ایک ، ڈیڑھ تولہ سونا مِلکیت
میں ہو تو قربانی کا کیا حکم ؟
اور قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
میں ہو تو قربانی کا کیا حکم ؟
اور قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
جانور کا سینگ ٹوٹ گیا اور
زخم بھر گیا تو قربانی کا حکم
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
زخم بھر گیا تو قربانی کا حکم
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
قربانی کے جانور کی دُم کٹنے
میں بال شامل ہوں گے یا نہیں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
میں بال شامل ہوں گے یا نہیں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
ساڑھے سات تولے سے کم سونا
ہو تو قربانی کا کیا حکم ہوگا ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
ہو تو قربانی کا کیا حکم ہوگا ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں فرق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
اور زکوٰۃ و قربانی کے
نصاب میں کیا فرق کیا ہے ؟
سائل : عبدالقدیر جلالی
(شادی پورہ، مرکز الالیاء ، لاہور )
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوۡنِ الۡمَلِکِ الۡوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الحَقِّ وَالصَّوَابِ
ضروریات زندگی سے زائد ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی مالیت کے برابر کسی بھی سامان ، زمین ، دوکان یا پیسوں کا مالک ہونا وجوب قربانی کا نصاب ہے!
زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں دو فرق ہیں قربانی کے نصاب میں مال نامی ہونا اور سال گزرنا شرط نہیں ہے جبکہ زکوٰۃ میں یہ دونوں شرطیں ہیں!
وَاللہُ اَعۡلَمُ ﷻ وَ رَسُولُہٗ اَعۡلَمۡ ﷺ
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست ۸۱۰۲ء ذوالحجة الحرام ۱۴۳۹ھ (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا نصاب کیا ہے ؟
اور زکوٰۃ و قربانی کے
نصاب میں کیا فرق کیا ہے ؟
سائل : عبدالقدیر جلالی
(شادی پورہ، مرکز الالیاء ، لاہور )
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوۡنِ الۡمَلِکِ الۡوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الحَقِّ وَالصَّوَابِ
ضروریات زندگی سے زائد ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی مالیت کے برابر کسی بھی سامان ، زمین ، دوکان یا پیسوں کا مالک ہونا وجوب قربانی کا نصاب ہے!
زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں دو فرق ہیں قربانی کے نصاب میں مال نامی ہونا اور سال گزرنا شرط نہیں ہے جبکہ زکوٰۃ میں یہ دونوں شرطیں ہیں!
وَاللہُ اَعۡلَمُ ﷻ وَ رَسُولُہٗ اَعۡلَمۡ ﷺ
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست ۸۱۰۲ء ذوالحجة الحرام ۱۴۳۹ھ (دعوت اسلامی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قربانی کے ممنوع اعضاء
گوشت کے بائیس اجزاء
ایسے ہیں جن کا کھانا منع ہے!
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
گوشت کے بائیس اجزاء
ایسے ہیں جن کا کھانا منع ہے!
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
گوشت کے ²² اعضاء اجزا
جو نہیں کھائے جاتے!!
اِس کو کهانے سے خود بچیں!
اور اپنے مسلمان بھائی کو بچائیں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ فرماتے ہیں : حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں!
ابلق گھوڑے سوار مکتبۃ المدینہ
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ابلق گھوڑے سوار مکتبۃ المدینہ
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
جو نہیں کھائے جاتے!!
اِس کو کهانے سے خود بچیں!
اور اپنے مسلمان بھائی کو بچائیں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ فرماتے ہیں : حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں!
ابلق گھوڑے سوار مکتبۃ المدینہ
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ابلق گھوڑے سوار مکتبۃ المدینہ
فتاویٰ رضویہ جِلد²⁰ صفحہ²⁴⁰
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💐 شرعی عدالت (فقہی فہرست: سوم)
صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں.
💥⚡️ مسائل قربانی ⚡️💥
⚡️ کتنی مالیت ہو تو قربانی واجب
⚡️ کس پر واجب ہے؟
⚡️ قرض لے کر قربانی کرنا
⚡️ زمین ہو نقدی نہ ہو تو واجب؟
⚡️ قربانی کے جانور میں عقیقہ کرنا
⚡️ بیمار کا ایام نحر سے قبل ذبح
⚡️ مالک نصاب کی طرف سے قربانی
💥 قربانی کے جانور کا بیان
⚡️ بھینس کی قربانی کا حکم
⚡️ حاملہ جانور کی قربانی
⚡️ جس جانور نے کتیا کا پیا ہو
⚡️ وقت ذبح ولدیت میں نام کسکا
💥 جانور کے عیوب کا بیان
⚡️ جس جانور کو کتا کاٹ لے
⚡️ جانور جو لنگڑا ہو
💥 جانور میں شرکت کا بیان
⚡️ ایک حصہ نبی ﷺ کے نام ہوتو؟
💥 گوشت اور اعضاء اور تقسیم
⚡️ کافر کو قربانی کا گوشت دینا
⚡️ کن اعضاء کا کھانا ممنوع ہے؟
⚡️ کافر کو اوجھڑی دینا؟
⚡️ اوجھڑی کھانا مکروہ ہے.
💥 حج کی قربانی کا بیان
صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں.
💥⚡️ مسائل قربانی ⚡️💥
⚡️ کتنی مالیت ہو تو قربانی واجب
⚡️ کس پر واجب ہے؟
⚡️ قرض لے کر قربانی کرنا
⚡️ زمین ہو نقدی نہ ہو تو واجب؟
⚡️ قربانی کے جانور میں عقیقہ کرنا
⚡️ بیمار کا ایام نحر سے قبل ذبح
⚡️ مالک نصاب کی طرف سے قربانی
💥 قربانی کے جانور کا بیان
⚡️ بھینس کی قربانی کا حکم
⚡️ حاملہ جانور کی قربانی
⚡️ جس جانور نے کتیا کا پیا ہو
⚡️ وقت ذبح ولدیت میں نام کسکا
💥 جانور کے عیوب کا بیان
⚡️ جس جانور کو کتا کاٹ لے
⚡️ جانور جو لنگڑا ہو
💥 جانور میں شرکت کا بیان
⚡️ ایک حصہ نبی ﷺ کے نام ہوتو؟
💥 گوشت اور اعضاء اور تقسیم
⚡️ کافر کو قربانی کا گوشت دینا
⚡️ کن اعضاء کا کھانا ممنوع ہے؟
⚡️ کافر کو اوجھڑی دینا؟
⚡️ اوجھڑی کھانا مکروہ ہے.
💥 حج کی قربانی کا بیان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ہم 4 شادی پر کب تک لکھیں گے؟
ہم اس وقت تک اس ٹاپک پر لکھیں گے جب تک یہ (Common) عام نہ ہو جائے۔
یوں سمجھیں کہ ایک عرصے پہلے جب کہیں کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوتا تھا تو سن کر بڑا عجیب لگتا تھا اورایک ہنگامہ سا ہو جاتا تھا لوگ ہر طرف باتیں کرتے ہوئے حیران نظر آتے تھے اور جب عورتوں نے کپڑے کم کر دیے، ہم نے نکاح مشکل کر دیا اور ساتھ میں پڑھنے لکھنے جاب کرنے کا (System) نظام عام ہوا تو پھر یہ کیسس (Cases) اتنے بڑھ گئے کہ اب آئے دن نیوز میں ایسے کئی Cases کے بارے میں دکھایا جاتا ہے پر اب سن کر وہ محسوس نہیں ہوتا جو پہلے ہوتا تھا کیونکہ اب یہ بہت زیادہ عام ہو گیا بلکہ رضا مندی کے ساتھ تو اسے غلط بھی نہیں سمجھتے کچھ لوگ۔
اسی طرح 4 شادی والا معاملہ ہے ایک عرصے سے اس پر زیادہ بات نہیں ہوئی زیادہ لکھا نہیں گیا اور عمل بھی نہیں تو اب اچانک یہ لوگوں کو عجیب لگ رہا ہے جبکہ یہ صحیح ہے۔ اب جب ہم اس پر لگاتار کام کریں گے تو کچھ لوگ ضرور سمجھیں گے اور آنے والی نسلوں میں زیادہ تبدیلی آئے گی۔
اگر ایک لڑکی اپنے والد کی 4 بیویاں دیکھے، اپنے بھائی کی ایک سے زیادہ بیویاں دیکھے اور رشتہ داروں میں بھی ایسا ہی نظر آئے تو اسے بھی بڑے ہو کر کسی کی دوسری یا تیسری بیوی بننے میں برا نہیں لگے گا بس ضروری ہے کہ اس ماحول میں بڑا کیا جائے۔
ہم یہ ماحول بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے ہر جگہ سے کچھ لوگ مل کر آپس میں ہی آغاز کریں تو کام ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالٰی ہمیں اس سنت کو پھر سے زندہ کرنے کی توفیق دے
عبد مصطفی
ہم اس وقت تک اس ٹاپک پر لکھیں گے جب تک یہ (Common) عام نہ ہو جائے۔
یوں سمجھیں کہ ایک عرصے پہلے جب کہیں کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوتا تھا تو سن کر بڑا عجیب لگتا تھا اورایک ہنگامہ سا ہو جاتا تھا لوگ ہر طرف باتیں کرتے ہوئے حیران نظر آتے تھے اور جب عورتوں نے کپڑے کم کر دیے، ہم نے نکاح مشکل کر دیا اور ساتھ میں پڑھنے لکھنے جاب کرنے کا (System) نظام عام ہوا تو پھر یہ کیسس (Cases) اتنے بڑھ گئے کہ اب آئے دن نیوز میں ایسے کئی Cases کے بارے میں دکھایا جاتا ہے پر اب سن کر وہ محسوس نہیں ہوتا جو پہلے ہوتا تھا کیونکہ اب یہ بہت زیادہ عام ہو گیا بلکہ رضا مندی کے ساتھ تو اسے غلط بھی نہیں سمجھتے کچھ لوگ۔
اسی طرح 4 شادی والا معاملہ ہے ایک عرصے سے اس پر زیادہ بات نہیں ہوئی زیادہ لکھا نہیں گیا اور عمل بھی نہیں تو اب اچانک یہ لوگوں کو عجیب لگ رہا ہے جبکہ یہ صحیح ہے۔ اب جب ہم اس پر لگاتار کام کریں گے تو کچھ لوگ ضرور سمجھیں گے اور آنے والی نسلوں میں زیادہ تبدیلی آئے گی۔
اگر ایک لڑکی اپنے والد کی 4 بیویاں دیکھے، اپنے بھائی کی ایک سے زیادہ بیویاں دیکھے اور رشتہ داروں میں بھی ایسا ہی نظر آئے تو اسے بھی بڑے ہو کر کسی کی دوسری یا تیسری بیوی بننے میں برا نہیں لگے گا بس ضروری ہے کہ اس ماحول میں بڑا کیا جائے۔
ہم یہ ماحول بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے ہر جگہ سے کچھ لوگ مل کر آپس میں ہی آغاز کریں تو کام ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالٰی ہمیں اس سنت کو پھر سے زندہ کرنے کی توفیق دے
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*محدثین کا اکابرین کی کتب میں کسی حدیث کا حوالہ نہ ملنے پر ادب کا ایک انداز ؟؟؟*
سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
*امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمہ* نے جن کی جلالت قدر آفتاب نیمروز سے اظہر جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکر کیں نہ پائیں یوں فرمایا کہ:
*لعل قصور نظرنا اخفاھا عنا۔*
امید ہے کہ ہماری نظر کے قصور نے انھیں ہم سے چھپالیا۔
(فقیر کو فتح القدیر میں یہ عبارت یوں ملی۔۔ غیر ان قصور نظرنا اخفاھا عنا۔ جلد 1 صفحہ 106۔۔۔ بحرالرائق اور غنية المتملي میں بھی فتح القدیر کی عبارت انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ شاید یہی عبارت کسی اور مقام پر ہو۔۔۔)
*امام سیوطی علیہ الرحمہ جیسی شخصیت جن کو خاتم الحفاظ کہا جاتا ہے۔۔۔*
حدیث *اختلاف امتی رحمۃ*
(میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔)
( الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)
کو اپنی کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:
*لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا*
شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تک نہ پہنچیں۔
(الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)
یہ وہ امام ہیں کہ فن حدیث میں جن کے بعد ان کا نظیر نہ آیا۔ وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ *شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔*
*قال امام احمد رضا عليه الرحمة*
و قد جربت مثله كثيرا على هذا الإمام (السيوطي) فى كثير من تصانيفه الشريفة كالجوامع الثلثة والخصائص الكبري و غيرها و كان مقصوده رحمه الله تعالى ان يجمع لامثالنا القاصرين ما قلما تصل اليه ايدينا *فان اقتصر على ما أفادوا ذهلنا عن المتداولات فالقصور منا لا منه رحمه الله تعالى.*
(الحق المجتلي في حكم المبتلي صفحه ٥)
بغور پڑھ لیجئے۔۔۔۔فالقصور منا لا منہ
یہ ہمارا قصور ہے ان کا نہیں۔۔۔
امام اہل سنت فرماتے ہیں: کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو؟___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواور تمھاری نظر سے غائب رہے؟__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں؟___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں _ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں؟_ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ..............اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔ خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پر عقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!_
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی۔
(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 49 اپلیکیشن ملتقطا۔۔۔مع تغییر و اضافہ)
ابو الحسن محمد شعیب خان
11 مارچ 2020
سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
*امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمہ* نے جن کی جلالت قدر آفتاب نیمروز سے اظہر جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکر کیں نہ پائیں یوں فرمایا کہ:
*لعل قصور نظرنا اخفاھا عنا۔*
امید ہے کہ ہماری نظر کے قصور نے انھیں ہم سے چھپالیا۔
(فقیر کو فتح القدیر میں یہ عبارت یوں ملی۔۔ غیر ان قصور نظرنا اخفاھا عنا۔ جلد 1 صفحہ 106۔۔۔ بحرالرائق اور غنية المتملي میں بھی فتح القدیر کی عبارت انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ شاید یہی عبارت کسی اور مقام پر ہو۔۔۔)
*امام سیوطی علیہ الرحمہ جیسی شخصیت جن کو خاتم الحفاظ کہا جاتا ہے۔۔۔*
حدیث *اختلاف امتی رحمۃ*
(میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔)
( الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)
کو اپنی کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:
*لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا*
شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تک نہ پہنچیں۔
(الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)
یہ وہ امام ہیں کہ فن حدیث میں جن کے بعد ان کا نظیر نہ آیا۔ وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ *شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔*
*قال امام احمد رضا عليه الرحمة*
و قد جربت مثله كثيرا على هذا الإمام (السيوطي) فى كثير من تصانيفه الشريفة كالجوامع الثلثة والخصائص الكبري و غيرها و كان مقصوده رحمه الله تعالى ان يجمع لامثالنا القاصرين ما قلما تصل اليه ايدينا *فان اقتصر على ما أفادوا ذهلنا عن المتداولات فالقصور منا لا منه رحمه الله تعالى.*
(الحق المجتلي في حكم المبتلي صفحه ٥)
بغور پڑھ لیجئے۔۔۔۔فالقصور منا لا منہ
یہ ہمارا قصور ہے ان کا نہیں۔۔۔
امام اہل سنت فرماتے ہیں: کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو؟___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواور تمھاری نظر سے غائب رہے؟__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں؟___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں _ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں؟_ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ..............اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔ خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پر عقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!_
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی۔
(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 49 اپلیکیشن ملتقطا۔۔۔مع تغییر و اضافہ)
ابو الحسن محمد شعیب خان
11 مارچ 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شمشیرِ رضا
بعض فروعی عقائد میں تقلید ہو سکتی ہے ،اِس بنا پر اہلِ سنّت میں دو گروہ ہیں:
(1): ’’ماتُرِیدیہ‘‘ کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے متّبع ہوئے. اور
(2): ’’اَشاعرہ‘‘ کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ ﷲ تعالیٰ کے تابع ہیں،
یہ دونوں جماعتیں اہلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے. اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اہلِ حق ہیں، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کر سکتا.
(ماخوذ از بہار شریعت، ج 1، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
والله اعلم بالصواب
(1): ’’ماتُرِیدیہ‘‘ کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے متّبع ہوئے. اور
(2): ’’اَشاعرہ‘‘ کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ ﷲ تعالیٰ کے تابع ہیں،
یہ دونوں جماعتیں اہلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے. اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اہلِ حق ہیں، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کر سکتا.
(ماخوذ از بہار شریعت، ج 1، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
والله اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
🌹چند ماہ پہلے ترکی کے صدر رجب طيب اردوگان نے ايک بہت بڑے مجمع ميں تقرير کرتے ہوئے ايک واقعہ سنايا، مجمع نے ٹکٹکی باندھے اسے سنا۔ شائقين کے ليے يو ٹيوب پر وہ تقرير موجود ہے۔ راقم السطور وہ واقعہ يہاں من وعن اردو ميں بيان کرنے کے بعد اس پر ايک مختصر تبصرہ پيش کرے گا۔ پہلے واقعہ پڑھيں:
ميں آپ لوگوں کو تاريخ کا ايک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔ بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا۔ اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکتبے اور محل ڈھا ديے۔
يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں۔ اسی ظالم حکم راں نے جو بہت دور سے آيا تھا ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہوگيا۔
(ميں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس واقعے کو بہت غور سے سيريس ہوکر سنيں)
🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏
ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہونچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلاگيا۔
ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟ کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔
تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟ نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا، اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نا فرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔
دنيا، مال ودولت اور زمين جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔ يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا، مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟ نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کرليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔
اور پھر وہی ہوا وقت نے ثابت کردیا
تبصرہ:
اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔
حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔ رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔
مسلمانوں کے ليے بھی اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے تنبيہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہوجائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گی۔.
منقول : محمد جنید مصباحی
🌹چند ماہ پہلے ترکی کے صدر رجب طيب اردوگان نے ايک بہت بڑے مجمع ميں تقرير کرتے ہوئے ايک واقعہ سنايا، مجمع نے ٹکٹکی باندھے اسے سنا۔ شائقين کے ليے يو ٹيوب پر وہ تقرير موجود ہے۔ راقم السطور وہ واقعہ يہاں من وعن اردو ميں بيان کرنے کے بعد اس پر ايک مختصر تبصرہ پيش کرے گا۔ پہلے واقعہ پڑھيں:
ميں آپ لوگوں کو تاريخ کا ايک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔ بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا۔ اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکتبے اور محل ڈھا ديے۔
يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں۔ اسی ظالم حکم راں نے جو بہت دور سے آيا تھا ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہوگيا۔
(ميں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس واقعے کو بہت غور سے سيريس ہوکر سنيں)
🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏
ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہونچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلاگيا۔
ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟ کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔
تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟ نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا، اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نا فرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔
دنيا، مال ودولت اور زمين جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔ يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا، مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟ نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کرليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔
اور پھر وہی ہوا وقت نے ثابت کردیا
تبصرہ:
اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔
حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔ رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔
مسلمانوں کے ليے بھی اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے تنبيہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہوجائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گی۔.
منقول : محمد جنید مصباحی