیں اور یہودی کاز کے لیے سرگرمِ عمل ہیں…انھیں بھی دیکھا جو قادیانیت کو سروں پر بٹھاتے ہیں…ناموسِ رسالت ﷺ میں توہین کے گھونٹ پی جاتے ہیں…جو امریکہ کی مدحت میں جیتے ہیں اور اُمتِ مسلمہ کے لہو پر اقتدار کے سورج اُگاتے ہیں…جو اپنے عیش کدوں کی تعمیر کے لیے لاکھوں خانماں برباد کلمہ گو کو لُٹتے، پِٹتے اور تباہ ہوتے دیکھتے ہیں…جو ظلم کے خلاف مظلوم کا ساتھ نہیں دیتے…ظالم کے ہمراہ نظر آتے ہیں…جو استعماری قوتوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں…ارضِ حرمین میں جو جوئے کے اڈے، کلبیں اور عیاشی کی محفلیں قائم کر رہے ہیں…

    ایک طرف دہریت، لادینیت کا فتنہ شباب پر ہے…قادیانیت و دشمنیِ صحابہ کا زہر اُبل رہا ہے…ایک طرف شرک پوری توانائی کے ساتھ وجودِ مسلم ختم کرنے کے لیے تیار ہے…کالے قوانین کے ذریعے گلشنِ خواجہ غریب نواز میں مسلمانوں کی فصل کاٹنے کی تیاری کی جا چکی ہے…مسلم ممالک اپنے اقتدار کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں…دشمنوں کی غلامی نے انھیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری کر دیا ہے…عراق کی تباہی، افغانستان کی بربادی، لبنان کی مفلوک الحالی اور لیبیا کی تاراجی سے مسلم حکمراں سبق نہیں لے رہے…ہر اِک دوسرے مسلم ملک کو ختم کرنے کی فکر میں ہے…جن دشمنوں کو انھوں نے لا بٹھایا وہ اِن کا خرمن بھی پھونک سکتے ہیں…

تمہیں کالی گھٹا کا بھی نہیں پہچاننا آتا
نشیمن سے دُھواں اُٹھتا ہے تم کہتے ہو ساون ہے

    سرزمینِ قسطنطنیہ عیسائیت کا مضبوط پڑاؤ تھی۔ عثمانی سلطان محمد فاتح نے اِس سرزمین پر جہدِ مسلسل سے کام لیا۔ بالآخر فتح کی صبح طلوع ہوئی۔ مسیحی دنیا کا ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے والا شہر اسلام کے مضبوط حصار میں آیا۔ صلیب شکست سے دوچار ہوئی۔ آیا صوفیا ان کا مذہبی مرکز تھا، جسے وہ اپنے باطل عقائد کی بنیاد پر ناقابلِ تسخیر مستقر سمجھتے تھے؛ وہ مسلماں کے زیر اثر آیا۔ ۱۴۵۳ء میں سلطان نے اسے باقاعدہ طور پر خرید کر مسجد میں بدل دیا- ۱۹۳۵ء میں دین بیزار اسیر فکرِ مغرب اتاترک نے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ ۱۹۳۵ء میں دین بیزار لبرلز نے اپنے اقتدار کا فائدہ اُٹھا کر مسیحی دنیا کی خوشی کے لیے اِس مسجد کو میوزیم کی شکل دی۔ موجودہ صدر ترکی نے باقاعدہ کورٹ کے ذریعے انصاف و دیانت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے وادیِ آیا صوفیا میں اذانِ سحر دی اور وہ صبح نمودار ہوئی جس کے بطن سے مسجد کا وقار بحال ہوا۔

    مسجد آیا صوفیا کی بحالی اُس مسیحی ایجنڈے کا عملی جواب ہے جس کے نفاذ کے لیے ہزاروں افراد کے ایمان خریدے گئے۔ گستاخِ رسول پیدا کیے گئے۔ مسلمانوں کا رشتہ بارگاہِ رسول ﷺ سے کم زور کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ دنیا کی کئی مساجد کی توہین کی گئی۔ دن دہاڑے مساجد کو ڈھایا گیا۔ بُت رکھے گئے- حیر ت کا مقام ہے کہ جس سال خواجہ کے گلشن میں ایک مسجد کو شرک کدے میں بدلنے کا فیصلہ نافذ کیا جا رہا تھا؛ انھیں ساعتوں میں ترکی کی سرزمین سے صبحِ تابندہ کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ مسجد آیا صوفیا کی حرمت بحال کی جا رہی تھی۔ دیانت و انصاف کے ذریعے مسیحی زعما کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ ’’وادی یہ ہماری ہے وہ گلشن بھی ہمارا‘‘…انصاف یہ ہوتا ہے کہ مسجد کا وقار باقی رکھا جائے…رضائے الٰہی کے لیے زندگی گزاری جائے…

    ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف مسلمانوں کے لہو کی سرخی ہے،
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ایک ایسا مقام جس کا وجود ہی صلیبی فکر کا نشانِ امتیاز مانا جاتا تھا، جو آرتھوڈوکس زعما کی عقیدتوں کا محور تھا۔ استعماری نقطۂ نگاہ سے ان کی مرکزیت کا نشاں تھا۔ قسطنطین اعظم نے ۳۶۰ء میں اس مقام پر کلیسا تعمیر کیا۔ اسی مقام پر باقاعدہ سلطان محمد فاتح نے زمین کی رقم ادا کر کے جس مسجد کی بنیاد رکھی تھی؛ اس کا وقار مدتوں بعد منصفانہ بنیادوں پر بحال ہوا۔ یہ امتِ مسلمہ کے تاباں مستقبل کا استعارہ ہے۔ جس سے مغربیت زدہ، لبرل، ملحد، دھریے حواس باختہ ہیں۔ وہ بھی مضطرب ہیں جو اسلام دشمن قوتوں کی زباں رکھتے ہیں۔ اسلام کی شوکت سے خوفزدہ مملکتیں نیز یہود و نصارٰی اِس منصفانہ اقدام ’’بحالیِ مسجد‘‘ سے مغموم ہیں۔ حالاں کہ انھیں ساری دنیا میں وہ واقعات دکھائی نہیں دیتے؛ جب مسلمانوں کی زمیں پر غاصبانہ قبضہ کے بعد مساجد کو چرچ و کلیسا میں بدل دیا گیا؛ کتنے ہی مقامات پر سجدہ گاہوں کو مسمار کر دیا گیا۔ اسلامی شوکت کے نشاں مٹا دیے گئے۔ اشبیلہ، طلیطلہ، قرطبہ میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے بعد مساجد کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بھی تاریخ کا المیہ ہے کہ عرب سرزمین پر غیرتِ دیں کا سودا کرنے والوں نے بت کدوں کی تعمیر کی منظوری دی۔ جو مملکتیں اسلام کے نام پر وجود پائیں وہاں مشرکین کے مراکز کا قیام المیہ ہی ہے۔ دوسری طرف ارضِ خواجہ میں مسجد کو بت کدے میں بدلنے کی تحریک چلائی گئی۔ ایسے ماحول میں ان مسلمانوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے جو ایوانِ کفر کے ہاتھوں کھلونا بنتے ہیں اور مسلمانوں سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب سے بیزارہوجائیں۔ مغربی چکاچوند اور مشرکانہ رسوم کو قبول کر لیں۔ لیکن جن کی نگاہوں میں طیبہ و نجف کا سرمہ ہو، جن کے ہاتھوں میں دامنِ مصطفیٰ ﷺ ہو؛ وہ بے راہ نہیں ہوتے۔ وہ اپنی حقیقت یعنی اسلام سے پختگی سے وابستہ رہتے ہیں۔ اور اپنے مذہبی آثار کی بحالی کے لیے منصفانہ تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی کی زمیں پرمسجد آیا صوفیا کی بازیابی ہوئی۔ یہ روشن صبح کا استعارہ ہے۔ یہ تاباں سحر کا درخشاں باب ہے۔ یہ پیغام ہے مسلمانوں کے لیے کہ شریعت کی پابندی کریں اور اسلامی تعلیمات پر استقامت اختیار کریں؛ اپنے آثار کی بحالی کے لیے دستوری تگ و دَو پوری توجہ سے جاری رکھیں-

٭ ٭ ٭

١٣جولائی ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*اطلاق خطا اور گستاخی کا شور : ایک تجزیاتی مطالعہ*

تحریر : خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ *غلام مصطفےٰ نعیمی* صاحب قبلہ
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام، دہلی

*قسط-1*

ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کے ایک جملے پر پاک وہند میں خوب تنازع برپا ہے۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ہم نے اس معاملے پر سکوت زیادہ بہتر سمجھا لیکن بدلتے حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مذکورہ معاملے کے اہم پہلوؤں پر تجزیاتی تحریر لکھی جائے تاکہ عوام وخواص فریقین کے دعووں اور دلائل سے باخبر ہوسکیں اور کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکیں۔

چند ماہ قبل "شان مولیٰ علی رضی اللہ عنہ" سیمینار میں باغ فدک کے ضمن میں جلالی صاحب نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی کتاب "تصفیہ مابین سنی وشیعہ" کا ایک اقتباس پڑھ کر اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ کَہ دیا کہ:
"مطالبہ فدک کے وقت سیدہ فاطمہ خطاء(اجتہادی) پر تھیں۔"

دوران تقریر اور بعد میں مہینوں تقریر کے متعلق کہیں کوئی بات سننے میں نہیں آئی لیکن کسی بندے نے سیاق و سباق سے ہٹا کر محض اسی جملے کی کلپ "گستاخی فاطمہ" کے کیپشن کے ساتھ وائرل کردی دیکھتے ہی دیکھتے پڑوسی ملک میں جلالی صاحب کی مخالفت شروع ہوگئی۔مخالفت کرنے والوں میں تین گروہ اہم ہیں:
1-رافضی
2- سنفضی(نیم سنی نیم رافضی)
3-بعض سنی علما ومشائخ

مخالفین میں یہی تین گروہ پیش پیش ہیں۔درجہ بندی کے بعد اختلافی نقطہ نظر کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔
رافضی طبقہ اہل بیت اطہار کو "معصوم" گردانتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ سے عقیدہ اہل سنت کے مخالف رہے ہیں اس لیے ان کی مخالفت باعث حیرت نہیں.
سنفضی/تفضیلی طبقے کے افراد بظاہر خود کو سنی کہلاتے ہیں لیکن مزاجاً روافض کی اتباع وپیروی کرتے ہیں اس لیے جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے تو عقیدہ اہل سنت کی مخالفت اور روافض کی حمایت کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔حالیہ معاملے میں جیسے ہی روافض نے شور مچایا تو امیدوں کے عین مطابق سنفضی اور تفضیلی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے مخالفت کی مہم میں شانہ بشانہ شریک ہوگئے۔
اختلاف کرنے والوں میں کئی ذمہ دار سنی علما ومشائخ بھی شامل ہیں۔ان میں سے بعض نے لفظ "خطا" کے استعمال کو بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے توبہ ورجوع کا مطالبہ کیا۔تو بعض علما نے مذکورہ جملے کو محض تعبیری خطا قرار دیا اور سیدہ فاطمہ کے شایان شان نہ سمجھتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سنی علما ومشائخ کے مخلصانہ مشوروں کو قبول کرتے جلالی صاحب نے اپنے جملے سے رجوع کرتے ہوئے یہ بیان دیا:
"ہم سیرت فاطمہ اور فدک کے بیان میں بھی سیدہ فاطمہ کی جانب خطائے اجتہادی کا ذکر جائز نہیں سمجھتے لیکن روافض کے رد کے وقت بمجبوری خاص اسی موقع پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن روافض کے فریب سے عوام اہل سنت کے اعتقادی تحفظ کی خاطر ہم اس لفظ کو ترک کرتے ہیں۔"
اس وضاحت کے بعد بھی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑا الٹا جلالی صاحب کی مخالفت میں لابنگ بڑھتی گئی،نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے بائکاٹ کی اپیلیں جاری ہونے لگیں اور بعض سیاست دانوں کی مہربانیوں سے قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی۔
اپنے موقف کی وضاحت اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے "شان بتول کانفرنس ، بے خطا بے گناہ سیدہ زہرا کانفرنس" جیسی کئی کانفرنس منعقد کی گئیں جن میں جلالی صاحب نے نہایت عالمانہ اور مؤدبانہ لب و لہجے میں گھنٹوں خطاب کیا لیکن مخالفین پر ان خطابات کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

*حالیہ معاملے پر ایک نظر*
جلالی صاحب کے بیان پر رافضی، طبقے کے علاوہ تفضیلی، سنفضی اور بعض سنی علما ومشائخ کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔شیعوں نے اپنی فطرت کے مطابق تبرا اور گالی بازی شروع کردی ان کی اتباع وپیروی میں سنفضی طبقہ بھی آگے آیا اور دونوں نے مل کر جلالی صاحب کو "ولد الزنا، نطفہ نامعلوم، مردود، حرامی، حیضی بچہ،منافق شیطان، ناصبی،یزیدی، جیسی گالیاں دے کر اپنے ذوق خاص کا اظہار کیا۔اب جس گروہ کے نزدیک جماعت صحابہ پر تبرا اور گالی گلوچ مذہبی کلچر کا حصہ ہو اس کی بدزبانی سے بھلا کون محفوظ رہ سکتا ہے؟
ایسے گالی بازوں کے جواب سے ہم بھی معذور ہیں اور "قالوا سلاما" میں ہی عافیت جانتے ہیں۔
رہ جاتے ہیں سنی علما ومشائخ کے اعتراضات،ان میں معترضین کے دو طبقے ہیں:
1-بعض حضرات نے اسے تعبیری خطا قرار دیا اور "احترام اہل بیت" کے پیش نظر اس جملے سے رجوع کا مطالبہ کیا۔
2-بعض کے نزدیک"سیدہ کی جانب خطا کی نسبت شدید گستاخی اور بے ادبی ہے جس سے توبہ ورجوع لازمی ہے۔"
طبقہ اول نے محبت اہل بیت اور لحاظ عرف کے باعث "مذکورہ جملے"کو بدلنے کی اپیل کی۔ان کی یہ اپیل یقیناً ان کے خلوص اور محبت اہل بیت کی دلیل ہے۔ ہمیں بھی اس حد تک ان سے اتفاق ہے کہ عوامی عرف کے پیش نظر "مطالبہ فدک" میں یہی مضمون مزید بہتر انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا۔جیسا کہ "مشکلات الحدیث" میں غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی نے کی
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ا ہے جس کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد سے مختلف قرار دیتے ہوئے اجتہاد صدیقی کو "بہتر" قرار دیا ہے۔
غزالی زماں کے اقتباس کی تشریح کی جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ "قضیہ فدک" میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہی مبنی بر صواب تھا۔لیکن آپ نے عرف کے پیش نظر ان لفظوں سے پرہیز کیا جن سے رافضی اور رافضی نواز اہل سنت کو ورغلا سکتے تھے جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔
طبقہ دوم نے "نسبت خطا" کو سیدہ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز اختیار کیا ہوا ہے۔جذباتیت کی طغیانی میں وہ مسلسل اس بات کو دُہرا رہے ہیں کہ سیدہ کی جانب خطا کا اطلاق کسی طور پر جائز نہیں ہے ایسا کرنا ناصبیت اور بدبختی کی نشانی ہے۔
ان حضرات کے جذباتی رد عمل سے ایکبارگی تو اہل بیت کے تئیں ان کی محبت ظاہر ہوتی ہے لیکن معاملے کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے کہ ان "جذباتی دیوانوں" میں وہ "روشن خیال" بھی مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں جو سیدہ فاطمہ کے بابا سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں کی جانے والی صریح گستاخیوں پر نہ صرف پہلو بدلتے ہیں بلکہ گستاخوں کو شرعی حکم سے بچانے کے لیے تاویلات فاسدہ سے بھی کام لیتے ہیں۔
ایک طرف یہ "جذباتی دیوانے" سیدہ کی جناب میں "خطائے اجتہادی" کا جملہ استعمال کرنے والے کو اہل سنت سے خارج کرنے کی مہم چلا رہے ہیں تو دوسری جانب آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں صریح گستاخیاں کرنے والوں، گستاخیوں کی اشاعت،وکالت اور تبلیغ کرنے والوں سے یاریاں نبھاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ نظر آتے ہیں۔آخر یہ دو رنگی کیوں؟
سیدہ فاطمہ سے محبت کا دعوی تو سیدہ کے بابا کے دشمنوں سے یارانہ کیسا؟
طبقہ ثانی میں وہ افراد بھی ہیں جو "روشن خیال دیوانوں" سے مزاجاً الگ ہیں اور وہ "نسبت خطا" کو محض بے ادبی تسلیم کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لفظ خطا مطلقاً بولا گیا ہے اور مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے۔اس تشریح کے مطابق خطا سے خطائے معصیت کا ماننا لازم آتا ہے جو یقیناً سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کی جناب میں شدید گستاخی ہے۔
اپنے فہم کے مطابق ان حضرات کا استدلال درست اور بجا ہے لیکن جلالی صاحب پر اس کا انطباق اس لیے درست نہیں ہے کیوں کہ وہ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ان کی مراد "خطائے اجتہادی" ہے جو نہ گناہ ہے نہ بے ادبی، بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔تو جو چیز باعث اجر ہو اسے کسی معظم شخصیت کی جانب منسوب کرنا ہرگز ہرگز بے ادبی اور گستاخی نہیں ہے۔
کسی قول کی اصل مراد قائل ہی بیان کر سکتا ہے جب قائل اپنی مراد ظاہر کر چکا تو خود سے اس قول کی مراد متعین کرنا علمی اصولوں کے خلاف ہے،اگر جملے میں کوئی متحمل لفظ موجود ہو تب بھی قائل کو دیکھا جائے گا کہ وہ کس سوچ وفکر کا حامل ہے،اعلی حضرت فرماتے ہیں:
"بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ۔
"ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہے۔"(فتاوی رضویہ ج:29/ص35)

اقتباس بالا کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہاں لفظ "خطا" کے قائل علامہ اشرف آصف جلالی ہیں،جن کی فکر ونظر محتاج تعارف نہیں ہے۔
🔸موصوف بلاشبہ اہل سنت کے نامور محقق،اور متصلب عالم دین ہیں۔
🔸"توحید سیمینار" میں آپ کے تحقیقی خطابات اور تصنیفات بہترین علمی سرمایہ ہیں۔
🔸مذکورہ جملہ بھی"شان مولی علی سیمینار" میں ادا کیا گیا۔(ذرا سوچیں!جو شخص مولی علی کی عظمت بیان کرنے بیٹھا ہو،کیا وہ بانوئے مرتضیٰ کی توہین کرے گا؟)
🔸ماقبل کے جملے میں سیدہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا:
"اہل بیت سے خطا کا امکان تو ہے لیکن رب نے حفاظت فرما دی ہے۔"
🔸مذکورہ جملے کے فوراً بعد "سیدہ کی عظمت " کا بیان کیا۔
🔸عقائد اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں موصوف کی قابل قدر خدمات ہیں۔
🔸روافض کے رد میں "عدالت صدیق اکبر،عظمت صحابہ" جیسے کئی اہم سیمینار منعقد کرکے سیکڑوں گھنٹوں پر مشتمل کئی تحقیقی خطاب فرما چکے ہیں۔
عقائد اہل سنت کی حفاظت اور بدعقیدوں کی تردید میں آپ کا نام مشعل راہ ہے۔ایسی پاک فکر ونظر اور خدمات کا وسیع دائرہ رکھنے والے عالم دین پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی کا الزام لگانا علمی دیانت اور انصاف کا خون کرنا ہے۔جس شخص کی پوری زندگی دفاع صحابہ اور عظمت اہل بیت میں گزر رہی ہے، اسے بے ادب قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟

21 ذوالقعدہ 1441ھ
13 جولائی 2020 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم…
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!

مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے دادا تین بھائی تھے! ❶ عبد الرؤوف خاں ❷ نواب خاں عرف کھنڈارا ❸ اصغر خاں عرف سیٹھ ≣ عبد الرؤوف خاں کے تین بیٹے تھے ❶ عبد الواحد خاں ❷ شمشیر خاں ❸ عبد الرحمٰن خاں عرف ٹھیکیدار خاں ≣ نواب خاں عرف کھنڈارا کے ایک بیٹے کُٹُّوۡ خاں تھے! - اور اصغر خاں سے کوئی اولاد نہیں! ≣ عبد الواحد خاں سے تین بیٹے ❶ بھوجنگی خاں ❷ مسلم خاں ❸ مولانا اسلام خان مصباحی ≣ شمشیر خاں اور عبد الرحمٰن خاں سے کوئی اولاد نہیں - اس حساب سے کٹو خاں مولانا اسلام خان مصباحی کے چچا ہوئے!

کُٹُّوۡ خاں کے اِنتقال کے بعد کٹو خاں کی بیوی نے ۸۹۹۱؁ء میں اپنا گھر ۲۷×۱۵ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے بیچ کر اپنے میکے چلی گئیں! بیع نامہ بھی ہو گیا تھا -

پھر کچھ دِنوں کے بعد بھوجنگی خاں ابن عبد الواحد خاں نے خریدنے والوں سے کہا کہ یہ گھر ہمارے چچا کا ہے اور ہمارے گھر سے مِلا ہوا ہے! لہٰذا آپ لوگ یہ گھر مجھ سے بیچ دو! گاؤں محلہ کے لوگوں نے بھی کہا کہ ہاں بھائی دے دو -

تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ یہ گھر خریدنے میں اور بیع نامہ و پولیس کیس میں ہم لوگوں کا تقریباً بائیس ہزار روپیہ خرچہ ہوا ہے! لہٰذا آپ ہمیں دے دیں اور یہ گھر لے لیں - بھوجنگی خاں نے بائیس ہزار روپیہ دے کر گھر خرید لیا اور پنچ نامہ بھی لکھوا لیا تھا - پنچ نامہ لکھتے وقت بیع نامہ کا کاغذ موجود تھا -

بیع نامہ میں ایک کمرہ 27×15 صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے - ساتھ ہی ساتھ چَوۡہَدِّیۡ بھی لکھا ہوا ہے! چوہدی میں پچھم کی طرف کنواں لکھا ہے!

کٹو خاں اور مولانا اسلام خان مصباحی کے گھر کے پچھم کی طرف مولانا اسلام خان مصباحی کے پَر دادا جو چھہ بھائی تھے ان چھہ بھائیوں کی طرف سے تعزیہ اور مجلس کے لئے خالی جگہ چھوڑا گیا تھا - اس خالی جگہ کے پچھم کی طرف سڑک ہے اور سڑک کے بعد کنواں ہے -

اب مولانا اسلام خان مصباحی وہ خالی جگہ جو تعزیہ اور مجلس کے لئے چھوڑا گیا تھا اس پر قبضہ کر رہے ہیں تو بقیہ پانچ بھائیوں کی اولادوں نے کہا کہ یہ خالی جگہ ہم سب کے داداؤں نے چھوڑا تھا لہٰذا اس میں ہم سب کا حصہ ہے - تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ منگرے خاں نے یہ خالی جگہ بھی بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے ہمارے پاس پنچ نامہ لکھا ہوا موجود ہے اس میں لکھا ہے کہ پچھم کی طرف کنواں ہے لہٰذا کنواں تک ہمارا ہی حصہ ہے - مولانا مبارک خان مصباحی اور مولانا ہارون خان علیمی نے بھی کہا کہ ہاں آپ لوگوں کا حصہ منگرے خاں نے بیچ دیا تھا آپ لوگ اپنا حصہ منگرے خاں سے لیجئے - اس وقت وہاں گاؤں محلہ کے تقریباً دو ڈھائی درجن لوگ موجود تھے!

شام کو پولیس آئی تو عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے کہا کہ ہم دونوں لوگوں نے ساجھے میں صرف گھر خریدا تھا اور گھر ہی بیچا تھا - خالی جگہ نہ ہم نے خریدا تھا اور نہ ہی بیچا تھا - اور پچھم کی طرف جو کنواں لکھا ہے وہ چوہدی کے طور پر لکھا گیا تھا - اور چوہدی ہمیشہ لکھا جاتا ہے خواہ کم جگہ خریدو یا زیادہ - اور اس وقت کے ناپنے والے لکھنے والے اور گواہ ابھی بھی زندہ ہیں ان سے بھی پوچھ سکتے ہیں!

پھر دوسرے دِن محلہ اور گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ آپ سب کے جو دادا پر دادا تھے وہ کُل چھہ بھائی تھے اور یہی اصل گھر ہے - لہٰذا تعزیہ اور مجلس کے لئے جو جگہ چھوڑا گیا تھا اس کو چھوڑ کر بقیہ جگہ پھر سے ناپ کر اسے ایک بٹا چھہ کر لیجئے - سب لوگوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے! - تو تعزیہ اور مجلس والی خالی جگہ چھوڑ کر ناپنے کے بعد ایک بٹا چھہ کیا گیا تو ایک حصہ پر چار بِسۡوَانۡسِیۡ کم چار بِسوا آیا - مولانا اسلام خان مصباحی کا گھر ناپا گیا تو چار بِسوا نکلا - تو لوگوں نے کہا کہ آپ اور کٹو کے دادا پَر دادا ایک ہی ہیں لہٰذا آپ کو ایک بٹا چھہ میں سے ایک حصہ مل گیا - اور آپ کا چار بِسوانسی زیادہ بھی ہے - لہٰذا آپ خالی جگہ پر قبضہ نہ کریں کیونکہ اس میں سب کا حصہ ہے - اگر عبد المنان خاں اور منگرے خاں نے آپ سے زیادہ جگہ بیچا ہے تو آپ عبد المنان خاں اور منگرے خاں سے لیجئے -

تو مولانا اسلام خان مصباحی نے کہا کہ ہم منگرے خاں پر کیس کرینگے کورٹ جائینگے مقدمہ دائر کرینگے! ہم شریعت پر چلتے ہیں!

لہٰذا عرض یہ ہے کہ جب دو لوگوں (عبد المنان خاں اور منگرے خاں) نے مِل کر ساجھے میں ایک گھر ۲۷×۱۵ خریدا تھا اور اسی گھر کو دونوں لوگوں نے بھوجنگی خاں سے بیچ دیا تھا - تو اب ان تینوں مولانا صاحبان کا صرف منگرے خاں پر جھوٹا الزام لگانا کیسا ہے؟ کیا یہ شرعی گواہ اور امامت کے قابل ہیں یا نہیں؟ حکم شرع بیان فرما دیں! جَزَاكَ اللہُ تَعَالیٰ خَیۡراً فِی الدَّارَیۡنۡ

المستفتی : منگرے خاں ابن ابراہیم خاں
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا پوسٹ گوٹٹی ضلع بہرائچ شریف یو پی الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے دادا تین بھائی تھے! ❶ عبد الرؤوف خاں ❷ نواب خاں عرف کھنڈارا ❸ اصغر خاں عرف سیٹھ…
متروکہ زمین پر قبضہ کا حکم!!!

مولانا اسلام خان مصباحی
مولانا مبارک خان مصباحی
مولانا ہارون خان علیمی کا
منگرے خاں پر جھوٹا الزام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
#مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالوی‌صَاحَبۡ‌دَامَتۡ‌بَرَکَاتُہُم‌ُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ
ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡᵁᴾ الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مقبوضہ_زمین_بہرائچ_شریف_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
متروکہ_زمین_پر_قبضہ_کا_حکم_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
493.3 KB
مسئلہ متروکہ زمین بہرائچ شریف
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
#مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالوی‌صَاحَبۡ‌دَامَتۡ‌بَرَکَاتُہُم‌ُالۡعَالِیَہۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM