Forwarded from Fuad Raza Khan
حضرت مفتی اعظم کو اپنی زندگی کے آخری پچیس سالوں میں جو مقبولیت و ہر دل عزیزی حاصل ہوئی وہ آپ کے وصال کے بعد ازہری میاں صاحب کو بڑی تیزی کے ابتدائی سالوں میں حاصل ہو گئی اور بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی"
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ کے عالمی دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی*
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ڈاکٹر محمد عمارہ کہتے ہیں کہ ایک تقریب میں ایک سیکولر صاحب نے مجھ پر طنز کرتے ہوئے کہا:
"آپ کی کتابیں اور آپ کی تحریرں موجودہ زمانے میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ہمیں پچھلے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ان سے کہا:
پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا پچھلے زمانے سے آپ کی مراد آج سے سو سال پہلے کا زمانہ ہے جب سلطان عبد الحمید آدھے کرہءِ ارضی پر حکمران تھے؟ یا جب یورپ کے حکمران عثمانی خلیفہ کی اجازت اور تعیناتی کے بعد حکومت سنبھالتے تھے۔
یا اس سے بھی پہلے جب سلاطین ممالیک نے دنیا کو تاتاریوں اور منگولوں کے حملوں سے نجات دلائی؟
یا اس سے بھی پہلے جب عباسی آدھی دنیا کے حکمران تھے؟
یا اس سے بھی پہلے امویوں کا زمانہ۔۔۔یا سیدنا عمر کا زمانہ جب آپ نے دنیا کے اکثر و بیشتر حصے پر حکمرانی کی؟
کہیں پچھلے زمانے سے تمہاری مراد وہ زمانہ تو نہیں جب ہارون الرشید نے روم کے شہنشاہ نقفور کی طرف ان الفاظ میں خط لکھا:
"امیر المومنین ہارون الرشید کی طرف سے روم کے کتے نقفور کے نام"
یا تمہاری مراد عبد الرحمن داخل کا زمانہ ہے جس نے حبشہ، اٹلی اور فرانس کو اپنے حصار میں لے لیا؟
یہ تو رہی پچھلے زمانے کی سیاسی صورت حآل
کہیں آپ پچھلے زمانے کی علمی صورت حال کی طرف اشارہ تو نہیں کر رہے ہیں؟ جب ابن سینا، الفارابی، ابن جبیر، الخوازمی، ابن رشد، ابن خلدون وغیرہ جیسے علماء اور سائنس دان دنیا کو طب، انجینئرنگ، میڈیسن، فلکیات اور شاعری کی تعلیم دے رہے تھے۔
یا تمہاری مراد پچھلے زمانے کی غیرت و حمیت ہے۔ جب ایک مظلوم عورت نے وا معتصماہ کے لفظوں سے خلیفہء وقت کو پکارا تو معتصم نے اتنا بڑا لشکر بھیجا جس نے تمام یہودیوں کو سلطنت کی حدود سے باہر جا پھینکا۔ جب کہ آج ہماری بیٹیوں کی عصمت و کرامت کا تیا پانچہ کیا جا رہا ہے جب کہ حکمران مزے اور نشے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب مسلمانوں نے اسپین میں یورپ کی سرزمین پر پہلی یونیورسٹی بنائی۔
جب عربی لباس اور عباء دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں فضلاء کا لباس ہوتا تھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب قاہرہ دنیا کا خؤبصورت ترین شہر تھا۔
یا جب عراقی دینار 483 ڈالروں کا تھا۔
یا جب پسماندہ یورپ سے ہجرت کرنے والے اسکندریہ (مصر) میں آکر پناہ لیتے تھے۔
یا جب امریکا نے مصر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپ کو قحط سے بچائے۔
بتائیے تو سہی پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کتنا پیچھے جانا چاہتے ہیں؟
پیشکش: زبیر قادری
"آپ کی کتابیں اور آپ کی تحریرں موجودہ زمانے میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ہمیں پچھلے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ان سے کہا:
پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا پچھلے زمانے سے آپ کی مراد آج سے سو سال پہلے کا زمانہ ہے جب سلطان عبد الحمید آدھے کرہءِ ارضی پر حکمران تھے؟ یا جب یورپ کے حکمران عثمانی خلیفہ کی اجازت اور تعیناتی کے بعد حکومت سنبھالتے تھے۔
یا اس سے بھی پہلے جب سلاطین ممالیک نے دنیا کو تاتاریوں اور منگولوں کے حملوں سے نجات دلائی؟
یا اس سے بھی پہلے جب عباسی آدھی دنیا کے حکمران تھے؟
یا اس سے بھی پہلے امویوں کا زمانہ۔۔۔یا سیدنا عمر کا زمانہ جب آپ نے دنیا کے اکثر و بیشتر حصے پر حکمرانی کی؟
کہیں پچھلے زمانے سے تمہاری مراد وہ زمانہ تو نہیں جب ہارون الرشید نے روم کے شہنشاہ نقفور کی طرف ان الفاظ میں خط لکھا:
"امیر المومنین ہارون الرشید کی طرف سے روم کے کتے نقفور کے نام"
یا تمہاری مراد عبد الرحمن داخل کا زمانہ ہے جس نے حبشہ، اٹلی اور فرانس کو اپنے حصار میں لے لیا؟
یہ تو رہی پچھلے زمانے کی سیاسی صورت حآل
کہیں آپ پچھلے زمانے کی علمی صورت حال کی طرف اشارہ تو نہیں کر رہے ہیں؟ جب ابن سینا، الفارابی، ابن جبیر، الخوازمی، ابن رشد، ابن خلدون وغیرہ جیسے علماء اور سائنس دان دنیا کو طب، انجینئرنگ، میڈیسن، فلکیات اور شاعری کی تعلیم دے رہے تھے۔
یا تمہاری مراد پچھلے زمانے کی غیرت و حمیت ہے۔ جب ایک مظلوم عورت نے وا معتصماہ کے لفظوں سے خلیفہء وقت کو پکارا تو معتصم نے اتنا بڑا لشکر بھیجا جس نے تمام یہودیوں کو سلطنت کی حدود سے باہر جا پھینکا۔ جب کہ آج ہماری بیٹیوں کی عصمت و کرامت کا تیا پانچہ کیا جا رہا ہے جب کہ حکمران مزے اور نشے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب مسلمانوں نے اسپین میں یورپ کی سرزمین پر پہلی یونیورسٹی بنائی۔
جب عربی لباس اور عباء دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں فضلاء کا لباس ہوتا تھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب قاہرہ دنیا کا خؤبصورت ترین شہر تھا۔
یا جب عراقی دینار 483 ڈالروں کا تھا۔
یا جب پسماندہ یورپ سے ہجرت کرنے والے اسکندریہ (مصر) میں آکر پناہ لیتے تھے۔
یا جب امریکا نے مصر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپ کو قحط سے بچائے۔
بتائیے تو سہی پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کتنا پیچھے جانا چاہتے ہیں؟
پیشکش: زبیر قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم خاں ➌ گولی خاں عرف ڈیبا خاں ➍ جواہر خاں عرف ہِیرا خاں ➎ صوبے دار خاں عرف سِپاہی خاں ➏ بُدُّھو خاں
سب سے بڑے رمضان خاں تھے!
رمضان خاں کے تین بیٹے تھے ➊ عبد الرؤوف خاں ➋ نواب خاں عرف کھنڈارا ➌ اصغر خاں عرف سیٹھ
رمضان خاں کے اِنتقال کے بعد چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہوا - چک بندی سے پہلے ایک سَو 100 بیگھہ زمین تھی لیکن مالِیت کی وجہ سے صرف 66 بیگھہ کا چک بندی ہوا -
لیکن جب مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں کو معلوم ہوا کہ چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہو گیا ہے تو دو چار آدمی کو گواہی کے طور پر نائب صاحب کے پاس لے گئے اور انہیں رِشوت (گھوس) دے کر ان چھہ بھائیوں میں سے تین بھائیوں کے ناموں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو ) کو کٹوا دِیا - کہا کہ یہ ان کے بھائی نہیں ہیں - اور ان کی جگہ رمضان خاں کے بیٹوں (¹عبدالرؤوف ²نواب ³اصغر) کے نام لِکھوا دیا -
بعد میں جب عظیم خاں، جواہر خاں اور بدھو خاں کو معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کا نام کٹوا دیا گیا ہے تو ان تینوں بھائیوں نے مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان تین بھائیوں میں سے بدھو خاں عبد الرؤوف خاں کی طرف مِل گئے - پھر بھی بدھو خاں کو حصہ نہیں مِلا -
بالآخر تینوں بھائیوں نے عبد الرؤوف خاں کو دھمکی دی اور کہا کہ ہمارا بھی حصہ دو تب عبد الرؤوف خاں نے اپنے چچاؤں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو) کو صرف پانچ پانچ بیگھہ زمین دیا بقیہ زمین نہیں دیا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی بقیہ حصہ نہیں دیا - یہ بات گاؤں کے ہندو و مسلم سبھی جانتے ہیں (اپنے باپ داداؤں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں)
لہٰذا عرض یہ ہے کہ
❶ عبد الرؤوف خاں اور ان کے بیٹے و پوتوں پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم نافذ ہوگا ؟
❷ کیا عبد الرؤوف خاں کے بیٹے و پوتوں کو زمین واپس کرنا ضروری ہے ؟
❸ زمین واپس نہ کریں تو ان کی اولادوں میں جو عالِم ہیں (مولانا اِسلام خان مصباحی) ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں!
المستفتی :
❶ محمد حسینی خاں ❷ محمد محبوب خاں ❸ منگرے خاں و اہلِ محلہ
پتہ : مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡ الہند
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم خاں ➌ گولی خاں عرف ڈیبا خاں ➍ جواہر خاں عرف ہِیرا خاں ➎ صوبے دار خاں عرف سِپاہی خاں ➏ بُدُّھو خاں
سب سے بڑے رمضان خاں تھے!
رمضان خاں کے تین بیٹے تھے ➊ عبد الرؤوف خاں ➋ نواب خاں عرف کھنڈارا ➌ اصغر خاں عرف سیٹھ
رمضان خاں کے اِنتقال کے بعد چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہوا - چک بندی سے پہلے ایک سَو 100 بیگھہ زمین تھی لیکن مالِیت کی وجہ سے صرف 66 بیگھہ کا چک بندی ہوا -
لیکن جب مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں کو معلوم ہوا کہ چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہو گیا ہے تو دو چار آدمی کو گواہی کے طور پر نائب صاحب کے پاس لے گئے اور انہیں رِشوت (گھوس) دے کر ان چھہ بھائیوں میں سے تین بھائیوں کے ناموں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو ) کو کٹوا دِیا - کہا کہ یہ ان کے بھائی نہیں ہیں - اور ان کی جگہ رمضان خاں کے بیٹوں (¹عبدالرؤوف ²نواب ³اصغر) کے نام لِکھوا دیا -
بعد میں جب عظیم خاں، جواہر خاں اور بدھو خاں کو معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کا نام کٹوا دیا گیا ہے تو ان تینوں بھائیوں نے مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان تین بھائیوں میں سے بدھو خاں عبد الرؤوف خاں کی طرف مِل گئے - پھر بھی بدھو خاں کو حصہ نہیں مِلا -
بالآخر تینوں بھائیوں نے عبد الرؤوف خاں کو دھمکی دی اور کہا کہ ہمارا بھی حصہ دو تب عبد الرؤوف خاں نے اپنے چچاؤں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو) کو صرف پانچ پانچ بیگھہ زمین دیا بقیہ زمین نہیں دیا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی بقیہ حصہ نہیں دیا - یہ بات گاؤں کے ہندو و مسلم سبھی جانتے ہیں (اپنے باپ داداؤں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں)
لہٰذا عرض یہ ہے کہ
❶ عبد الرؤوف خاں اور ان کے بیٹے و پوتوں پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم نافذ ہوگا ؟
❷ کیا عبد الرؤوف خاں کے بیٹے و پوتوں کو زمین واپس کرنا ضروری ہے ؟
❸ زمین واپس نہ کریں تو ان کی اولادوں میں جو عالِم ہیں (مولانا اِسلام خان مصباحی) ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں!
المستفتی :
❶ محمد حسینی خاں ❷ محمد محبوب خاں ❸ منگرے خاں و اہلِ محلہ
پتہ : مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡ الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم…
📖 مسئلہ مقبوضہ زمین 📖
مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں نے اپنے تین چچاؤں (¹عظیم خاں ²جواہر خاں ³بدھو خاں) کو زمین (کھیت) میں برابر حصہ نہیں دیا تھا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی نہیں دیا ہے! ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا ، پوسٹ
گوٹٹی ضلع بہرائچ شریفᵁᴾالہند
مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں نے اپنے تین چچاؤں (¹عظیم خاں ²جواہر خاں ³بدھو خاں) کو زمین (کھیت) میں برابر حصہ نہیں دیا تھا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی نہیں دیا ہے! ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا ، پوسٹ
گوٹٹی ضلع بہرائچ شریفᵁᴾالہند
مقبوضہ_زمین_بہرائچ_شریف_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
404.5 KB
مسئلہ مقبوضہ زمین بہرائچ شریف
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3975359639205143&id=100001934398471
*بڑھتا ہوا الحاد: مسلم دنیا کا سب سے بڑا چیلنج*
تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند،* جے پور
آج سے ٹھیک ایک ماہ پہلے 4/ جون 2020 کو سہ پہر 3/ بجے *تحریک علمائے ہند* اور *ادارہ قرآن* کے مشترکہ بینر تلے *"مسلم دنیا میں طوفانی رفتار سے بڑھ رہا الحاد: اسباب اور علاج"* کے عنوان پر زوم ایپ کے ذریعے آن لائن ویبنار کیا گیا۔
غیرت مندانہ اسلامی مزاج رکھنے والے اس عنوان ہی سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ موضوع کتنا حساس رہا ہوگا۔ فقیر ذاتی طور پر اسے اپنی عملی زندگی کا سب سے زیادہ زیادہ حساس اور اہم ترین موضوع گردانتا ہے۔ موضوع پر گفتگو کرنے والے ریسرچر *ایڈووکیٹ فیض قادری،* اتر پردیش کے *کان پور* کے رہنے والے نو جوان تھے، جنھیں غیر پیشہ ورانہ طور پر اس موضوع سے لگاؤ ہے اور انھوں نے دوران گفتگو اپنے اس غیرت مندانہ لگاؤ اور موضوع کا حق بھی ادا کیا۔ اس مضمون میں درج مواد کا بیشتر حصہ فیض قادری کی اسی گفتگو سے مستفاد و ماخوذ ہے۔ یہ مواد مضمون کی شکل میں اس لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ مذہبی طبقے کو کرنٹ ایشوز پر کام کرنے کی ایک بہت معقول اور ضروری جہت ملے اور کار دعوت جو پچھلی ایک مدت سے ہماری بے اعتنائی کا شکار ہے، حیات نو پائے۔
*الحاد کا مطلب:-* الحاد کو ہندی میں (नास्तिकता) اور انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی طور پر یہ لفظ لامذہبیت، یا دہریت، یا اصول اسلام سے دوری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عرفا اگرچہ الحاد کو لامذہبیت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے اگر کسی سابق الاسلام محروم القسمت کو ملحد کہا جاتا ہے تو اسلامی اور اصولی نقطہ نظر سے یہ *ارتداد* کے مترادف ہے کیوں کہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی واسطہ، یا تیسرا درجہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو نہ ماننا ہی کفر اور بسا اوقات یہی ارتداد ہوا کرتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر سیاسی دنیا میں مذہبی خانہ پری کے ساتھ الحاد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں عموم ہوا کرتا ہے اور یہ لفظ ان تمام لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے جو اسلام سے برگشتہ ہوئے ہوں، یا دنیا کے کسی بھی مذہب کی زنجیروں سے آزاد ہوئے ہوں۔
*الحاد کے اسباب:-* دوسرے مذہبوں کی پابندیوں سے آزاد ہونے والے کیوں کر مذہب بیزار ہو رہے ہیں؟ نہ ہمیں اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ زیادہ ہونا چاہیے، البتہ اسلام سے برگشتگی کے عوامل کیا کچھ ہیں؟ اس پر غور کرنا، اس کی روک تھام کی کوشش کرنا اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوشی کی فکر کرنا نہ صرف ہمارا دعوتی اور قرآنی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے۔
*فیض قادری* کی ریسرچ کے مطابق اس کے کچھ اسباب و عوامل درج ذیل قسم کے ہیں:
*(الف) غلامی کا وجود:-* ملحدین کا موٹا اعتراض ہے کہ اسلام نے اپنی دینی تکمیل اور غیر معمولی اشاعت کے باوجود دنیا میں پہلے سے پائی جا رہی غلامی پر بند نہیں باندھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اس غیر انسانی روش سے راضی ہے۔ یہ اعتراض کچھ نیا نہیں البتہ من جملہ اعتراضوں میں سے ایک ہے۔
چوں کہ اس مضمون میں ہمارا مقصد ملحدوں کے اعتراضات کے جواب دینا نہیں بلکہ مسئلے کی حساسیت سامنے رکھنا ہے، اس لیے جوابات سے بحث کیے بنا آگے بڑھیں گے، امید ہے جنھیں جواب نہیں معلوم وہ غیرت مند اپنے لیے بھی جواب تلاش کریں گے اور دوسروں کو مطمئن کرنے کے لیے بھی جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔
*(ب) قرآن غیر منطقی/ غیر سائنسی ہے:-* ملحدین کا ماننا ہے کہ قرآن مجید غیر منطقی اور غیر سائنسی کتاب ہے یعنی اس میں معقولیت نہیں جبکہ ہمارا عہد ہر چیز کو منطقی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر سوال کا سائنٹفک جواب طلب کرتا ہے اور ہمیں زندگی جینے کے لیے مذہب سے کہیں زیادہ سائنس کی ضرورت ہے۔ اس لیے جہاں مذہب اور سائنس میں تضاد نظر آتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے اول مرحلے میں مذہب پیچھے رہ جا تا ہے اور سائنس امام ہو جاتی ہے۔
*(ج) شکوک کا ازالہ نہ ہونا:-* ماضی قریب میں الحاد کے فروغ کی سب سے بڑی وجہ ملحدین کے بجا بے جا شکوک و شبہات کا ازالہ نہ کیا جانا رہا ہے کیوں کہ اس عہد میں میڈیا، فلم انڈسٹری، سیاست، حقوق انسانی اور آزادی رائے جیسے سنہرے بہانوں سے مذہب و مذہبیات کے تئیں تشکیک کا ماحول بنایا گیا لیکن مذہبی دنیا کی طرف سے ان تشکیکات کا جتنے اطمینان بخش انداز سے ازالہ ہونا چاہیے تھا، نہ ہو سکا اور بایں وجہ گزرتے وقت کے ساتھ مذہب بیزار نظریات ذہنوں میں اپنی جگہ پختہ کرتے رہے۔
ایک شخص نے حدیث رسول کا ایک اقتباس سنا: عورتیں مردوں کے مقابل جہنم میں زیادہ تعداد میں جائیں گی۔ اس نے اپنے ذہن سے اسے صنف نازک کے خلاف گردانا اوراسلام کو غیر انسانی مذہب سمجھتے ہوئے، اسلام سے پھر گیا۔
ایک شخص نے اپنے ارتداد کی وجہ یہ بیان کی:
*میری خالہ کو طلاق ہوئی اور وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکی،
*بڑھتا ہوا الحاد: مسلم دنیا کا سب سے بڑا چیلنج*
تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند،* جے پور
آج سے ٹھیک ایک ماہ پہلے 4/ جون 2020 کو سہ پہر 3/ بجے *تحریک علمائے ہند* اور *ادارہ قرآن* کے مشترکہ بینر تلے *"مسلم دنیا میں طوفانی رفتار سے بڑھ رہا الحاد: اسباب اور علاج"* کے عنوان پر زوم ایپ کے ذریعے آن لائن ویبنار کیا گیا۔
غیرت مندانہ اسلامی مزاج رکھنے والے اس عنوان ہی سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ موضوع کتنا حساس رہا ہوگا۔ فقیر ذاتی طور پر اسے اپنی عملی زندگی کا سب سے زیادہ زیادہ حساس اور اہم ترین موضوع گردانتا ہے۔ موضوع پر گفتگو کرنے والے ریسرچر *ایڈووکیٹ فیض قادری،* اتر پردیش کے *کان پور* کے رہنے والے نو جوان تھے، جنھیں غیر پیشہ ورانہ طور پر اس موضوع سے لگاؤ ہے اور انھوں نے دوران گفتگو اپنے اس غیرت مندانہ لگاؤ اور موضوع کا حق بھی ادا کیا۔ اس مضمون میں درج مواد کا بیشتر حصہ فیض قادری کی اسی گفتگو سے مستفاد و ماخوذ ہے۔ یہ مواد مضمون کی شکل میں اس لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ مذہبی طبقے کو کرنٹ ایشوز پر کام کرنے کی ایک بہت معقول اور ضروری جہت ملے اور کار دعوت جو پچھلی ایک مدت سے ہماری بے اعتنائی کا شکار ہے، حیات نو پائے۔
*الحاد کا مطلب:-* الحاد کو ہندی میں (नास्तिकता) اور انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی طور پر یہ لفظ لامذہبیت، یا دہریت، یا اصول اسلام سے دوری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عرفا اگرچہ الحاد کو لامذہبیت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے اگر کسی سابق الاسلام محروم القسمت کو ملحد کہا جاتا ہے تو اسلامی اور اصولی نقطہ نظر سے یہ *ارتداد* کے مترادف ہے کیوں کہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی واسطہ، یا تیسرا درجہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو نہ ماننا ہی کفر اور بسا اوقات یہی ارتداد ہوا کرتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر سیاسی دنیا میں مذہبی خانہ پری کے ساتھ الحاد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں عموم ہوا کرتا ہے اور یہ لفظ ان تمام لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے جو اسلام سے برگشتہ ہوئے ہوں، یا دنیا کے کسی بھی مذہب کی زنجیروں سے آزاد ہوئے ہوں۔
*الحاد کے اسباب:-* دوسرے مذہبوں کی پابندیوں سے آزاد ہونے والے کیوں کر مذہب بیزار ہو رہے ہیں؟ نہ ہمیں اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ زیادہ ہونا چاہیے، البتہ اسلام سے برگشتگی کے عوامل کیا کچھ ہیں؟ اس پر غور کرنا، اس کی روک تھام کی کوشش کرنا اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوشی کی فکر کرنا نہ صرف ہمارا دعوتی اور قرآنی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے۔
*فیض قادری* کی ریسرچ کے مطابق اس کے کچھ اسباب و عوامل درج ذیل قسم کے ہیں:
*(الف) غلامی کا وجود:-* ملحدین کا موٹا اعتراض ہے کہ اسلام نے اپنی دینی تکمیل اور غیر معمولی اشاعت کے باوجود دنیا میں پہلے سے پائی جا رہی غلامی پر بند نہیں باندھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اس غیر انسانی روش سے راضی ہے۔ یہ اعتراض کچھ نیا نہیں البتہ من جملہ اعتراضوں میں سے ایک ہے۔
چوں کہ اس مضمون میں ہمارا مقصد ملحدوں کے اعتراضات کے جواب دینا نہیں بلکہ مسئلے کی حساسیت سامنے رکھنا ہے، اس لیے جوابات سے بحث کیے بنا آگے بڑھیں گے، امید ہے جنھیں جواب نہیں معلوم وہ غیرت مند اپنے لیے بھی جواب تلاش کریں گے اور دوسروں کو مطمئن کرنے کے لیے بھی جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔
*(ب) قرآن غیر منطقی/ غیر سائنسی ہے:-* ملحدین کا ماننا ہے کہ قرآن مجید غیر منطقی اور غیر سائنسی کتاب ہے یعنی اس میں معقولیت نہیں جبکہ ہمارا عہد ہر چیز کو منطقی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر سوال کا سائنٹفک جواب طلب کرتا ہے اور ہمیں زندگی جینے کے لیے مذہب سے کہیں زیادہ سائنس کی ضرورت ہے۔ اس لیے جہاں مذہب اور سائنس میں تضاد نظر آتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے اول مرحلے میں مذہب پیچھے رہ جا تا ہے اور سائنس امام ہو جاتی ہے۔
*(ج) شکوک کا ازالہ نہ ہونا:-* ماضی قریب میں الحاد کے فروغ کی سب سے بڑی وجہ ملحدین کے بجا بے جا شکوک و شبہات کا ازالہ نہ کیا جانا رہا ہے کیوں کہ اس عہد میں میڈیا، فلم انڈسٹری، سیاست، حقوق انسانی اور آزادی رائے جیسے سنہرے بہانوں سے مذہب و مذہبیات کے تئیں تشکیک کا ماحول بنایا گیا لیکن مذہبی دنیا کی طرف سے ان تشکیکات کا جتنے اطمینان بخش انداز سے ازالہ ہونا چاہیے تھا، نہ ہو سکا اور بایں وجہ گزرتے وقت کے ساتھ مذہب بیزار نظریات ذہنوں میں اپنی جگہ پختہ کرتے رہے۔
ایک شخص نے حدیث رسول کا ایک اقتباس سنا: عورتیں مردوں کے مقابل جہنم میں زیادہ تعداد میں جائیں گی۔ اس نے اپنے ذہن سے اسے صنف نازک کے خلاف گردانا اوراسلام کو غیر انسانی مذہب سمجھتے ہوئے، اسلام سے پھر گیا۔
ایک شخص نے اپنے ارتداد کی وجہ یہ بیان کی:
*میری خالہ کو طلاق ہوئی اور وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکی،
Forwarded from Zubair 006
مجھے اسلام کا یہ طلاق سسٹم پسند نہ آیا، اس لیے میں نے اسلام ترک کر دیا۔
ایک خاتون نے محض اس لیے اسلام سے منہ پھیر لیا کہ اسے حجاب میں معقولیت نظر نہیں آئی اور اسے کسی نے جدید سائنس کی روشنی میں اس کی معقولیت سمجھائی بھی نہیں۔ *
تبلیغ اسلام میں جتنا زور اسلامی تعلیمات و روایات کی ترسیل پر دیا جاتا ہے، اگر اتنا ہی زور اسلامی تعلیمات کا فلسفہ عام کرنے پر دیا جائے تو شاید آج بھی خاصی تعداد اپنا ایمان بچا سکتی ہے۔
*(د) سوالوں کا جواب نہ ملنا:-* الحاد کے راستے میں ایک بہت معاون طریقہ یہ رہا کہ مذہبی طبقے کی طرف سے اس کے سوالوں کے کبھی تو سرے سے جواب ہی نہیں دیے گئے اور کبھی اس نوعیت کے نہیں دیے گئے، جس نوعیت کے سوال تھے۔ بالخصوص مذہبی تعلیمات پر وارد اعتراضات کے منطقی اور سائنٹفک جوابات نہ ملنا، الحاد کا سب سے بڑا سبب رہا۔
*ایک مولانا سے کسی نے پوچھا: جہاں سورج نہیں ڈوبتا، وہاں روزہ کیسے کھولتے ہیں؟ مولانا نے اخلاقی اقدار بالائے طاق رکھتے ہوئے جواباً کہا: تم شیطان کی اولاد ہو۔ اس بندے نے اسی دن اسلام چھوڑ دیا۔*
*(ھ) اسلام میں تحمل اور انسانیت نہیں:-* ملحدین کا کہنا ہے کہ اسلام میں تحمل، رواداری اور معاشرتی مزاج نہیں۔ مختلف مذہبوں کے ماننے والوں کے ساتھ کس طرح گزر بسر کرنا ہے؟ اسلام اس سلسلے میں قدامت پسند واقع ہوا ہے اور اس کے نظریات قابل عمل نہیں بلکہ تشدد پر مبنی ہیں جیسے ایک شخص نے کسی سے بنا تشریح و تفصیل کے سنا: غیر مسلموں سے محبت آمیز تعلقات نہیں رکھنے چاہیے۔ اسے یہ مسئلہ فرسودہ معلوم ہوا اور اس نے اسلام چھوڑ دیا۔
ایک شخص کے ذہن میں ایک اعتراض نے جگہ بنائی:
*جب میرے غیر مسلم دوست جہنم میں جائیں گے تو میں اکیلا جنت میں جا کر کیا کروں گا،* میں بھی مسلم کیوں رہوں؟ اور اس اعتراض کا معقول جواب نہ پا کر اس نے اسلام سے برگشتگی اختیار کر لی۔
ملحدین کی طرف سے خاندانی اور قدامت پسند مسلمانوں پر ایک بہت بڑا الزام یہ بھی ہے کہ مسلمان قریب کرنے اور سمجھانے کی بجائے تشدد پر یقین رکھتے ہیں ۔ چناں چہ ایک بہت بڑی تعداد محض اس لیے اسلام سے محروم ہو چکی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں سے سوال کیا تو مسلمانوں نے انھیں اطمینان بخش انداز میں جواب دینے کی بجائے مارا، یا ان پر سختیاں کیں، یا ان کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک روا رکھا۔
*(و) وہابی اسلام کے تشدد سے بد گمانی:-* الحاد کی بہت بڑی وجہ وہابی نظریات رہے ہیں، جن میں بلا کا تشدد پایا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بنام اسلام الحاد کی چپیٹ میں آنے والوں میں لگ بھگ وہ لوگ شامل رہے ہیں، جو وہابی آئیڈیالوجی کے فولوور تھے۔ چناں چہ عرب جسے اسلام کی جنم بھومی کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، *ایک سروے کے مطابق وہاں کا ہر چھٹا انسان الحاد کی زد میں ہے اور ملحدین کا سب سے زیادہ لٹریچر وہیں کھپتا ہے۔*
اسلام پسندوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ماضی قریب میں اسلام پر لکھے گئے لٹریچر کی طرح اسلام کے خلاف لکھے گئے لٹریچر کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور ہر جدید پلیٹ فارم پر اسلام مخالف مواد بہ آسانی اور بہت بڑی تعداد میں موجود ہے۔
*(ز) سیاسی و میڈیائی امیج:-* الحاد کی من جملہ وجوہ میں ایک اہم وجہ اسلام کی وہ فرسودہ تصویر بھی ہے جو سیاست اور میڈیا نے دنیا کے سامنے پیش کی اور جس کا کما حقہ دفاع کرنے سے مسلمان قاصر رہے۔
ایک شخص کے ذہن میں مضبوطی سے بات بٹھا دی گئی کہ جتنے دہشت گردانہ واقعات ہوئے ہیں، ان کے پیچھے کہیں نہ کہیں کوئی مسلم چہرہ ہے، وہ اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھا اور آج ایکس مسلم ہے۔
قرآن اورجہاد کی غلط اور من مانی تشریحات نے بھی ایک بڑے طبقے کے ایمان کو متزلزل کیا۔ چناں چہ نہ صرف غیر مسلم بلکہ مسلم گھرانوں میں پیدا ہونے والوں میں بھی ایک بڑی تعداد یہ تصور رکھتی ہے: قرآن سے کچھ آیتیں نکال دینی چاہیے۔
*(ح) اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح:-* بارہا لوگ اس لیے بھی الحاد کی ڈگر پر چلے جاتے ہیں کہ ان تک جس انداز میں اسلامی تعلیمات پہنچائی جاتی ہیں، وہ انداز ترسیل یا پیغام دعوت بہت بھونڈا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے تئیں یہ بھونڈا انداز نہ صرف ان غیر مسلموں کا ہوتا ہے جو اسلام کی تشریح ہی اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں اسلام کی ساکھ متاثر کرنی ہے بلکہ یہ غیر معقول انداز ان اسلامی مبلغین کا بھی ہوتا ہے جو کم علمی کے باوجود اسلامی تعلیمات پر لکچر دیتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے غیر سنجیدہ اسلوب بیان، غیر معقول طرز تعبیر ، متشددانہ نظریات اور غیر نفسیاتی طریق تبلیغ کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ و ترسیل تو کیا کر پاتے ہیں، بارہا انھیں احساس بھی نہیں ہوتا اور ان کی ذاتی کوتاہیوں کی وجہ سے ایک طبقہ اسلام بیزار ہوتا جاتا ہے۔
ایسے اسلامک اسکالرز کے غیر معقول اور غیر نفسیاتی بیانات کی وجہ سے مرتد ہونے کی چند مثالیں دیکھیے:
ایک شخص نے شریعت اسلامیہ کا یہ مسئلہ سنا کہ *گھر میں کتا پالنا نا جائز ہے جبکہ اس شخص کو کتا بہت پیارا تھا، وہ مذہب بیزار ہ
ایک خاتون نے محض اس لیے اسلام سے منہ پھیر لیا کہ اسے حجاب میں معقولیت نظر نہیں آئی اور اسے کسی نے جدید سائنس کی روشنی میں اس کی معقولیت سمجھائی بھی نہیں۔ *
تبلیغ اسلام میں جتنا زور اسلامی تعلیمات و روایات کی ترسیل پر دیا جاتا ہے، اگر اتنا ہی زور اسلامی تعلیمات کا فلسفہ عام کرنے پر دیا جائے تو شاید آج بھی خاصی تعداد اپنا ایمان بچا سکتی ہے۔
*(د) سوالوں کا جواب نہ ملنا:-* الحاد کے راستے میں ایک بہت معاون طریقہ یہ رہا کہ مذہبی طبقے کی طرف سے اس کے سوالوں کے کبھی تو سرے سے جواب ہی نہیں دیے گئے اور کبھی اس نوعیت کے نہیں دیے گئے، جس نوعیت کے سوال تھے۔ بالخصوص مذہبی تعلیمات پر وارد اعتراضات کے منطقی اور سائنٹفک جوابات نہ ملنا، الحاد کا سب سے بڑا سبب رہا۔
*ایک مولانا سے کسی نے پوچھا: جہاں سورج نہیں ڈوبتا، وہاں روزہ کیسے کھولتے ہیں؟ مولانا نے اخلاقی اقدار بالائے طاق رکھتے ہوئے جواباً کہا: تم شیطان کی اولاد ہو۔ اس بندے نے اسی دن اسلام چھوڑ دیا۔*
*(ھ) اسلام میں تحمل اور انسانیت نہیں:-* ملحدین کا کہنا ہے کہ اسلام میں تحمل، رواداری اور معاشرتی مزاج نہیں۔ مختلف مذہبوں کے ماننے والوں کے ساتھ کس طرح گزر بسر کرنا ہے؟ اسلام اس سلسلے میں قدامت پسند واقع ہوا ہے اور اس کے نظریات قابل عمل نہیں بلکہ تشدد پر مبنی ہیں جیسے ایک شخص نے کسی سے بنا تشریح و تفصیل کے سنا: غیر مسلموں سے محبت آمیز تعلقات نہیں رکھنے چاہیے۔ اسے یہ مسئلہ فرسودہ معلوم ہوا اور اس نے اسلام چھوڑ دیا۔
ایک شخص کے ذہن میں ایک اعتراض نے جگہ بنائی:
*جب میرے غیر مسلم دوست جہنم میں جائیں گے تو میں اکیلا جنت میں جا کر کیا کروں گا،* میں بھی مسلم کیوں رہوں؟ اور اس اعتراض کا معقول جواب نہ پا کر اس نے اسلام سے برگشتگی اختیار کر لی۔
ملحدین کی طرف سے خاندانی اور قدامت پسند مسلمانوں پر ایک بہت بڑا الزام یہ بھی ہے کہ مسلمان قریب کرنے اور سمجھانے کی بجائے تشدد پر یقین رکھتے ہیں ۔ چناں چہ ایک بہت بڑی تعداد محض اس لیے اسلام سے محروم ہو چکی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں سے سوال کیا تو مسلمانوں نے انھیں اطمینان بخش انداز میں جواب دینے کی بجائے مارا، یا ان پر سختیاں کیں، یا ان کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک روا رکھا۔
*(و) وہابی اسلام کے تشدد سے بد گمانی:-* الحاد کی بہت بڑی وجہ وہابی نظریات رہے ہیں، جن میں بلا کا تشدد پایا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بنام اسلام الحاد کی چپیٹ میں آنے والوں میں لگ بھگ وہ لوگ شامل رہے ہیں، جو وہابی آئیڈیالوجی کے فولوور تھے۔ چناں چہ عرب جسے اسلام کی جنم بھومی کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، *ایک سروے کے مطابق وہاں کا ہر چھٹا انسان الحاد کی زد میں ہے اور ملحدین کا سب سے زیادہ لٹریچر وہیں کھپتا ہے۔*
اسلام پسندوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ماضی قریب میں اسلام پر لکھے گئے لٹریچر کی طرح اسلام کے خلاف لکھے گئے لٹریچر کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور ہر جدید پلیٹ فارم پر اسلام مخالف مواد بہ آسانی اور بہت بڑی تعداد میں موجود ہے۔
*(ز) سیاسی و میڈیائی امیج:-* الحاد کی من جملہ وجوہ میں ایک اہم وجہ اسلام کی وہ فرسودہ تصویر بھی ہے جو سیاست اور میڈیا نے دنیا کے سامنے پیش کی اور جس کا کما حقہ دفاع کرنے سے مسلمان قاصر رہے۔
ایک شخص کے ذہن میں مضبوطی سے بات بٹھا دی گئی کہ جتنے دہشت گردانہ واقعات ہوئے ہیں، ان کے پیچھے کہیں نہ کہیں کوئی مسلم چہرہ ہے، وہ اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھا اور آج ایکس مسلم ہے۔
قرآن اورجہاد کی غلط اور من مانی تشریحات نے بھی ایک بڑے طبقے کے ایمان کو متزلزل کیا۔ چناں چہ نہ صرف غیر مسلم بلکہ مسلم گھرانوں میں پیدا ہونے والوں میں بھی ایک بڑی تعداد یہ تصور رکھتی ہے: قرآن سے کچھ آیتیں نکال دینی چاہیے۔
*(ح) اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح:-* بارہا لوگ اس لیے بھی الحاد کی ڈگر پر چلے جاتے ہیں کہ ان تک جس انداز میں اسلامی تعلیمات پہنچائی جاتی ہیں، وہ انداز ترسیل یا پیغام دعوت بہت بھونڈا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے تئیں یہ بھونڈا انداز نہ صرف ان غیر مسلموں کا ہوتا ہے جو اسلام کی تشریح ہی اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں اسلام کی ساکھ متاثر کرنی ہے بلکہ یہ غیر معقول انداز ان اسلامی مبلغین کا بھی ہوتا ہے جو کم علمی کے باوجود اسلامی تعلیمات پر لکچر دیتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے غیر سنجیدہ اسلوب بیان، غیر معقول طرز تعبیر ، متشددانہ نظریات اور غیر نفسیاتی طریق تبلیغ کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ و ترسیل تو کیا کر پاتے ہیں، بارہا انھیں احساس بھی نہیں ہوتا اور ان کی ذاتی کوتاہیوں کی وجہ سے ایک طبقہ اسلام بیزار ہوتا جاتا ہے۔
ایسے اسلامک اسکالرز کے غیر معقول اور غیر نفسیاتی بیانات کی وجہ سے مرتد ہونے کی چند مثالیں دیکھیے:
ایک شخص نے شریعت اسلامیہ کا یہ مسئلہ سنا کہ *گھر میں کتا پالنا نا جائز ہے جبکہ اس شخص کو کتا بہت پیارا تھا، وہ مذہب بیزار ہ
Forwarded from Zubair 006
و گیا۔*
ایک شخص نے حدیث پاک کا ایک حصہ سنا: مدینہ منورہ میں عرینہ نامی قبیلہ کے کچھ لوگ آئے، انھیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوا کے طور پر ان کے لیے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تجویز فرمایا، جس سے انہیں شفا ملی۔ سننے والے کو یہ حدیث گراں گزری اور غیر اخلاقی محسوس ہوئی، اس نے اسلام چھوڑ دیا۔
خیال رہے یہاں قصور ان اسلامی روایات کا نہیں، ان پہنچانے والوں کا ہے، جنھوں نے نخواندہ طبقے تک شریعت کا ایک حصہ تو پہنچایا لیکن وہ کار ترسیل و تبلیغ میں عصر جدید کا پاس نہ رکھ سکے، ان کی معقول توجیہ نہ کر سکے اور اَن کہی نفسیات کا لحاظ نہ کر سکے۔
*(ط) اسلام میں بھی دیگر مذاہب والی کم زوریاں ہیں:۔* پختہ کار ملحدین اسلام پر مسلسل حملہ آور رہتے ہیں اور ان کا ماننا یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو جتنا پاکیزہ بنا کر پیش کرتے ہیں، در حقیقت اسلام اتنا شفاف نہیں بلکہ اس کے اندر بھی وہ تمام کم زوریاں ہیں، جو دیگر مذاہب میں بیان کی جاتی ہیں جیسے مسلمان بڑے شد و مد کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام مساوات کا پیغام بر ہے اور یہاں ذات پات کا کوئی تصور نہیں جبکہ یہ جھوٹ ہے اور *یہاں بھی اولاد رسول یعنی سیادت کے نام پر پروہت واد/ کاسٹ سسٹم/ ذات پات کے تمام تصورات موجود ہیں۔* یہی حال ان دیگر دعووں کا ہے، جنھیں لے کر مسلمانوں میں بہت زیادہ زعم پایا جاتا ہے۔
*الحاد کی روک تھام:-*
یہ وہ چند نمایاں اسباب و عوامل اور موٹے موٹے مسائل ہیں جن کا نتیجہ مسلم دنیا الحاد کی شکل میں بھگت رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اور اسی قسم کے ملحدین کے دیگر بیشتر اعتراضات سطحی، جھوٹ پر مبنی، غلط فہمی کا نتیجہ، مذہبی تعصب کی دین اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اب یہی چھوٹے چھوٹے عوارض ایمان لے ڈوبنے کے لیے بہت کافی ثابت ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت الحاد پوری دنیا میں اسلام کے سامنے سب سے بڑے چیلنج کی شکل میں ہے اور *آج تک کسی بھی فرقے، نظریہ یا مذہب نے اسلام کو اس قدر گزند نہیں پہنچایا ہوگا، جتنا گزشتہ تھوڑے عرصے میں الحاد پہنچا چکا ہے۔*
الحاد کی اس بڑھوتری کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ملحدین ترک مذہب کے علاوہ کسی نئے مذہب کے داعی نہیں ہوتے، اس لیے انھیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بلکہ بندہ پہلے جس مذہب سے وابستہ ہے، محض اس سے بد گمان کرنا ہی ان کے لیے کافی ہوتا ہے اور یہ کام آج کے دور میں بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اس پوری فتنہ انگیزی کے عہد میں اسلامیان ہند کے لیے من جانب اللہ ایک زریں موقع یہ ہے کہ *بھارت کے ملحد ہنوز سوشل میڈیائی گروپس کے علاوہ کہیں منظم نہیں اور یہاں کی حکومتیں اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے ابھی انھیں دیدہ و دانستہ نظر انداز بھی کر رہی ہیں، اس لیے ان کی واپسی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں* جبکہ دیگر ممالک میں یہ طبقہ منظم بھی ہے اور حکومتوں کا منظور نظر بھی۔
لیکن بھارت میں بھی غیر منظم ہونے کا وہ مطلب ہرگز نہیں، جو اسلام اور مسلمانوں کے تئیں تصور کیا جاتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پوری خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے اور الگ الگ پلیٹ فارمز پر *ایکس مسلمز* کے نام سے بہت متحرک گروپس چلا رہا ہے۔ یہ غیر منظم رفتار بھی اتنی تیز ہے کہ دیدہ بینا نہ رکھنے والے عام اور رسمی مسلمانوں کے لیے اس کی طوفانی رفتار کا صحیح اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔
اس رفتار اور طرز عمل کا ہلکا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور مذہبی تنظیم *"دعوت اسلامی"* سے وابستہ ایک شخص جو کبھی راجستھان کے شہر سیکر میں اس تنظیم کا رضا کارانہ مبلغ ہوا کرتا تھا، ابھی الحاد کے راستے پر ہے۔
امید ہے حساس مزاج اور اسلام کے تئیں درد مند دل رکھنے والوں نے موضوع کی نزاکت محسوس کر لی ہوگی اور دنیا جہان کی ضروری / غیر ضروری مصروفیات و مباحث کے بیچ اس چیلنجنگ موضوع پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ یہ بھی امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ مذہبی تقریریں اور تحریریں پیش کرنے والے جہاں اپنے لیے اجرو ثواب کے متمنی رہتے ہیں، وہیں ذہن کے ایک گوشے میں یہ بھی خیال رکھیں گے : *کہیں ہمارے غیر علمی، غیر معقول، تشدد آمیز، فرسودہ، غیر نفسیاتی، غلط طرز تعبیر، یا برے کردار و عمل کی وجہ سے دنیا ہمارے مذہب سے برگشتہ تو نہیں ہو رہی ہے؟؟؟*
خدا نخواستہ، صد بار نخواستہ اگر کہیں ایسا ہوا، یا خاموشی سے ہو رہا ہے تو اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے تیار رہیے جس نے خاتم الانبیا ﷺ کے واسطے سے پوری دنیا کو اکمل مذہب دیا، لیکن اس کی تبلیغ کے دعوے دار ہی کسی کے لیے اس سے برگشتگی کا سبب بن گئے۔
ایک شخص نے حدیث پاک کا ایک حصہ سنا: مدینہ منورہ میں عرینہ نامی قبیلہ کے کچھ لوگ آئے، انھیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوا کے طور پر ان کے لیے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تجویز فرمایا، جس سے انہیں شفا ملی۔ سننے والے کو یہ حدیث گراں گزری اور غیر اخلاقی محسوس ہوئی، اس نے اسلام چھوڑ دیا۔
خیال رہے یہاں قصور ان اسلامی روایات کا نہیں، ان پہنچانے والوں کا ہے، جنھوں نے نخواندہ طبقے تک شریعت کا ایک حصہ تو پہنچایا لیکن وہ کار ترسیل و تبلیغ میں عصر جدید کا پاس نہ رکھ سکے، ان کی معقول توجیہ نہ کر سکے اور اَن کہی نفسیات کا لحاظ نہ کر سکے۔
*(ط) اسلام میں بھی دیگر مذاہب والی کم زوریاں ہیں:۔* پختہ کار ملحدین اسلام پر مسلسل حملہ آور رہتے ہیں اور ان کا ماننا یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو جتنا پاکیزہ بنا کر پیش کرتے ہیں، در حقیقت اسلام اتنا شفاف نہیں بلکہ اس کے اندر بھی وہ تمام کم زوریاں ہیں، جو دیگر مذاہب میں بیان کی جاتی ہیں جیسے مسلمان بڑے شد و مد کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام مساوات کا پیغام بر ہے اور یہاں ذات پات کا کوئی تصور نہیں جبکہ یہ جھوٹ ہے اور *یہاں بھی اولاد رسول یعنی سیادت کے نام پر پروہت واد/ کاسٹ سسٹم/ ذات پات کے تمام تصورات موجود ہیں۔* یہی حال ان دیگر دعووں کا ہے، جنھیں لے کر مسلمانوں میں بہت زیادہ زعم پایا جاتا ہے۔
*الحاد کی روک تھام:-*
یہ وہ چند نمایاں اسباب و عوامل اور موٹے موٹے مسائل ہیں جن کا نتیجہ مسلم دنیا الحاد کی شکل میں بھگت رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اور اسی قسم کے ملحدین کے دیگر بیشتر اعتراضات سطحی، جھوٹ پر مبنی، غلط فہمی کا نتیجہ، مذہبی تعصب کی دین اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اب یہی چھوٹے چھوٹے عوارض ایمان لے ڈوبنے کے لیے بہت کافی ثابت ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت الحاد پوری دنیا میں اسلام کے سامنے سب سے بڑے چیلنج کی شکل میں ہے اور *آج تک کسی بھی فرقے، نظریہ یا مذہب نے اسلام کو اس قدر گزند نہیں پہنچایا ہوگا، جتنا گزشتہ تھوڑے عرصے میں الحاد پہنچا چکا ہے۔*
الحاد کی اس بڑھوتری کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ملحدین ترک مذہب کے علاوہ کسی نئے مذہب کے داعی نہیں ہوتے، اس لیے انھیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بلکہ بندہ پہلے جس مذہب سے وابستہ ہے، محض اس سے بد گمان کرنا ہی ان کے لیے کافی ہوتا ہے اور یہ کام آج کے دور میں بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اس پوری فتنہ انگیزی کے عہد میں اسلامیان ہند کے لیے من جانب اللہ ایک زریں موقع یہ ہے کہ *بھارت کے ملحد ہنوز سوشل میڈیائی گروپس کے علاوہ کہیں منظم نہیں اور یہاں کی حکومتیں اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے ابھی انھیں دیدہ و دانستہ نظر انداز بھی کر رہی ہیں، اس لیے ان کی واپسی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں* جبکہ دیگر ممالک میں یہ طبقہ منظم بھی ہے اور حکومتوں کا منظور نظر بھی۔
لیکن بھارت میں بھی غیر منظم ہونے کا وہ مطلب ہرگز نہیں، جو اسلام اور مسلمانوں کے تئیں تصور کیا جاتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پوری خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے اور الگ الگ پلیٹ فارمز پر *ایکس مسلمز* کے نام سے بہت متحرک گروپس چلا رہا ہے۔ یہ غیر منظم رفتار بھی اتنی تیز ہے کہ دیدہ بینا نہ رکھنے والے عام اور رسمی مسلمانوں کے لیے اس کی طوفانی رفتار کا صحیح اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔
اس رفتار اور طرز عمل کا ہلکا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور مذہبی تنظیم *"دعوت اسلامی"* سے وابستہ ایک شخص جو کبھی راجستھان کے شہر سیکر میں اس تنظیم کا رضا کارانہ مبلغ ہوا کرتا تھا، ابھی الحاد کے راستے پر ہے۔
امید ہے حساس مزاج اور اسلام کے تئیں درد مند دل رکھنے والوں نے موضوع کی نزاکت محسوس کر لی ہوگی اور دنیا جہان کی ضروری / غیر ضروری مصروفیات و مباحث کے بیچ اس چیلنجنگ موضوع پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ یہ بھی امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ مذہبی تقریریں اور تحریریں پیش کرنے والے جہاں اپنے لیے اجرو ثواب کے متمنی رہتے ہیں، وہیں ذہن کے ایک گوشے میں یہ بھی خیال رکھیں گے : *کہیں ہمارے غیر علمی، غیر معقول، تشدد آمیز، فرسودہ، غیر نفسیاتی، غلط طرز تعبیر، یا برے کردار و عمل کی وجہ سے دنیا ہمارے مذہب سے برگشتہ تو نہیں ہو رہی ہے؟؟؟*
خدا نخواستہ، صد بار نخواستہ اگر کہیں ایسا ہوا، یا خاموشی سے ہو رہا ہے تو اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے تیار رہیے جس نے خاتم الانبیا ﷺ کے واسطے سے پوری دنیا کو اکمل مذہب دیا، لیکن اس کی تبلیغ کے دعوے دار ہی کسی کے لیے اس سے برگشتگی کا سبب بن گئے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ*
"مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں"
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! سبب ہے کچھ اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ہے اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی ؎
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء ہے۔ ان کا سراپا دل آویز ہے۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی ہے۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہ سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جوڑ دیتے تھے۔ اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسول میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہم کنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و حرب کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ہے ؎
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے۔ کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں۔ ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے... وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی ممانعت سختی سے فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎
دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دین کا
ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں
حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ؛ اور جوعاشقِ رسول ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ اور عقیدہ پختہ ہو رہا ہو عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بری
"مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں"
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! سبب ہے کچھ اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ہے اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی ؎
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء ہے۔ ان کا سراپا دل آویز ہے۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی ہے۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہ سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جوڑ دیتے تھے۔ اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسول میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہم کنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و حرب کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ہے ؎
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے۔ کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں۔ ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے... وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی ممانعت سختی سے فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎
دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دین کا
ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں
حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ؛ اور جوعاشقِ رسول ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ اور عقیدہ پختہ ہو رہا ہو عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بری
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
لی شریف کے گلشن میں؛ گلشن آباد (ناسک) اور جوارِ مخدوم مہائمی(ممبئی) میں- ہر جگہ جمالِ ولایت سے نگاہیں نور بار ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے محبت کا درسِ مُصَفّیٰ ملا- سبحان اللہ!
حضور تاج الشریعہ کا نعتیہ کلام کیف و سرور کو بڑھا دیتا ہے اور ایسے اشعار بھی درِ دل پر دستک دے کر ذہن کے تاروں کو متحرک کر دیتے ہیں اور محبت کا نصیبہ بیدار ہو جاتا ہے ؎
گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغ ہستی
اس کی آنکھوں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو
دردِ اُلفت میں دے مزا ایسا
دل نہ پائے کبھی قرارسلام
اسی بے قراری اور محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کی قندیل فروزاں کیے حضور تاج الشریعہ ۷؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ/۲۲؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو واصلِ حق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گئے بزم سونی کر گئے- ان کی یادوں کے چراغ قلبِ مومن کو فروزاں کر رہے ہیں-
جس کی نگاہوں میں خاکِ حجازِ مقدس کا سرمہ ہو اس کو باطل کی چیرہ دستیاں بھلا کس طرح لرزہ بر اندام کر سکتی ہیں؟ جسے محبوب کی محبت و عشق کا درد ہو؛ اسے حوادث و فتن کس طرح مبتلائے آلام بنا سکتے ہیں۔ جس کا دل محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں کھویا ہو اور اسی میں اسے راحت میسر ہو اس کے قلبِ روشن کو کون مضمحل کر سکتا ہے! اور جب دل کی دنیا ذکرِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آباد ہو تو کوئی اسے پژمردہ نہیں کر سکتا؛ ایسے عاشق صادق کی نگاہوں میں شفق کا حسن نہیں بس سکتا اور چمن کی جلوہ آرائی اس کی نگاہوں کو اپنا اسیر نہیں بنا سکتی ہے، تو جب اس گام پر کوئی شخصیت مطلع انوار نظر آتی ہے تو وہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے؛ جن کی فکر و بصیرت نے کتنے آزردہ دلوں اور شوریدہ فکروں کو گنبدِ خضرا کی بہاروں کا مشتاق بنا دیا ۔ وہ سر جس میں ہوا و ہوس کا سودا سمایا تھا اس میں ایک انقلاب کا سماں پیدا کر دیا۔ یادِ شہ بطحا نے دل و دماغ کو روشن کر دیا ؎
نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
بندہ جب اللہ کا ہو جاتاہے تو مخلوق اس کی شان و رفعت کی قائل ہو جاتی ہے اور اس کی طرف مائل۔ ہم نے دیکھا کہ جب حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کسی بزم میں پہنچ جاتے تو پروانے ٹوٹ ٹوٹ پڑتے، دل فدا ہو جاتے۔ سچ ہے جو شریعت کے اصولوں کا عامل ہو جاتا ہے مخلوق اس کی تعظیم میں عجلت کرتی ہے اور لوگ پروانہ وار اس کے دید کو امڈ پڑتے ہیں اور یہ شہرت و عطا تو اس بارگاہ کی ہے جہاں دل کا حال کھلا ہوا ہے اور جہاں جود و عطا کے دھارے چلتے ہیں، فیض کے دریا بہتے ہیں- امام بوصیری علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے ؎
کَالزَّھْرِ فِیْ تَرَفٍ والْبَدْرِ فِیْ شَرَفٍ
وَالْبَحْرِ فِی کَرَ مِ والدَّھْرِ فِی ھِمَمٖ
ترجمہ: آپ تازگی میں کلی کی مانند ہیں، اوج و رفعت میں ماہ کامل کے مثل، جود و سخا میں سمندر کی طرح، اور عزم و حوصلہ میں زمانہ کی مانند ہیں۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
جسے بارگاہِ رسالت سے عطاو نوازش کا وافر حصہ ملا ہو اس کی شان تو دوبالاہو گی ہی؛ اس کی رفعت و بلندی کے ترانے گنگنائے جائیں گے۔ آج جو شہرت و دوام حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے یہ وہ نہیں کے جسے گھٹا دیا جائے یا اس میں کوئی کمی آجائے بلکہ یہ تو عطائے خاص ہے، اب کوئی چاہے تو اس پر مبتلاے رنج ہو اور کوئی مسرور۔ وصف مومن اظہارِ تشکر ہے؛
الٰہی عزوجل! جب تک چمن میں مرغ نوا سنجی کرتے رہیں حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی لحد پر رحمت و انوار کی بارانِ مبارک برستی رہے۔ جب تک بلبل کی خوش خرامی گلشن میں اپنی آوازکا جادو جگاتی رہے اختر کی تابندگی روز بڑھتی رہے۔ جب تک آبشاروں کا ترنم جمالیات کی بزم کو آراستہ کرتا رہے اور افق کا جمال نگاہوں کو تازگی دیتا رہے حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ علم کی خوشبو پھیلتی رہے۔ جب تک ستاروں کی انجمن میں روشنی رہے اخترِ خوش نوا کی رعنائی ایمان کی دمک بڑھاتی رہے۔ جب تک آسمان نیلگوں پر ماہ تاب کی چمک باقی رہے اور جب تک جامِ محبت چھلکتے رہیں حضور تاج الشریعہ کے علم و فضل کی کرنوں سے کائنات عالم کے مسلماں سیراب و فیض یاب ہوتے رہیں۔ ان کے فیض کی کرنیں قلب حزیں کو بقعۂ نور بناتی رہیں؛ باغِ رضا کے عندلیب خوش نوا کی بوئے مشک بو مشامِ فکر کو مہکاتی رہے ؎
اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار
بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے
٭٭٭
*نوٹ:* مضمون کچھ عرصہ قبل لکھا گیا؛ بزمِ مطالعہ میں آج پیش کیا جا رہا ہے... مشاہدات کی نگاہیں جلوؤں سے آج بھی تازہ ہیں... اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص دے اور اسلاف کی راہ چلائے...
٦ جولائی ٢٠٢٠ء
حضور تاج الشریعہ کا نعتیہ کلام کیف و سرور کو بڑھا دیتا ہے اور ایسے اشعار بھی درِ دل پر دستک دے کر ذہن کے تاروں کو متحرک کر دیتے ہیں اور محبت کا نصیبہ بیدار ہو جاتا ہے ؎
گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغ ہستی
اس کی آنکھوں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو
دردِ اُلفت میں دے مزا ایسا
دل نہ پائے کبھی قرارسلام
اسی بے قراری اور محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کی قندیل فروزاں کیے حضور تاج الشریعہ ۷؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ/۲۲؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو واصلِ حق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گئے بزم سونی کر گئے- ان کی یادوں کے چراغ قلبِ مومن کو فروزاں کر رہے ہیں-
جس کی نگاہوں میں خاکِ حجازِ مقدس کا سرمہ ہو اس کو باطل کی چیرہ دستیاں بھلا کس طرح لرزہ بر اندام کر سکتی ہیں؟ جسے محبوب کی محبت و عشق کا درد ہو؛ اسے حوادث و فتن کس طرح مبتلائے آلام بنا سکتے ہیں۔ جس کا دل محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں کھویا ہو اور اسی میں اسے راحت میسر ہو اس کے قلبِ روشن کو کون مضمحل کر سکتا ہے! اور جب دل کی دنیا ذکرِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آباد ہو تو کوئی اسے پژمردہ نہیں کر سکتا؛ ایسے عاشق صادق کی نگاہوں میں شفق کا حسن نہیں بس سکتا اور چمن کی جلوہ آرائی اس کی نگاہوں کو اپنا اسیر نہیں بنا سکتی ہے، تو جب اس گام پر کوئی شخصیت مطلع انوار نظر آتی ہے تو وہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے؛ جن کی فکر و بصیرت نے کتنے آزردہ دلوں اور شوریدہ فکروں کو گنبدِ خضرا کی بہاروں کا مشتاق بنا دیا ۔ وہ سر جس میں ہوا و ہوس کا سودا سمایا تھا اس میں ایک انقلاب کا سماں پیدا کر دیا۔ یادِ شہ بطحا نے دل و دماغ کو روشن کر دیا ؎
نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
بندہ جب اللہ کا ہو جاتاہے تو مخلوق اس کی شان و رفعت کی قائل ہو جاتی ہے اور اس کی طرف مائل۔ ہم نے دیکھا کہ جب حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کسی بزم میں پہنچ جاتے تو پروانے ٹوٹ ٹوٹ پڑتے، دل فدا ہو جاتے۔ سچ ہے جو شریعت کے اصولوں کا عامل ہو جاتا ہے مخلوق اس کی تعظیم میں عجلت کرتی ہے اور لوگ پروانہ وار اس کے دید کو امڈ پڑتے ہیں اور یہ شہرت و عطا تو اس بارگاہ کی ہے جہاں دل کا حال کھلا ہوا ہے اور جہاں جود و عطا کے دھارے چلتے ہیں، فیض کے دریا بہتے ہیں- امام بوصیری علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے ؎
کَالزَّھْرِ فِیْ تَرَفٍ والْبَدْرِ فِیْ شَرَفٍ
وَالْبَحْرِ فِی کَرَ مِ والدَّھْرِ فِی ھِمَمٖ
ترجمہ: آپ تازگی میں کلی کی مانند ہیں، اوج و رفعت میں ماہ کامل کے مثل، جود و سخا میں سمندر کی طرح، اور عزم و حوصلہ میں زمانہ کی مانند ہیں۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
جسے بارگاہِ رسالت سے عطاو نوازش کا وافر حصہ ملا ہو اس کی شان تو دوبالاہو گی ہی؛ اس کی رفعت و بلندی کے ترانے گنگنائے جائیں گے۔ آج جو شہرت و دوام حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے یہ وہ نہیں کے جسے گھٹا دیا جائے یا اس میں کوئی کمی آجائے بلکہ یہ تو عطائے خاص ہے، اب کوئی چاہے تو اس پر مبتلاے رنج ہو اور کوئی مسرور۔ وصف مومن اظہارِ تشکر ہے؛
الٰہی عزوجل! جب تک چمن میں مرغ نوا سنجی کرتے رہیں حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی لحد پر رحمت و انوار کی بارانِ مبارک برستی رہے۔ جب تک بلبل کی خوش خرامی گلشن میں اپنی آوازکا جادو جگاتی رہے اختر کی تابندگی روز بڑھتی رہے۔ جب تک آبشاروں کا ترنم جمالیات کی بزم کو آراستہ کرتا رہے اور افق کا جمال نگاہوں کو تازگی دیتا رہے حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ علم کی خوشبو پھیلتی رہے۔ جب تک ستاروں کی انجمن میں روشنی رہے اخترِ خوش نوا کی رعنائی ایمان کی دمک بڑھاتی رہے۔ جب تک آسمان نیلگوں پر ماہ تاب کی چمک باقی رہے اور جب تک جامِ محبت چھلکتے رہیں حضور تاج الشریعہ کے علم و فضل کی کرنوں سے کائنات عالم کے مسلماں سیراب و فیض یاب ہوتے رہیں۔ ان کے فیض کی کرنیں قلب حزیں کو بقعۂ نور بناتی رہیں؛ باغِ رضا کے عندلیب خوش نوا کی بوئے مشک بو مشامِ فکر کو مہکاتی رہے ؎
اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار
بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے
٭٭٭
*نوٹ:* مضمون کچھ عرصہ قبل لکھا گیا؛ بزمِ مطالعہ میں آج پیش کیا جا رہا ہے... مشاہدات کی نگاہیں جلوؤں سے آج بھی تازہ ہیں... اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص دے اور اسلاف کی راہ چلائے...
٦ جولائی ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک بیوی سے فائدہ کیا ہوا؟
مرد نکاح کیوں کرتا ہے؟
مقصد کیا ہوتا ہے؟
پہلا یہ کہ عورت کے ذریعے اولاد حاصل ہو،
دوسرا یہ کہ گناہوں سے بچ سکے یعنی بدنگاہی، مشت زنی یا زنا کے قریب نہ جائے پر ایک بیوی میں یہ دونوں مقصد پورے نہیں ہوتے!
ایک بیوی سے زیادہ اولاد ممکن نہیں، زیادہ اولاد کے لیے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا ضروری ہے پھر ایک بیوی سے مقصد کہاں پورا ہوا؟
دوسرا ہے گناہوں سے بچنا تو کیا یہ بھی ایک بیوی سے ہر کسی کے لیے ممکن ہے؟
حدیث میں حکم ہے کہ جب کسی عورت پر نگاہ پڑے اور وہ اچھی لگے (یعنی اس کی خواہش ہو) تو اپنی بیوی کے پاس آئے اور اپنی خواہش کو پوری کر لے لیکن اگر اس کی بیوی حیض کی حالت میں ہو تو پھر اس کے پاس کون سا راستہ (Option) ہے؟ پھر گناہوں سے بچنا جو مقصود تھا وہ کہاں پورا ہوا؟
صرف حیض کی بات نہیں ہے، عورتوں کے کئی مسائل ہیں مثلاً ایک بیوی ہے اور گھر کا کام ہے، ایام حمل (Pregnancy) ہے، تھکان ہے، مزاج (Mood) ہے، طبیعت ہے، بچے ہیں اور حیض، نفاس اور استحاضہ وغیرہ اپنی جگہ ہے تو ہر مرد کے لیے کوئی عقلمند ایک بیوی کو کافی قرار نہیں دے سکتا اور مرد کو دوسری شادی سے روکنا اصل میں اسے ذہنی اور جسمانی طور پر تکلیف پہنچانا اور گناہوں کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے۔
اگر آپ نکاح کے مقصد کو پانا چاہتے ہیں تو ایک سے زیادہ شادیاں ضروری ہے۔
اولاد بھی زیادہ ہوگی، میاں بیوی خوشحال بھی ہوں گے اور دنیا و آخرت میں کامیاب بھی ہوں گے۔
عبد مصطفی
مرد نکاح کیوں کرتا ہے؟
مقصد کیا ہوتا ہے؟
پہلا یہ کہ عورت کے ذریعے اولاد حاصل ہو،
دوسرا یہ کہ گناہوں سے بچ سکے یعنی بدنگاہی، مشت زنی یا زنا کے قریب نہ جائے پر ایک بیوی میں یہ دونوں مقصد پورے نہیں ہوتے!
ایک بیوی سے زیادہ اولاد ممکن نہیں، زیادہ اولاد کے لیے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا ضروری ہے پھر ایک بیوی سے مقصد کہاں پورا ہوا؟
دوسرا ہے گناہوں سے بچنا تو کیا یہ بھی ایک بیوی سے ہر کسی کے لیے ممکن ہے؟
حدیث میں حکم ہے کہ جب کسی عورت پر نگاہ پڑے اور وہ اچھی لگے (یعنی اس کی خواہش ہو) تو اپنی بیوی کے پاس آئے اور اپنی خواہش کو پوری کر لے لیکن اگر اس کی بیوی حیض کی حالت میں ہو تو پھر اس کے پاس کون سا راستہ (Option) ہے؟ پھر گناہوں سے بچنا جو مقصود تھا وہ کہاں پورا ہوا؟
صرف حیض کی بات نہیں ہے، عورتوں کے کئی مسائل ہیں مثلاً ایک بیوی ہے اور گھر کا کام ہے، ایام حمل (Pregnancy) ہے، تھکان ہے، مزاج (Mood) ہے، طبیعت ہے، بچے ہیں اور حیض، نفاس اور استحاضہ وغیرہ اپنی جگہ ہے تو ہر مرد کے لیے کوئی عقلمند ایک بیوی کو کافی قرار نہیں دے سکتا اور مرد کو دوسری شادی سے روکنا اصل میں اسے ذہنی اور جسمانی طور پر تکلیف پہنچانا اور گناہوں کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے۔
اگر آپ نکاح کے مقصد کو پانا چاہتے ہیں تو ایک سے زیادہ شادیاں ضروری ہے۔
اولاد بھی زیادہ ہوگی، میاں بیوی خوشحال بھی ہوں گے اور دنیا و آخرت میں کامیاب بھی ہوں گے۔
عبد مصطفی