Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
نکاح آسان کیسے ہوگا
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چنگیز خان کا پوتا اور حضرتِ شیخ سعدی
چنگیز خان کے پوتے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقہ خان سے جب حضرتِ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی ملاقات ہوئی تو آپ نے بنا ڈرے اس سے گفتگو کی اور جب جانے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔
آپ نے فرمایا: دنیا سے نیکی اور بدی آخرت میں ساتھ جائے گی اب تمھیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے تمھیں کیا ساتھ لے جانا منظور ہے۔
اباقہ خان نے گزارش کی کہ اس نصیحت کو اشعار کا جامہ پہنا دیجیے۔ حضرتِ شیخ نے اسی وقت کہا:
شہے کہ پاس رعیت نگاہ میدارد
حلال باد خراجش کہ مزد چوپانی است
وگرنہ راعئ خلق است زہر مارش باد
کہ ہرچہ میخورد از جزیۂ مسلمانی است
"یعنی جو بادشاہ رعایا کی صحیح طور پر حفاظت کرتا ہے اس کے لیے خراج اس لیے حلال ہے کہ اس نے حفاظت کی اجرت وصول کی ہے اور اگر مخلوق کی حفاظت نہیں کرتا تو خدا کرے کہ خراج اس کے لیے زہر قاتل ہو کیوں کہ وہ مسلمانوں کا کا جزیہ (ٹیکس) کھا رہا ہے"
اباقہ خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی دفعہ پوچھا کہ میں مخلوق کا محافظ ہو یا نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ اگر آپ محافظ ہیں تو پہلا شعر آپ کے مناسب ہے ورنہ دوسرا شعر۔
اباقہ خان آپ کی نصیحت سے خوش ہوا اور آپ کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔
اس طریقے سے ایک عام آدمی کو نصیحت کرنا مشکل ہے مگر شیخ سعدی نے منگول بادشاہ کے سامنے پوری بے باکی سے حق کی آواز کو بلند کیا۔
زمانے کو ضرورت ہے ظالموں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بے خوف بولنے والے لوگوں کی۔
اللہ تعالی ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے صدقے حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(عظمتوں کے پاسبان، ص13، 14)
عبد مصطفی
چنگیز خان کے پوتے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقہ خان سے جب حضرتِ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی ملاقات ہوئی تو آپ نے بنا ڈرے اس سے گفتگو کی اور جب جانے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔
آپ نے فرمایا: دنیا سے نیکی اور بدی آخرت میں ساتھ جائے گی اب تمھیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے تمھیں کیا ساتھ لے جانا منظور ہے۔
اباقہ خان نے گزارش کی کہ اس نصیحت کو اشعار کا جامہ پہنا دیجیے۔ حضرتِ شیخ نے اسی وقت کہا:
شہے کہ پاس رعیت نگاہ میدارد
حلال باد خراجش کہ مزد چوپانی است
وگرنہ راعئ خلق است زہر مارش باد
کہ ہرچہ میخورد از جزیۂ مسلمانی است
"یعنی جو بادشاہ رعایا کی صحیح طور پر حفاظت کرتا ہے اس کے لیے خراج اس لیے حلال ہے کہ اس نے حفاظت کی اجرت وصول کی ہے اور اگر مخلوق کی حفاظت نہیں کرتا تو خدا کرے کہ خراج اس کے لیے زہر قاتل ہو کیوں کہ وہ مسلمانوں کا کا جزیہ (ٹیکس) کھا رہا ہے"
اباقہ خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی دفعہ پوچھا کہ میں مخلوق کا محافظ ہو یا نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ اگر آپ محافظ ہیں تو پہلا شعر آپ کے مناسب ہے ورنہ دوسرا شعر۔
اباقہ خان آپ کی نصیحت سے خوش ہوا اور آپ کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔
اس طریقے سے ایک عام آدمی کو نصیحت کرنا مشکل ہے مگر شیخ سعدی نے منگول بادشاہ کے سامنے پوری بے باکی سے حق کی آواز کو بلند کیا۔
زمانے کو ضرورت ہے ظالموں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بے خوف بولنے والے لوگوں کی۔
اللہ تعالی ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے صدقے حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(عظمتوں کے پاسبان، ص13، 14)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سنی مسلمان کو اپنے عقیدے
کے خلاف سمجھنا گمراہی ہے!
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ⁴⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کے خلاف سمجھنا گمراہی ہے!
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ⁴⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سنی کو وہابی
دیوبندی کہنا کیسا ہے؟
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ³⁷⁵
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دیوبندی کہنا کیسا ہے؟
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ³⁷⁵
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Fuad Raza Khan
تاج الشریعہ اکابر و مشاہیر کی نظر میں
کسی بھی شخصیت کو جاننے کے دو طریقہ ہیں ایک ان کی تحریر و تقریر سے جاننا دوسرا ان کے بارے ان کے معاصرین اور اکبارین کے کیا آراں ہیں اس سے پہچاننا، ہمارے حضرت پیر طریقت رہبر شریعت کنز الکرامت جبل الاستقمت تاج شریعت وارث علوم اعلی حضرت جانشین تاجدار اہل سنت علامہ شاہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمتہ الرضوان جہاں زبردست مصنف تھے وہیں ایک بکمال خطیب بھی تھے آپ کی تصانیف صرف ہند و پاک ہی میں نہیں بلکہ عرب میں بھی مشہور ہیں اور تقاریر بھی ہر محب کے پاس محفوظ ہیں ان پر کچھ تبصرہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کا کام نہیں اور یہ کام ہے بھی فرصت کا لیکن حضرت کے متعلق کچھ لکھنا تو ہےتاکہ مجھ حقیر فقیر سراپا تقصیر کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے جنہوں نے حضرت کے متعلق کچھ لکھا تو ہم نے سوچا کیوں نہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے آپ کے متعلق اکابر اور مشاہیر کے اقوال لکھ دئے جائیں اللہ تعالی قبول فرمائے حضرت کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
۱: *تاجدار اہلسنت سرکار مفتی اعظم ہند قد سرہ*
حضور مفتی اعظم ہند حضرت پر کس قدر محبت و شفقت فرماتے وہ تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں اس لئیےانہیں کے اقوال لکھنا مناسب ہیں اولا حبیب مفتی اعظم نبیرہ استاد زمن حضرت مولانا مفتی حبیب رضا خان علیہ الرحمہ جو سرکار مفتی اعظم کی مجلس میں روز کے حاضر باش تھے جن کو حضور مفتی اعظم نے ان کے نام اپنے ایک مکتوب میں "برخوردار نور الابصار حبیب میاں سلمہ" سے یاد فرمایا ان کا بیان ہے کہ کبھی کبھی ناغہ ہو جاتا تو حضرت (مفتی اعظم) کی اہلیہ محترمہ پیرانی اماں صاحبہ علہا الرحمہ دریافت فرماتیں کہ آج اختر میاں آئے نہیں ان سے کہو روزانہ آیا کریں حضرت ان کو بہت پسند فرماتے ہیں (سوانح تاج الشریعہ صفحہ ۲۲)
انہیں کہ صاحبزادہ حسیب میاں صاحب قبلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں اپنے والد علیہ الرحمہ سے سنا کہ جب حضرت حضور مفتی اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے حضور مفتی اعظم مصروف ہوتے کچھ کاغذ وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے جگہ نہ ہوتی خود مفتی اعظم جگہ بنا کر آپ کو اپنے پاس محبت بھرے انداز میں بھیٹاتے
استاذی خلیفہ مفتی اعظم شیخ الحدیث و مفتی رضوی دار الافتاء مفتی عبید الرحمن رضوی مدظلہ العالی حضرت پر اکرام مفتی اعظم کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں "حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کو آپ سےغایت درجہ الفت و محبت تھی اس لئے بزریعہ کشف آپ اس بات سے واقف تھے کہ میرا اختر اپنے وقت میں دین حق کی اشاعت کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے گا جب آپ نے جامعہ ازہر مصر سے فراغت حاصل کرکے سر زمین بریلی قدم رکھا دلی سے بزریعہ ٹرین بریلی جنکشن پر پہونچے تو جہاں خانوادۂ رضویہ کے افراد جنکشن پر موجود تھے وہیں حضور مفتی اعظم بھی استقبال کرنے والوں کی صف میں تھے جیسے ہی حضور تاج الشریعہ ٹرین سے اترے حضور مفتی اعظم نے والہانہ محبت کیساتھ ان سے معانقہ فرمایا اور پھر ساتھ لیکر سوداگران پہونچے"
(نقوش تاج الشریعہ شمارہ سنی دنیا ۴۴۰)
خادم خاص مفتی اعظم جناب ناصر بھائی مرحوم نے فقیر سے بیان کیا کہ"میں نے حضور مفتی اعظم کو صرف دو لگوں کو اسٹیشن لینے جاتے دیکھا ایک اولاد غوث اعظم حضرت پیر طاہر علاء الدین جیلانی بغدادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو دوسرے تاج الشریعہ کو جب وہ جامع ازہر سے فارغ التحصیل ہو کر تشریف لائے"
انہیں کا بیان ہے "جب کوئی (آخری وقت میں) حضور مفتی اعظم سے فتوی منگتا تو فرماتے اختر سے لے لو"
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ فتوی دینا تمام امور دینیہ میں نہایت ہی دشوار کن امر ہے حضور پر نور اعلی حضرت فرماتے ہیں "علم الفتوی پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ مدتہاں طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو"
(فتاوی رضویہ ۲۳۱/۱)
ہمارے حضرت نے بھی طبیب حاذق کا مطب کیا اور ایسے طبیب حاذق کا جنہیں دنیا مفتی اعظم کے عظیم لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے جب وہ کسی کے لئے فرمائیں کے فتوی اس سے لو تو اس شخص کی علم الفتوی میں کتنی عمیق نظر ہوگی جو کے حضرت کے فتاوی سے روز روشن کی طرح عیاں ہے،
۲: *حضور برہان ملت علیہ الرحمہ*
خلیفہ اعلی حضرت حضور برہان ملت نے حضرت کو ہر اس چیز کی اجازت و خلافت عطا فرمائی جن کی آپ کو مجدد اعظم اور آپ کہ والد ماجد حضرت عید الاسلام رضی اللہ عنہما نے عطا فرمائی تھی اور سند اجازت میں آپ کا نام کچھ اس طرح تحریر فرمایا "فسالني الشيخ العالم العامل ذو الفضائل و الفواضل العزيز المفتي محمد اختر رضا خان ابن مفسر أعظم علامه إبراهيم رضا خان المعروف به جيلاني مياں عليه الرحمة و الرضوان زينه الله تعالى بعلمه و فضله المعنوي و الصوري"
یعنی:صاحب علم و عمل بلند پایہ عالی مرتبت لائق احترام شیخ مفتی محمد اختر رضا خان بن مفسر اعظم ابراهيم رضا خان جوکہ جیلانی میاں کے نام سے مشہور ہیں اللہ تعالیٰ انہیں روحانی علم اور حقیقی فضل و کرم سے نوازے انہوں نے مجھ سے
کسی بھی شخصیت کو جاننے کے دو طریقہ ہیں ایک ان کی تحریر و تقریر سے جاننا دوسرا ان کے بارے ان کے معاصرین اور اکبارین کے کیا آراں ہیں اس سے پہچاننا، ہمارے حضرت پیر طریقت رہبر شریعت کنز الکرامت جبل الاستقمت تاج شریعت وارث علوم اعلی حضرت جانشین تاجدار اہل سنت علامہ شاہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمتہ الرضوان جہاں زبردست مصنف تھے وہیں ایک بکمال خطیب بھی تھے آپ کی تصانیف صرف ہند و پاک ہی میں نہیں بلکہ عرب میں بھی مشہور ہیں اور تقاریر بھی ہر محب کے پاس محفوظ ہیں ان پر کچھ تبصرہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کا کام نہیں اور یہ کام ہے بھی فرصت کا لیکن حضرت کے متعلق کچھ لکھنا تو ہےتاکہ مجھ حقیر فقیر سراپا تقصیر کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے جنہوں نے حضرت کے متعلق کچھ لکھا تو ہم نے سوچا کیوں نہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے آپ کے متعلق اکابر اور مشاہیر کے اقوال لکھ دئے جائیں اللہ تعالی قبول فرمائے حضرت کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
۱: *تاجدار اہلسنت سرکار مفتی اعظم ہند قد سرہ*
حضور مفتی اعظم ہند حضرت پر کس قدر محبت و شفقت فرماتے وہ تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں اس لئیےانہیں کے اقوال لکھنا مناسب ہیں اولا حبیب مفتی اعظم نبیرہ استاد زمن حضرت مولانا مفتی حبیب رضا خان علیہ الرحمہ جو سرکار مفتی اعظم کی مجلس میں روز کے حاضر باش تھے جن کو حضور مفتی اعظم نے ان کے نام اپنے ایک مکتوب میں "برخوردار نور الابصار حبیب میاں سلمہ" سے یاد فرمایا ان کا بیان ہے کہ کبھی کبھی ناغہ ہو جاتا تو حضرت (مفتی اعظم) کی اہلیہ محترمہ پیرانی اماں صاحبہ علہا الرحمہ دریافت فرماتیں کہ آج اختر میاں آئے نہیں ان سے کہو روزانہ آیا کریں حضرت ان کو بہت پسند فرماتے ہیں (سوانح تاج الشریعہ صفحہ ۲۲)
انہیں کہ صاحبزادہ حسیب میاں صاحب قبلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں اپنے والد علیہ الرحمہ سے سنا کہ جب حضرت حضور مفتی اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے حضور مفتی اعظم مصروف ہوتے کچھ کاغذ وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے جگہ نہ ہوتی خود مفتی اعظم جگہ بنا کر آپ کو اپنے پاس محبت بھرے انداز میں بھیٹاتے
استاذی خلیفہ مفتی اعظم شیخ الحدیث و مفتی رضوی دار الافتاء مفتی عبید الرحمن رضوی مدظلہ العالی حضرت پر اکرام مفتی اعظم کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں "حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کو آپ سےغایت درجہ الفت و محبت تھی اس لئے بزریعہ کشف آپ اس بات سے واقف تھے کہ میرا اختر اپنے وقت میں دین حق کی اشاعت کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے گا جب آپ نے جامعہ ازہر مصر سے فراغت حاصل کرکے سر زمین بریلی قدم رکھا دلی سے بزریعہ ٹرین بریلی جنکشن پر پہونچے تو جہاں خانوادۂ رضویہ کے افراد جنکشن پر موجود تھے وہیں حضور مفتی اعظم بھی استقبال کرنے والوں کی صف میں تھے جیسے ہی حضور تاج الشریعہ ٹرین سے اترے حضور مفتی اعظم نے والہانہ محبت کیساتھ ان سے معانقہ فرمایا اور پھر ساتھ لیکر سوداگران پہونچے"
(نقوش تاج الشریعہ شمارہ سنی دنیا ۴۴۰)
خادم خاص مفتی اعظم جناب ناصر بھائی مرحوم نے فقیر سے بیان کیا کہ"میں نے حضور مفتی اعظم کو صرف دو لگوں کو اسٹیشن لینے جاتے دیکھا ایک اولاد غوث اعظم حضرت پیر طاہر علاء الدین جیلانی بغدادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو دوسرے تاج الشریعہ کو جب وہ جامع ازہر سے فارغ التحصیل ہو کر تشریف لائے"
انہیں کا بیان ہے "جب کوئی (آخری وقت میں) حضور مفتی اعظم سے فتوی منگتا تو فرماتے اختر سے لے لو"
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ فتوی دینا تمام امور دینیہ میں نہایت ہی دشوار کن امر ہے حضور پر نور اعلی حضرت فرماتے ہیں "علم الفتوی پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ مدتہاں طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو"
(فتاوی رضویہ ۲۳۱/۱)
ہمارے حضرت نے بھی طبیب حاذق کا مطب کیا اور ایسے طبیب حاذق کا جنہیں دنیا مفتی اعظم کے عظیم لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے جب وہ کسی کے لئے فرمائیں کے فتوی اس سے لو تو اس شخص کی علم الفتوی میں کتنی عمیق نظر ہوگی جو کے حضرت کے فتاوی سے روز روشن کی طرح عیاں ہے،
۲: *حضور برہان ملت علیہ الرحمہ*
خلیفہ اعلی حضرت حضور برہان ملت نے حضرت کو ہر اس چیز کی اجازت و خلافت عطا فرمائی جن کی آپ کو مجدد اعظم اور آپ کہ والد ماجد حضرت عید الاسلام رضی اللہ عنہما نے عطا فرمائی تھی اور سند اجازت میں آپ کا نام کچھ اس طرح تحریر فرمایا "فسالني الشيخ العالم العامل ذو الفضائل و الفواضل العزيز المفتي محمد اختر رضا خان ابن مفسر أعظم علامه إبراهيم رضا خان المعروف به جيلاني مياں عليه الرحمة و الرضوان زينه الله تعالى بعلمه و فضله المعنوي و الصوري"
یعنی:صاحب علم و عمل بلند پایہ عالی مرتبت لائق احترام شیخ مفتی محمد اختر رضا خان بن مفسر اعظم ابراهيم رضا خان جوکہ جیلانی میاں کے نام سے مشہور ہیں اللہ تعالیٰ انہیں روحانی علم اور حقیقی فضل و کرم سے نوازے انہوں نے مجھ سے
Forwarded from Fuad Raza Khan
اجازت طلب کی۔
۳: *حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ*
حضرت تاج الشریعہ کی موجودگی میں ایک صاحب حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں آپ سے بیعت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں حضور مجاہد ملت جلال میں آگئے اور فرمایا میرے مخدوم اور مخدوم زادے بریلی شریف کے شہزادے تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی موجودگی میں بیعت کروں؟حبیب الرحمن کی یہ مجال اتنی بڑی جرات کرے یہ تمہارا نصیب ہے کے حضرت تشریف فرما ہیں تمہیں شہزادہ صاحب ہی سے بیعت ہونا ہے خود لے جاکر ان صاحب کو حضور تاج الشریعہ سے بیعت کروایا
(مجاہد ملت اور مسلک اعلی حضرت صفحہ ۲۲)
۴: *مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ*
حضرت کے والد ماجد حضور مفسر اعظم ہند علامہ ابراہیم رضا خان علیہ الرحمتہ الرضوان نے آپ کو اعلی حضرت کا جانشین بنایا فرماتے ہیں "بوجہ علالت یہ توقع نہیں کہ اب زندگی ہو بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو لہذا اختر رضا سلمہ کو قائم مقام و جانشین اعلی حضرت بنا دیا گیا"
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف دسمبر ۱۹۶۲ صفحہ ۳۲)
اور راقم السطور نے خاندانی روایات میں سنا حضرت مفسر اعظم فرمایا کرتے تھے کہ "میں غروب ہو رہا ہوں اختر طلوع ہو رہا ہے"
۵: *محدث مکتہ المکرمہ شیخ سید محمد ابن علوی مالکی قدس سرہ*
حضور تاج الشریعہ کی دعوت پر آپ ۲۰۰۴ میں بریلی شریف تشریف لائے تھے مزار شریف پر حاضری کے بعد جامعة الرضا تشریف لے گئے وہاں حضرت تاج الشریعہ نے آپ کو اپنا قصیدہ سنایا شیخ بہت متاثر ہوئے اور حضرت کی بے پناہ تعریف کی (اور قصیدہ کے متعلق فرمایا هذه قصيدة عظيمة) اور دوران تقریر حضرت کو مفتی اعظم عالم کے عظیم لقب سے سرفراز فرمایا حضرت نے انہیں کچھ اپنی تصانیف عطا کی جب علامہ علوی نے "نموذج حاشیہ الازہری" (یہ حضرت کی تحریر کردہ بخاری شریف اور حاشیہ بخاری شریف پر تعلیقات کا نمونہ تھا اب وہ حاشیہ مکمل بڑے سائز کے کاغظ پر بخاری شریف کے ساتھ تعلیقات زاہرہ کے نام سے ۸۹ صفحات پر مجلس برکات سے شائع ہو چکا ہے)
ملاحظہ کیا تو بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا اور حضرت کو "محدث حنفی محدث عظیم اور عالم کبیر" وغیرہ القاب و آداب سے یاد کیا۔
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۵۹۹)
۶: *احسن العلماء علیہ الرحمہ*
۱۶/۱۵ نومبر کو مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں احسن العلماء مولانا مفتی سید حسن میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہ پرکاتیہ مارہرہ نے جانشین مفتی اعظم کا استقبال "قائم مقام مفتی اعظم علامہ ازہری زندہ باد" کے نعرے سے کیا اور مجمع کثیر میں علماء و مشائخ اور فضلا و دانشوروں کی موجودگی میں جانشین مفتی اعظم کو یہ کہہ کر "فقیر آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختر رضا خان صاحب کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہوں پورا مجمع سن لے تمام برکاتی بھائی سن لیں اور یہ علماء گواہ رہیں"
(مفتی اعظم اور ان کے خلفاء صفحہ ۱۶۲)
اور حضرت کے رسالہ مبارک "ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن" کی تصدیق ان الفاظ میں فرمائی "اگر میں یہ کہہ دوں کے زیر نظر فتوی اپنے موضوع پر حرف آخر ہے تو یہ بات میرے نزدیک مبالغہ یا شاعری بے جا حمایت اور طرفداری نہیں بلکہ حقیقت واقعی کا کھلے دل سے اعتراف ہوگا"
(ٹی وی ویڈیو کا آپریشن صفحہ ۳)
۷: *بحر العلوم علامہ سید مفتی افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ*
حضرت کے استاذ خلیفہ مفتی اعظم علامہ سید افضل حسین مونگیری رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے اپنے شاگرد کے رسالہ *تصویر کا شرعی حکم* پر یہ تقریظ تحریر فرمائی "جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت میں احادیث کثیرہ بشیرہ ہیں عزیزم محترم فاضل مکرم جناب علامہ اختر رضا خان سلمہ ربہ کا فتوی اس بارے میں نہایت قوی دلائل پر مشتمل ہے جو اوہام ضعیفہ اور شبہات سحیفہ کے ازالہ کے لئے کافی و وافی ہے اللہ تعالی مسلمانوں کو اتباع حق کی توفیق بخشے وہو الہادی"
۸: *مفتی نانپارہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ*
خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت کے جامع ازہر سے لوٹنے پر گلہائے عقیدت اس طرح پیش کئے
جامع ازہر سے فارغ ہوکر آیا ہند میں
لیکر آیا اپنے دامن میں ہزاروں علم و فن
تیرے چہرے سے عیاں ہے کیا جلال قادری
تیری آنکھوں سے ٹپکتی ہے لئے جام کہن
ہو نہ کیوں مسرور روح پاک جیلانی میاں
تو ہے ان کے باغ کا اک گل مجسم گلبدن
تیرے جد محترم کے در کا سائل ہے رجب
اس پہ بھی کیجیے خدارا چشم الطاف و منن
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف ۱۹۶۷ صفحہ ۲۳)
۹: *صدر العلماء محدث بریلوی قدس سرہ*
الحمد للہ حضرت علامہ ازہری میاں سلمہ نے باوجود گوناگو مصروفیات اور علالت طبع اس کا ترجمہ(المعتقد مع حاشیہ المستند) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہو جائے اس کا بالاستعاب مطالعہ تو میں نہیں کر سکا مگر جستہ جستہ جو مقامات میں نے دیکھے اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے"
۱۰: *شارح بخاری علیہ الرحمہ*
"
۳: *حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ*
حضرت تاج الشریعہ کی موجودگی میں ایک صاحب حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں آپ سے بیعت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں حضور مجاہد ملت جلال میں آگئے اور فرمایا میرے مخدوم اور مخدوم زادے بریلی شریف کے شہزادے تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی موجودگی میں بیعت کروں؟حبیب الرحمن کی یہ مجال اتنی بڑی جرات کرے یہ تمہارا نصیب ہے کے حضرت تشریف فرما ہیں تمہیں شہزادہ صاحب ہی سے بیعت ہونا ہے خود لے جاکر ان صاحب کو حضور تاج الشریعہ سے بیعت کروایا
(مجاہد ملت اور مسلک اعلی حضرت صفحہ ۲۲)
۴: *مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ*
حضرت کے والد ماجد حضور مفسر اعظم ہند علامہ ابراہیم رضا خان علیہ الرحمتہ الرضوان نے آپ کو اعلی حضرت کا جانشین بنایا فرماتے ہیں "بوجہ علالت یہ توقع نہیں کہ اب زندگی ہو بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو لہذا اختر رضا سلمہ کو قائم مقام و جانشین اعلی حضرت بنا دیا گیا"
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف دسمبر ۱۹۶۲ صفحہ ۳۲)
اور راقم السطور نے خاندانی روایات میں سنا حضرت مفسر اعظم فرمایا کرتے تھے کہ "میں غروب ہو رہا ہوں اختر طلوع ہو رہا ہے"
۵: *محدث مکتہ المکرمہ شیخ سید محمد ابن علوی مالکی قدس سرہ*
حضور تاج الشریعہ کی دعوت پر آپ ۲۰۰۴ میں بریلی شریف تشریف لائے تھے مزار شریف پر حاضری کے بعد جامعة الرضا تشریف لے گئے وہاں حضرت تاج الشریعہ نے آپ کو اپنا قصیدہ سنایا شیخ بہت متاثر ہوئے اور حضرت کی بے پناہ تعریف کی (اور قصیدہ کے متعلق فرمایا هذه قصيدة عظيمة) اور دوران تقریر حضرت کو مفتی اعظم عالم کے عظیم لقب سے سرفراز فرمایا حضرت نے انہیں کچھ اپنی تصانیف عطا کی جب علامہ علوی نے "نموذج حاشیہ الازہری" (یہ حضرت کی تحریر کردہ بخاری شریف اور حاشیہ بخاری شریف پر تعلیقات کا نمونہ تھا اب وہ حاشیہ مکمل بڑے سائز کے کاغظ پر بخاری شریف کے ساتھ تعلیقات زاہرہ کے نام سے ۸۹ صفحات پر مجلس برکات سے شائع ہو چکا ہے)
ملاحظہ کیا تو بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا اور حضرت کو "محدث حنفی محدث عظیم اور عالم کبیر" وغیرہ القاب و آداب سے یاد کیا۔
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۵۹۹)
۶: *احسن العلماء علیہ الرحمہ*
۱۶/۱۵ نومبر کو مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں احسن العلماء مولانا مفتی سید حسن میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہ پرکاتیہ مارہرہ نے جانشین مفتی اعظم کا استقبال "قائم مقام مفتی اعظم علامہ ازہری زندہ باد" کے نعرے سے کیا اور مجمع کثیر میں علماء و مشائخ اور فضلا و دانشوروں کی موجودگی میں جانشین مفتی اعظم کو یہ کہہ کر "فقیر آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختر رضا خان صاحب کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہوں پورا مجمع سن لے تمام برکاتی بھائی سن لیں اور یہ علماء گواہ رہیں"
(مفتی اعظم اور ان کے خلفاء صفحہ ۱۶۲)
اور حضرت کے رسالہ مبارک "ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن" کی تصدیق ان الفاظ میں فرمائی "اگر میں یہ کہہ دوں کے زیر نظر فتوی اپنے موضوع پر حرف آخر ہے تو یہ بات میرے نزدیک مبالغہ یا شاعری بے جا حمایت اور طرفداری نہیں بلکہ حقیقت واقعی کا کھلے دل سے اعتراف ہوگا"
(ٹی وی ویڈیو کا آپریشن صفحہ ۳)
۷: *بحر العلوم علامہ سید مفتی افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ*
حضرت کے استاذ خلیفہ مفتی اعظم علامہ سید افضل حسین مونگیری رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے اپنے شاگرد کے رسالہ *تصویر کا شرعی حکم* پر یہ تقریظ تحریر فرمائی "جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت میں احادیث کثیرہ بشیرہ ہیں عزیزم محترم فاضل مکرم جناب علامہ اختر رضا خان سلمہ ربہ کا فتوی اس بارے میں نہایت قوی دلائل پر مشتمل ہے جو اوہام ضعیفہ اور شبہات سحیفہ کے ازالہ کے لئے کافی و وافی ہے اللہ تعالی مسلمانوں کو اتباع حق کی توفیق بخشے وہو الہادی"
۸: *مفتی نانپارہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ*
خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت کے جامع ازہر سے لوٹنے پر گلہائے عقیدت اس طرح پیش کئے
جامع ازہر سے فارغ ہوکر آیا ہند میں
لیکر آیا اپنے دامن میں ہزاروں علم و فن
تیرے چہرے سے عیاں ہے کیا جلال قادری
تیری آنکھوں سے ٹپکتی ہے لئے جام کہن
ہو نہ کیوں مسرور روح پاک جیلانی میاں
تو ہے ان کے باغ کا اک گل مجسم گلبدن
تیرے جد محترم کے در کا سائل ہے رجب
اس پہ بھی کیجیے خدارا چشم الطاف و منن
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف ۱۹۶۷ صفحہ ۲۳)
۹: *صدر العلماء محدث بریلوی قدس سرہ*
الحمد للہ حضرت علامہ ازہری میاں سلمہ نے باوجود گوناگو مصروفیات اور علالت طبع اس کا ترجمہ(المعتقد مع حاشیہ المستند) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہو جائے اس کا بالاستعاب مطالعہ تو میں نہیں کر سکا مگر جستہ جستہ جو مقامات میں نے دیکھے اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے"
۱۰: *شارح بخاری علیہ الرحمہ*
"
Forwarded from Fuad Raza Khan
حضرت مفتی اعظم کو اپنی زندگی کے آخری پچیس سالوں میں جو مقبولیت و ہر دل عزیزی حاصل ہوئی وہ آپ کے وصال کے بعد ازہری میاں صاحب کو بڑی تیزی کے ابتدائی سالوں میں حاصل ہو گئی اور بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی"
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ کے عالمی دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی*
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ڈاکٹر محمد عمارہ کہتے ہیں کہ ایک تقریب میں ایک سیکولر صاحب نے مجھ پر طنز کرتے ہوئے کہا:
"آپ کی کتابیں اور آپ کی تحریرں موجودہ زمانے میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ہمیں پچھلے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ان سے کہا:
پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا پچھلے زمانے سے آپ کی مراد آج سے سو سال پہلے کا زمانہ ہے جب سلطان عبد الحمید آدھے کرہءِ ارضی پر حکمران تھے؟ یا جب یورپ کے حکمران عثمانی خلیفہ کی اجازت اور تعیناتی کے بعد حکومت سنبھالتے تھے۔
یا اس سے بھی پہلے جب سلاطین ممالیک نے دنیا کو تاتاریوں اور منگولوں کے حملوں سے نجات دلائی؟
یا اس سے بھی پہلے جب عباسی آدھی دنیا کے حکمران تھے؟
یا اس سے بھی پہلے امویوں کا زمانہ۔۔۔یا سیدنا عمر کا زمانہ جب آپ نے دنیا کے اکثر و بیشتر حصے پر حکمرانی کی؟
کہیں پچھلے زمانے سے تمہاری مراد وہ زمانہ تو نہیں جب ہارون الرشید نے روم کے شہنشاہ نقفور کی طرف ان الفاظ میں خط لکھا:
"امیر المومنین ہارون الرشید کی طرف سے روم کے کتے نقفور کے نام"
یا تمہاری مراد عبد الرحمن داخل کا زمانہ ہے جس نے حبشہ، اٹلی اور فرانس کو اپنے حصار میں لے لیا؟
یہ تو رہی پچھلے زمانے کی سیاسی صورت حآل
کہیں آپ پچھلے زمانے کی علمی صورت حال کی طرف اشارہ تو نہیں کر رہے ہیں؟ جب ابن سینا، الفارابی، ابن جبیر، الخوازمی، ابن رشد، ابن خلدون وغیرہ جیسے علماء اور سائنس دان دنیا کو طب، انجینئرنگ، میڈیسن، فلکیات اور شاعری کی تعلیم دے رہے تھے۔
یا تمہاری مراد پچھلے زمانے کی غیرت و حمیت ہے۔ جب ایک مظلوم عورت نے وا معتصماہ کے لفظوں سے خلیفہء وقت کو پکارا تو معتصم نے اتنا بڑا لشکر بھیجا جس نے تمام یہودیوں کو سلطنت کی حدود سے باہر جا پھینکا۔ جب کہ آج ہماری بیٹیوں کی عصمت و کرامت کا تیا پانچہ کیا جا رہا ہے جب کہ حکمران مزے اور نشے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب مسلمانوں نے اسپین میں یورپ کی سرزمین پر پہلی یونیورسٹی بنائی۔
جب عربی لباس اور عباء دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں فضلاء کا لباس ہوتا تھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب قاہرہ دنیا کا خؤبصورت ترین شہر تھا۔
یا جب عراقی دینار 483 ڈالروں کا تھا۔
یا جب پسماندہ یورپ سے ہجرت کرنے والے اسکندریہ (مصر) میں آکر پناہ لیتے تھے۔
یا جب امریکا نے مصر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپ کو قحط سے بچائے۔
بتائیے تو سہی پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کتنا پیچھے جانا چاہتے ہیں؟
پیشکش: زبیر قادری
"آپ کی کتابیں اور آپ کی تحریرں موجودہ زمانے میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ہمیں پچھلے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ان سے کہا:
پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا پچھلے زمانے سے آپ کی مراد آج سے سو سال پہلے کا زمانہ ہے جب سلطان عبد الحمید آدھے کرہءِ ارضی پر حکمران تھے؟ یا جب یورپ کے حکمران عثمانی خلیفہ کی اجازت اور تعیناتی کے بعد حکومت سنبھالتے تھے۔
یا اس سے بھی پہلے جب سلاطین ممالیک نے دنیا کو تاتاریوں اور منگولوں کے حملوں سے نجات دلائی؟
یا اس سے بھی پہلے جب عباسی آدھی دنیا کے حکمران تھے؟
یا اس سے بھی پہلے امویوں کا زمانہ۔۔۔یا سیدنا عمر کا زمانہ جب آپ نے دنیا کے اکثر و بیشتر حصے پر حکمرانی کی؟
کہیں پچھلے زمانے سے تمہاری مراد وہ زمانہ تو نہیں جب ہارون الرشید نے روم کے شہنشاہ نقفور کی طرف ان الفاظ میں خط لکھا:
"امیر المومنین ہارون الرشید کی طرف سے روم کے کتے نقفور کے نام"
یا تمہاری مراد عبد الرحمن داخل کا زمانہ ہے جس نے حبشہ، اٹلی اور فرانس کو اپنے حصار میں لے لیا؟
یہ تو رہی پچھلے زمانے کی سیاسی صورت حآل
کہیں آپ پچھلے زمانے کی علمی صورت حال کی طرف اشارہ تو نہیں کر رہے ہیں؟ جب ابن سینا، الفارابی، ابن جبیر، الخوازمی، ابن رشد، ابن خلدون وغیرہ جیسے علماء اور سائنس دان دنیا کو طب، انجینئرنگ، میڈیسن، فلکیات اور شاعری کی تعلیم دے رہے تھے۔
یا تمہاری مراد پچھلے زمانے کی غیرت و حمیت ہے۔ جب ایک مظلوم عورت نے وا معتصماہ کے لفظوں سے خلیفہء وقت کو پکارا تو معتصم نے اتنا بڑا لشکر بھیجا جس نے تمام یہودیوں کو سلطنت کی حدود سے باہر جا پھینکا۔ جب کہ آج ہماری بیٹیوں کی عصمت و کرامت کا تیا پانچہ کیا جا رہا ہے جب کہ حکمران مزے اور نشے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب مسلمانوں نے اسپین میں یورپ کی سرزمین پر پہلی یونیورسٹی بنائی۔
جب عربی لباس اور عباء دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں فضلاء کا لباس ہوتا تھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔
یا تمہاری مراد وہ زمانہ ہے جب قاہرہ دنیا کا خؤبصورت ترین شہر تھا۔
یا جب عراقی دینار 483 ڈالروں کا تھا۔
یا جب پسماندہ یورپ سے ہجرت کرنے والے اسکندریہ (مصر) میں آکر پناہ لیتے تھے۔
یا جب امریکا نے مصر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپ کو قحط سے بچائے۔
بتائیے تو سہی پچھلے زمانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کتنا پیچھے جانا چاہتے ہیں؟
پیشکش: زبیر قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم خاں ➌ گولی خاں عرف ڈیبا خاں ➍ جواہر خاں عرف ہِیرا خاں ➎ صوبے دار خاں عرف سِپاہی خاں ➏ بُدُّھو خاں
سب سے بڑے رمضان خاں تھے!
رمضان خاں کے تین بیٹے تھے ➊ عبد الرؤوف خاں ➋ نواب خاں عرف کھنڈارا ➌ اصغر خاں عرف سیٹھ
رمضان خاں کے اِنتقال کے بعد چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہوا - چک بندی سے پہلے ایک سَو 100 بیگھہ زمین تھی لیکن مالِیت کی وجہ سے صرف 66 بیگھہ کا چک بندی ہوا -
لیکن جب مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں کو معلوم ہوا کہ چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہو گیا ہے تو دو چار آدمی کو گواہی کے طور پر نائب صاحب کے پاس لے گئے اور انہیں رِشوت (گھوس) دے کر ان چھہ بھائیوں میں سے تین بھائیوں کے ناموں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو ) کو کٹوا دِیا - کہا کہ یہ ان کے بھائی نہیں ہیں - اور ان کی جگہ رمضان خاں کے بیٹوں (¹عبدالرؤوف ²نواب ³اصغر) کے نام لِکھوا دیا -
بعد میں جب عظیم خاں، جواہر خاں اور بدھو خاں کو معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کا نام کٹوا دیا گیا ہے تو ان تینوں بھائیوں نے مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان تین بھائیوں میں سے بدھو خاں عبد الرؤوف خاں کی طرف مِل گئے - پھر بھی بدھو خاں کو حصہ نہیں مِلا -
بالآخر تینوں بھائیوں نے عبد الرؤوف خاں کو دھمکی دی اور کہا کہ ہمارا بھی حصہ دو تب عبد الرؤوف خاں نے اپنے چچاؤں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو) کو صرف پانچ پانچ بیگھہ زمین دیا بقیہ زمین نہیں دیا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی بقیہ حصہ نہیں دیا - یہ بات گاؤں کے ہندو و مسلم سبھی جانتے ہیں (اپنے باپ داداؤں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں)
لہٰذا عرض یہ ہے کہ
❶ عبد الرؤوف خاں اور ان کے بیٹے و پوتوں پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم نافذ ہوگا ؟
❷ کیا عبد الرؤوف خاں کے بیٹے و پوتوں کو زمین واپس کرنا ضروری ہے ؟
❸ زمین واپس نہ کریں تو ان کی اولادوں میں جو عالِم ہیں (مولانا اِسلام خان مصباحی) ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں!
المستفتی :
❶ محمد حسینی خاں ❷ محمد محبوب خاں ❸ منگرے خاں و اہلِ محلہ
پتہ : مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡ الہند
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں!
مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم خاں ➌ گولی خاں عرف ڈیبا خاں ➍ جواہر خاں عرف ہِیرا خاں ➎ صوبے دار خاں عرف سِپاہی خاں ➏ بُدُّھو خاں
سب سے بڑے رمضان خاں تھے!
رمضان خاں کے تین بیٹے تھے ➊ عبد الرؤوف خاں ➋ نواب خاں عرف کھنڈارا ➌ اصغر خاں عرف سیٹھ
رمضان خاں کے اِنتقال کے بعد چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہوا - چک بندی سے پہلے ایک سَو 100 بیگھہ زمین تھی لیکن مالِیت کی وجہ سے صرف 66 بیگھہ کا چک بندی ہوا -
لیکن جب مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں کو معلوم ہوا کہ چھہ بھائیوں کے نام سے چک بندی ہو گیا ہے تو دو چار آدمی کو گواہی کے طور پر نائب صاحب کے پاس لے گئے اور انہیں رِشوت (گھوس) دے کر ان چھہ بھائیوں میں سے تین بھائیوں کے ناموں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو ) کو کٹوا دِیا - کہا کہ یہ ان کے بھائی نہیں ہیں - اور ان کی جگہ رمضان خاں کے بیٹوں (¹عبدالرؤوف ²نواب ³اصغر) کے نام لِکھوا دیا -
بعد میں جب عظیم خاں، جواہر خاں اور بدھو خاں کو معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کا نام کٹوا دیا گیا ہے تو ان تینوں بھائیوں نے مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان تین بھائیوں میں سے بدھو خاں عبد الرؤوف خاں کی طرف مِل گئے - پھر بھی بدھو خاں کو حصہ نہیں مِلا -
بالآخر تینوں بھائیوں نے عبد الرؤوف خاں کو دھمکی دی اور کہا کہ ہمارا بھی حصہ دو تب عبد الرؤوف خاں نے اپنے چچاؤں (¹عظیم ²جواہر ³بدھو) کو صرف پانچ پانچ بیگھہ زمین دیا بقیہ زمین نہیں دیا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی بقیہ حصہ نہیں دیا - یہ بات گاؤں کے ہندو و مسلم سبھی جانتے ہیں (اپنے باپ داداؤں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں)
لہٰذا عرض یہ ہے کہ
❶ عبد الرؤوف خاں اور ان کے بیٹے و پوتوں پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم نافذ ہوگا ؟
❷ کیا عبد الرؤوف خاں کے بیٹے و پوتوں کو زمین واپس کرنا ضروری ہے ؟
❸ زمین واپس نہ کریں تو ان کی اولادوں میں جو عالِم ہیں (مولانا اِسلام خان مصباحی) ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں!
المستفتی :
❶ محمد حسینی خاں ❷ محمد محبوب خاں ❸ منگرے خاں و اہلِ محلہ
پتہ : مولوی گاؤںۡ مَہَرتھا پُوسٹ گُوۡٹُٹِّیۡ ضِلع بَہرائچ شریف یُو پیۡ الہند
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهۡ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! مولانا اسلام خان مصباحی ابن عبد الواحد خاں کے پَر دادا رمضان خاں ابن دینا خاں چھہ بھائی تھے! ➊ رمضان خاں عرف بداؤو خاں ➋ عظیم…
📖 مسئلہ مقبوضہ زمین 📖
مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں نے اپنے تین چچاؤں (¹عظیم خاں ²جواہر خاں ³بدھو خاں) کو زمین (کھیت) میں برابر حصہ نہیں دیا تھا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی نہیں دیا ہے! ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا ، پوسٹ
گوٹٹی ضلع بہرائچ شریفᵁᴾالہند
مولانا اسلام خان مصباحی کے دادا عبد الرؤوف خاں نے اپنے تین چچاؤں (¹عظیم خاں ²جواہر خاں ³بدھو خاں) کو زمین (کھیت) میں برابر حصہ نہیں دیا تھا - اور آج تک ان کی اولادوں نے بھی نہیں دیا ہے! ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
پتہ : مولوی گاؤں مہرتھا ، پوسٹ
گوٹٹی ضلع بہرائچ شریفᵁᴾالہند
مقبوضہ_زمین_بہرائچ_شریف_مفتی_ذوالفقار_خان.pdf
404.5 KB
مسئلہ مقبوضہ زمین بہرائچ شریف
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ