عید الاضحیٰ کے تعلق سے روشن
مستقبل کی عوامِ اہلسنت سے اپیل
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مستقبل کی عوامِ اہلسنت سے اپیل
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مقبوضہ_زمین_بہرائچ_شریف_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
📜 زمین پر ناجائز قبضہ 📜
انوار الحدیث 📖 صفحہ ³⁰⁷
✍ حضور فقیہ ملت حضرت
مفتی جلال الدین احمد امجدی
رَحۡــمَــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــلَــیۡـه
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
انوار الحدیث 📖 صفحہ ³⁰⁷
✍ حضور فقیہ ملت حضرت
مفتی جلال الدین احمد امجدی
رَحۡــمَــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــلَــیۡـه
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
لڑکی والوں سے ایک سوال
لڑکی والے مظلوم کہلاتے ہیں کہ ان سے جہیز اور نقدی کا مطالبہ کیا جاتا ہے پر آج ہم لڑکی والوں سے ایک ایسا سوال پوچھنے جا رہے ہیں کہ ان کی پول کھل جائے گی، دینداری ظاہر ہوجائے گی اور سب کو معلوم ہو جائے گا کہ کون دودھ کا دھلا ہوا ہے۔
معاف کیجیے گا ہمارے الفاظ اگرچہ درست نہ ہوں پر حقیقت تو حقیقت ہے!
سوال یہ ہے کہ آپ کی لڑکی کے لیے آپ کے سامنے دو رشتے ہیں :
پہلا ایک ایسا لڑکا جو دیندار ہے، پڑھا لکھا ہے، بیوی کے حقوق جانتا ہے، آپ سے نقدی نہیں لےگا، جہیز نہیں لے گا اور سنت کے مطابق نکاح کرے گا۔
دوسرا ایک ایسا لڑکا ہے جو نماز نہیں پڑھتا، داڑھی نہیں رکھتا، دیندار نہیں، بیوی کے حقوق کا پتا نہیں، عیش موج کی زندگی جینے والا اور آپ سے ایک لاکھ پلس+ لے گا، جہیز بھی لے گا اور باجے گاجے کے ساتھ آپ کی بینڈ بجا کر شادی کرے گا۔
اب آپ بتائیں کہ لڑکی کس کو دیں گے؟
رکیے رکیے جناب اتنی آسانی سے آپ جواب نہیں دے سکتے،
جواب دینے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ پہلا لڑکا شادی شدہ ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے یعنی ایک سے زیادہ بیویاں رکھ کر اسلاف کے طریقے پر چلنا چاہتا ہے اور دوسرا لڑکا کنوارا ہے تو اب آپ جواب دے سکتے ہیں کہ لڑکی کس کو دیں گے؟
اس کا جواب ہمیں یا کسی کو دینے کی ضرورت نہیں بس اپنے پاس رکھیں اور جان لیجیے کہ آپ کو اچھا لڑکا نہیں چاہیے بلکہ معاشرہ جسے اچھا سمجھتا ہے وہ چاہیے۔
آپ کسی شادی شدہ کو کنواری بیٹی دے دیں گے تو آپ کی ناک کٹ جائے گی لیکن اگر ایک فاسق کو دو لاکھ کی رشوت دے کر دیں گے تو سر بلند رہے گا۔
آپ اپنا سر بلند رکھیے، اپنی بیٹی کی آخرت کے بدلے میں یہ سودا شاید آپ کو بہت مہنگا پڑ گیا پر ہائے رے غفلت!
اب یہ آپ کس منھ سے کہیں گے کہ مجھ پر لڑکے والوں نے ظلم کیا ہے، آپ نے تو اس کے کنوارے پن (Virginity) کو خریدا ہے تو آپ کیسے مظلوم ہوئے؟
خیر جانے دیجیے ہم بہت زیادہ کہ گئے۔
ہماری باتوں میں آکر کچھ ایسا نہ کیجیے کہ لوگوں کے درمیان آپ کی ساکھ تباہ ہو جائے بلکہ وہی کیجیے جس سے لوگ راضی ہیں کیونکہ وہ آپ کا گھر چلا دیتے ہیں اور آپ کے لیے آخرت میں سفارش کریں گے؟
عبد مصطفی
لڑکی والے مظلوم کہلاتے ہیں کہ ان سے جہیز اور نقدی کا مطالبہ کیا جاتا ہے پر آج ہم لڑکی والوں سے ایک ایسا سوال پوچھنے جا رہے ہیں کہ ان کی پول کھل جائے گی، دینداری ظاہر ہوجائے گی اور سب کو معلوم ہو جائے گا کہ کون دودھ کا دھلا ہوا ہے۔
معاف کیجیے گا ہمارے الفاظ اگرچہ درست نہ ہوں پر حقیقت تو حقیقت ہے!
سوال یہ ہے کہ آپ کی لڑکی کے لیے آپ کے سامنے دو رشتے ہیں :
پہلا ایک ایسا لڑکا جو دیندار ہے، پڑھا لکھا ہے، بیوی کے حقوق جانتا ہے، آپ سے نقدی نہیں لےگا، جہیز نہیں لے گا اور سنت کے مطابق نکاح کرے گا۔
دوسرا ایک ایسا لڑکا ہے جو نماز نہیں پڑھتا، داڑھی نہیں رکھتا، دیندار نہیں، بیوی کے حقوق کا پتا نہیں، عیش موج کی زندگی جینے والا اور آپ سے ایک لاکھ پلس+ لے گا، جہیز بھی لے گا اور باجے گاجے کے ساتھ آپ کی بینڈ بجا کر شادی کرے گا۔
اب آپ بتائیں کہ لڑکی کس کو دیں گے؟
رکیے رکیے جناب اتنی آسانی سے آپ جواب نہیں دے سکتے،
جواب دینے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ پہلا لڑکا شادی شدہ ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے یعنی ایک سے زیادہ بیویاں رکھ کر اسلاف کے طریقے پر چلنا چاہتا ہے اور دوسرا لڑکا کنوارا ہے تو اب آپ جواب دے سکتے ہیں کہ لڑکی کس کو دیں گے؟
اس کا جواب ہمیں یا کسی کو دینے کی ضرورت نہیں بس اپنے پاس رکھیں اور جان لیجیے کہ آپ کو اچھا لڑکا نہیں چاہیے بلکہ معاشرہ جسے اچھا سمجھتا ہے وہ چاہیے۔
آپ کسی شادی شدہ کو کنواری بیٹی دے دیں گے تو آپ کی ناک کٹ جائے گی لیکن اگر ایک فاسق کو دو لاکھ کی رشوت دے کر دیں گے تو سر بلند رہے گا۔
آپ اپنا سر بلند رکھیے، اپنی بیٹی کی آخرت کے بدلے میں یہ سودا شاید آپ کو بہت مہنگا پڑ گیا پر ہائے رے غفلت!
اب یہ آپ کس منھ سے کہیں گے کہ مجھ پر لڑکے والوں نے ظلم کیا ہے، آپ نے تو اس کے کنوارے پن (Virginity) کو خریدا ہے تو آپ کیسے مظلوم ہوئے؟
خیر جانے دیجیے ہم بہت زیادہ کہ گئے۔
ہماری باتوں میں آکر کچھ ایسا نہ کیجیے کہ لوگوں کے درمیان آپ کی ساکھ تباہ ہو جائے بلکہ وہی کیجیے جس سے لوگ راضی ہیں کیونکہ وہ آپ کا گھر چلا دیتے ہیں اور آپ کے لیے آخرت میں سفارش کریں گے؟
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چار بیویاں اور حقوق
جب بھی ہم چار بیویاں رکھنے کی بات کرتے ہیں تو سب سے زیادہ جو لفظ سننے کو ملتا ہے وہ ہے "حقوق" (یعنی عورت کا حق، اس کے رائٹس)
ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت کے حقوق ادا کرنا ضروری ہے پر مرد کے حقوق (رائٹس) کا کیا؟ کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں؟ کیا وہ صرف بیوی کے منع کرنے کی وجہ سے دوسری شادی کرنے سے رک جائیں؟
عورت کے حقوق کی 2 طرح کی فہرست (لسٹ) ہے، ایک وہ جو شریعت کی طرف سے ہے، ایک وہ جو معاشرے نے بنا رکھی ہے۔
معاشرے کی بنائی گئی لسٹ ناجائز خواہشات اور فضول خرچوں پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب "ایک کو سنبھالنا مشکل پڑ رہا ہے"
اب جو فہرست شریعت نے بنائی ہے اس کے مطابق 4 بیویوں کے ساتھ 4 باندیوں کا خرچ بھی آرام سے اٹھایا جا سکتا ہے ۔
ہر شخص نہیں پر کئی لوگ آسانی سے 4 بیویوں کے حقوق ادا کر سکتے ہیں۔
ابھی تو عورتوں کے مطابق کوئی مرد ہی نہیں بچا جو 4 بیویوں کے حقوق ادا کر سکے اور یہ ایک بڑا والا اور سفید جھوٹ ہے ۔
ہم کہیں کہ شریعت کی بنائی ہوئی فہرست کے مطابق بیوی کے بیمار پڑنے پر اس کا علاج کروانا بھی واجب نہیں تو کئی لوگوں کو ہضم نہیں ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اخلاقی طور پر علاج کروانا چاہیے پر مقصد یہ بتانا ہے کہ ضروری کیا ہے اسے سمجھیں ۔
بس حقوق حقوق کی رٹ لگا کر اپنی مرضی نہ چلائیں بلکہ یہ سمجھیں کہ شوہر پر واجب کیا ہے اور وہ اس سے زیادہ بطور احسان کیا کیا مجھے دے رہا ہے ۔
جس کے پاس ہزاروں ہیں وہ بھی 4 بیوی کا نام نہیں لے سکتا اور جس کے پاس لاکھوں ہیں اس کے اپنے الگ بڑے مسائل ہیں تو پھر کیا ہم بھی عورتوں کے اسی جھوٹ کو تسلیم کر لیں کہ اب حقوق ادا نہیں ہو سکتے یا پھر یہ دیکھیں کہ اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے ۔
حقوق کا مسئلہ بڑا ہے پر اتنا بڑا نہیں جتنا حد سے بڑھ کر بنا دیا گیا ہے ۔
عبد مصطفی
جب بھی ہم چار بیویاں رکھنے کی بات کرتے ہیں تو سب سے زیادہ جو لفظ سننے کو ملتا ہے وہ ہے "حقوق" (یعنی عورت کا حق، اس کے رائٹس)
ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت کے حقوق ادا کرنا ضروری ہے پر مرد کے حقوق (رائٹس) کا کیا؟ کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں؟ کیا وہ صرف بیوی کے منع کرنے کی وجہ سے دوسری شادی کرنے سے رک جائیں؟
عورت کے حقوق کی 2 طرح کی فہرست (لسٹ) ہے، ایک وہ جو شریعت کی طرف سے ہے، ایک وہ جو معاشرے نے بنا رکھی ہے۔
معاشرے کی بنائی گئی لسٹ ناجائز خواہشات اور فضول خرچوں پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب "ایک کو سنبھالنا مشکل پڑ رہا ہے"
اب جو فہرست شریعت نے بنائی ہے اس کے مطابق 4 بیویوں کے ساتھ 4 باندیوں کا خرچ بھی آرام سے اٹھایا جا سکتا ہے ۔
ہر شخص نہیں پر کئی لوگ آسانی سے 4 بیویوں کے حقوق ادا کر سکتے ہیں۔
ابھی تو عورتوں کے مطابق کوئی مرد ہی نہیں بچا جو 4 بیویوں کے حقوق ادا کر سکے اور یہ ایک بڑا والا اور سفید جھوٹ ہے ۔
ہم کہیں کہ شریعت کی بنائی ہوئی فہرست کے مطابق بیوی کے بیمار پڑنے پر اس کا علاج کروانا بھی واجب نہیں تو کئی لوگوں کو ہضم نہیں ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اخلاقی طور پر علاج کروانا چاہیے پر مقصد یہ بتانا ہے کہ ضروری کیا ہے اسے سمجھیں ۔
بس حقوق حقوق کی رٹ لگا کر اپنی مرضی نہ چلائیں بلکہ یہ سمجھیں کہ شوہر پر واجب کیا ہے اور وہ اس سے زیادہ بطور احسان کیا کیا مجھے دے رہا ہے ۔
جس کے پاس ہزاروں ہیں وہ بھی 4 بیوی کا نام نہیں لے سکتا اور جس کے پاس لاکھوں ہیں اس کے اپنے الگ بڑے مسائل ہیں تو پھر کیا ہم بھی عورتوں کے اسی جھوٹ کو تسلیم کر لیں کہ اب حقوق ادا نہیں ہو سکتے یا پھر یہ دیکھیں کہ اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے ۔
حقوق کا مسئلہ بڑا ہے پر اتنا بڑا نہیں جتنا حد سے بڑھ کر بنا دیا گیا ہے ۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
کسی سے پیار ہو تو اللہ کے لیے اور کسی سے نفرت ہو تو بھی اللہ کے لیے۔
یہ دین نہیں کہ ہر ایک سے پیار کیا جائے یا ہر ایک سے نفرت کی جائے۔
محدث اعظم پاکستان، علامہ سردار احمد قادری رحمہ اللہ تعالی سے ایک شیعہ افسر ملنے کے لیے آیا۔
اس نے جب ہاتھ ملانا چاہا تو آپ نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ پیچھے کر لیا کہ میرے دل میں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی محبت کی شمع روشن ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ اس شمع کی لَو ماند نہ پڑ جائے۔
اسی طرح ایک بار سفر میں ایک مشہور خطیب سے سامنا ہو گیا تو وہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔
آپ نے پہلے پوچھا کہ دیوبندیوں کی گستاخی بھری عبارات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
اس نے کہا کہ میں مناظرہ کرنے کے لیے نہیں بس ملاقات کے لیے آیا ہوں۔
آپ نے فرمایا جب تک ان عبارات کا تصفیہ نہیں ہو جاتا، میں ملاقات نہیں کر سکتا۔
(عظمتوں کے پاسبان)
یہ ہوتا ہے دین، جی یہی ہے دین؛ جو رو رو کر آپ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں ان سے دور رہیں، ان کے مکرو فریب سے بچیں۔ وہ آپ کو توحید نہیں بلکہ کفر کی طرف لے جا رہے ہیں۔ توحید تو یہ ہے کہ :
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کَہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
عبد مصطفی
کسی سے پیار ہو تو اللہ کے لیے اور کسی سے نفرت ہو تو بھی اللہ کے لیے۔
یہ دین نہیں کہ ہر ایک سے پیار کیا جائے یا ہر ایک سے نفرت کی جائے۔
محدث اعظم پاکستان، علامہ سردار احمد قادری رحمہ اللہ تعالی سے ایک شیعہ افسر ملنے کے لیے آیا۔
اس نے جب ہاتھ ملانا چاہا تو آپ نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ پیچھے کر لیا کہ میرے دل میں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی محبت کی شمع روشن ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ اس شمع کی لَو ماند نہ پڑ جائے۔
اسی طرح ایک بار سفر میں ایک مشہور خطیب سے سامنا ہو گیا تو وہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔
آپ نے پہلے پوچھا کہ دیوبندیوں کی گستاخی بھری عبارات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
اس نے کہا کہ میں مناظرہ کرنے کے لیے نہیں بس ملاقات کے لیے آیا ہوں۔
آپ نے فرمایا جب تک ان عبارات کا تصفیہ نہیں ہو جاتا، میں ملاقات نہیں کر سکتا۔
(عظمتوں کے پاسبان)
یہ ہوتا ہے دین، جی یہی ہے دین؛ جو رو رو کر آپ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں ان سے دور رہیں، ان کے مکرو فریب سے بچیں۔ وہ آپ کو توحید نہیں بلکہ کفر کی طرف لے جا رہے ہیں۔ توحید تو یہ ہے کہ :
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کَہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥آج کے دور میں قربانی کس کس پر واجب ہے 💥
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ قربانی واجب ہونے کے نصاب کیا ہے اور موجودہ دور میں کم سے کم کتنا رقم ہونا چاہیئے. ؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں
المستفتی: - سمیع الحق نظامی، جدّہ سعودی عرب
💥⚡️💥⚡️💥⚡️💥⚡️
و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
الجواب قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، زکوٰۃ کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط ہے۔ اور وجوب زکوٰۃ کے لئے صاحب نصاب کا عاقل،بالغ ہونا بھی شرط ہے۔ اور صدقہ فطر کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط نہیں، اور صدقہ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو مالک نصاب ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت،پاگل ہو یا نابالغ۔
در مختار میں ہے: تجب على كل مسلم و لو صغيرا مجنونا ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية و إن لم ينم،ھ تلخیصا۔(کتاب الزکوۃ، باب صدقة الفطر،ج3،ص310 تا 313)
مالک نصاب ہونے کے لئے ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی مال تجارت کی آمدنی کا مالک ہونا ضروری ہے اور موجودہ رائج اعشاریہ وزن کے متعلق محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی مد ظلہ العالی کی تحقیق یہ ہے کہ ایک تولہ کا وزن 12گرام 441ملی گرام 6پوائنٹ ہے۔ اس کے مطابق ساڑھے سات تولے سونا کا وزن 93 گرام 312 ملی گرام اور ساڑھے باون تولے چاندی کا وزن 653 گرام 184 ملی گرام ہے(ماہ نامہ اشرفیہ شمارہ مئی 2004) والله تعالٰی اعلم.
غلام احمد رضوی مصباحی
30/جولائی 2018ء
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ قربانی واجب ہونے کے نصاب کیا ہے اور موجودہ دور میں کم سے کم کتنا رقم ہونا چاہیئے. ؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں
المستفتی: - سمیع الحق نظامی، جدّہ سعودی عرب
💥⚡️💥⚡️💥⚡️💥⚡️
و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
الجواب قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، زکوٰۃ کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط ہے۔ اور وجوب زکوٰۃ کے لئے صاحب نصاب کا عاقل،بالغ ہونا بھی شرط ہے۔ اور صدقہ فطر کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط نہیں، اور صدقہ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو مالک نصاب ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت،پاگل ہو یا نابالغ۔
در مختار میں ہے: تجب على كل مسلم و لو صغيرا مجنونا ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية و إن لم ينم،ھ تلخیصا۔(کتاب الزکوۃ، باب صدقة الفطر،ج3،ص310 تا 313)
مالک نصاب ہونے کے لئے ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی مال تجارت کی آمدنی کا مالک ہونا ضروری ہے اور موجودہ رائج اعشاریہ وزن کے متعلق محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی مد ظلہ العالی کی تحقیق یہ ہے کہ ایک تولہ کا وزن 12گرام 441ملی گرام 6پوائنٹ ہے۔ اس کے مطابق ساڑھے سات تولے سونا کا وزن 93 گرام 312 ملی گرام اور ساڑھے باون تولے چاندی کا وزن 653 گرام 184 ملی گرام ہے(ماہ نامہ اشرفیہ شمارہ مئی 2004) والله تعالٰی اعلم.
غلام احمد رضوی مصباحی
30/جولائی 2018ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥 ذی الحجہ کا چانددیکھ کربال/وغیرہ نہ کٹواناکس کےلیےمستحب؟/اس میں قربانی کاثواب ہےیانہیں؟؟💥
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ بعض لوگ کہتےہیں جوقربانی نہی دے سکتا وہ یکم ذوالحج سے بال ناخن نہ کٹواے اسکوقربانی کا ثواب ملےگا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
جواب: اس سلسلےمین دومسئلےحدیث کی روشنی میں واضح طورپر معلوم ہوئےہیں:
مسئلہ ۱ جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہےاسے یکم ذوالحجہ سے ناخن اوربال وغیرہ نہ کٹوانامستحب ہے۔
مسئلہ۲ اور جس کو قربانی کی توفیق نہ ہواورقربانی نہ کرسکےتووہ ناخن اورمونچھیں ترشوائےاورموئےزیرناف مونڈے، اسےان چیزوں کےکرنےسے قربانی کا ثواب حاصل ہوجائےگا۔ان شاءاللہ۔(بہار۔۔ملخصامنہ330/3)
حدیث مسئلہ ۱: عن أم سلمۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: إذا دخلت العشر و أراد أحدکم أن یضحی فلایمس من شعرہ و بشرہ شیئا وفی روایۃ: فلایأخذن شعرا ولا یقلمن ظفرا۔
📕(صحیح مسلم، باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وہو مرید التضحیۃ … النسخۃ الہندیۃ ۲/۱۶۰، بیت الأفکار رقم: ۱۹۷۷)
ردالمحتار میں اس کے تحت ہے:
" ہذا محمول علی الندب دون الوجوب بالإجماع۔ 📕( باب العیدین، مطلب: فی إزالۃ الشعر والظفر فی ذیالحجۃ، ۶۶/۲)
حدیث مسئلہ۲: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ: لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وجل۔(سنن ابی داؤد۲۷۸۹)
پہلےمسئلے کے متعلق اعلی حضرت کا ایک فتوی افادہ عام کےلیے مع سوال پیش کیا جاتاہے۔
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جلد چہارم کتاب شرح وقایہ کتاب الاضحیہ ص ۴۳ میں تحریر ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جو شخص دیکھے تم میں سے چاند ذی الحجہ کا اور ارادہ کرے قربانی کا تو چاہئے کہ اپنے بال اور ناخن کو روک رکھے یعنی نہ کاٹے، روایت کیا جماعت نے، اب ایک شخص اہل اسلام کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے، تو وہ شخص دیکھنے چاند ذی الحجہ کے سے اپنے بال اور ناخن نہ روک رکھے یا حجامت کرالے، یا اس نے یہ حکم نہ مانا، اور رسول مقبول صلی اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرے تو اس کے واسطے شرع شریف میں سے کیا حکم ہے؟ اور کیاکہا جائے گا ؟ جواب تحریر فرمائے، اور قربانی اس کی صحیح طورپر ہوگی یا کوئی نقص اس کی قربانی میں عائد ہوگا؟ بینواتوجروا
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
الجواب : یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگر چہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔ فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ وفی المضمرات، عن ابن المبارک فی تقلیم الاظفار وحلق الرأس فی عشر ذی الحجۃ، قال لا تؤخرالسنۃ، وقد ورد ذٰلک ولایجب التاخیر اھ فہذا محمول علی الندب بالاجماع الا ان نفی الوجوب لا ینافی الاستحباب فیکون مستحبا الا ان استلزم الزیادۃ علی وقت اباحۃ التاخیر، ونہایتہ مادون الاربعین، فلا یباح فوقہا، ۱؎ اھ مختصرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں ہےکہ منیہ کی شرح اور مضمرات میں ابن مبارک سے نقل کیا کہ ناخن کاٹنا اور سر منڈانا ذوالحجہ کے دس دنوں میں اپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ سنت کو مؤخر نہ کیاجائے جبکہ اس کے متعلق حکم واردہے تاہم تاخیر واجب نہیں ہے اھ تویہ استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے لہذا مستحب ہے ہاں اگر اباحت کی مدت پر تاخیر کو مستلزم ہو تو مستحب نہ ہوگا، اباحت کی مدت کی انتہا چالیس روز ہے تو اس سے زیادہ تاخیر مباح نہ ہوگی اھ مختصرا واللہ تعالٰی اعلم
📕(ت) (۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۵۶۵)
فتاوی رضویہ،ج:8،ص:385،کتاب الاضحیہ،رضااکیڈمی ممبئی،قدیم
بسعی :عدنان غوثی مصباحی
و عدیل احمدقادری رضوی
۲۵من ذی القعدة ۱۴۳۹
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ بعض لوگ کہتےہیں جوقربانی نہی دے سکتا وہ یکم ذوالحج سے بال ناخن نہ کٹواے اسکوقربانی کا ثواب ملےگا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
جواب: اس سلسلےمین دومسئلےحدیث کی روشنی میں واضح طورپر معلوم ہوئےہیں:
مسئلہ ۱ جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہےاسے یکم ذوالحجہ سے ناخن اوربال وغیرہ نہ کٹوانامستحب ہے۔
مسئلہ۲ اور جس کو قربانی کی توفیق نہ ہواورقربانی نہ کرسکےتووہ ناخن اورمونچھیں ترشوائےاورموئےزیرناف مونڈے، اسےان چیزوں کےکرنےسے قربانی کا ثواب حاصل ہوجائےگا۔ان شاءاللہ۔(بہار۔۔ملخصامنہ330/3)
حدیث مسئلہ ۱: عن أم سلمۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: إذا دخلت العشر و أراد أحدکم أن یضحی فلایمس من شعرہ و بشرہ شیئا وفی روایۃ: فلایأخذن شعرا ولا یقلمن ظفرا۔
📕(صحیح مسلم، باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وہو مرید التضحیۃ … النسخۃ الہندیۃ ۲/۱۶۰، بیت الأفکار رقم: ۱۹۷۷)
ردالمحتار میں اس کے تحت ہے:
" ہذا محمول علی الندب دون الوجوب بالإجماع۔ 📕( باب العیدین، مطلب: فی إزالۃ الشعر والظفر فی ذیالحجۃ، ۶۶/۲)
حدیث مسئلہ۲: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ: لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وجل۔(سنن ابی داؤد۲۷۸۹)
پہلےمسئلے کے متعلق اعلی حضرت کا ایک فتوی افادہ عام کےلیے مع سوال پیش کیا جاتاہے۔
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جلد چہارم کتاب شرح وقایہ کتاب الاضحیہ ص ۴۳ میں تحریر ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جو شخص دیکھے تم میں سے چاند ذی الحجہ کا اور ارادہ کرے قربانی کا تو چاہئے کہ اپنے بال اور ناخن کو روک رکھے یعنی نہ کاٹے، روایت کیا جماعت نے، اب ایک شخص اہل اسلام کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے، تو وہ شخص دیکھنے چاند ذی الحجہ کے سے اپنے بال اور ناخن نہ روک رکھے یا حجامت کرالے، یا اس نے یہ حکم نہ مانا، اور رسول مقبول صلی اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرے تو اس کے واسطے شرع شریف میں سے کیا حکم ہے؟ اور کیاکہا جائے گا ؟ جواب تحریر فرمائے، اور قربانی اس کی صحیح طورپر ہوگی یا کوئی نقص اس کی قربانی میں عائد ہوگا؟ بینواتوجروا
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
الجواب : یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگر چہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔ فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ وفی المضمرات، عن ابن المبارک فی تقلیم الاظفار وحلق الرأس فی عشر ذی الحجۃ، قال لا تؤخرالسنۃ، وقد ورد ذٰلک ولایجب التاخیر اھ فہذا محمول علی الندب بالاجماع الا ان نفی الوجوب لا ینافی الاستحباب فیکون مستحبا الا ان استلزم الزیادۃ علی وقت اباحۃ التاخیر، ونہایتہ مادون الاربعین، فلا یباح فوقہا، ۱؎ اھ مختصرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں ہےکہ منیہ کی شرح اور مضمرات میں ابن مبارک سے نقل کیا کہ ناخن کاٹنا اور سر منڈانا ذوالحجہ کے دس دنوں میں اپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ سنت کو مؤخر نہ کیاجائے جبکہ اس کے متعلق حکم واردہے تاہم تاخیر واجب نہیں ہے اھ تویہ استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے لہذا مستحب ہے ہاں اگر اباحت کی مدت پر تاخیر کو مستلزم ہو تو مستحب نہ ہوگا، اباحت کی مدت کی انتہا چالیس روز ہے تو اس سے زیادہ تاخیر مباح نہ ہوگی اھ مختصرا واللہ تعالٰی اعلم
📕(ت) (۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۵۶۵)
فتاوی رضویہ،ج:8،ص:385،کتاب الاضحیہ،رضااکیڈمی ممبئی،قدیم
بسعی :عدنان غوثی مصباحی
و عدیل احمدقادری رضوی
۲۵من ذی القعدة ۱۴۳۹
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💍جو قربانی نہ کروائے کیا وہ بھی بال ناخن کٹوانے سے بچے؟ 💍
⚡⚡⚡⚡⚡
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ لوگ کہتےہیں جوقربانی نہی دے سکتا وہ یکم ذوالحج سے بال ناخن نہ کٹواے اسکوقربانی کا ثواب ملے گا؟
⚡⚡⚡⚡⚡
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم
الجواب مذکورہ بالا صورت ان لوگوں کے لئے ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کر لے بال اور ناخن نہ ترشوائے۔
ترمذي شريف میں ہے: عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من رأى هلال ذي الحجه، وأراد أن يضحي، فلا ياخذن من شعره ولا من أظفاره.(باب ترك أخذ الشعر لمن أراد أن يضحي،الحديث ١٥٢٣،ج٣،ص١٥٤)
اور وہ حضرات جن پر قربانی واجب نہیں ہے، وہ بھی اگر دسوی ذی الحجہ کو بال، ناخن اور مونچھیں ترشوائیں اور موۓ زیر ناف مونڈیں تو انہیں بھی قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
سنن أبی داود میں ہے: عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أمرت بيوم الاضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة قال الرجل:أ رأيت إن لم أجد إلا منحية أنثى افاضحى بها قال: لا ولكن تأخذ من شعرك و أظفارك و تقص شاربك و تحلق عانتك فتلك تمام أضحيتك عندالله.(كتاب الضحايا،باب في ايجاب الأضاحي، ج٢،ص٣٨٥)
والله اعلم باالصواب.
غلام احمد رضوی مصباحی
8/اگست 2018ء
⚡⚡⚡⚡⚡
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ لوگ کہتےہیں جوقربانی نہی دے سکتا وہ یکم ذوالحج سے بال ناخن نہ کٹواے اسکوقربانی کا ثواب ملے گا؟
⚡⚡⚡⚡⚡
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم
الجواب مذکورہ بالا صورت ان لوگوں کے لئے ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کر لے بال اور ناخن نہ ترشوائے۔
ترمذي شريف میں ہے: عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من رأى هلال ذي الحجه، وأراد أن يضحي، فلا ياخذن من شعره ولا من أظفاره.(باب ترك أخذ الشعر لمن أراد أن يضحي،الحديث ١٥٢٣،ج٣،ص١٥٤)
اور وہ حضرات جن پر قربانی واجب نہیں ہے، وہ بھی اگر دسوی ذی الحجہ کو بال، ناخن اور مونچھیں ترشوائیں اور موۓ زیر ناف مونڈیں تو انہیں بھی قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
سنن أبی داود میں ہے: عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أمرت بيوم الاضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة قال الرجل:أ رأيت إن لم أجد إلا منحية أنثى افاضحى بها قال: لا ولكن تأخذ من شعرك و أظفارك و تقص شاربك و تحلق عانتك فتلك تمام أضحيتك عندالله.(كتاب الضحايا،باب في ايجاب الأضاحي، ج٢،ص٣٨٥)
والله اعلم باالصواب.
غلام احمد رضوی مصباحی
8/اگست 2018ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے میں کیا حکمت ہے؟ 💥
سوال: بال اور ناخن نہ کاٹنے میں کیا حکمت ہے ؟
المستفتی فیض احمد فیض
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الجواب* :خوش دلی سے قربانی کرنے کے سبب وہ قربانی کرنے والوں کے لیے آتش جہنم سے حجاب ( روک) ہوجاتی ہے اور انسان کا پورا وجود جہنم سے آزاد کردیا جاتاہے جیسا کہ اس حدیث پاک میں اللہ کے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
"مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، مُحْتَسِبًا لأُضْحِيَّتِهِ ، كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " [المعجم الکبیر للطبرانی ، ج: ٣,ص :٨٤ الحدیث : ٢٧٣٦ ]
جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہوکر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک) ہوجائے گی
تو حکمت یہ ہے کہ اگر قربانی کرنے تک بال اور ناخن وغیرہ نہ بنوائے جائیں تو ان سب کو بھی جہنم کی آزادی شامل ہوجائے گی اور قربانی ان سب اجزا کے لیے بھی جہنم سے روک ہوگی
علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم میں رقم طراز ہیں :
"قال اصحابنا : والحکمۃ فی النہی أن یبقی کامل الأجزاء لیعتق من النار" [ شرح صحیح مسلم للنووی ج:٢،ص: ١٦٠] واللہ تعالیٰ اعلم
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
کتبہ : محمد ذیشان ضیا مصباحی
٩/ذی الحجہ ١٤٣٩
سوال: بال اور ناخن نہ کاٹنے میں کیا حکمت ہے ؟
المستفتی فیض احمد فیض
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الجواب* :خوش دلی سے قربانی کرنے کے سبب وہ قربانی کرنے والوں کے لیے آتش جہنم سے حجاب ( روک) ہوجاتی ہے اور انسان کا پورا وجود جہنم سے آزاد کردیا جاتاہے جیسا کہ اس حدیث پاک میں اللہ کے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
"مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، مُحْتَسِبًا لأُضْحِيَّتِهِ ، كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " [المعجم الکبیر للطبرانی ، ج: ٣,ص :٨٤ الحدیث : ٢٧٣٦ ]
جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہوکر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک) ہوجائے گی
تو حکمت یہ ہے کہ اگر قربانی کرنے تک بال اور ناخن وغیرہ نہ بنوائے جائیں تو ان سب کو بھی جہنم کی آزادی شامل ہوجائے گی اور قربانی ان سب اجزا کے لیے بھی جہنم سے روک ہوگی
علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم میں رقم طراز ہیں :
"قال اصحابنا : والحکمۃ فی النہی أن یبقی کامل الأجزاء لیعتق من النار" [ شرح صحیح مسلم للنووی ج:٢،ص: ١٦٠] واللہ تعالیٰ اعلم
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
کتبہ : محمد ذیشان ضیا مصباحی
٩/ذی الحجہ ١٤٣٩
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥قربانی کے جانور کا /اوجھڑی /انتڑی/ پچونی کافر کو دینا کیسا ہے؟ 💥
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدالاضحیٰ میں قربانی کے جانور کا پچونی کافر کو دینا کیسا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں مشکور ہونگا.
سائل - سیفی اشہر نوری ،
اتر پردیش.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : قربانی کے جانور کی اوجھڑی پچونی کافر کو دینے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فتاوی فقیہ ملت اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ " اوجھڑی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں کوئی حرج نہیں اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ فتاوی رضویہ ج 6 ص 467 پر تحریر فرماتے ہیں کہ " آنت کھانے کی چیز نہیں پھینک دینے کی چیز ہے وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں " الخبيثت للخبيثين و الخبيثون الخبيثت " اھ ( فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 251 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدالاضحیٰ میں قربانی کے جانور کا پچونی کافر کو دینا کیسا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں مشکور ہونگا.
سائل - سیفی اشہر نوری ،
اتر پردیش.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : قربانی کے جانور کی اوجھڑی پچونی کافر کو دینے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فتاوی فقیہ ملت اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ " اوجھڑی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں کوئی حرج نہیں اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ فتاوی رضویہ ج 6 ص 467 پر تحریر فرماتے ہیں کہ " آنت کھانے کی چیز نہیں پھینک دینے کی چیز ہے وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں " الخبيثت للخبيثين و الخبيثون الخبيثت " اھ ( فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 251 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
Muhammad IBRAHEEM:
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*قربانی کے مسائل اقوال فقہاء کی روشنی میں
📜📜📜📜📜📜📜📜
*☆ مسئلہ:جو شخص حاجت کے سواکسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کے برابر ہو یاکسی طرح اتنی آمدنی ہوتی ہےکہ سال بھرکا خرچ پورا ہونے کے بعدنصاب کے برابررقم قربانی کے موقعے پر موجود ہے تواس پر قربانی واجب ہے(📚فیصلہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی)*
*☆ ساڑھے باون تولہ چاندی ٦٥٣/گرام١٨٤/ملی گرام ہوا جس کی موجودہ قیمت تقریبا پچیس ہزار تین سو بارہ روپیہ اٹھارہ پیسہ ہے*
*☆ مسئلہ : صاحب نصاب پر ہرسال اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اور اگراپنی طرف سے قربانی کے بجاےدوسرے کی طرف سے کرے اپنے طرف سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہےتوایک دوسری قربانی کا انتظام کرے(📘انوارالحدیث ص ٢٥٤)*
*☆ مسئلہ :اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہوں تو ہرایک کے نام سے قربانی واجب ہوگی (📙فتاوی فیض الرسول ج ٢ص٤٣٩)*
*☆ مسئلہ :جو صاحب نصاب ہو اوراس کے پاس نقد روپیہ نہ ہوتو قربانی کرنے کےلئےاپنی کوئی چیز فروخت کرےیا قرض لے کر کرے(📗وقارالفتاوی ج ٢ص٤٧٠)*
*☆مسئلہ:اگر جانور کے سر پرسفید بال (چان) ہوتواس کی قربانی جائزہے بال کے سفید ہونے سے قربانی پر کوئی اثرانہیں پڑتا (📕 مستفاد ازکتب فقہ)*
*☆مسئلہ :گھیگھا کی وجہ سے اگرجانور کی قیمت میں کمی آتی ہےتویہ عیب ہےاوراس کی قربانی ناجائز ہے اورقیمت کم نہ ہوتو جائز ہے مگرکراہت کے ساتھ (📚 فتاوی مرکزتربیت افتاء ج٢ص٣١٦)*
*☆مسئلہ :ایک بڑے جانور میں سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہےلیکن اگرچھ لوگ شریک ہوکر ساتواں حصہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کریں تویہ بھی جائزہے(📓 فتاوی فقیہ ملت ج٢ص ٢٤٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے جانورکی عمریہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ سال کا بھینس وغیرہ دوسال،بکرابکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے (📚 بہارشریعت حصہ پانژدہم ص ٣٤٠)*
*☆ البتہ عوام میں جو یہ مشہورہے کہ جانورکادانتنا ضروری ہے غلط اور بے اصل ہے*
*☆مسئلہ بڑے جانور کے شرکاء میں سے اگرکوئی بدمذہب دیوبندی وہابی ہو توکسی کی قربانی نہیں ہوگی اگرایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے کرناواجب ہےورنہ اتنی رقم کا صدقہ کرنا لازم ہے(📚فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف ص٢٩٨/فتاوی مرکزتربیت افتاءج٢ص٣٢٩)*
*☆ مسئلہ :بڑے جانوروں میں قربانی کے ساتھ عقیقہ بھی ہوسکتا ہے(📘فتاوی بحرالعلوم ج٥ص٢٠٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے گوشت کا تین حصہ کرنا بہتر ہے ضروری نہیں (📙فتاوی فیض الرسول ج٢ص٤٤٣)*
*☆ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تواس کے گوشت کا حکم یہ ہےکہ خود کھاے دوست واحباب کو دےیہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے،اگرمیت نے کہہ دیا ہےکہ میری طرف سے قربانی کردیناتو اس میں سے نہ کھاےبلکہ کل گوشت صدقہ کردے (📓 ردالمحتار ج٩ص١٨٥)*
*☆ مسئلہ : منت کی قربانی میں سےکچھ نہ کھاےبلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردےاورکچھ کھالیا توجتنا کھایااس کی قیمت صدقہ کرے(📚فتاوی ھندیہ ج٥ص٢٩٥)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے کچے اورپکے دونوں قسم کے گوشت کا ایک ہی حکم ہےکہ یہاں کے غیرمسلموں کو نہیں کھلاسکتے(📕فتاوی بحرالعلوم ج٥ص١٩٨)*
*☆ مسئلہ : اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہےاسے دفن کردینا چاہئے اگرکافرلے جاےیا کافرکودی جاےتوحرج نہیں (📚فتاوی فقیہ ملت ج٢ص٢٥١)-واللہ تعالی اعلم*
-------------
محمد رضا مرکزی...شرعی عدالت ومرکزی لائبریری
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*قربانی کے مسائل اقوال فقہاء کی روشنی میں
📜📜📜📜📜📜📜📜
*☆ مسئلہ:جو شخص حاجت کے سواکسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کے برابر ہو یاکسی طرح اتنی آمدنی ہوتی ہےکہ سال بھرکا خرچ پورا ہونے کے بعدنصاب کے برابررقم قربانی کے موقعے پر موجود ہے تواس پر قربانی واجب ہے(📚فیصلہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی)*
*☆ ساڑھے باون تولہ چاندی ٦٥٣/گرام١٨٤/ملی گرام ہوا جس کی موجودہ قیمت تقریبا پچیس ہزار تین سو بارہ روپیہ اٹھارہ پیسہ ہے*
*☆ مسئلہ : صاحب نصاب پر ہرسال اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اور اگراپنی طرف سے قربانی کے بجاےدوسرے کی طرف سے کرے اپنے طرف سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہےتوایک دوسری قربانی کا انتظام کرے(📘انوارالحدیث ص ٢٥٤)*
*☆ مسئلہ :اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہوں تو ہرایک کے نام سے قربانی واجب ہوگی (📙فتاوی فیض الرسول ج ٢ص٤٣٩)*
*☆ مسئلہ :جو صاحب نصاب ہو اوراس کے پاس نقد روپیہ نہ ہوتو قربانی کرنے کےلئےاپنی کوئی چیز فروخت کرےیا قرض لے کر کرے(📗وقارالفتاوی ج ٢ص٤٧٠)*
*☆مسئلہ:اگر جانور کے سر پرسفید بال (چان) ہوتواس کی قربانی جائزہے بال کے سفید ہونے سے قربانی پر کوئی اثرانہیں پڑتا (📕 مستفاد ازکتب فقہ)*
*☆مسئلہ :گھیگھا کی وجہ سے اگرجانور کی قیمت میں کمی آتی ہےتویہ عیب ہےاوراس کی قربانی ناجائز ہے اورقیمت کم نہ ہوتو جائز ہے مگرکراہت کے ساتھ (📚 فتاوی مرکزتربیت افتاء ج٢ص٣١٦)*
*☆مسئلہ :ایک بڑے جانور میں سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہےلیکن اگرچھ لوگ شریک ہوکر ساتواں حصہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کریں تویہ بھی جائزہے(📓 فتاوی فقیہ ملت ج٢ص ٢٤٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے جانورکی عمریہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ سال کا بھینس وغیرہ دوسال،بکرابکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے (📚 بہارشریعت حصہ پانژدہم ص ٣٤٠)*
*☆ البتہ عوام میں جو یہ مشہورہے کہ جانورکادانتنا ضروری ہے غلط اور بے اصل ہے*
*☆مسئلہ بڑے جانور کے شرکاء میں سے اگرکوئی بدمذہب دیوبندی وہابی ہو توکسی کی قربانی نہیں ہوگی اگرایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے کرناواجب ہےورنہ اتنی رقم کا صدقہ کرنا لازم ہے(📚فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف ص٢٩٨/فتاوی مرکزتربیت افتاءج٢ص٣٢٩)*
*☆ مسئلہ :بڑے جانوروں میں قربانی کے ساتھ عقیقہ بھی ہوسکتا ہے(📘فتاوی بحرالعلوم ج٥ص٢٠٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے گوشت کا تین حصہ کرنا بہتر ہے ضروری نہیں (📙فتاوی فیض الرسول ج٢ص٤٤٣)*
*☆ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تواس کے گوشت کا حکم یہ ہےکہ خود کھاے دوست واحباب کو دےیہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے،اگرمیت نے کہہ دیا ہےکہ میری طرف سے قربانی کردیناتو اس میں سے نہ کھاےبلکہ کل گوشت صدقہ کردے (📓 ردالمحتار ج٩ص١٨٥)*
*☆ مسئلہ : منت کی قربانی میں سےکچھ نہ کھاےبلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردےاورکچھ کھالیا توجتنا کھایااس کی قیمت صدقہ کرے(📚فتاوی ھندیہ ج٥ص٢٩٥)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے کچے اورپکے دونوں قسم کے گوشت کا ایک ہی حکم ہےکہ یہاں کے غیرمسلموں کو نہیں کھلاسکتے(📕فتاوی بحرالعلوم ج٥ص١٩٨)*
*☆ مسئلہ : اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہےاسے دفن کردینا چاہئے اگرکافرلے جاےیا کافرکودی جاےتوحرج نہیں (📚فتاوی فقیہ ملت ج٢ص٢٥١)-واللہ تعالی اعلم*
-------------
محمد رضا مرکزی...شرعی عدالت ومرکزی لائبریری