Forwarded from اعلیٰ حضرت لائبریری 📚
فرامین حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رضا خان قادری
رَضِیَاللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Faramine TajushShareeah
🆔 @Aalaa_Hazrat_Library
Part ⁰¹ | Farameen ⁰¹ To ²⁰
حِصَّہ01 | فرامین 01 تا 20
📇 تاج الشریعہ فاؤنڈیشن
مفتی اختر رضا خان قادری
رَضِیَاللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Faramine TajushShareeah
🆔 @Aalaa_Hazrat_Library
Part ⁰¹ | Farameen ⁰¹ To ²⁰
حِصَّہ01 | فرامین 01 تا 20
📇 تاج الشریعہ فاؤنڈیشن
Forwarded from اعلیٰ حضرت لائبریری 📚
سلسلۂ فرامین تاج الشریعہ¹.pdf
2.3 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
पहले सर्च ज़रूर करें!
टेलीग्राम पर सर्च करने का त़रीक़ा
पहला त़रीक़ा :
ऊपर जहाँ ग्रूप/चैनल का नाम लिखा है उस के दाहिनी त़रफ़ देखें सर्च 🔍 आइकन बना होगा उस पर क्लिक करें अब आपका कीबोर्ड खुल जाएगा
हिंदी किताब चाहिए
तो हिंदी के ह़रूफ़ में
किताब का नाम लिख कर कीबोर्ड में सबसे नीचे दाएं तरफ सर्च 🔍 का आइकन या इंटर ↵ का आइकन होगा उस पर क्लिक करें अब सबसे नीचे (मैसेज लिखने की जगह) देखें वहां दो तीर बना होगा ऊपर और नीचे जाने के लिए ऊपर जाने के लिए जो तीर है उस पर क्लिक करते रहिये ...
दूसरा त़रीक़ा :
ऊपर जहाँ ग्रूप/चैनल का नाम लिखा है उस के दाहिने त़रफ़ देखें तीन बिंदी ... है उस पर क्लिक करें फिर 🔍 Search पर क्लिक करें आप का कीबोर्ड खुल जाएगा बाक़ी वही त़रीक़ा ...
तीसरा त़रीक़ा :
ग्रूप/चैनल के नाम पर क्लिक करें Description है और उस के नीचे ग्रूप/चैनल की लिंक है उस के नीचे देखें Media Files Links Audio GIFs लिखा होगा इन में जो Files लिखा है उस पर क्लिक करें फिर थोड़ा ऊपर खिसकाएं अब ऊपर देखें ग्रूप/चैनल के नाम के दाहिनी त़रफ़ सर्च 🔍 आइकन शो करेगा उस पर क्लिक करें अब आपका कीबोर्ड खुल जाएगा बाक़ी वही त़रीक़ा ...
टेलीग्राम पर सर्च करने का त़रीक़ा
पहला त़रीक़ा :
ऊपर जहाँ ग्रूप/चैनल का नाम लिखा है उस के दाहिनी त़रफ़ देखें सर्च 🔍 आइकन बना होगा उस पर क्लिक करें अब आपका कीबोर्ड खुल जाएगा
हिंदी किताब चाहिए
तो हिंदी के ह़रूफ़ में
किताब का नाम लिख कर कीबोर्ड में सबसे नीचे दाएं तरफ सर्च 🔍 का आइकन या इंटर ↵ का आइकन होगा उस पर क्लिक करें अब सबसे नीचे (मैसेज लिखने की जगह) देखें वहां दो तीर बना होगा ऊपर और नीचे जाने के लिए ऊपर जाने के लिए जो तीर है उस पर क्लिक करते रहिये ...
दूसरा त़रीक़ा :
ऊपर जहाँ ग्रूप/चैनल का नाम लिखा है उस के दाहिने त़रफ़ देखें तीन बिंदी ... है उस पर क्लिक करें फिर 🔍 Search पर क्लिक करें आप का कीबोर्ड खुल जाएगा बाक़ी वही त़रीक़ा ...
तीसरा त़रीक़ा :
ग्रूप/चैनल के नाम पर क्लिक करें Description है और उस के नीचे ग्रूप/चैनल की लिंक है उस के नीचे देखें Media Files Links Audio GIFs लिखा होगा इन में जो Files लिखा है उस पर क्लिक करें फिर थोड़ा ऊपर खिसकाएं अब ऊपर देखें ग्रूप/चैनल के नाम के दाहिनी त़रफ़ सर्च 🔍 आइकन शो करेगा उस पर क्लिक करें अब आपका कीबोर्ड खुल जाएगा बाक़ी वही त़रीक़ा ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضان مسلک اعلیٰ حضرت📚
پہلے سرچ ضرور کریں!
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
پہلا طريقہ :
اوپر جہاں گروپ / چینل کا نام لکھا ہے اس کے دائیں طرف دیکھیں سرچ آپشن 🔍 بنا ہوگا اس پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائےگا
اردو کتاب 📖 چاہئے
تو اردو کے حروف میں
کتاب کا نام لکھ کر کیبورڈ میں سب سے نیچے دائیں طرف سرچ 🔍 آئکن یا انٹر ↵ کا آئکن ہوگا اس پر کلک کریں اب سب سے نیچے (میسیج لکھنے کی جگہ) دیکھیں وہاں دو تیر بنا ہوگا اوپر↑اور نیچے↓جانے کے لئے اوپر جانے کے لئے جو تیر ہے اس پر کلک کرتے رہیے ...
دوسرا طريقہ :
اوپر جہاں گروپ / چینل کا نام لکھا ہے اس کے دائیں طرف دیکھیں تین نقطہ ... ہے اس پر کلک کریں پھر سرچ 🔍 آپشن پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائے گا باقی وہی طريقہ ...
تیسرا طریقہ :
گروپ / چینل کے نام پر کلک کریں Description ہے اور اس کے نیچے گروپ / چینل کی لنک ہے اس کے نیچے دیکھیں
Media Files Links Audio GIFs
لکھا ہوگا ان میں جو Files لکھا ہے اس پر کلک کریں پھر تھوڑا اوپر کِهسکائیں اب اوپر دیکھیں گروپ / چینل کے نام کے داہنی طرف سرچ 🔍 آئکن نظر آئےگا اس پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائے گا باقی وہی طريقہ ...
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
پہلا طريقہ :
اوپر جہاں گروپ / چینل کا نام لکھا ہے اس کے دائیں طرف دیکھیں سرچ آپشن 🔍 بنا ہوگا اس پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائےگا
اردو کتاب 📖 چاہئے
تو اردو کے حروف میں
کتاب کا نام لکھ کر کیبورڈ میں سب سے نیچے دائیں طرف سرچ 🔍 آئکن یا انٹر ↵ کا آئکن ہوگا اس پر کلک کریں اب سب سے نیچے (میسیج لکھنے کی جگہ) دیکھیں وہاں دو تیر بنا ہوگا اوپر↑اور نیچے↓جانے کے لئے اوپر جانے کے لئے جو تیر ہے اس پر کلک کرتے رہیے ...
دوسرا طريقہ :
اوپر جہاں گروپ / چینل کا نام لکھا ہے اس کے دائیں طرف دیکھیں تین نقطہ ... ہے اس پر کلک کریں پھر سرچ 🔍 آپشن پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائے گا باقی وہی طريقہ ...
تیسرا طریقہ :
گروپ / چینل کے نام پر کلک کریں Description ہے اور اس کے نیچے گروپ / چینل کی لنک ہے اس کے نیچے دیکھیں
Media Files Links Audio GIFs
لکھا ہوگا ان میں جو Files لکھا ہے اس پر کلک کریں پھر تھوڑا اوپر کِهسکائیں اب اوپر دیکھیں گروپ / چینل کے نام کے داہنی طرف سرچ 🔍 آئکن نظر آئےگا اس پر کلک کریں اب آپکا کی بورڈ کھل جائے گا باقی وہی طريقہ ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹امام و مقتدی کب کھڑے ھوں🌹
🌷اقامت کے وقت🌷
👈🏿اقامت کے وقت کب کھڑا ہوا جائے؟
👈🏿فقہاء احناف نے اقامت میں کھڑا ہونے کے بارے میں تین صورتیں بیان کی ہیں ان کا جاننا ضروری ہے، تاکہ محل اختلاف متعین ہوجائے۔
1⃣اول یہ کہ امام وقت اقامت جانب محراب سے مسجد میں آئے۔
2⃣دوسرا یہ کہ امام پیچھے یا اطراف مسجد سے آئے
3⃣تیسرا یہ کہ امام و مقتدی وقت اقامت مسجد میں موجود ہوں۔
👈🏿پہلی دو صورتوں میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے،
📌 لیکن تیسری صورت میں ہمارا اختلاف ہے۔
📢تیسری صورت جس میں امام و مقتدی مسجد میں موجود ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ
’’حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح‘‘ یا
قدقامت االصلوۃ پر
کھڑا ہونا امام اور مقتدی کےلئے مستحب ہے اور اس سے پہلے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
اس کے متعلق فقہاء احناف صراحتاً بیان کرتے ھیں
1⃣ علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی (المتوفی 557ھ)لکھتے ہیں
🌴 امام قوم کے ساتھ مسجد میں ہو تو امام و مقتدی سب کو صف میں اس وقت کھڑا ہونا مستحب ہے جب موذن حی علی الفلاح کہے
📕 (بدائع الصنائع، جلدنمبر1,
صفحہ نمبر200)
2⃣ ’’تنویر الابصار‘‘ میں ہے
🌴جب امام محراب کے قریب ہو تو امام اور قوم حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں گے
📕 (تنویر الابصار برحاشیہ شامی, جلدنمبر1, صفح نمبر315)
3⃣ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں بارہ مستند کتابوں کے حوالے سے لکھتے ھیں
🌴 ایسا ہی کنزالدقائق، نور الایضاح، اصلاح، ظہیریہ اور بدائع وغیرہ میں ہے اور ’’الدرر‘‘ کے متن اور شرح میں ہے کہ ’’حی الصلوٰۃ‘‘ پر قیام کیا جائے۔ الشیخ اسماعیل نے اپنی شرح ’’عیون المذاہب‘‘ فیض، وقایہ، نقایہ، حاوی اور مختار میں نقل کیا:
میں (ابن عابدین شامی) کہتا ہوں کہ ملتقی کے متن میں اسی کو بیان کیا گیا ہے اور ابن کمال نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے اور ذخیرہ میں کہا گیا ہے
کہ امام اور مقتدی حضرات جب موذن حی الفلاح کہے اس وقت کھڑے ہوں۔ علماء ثلاثہ (امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد رحمہم اﷲ عنہم)کے نزدیک یہی صحیح مذھب ھے
📕 (ردالمحتار' کتاب الصلوۃ,
جلدنمبر2, صفح نمبر233)
📢علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں بارہ مستند کتابوں کا حوالہ پیش کیا کہ حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے۔
👈🏼 اسی طرح:
7⃣1⃣( تبیین الحقائق ۱/۱۰۸ )
8⃣1⃣( درر شرح غررا ۱/۸۰ )
9⃣1⃣( عمدۃ القاری شرح بخاری ۸/۲۱۱ )
0⃣2⃣( شرح مسلم نووی ۱/۲۲۱ )
1⃣2⃣( فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ )
2⃣2⃣( کرمانی شرح بخاری ۵/۳۲)
3⃣2⃣( ارشاد الساری شرح بخاری ۲/۱۳۱ )
4⃣2⃣( بحر الرائق ۳/۲۰۸)
5⃣2⃣( ملتقی الابحرا ۱/۲۶۹)
6⃣2⃣( مجمع الانہر ۱/۷۸)
7⃣2⃣( محیط البرہانی ۲/۱۷ )
8⃣2⃣( فتاویٰ ہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری ۱/۵۷)
🌴 ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں گے جب موذن ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے اور یہی صحیح ہے۔
مذکورہ بالا کتب میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ ’’حنفیہ‘‘ کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے وقت ’’حی علی الصلوٰۃ یا "حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑا ہونا مستحب ہے
❌اقامت میں امام و مقتدی کا ’’حی الصلوٰۃ‘‘سے پہلے کھڑا ہونا کیسا ہے؟❌
1⃣ملا نظام الدین متوفی ۱۱۶۱ھ نے فتاویٰ عالمگیری میں جو فقہ حنفی میں مستند اور متفق علیہ فتاویٰ ہے، نے لکھا
🌴کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے لیکن بیٹھ جائے پھر کھڑا ہو جب موذن اپنے حی الفلاح پر پہنچے
📕(فتاویٰ عالمگیری، کتاب الصلوۃ,
جلدنمبر1,
صفح ممبر57)
2⃣ علامہ سید احمد طحطاوی حنفی فرماتے ہیں
🌴جب موذن نے اقامت شروع کی اور کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا تو وہ بیٹھ جائے، کھڑے ہوکر انتظار نہ کرے کیونکہ یہ مکروہ ہے جیسا کہ قھستانی کی مضمرات میں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اقامت میں کھڑا ہونا مکروہ ہےاور لوگ اس سے غافل ہیں
📕 (حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ۱/۱۸۶)
📢لہذا لوگوں کو اس غفلت سے نکل کر اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنا چاہئے۔حضورﷺ اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم کا عمل واقوال اس مسئلہ میں حدیث وآثار کافی تعداد میں موجود ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں
🌴جب حضرت بلال رضی ﷲ عنہ اقامت میں ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگتے تو رسول ﷲﷺ اٹھ کھڑے ہوتے پھر ﷲ اکبر کہتے۔
📕( المسند البزار ۸/۲۹۸)
📕( مجمع الزوائدومنبع الفوائد ۲/۱۰۶)
📕( میزان الاعتدال ۱/۴۶۴ )
📕( کنزالعمال ۷/۵۴ رقم الحدیث ۱۷۹۲۲)
📕( سنن الکبریٰ بیہقی ۲/۲۲ )
📕( الاوسط لابن المنذر ۶/۱۷۴ رقم ۱۹۲۷)
🌴حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ گھر میں تھے، موذن نے اقامت کہی، جب اس نے حی الصلوٰۃکہا تو رسول اﷲﷺ اس وقت نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے
📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۱ رقم ۱۸۵۱)
📕( معجم الکبیر اللطرابی ۲۳/۲۴۴ رقم ۴۸۵ )
📕( جامع الاحادیث ۴۰/۲۳۴ رقم ۴۳۵۴۳ )
📕( کنزالعمال
۸/۳۶۲ رقم ۲۳۲۷)
جاری ہے...... ⬇️⬇️
🌷اقامت کے وقت🌷
👈🏿اقامت کے وقت کب کھڑا ہوا جائے؟
👈🏿فقہاء احناف نے اقامت میں کھڑا ہونے کے بارے میں تین صورتیں بیان کی ہیں ان کا جاننا ضروری ہے، تاکہ محل اختلاف متعین ہوجائے۔
1⃣اول یہ کہ امام وقت اقامت جانب محراب سے مسجد میں آئے۔
2⃣دوسرا یہ کہ امام پیچھے یا اطراف مسجد سے آئے
3⃣تیسرا یہ کہ امام و مقتدی وقت اقامت مسجد میں موجود ہوں۔
👈🏿پہلی دو صورتوں میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے،
📌 لیکن تیسری صورت میں ہمارا اختلاف ہے۔
📢تیسری صورت جس میں امام و مقتدی مسجد میں موجود ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ
’’حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح‘‘ یا
قدقامت االصلوۃ پر
کھڑا ہونا امام اور مقتدی کےلئے مستحب ہے اور اس سے پہلے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
اس کے متعلق فقہاء احناف صراحتاً بیان کرتے ھیں
1⃣ علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی (المتوفی 557ھ)لکھتے ہیں
🌴 امام قوم کے ساتھ مسجد میں ہو تو امام و مقتدی سب کو صف میں اس وقت کھڑا ہونا مستحب ہے جب موذن حی علی الفلاح کہے
📕 (بدائع الصنائع، جلدنمبر1,
صفحہ نمبر200)
2⃣ ’’تنویر الابصار‘‘ میں ہے
🌴جب امام محراب کے قریب ہو تو امام اور قوم حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں گے
📕 (تنویر الابصار برحاشیہ شامی, جلدنمبر1, صفح نمبر315)
3⃣ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں بارہ مستند کتابوں کے حوالے سے لکھتے ھیں
🌴 ایسا ہی کنزالدقائق، نور الایضاح، اصلاح، ظہیریہ اور بدائع وغیرہ میں ہے اور ’’الدرر‘‘ کے متن اور شرح میں ہے کہ ’’حی الصلوٰۃ‘‘ پر قیام کیا جائے۔ الشیخ اسماعیل نے اپنی شرح ’’عیون المذاہب‘‘ فیض، وقایہ، نقایہ، حاوی اور مختار میں نقل کیا:
میں (ابن عابدین شامی) کہتا ہوں کہ ملتقی کے متن میں اسی کو بیان کیا گیا ہے اور ابن کمال نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے اور ذخیرہ میں کہا گیا ہے
کہ امام اور مقتدی حضرات جب موذن حی الفلاح کہے اس وقت کھڑے ہوں۔ علماء ثلاثہ (امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد رحمہم اﷲ عنہم)کے نزدیک یہی صحیح مذھب ھے
📕 (ردالمحتار' کتاب الصلوۃ,
جلدنمبر2, صفح نمبر233)
📢علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں بارہ مستند کتابوں کا حوالہ پیش کیا کہ حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے۔
👈🏼 اسی طرح:
7⃣1⃣( تبیین الحقائق ۱/۱۰۸ )
8⃣1⃣( درر شرح غررا ۱/۸۰ )
9⃣1⃣( عمدۃ القاری شرح بخاری ۸/۲۱۱ )
0⃣2⃣( شرح مسلم نووی ۱/۲۲۱ )
1⃣2⃣( فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ )
2⃣2⃣( کرمانی شرح بخاری ۵/۳۲)
3⃣2⃣( ارشاد الساری شرح بخاری ۲/۱۳۱ )
4⃣2⃣( بحر الرائق ۳/۲۰۸)
5⃣2⃣( ملتقی الابحرا ۱/۲۶۹)
6⃣2⃣( مجمع الانہر ۱/۷۸)
7⃣2⃣( محیط البرہانی ۲/۱۷ )
8⃣2⃣( فتاویٰ ہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری ۱/۵۷)
🌴 ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں گے جب موذن ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے اور یہی صحیح ہے۔
مذکورہ بالا کتب میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ ’’حنفیہ‘‘ کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے وقت ’’حی علی الصلوٰۃ یا "حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑا ہونا مستحب ہے
❌اقامت میں امام و مقتدی کا ’’حی الصلوٰۃ‘‘سے پہلے کھڑا ہونا کیسا ہے؟❌
1⃣ملا نظام الدین متوفی ۱۱۶۱ھ نے فتاویٰ عالمگیری میں جو فقہ حنفی میں مستند اور متفق علیہ فتاویٰ ہے، نے لکھا
🌴کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے لیکن بیٹھ جائے پھر کھڑا ہو جب موذن اپنے حی الفلاح پر پہنچے
📕(فتاویٰ عالمگیری، کتاب الصلوۃ,
جلدنمبر1,
صفح ممبر57)
2⃣ علامہ سید احمد طحطاوی حنفی فرماتے ہیں
🌴جب موذن نے اقامت شروع کی اور کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا تو وہ بیٹھ جائے، کھڑے ہوکر انتظار نہ کرے کیونکہ یہ مکروہ ہے جیسا کہ قھستانی کی مضمرات میں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اقامت میں کھڑا ہونا مکروہ ہےاور لوگ اس سے غافل ہیں
📕 (حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ۱/۱۸۶)
📢لہذا لوگوں کو اس غفلت سے نکل کر اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنا چاہئے۔حضورﷺ اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم کا عمل واقوال اس مسئلہ میں حدیث وآثار کافی تعداد میں موجود ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں
🌴جب حضرت بلال رضی ﷲ عنہ اقامت میں ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگتے تو رسول ﷲﷺ اٹھ کھڑے ہوتے پھر ﷲ اکبر کہتے۔
📕( المسند البزار ۸/۲۹۸)
📕( مجمع الزوائدومنبع الفوائد ۲/۱۰۶)
📕( میزان الاعتدال ۱/۴۶۴ )
📕( کنزالعمال ۷/۵۴ رقم الحدیث ۱۷۹۲۲)
📕( سنن الکبریٰ بیہقی ۲/۲۲ )
📕( الاوسط لابن المنذر ۶/۱۷۴ رقم ۱۹۲۷)
🌴حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ گھر میں تھے، موذن نے اقامت کہی، جب اس نے حی الصلوٰۃکہا تو رسول اﷲﷺ اس وقت نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے
📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۱ رقم ۱۸۵۱)
📕( معجم الکبیر اللطرابی ۲۳/۲۴۴ رقم ۴۸۵ )
📕( جامع الاحادیث ۴۰/۲۳۴ رقم ۴۳۵۴۳ )
📕( کنزالعمال
۸/۳۶۲ رقم ۲۳۲۷)
جاری ہے...... ⬇️⬇️
👍1
🌷امام حسین کا عمل🌷
1⃣موذن نے نماز کے لئے اقامت کہی تو جب وہ ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگا تو حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کھڑے ہوگئے
📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۵۵۰ رقم ۱۹۳۷ )
2⃣حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے کہ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوتے
📕(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
🌷حضرت انس کا عمل🌷
1⃣ امام بیہقی لکھتے ہیں ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ جس وقت ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہا جانے لگا تو آپ تیزی سے کھڑے ہوجاتے
(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
2⃣حضرت انس رضی ﷲ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگتا۔
📕(فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱ )
📕( تحفتہ الاحوذی ۳/۱۶۵ )
📕( کمال المعلم شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض ۲/۳۱۰ )
📕( نیل الاوطار۳/۲۳۴ )
📕( شرح الزرقانی علی موطا امام مالک ۱/۲۱۴ )
🌷حضرت عبداللہ بن عمر کی تاکید🌷
🌴حضرت عطیہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے پاس بیٹھے تھے جونہی موذن نے اقامت کہنا شروع کی ہم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا بیٹھ جائو پس جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگے تب کھڑے ہونا
📕(مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۶ رقم ۱۹۴۰)
🌷اصحاب عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کا معمول🌷
🌴امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ بیٹھ کر اقامت سننے اور ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کے نزدیک کھڑا ہونے کا مسئلہ بیان کرکے لکھتے ہیں
🌴 امام سعید بن مسعود نے بطریق ابی اسحاق عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کے اصحاب سے ایسا ہی روایت کیا ہے
📕(فتح الباری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱)
🌷صحابہ و اکابرتابعین کا مذہب🌷
🌴معاویہ ابن قرۃ کہتے ہیں صحابہ و تابعین اسے مکروہ جانتے تھے کہ موذن کے اقامت شروع کرتے ہی آدمی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہو
📕 (مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۰ رقم ۱۸۵۰)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
1⃣موذن نے نماز کے لئے اقامت کہی تو جب وہ ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگا تو حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کھڑے ہوگئے
📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۵۵۰ رقم ۱۹۳۷ )
2⃣حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے کہ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوتے
📕(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
🌷حضرت انس کا عمل🌷
1⃣ امام بیہقی لکھتے ہیں ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ جس وقت ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہا جانے لگا تو آپ تیزی سے کھڑے ہوجاتے
(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
2⃣حضرت انس رضی ﷲ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگتا۔
📕(فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱ )
📕( تحفتہ الاحوذی ۳/۱۶۵ )
📕( کمال المعلم شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض ۲/۳۱۰ )
📕( نیل الاوطار۳/۲۳۴ )
📕( شرح الزرقانی علی موطا امام مالک ۱/۲۱۴ )
🌷حضرت عبداللہ بن عمر کی تاکید🌷
🌴حضرت عطیہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے پاس بیٹھے تھے جونہی موذن نے اقامت کہنا شروع کی ہم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا بیٹھ جائو پس جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگے تب کھڑے ہونا
📕(مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۶ رقم ۱۹۴۰)
🌷اصحاب عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کا معمول🌷
🌴امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ بیٹھ کر اقامت سننے اور ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کے نزدیک کھڑا ہونے کا مسئلہ بیان کرکے لکھتے ہیں
🌴 امام سعید بن مسعود نے بطریق ابی اسحاق عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کے اصحاب سے ایسا ہی روایت کیا ہے
📕(فتح الباری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱)
🌷صحابہ و اکابرتابعین کا مذہب🌷
🌴معاویہ ابن قرۃ کہتے ہیں صحابہ و تابعین اسے مکروہ جانتے تھے کہ موذن کے اقامت شروع کرتے ہی آدمی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہو
📕 (مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۰ رقم ۱۸۵۰)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اقامت کے وقت امام و مقتدی
کب کھڑے ہوں ؟
ناشر : نوری مشن مالیگاؤں ۴۱۰۲ء
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کب کھڑے ہوں ؟
ناشر : نوری مشن مالیگاؤں ۴۱۰۲ء
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
وبائیں کیوں آتی ہیں؟
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
✍ : مفتی محمد قاسم عطاری
مختلف قسم کی وبائیں ، ہلاکتیں ، حادثات ، طوفان ، زلزلے ، تباہیاں آنے پر دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں۔ اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں ، ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟ ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔ ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی ، بدکاری اور بے شرمی ہے۔ یہ چند ایک حکمتوں کا بیان ہے جس پر مزید بھی بہت سے اسباب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف لبرل ، آزاد خیال ، دین بیزار ، مغربی فلسفے کے اسیر اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے قلموں کو تیر بنا کر اہلِ ایمان کے دلوں کو چھلنی کرنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کا شکار کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طرح طرح سے ان باتوں کا مذاق اڑانے ، عذابِ الٰہی پر مزاحیہ جملے کسنے اور بے مقصد و بےربط دلائل دینے کے لئے کمر کَس لیتے ہیں۔ ان میں کچھ افراد عذابِ الٰہی کے متعلق غیر مسلم مغربی فلسفیوں کے وہمی باطل دلائل ان کا حوالہ دئیے بغیر ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے یہ خود اِن ارسطوؤں ، افلاطونوں کے دماغ کی اختراع ہے حالانکہ وہ سب چوری کی دلیلیں ہوتی ہیں اور یہ بیچارے تو روزی روٹی کی خاطر لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بعض تو اِس حد تک گِر جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سود پھیلانے والے کسی مرکزی ملک کی سیر کرکے واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مولوی کہتے ہیں کہ سود خدا سے جنگ ہے ، سود سے تباہی ہوتی ہے لیکن ہم تو فلاں مرکزی سودی ملک دیکھ کر آئے ہیں ، ہمیں تو کوئی خدائی جنگ نظر نہیں آئی بلکہ وہ تو ہم سے ہزاروں گُنا خوش حال ہیں۔ ایسے لوگ سیدھا سیدھا قرآن کا رد کرنے کی جرأت تو نہیں رکھتے اس لئے مولوی کا لفظ بطورِ حیلہ استعمال کرتے ہیں ، حالانکہ سود کو خدا سے جنگ کسی مولوی نے قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کی آیت میں لکھا ہے۔ بہرحال مسلمان کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی تسلی کے لئے مسلمانوں کے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مصیبتوں کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور کیا گناہوں کی سزا بھی ان میں شامل ہے یا نہیں؟
آئیے جواب لیجئے : مصیبتوں سے امتحان مقصود ہوتا ہے چنانچہ اس کے متعلق قرآن میں ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ ([i]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مصیبتوں سے کھوٹے اور کھرے کا فرق مقصود ہوتا ہے چنانچہ قرآن میں ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲) کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ (ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔ ([ii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور سورۂ عنکبوت میں فرمایا : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور ضرور اللہ انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔ ([iii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
✍ : مفتی محمد قاسم عطاری
مختلف قسم کی وبائیں ، ہلاکتیں ، حادثات ، طوفان ، زلزلے ، تباہیاں آنے پر دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں۔ اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں ، ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟ ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔ ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی ، بدکاری اور بے شرمی ہے۔ یہ چند ایک حکمتوں کا بیان ہے جس پر مزید بھی بہت سے اسباب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف لبرل ، آزاد خیال ، دین بیزار ، مغربی فلسفے کے اسیر اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے قلموں کو تیر بنا کر اہلِ ایمان کے دلوں کو چھلنی کرنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کا شکار کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طرح طرح سے ان باتوں کا مذاق اڑانے ، عذابِ الٰہی پر مزاحیہ جملے کسنے اور بے مقصد و بےربط دلائل دینے کے لئے کمر کَس لیتے ہیں۔ ان میں کچھ افراد عذابِ الٰہی کے متعلق غیر مسلم مغربی فلسفیوں کے وہمی باطل دلائل ان کا حوالہ دئیے بغیر ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے یہ خود اِن ارسطوؤں ، افلاطونوں کے دماغ کی اختراع ہے حالانکہ وہ سب چوری کی دلیلیں ہوتی ہیں اور یہ بیچارے تو روزی روٹی کی خاطر لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بعض تو اِس حد تک گِر جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سود پھیلانے والے کسی مرکزی ملک کی سیر کرکے واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مولوی کہتے ہیں کہ سود خدا سے جنگ ہے ، سود سے تباہی ہوتی ہے لیکن ہم تو فلاں مرکزی سودی ملک دیکھ کر آئے ہیں ، ہمیں تو کوئی خدائی جنگ نظر نہیں آئی بلکہ وہ تو ہم سے ہزاروں گُنا خوش حال ہیں۔ ایسے لوگ سیدھا سیدھا قرآن کا رد کرنے کی جرأت تو نہیں رکھتے اس لئے مولوی کا لفظ بطورِ حیلہ استعمال کرتے ہیں ، حالانکہ سود کو خدا سے جنگ کسی مولوی نے قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کی آیت میں لکھا ہے۔ بہرحال مسلمان کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی تسلی کے لئے مسلمانوں کے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مصیبتوں کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور کیا گناہوں کی سزا بھی ان میں شامل ہے یا نہیں؟
آئیے جواب لیجئے : مصیبتوں سے امتحان مقصود ہوتا ہے چنانچہ اس کے متعلق قرآن میں ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ ([i]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مصیبتوں سے کھوٹے اور کھرے کا فرق مقصود ہوتا ہے چنانچہ قرآن میں ہے : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲) کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ (ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔ ([ii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور سورۂ عنکبوت میں فرمایا : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور ضرور اللہ انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔ ([iii]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جتنی آزمائش کڑی ہو گی اجر بھی اتنا ہی عظیم ہو گا ، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کی آزمائش فرماتا ہے
چنانچہ جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر ناراضی کا اظہار کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضی ہوتی ہے۔ ([iv])
مصیبتوں سے مقصود مقربینِ بارگاہِ الٰہی کا امتحان، درجات کی بلندی اور لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ قائم کرنا ہوتا ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ السَّلام کی سینکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد بھی اکثر قوم کا ایمان نہ لانا ، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا آگ میں ڈالا جانا ، فرزند کو قربان کرنا ، حضرت ایوب علیہ السَّلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ، ان کی اولاد اور اموال کا ختم ہو جانا ، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا مصر سے مدین جانا ، مصر سے ہجرت کرنا ، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا ستایا جانا اور انبیاءِ کرام علیہم السَّلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کا صبر ان کے لئے بلندئ درجات اور مسلمانوں کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ- بیشک ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی۔ ([v]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کے لئے انسان کے اعمال ناکافی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم ، مال یا اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ([vi]) اوررسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ([vii]) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اَجْمعین اور بزرگانِ دین کا مختلف وباؤں میں انتقال کرنا بھی اسی قسم میں داخل ہے۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)
غلط تلفظ
اَعْراب
اَخْلاص
اِخْبار
اِفْتَتاح/ اَفْتَتاح
اَقامَت
صحیح تلفظ
اِعْراب
اِخْلاص
اَخبار
اِفْتِتاح
اِقامَت
(اردو لغت ، جلد1)
دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی
([i]) پ2 ، البقرۃ : 155تا157
([ii]) پ4 ، اٰلِ عمرٰن : 142
([iii]) پ20 ، العنکبوت : 2 ، 3
([iv]) ترمذی ، حدیث : 2396
([v]) پ28 ، الممتحنہ : 4
([vi]) ابو داؤد ، حدیث : 3090
([vii]) بخاری ، حدیث : 5645
https://t.me/MuftiQasimAttari/633
https://t.me/SirfUrduTahrir/3908
چنانچہ جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر ناراضی کا اظہار کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضی ہوتی ہے۔ ([iv])
مصیبتوں سے مقصود مقربینِ بارگاہِ الٰہی کا امتحان، درجات کی بلندی اور لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ قائم کرنا ہوتا ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ السَّلام کی سینکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد بھی اکثر قوم کا ایمان نہ لانا ، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا آگ میں ڈالا جانا ، فرزند کو قربان کرنا ، حضرت ایوب علیہ السَّلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ، ان کی اولاد اور اموال کا ختم ہو جانا ، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا مصر سے مدین جانا ، مصر سے ہجرت کرنا ، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا ستایا جانا اور انبیاءِ کرام علیہم السَّلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کا صبر ان کے لئے بلندئ درجات اور مسلمانوں کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ- بیشک ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی۔ ([v]) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کے لئے انسان کے اعمال ناکافی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم ، مال یا اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ([vi]) اوررسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ([vii]) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اَجْمعین اور بزرگانِ دین کا مختلف وباؤں میں انتقال کرنا بھی اسی قسم میں داخل ہے۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)
غلط تلفظ
اَعْراب
اَخْلاص
اِخْبار
اِفْتَتاح/ اَفْتَتاح
اَقامَت
صحیح تلفظ
اِعْراب
اِخْلاص
اَخبار
اِفْتِتاح
اِقامَت
(اردو لغت ، جلد1)
دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی
([i]) پ2 ، البقرۃ : 155تا157
([ii]) پ4 ، اٰلِ عمرٰن : 142
([iii]) پ20 ، العنکبوت : 2 ، 3
([iv]) ترمذی ، حدیث : 2396
([v]) پ28 ، الممتحنہ : 4
([vi]) ابو داؤد ، حدیث : 3090
([vii]) بخاری ، حدیث : 5645
https://t.me/MuftiQasimAttari/633
https://t.me/SirfUrduTahrir/3908
Telegram
Mufti Qasim Attari
وبائیں کیوں آتی ہیں؟
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
آخر درست کیا ہے؟
قسط نمبر: 01 آرٹیکل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چلیے دیکھ کر آتے ہیں دلہن کو
شادی کر کے جب کوئی نئی دلہن گھر لاتا ہے تو ایک بھیڑ اسے دیکھنے کے لیے پہنچ جاتی ہے کہ چلو دیکھتے ہیں کہ دلہن کیسی ہے
ارے جناب! جس کی دلہن ہے وہ دیکھے آپ کو کیا پڑی ہے؟
دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ دکھانے والوں کو بھی خوب شوق ہوتا ہے تاکہ ان کی تعریف ہو۔
دلہن ایک کمرے میں ہے وہاں محلے کے لوگ، دولہے کے دوست پھر اگر دولہے کا بھائی ہے تو اس کے دوست سب بھابھی بھابھی کرتے ہوئے تحفے اور لفافہ لیے اپنا چہرہ شریف اٹھائے چلے آتے ہیں اور پھر باتیں ہوتی ہیں ہنسی مذاق بھی عام بات ہو گئی ہے۔
کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ یہ کرتے ہیں کہ دلہن اور دولہے کو کھلے عام سب کے سامنے ایک بڑے ہال میں دو بڑی کرسیاں منگوا کر بیٹھا دیتے ہیں تاکہ دیکھنے والے جی بھر کے دیدار کریں، Selfies لیں اور ویڈیوز بنائیں۔
ایسے لوگوں کے اندر یا تو غیرت سو گئی ہے یا یہ سب روکنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ضروری ہے کہ ہم اس ناجائز طریقے پر روک لگائیں اور لوگوں کو چاہے برا لگے یا بھلا اپنی دلہن کو اپنی دلہن کی طرح ہی رکھیں نہ کہ بازار میں بکنے والی کسی چیز کی طرح کہ جو آتا ہے دیکھ کر چلا جاتا ہے۔
عبد مصطفی
شادی کر کے جب کوئی نئی دلہن گھر لاتا ہے تو ایک بھیڑ اسے دیکھنے کے لیے پہنچ جاتی ہے کہ چلو دیکھتے ہیں کہ دلہن کیسی ہے
ارے جناب! جس کی دلہن ہے وہ دیکھے آپ کو کیا پڑی ہے؟
دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ دکھانے والوں کو بھی خوب شوق ہوتا ہے تاکہ ان کی تعریف ہو۔
دلہن ایک کمرے میں ہے وہاں محلے کے لوگ، دولہے کے دوست پھر اگر دولہے کا بھائی ہے تو اس کے دوست سب بھابھی بھابھی کرتے ہوئے تحفے اور لفافہ لیے اپنا چہرہ شریف اٹھائے چلے آتے ہیں اور پھر باتیں ہوتی ہیں ہنسی مذاق بھی عام بات ہو گئی ہے۔
کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ یہ کرتے ہیں کہ دلہن اور دولہے کو کھلے عام سب کے سامنے ایک بڑے ہال میں دو بڑی کرسیاں منگوا کر بیٹھا دیتے ہیں تاکہ دیکھنے والے جی بھر کے دیدار کریں، Selfies لیں اور ویڈیوز بنائیں۔
ایسے لوگوں کے اندر یا تو غیرت سو گئی ہے یا یہ سب روکنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ضروری ہے کہ ہم اس ناجائز طریقے پر روک لگائیں اور لوگوں کو چاہے برا لگے یا بھلا اپنی دلہن کو اپنی دلہن کی طرح ہی رکھیں نہ کہ بازار میں بکنے والی کسی چیز کی طرح کہ جو آتا ہے دیکھ کر چلا جاتا ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
ولیمہ یعنی جتنے کی استطاعت ہو اتنے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلا دینا پر آج کے دور میں ولیمہ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ کا خرچ!
آپ کی طاقت ہے دس 10 گھر کے لوگوں کو کھلانے کی پر پچاس 50 سے زیادہ آپ کے محلے میں ہی گھر موجود ہیں پھر اوپر سے رشتے داروں کی نظریں بھی آپ پر ہیں اور آپ نے سب کا کھایا ہے تو اب سب آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ اگر دس گھروں میں دعوت دی جائے تو کن کو؟ اور کن کو چھوڑ دیا جائے؟
جن کو آپ دعوت نہیں دیں گے وہ ایسے ناراض ہوں گے کہ منھ ناک سب پھلا لیں گے تو اب ایک ہی راستہ ہے کہ قرض لو یا لڑکی والوں کا گلا دباؤ پر ولیمہ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی ولیمہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ کہ دعوتِ سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں۔
اگر دو چار لوگوں کو کچھ معمولی چیز اگرچہ پیٹ بھر کر نہ ہو اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو یا اس سے بھی کم کھلا دیں تو سنت ادا ہو جائے گی اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ الزام نہیں (یعنی نہ کھلائے تو کوئی حرج نہیں)
(فتاوی امجدیہ، ج4، ص225)
مگر ہمیں سنت تو ادا کرنی نہیں ہے بلکہ قرض لے کر جس کا کھایا ہے اس کا قرض ادا کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا اور راضی کرنا ہے تو ایسا ولیمہ اصل میں ولیمہ ہی نہیں۔
کئی ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس ولیمہ کے لیے ٹینٹ لگانے کے بھی پیسے نہیں ہیں پر قرض لے کر ہزار کی تعداد میں لوگوں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے اور پھر بھی لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے پاپڑ نہیں ملا مجھے مچھلی کا پیس نہیں ملا مجھے زردہ نہیں ملا اور مجھے کولڈ ڈرنگ نصیب نہیں ہوئی۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر عمل کرنے اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
نکاح آسان کیسے ہوگا
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی
نکاح کو آسان کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ 4 شادیوں کے رواج کو عام کیا جائے۔
اب آپ کہیں گے یہ 4 شادیوں کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی تو یہ بیچ میں نہیں آئی بلکہ ہم نے نکال کر الگ کردی ہے جس کی وجہ سے آج اتنی پریشانیاں ہیں۔
خیر چاہتے ہیں تو پرانے لوگوں کا طریقہ اپنانا ہوگا مطلب اسلاف کا طریقہ۔ یہ جو نارہ ہم کو تھمایا گیا ہے کہ "ہم 2 ہمارے 2" یا "چھوٹا پریوار سکھی پریوار" یہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔ اگر آج 4 شادیوں کا رواج عام ہوتا تو جتنی لڑکیاں گھر بیٹھے بال سفید کر رہی ہیں ان کی تعداد 4 گنا کم ہوتی یعنی ہوتی ہی نہیں بلکہ طلاق شدہ اور بیوہ عورتیں بھی گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔
یہ معاشرہ، یہ ماحول، یہ سماج اگر چہ خود کو ترقی یافتہ یا پڑھا لکھا کہتا ہے لیکن ان کے پاس سوائے لفاظی کے کوئی حل نہیں ہے کہ جس سے نکاح آسان ہو جائے۔
اگر نکاح کو آسان کرنا ہے تو اس پر خاص توجو دینی ہوگی۔
کچھ لڑکی والے اور لڑکے والوں کو آگے آنا ہوگا اور آپس میں مل کر اسے عام کرنا ہوگا تاکہ ایک تبدیلی لائی جا سکے۔
عبد مصطفی