🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Zubair 006
و گیا۔*
ایک شخص نے حدیث پاک کا ایک حصہ سنا: مدینہ منورہ میں عرینہ نامی قبیلہ کے کچھ لوگ آئے، انھیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوا کے طور پر ان کے لیے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تجویز فرمایا، جس سے انہیں شفا ملی۔ سننے والے کو یہ حدیث گراں گزری اور غیر اخلاقی محسوس ہوئی، اس نے اسلام چھوڑ دیا۔
خیال رہے یہاں قصور ان اسلامی روایات کا نہیں، ان پہنچانے والوں کا ہے، جنھوں نے نخواندہ طبقے تک شریعت کا ایک حصہ تو پہنچایا لیکن وہ کار ترسیل و تبلیغ میں عصر جدید کا پاس نہ رکھ سکے، ان کی معقول توجیہ نہ کر سکے اور اَن کہی نفسیات کا لحاظ نہ کر سکے۔
*(ط) اسلام میں بھی دیگر مذاہب والی کم زوریاں ہیں:۔* پختہ کار ملحدین اسلام پر مسلسل حملہ آور رہتے ہیں اور ان کا ماننا یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو جتنا پاکیزہ بنا کر پیش کرتے ہیں، در حقیقت اسلام اتنا شفاف نہیں بلکہ اس کے اندر بھی وہ تمام کم زوریاں ہیں، جو دیگر مذاہب میں بیان کی جاتی ہیں جیسے مسلمان بڑے شد و مد کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام مساوات کا پیغام بر ہے اور یہاں ذات پات کا کوئی تصور نہیں جبکہ یہ جھوٹ ہے اور *یہاں بھی اولاد رسول یعنی سیادت کے نام پر پروہت واد/ کاسٹ سسٹم/ ذات پات کے تمام تصورات موجود ہیں۔* یہی حال ان دیگر دعووں کا ہے، جنھیں لے کر مسلمانوں میں بہت زیادہ زعم پایا جاتا ہے۔
*الحاد کی روک تھام:-*
یہ وہ چند نمایاں اسباب و عوامل اور موٹے موٹے مسائل ہیں جن کا نتیجہ مسلم دنیا الحاد کی شکل میں بھگت رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اور اسی قسم کے ملحدین کے دیگر بیشتر اعتراضات سطحی، جھوٹ پر مبنی، غلط فہمی کا نتیجہ، مذہبی تعصب کی دین اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اب یہی چھوٹے چھوٹے عوارض ایمان لے ڈوبنے کے لیے بہت کافی ثابت ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت الحاد پوری دنیا میں اسلام کے سامنے سب سے بڑے چیلنج کی شکل میں ہے اور *آج تک کسی بھی فرقے، نظریہ یا مذہب نے اسلام کو اس قدر گزند نہیں پہنچایا ہوگا، جتنا گزشتہ تھوڑے عرصے میں الحاد پہنچا چکا ہے۔*
الحاد کی اس بڑھوتری کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ملحدین ترک مذہب کے علاوہ کسی نئے مذہب کے داعی نہیں ہوتے، اس لیے انھیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بلکہ بندہ پہلے جس مذہب سے وابستہ ہے، محض اس سے بد گمان کرنا ہی ان کے لیے کافی ہوتا ہے اور یہ کام آج کے دور میں بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اس پوری فتنہ انگیزی کے عہد میں اسلامیان ہند کے لیے من جانب اللہ ایک زریں موقع یہ ہے کہ *بھارت کے ملحد ہنوز سوشل میڈیائی گروپس کے علاوہ کہیں منظم نہیں اور یہاں کی حکومتیں اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے ابھی انھیں دیدہ و دانستہ نظر انداز بھی کر رہی ہیں، اس لیے ان کی واپسی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں* جبکہ دیگر ممالک میں یہ طبقہ منظم بھی ہے اور حکومتوں کا منظور نظر بھی۔
لیکن بھارت میں بھی غیر منظم ہونے کا وہ مطلب ہرگز نہیں، جو اسلام اور مسلمانوں کے تئیں تصور کیا جاتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پوری خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے اور الگ الگ پلیٹ فارمز پر *ایکس مسلمز* کے نام سے بہت متحرک گروپس چلا رہا ہے۔ یہ غیر منظم رفتار بھی اتنی تیز ہے کہ دیدہ بینا نہ رکھنے والے عام اور رسمی مسلمانوں کے لیے اس کی طوفانی رفتار کا صحیح اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔
اس رفتار اور طرز عمل کا ہلکا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور مذہبی تنظیم *"دعوت اسلامی"* سے وابستہ ایک شخص جو کبھی راجستھان کے شہر سیکر میں اس تنظیم کا رضا کارانہ مبلغ ہوا کرتا تھا، ابھی الحاد کے راستے پر ہے۔
امید ہے حساس مزاج اور اسلام کے تئیں درد مند دل رکھنے والوں نے موضوع کی نزاکت محسوس کر لی ہوگی اور دنیا جہان کی ضروری / غیر ضروری مصروفیات و مباحث کے بیچ اس چیلنجنگ موضوع پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ یہ بھی امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ مذہبی تقریریں اور تحریریں پیش کرنے والے جہاں اپنے لیے اجرو ثواب کے متمنی رہتے ہیں، وہیں ذہن کے ایک گوشے میں یہ بھی خیال رکھیں گے : *کہیں ہمارے غیر علمی، غیر معقول، تشدد آمیز، فرسودہ، غیر نفسیاتی، غلط طرز تعبیر، یا برے کردار و عمل کی وجہ سے دنیا ہمارے مذہب سے برگشتہ تو نہیں ہو رہی ہے؟؟؟*
خدا نخواستہ، صد بار نخواستہ اگر کہیں ایسا ہوا، یا خاموشی سے ہو رہا ہے تو اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے تیار رہیے جس نے خاتم الانبیا ﷺ کے واسطے سے پوری دنیا کو اکمل مذہب دیا، لیکن اس کی تبلیغ کے دعوے دار ہی کسی کے لیے اس سے برگشتگی کا سبب بن گئے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ*
"مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں"

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! سبب ہے کچھ اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ہے اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی   ؎

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

    حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء ہے۔ ان کا سراپا دل آویز ہے۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی ہے۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہ سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جوڑ دیتے تھے۔ اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسول میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہم کنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و حرب کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ہے  ؎

نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں

    راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے۔ کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں۔ ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے... وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی ممانعت سختی سے فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎

دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دین کا
ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں

    حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ؛ اور جوعاشقِ رسول ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ اور عقیدہ پختہ ہو رہا ہو عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بری
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
لی شریف کے گلشن میں؛ گلشن آباد (ناسک) اور جوارِ مخدوم مہائمی(ممبئی) میں- ہر جگہ جمالِ ولایت سے نگاہیں نور بار ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے محبت کا درسِ مُصَفّیٰ ملا- سبحان اللہ!

    حضور تاج الشریعہ کا نعتیہ کلام کیف و سرور کو بڑھا دیتا ہے اور ایسے اشعار بھی درِ دل پر دستک دے کر ذہن کے تاروں کو متحرک کر دیتے ہیں اور محبت کا نصیبہ بیدار ہو جاتا ہے  ؎

گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغ ہستی
اس کی آنکھوں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو

دردِ اُلفت میں دے مزا ایسا
دل نہ پائے کبھی قرارسلام

اسی بے قراری اور محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کی قندیل فروزاں کیے حضور تاج الشریعہ ۷؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ/۲۲؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو واصلِ حق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گئے بزم سونی کر گئے- ان کی یادوں کے چراغ قلبِ مومن کو فروزاں کر رہے ہیں-

    جس کی نگاہوں میں خاکِ حجازِ مقدس کا سرمہ ہو اس کو باطل کی چیرہ دستیاں بھلا کس طرح لرزہ بر اندام کر سکتی ہیں؟ جسے محبوب کی محبت و عشق کا درد ہو؛ اسے حوادث و فتن کس طرح مبتلائے آلام بنا سکتے ہیں۔ جس کا دل محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں کھویا ہو اور اسی میں اسے راحت میسر ہو اس کے قلبِ روشن کو کون مضمحل کر سکتا ہے! اور جب دل کی دنیا ذکرِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آباد ہو تو کوئی اسے پژمردہ نہیں کر سکتا؛ ایسے عاشق صادق کی نگاہوں میں شفق کا حسن نہیں بس سکتا اور چمن کی جلوہ آرائی اس کی نگاہوں کو اپنا اسیر نہیں بنا سکتی ہے، تو جب اس گام پر کوئی شخصیت مطلع انوار نظر آتی ہے تو وہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے؛ جن کی فکر و بصیرت نے کتنے آزردہ دلوں اور شوریدہ فکروں کو گنبدِ خضرا کی بہاروں کا مشتاق بنا دیا ۔ وہ سر جس میں ہوا و ہوس کا سودا سمایا تھا اس میں ایک انقلاب کا سماں پیدا کر دیا۔ یادِ شہ بطحا نے دل و دماغ کو روشن کر دیا   ؎

نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں

    بندہ جب اللہ کا ہو جاتاہے تو مخلوق اس کی شان و رفعت کی قائل ہو جاتی ہے اور اس کی طرف مائل۔ ہم نے دیکھا کہ جب حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کسی بزم میں پہنچ جاتے تو پروانے ٹوٹ ٹوٹ پڑتے، دل فدا ہو جاتے۔ سچ ہے جو شریعت کے اصولوں کا عامل ہو جاتا ہے مخلوق اس کی تعظیم میں عجلت کرتی ہے اور لوگ پروانہ وار اس کے دید کو امڈ پڑتے ہیں اور یہ شہرت و عطا تو اس بارگاہ کی ہے جہاں دل کا حال کھلا ہوا ہے اور جہاں جود و عطا کے دھارے چلتے ہیں، فیض کے دریا بہتے ہیں- امام بوصیری علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے  ؎

کَالزَّھْرِ فِیْ تَرَفٍ والْبَدْرِ فِیْ شَرَفٍ
وَالْبَحْرِ فِی کَرَ مِ والدَّھْرِ فِی ھِمَمٖ

ترجمہ: آپ تازگی میں کلی کی مانند ہیں، اوج و رفعت میں ماہ کامل کے مثل، جود و سخا میں سمندر کی طرح، اور عزم و حوصلہ میں زمانہ کی مانند ہیں۔

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

    جسے بارگاہِ رسالت سے عطاو نوازش کا وافر حصہ ملا ہو اس کی شان تو دوبالاہو گی ہی؛ اس کی رفعت و بلندی کے ترانے گنگنائے جائیں گے۔ آج جو شہرت و دوام حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے یہ وہ نہیں کے جسے گھٹا دیا جائے یا اس میں کوئی کمی آجائے بلکہ یہ تو عطائے خاص ہے، اب کوئی چاہے تو اس پر مبتلاے رنج ہو اور کوئی مسرور۔ وصف مومن اظہارِ تشکر ہے؛

    الٰہی عزوجل! جب تک چمن میں مرغ نوا سنجی کرتے رہیں حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی لحد پر رحمت و انوار کی بارانِ مبارک برستی رہے۔ جب تک بلبل کی خوش خرامی گلشن میں اپنی آوازکا جادو جگاتی رہے اختر کی تابندگی روز بڑھتی رہے۔ جب تک آبشاروں کا ترنم جمالیات کی بزم کو آراستہ کرتا رہے اور افق کا جمال نگاہوں کو تازگی دیتا رہے حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ علم کی خوشبو پھیلتی رہے۔ جب تک ستاروں کی انجمن میں روشنی رہے اخترِ خوش نوا کی رعنائی ایمان کی دمک بڑھاتی رہے۔ جب تک آسمان نیلگوں پر ماہ تاب کی چمک باقی رہے اور جب تک جامِ محبت چھلکتے رہیں حضور تاج الشریعہ کے علم و فضل کی کرنوں سے کائنات عالم کے مسلماں سیراب و فیض یاب ہوتے رہیں۔ ان کے فیض کی کرنیں قلب حزیں کو بقعۂ نور بناتی رہیں؛ باغِ رضا کے عندلیب خوش نوا کی بوئے مشک بو مشامِ فکر کو مہکاتی رہے ؎

اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار
بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے

٭٭٭
*نوٹ:* مضمون کچھ عرصہ قبل لکھا گیا؛ بزمِ مطالعہ میں آج پیش کیا جا رہا ہے... مشاہدات کی نگاہیں جلوؤں سے آج بھی تازہ ہیں... اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص دے اور اسلاف کی راہ چلائے...
٦ جولائی ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک بیوی سے فائدہ کیا ہوا؟

مرد نکاح کیوں کرتا ہے؟
مقصد کیا ہوتا ہے؟
پہلا یہ کہ عورت کے ذریعے اولاد حاصل ہو،
دوسرا یہ کہ گناہوں سے بچ سکے یعنی بدنگاہی، مشت زنی یا زنا کے قریب نہ جائے پر ایک بیوی میں یہ دونوں مقصد پورے نہیں ہوتے!

ایک بیوی سے زیادہ اولاد ممکن نہیں، زیادہ اولاد کے لیے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا ضروری ہے پھر ایک بیوی سے مقصد کہاں پورا ہوا؟
دوسرا ہے گناہوں سے بچنا تو کیا یہ بھی ایک بیوی سے ہر کسی کے لیے ممکن ہے؟

حدیث میں حکم ہے کہ جب کسی عورت پر نگاہ پڑے اور وہ اچھی لگے (یعنی اس کی خواہش ہو) تو اپنی بیوی کے پاس آئے اور اپنی خواہش کو پوری کر لے لیکن اگر اس کی بیوی حیض کی حالت میں ہو تو پھر اس کے پاس کون سا راستہ (Option) ہے؟ پھر گناہوں سے بچنا جو مقصود تھا وہ کہاں پورا ہوا؟

صرف حیض کی بات نہیں ہے، عورتوں کے کئی مسائل ہیں مثلاً ایک بیوی ہے اور گھر کا کام ہے، ایام حمل (Pregnancy) ہے، تھکان ہے، مزاج (Mood) ہے، طبیعت ہے، بچے ہیں اور حیض، نفاس اور استحاضہ وغیرہ اپنی جگہ ہے تو ہر مرد کے لیے کوئی عقلمند ایک بیوی کو کافی قرار نہیں دے سکتا اور مرد کو دوسری شادی سے روکنا اصل میں اسے ذہنی اور جسمانی طور پر تکلیف پہنچانا اور گناہوں کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے۔

اگر آپ نکاح کے مقصد کو پانا چاہتے ہیں تو ایک سے زیادہ شادیاں ضروری ہے۔
اولاد بھی زیادہ ہوگی، میاں بیوی خوشحال بھی ہوں گے اور دنیا و آخرت میں کامیاب بھی ہوں گے۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پہلے نماز پھر تعویذ

حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد قادری رحمہ اللہ تعالی کے پاس تعویذ لینے والوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔
آپ رحمہ اللہ تعالی پہلے پوچھتے کہ نماز پڑھتے ہو یا نہیں؟

تعویذ کا طلبگار کہتا کہ نہیں پڑھتا ہوں یا کبھی کبھار پڑھتا ہوں تو فرماتے کہ تم نماز نہیں پڑھتے تو اللہ تعالی تم سے ناراض ہے تو پھر میرا تعویذ وہاں کیا کام کرے گا؟

اس انداز سے آپ لوگوں کو نماز کی ترغیب دیتے۔

(عظمتوں کے پاسبان، ص56)

ایسے تھے ہمارے اکابرین جو لوگوں کو فرائض و واجبات کی اہمیت ہر موقعے پر بتایا کرتے تھے۔
جو چیزیں مستحب ہیں ان کا انکار نہیں پر پہلے فرائض و واجبات ہیں جن کا ترک ہزاروں مستحب کاموں کے ترک سے برا ہے۔

آج ہمارے درمیان ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر کسی گھر میں موت ہو جائے اور پھر گھر والے چوتھے چالیسویں وغیرہ کی محفل اور دعوت نہ کریں اگرچہ وہ سنی ہے تو لوگ انھیں اس نظر سے دیکھیں گے کہ مانو کوئی جرم کر دیا ہو وہیں اگر وہ پورے گھر والے نماز نہ پڑھتے ہوں تو پھر لوگوں کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورت تیڑھی پسلی

مردوں کو یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہیے کہ عورت تیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ارشاد ہوا ہے۔
عورتوں سے کبھی یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ مکمل درست ہو جائے گی اور اگر کوئی اسے ہر طرح سے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر اسے کھو بیٹھے گا یعنی طلاق ۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ عورت کی اصلاح نہ کریں ۔
اصلاح کی پوری کوشش کریں لیکن نرمی اور محبت کے ساتھ ۔
عورتیں بہت جزباتی (Sensitive) ہوتی ہیں، اگر کوئی میٹھی میٹھی باتوں سے چاہے تو انھیں فوراً راضی کر لے لیکن اگر آپ تیڑھے پن پر آئیں گے تو یاد رکھیے کہ وہ پہلے سے.....

سختی بھی کرنی چاہیے لیکن شرعی معاملات میں جیسے نماز نہ پڑھے، پردہ نہ کرے یا کوئی غیر شرعی کام کرے پر اس میں بھی پہلے نرمی سے کوشش کریں اور نہ مانے تو تھوڑی سختی دکھائیں پھر بھی نہ مانے تو تھوڑا بہت مار سکتے ہیں پر آج کل ان باتوں کی وجہ سے کسی نے سختی کی ہو ایسا جلدی سننے میں نہیں آتا بلکہ اکثر لڑائی جھگڑے ایسی باتوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جنھیں ایک مرد چاہے تو گھر میں کسی کو پتہ چلے بغیر حل کر لے ۔

عورتیں جیسی ہیں ان سے اسی طرح فائدہ اٹھائیں۔
ان کی غلط عادتوں کو نظر انداز کریں اور اچھائیوں کو دیکھیں، اسی میں فائدہ ہے ۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی حق پہ پہرا دینے کی وجہ سے حق پرستوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں
(جلالیہ علماء کونسل)


🗓 03 Jul 2020

مرکز صراط مستقیم تاج باغ لاہور اور جامعہ جلالیہ کے فضلائے کرام کی نمائندہ تنظیم ”جلالیہ علماء کونسل“ کے زیر اہتمام ”جلالیہ علماء کنونشن“ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اضلاع سے جلالیہ علماء کونسل کے علماء نے شرکت کی۔جلالیہ علماء کنونشن میں یہ کہاگیا:

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی حق پہ پہرا دینے کی وجہ سے حق پرستوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں۔ عقائد اہل سنت کے تحفظ کے محاذوں پر ہم ہر گھڑی میں ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے ساتھ رہیں گے۔ نظریاتی اور اعتقادی بگاڑ کے مقابلہ میں جس طرح ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی سینہ سپر رہے ہیں، علمائے ربانی کا ہمیشہ سے یہی شیوہ رہا ہے۔

آپ کی سالہا سال سے یہ تحریک ہے کہ عوام علماء کی پیروی کریں نہ کہ علماء عوام کی پیروی کریں۔ آپ نے یہ جدوجہد کی کہ جو نظریہ ہمارے آئمہ کی کتابوں میں ہے وہی مجمع عام کے خطابوں میں ہونا چاہیے۔آج کچھ لوگ اہل سنت کے مخالفین ایجنڈے پر یہ کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے کردار، مذہبی خدمات اور دلیل و برہان کا جن لوگوں کے پاس جواب نہیں وہ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
شرکائے کنونشن نے چند قراردادوں کے لیے حکومت سے یہ مطالبات کیے:

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے کلام کو سیاق و سباق سے ہٹا کر جن لوگوں نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں اپنی طرف سے خطاکار اور غیر صدیقہ کے الفاظ گھڑ کے لکھے اوراپنی طرف سے ایک من گھڑت داستان بنا کے ایف آئی آر کٹوائی ان کا سختی سے محاسبہ کیا جائے۔

جن لوگوں نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کو مبینہ طور قتل کی دھمکیاں دی ہیں اور سر کی قیمت مقرر کی ہےِ حکومت ان کو گرفتار کر کے ارادہ قتل کی سزا دے۔

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے خلاف حکومت کی ظالمانہ کاروائیاں برداشت نہیں کر سکتے۔
ایک قرارداد کے ذریعے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مذمت کی گئی اور اسے نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب حق پہ پہرا دینے کی وجہ سے حق پرستوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں
(جلالیہ علماء کونسل)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
سوال ۔۔۔۔۔۔۔ لاک ڈوان و تنخواہ

مدرس لاک ڈاؤن کے ایام کی تنحواہ کا مستحق ہوگا یا نہیں؟

المستفتی : توصیف رضا مصباحی، سنبھل، یوپی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب موجودہ حالات میں دو طرح کی تنخواہ کا مسئلہ در پیش ہے، ایک تعطیل کلاں اور دوسری تعطیل کلاں کے علاوہ ایام میں لاک ڈاؤن کی تنخواہ
مدرسین کوتعطیل کلاں کی تنخواہ دی جائیےگی وہم حقدارہیں اور تعطیل کلاں کے علاوہ لاک ڈاؤن کے ایام کی تنخواہ بھی مدرس کو ملے گی؛ کیوں کہ اگرچہ چھٹی ہوگئی ہے مگر ابھی مدرس مدرسہ میں ملازم ہے اور ملازمت کی حالت میں تنخواہ ملتی ہے؛ اس لیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدرس چھٹی کے ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوگا۔
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’ایام تعطیل کی تنخواہ بحالت ملازمت ملتی ہے، شرعا عرفا یہی قاعدہ ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، مجدد دین ملت، کتاب الإجارۃ، ج۱۴، ص۲۴۷، ط: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)
الأشباہ و النظائر میں ہے: ’’الْبَطَالَةُ فِي الْمَدَارِسِ، كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ.
وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي، وَقَدْ اخْتَلَفُوا فِي أَخْذِ الْقَاضِي مَا رُتِّبَ لَهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ بَطَالَتِهِ، فَقَالَ فِي الْمُحِيطِ: إنَّهُ يَأْخُذُ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي وَقِيلَ: لَا يَأْخُذُ (انْتَهَى) وَفِي الْمُنْيَةِ: الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ، وَقَالَ: إنَّهُ الْأَظْهَرُ‘‘۔ (الأشباہ و النظائر، امام ابن نجیم، الفن الأول، القائدۃ السادسۃ، ص۸۱، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نیز اس جہت بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ یہاں مدرس کا عمل سے رکنا خود مدرس کی جانب سے نہیں بلکہ دوسرے کی طرف سے ہے؛ اس لیے بھی مدرس ان ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوگا۔
رد المحتار میں ہے: ’’وَفِي فَتَاوَى الْحَانُوتِيِّ يَسْتَحِقُّ الْمَعْلُومَ عِنْدَ قِيَامِ الْمَانِعِ مِنْ الْعَمَلِ وَلَمْ يَكُنْ بِتَقْصِيرِهِ سَوَاءٌ كَانَ نَاظِرًا أَوْ غَيْرَهُ كَالْجَابِي‘‘۔ (رد المحتار مع الدر المختار، امام ابن عابدین شامی، مطلب فی قطع الجھات لأجل العمارۃ، ج۴ص۳۷۲، ط: دار الفکر، بیروت)

حاصل کلام یہ ہے کہ ہر مدرس و ملازم لاک ڈاؤن کے ایام کی چھٹی کی تنخواہ کا ضرور مستحق ہے،

و اللہ تعالی أعلم۔
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا ۳؍ ذی القعدۃ ۱۴۴۱ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🗓 Sticker
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
(مسئلہ) جو حافظ قرآن مجید یاد کرکے بھول جائیے تو کیا اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی؟
(جواب) اس شخص کے پیچھے نماز جائز ہے جس نے قرآن مجید یاد کیا لیکن اب اسے یاد نہیں رہا کیونکہ یہ مؤجب فسق نہیں ہے۔ انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا. (سنن ابو داؤد، م: ٤٦١؛ سنن الترمذی، م: ٢٩١٦؛ میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی سورت یا آیت دی جائے پھر وہ اسے بھلا دے۔) غالبا اس حدیث میں سورت بھلانے سے اس کی تعلیمات کو بھلانا مراد ہے اور گناہ عظیم اور گناہ کبیرہ میں فرق ہے لہذا وہ شخص فاسق معلن نہیں ہوتا۔ والله تعالی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*کانپور انکاؤنٹر :حکومت وانتظامیہ کی دوغلی پالیسی پر سوالیہ نشان؟؟*

غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

47؍سال کا ہسٹری شیٹر وِکاس دُوبے ہے لیکن کارنامے عمر سے بڑھ کر،اتنے کہ 60؍سے زیادہ سنگین مقدمے درج ہیں۔اس قدر خطرناک مجرم ہونے کے باوجود سیاسی پارٹیوں اور سیاست میں اس قدر دبدبہ کہ پچھلے 15؍سال سے گاؤں کی پردھانی اپنے ہی گھر میں ہے۔اپنی بیوی کے ساتھ ضلع پنچایت کی دو سیٹوں پر 15؍سال سے فتح یاب ہوتا آرہا ہے۔صوبے کی تین بڑی پارٹیوں،بی جے پی،سپا اور بسپا تک میں گہری پکڑ رکھنے والے وِکاس دوبے کی کہانی نے حکومت وانتظامیہ کا وہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جس کے بارے میں بہت کھل کر کبھی بات نہیں ہوتی۔کانپور میں آٹھ پولیس والوں کی موت نے کچھ ایسے سوالات کھڑے کیے ہیں جن کے جواب دینا حکومت اور انتظامیہ کے لیے بے حد ضروری ہیں۔آٹھ پولیس جوانوں کا ایک تصادم میں ہلاک ہوجانا معمولی واقعہ نہیں ہے اس لیے اس سسٹم پر بھی کھل کر بات ہونا چاہیے جہاں سے ایسے مجرمین تیار ہوتے ہیں اور حکومت وانتظامیہ کی جانب سے ان کی سرپرستی کی جاتی ہے۔

یوپی کی بی جے پی حکومت بار بار یہ دعوی کرتی آئی ہے کہ ماقبل کی سپا بسپا حکومتوں میں جرائم اور مجرمین کا بول بالا تھا لیکن بی جے پی حکومت کی تشکیل کے بعد مجرمین نے یوپی چھوڑ دیا ہے۔بات سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہے لیکن جب اس دعوے کو حقیقت کی زمین پر پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سارے دعوے ہوائی ہیں۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(NCRB) کی 2019 میں جاری رپورٹ کے مطابق جرائم کے معاملے یوپی پورے ملک میں سر فہرست ہے۔خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں بھی یوپی پہلے نمبر ہے۔یہاں ایک سال میں خواتین کے ساتھ ہونے والے درج شدہ جرائم کی تعداد 56011 ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے اغوا کے واقعات کے کل 21؍فیصد کیس یوپی میں ہوئے ہیں۔اسی طرح بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم میں بھی یوپی پہلے نمبر پر ہے۔ایک سال میں یوپی کے اندر قتل کی 28 ہزار 653 واردات درج کی گئیں ہیں۔ یہ سارے جرائم اس وقت ہوئے ہیں جب یوپی میں ایک ہزار سے زائد انکاؤنٹر کے دعوے کیے گیے ہیں اور وزیر اعلیٰ یہ دعوی کرتے گھوم رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے بعد مجرمین یوپی چھوڑ کر چلے گیے ہیں۔اب یہ پہیلی سمجھ سے باہر ہے کہ جب سارے مجرمین یوپی چھوڑ کر چلے گیے،جو باقی بچے انہیں انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا تو پھر یہ جرائم کون کر رہا ہے؟

اگر چند بڑے جرائم کی بات کریں تو پچھلے سال 17؍جولائی کو سون بھدر میں 10 قبائلی افراد کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔
ستمبر ۲۰۱۸ء میں راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر میں دو پولیس والوں نے Apple کمپنی کے ایریا مینجر وِویک تواری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اناو ضلع میں بی جے پی ایم ایل اے کُل دِیپ سِنگھ سَینگر نے ایک نابالغہ کے ساتھ زنا بالجبر کیا، مخالفت کرنے کی پاداش میں اس کے باپ کو بری طرح مارا پیٹا اورجھوٹے کیس میں گرفتار کرایا جہاں جیل میں ہی موت ہوگئی۔
اسی کیس میں مقدمے کی پیروی کر رہی اس کی چاچی اور مَوسِی کو ایک ٹرک ایکسی ڈینٹ کے ذریعے قتل کرا دیا گیا۔خود متاثرہ شدید زخمی ہوئی۔
یوپی میں یہ سارے جرائم علی الاعلان ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ اور یوپی انتظامیہ نے انتہائی سرد مہری سے کام لیا،اُنّاو کیس میں تمام تر ثبوتوں کے باوجود یوپی پولیس نے مجرم سینگر کو گرفتار تک نہیں کیا،کیس این آئی اے(NIA) کے ہاتھ میں آیا تب جاکر یہ خطرناک مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا۔

*حکومت وانتظامیہ کی مسلم دشمنی*
جو حکومت وانتظامیہ کھلے عام غنڈہ گردی کرنے والے مجرموں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچتی ہے اسی یوپی حکومت اور انتظامیہ کا دوسرا چہرہ دیکھیے !!
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں مسلمانوں نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے اس قانون کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کیے۔لیکن حکومت وانتظامیہ نے جمہوری احتجاج کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا اور خاموش احتجاج کر رہے مظاہرین پر پولیس نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ گولیاں چلائیں۔پورے صوبے میں قریب ۲۲؍سے زائد مظاہرین کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔مظاہرین بے قابو ہو جائیں تو پولیس احتیاطاً ربڑ کی گولیاں چلا سکتی ہے مگر کمر سے نیچے تاکہ جانی نقصان نہ ہو اور مظاہرین پر قابو پایا جاسکے۔لیکن پولیس کو یہ قاعدے قانون اس وقت یاد رہتے ہیں جب مظاہرین غیر مسلم ہوں، مسلمانوں کو دیکھتے ہی پولیس کی بندوق سیدھا سینے کی جانب اٹھتی ہے اور ربڑ کی نہیں بلکہ اصلی گولی چلتی ہے۔سی اے اے مظاہروں میں اکثر مظاہرین کی موت کمر سے اوپر گولی لگنے سے ہوئی ہے۔
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے "بدلہ" لینے جیسی غیر دستوری زبان استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو دھمکی دی جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے گرفتاری کے نام پر مسلم آبادیوں پر دھاوا بول دیا۔مکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور گھر میں رہنے والے بزرگ وخواتین کو اپنے ت
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس قدر سفاکیت کے بعد بھی حکومت وانتظامیہ کا جوش انتقام ٹھنڈا نہیں ہوا تو مسلمانوں پر ہی توڑ پھوڑ اور تشدد کا الزام لگا کر جرمانہ وصولی کا نادر شاہی فرمان سنا کر سڑکوں چوراہوں پر مظاہرین کی تصویریں لگا کر شہری حقوق کی کھل کر پامالی کی گئی۔ایسا ظاہر کیا گیا مانو صوبے کے سب سے بڑے مجرمین سی اے اے مظاہرین ہی ہیں۔ اس وقت حکومت اور انتظامیہ دونوں نے ہی تمام تر اخلاقایات کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن کانپور تصادم کے بعد یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے جو حکومت سی اے اے مظاہرین کو گلی کوچوں میں تلاشتی پھر رہی تھی اس کی نگاہوں سے 60 سے مجرمانہ واردات کرنے والا گینگسٹر کس طرح چھپا رہا؟
وزیر اعلی، جنہوں نے ہائی کورٹ کی پھٹکار کے باوجود مظاہرین کی تصویروں کو ہٹانے میں آنا کانی کی، آخر انہیں وِکاس دوبے جیسے عادی غنڈے اور مجرموں کی تصوریں لگانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟
سی اے اے مظاہرین تو اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے اور جمہوری انداز میں اپنا اختلاف ظاہر کرنے آئے تھے لیکن پولیس انتظامیہ نے نِہتّے مظاہرین پر گولیاں اور لاٹھیاں برسا کر اپنی بہادری دکھانے والی پولیس ایک غنڈے کے جال میں کس طرح پھنس گئی؟
کانپور تصادم میں ایک داروغہ وِنے تِواری کا کرادر مشکوک پایا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس پارٹی کے ریڈ مارنے کی خبر داروغہ نے ہی گینگسٹر کو دی تھی جس کے بعد اس نے جال بچھا کر پولیس پارٹی پر قاتلانہ حملے کا پلان بنایا۔جہاں آٹھ بہادر جانبازوں کو اپنی جان قربان کرنا پڑی۔
ونے تواری جیسے پولیسیا افراد وِکاس دوبے جیسے گینگسٹروں کی مخبری کرتے ہیں،حکومتیں انہیں شہ دے کر پروان چڑھاتی ہیں وہی پولیس اور حکومتیں اپنے ذمہ دار شہریوں پر گولیاں برسا کر ان کے جمہوری حقوق کو بے دردی سے پامال کرتی ہیں۔ جو طاقت دوبے جیسے عادی غنڈوں کے خلاف استعمال کی جانی چاہیے وہ امن پسند عوام کے خلاف استعمال ہوتی ہے جب تک حکومت اور انتظامیہ کا یہ دوہرا کردار رہے گا وِکاس دوبے جیسے غنڈے پیدا ہوتے رہیں گے۔ اگر ملک اور سماج کو ایسے غنڈوں سے پاک کرنا ہے تو امن پسند عوام نہیں بلکہ دُوبے جیسے غنڈوں کے خلاف قانونی طاقت کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

14 ذوالقعدہ 1441 ھ
6 جولائی 2020 بروز پیر