Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
وبائیں کیوں آتی ہیں؟
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
✍ : مفتی محمد قاسم عطاری
مختلف قسم کی وبائیں ، ہلاکتیں ، حادثات ، طوفان ، زلزلے ، تباہیاں آنے پر دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں۔ اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں ، ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟ ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔ ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی ، بدکاری اور بے شرمی ہے۔ یہ چند ایک حکمتوں کا بیان ہے جس پر مزید بھی بہت سے اسباب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف لبرل ، آزاد خیال ، دین بیزار ، مغربی فلسفے کے اسیر اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے قلموں کو تیر بنا کر اہلِ ایمان کے دلوں کو چھلنی کرنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کا شکار کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طرح طرح سے ان باتوں کا مذاق اڑانے ، عذابِ الٰہی پر مزاحیہ جملے کسنے اور بے مقصد و بےربط دلائل دینے کے لئے کمر کَس لیتے ہیں۔ ان میں کچھ افراد عذابِ الٰہی کے متعلق غیر مسلم مغربی فلسفیوں کے وہمی باطل دلائل ان کا حوالہ دئیے بغیر ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے یہ خود اِن ارسطوؤں ، افلاطونوں کے دماغ کی اختراع ہے حالانکہ وہ سب چوری کی دلیلیں ہوتی ہیں اور یہ بیچارے تو روزی روٹی کی خاطر لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بعض تو اِس حد تک گِر جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سود پھیلانے والے کسی مرکزی ملک کی سیر کرکے واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مولوی کہتے ہیں کہ سود خدا سے جنگ ہے ، سود سے تباہی ہوتی ہے لیکن ہم تو فلاں مرکزی سودی ملک دیکھ کر آئے ہیں ، ہمیں تو کوئی خدائی جنگ نظر نہیں آئی بلکہ وہ تو ہم سے ہزاروں گُنا خوش حال ہیں۔ ایسے لوگ سیدھا سیدھا قرآن کا رد کرنے کی جرأت تو نہیں رکھتے اس لئے مولوی کا لفظ بطورِ حیلہ استعمال کرتے ہیں ، حالانکہ سود کو خدا سے جنگ کسی مولوی نے قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کی آیت میں لکھا ہے۔ بہرحال مسلمان کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی تسلی کے لئے مسلمانوں کے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مصیبتوں کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور کیا گناہوں کی سزا بھی ان میں شامل ہے یا نہیں؟
آئیے جواب لیجئے : مصیبتوں سے امتحان مقصود ہوتا ہے چنانچہ اس کے متعلق قرآن میں ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ ([i]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مصیبتوں سے کھوٹے اور کھرے کا فرق مقصود ہوتا ہے چنانچہ قرآن میں ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲) کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ (ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔ ([ii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور سورۂ عنکبوت میں فرمایا : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور ضرور اللہ انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔ ([iii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
✍ : مفتی محمد قاسم عطاری
مختلف قسم کی وبائیں ، ہلاکتیں ، حادثات ، طوفان ، زلزلے ، تباہیاں آنے پر دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں۔ اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں ، ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟ ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔ ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی ، بدکاری اور بے شرمی ہے۔ یہ چند ایک حکمتوں کا بیان ہے جس پر مزید بھی بہت سے اسباب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف لبرل ، آزاد خیال ، دین بیزار ، مغربی فلسفے کے اسیر اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے قلموں کو تیر بنا کر اہلِ ایمان کے دلوں کو چھلنی کرنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کا شکار کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طرح طرح سے ان باتوں کا مذاق اڑانے ، عذابِ الٰہی پر مزاحیہ جملے کسنے اور بے مقصد و بےربط دلائل دینے کے لئے کمر کَس لیتے ہیں۔ ان میں کچھ افراد عذابِ الٰہی کے متعلق غیر مسلم مغربی فلسفیوں کے وہمی باطل دلائل ان کا حوالہ دئیے بغیر ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے یہ خود اِن ارسطوؤں ، افلاطونوں کے دماغ کی اختراع ہے حالانکہ وہ سب چوری کی دلیلیں ہوتی ہیں اور یہ بیچارے تو روزی روٹی کی خاطر لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بعض تو اِس حد تک گِر جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سود پھیلانے والے کسی مرکزی ملک کی سیر کرکے واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مولوی کہتے ہیں کہ سود خدا سے جنگ ہے ، سود سے تباہی ہوتی ہے لیکن ہم تو فلاں مرکزی سودی ملک دیکھ کر آئے ہیں ، ہمیں تو کوئی خدائی جنگ نظر نہیں آئی بلکہ وہ تو ہم سے ہزاروں گُنا خوش حال ہیں۔ ایسے لوگ سیدھا سیدھا قرآن کا رد کرنے کی جرأت تو نہیں رکھتے اس لئے مولوی کا لفظ بطورِ حیلہ استعمال کرتے ہیں ، حالانکہ سود کو خدا سے جنگ کسی مولوی نے قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کی آیت میں لکھا ہے۔ بہرحال مسلمان کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی تسلی کے لئے مسلمانوں کے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مصیبتوں کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور کیا گناہوں کی سزا بھی ان میں شامل ہے یا نہیں؟
آئیے جواب لیجئے : مصیبتوں سے امتحان مقصود ہوتا ہے چنانچہ اس کے متعلق قرآن میں ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ ([i]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مصیبتوں سے کھوٹے اور کھرے کا فرق مقصود ہوتا ہے چنانچہ قرآن میں ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲) کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ (ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔ ([ii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور سورۂ عنکبوت میں فرمایا : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور ضرور اللہ انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔ ([iii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جتنی آزمائش کڑی ہو گی اجر بھی اتنا ہی عظیم ہو گا ، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کی آزمائش فرماتا ہے
چنانچہ جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر ناراضی کا اظہار کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضی ہوتی ہے۔ ([iv])
مصیبتوں سے مقصود مقربینِ بارگاہِ الٰہی کا امتحان، درجات کی بلندی اور لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ قائم کرنا ہوتا ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ السَّلام کی سینکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد بھی اکثر قوم کا ایمان نہ لانا ، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا آگ میں ڈالا جانا ، فرزند کو قربان کرنا ، حضرت ایوب علیہ السَّلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ، ان کی اولاد اور اموال کا ختم ہو جانا ، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا مصر سے مدین جانا ، مصر سے ہجرت کرنا ، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا ستایا جانا اور انبیاءِ کرام علیہم السَّلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کا صبر ان کے لئے بلندئ درجات اور مسلمانوں کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ- بیشک ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی۔ ([v]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کے لئے انسان کے اعمال ناکافی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم ، مال یا اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ([vi]) اوررسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ([vii]) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اَجْمعین اور بزرگانِ دین کا مختلف وباؤں میں انتقال کرنا بھی اسی قسم میں داخل ہے۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)
غلط تلفظ
اَعْراب
اَخْلاص
اِخْبار
اِفْتَتاح/ اَفْتَتاح
اَقامَت
صحیح تلفظ
اِعْراب
اِخْلاص
اَخبار
اِفْتِتاح
اِقامَت
(اردو لغت ، جلد1)
دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی
([i]) پ2 ، البقرۃ : 155تا157
([ii]) پ4 ، اٰلِ عمرٰن : 142
([iii]) پ20 ، العنکبوت : 2 ، 3
([iv]) ترمذی ، حدیث : 2396
([v]) پ28 ، الممتحنہ : 4
([vi]) ابو داؤد ، حدیث : 3090
([vii]) بخاری ، حدیث : 5645
https://t.me/MuftiQasimAttari/633
https://t.me/SirfUrduTahrir/3908
چنانچہ جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر ناراضی کا اظہار کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضی ہوتی ہے۔ ([iv])
مصیبتوں سے مقصود مقربینِ بارگاہِ الٰہی کا امتحان، درجات کی بلندی اور لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ قائم کرنا ہوتا ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ السَّلام کی سینکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد بھی اکثر قوم کا ایمان نہ لانا ، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا آگ میں ڈالا جانا ، فرزند کو قربان کرنا ، حضرت ایوب علیہ السَّلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ، ان کی اولاد اور اموال کا ختم ہو جانا ، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا مصر سے مدین جانا ، مصر سے ہجرت کرنا ، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا ستایا جانا اور انبیاءِ کرام علیہم السَّلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کا صبر ان کے لئے بلندئ درجات اور مسلمانوں کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ- بیشک ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی۔ ([v]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کے لئے انسان کے اعمال ناکافی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم ، مال یا اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ([vi]) اوررسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ([vii]) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اَجْمعین اور بزرگانِ دین کا مختلف وباؤں میں انتقال کرنا بھی اسی قسم میں داخل ہے۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)
غلط تلفظ
اَعْراب
اَخْلاص
اِخْبار
اِفْتَتاح/ اَفْتَتاح
اَقامَت
صحیح تلفظ
اِعْراب
اِخْلاص
اَخبار
اِفْتِتاح
اِقامَت
(اردو لغت ، جلد1)
دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی
([i]) پ2 ، البقرۃ : 155تا157
([ii]) پ4 ، اٰلِ عمرٰن : 142
([iii]) پ20 ، العنکبوت : 2 ، 3
([iv]) ترمذی ، حدیث : 2396
([v]) پ28 ، الممتحنہ : 4
([vi]) ابو داؤد ، حدیث : 3090
([vii]) بخاری ، حدیث : 5645
https://t.me/MuftiQasimAttari/633
https://t.me/SirfUrduTahrir/3908
Telegram
Mufti Qasim Attari
وبائیں کیوں آتی ہیں؟
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چلیے دیکھ کر آتے ہیں دلہن کو
شادی کر کے جب کوئی نئی دلہن گھر لاتا ہے تو ایک بھیڑ اسے دیکھنے کے لیے پہنچ جاتی ہے کہ چلو دیکھتے ہیں کہ دلہن کیسی ہے
ارے جناب! جس کی دلہن ہے وہ دیکھے آپ کو کیا پڑی ہے؟
دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ دکھانے والوں کو بھی خوب شوق ہوتا ہے تاکہ ان کی تعریف ہو۔
دلہن ایک کمرے میں ہے وہاں محلے کے لوگ، دولہے کے دوست پھر اگر دولہے کا بھائی ہے تو اس کے دوست سب بھابھی بھابھی کرتے ہوئے تحفے اور لفافہ لیے اپنا چہرہ شریف اٹھائے چلے آتے ہیں اور پھر باتیں ہوتی ہیں ہنسی مذاق بھی عام بات ہو گئی ہے۔
کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ یہ کرتے ہیں کہ دلہن اور دولہے کو کھلے عام سب کے سامنے ایک بڑے ہال میں دو بڑی کرسیاں منگوا کر بیٹھا دیتے ہیں تاکہ دیکھنے والے جی بھر کے دیدار کریں، Selfies لیں اور ویڈیوز بنائیں۔
ایسے لوگوں کے اندر یا تو غیرت سو گئی ہے یا یہ سب روکنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ضروری ہے کہ ہم اس ناجائز طریقے پر روک لگائیں اور لوگوں کو چاہے برا لگے یا بھلا اپنی دلہن کو اپنی دلہن کی طرح ہی رکھیں نہ کہ بازار میں بکنے والی کسی چیز کی طرح کہ جو آتا ہے دیکھ کر چلا جاتا ہے۔
عبد مصطفی
شادی کر کے جب کوئی نئی دلہن گھر لاتا ہے تو ایک بھیڑ اسے دیکھنے کے لیے پہنچ جاتی ہے کہ چلو دیکھتے ہیں کہ دلہن کیسی ہے
ارے جناب! جس کی دلہن ہے وہ دیکھے آپ کو کیا پڑی ہے؟
دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ دکھانے والوں کو بھی خوب شوق ہوتا ہے تاکہ ان کی تعریف ہو۔
دلہن ایک کمرے میں ہے وہاں محلے کے لوگ، دولہے کے دوست پھر اگر دولہے کا بھائی ہے تو اس کے دوست سب بھابھی بھابھی کرتے ہوئے تحفے اور لفافہ لیے اپنا چہرہ شریف اٹھائے چلے آتے ہیں اور پھر باتیں ہوتی ہیں ہنسی مذاق بھی عام بات ہو گئی ہے۔
کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ یہ کرتے ہیں کہ دلہن اور دولہے کو کھلے عام سب کے سامنے ایک بڑے ہال میں دو بڑی کرسیاں منگوا کر بیٹھا دیتے ہیں تاکہ دیکھنے والے جی بھر کے دیدار کریں، Selfies لیں اور ویڈیوز بنائیں۔
ایسے لوگوں کے اندر یا تو غیرت سو گئی ہے یا یہ سب روکنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ضروری ہے کہ ہم اس ناجائز طریقے پر روک لگائیں اور لوگوں کو چاہے برا لگے یا بھلا اپنی دلہن کو اپنی دلہن کی طرح ہی رکھیں نہ کہ بازار میں بکنے والی کسی چیز کی طرح کہ جو آتا ہے دیکھ کر چلا جاتا ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
نکاح آسان کیسے ہوگا
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چنگیز خان کا پوتا اور حضرتِ شیخ سعدی
چنگیز خان کے پوتے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقہ خان سے جب حضرتِ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی ملاقات ہوئی تو آپ نے بنا ڈرے اس سے گفتگو کی اور جب جانے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔
آپ نے فرمایا: دنیا سے نیکی اور بدی آخرت میں ساتھ جائے گی اب تمھیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے تمھیں کیا ساتھ لے جانا منظور ہے۔
اباقہ خان نے گزارش کی کہ اس نصیحت کو اشعار کا جامہ پہنا دیجیے۔ حضرتِ شیخ نے اسی وقت کہا:
شہے کہ پاس رعیت نگاہ میدارد
حلال باد خراجش کہ مزد چوپانی است
وگرنہ راعئ خلق است زہر مارش باد
کہ ہرچہ میخورد از جزیۂ مسلمانی است
"یعنی جو بادشاہ رعایا کی صحیح طور پر حفاظت کرتا ہے اس کے لیے خراج اس لیے حلال ہے کہ اس نے حفاظت کی اجرت وصول کی ہے اور اگر مخلوق کی حفاظت نہیں کرتا تو خدا کرے کہ خراج اس کے لیے زہر قاتل ہو کیوں کہ وہ مسلمانوں کا کا جزیہ (ٹیکس) کھا رہا ہے"
اباقہ خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی دفعہ پوچھا کہ میں مخلوق کا محافظ ہو یا نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ اگر آپ محافظ ہیں تو پہلا شعر آپ کے مناسب ہے ورنہ دوسرا شعر۔
اباقہ خان آپ کی نصیحت سے خوش ہوا اور آپ کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔
اس طریقے سے ایک عام آدمی کو نصیحت کرنا مشکل ہے مگر شیخ سعدی نے منگول بادشاہ کے سامنے پوری بے باکی سے حق کی آواز کو بلند کیا۔
زمانے کو ضرورت ہے ظالموں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بے خوف بولنے والے لوگوں کی۔
اللہ تعالی ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے صدقے حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(عظمتوں کے پاسبان، ص13، 14)
عبد مصطفی
چنگیز خان کے پوتے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقہ خان سے جب حضرتِ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی ملاقات ہوئی تو آپ نے بنا ڈرے اس سے گفتگو کی اور جب جانے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔
آپ نے فرمایا: دنیا سے نیکی اور بدی آخرت میں ساتھ جائے گی اب تمھیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے تمھیں کیا ساتھ لے جانا منظور ہے۔
اباقہ خان نے گزارش کی کہ اس نصیحت کو اشعار کا جامہ پہنا دیجیے۔ حضرتِ شیخ نے اسی وقت کہا:
شہے کہ پاس رعیت نگاہ میدارد
حلال باد خراجش کہ مزد چوپانی است
وگرنہ راعئ خلق است زہر مارش باد
کہ ہرچہ میخورد از جزیۂ مسلمانی است
"یعنی جو بادشاہ رعایا کی صحیح طور پر حفاظت کرتا ہے اس کے لیے خراج اس لیے حلال ہے کہ اس نے حفاظت کی اجرت وصول کی ہے اور اگر مخلوق کی حفاظت نہیں کرتا تو خدا کرے کہ خراج اس کے لیے زہر قاتل ہو کیوں کہ وہ مسلمانوں کا کا جزیہ (ٹیکس) کھا رہا ہے"
اباقہ خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی دفعہ پوچھا کہ میں مخلوق کا محافظ ہو یا نہیں؟
آپ نے فرمایا کہ اگر آپ محافظ ہیں تو پہلا شعر آپ کے مناسب ہے ورنہ دوسرا شعر۔
اباقہ خان آپ کی نصیحت سے خوش ہوا اور آپ کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔
اس طریقے سے ایک عام آدمی کو نصیحت کرنا مشکل ہے مگر شیخ سعدی نے منگول بادشاہ کے سامنے پوری بے باکی سے حق کی آواز کو بلند کیا۔
زمانے کو ضرورت ہے ظالموں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بے خوف بولنے والے لوگوں کی۔
اللہ تعالی ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے صدقے حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(عظمتوں کے پاسبان، ص13، 14)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سنی مسلمان کو اپنے عقیدے
کے خلاف سمجھنا گمراہی ہے!
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ⁴⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کے خلاف سمجھنا گمراہی ہے!
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ⁴⁴⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سنی کو وہابی
دیوبندی کہنا کیسا ہے؟
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ³⁷⁵
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دیوبندی کہنا کیسا ہے؟
فتاویٰ شارح بخاری جِـ² صَـ³⁷⁵
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Fuad Raza Khan
تاج الشریعہ اکابر و مشاہیر کی نظر میں
کسی بھی شخصیت کو جاننے کے دو طریقہ ہیں ایک ان کی تحریر و تقریر سے جاننا دوسرا ان کے بارے ان کے معاصرین اور اکبارین کے کیا آراں ہیں اس سے پہچاننا، ہمارے حضرت پیر طریقت رہبر شریعت کنز الکرامت جبل الاستقمت تاج شریعت وارث علوم اعلی حضرت جانشین تاجدار اہل سنت علامہ شاہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمتہ الرضوان جہاں زبردست مصنف تھے وہیں ایک بکمال خطیب بھی تھے آپ کی تصانیف صرف ہند و پاک ہی میں نہیں بلکہ عرب میں بھی مشہور ہیں اور تقاریر بھی ہر محب کے پاس محفوظ ہیں ان پر کچھ تبصرہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کا کام نہیں اور یہ کام ہے بھی فرصت کا لیکن حضرت کے متعلق کچھ لکھنا تو ہےتاکہ مجھ حقیر فقیر سراپا تقصیر کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے جنہوں نے حضرت کے متعلق کچھ لکھا تو ہم نے سوچا کیوں نہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے آپ کے متعلق اکابر اور مشاہیر کے اقوال لکھ دئے جائیں اللہ تعالی قبول فرمائے حضرت کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
۱: *تاجدار اہلسنت سرکار مفتی اعظم ہند قد سرہ*
حضور مفتی اعظم ہند حضرت پر کس قدر محبت و شفقت فرماتے وہ تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں اس لئیےانہیں کے اقوال لکھنا مناسب ہیں اولا حبیب مفتی اعظم نبیرہ استاد زمن حضرت مولانا مفتی حبیب رضا خان علیہ الرحمہ جو سرکار مفتی اعظم کی مجلس میں روز کے حاضر باش تھے جن کو حضور مفتی اعظم نے ان کے نام اپنے ایک مکتوب میں "برخوردار نور الابصار حبیب میاں سلمہ" سے یاد فرمایا ان کا بیان ہے کہ کبھی کبھی ناغہ ہو جاتا تو حضرت (مفتی اعظم) کی اہلیہ محترمہ پیرانی اماں صاحبہ علہا الرحمہ دریافت فرماتیں کہ آج اختر میاں آئے نہیں ان سے کہو روزانہ آیا کریں حضرت ان کو بہت پسند فرماتے ہیں (سوانح تاج الشریعہ صفحہ ۲۲)
انہیں کہ صاحبزادہ حسیب میاں صاحب قبلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں اپنے والد علیہ الرحمہ سے سنا کہ جب حضرت حضور مفتی اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے حضور مفتی اعظم مصروف ہوتے کچھ کاغذ وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے جگہ نہ ہوتی خود مفتی اعظم جگہ بنا کر آپ کو اپنے پاس محبت بھرے انداز میں بھیٹاتے
استاذی خلیفہ مفتی اعظم شیخ الحدیث و مفتی رضوی دار الافتاء مفتی عبید الرحمن رضوی مدظلہ العالی حضرت پر اکرام مفتی اعظم کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں "حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کو آپ سےغایت درجہ الفت و محبت تھی اس لئے بزریعہ کشف آپ اس بات سے واقف تھے کہ میرا اختر اپنے وقت میں دین حق کی اشاعت کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے گا جب آپ نے جامعہ ازہر مصر سے فراغت حاصل کرکے سر زمین بریلی قدم رکھا دلی سے بزریعہ ٹرین بریلی جنکشن پر پہونچے تو جہاں خانوادۂ رضویہ کے افراد جنکشن پر موجود تھے وہیں حضور مفتی اعظم بھی استقبال کرنے والوں کی صف میں تھے جیسے ہی حضور تاج الشریعہ ٹرین سے اترے حضور مفتی اعظم نے والہانہ محبت کیساتھ ان سے معانقہ فرمایا اور پھر ساتھ لیکر سوداگران پہونچے"
(نقوش تاج الشریعہ شمارہ سنی دنیا ۴۴۰)
خادم خاص مفتی اعظم جناب ناصر بھائی مرحوم نے فقیر سے بیان کیا کہ"میں نے حضور مفتی اعظم کو صرف دو لگوں کو اسٹیشن لینے جاتے دیکھا ایک اولاد غوث اعظم حضرت پیر طاہر علاء الدین جیلانی بغدادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو دوسرے تاج الشریعہ کو جب وہ جامع ازہر سے فارغ التحصیل ہو کر تشریف لائے"
انہیں کا بیان ہے "جب کوئی (آخری وقت میں) حضور مفتی اعظم سے فتوی منگتا تو فرماتے اختر سے لے لو"
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ فتوی دینا تمام امور دینیہ میں نہایت ہی دشوار کن امر ہے حضور پر نور اعلی حضرت فرماتے ہیں "علم الفتوی پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ مدتہاں طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو"
(فتاوی رضویہ ۲۳۱/۱)
ہمارے حضرت نے بھی طبیب حاذق کا مطب کیا اور ایسے طبیب حاذق کا جنہیں دنیا مفتی اعظم کے عظیم لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے جب وہ کسی کے لئے فرمائیں کے فتوی اس سے لو تو اس شخص کی علم الفتوی میں کتنی عمیق نظر ہوگی جو کے حضرت کے فتاوی سے روز روشن کی طرح عیاں ہے،
۲: *حضور برہان ملت علیہ الرحمہ*
خلیفہ اعلی حضرت حضور برہان ملت نے حضرت کو ہر اس چیز کی اجازت و خلافت عطا فرمائی جن کی آپ کو مجدد اعظم اور آپ کہ والد ماجد حضرت عید الاسلام رضی اللہ عنہما نے عطا فرمائی تھی اور سند اجازت میں آپ کا نام کچھ اس طرح تحریر فرمایا "فسالني الشيخ العالم العامل ذو الفضائل و الفواضل العزيز المفتي محمد اختر رضا خان ابن مفسر أعظم علامه إبراهيم رضا خان المعروف به جيلاني مياں عليه الرحمة و الرضوان زينه الله تعالى بعلمه و فضله المعنوي و الصوري"
یعنی:صاحب علم و عمل بلند پایہ عالی مرتبت لائق احترام شیخ مفتی محمد اختر رضا خان بن مفسر اعظم ابراهيم رضا خان جوکہ جیلانی میاں کے نام سے مشہور ہیں اللہ تعالیٰ انہیں روحانی علم اور حقیقی فضل و کرم سے نوازے انہوں نے مجھ سے
کسی بھی شخصیت کو جاننے کے دو طریقہ ہیں ایک ان کی تحریر و تقریر سے جاننا دوسرا ان کے بارے ان کے معاصرین اور اکبارین کے کیا آراں ہیں اس سے پہچاننا، ہمارے حضرت پیر طریقت رہبر شریعت کنز الکرامت جبل الاستقمت تاج شریعت وارث علوم اعلی حضرت جانشین تاجدار اہل سنت علامہ شاہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمتہ الرضوان جہاں زبردست مصنف تھے وہیں ایک بکمال خطیب بھی تھے آپ کی تصانیف صرف ہند و پاک ہی میں نہیں بلکہ عرب میں بھی مشہور ہیں اور تقاریر بھی ہر محب کے پاس محفوظ ہیں ان پر کچھ تبصرہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کا کام نہیں اور یہ کام ہے بھی فرصت کا لیکن حضرت کے متعلق کچھ لکھنا تو ہےتاکہ مجھ حقیر فقیر سراپا تقصیر کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے جنہوں نے حضرت کے متعلق کچھ لکھا تو ہم نے سوچا کیوں نہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے آپ کے متعلق اکابر اور مشاہیر کے اقوال لکھ دئے جائیں اللہ تعالی قبول فرمائے حضرت کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
۱: *تاجدار اہلسنت سرکار مفتی اعظم ہند قد سرہ*
حضور مفتی اعظم ہند حضرت پر کس قدر محبت و شفقت فرماتے وہ تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں اس لئیےانہیں کے اقوال لکھنا مناسب ہیں اولا حبیب مفتی اعظم نبیرہ استاد زمن حضرت مولانا مفتی حبیب رضا خان علیہ الرحمہ جو سرکار مفتی اعظم کی مجلس میں روز کے حاضر باش تھے جن کو حضور مفتی اعظم نے ان کے نام اپنے ایک مکتوب میں "برخوردار نور الابصار حبیب میاں سلمہ" سے یاد فرمایا ان کا بیان ہے کہ کبھی کبھی ناغہ ہو جاتا تو حضرت (مفتی اعظم) کی اہلیہ محترمہ پیرانی اماں صاحبہ علہا الرحمہ دریافت فرماتیں کہ آج اختر میاں آئے نہیں ان سے کہو روزانہ آیا کریں حضرت ان کو بہت پسند فرماتے ہیں (سوانح تاج الشریعہ صفحہ ۲۲)
انہیں کہ صاحبزادہ حسیب میاں صاحب قبلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں اپنے والد علیہ الرحمہ سے سنا کہ جب حضرت حضور مفتی اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے حضور مفتی اعظم مصروف ہوتے کچھ کاغذ وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے جگہ نہ ہوتی خود مفتی اعظم جگہ بنا کر آپ کو اپنے پاس محبت بھرے انداز میں بھیٹاتے
استاذی خلیفہ مفتی اعظم شیخ الحدیث و مفتی رضوی دار الافتاء مفتی عبید الرحمن رضوی مدظلہ العالی حضرت پر اکرام مفتی اعظم کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں "حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کو آپ سےغایت درجہ الفت و محبت تھی اس لئے بزریعہ کشف آپ اس بات سے واقف تھے کہ میرا اختر اپنے وقت میں دین حق کی اشاعت کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے گا جب آپ نے جامعہ ازہر مصر سے فراغت حاصل کرکے سر زمین بریلی قدم رکھا دلی سے بزریعہ ٹرین بریلی جنکشن پر پہونچے تو جہاں خانوادۂ رضویہ کے افراد جنکشن پر موجود تھے وہیں حضور مفتی اعظم بھی استقبال کرنے والوں کی صف میں تھے جیسے ہی حضور تاج الشریعہ ٹرین سے اترے حضور مفتی اعظم نے والہانہ محبت کیساتھ ان سے معانقہ فرمایا اور پھر ساتھ لیکر سوداگران پہونچے"
(نقوش تاج الشریعہ شمارہ سنی دنیا ۴۴۰)
خادم خاص مفتی اعظم جناب ناصر بھائی مرحوم نے فقیر سے بیان کیا کہ"میں نے حضور مفتی اعظم کو صرف دو لگوں کو اسٹیشن لینے جاتے دیکھا ایک اولاد غوث اعظم حضرت پیر طاہر علاء الدین جیلانی بغدادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو دوسرے تاج الشریعہ کو جب وہ جامع ازہر سے فارغ التحصیل ہو کر تشریف لائے"
انہیں کا بیان ہے "جب کوئی (آخری وقت میں) حضور مفتی اعظم سے فتوی منگتا تو فرماتے اختر سے لے لو"
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ فتوی دینا تمام امور دینیہ میں نہایت ہی دشوار کن امر ہے حضور پر نور اعلی حضرت فرماتے ہیں "علم الفتوی پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ مدتہاں طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو"
(فتاوی رضویہ ۲۳۱/۱)
ہمارے حضرت نے بھی طبیب حاذق کا مطب کیا اور ایسے طبیب حاذق کا جنہیں دنیا مفتی اعظم کے عظیم لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے جب وہ کسی کے لئے فرمائیں کے فتوی اس سے لو تو اس شخص کی علم الفتوی میں کتنی عمیق نظر ہوگی جو کے حضرت کے فتاوی سے روز روشن کی طرح عیاں ہے،
۲: *حضور برہان ملت علیہ الرحمہ*
خلیفہ اعلی حضرت حضور برہان ملت نے حضرت کو ہر اس چیز کی اجازت و خلافت عطا فرمائی جن کی آپ کو مجدد اعظم اور آپ کہ والد ماجد حضرت عید الاسلام رضی اللہ عنہما نے عطا فرمائی تھی اور سند اجازت میں آپ کا نام کچھ اس طرح تحریر فرمایا "فسالني الشيخ العالم العامل ذو الفضائل و الفواضل العزيز المفتي محمد اختر رضا خان ابن مفسر أعظم علامه إبراهيم رضا خان المعروف به جيلاني مياں عليه الرحمة و الرضوان زينه الله تعالى بعلمه و فضله المعنوي و الصوري"
یعنی:صاحب علم و عمل بلند پایہ عالی مرتبت لائق احترام شیخ مفتی محمد اختر رضا خان بن مفسر اعظم ابراهيم رضا خان جوکہ جیلانی میاں کے نام سے مشہور ہیں اللہ تعالیٰ انہیں روحانی علم اور حقیقی فضل و کرم سے نوازے انہوں نے مجھ سے
Forwarded from Fuad Raza Khan
اجازت طلب کی۔
۳: *حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ*
حضرت تاج الشریعہ کی موجودگی میں ایک صاحب حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں آپ سے بیعت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں حضور مجاہد ملت جلال میں آگئے اور فرمایا میرے مخدوم اور مخدوم زادے بریلی شریف کے شہزادے تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی موجودگی میں بیعت کروں؟حبیب الرحمن کی یہ مجال اتنی بڑی جرات کرے یہ تمہارا نصیب ہے کے حضرت تشریف فرما ہیں تمہیں شہزادہ صاحب ہی سے بیعت ہونا ہے خود لے جاکر ان صاحب کو حضور تاج الشریعہ سے بیعت کروایا
(مجاہد ملت اور مسلک اعلی حضرت صفحہ ۲۲)
۴: *مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ*
حضرت کے والد ماجد حضور مفسر اعظم ہند علامہ ابراہیم رضا خان علیہ الرحمتہ الرضوان نے آپ کو اعلی حضرت کا جانشین بنایا فرماتے ہیں "بوجہ علالت یہ توقع نہیں کہ اب زندگی ہو بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو لہذا اختر رضا سلمہ کو قائم مقام و جانشین اعلی حضرت بنا دیا گیا"
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف دسمبر ۱۹۶۲ صفحہ ۳۲)
اور راقم السطور نے خاندانی روایات میں سنا حضرت مفسر اعظم فرمایا کرتے تھے کہ "میں غروب ہو رہا ہوں اختر طلوع ہو رہا ہے"
۵: *محدث مکتہ المکرمہ شیخ سید محمد ابن علوی مالکی قدس سرہ*
حضور تاج الشریعہ کی دعوت پر آپ ۲۰۰۴ میں بریلی شریف تشریف لائے تھے مزار شریف پر حاضری کے بعد جامعة الرضا تشریف لے گئے وہاں حضرت تاج الشریعہ نے آپ کو اپنا قصیدہ سنایا شیخ بہت متاثر ہوئے اور حضرت کی بے پناہ تعریف کی (اور قصیدہ کے متعلق فرمایا هذه قصيدة عظيمة) اور دوران تقریر حضرت کو مفتی اعظم عالم کے عظیم لقب سے سرفراز فرمایا حضرت نے انہیں کچھ اپنی تصانیف عطا کی جب علامہ علوی نے "نموذج حاشیہ الازہری" (یہ حضرت کی تحریر کردہ بخاری شریف اور حاشیہ بخاری شریف پر تعلیقات کا نمونہ تھا اب وہ حاشیہ مکمل بڑے سائز کے کاغظ پر بخاری شریف کے ساتھ تعلیقات زاہرہ کے نام سے ۸۹ صفحات پر مجلس برکات سے شائع ہو چکا ہے)
ملاحظہ کیا تو بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا اور حضرت کو "محدث حنفی محدث عظیم اور عالم کبیر" وغیرہ القاب و آداب سے یاد کیا۔
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۵۹۹)
۶: *احسن العلماء علیہ الرحمہ*
۱۶/۱۵ نومبر کو مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں احسن العلماء مولانا مفتی سید حسن میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہ پرکاتیہ مارہرہ نے جانشین مفتی اعظم کا استقبال "قائم مقام مفتی اعظم علامہ ازہری زندہ باد" کے نعرے سے کیا اور مجمع کثیر میں علماء و مشائخ اور فضلا و دانشوروں کی موجودگی میں جانشین مفتی اعظم کو یہ کہہ کر "فقیر آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختر رضا خان صاحب کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہوں پورا مجمع سن لے تمام برکاتی بھائی سن لیں اور یہ علماء گواہ رہیں"
(مفتی اعظم اور ان کے خلفاء صفحہ ۱۶۲)
اور حضرت کے رسالہ مبارک "ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن" کی تصدیق ان الفاظ میں فرمائی "اگر میں یہ کہہ دوں کے زیر نظر فتوی اپنے موضوع پر حرف آخر ہے تو یہ بات میرے نزدیک مبالغہ یا شاعری بے جا حمایت اور طرفداری نہیں بلکہ حقیقت واقعی کا کھلے دل سے اعتراف ہوگا"
(ٹی وی ویڈیو کا آپریشن صفحہ ۳)
۷: *بحر العلوم علامہ سید مفتی افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ*
حضرت کے استاذ خلیفہ مفتی اعظم علامہ سید افضل حسین مونگیری رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے اپنے شاگرد کے رسالہ *تصویر کا شرعی حکم* پر یہ تقریظ تحریر فرمائی "جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت میں احادیث کثیرہ بشیرہ ہیں عزیزم محترم فاضل مکرم جناب علامہ اختر رضا خان سلمہ ربہ کا فتوی اس بارے میں نہایت قوی دلائل پر مشتمل ہے جو اوہام ضعیفہ اور شبہات سحیفہ کے ازالہ کے لئے کافی و وافی ہے اللہ تعالی مسلمانوں کو اتباع حق کی توفیق بخشے وہو الہادی"
۸: *مفتی نانپارہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ*
خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت کے جامع ازہر سے لوٹنے پر گلہائے عقیدت اس طرح پیش کئے
جامع ازہر سے فارغ ہوکر آیا ہند میں
لیکر آیا اپنے دامن میں ہزاروں علم و فن
تیرے چہرے سے عیاں ہے کیا جلال قادری
تیری آنکھوں سے ٹپکتی ہے لئے جام کہن
ہو نہ کیوں مسرور روح پاک جیلانی میاں
تو ہے ان کے باغ کا اک گل مجسم گلبدن
تیرے جد محترم کے در کا سائل ہے رجب
اس پہ بھی کیجیے خدارا چشم الطاف و منن
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف ۱۹۶۷ صفحہ ۲۳)
۹: *صدر العلماء محدث بریلوی قدس سرہ*
الحمد للہ حضرت علامہ ازہری میاں سلمہ نے باوجود گوناگو مصروفیات اور علالت طبع اس کا ترجمہ(المعتقد مع حاشیہ المستند) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہو جائے اس کا بالاستعاب مطالعہ تو میں نہیں کر سکا مگر جستہ جستہ جو مقامات میں نے دیکھے اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے"
۱۰: *شارح بخاری علیہ الرحمہ*
"
۳: *حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ*
حضرت تاج الشریعہ کی موجودگی میں ایک صاحب حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں آپ سے بیعت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں حضور مجاہد ملت جلال میں آگئے اور فرمایا میرے مخدوم اور مخدوم زادے بریلی شریف کے شہزادے تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی موجودگی میں بیعت کروں؟حبیب الرحمن کی یہ مجال اتنی بڑی جرات کرے یہ تمہارا نصیب ہے کے حضرت تشریف فرما ہیں تمہیں شہزادہ صاحب ہی سے بیعت ہونا ہے خود لے جاکر ان صاحب کو حضور تاج الشریعہ سے بیعت کروایا
(مجاہد ملت اور مسلک اعلی حضرت صفحہ ۲۲)
۴: *مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ*
حضرت کے والد ماجد حضور مفسر اعظم ہند علامہ ابراہیم رضا خان علیہ الرحمتہ الرضوان نے آپ کو اعلی حضرت کا جانشین بنایا فرماتے ہیں "بوجہ علالت یہ توقع نہیں کہ اب زندگی ہو بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو لہذا اختر رضا سلمہ کو قائم مقام و جانشین اعلی حضرت بنا دیا گیا"
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف دسمبر ۱۹۶۲ صفحہ ۳۲)
اور راقم السطور نے خاندانی روایات میں سنا حضرت مفسر اعظم فرمایا کرتے تھے کہ "میں غروب ہو رہا ہوں اختر طلوع ہو رہا ہے"
۵: *محدث مکتہ المکرمہ شیخ سید محمد ابن علوی مالکی قدس سرہ*
حضور تاج الشریعہ کی دعوت پر آپ ۲۰۰۴ میں بریلی شریف تشریف لائے تھے مزار شریف پر حاضری کے بعد جامعة الرضا تشریف لے گئے وہاں حضرت تاج الشریعہ نے آپ کو اپنا قصیدہ سنایا شیخ بہت متاثر ہوئے اور حضرت کی بے پناہ تعریف کی (اور قصیدہ کے متعلق فرمایا هذه قصيدة عظيمة) اور دوران تقریر حضرت کو مفتی اعظم عالم کے عظیم لقب سے سرفراز فرمایا حضرت نے انہیں کچھ اپنی تصانیف عطا کی جب علامہ علوی نے "نموذج حاشیہ الازہری" (یہ حضرت کی تحریر کردہ بخاری شریف اور حاشیہ بخاری شریف پر تعلیقات کا نمونہ تھا اب وہ حاشیہ مکمل بڑے سائز کے کاغظ پر بخاری شریف کے ساتھ تعلیقات زاہرہ کے نام سے ۸۹ صفحات پر مجلس برکات سے شائع ہو چکا ہے)
ملاحظہ کیا تو بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا اور حضرت کو "محدث حنفی محدث عظیم اور عالم کبیر" وغیرہ القاب و آداب سے یاد کیا۔
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۵۹۹)
۶: *احسن العلماء علیہ الرحمہ*
۱۶/۱۵ نومبر کو مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں احسن العلماء مولانا مفتی سید حسن میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہ پرکاتیہ مارہرہ نے جانشین مفتی اعظم کا استقبال "قائم مقام مفتی اعظم علامہ ازہری زندہ باد" کے نعرے سے کیا اور مجمع کثیر میں علماء و مشائخ اور فضلا و دانشوروں کی موجودگی میں جانشین مفتی اعظم کو یہ کہہ کر "فقیر آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختر رضا خان صاحب کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہوں پورا مجمع سن لے تمام برکاتی بھائی سن لیں اور یہ علماء گواہ رہیں"
(مفتی اعظم اور ان کے خلفاء صفحہ ۱۶۲)
اور حضرت کے رسالہ مبارک "ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن" کی تصدیق ان الفاظ میں فرمائی "اگر میں یہ کہہ دوں کے زیر نظر فتوی اپنے موضوع پر حرف آخر ہے تو یہ بات میرے نزدیک مبالغہ یا شاعری بے جا حمایت اور طرفداری نہیں بلکہ حقیقت واقعی کا کھلے دل سے اعتراف ہوگا"
(ٹی وی ویڈیو کا آپریشن صفحہ ۳)
۷: *بحر العلوم علامہ سید مفتی افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ*
حضرت کے استاذ خلیفہ مفتی اعظم علامہ سید افضل حسین مونگیری رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے اپنے شاگرد کے رسالہ *تصویر کا شرعی حکم* پر یہ تقریظ تحریر فرمائی "جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت میں احادیث کثیرہ بشیرہ ہیں عزیزم محترم فاضل مکرم جناب علامہ اختر رضا خان سلمہ ربہ کا فتوی اس بارے میں نہایت قوی دلائل پر مشتمل ہے جو اوہام ضعیفہ اور شبہات سحیفہ کے ازالہ کے لئے کافی و وافی ہے اللہ تعالی مسلمانوں کو اتباع حق کی توفیق بخشے وہو الہادی"
۸: *مفتی نانپارہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ*
خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی رجب علی صاحب علیہ الرحمہ نے حضرت کے جامع ازہر سے لوٹنے پر گلہائے عقیدت اس طرح پیش کئے
جامع ازہر سے فارغ ہوکر آیا ہند میں
لیکر آیا اپنے دامن میں ہزاروں علم و فن
تیرے چہرے سے عیاں ہے کیا جلال قادری
تیری آنکھوں سے ٹپکتی ہے لئے جام کہن
ہو نہ کیوں مسرور روح پاک جیلانی میاں
تو ہے ان کے باغ کا اک گل مجسم گلبدن
تیرے جد محترم کے در کا سائل ہے رجب
اس پہ بھی کیجیے خدارا چشم الطاف و منن
(ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف ۱۹۶۷ صفحہ ۲۳)
۹: *صدر العلماء محدث بریلوی قدس سرہ*
الحمد للہ حضرت علامہ ازہری میاں سلمہ نے باوجود گوناگو مصروفیات اور علالت طبع اس کا ترجمہ(المعتقد مع حاشیہ المستند) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہو جائے اس کا بالاستعاب مطالعہ تو میں نہیں کر سکا مگر جستہ جستہ جو مقامات میں نے دیکھے اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے"
۱۰: *شارح بخاری علیہ الرحمہ*
"
Forwarded from Fuad Raza Khan
حضرت مفتی اعظم کو اپنی زندگی کے آخری پچیس سالوں میں جو مقبولیت و ہر دل عزیزی حاصل ہوئی وہ آپ کے وصال کے بعد ازہری میاں صاحب کو بڑی تیزی کے ابتدائی سالوں میں حاصل ہو گئی اور بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی"
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
(تجلیات تاج الشریعہ صفحہ ۶۰۰)
اور اپنے ایک فتوی میں رقمطراز ہیں
"سلسلہ رضویہ اس وقت پوری دنیا پر چہایا ہوا ہے اور چہاتا جا رہا ہے کروڑوں افراد داخلہ سلسلہ ہیں اور علامہ اختر رضا ازہری صاحب جانشین مفتی اعظم جہاں جاتے ہیں مرید ہونے والے ٹوٹ پڑتے ہیں"
(فتاوی شارح بخاری جلد ۳ صفحہ ۲۵۸)
۱۱: *خواجہ علم و فن*
"حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث (ترجمہ المعتقد مع المستند) کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلی حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ کا خاصہ ہے"
(المعتقد المنتقد صفحہ ۴۶)
۱۲: *پروفیسر مسعود احمد نقشبندی*
" (اعلی حضرت) کے جانشین ان کے پر پوتے (تاج الشریعہ) علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ میں پاکستان تشریف لائے ازراہ کرم غریب خانہ پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے ایک عربی نعت کی فرمائش کی قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی اس سے اندازہ ہوتا ہے عربی زبان نے احمد رضا کے گھرانے گھر کر رکھا ہے یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے"
(اجالا صفحہ ۲۲ مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
فقیر اپنی بات کو حضرت کے حضرت یعنی سرکار مفتی اعظم کے اس شعر پر ختم کرتا ہے
*قوافی اور مضامین اچھے اچھے ہیں ابھی باقی*
*مگر بس بھی کرو نوری نہ پڑھنا بار ہو جائے*
طالب دعا: فؤاد رضا خان قادری مظہری بریلی شریف
(متعلم دار العلوم مظہر اسلام جماعت ثامنہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ کے عالمی دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی*
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء
*نوری مشن کے تحت منعقدہ عرس حضور تاج الشریعہ میں علمی خطاب اور لٹریچر کی تقسیم*
مالیگاؤں: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات جامع الصفات ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت و حضور مفتی اعظم کی روحانی و علمی وراثتوں کے امین ہیں۔آپ عظیم محدث کے منصب پرفائز نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحقیقات کا معیار بہت بلندہے۔ حضور تاج الشریعہ نے اپنا تحقیقی رسالہ ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ شیخ الازہر (مصر) کی خدمت میں پیش کیا ۔ اِس میں حدیث نبوی ’’الصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ شیخ سید محمد طنطاوی مصری نے تاج الشریعہ کے قول کی تائید کی اور اسی کو اختیار کیا، فخرِ ازہر کے تمغہ سے نوازا۔اِس طرح کا اظہارِ خیال عرس حضور تاج الشریعہ میں حضرت علامہ نورالحسن مصباحی صاحب (صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ) نے کیا۔ آپ نے کہا کہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدتارخ ہیں یا آزر اِس موضوع پر حضور تاج الشریعہ نے ’’تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لا آزر‘‘ کتاب تحریر فرمائی اور تفسیر و احادیث سے یہ ثابت کیا کہ آزر بت پرست چچا تھا نہ کہ والد۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تارخ تھے۔ حضور تاج الشریعہ نے عقائد اہلسنّت کی ترجمانی میں درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ عشقِ رسولﷺ کا گنجینہ ہےاور کیف و سرور کا آبگینہ۔ازیں قبل غلام مصطفیٰ رضوی نے مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے برقی پیغام کو سُنایا، علامہ اعظمی نےارشاد فرمایا کہ: ’’میں نے حجاز مقدس،دُبئی، امریکہ وغیرہ ملکوں میں بارہا حضور تاج الشریعہ کی زیارت کی، ملاقات سے مشرف ہوا۔ان کے دوروں کی برکت سے دین و سنیّت کو تقویت ملی۔ ہمیں ان کی تصنیفی خدمات کو اہلِ علم کے مابین منظر عام پر لانا ہوگا۔ جس کے خوشگوار نتائج رونما ہوں گے۔‘‘دوسرے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت علامہ محمد ارشد مصباحی(بانی و سربراہ اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل یوکے) نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ: ’’حضور تاج الشریعہ نے شریعت مطہرہ کی حفاظت کا پیغام دیا ہے، ان سے عقیدت کا تقاضا ہے کہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دین سے اپنے رشتے مضبوط کیے جائیں۔رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا نقش دلوں پر جمایا جائے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کیا جائے۔‘‘ان پیغامات کو نوری مشن کے توسط سے عرس کی اِس محفل میں عوام تک پہنچایا گیا۔۲۷؍ جون سنیچر کی شب یہ محفل نوری مشن نے مسجد اہلسنّت معینیہ میں منعقد کی۔ حافظ عبدالرحمٰن اشرفی کی تلاوت سے آغاز ہوا۔ یاسین رضا نے والہانہ انداز میں نعت خوانی کی۔ قُل شریف حافظ عبدالرحمٰن اشرفی نے پڑھا۔ سلام و دُعا پر محفلِ عرس کا اختتام ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی کتاب ’’لباسِ حضورﷺ‘‘ (مطبوعہ نوری مشن) تقسیم کی گئی۔رپورٹ کی ترسیل فرید رضوی نے کی۔
***
٢٨ جون ٢٠٢٠ء