🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🗓 Sticker
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
(مسئلہ) جو حافظ قرآن مجید یاد کرکے بھول جائیے تو کیا اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی؟
(جواب) اس شخص کے پیچھے نماز جائز ہے جس نے قرآن مجید یاد کیا لیکن اب اسے یاد نہیں رہا کیونکہ یہ مؤجب فسق نہیں ہے۔ انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا. (سنن ابو داؤد، م: ٤٦١؛ سنن الترمذی، م: ٢٩١٦؛ میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی سورت یا آیت دی جائے پھر وہ اسے بھلا دے۔) غالبا اس حدیث میں سورت بھلانے سے اس کی تعلیمات کو بھلانا مراد ہے اور گناہ عظیم اور گناہ کبیرہ میں فرق ہے لہذا وہ شخص فاسق معلن نہیں ہوتا۔ والله تعالی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*کانپور انکاؤنٹر :حکومت وانتظامیہ کی دوغلی پالیسی پر سوالیہ نشان؟؟*

غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

47؍سال کا ہسٹری شیٹر وِکاس دُوبے ہے لیکن کارنامے عمر سے بڑھ کر،اتنے کہ 60؍سے زیادہ سنگین مقدمے درج ہیں۔اس قدر خطرناک مجرم ہونے کے باوجود سیاسی پارٹیوں اور سیاست میں اس قدر دبدبہ کہ پچھلے 15؍سال سے گاؤں کی پردھانی اپنے ہی گھر میں ہے۔اپنی بیوی کے ساتھ ضلع پنچایت کی دو سیٹوں پر 15؍سال سے فتح یاب ہوتا آرہا ہے۔صوبے کی تین بڑی پارٹیوں،بی جے پی،سپا اور بسپا تک میں گہری پکڑ رکھنے والے وِکاس دوبے کی کہانی نے حکومت وانتظامیہ کا وہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جس کے بارے میں بہت کھل کر کبھی بات نہیں ہوتی۔کانپور میں آٹھ پولیس والوں کی موت نے کچھ ایسے سوالات کھڑے کیے ہیں جن کے جواب دینا حکومت اور انتظامیہ کے لیے بے حد ضروری ہیں۔آٹھ پولیس جوانوں کا ایک تصادم میں ہلاک ہوجانا معمولی واقعہ نہیں ہے اس لیے اس سسٹم پر بھی کھل کر بات ہونا چاہیے جہاں سے ایسے مجرمین تیار ہوتے ہیں اور حکومت وانتظامیہ کی جانب سے ان کی سرپرستی کی جاتی ہے۔

یوپی کی بی جے پی حکومت بار بار یہ دعوی کرتی آئی ہے کہ ماقبل کی سپا بسپا حکومتوں میں جرائم اور مجرمین کا بول بالا تھا لیکن بی جے پی حکومت کی تشکیل کے بعد مجرمین نے یوپی چھوڑ دیا ہے۔بات سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہے لیکن جب اس دعوے کو حقیقت کی زمین پر پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سارے دعوے ہوائی ہیں۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(NCRB) کی 2019 میں جاری رپورٹ کے مطابق جرائم کے معاملے یوپی پورے ملک میں سر فہرست ہے۔خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں بھی یوپی پہلے نمبر ہے۔یہاں ایک سال میں خواتین کے ساتھ ہونے والے درج شدہ جرائم کی تعداد 56011 ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے اغوا کے واقعات کے کل 21؍فیصد کیس یوپی میں ہوئے ہیں۔اسی طرح بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم میں بھی یوپی پہلے نمبر پر ہے۔ایک سال میں یوپی کے اندر قتل کی 28 ہزار 653 واردات درج کی گئیں ہیں۔ یہ سارے جرائم اس وقت ہوئے ہیں جب یوپی میں ایک ہزار سے زائد انکاؤنٹر کے دعوے کیے گیے ہیں اور وزیر اعلیٰ یہ دعوی کرتے گھوم رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے بعد مجرمین یوپی چھوڑ کر چلے گیے ہیں۔اب یہ پہیلی سمجھ سے باہر ہے کہ جب سارے مجرمین یوپی چھوڑ کر چلے گیے،جو باقی بچے انہیں انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا تو پھر یہ جرائم کون کر رہا ہے؟

اگر چند بڑے جرائم کی بات کریں تو پچھلے سال 17؍جولائی کو سون بھدر میں 10 قبائلی افراد کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔
ستمبر ۲۰۱۸ء میں راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر میں دو پولیس والوں نے Apple کمپنی کے ایریا مینجر وِویک تواری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اناو ضلع میں بی جے پی ایم ایل اے کُل دِیپ سِنگھ سَینگر نے ایک نابالغہ کے ساتھ زنا بالجبر کیا، مخالفت کرنے کی پاداش میں اس کے باپ کو بری طرح مارا پیٹا اورجھوٹے کیس میں گرفتار کرایا جہاں جیل میں ہی موت ہوگئی۔
اسی کیس میں مقدمے کی پیروی کر رہی اس کی چاچی اور مَوسِی کو ایک ٹرک ایکسی ڈینٹ کے ذریعے قتل کرا دیا گیا۔خود متاثرہ شدید زخمی ہوئی۔
یوپی میں یہ سارے جرائم علی الاعلان ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ اور یوپی انتظامیہ نے انتہائی سرد مہری سے کام لیا،اُنّاو کیس میں تمام تر ثبوتوں کے باوجود یوپی پولیس نے مجرم سینگر کو گرفتار تک نہیں کیا،کیس این آئی اے(NIA) کے ہاتھ میں آیا تب جاکر یہ خطرناک مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا۔

*حکومت وانتظامیہ کی مسلم دشمنی*
جو حکومت وانتظامیہ کھلے عام غنڈہ گردی کرنے والے مجرموں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچتی ہے اسی یوپی حکومت اور انتظامیہ کا دوسرا چہرہ دیکھیے !!
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں مسلمانوں نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے اس قانون کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کیے۔لیکن حکومت وانتظامیہ نے جمہوری احتجاج کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا اور خاموش احتجاج کر رہے مظاہرین پر پولیس نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ گولیاں چلائیں۔پورے صوبے میں قریب ۲۲؍سے زائد مظاہرین کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔مظاہرین بے قابو ہو جائیں تو پولیس احتیاطاً ربڑ کی گولیاں چلا سکتی ہے مگر کمر سے نیچے تاکہ جانی نقصان نہ ہو اور مظاہرین پر قابو پایا جاسکے۔لیکن پولیس کو یہ قاعدے قانون اس وقت یاد رہتے ہیں جب مظاہرین غیر مسلم ہوں، مسلمانوں کو دیکھتے ہی پولیس کی بندوق سیدھا سینے کی جانب اٹھتی ہے اور ربڑ کی نہیں بلکہ اصلی گولی چلتی ہے۔سی اے اے مظاہروں میں اکثر مظاہرین کی موت کمر سے اوپر گولی لگنے سے ہوئی ہے۔
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے "بدلہ" لینے جیسی غیر دستوری زبان استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو دھمکی دی جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے گرفتاری کے نام پر مسلم آبادیوں پر دھاوا بول دیا۔مکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور گھر میں رہنے والے بزرگ وخواتین کو اپنے ت
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس قدر سفاکیت کے بعد بھی حکومت وانتظامیہ کا جوش انتقام ٹھنڈا نہیں ہوا تو مسلمانوں پر ہی توڑ پھوڑ اور تشدد کا الزام لگا کر جرمانہ وصولی کا نادر شاہی فرمان سنا کر سڑکوں چوراہوں پر مظاہرین کی تصویریں لگا کر شہری حقوق کی کھل کر پامالی کی گئی۔ایسا ظاہر کیا گیا مانو صوبے کے سب سے بڑے مجرمین سی اے اے مظاہرین ہی ہیں۔ اس وقت حکومت اور انتظامیہ دونوں نے ہی تمام تر اخلاقایات کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن کانپور تصادم کے بعد یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے جو حکومت سی اے اے مظاہرین کو گلی کوچوں میں تلاشتی پھر رہی تھی اس کی نگاہوں سے 60 سے مجرمانہ واردات کرنے والا گینگسٹر کس طرح چھپا رہا؟
وزیر اعلی، جنہوں نے ہائی کورٹ کی پھٹکار کے باوجود مظاہرین کی تصویروں کو ہٹانے میں آنا کانی کی، آخر انہیں وِکاس دوبے جیسے عادی غنڈے اور مجرموں کی تصوریں لگانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟
سی اے اے مظاہرین تو اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے اور جمہوری انداز میں اپنا اختلاف ظاہر کرنے آئے تھے لیکن پولیس انتظامیہ نے نِہتّے مظاہرین پر گولیاں اور لاٹھیاں برسا کر اپنی بہادری دکھانے والی پولیس ایک غنڈے کے جال میں کس طرح پھنس گئی؟
کانپور تصادم میں ایک داروغہ وِنے تِواری کا کرادر مشکوک پایا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس پارٹی کے ریڈ مارنے کی خبر داروغہ نے ہی گینگسٹر کو دی تھی جس کے بعد اس نے جال بچھا کر پولیس پارٹی پر قاتلانہ حملے کا پلان بنایا۔جہاں آٹھ بہادر جانبازوں کو اپنی جان قربان کرنا پڑی۔
ونے تواری جیسے پولیسیا افراد وِکاس دوبے جیسے گینگسٹروں کی مخبری کرتے ہیں،حکومتیں انہیں شہ دے کر پروان چڑھاتی ہیں وہی پولیس اور حکومتیں اپنے ذمہ دار شہریوں پر گولیاں برسا کر ان کے جمہوری حقوق کو بے دردی سے پامال کرتی ہیں۔ جو طاقت دوبے جیسے عادی غنڈوں کے خلاف استعمال کی جانی چاہیے وہ امن پسند عوام کے خلاف استعمال ہوتی ہے جب تک حکومت اور انتظامیہ کا یہ دوہرا کردار رہے گا وِکاس دوبے جیسے غنڈے پیدا ہوتے رہیں گے۔ اگر ملک اور سماج کو ایسے غنڈوں سے پاک کرنا ہے تو امن پسند عوام نہیں بلکہ دُوبے جیسے غنڈوں کے خلاف قانونی طاقت کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

14 ذوالقعدہ 1441 ھ
6 جولائی 2020 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*کرونا وائرس! ظالم قوتوں کے لیے نمونۂ عبرت*
مسلمان رجوع الی اللہ کریں....

*مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی تصنیف’’کرونا وائرس کی وبا اور قوم مسلم‘‘کا علمی تجزیہ*

"اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دُنیا کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے والے؛ آج اپنے انجام سے خوف زَدہ ہیں۔"

✍️غلام مصطفیٰ رضوی
{نوری مشن مالیگاؤں}

دُنیا مصائب سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ قوتوں نے اسلام دُشمنی میں کئی مسلم ملکوں کو تاراج کیا، خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگے، بچوں کو یتیم بنایا۔ بناتِ حوا کا سہاگ اُجاڑا۔ ماؤں کی گودیں سونی ہو گئیں۔ شام و یمن، لیبیا و عراق، افغانستان جیسے ملکوں میں آبادیاں بموں سے کھنڈر میں بدل دی گئیں۔ مصنوعی قحط مسلط کر کے لاکھوں افراد کو موت کی آغوش میں سُلا دیا گیا۔ اِس قدر ظلم ڈھایا گیا کہ لاکھوں خانماں برباد ہوئے۔ لاکھوں ہجرت کر گئے۔ انسانی وسائل سے عاری کیمپوں میں موت و زیست کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کتنے ہی کشتیوں سے ہجرت کے دوران سمندروں میں غرق ہو گئے۔

آج کروناوائرس کی وبا نے طاقتوں کے نشہ اور غرّہ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ دنیا کے بیش تر ممالک لاک ڈاؤن کے ذریعے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ سوپر پاورز تک اس وبا کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ اسلامی شعائر اور دینی احکام کا مذاق اُڑانے والوں کو اِس وبا نے ان کی وقعت بتا دی ہے۔ اِس رخ سے مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) تحریر فرماتے ہیں:

’’برطانوی وزیر اعظم کایہ طنز کہ مسلم لڑکیوں کا نقاب لیٹر بکس معلوم ہوتا ہے۔ آج پوری قوم کو وہی لیٹر بکس پہننے پر مجبور کر رہا ہے اور خود بیمار ہو کر صحت مند ہونے کا انتظار کر رہا ہے، ہر شخص یا تو خود حفاظتی کے تحت گھروں میں مقید ہے یا قانون کے جبر نے اسے نظر بند کر رکھا ہے۔ سڑکیں سنسان، آبادیاں ویران اور برطانیہ کے عالمی اسٹور ہیرڈس جو دوسری جنگِ عظیم میں بھی بند نہیں ہوئے تھے، آج مقفل ہیں۔ تمام تفریحی مقامات سنسان ہیں۔ سمندر کے ساحل اور کھیلوں کے اسٹیڈیم ویران ہیں۔ ساحلوں، کلبوں اور رقص گاہوں میں آسودہ گھرانوں کے نا آسودہ افراد کی عریانیت کے مظاہر ختم ہوچکے ہیں۔ دُنیا کے وزراے اعظم، صدور اور چانسلرز ٹی وی اور میڈیا کے دوسرے ذرائع سے عوام کو گھروں میں بند رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔‘‘
(کرونا وائرس کی وبا اور قوم مسلم،ص۲)

عریانیت اور جدیدیت نے دہریت کو راہ دی۔ اسلام دُشمن قوموں نے رہِ حق سے مسلمانوں کو دور کرنے کے لیے برائیوں کی سرپرستی کی۔ شر کو نافذ کیا۔ خیر کے خلاف ماحول سازی کی۔ کرونا وائرس کی وبا نے ان کی عیش گاہوں کو سوٗنا کر دیا۔ جس برقع کے خلاف عالمی مہم چلائی گئی تھی؛ آج وہی ان ظالموں کو پناہ کا ذریعہ نظر آرہا ہے۔ وہ خود نقاب اوڑھ کر وبا سے بچنے کے جتن کر رہے ہیں۔ انھیں عملاً قبول کرنا پڑا کہ ’’پردہ‘‘ حفاظت کا ضامن ہے۔

دُنیا کی بڑی قوتوں نے برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے آنکھیں موند لی تھیں، خانماں بربادلُٹے پٹے قافلے نظر انداز کر دیے تھے۔ آج اس دَرد کی یاد تازہ کرنے کو کئی قافلے شاہراہوں پر نظر آ رہے ہیں، بھوک کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ علامہ قمرالزماں اعظمی تحریر فرماتے ہیں:

’’لاک ڈاؤن کے ماحول میں بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر بڑے بڑے شہروں سے لوگ کئی کئی سو میل کا سفر کر کے اپنے گھروں کی طرف جانے والے اس اجتماعی سفر میں یا تو کرونا کا شکار ہوں گے؛ یا کچھ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ کاندھوں پر اپنے ننھے بچوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے اور اپنی پیٹھ پر اپنی معذور بیوی یا ماں کو لادے ہوئے گھروں کو جانے والے؛ اُن اربابِ اقتدار کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں؛ جنہوں نے ابھی گزشتہ دنوں میں برما کے مہاجرین کو سفر کرتے ہوئے دیکھا ہے، مگر چوں کہ وہ مسلمان تھے، اس لیے کوئی بھی ملک ان کی مدد کے لیے نہ پہنچ سکا-" (نفس مصدر، ص۲۔۳)

ممبئی اور بڑے شہروں سے اپنے وطن کی جانب سفر کرنے والے لاکھوں افراد نڈھال پائے گئے، کتنے سسک کر دَم توڑ دیے۔ ان میں کئی وہ تھے جنھوں نے کرونا سے متاثر ہو کر جانیں دیں۔ کتنے ہی کرونا کا شکار بنے۔ آبادیاں متاثر ہوئیں۔ بچے بھوک سے نڈھال ہوئے۔ آبلہ پائی نے سیکڑوں خاندانوں کو صحراؤں میں موت و زیست سے ہمکنار کیا۔ ملکی استحکام کے دعوے داروں کی ترقی کا بھرم کھل گیا۔ اس سے کیا مظلوموں کے اس درد کا احساس زندہ ہوگا جن پر اقتدار نے مدتوں سے لاک ڈاؤن مسلط کر رکھا ہے؟ابھی سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک دل دوز تصویر شائع ہوئی۔ کشمیری شخص کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس کا کمسن نواسہ نانا کی لاش پر بیٹھا بے چارگی سے رو رہا ہے۔ یہی انسانیت ہے کہ لاشوں پر جمہوری اقدار کے تحفظ کا دعویٰ کیا جائے، لمحۂ فکریہ ہے:

’’لاک ڈاؤن کےکرب سے بلبلاتے ہوئے لوگ؛ کاش! ان مجبور ملکوں کے بارے
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
میں سوچ سکیں؛ جن کو طاقت وَر اقوام نے اپنی ہوسِ اقتدار پسندی کی تسکین کے لیے مدتوں سے لاک ڈاؤن کی درد ناک صورت حال سے دوچار کررکھا ہے.....اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دُنیا کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے والے؛ آج اپنے انجام سے خوف زَدہ ہیں۔ عالم گیریت کا نعرہ لگانے والوں کے پاس اِس عالم گیر وَبا کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔‘‘ (نفس مصدر،ص۳)

موجودہ وبا نے جس طرح ساری دنیا میں مصائب کی شام طلوع کی، ترقی یافتہ قوتوں کو لرزا بر اندام کیا، اس سے احساسِ انسانیت بیدار ہونا تھا، ظلم و ستم سے باز آنا تھا، مظلوموں اور غریبوں کے درد کا احساس جگانا تھا، لیکن شاید احساس مر چکا ہے، جبھی عذاب کی دستک ہوئی۔ علامہ اعظمی تحریر فرماتے ہیں:

’’کاش! دُنیا کے اربابِ اقتدار اُن مظلوم قوموں کے بارے میں سوچتے جو ایک عالمی سازش کے تحت مسلط کی گئی جنگوں کی بنا پر موت، بھوک، بیماری، دربدری اور بے وطنی کا شکار ہوگئیں۔ جن کے ملکوں اور شہروں کو ’تورابورا‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔ عراق، لیبیا، شام، فلسطین، بوسینیا کی خوفناک جنگیں نام نہاد ترقی یافتہ قوموں کے سامنے ہیں، مگر دُنیا بھر کے مظلوموں کے حق میں کہیں سے کوئی آواز بلند ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیمیں او، آئی، سی وغیرہ خاموش تماشائی ہیں یا ظالموں کی حمایت کرتی نظر آرہی ہیں۔ ان حالات میں بے قصور مظلوموں کی آہوں نے بابِ اجابتِ الٰہی کو دستک دی، جس کے جواب میں مشیت نے آج کے نمرودوں اور فراعنہ کو مچھروں سے زیادہ غیر مرئی اور غیر محسوس وائرس کے ذریعے مبتلائے عذاب کر دیا ہے۔ کاش! کرونا وائرس دُنیا کے ظالموں کی آنکھیں کھول دے اور انہیں احساس ہو جائے کہ یہ ان کے مظالم کی سزا ہے۔‘‘ (نفس مصدر، ص۳)

افسوس ان پر ہے جنھیں خادم الحرمین کا دعویٰ ہے،وہ مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی روایات کا خون کر رہے ہیں۔ برائیوں کے مراکز قائم کر کے اسلام دشمن قوتوں کی تقلید میں سرپٹ دوڑ رہے ہیں، ان سے متعلق علامہ اعظمی رقم طراز ہیں:

"عرب ممالک نے مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سنیما گھروں، ہوٹلوں، کلبوں اور شراب خانوں کے کلچر کو رواج دیا۔ حتیٰ کہ کرونا کے عذاب سے کچھ پہلے حجازِ مقدس کے بہت سے شہروں میں ناچ رنگ اور موسیقی کی محفلیں سجائی جانے لگیں۔ جدہ جہاں مسلمان احرام پہن کر جاتا ہے؛ وہاں بھی اسی طرح کے پروگرامات اسٹیج کیے جانے لگے۔ بالآخر مشیت کو جلال آگیا اور رب کعبہ کی ناراضی کا انجام یہ ہوا کہ کعبہ اور مسجد نبوی اور روضۂ رسولﷺ کا دروازہ بھی ان پر بند کر دیا گیا۔" (نفس مصدر، ص۴)

گویا کورونا وائرس کی یہ وبا دعوتِ اصلاح ہے۔ حرمین کا تقدس پامال کرنے اورمقدس زمیں پر راگ راگنی و موسیقی کلچر کو فروغ دینے والوں کے لیے یہ موقع آنکھیں کھول دینے کو کافی ہے۔ لیکن شاید وہ بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ انھیں معاشی زوال اور طبی بحران بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ مغرب کی اندھی تقلید نے ان کی سوچ کو یورپین چشمے سے دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔ حالاں کہ بندۂ مومن کے لیے تو یہی بس ہے کہ؎

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

علامہ اعظمی نے مقالہ میں کتاب و سنت کی روشنی میں وباؤں کے نزول کے اسباب اور ان کے تدارک پر روشنی ڈالی ہے۔ درجنوں آیات سے استدلال کیا ہے اور بتایا ہے کہ وبائیں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے نازل ہوتی ہیں اور کفار پر عذاب الٰہی بن کر اترتی ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے:

’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔‘‘
(سورۃ الشوریٰ:آیت ۳۰/کنزالایمان)

ان اسباب و علل بھی روشنی ڈالی ہے، جن سے مصائب اور وبائیں درپیش ہوتی ہیں۔ برائیوں، بدکرداریوں کا عام ہونا، زکوٰۃ کی ادائیگی سے چشم پوشی، ناپ تول میں کمی،کتاب و سنت کی حکم عدولی سے مصائب نازل ہوتے ہیں۔مسلم حکمرانوں نے مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اسلامی احکام سے ایسا منھ موڑا کہ مبتلاے عذاب ہو گئے۔ علامہ اعظمی فرماتے ہیں:

’’ان تمام اعمال کے ذریعے مسلم حکمرانوں اور عوام نے خدا کے غضب کو دعوت دی ہے ۔ آج مشرق و مغرب میں اُمّتِ مسلمہ پر جو کچھ بیت رہی ہے انہی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ (نفس مصدر، ص۸)

بلاؤں کا نزول مومنوں کے لیے آزمائش ہے اور رجوع الی اللہ کا سنہرا موقع۔ اِس رخ سے بھی علامہ قمرالزماں اعظمی نے کئی آیات و احادیث درج کی ہیں۔ توبہ کے ضمن میں دلائل پیش کیے ہیں اور ترغیبی تبصرے بھی کیے ہیں، کاش! مسلمانوں میں رجوع کی فکر بیدار ہو۔ علامہ موصوف نے یہ ثابت کیا ہے کہ’’مومن کے لیے بلائیں اور مصائب ترقی درجات کا ذریعہ ہیں-‘‘ (نفس مصدر، ص۱۸)

عیسائیت کے خود ساختہ تصورِ گناہ اور اسلام کے نظامِ سزا و جزا کے متوازن و فطری اُصول پر عام فہم انداز میں روشنی ڈال
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ی ہے۔ اسلام فطری تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ موجودہ مصائب کا واحد حل اسلام میں موجود ہے۔ سچی توبہ کے ثمرات بھی ذکر کیے ہیں۔ اخیر میں روحانی عمل بھی پیش فرمایا ہے کہ وباؤں سے حفاظت کے ظاہری و روحانی دونوں اسباب ہیں۔حضور مفتی اعظم کا محررہ (بے نظیر عمل) درج فرمایا ہے؛ جس میں کئی روحانی فوائد مضمر ہیں۔

’’کرونا وائرس کی وبا اور قومِ مسلم‘‘ مسلمانوں کی فوز و فلاح اور رجوع الی اللہ کا فکر انگیز پیغام ہے۔ یہ کتاب طباعت کے مرحلہ میں ہے۔ نوری مشن مالیگاؤں سے تقسیم ہوگی۔ مقامی افراد کے لیے ہارڈ کاپی اور بیرونی قارئین کے لیے سافٹ کاپی بِنا قیمت دستیاب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ! ہمیں سچا مسلمان بنائے۔ احکامِ اسلامی پر عمل کا جذبۂ صالح عطا کرے۔ آمین

٭ ٭ ٭
٧؍ جولائی ۲۰۲۰ء
بروز منگل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Android Apps by ISHAN

اینڈرائڈ ایپ کیسے بنائیں!
Android App एंड्राइड ऐप
https://youtu.be/2o5tBICv11E

ایشان ٹولس ¹ایپ ¹²فیچر ...
ISHAN Tools ईशान टूल्स
https://youtu.be/LGEbaWjzNEs

ایم آدھار ایپ M Aadhar
MAadhar एम आधार
https://youtu.be/slwp4FaJB4w

ایم پریوہن ایپ M Privahan
MParivahan एम परिवहन
https://youtu.be/ZaV5VO-rf5c

ڈی جی لاکر ایپ خصوصیات
Digi Locler डिजि लॉकर
https://youtu.be/Qy8khPlSOyI

یو پی تھانے کی ²⁷سہولیات فون پر
UP Thana यूपी थाना ²⁷सुविधा
https://youtu.be/3qjk6SUFdtw

گوگل فوٹو اسکین ایپ
Google Photo Scan फोटो स्कैन
https://youtu.be/OnSVCYL-fvI
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
INDIAN Online ID Cards

آن لائن جنم پرمان پتر بنائیں!
Janm Praman Patra
https://youtu.be/nVLyv7YseY4

جنم پرمان پتر ڈاؤنلوڈ کیجئے!
Janm Prman Patr
https://youtu.be/dhNe4VwnFz0

آن لائن موت | وفات سرٹیفکیٹ...
Maut Certificate मौत मृत्यु
https://youtu.be/YgZruBS-mUk

آن لائن ذات پرمان پتر بنائیں!
Zaat Praman Patra ज़ात
https://youtu.be/XWOR4T7C7K0

آن لائن اِنکم سرٹیفکیٹ
income Certificate आय प्रमाण
https://youtu.be/5lscTPV4ZSA

آنلائن نِواس پرمان پتر بنائیں!
Niwas Praman Patra निवास
https://youtu.be/QjlnW5LTFzg

آن لائن سرٹیفکیٹ ڈاؤنلوڈ کیجئے
Certificate Download
https://youtu.be/HqDTbV1E7CY
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
INDIAN Online ID Card

آدھار کارڈ میں تبدیلی ...
Aadhar Card आधार में सुधार
https://youtu.be/y4YQYeJdxfU

موبائل پر آدھار کارڈ ڈاؤن لوڈ ...
Aadhaar Download डाउनलोड
https://youtu.be/Sm1jfdolMOQ

بغیر موبائل نمبر کے آدھار ڈاؤنلوڈ
Bina Mobile Download
https://youtu.be/4jIbwgnh3lA

پَین کارڈ میں تبدیلی ...
Pan Card Sudhar पैन कार्ड सुधार
https://youtu.be/UbIPubuuYf8

پاس پورٹ میں تبدیلی ...
Pass Port पास पोर्ट Sudhaar
https://youtu.be/bwsOy5mROmo

آن لائن نیا اوٹر آئی ڈی کارڈ ...
Voter ID Card ओटर आई डी कार्ड
https://youtu.be/1v7V59qz0-8

آن لائن اوٹر آئی ڈی کارڈ بنائیں!
Voter ID Card ओटर आईडी कार्ड
https://youtu.be/XkbVa__cIo0

اوٹر آئی ڈی کارڈ میں تبدیلی ...
Voter ID ओटर आई डी Sudhãr
https://youtu.be/rIBJopE8vTs
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Online Apply Documents ↴

آدھار کارڈ میں تبدیلی ...
Aadhar Card आधार में सुधार
https://youtu.be/y4YQYeJdxfU

موبائل پر آدھار کارڈ ڈاؤن لوڈ ...
Aadhaar Download डाउनलोड
https://youtu.be/Sm1jfdolMOQ

بغیر موبائل نمبر کے آدھار ڈاؤنلوڈ
Bina Mobile Download
https://youtu.be/4jIbwgnh3lA

پَین کارڈ میں تبدیلی ...
Pan Card Sudhar पैन कार्ड सुधार
https://youtu.be/UbIPubuuYf8

بنا پروف پین کارڈ بنائیں! ⁶⁰منٹ
Bina Proof Pan Card ⁶⁰Minute
https://youtu.be/IuIytBYikOA

پین کارڈ صرف ¹گھنٹے میں بنا پروپ
Pan Card ¹Ghante Bina Proop
https://youtu.be/7facZ6U3_UQ

پین کارڈ بالکل فری ²منٹ میں
Pan Card Free only ² Minute
https://youtu.be/n15EECuzrlU

پاس پورٹ میں تبدیلی ...
Pass Port पास पोर्ट Sudhaar
https://youtu.be/bwsOy5mROmo

آن لائن نیا اوٹر آئی ڈی کارڈ ...
Voter ID Card ओटर आई डी कार्ड
https://youtu.be/1v7V59qz0-8

آن لائن اوٹر آئی ڈی کارڈ بنائیں!
Voter ID Card ओटर आईडी कार्ड
https://youtu.be/XkbVa__cIo0

اوٹر آئی ڈی کارڈ میں تبدیلی ...
Voter ID ओटर आई डी Sudhãr
https://youtu.be/rIBJopE8vTs
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
indian Proof Online Apply ↴

آن لائن جنم پرمان پتر بنائیں!
Apply Birth Certificate
https://youtu.be/nVLyv7YseY4

جنم پرمان پتر ڈاؤنلوڈ کیجئے!
Download Janm Prman Patr
https://youtu.be/dhNe4VwnFz0

آن لائن موت | وفات سرٹیفکیٹ...
Death Certificate मौत मृत्यु
https://youtu.be/YgZruBS-mUk

آن لائن ذات پرمان پتر بنائیں!
Cast Certificate ज़ात प्रमाणपत्र Zaat
https://youtu.be/XWOR4T7C7K0

آن لائن اِنکم سرٹیفکیٹ
income Certificate आय प्रमाण
https://youtu.be/5lscTPV4ZSA

آنلائن نِواس پرمان پتر بنائیں!
Niwas Praman Patra निवास
https://youtu.be/QjlnW5LTFzg

آن لائن سرٹیفکیٹ ڈاؤنلوڈ کیجئے
Certificate Online Download
https://youtu.be/HqDTbV1E7CY
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Android Apps by ISHAN↴

نیا اینڈرائڈ ایپ کیسے بنائیں!
New Create Android App
https://youtu.be/2o5tBICv11E

ایشان ٹولس ¹ایپ ¹²فیچر ...
ISHAN Tools ईशान टूल्स
https://youtu.be/LGEbaWjzNEs

ایم آدھار ایپ M Aadhar
mAadhar एम आधार App
https://youtu.be/slwp4FaJB4w

ایم پری وہن ایپ m Privahan
mParivahan एम परिवहन
https://youtu.be/ZaV5VO-rf5c

ڈِجی لاکر ایپ کی خصوصیات
Digi Locler डिजि लॉकर App
https://youtu.be/Qy8khPlSOyI

یو پی تھانے کی ²⁷سہولیات فون پر
UP Thana यूपी थाना ²⁷सुविधा
https://youtu.be/3qjk6SUFdtw

گوگل فوٹو اسکین ایپ
Google Photo Scan फोटो स्कैन
https://youtu.be/OnSVCYL-fvI

ایشان ایل ایل بی | ISHAN LLB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
آج جب بھی کوئی عالم دین کاروبار کا سوچتا ہے تو کوئی اسے دین کے منافی قرار دیتا ہے “ اگر یہی کرنا تھا تو مدارس میں کیوں رہے ؟؟ “ اور ہمت کرکے کوئی پہلا قدم اٹھا بھی لے تو ہم عصر یہ طعنہ دے کر خون جلاتے ہیں “ تدریس کے لئے قبولیت شرط ہے قابلیت نہیں ، اللہ نے قبول نہیں کیا انتہائی افسوس “ 

اگر تاریخ سلام پہ نگاہ دوڑائی جائے تو کاروبار کی شروعات ہی اسلام کی شروعات نظر آتی ہے ۔
پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں پال کر فروخت کیں ، حضرت ابوبکر نے کپڑا ، حضرت عمر نے اونٹ ، حضرت عثمان نے چمڑا اور حضرت علی نے خَود اور زر ہیں فروخت کرکے اپنے گھر کے کچن کو سہارا دیا ۔۔

حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کھجوروں سے ، حضرت ابو عبیدہ نے پتھروں سے ، حضرت سعد نے لکڑی کے برادے سے ،حضرت امیر معاویہ نے اون سے ، حضرت سلمان فارسی نے کھجور کی چھال سے ، حضرت مقداد نے مشکیزوں سے 
اور حضرت بلال نے جنگل کی لکڑیوں سے اپنے گھر کی کفالت کا فریضہ سرانجام دیا ۔۔

امام غزالی کتابت کرتے ، اسحاق بن رہوے برتن بنا تے ، حضرت امام بخاری ٹوپیاں بناتے ، ، امام مسلم خوشبو بیچتے ، امام نسائی بکریوں کے بچے فروخت کرتے ، ابن ماجہ رکاب اور لگامیں مہیا فرماتے رہے ۔۔

امام حضرت سالم بن عبداللہ بازار میں لین دین کیا کرتے تھے. حضرت ابو صالح سمان روغن زیتون کا کام کیا کرتے تھے ، حضرت امام یونس ، حضرت ابن عبید داؤد ، حضرت ابن ابی ہند، حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت وثیمہ ریشمی پارچہ کاکام کرتے رہے۔

حافظ الحدیث غندر بصری نے چادروں کا ، امام القراء حمزہ نے زیتون، پنیر اور اخروٹ کا ، امام قدوری نے مٹی کے برتنوں کا ، امام بخاری کے استاد حسن بن ربیع نے کوفی بوریوں کاکاروبار سنبھالا ۔

حضرت امام احمد ابن خالد قرطبی نے جبہ فروش کی ، 
حضرت امام ابن جوزی نے تانبا بیچا ، حافظ الحدیث ابن رومیہ نے دوائیاں ، حضرت ابو یعقوب لغوی نے چوبی لٹھا ، حضرت محمد ابن سلیمان نے گھوڑے اور مشہور ومعروف بزرگ سری سقطی نے ٹین ڈبے بیچ کر اپنی معیشت کو مضبوط کیا ۔

محترم علماء کرام ! 
مدرسہ میں پڑھانا ، مسجد میں امامت کروانا یا تصنیف و تالیف میں مشغول ہونا اچھی بات ہے لیکن ہمارے اکابرین نے انہی کاموں کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی کیا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھئے ۔۔ دور نبوت سے لے کر دور صحابہ تک ، تابعین سے آئمہ کرام اور مجتہدین تک سبھی لوگ کاروبار سے وابستہ رہے ۔۔

لیکن افسوس ہم ذریعہ معاش کے لئے کچھ سوچنا بھی توکل کے برعکس سمجھتے ہیں


تحریر
*شیخ زادی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM