Forwarded from Zubair 006
مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*عرس تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق چند گزارشات*
امسال تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا عرس مبارک منایا جا رہا ہے... لاک ڈاؤن کی ان گھڑیوں میں گزارش ہے کہ:
1- عرس حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے گھروں میں فاتحہ خوانی کریں- ایصال ثواب کا نذرانہ پیش کریں-
2- سُنّی مدارس کا تعاون کریں اور مسلک اعلیٰ حضرت کو فروغ دیں-
3- حضور تاج الشریعہ کی بارگاہِ مبارک میں ایصال ثواب کی نیت سے اہلسنت کی کتابیں مثلاً تمہید ایمان از اعلیٰ حضرت، جاء الحق از مفتی احمد یار خان نعیمی، بہار شریعت از صدرالشریعہ، قانون شریعت از مفتی شمس الدین جونپوری، سیرت مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، جنتی زیور از مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی، زلزلہ از علامہ ارشد القادری وغیرہ؛ طلبہ اور غریب بھائیوں میں تحفتاً پیش کریں-
4- مدرسہ کے کسی ایک طالب علم/طالبہ کا تعلیمی خرچ اپنے ذمہ لے لیں-
5- کسی بیوہ ضرورت مند خاتون کو وظیفہ مقرر کر دیں-
6- کسی بیمار غریب بھائی/بہن کی طبی امداد اپنے ذمہ لے لیں-
7- کسی غریب بے روزگار کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے ہیلپ کر دیں-
مزید بہت کچھ طریقے سوچے جا سکتے ہیں؛ جن کے ذریعے بارگاہِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ میں عقیدت کی نذریں اور محبتوں کے توشے پیش کیے جا سکتے ہیں... اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین و سنیت پر استقامت عطا فرمائے- تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم-
ترسیل فکر صالح : نوری مشن مالیگاؤں انڈیا
26 جون 2020ء
امسال تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا عرس مبارک منایا جا رہا ہے... لاک ڈاؤن کی ان گھڑیوں میں گزارش ہے کہ:
1- عرس حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے گھروں میں فاتحہ خوانی کریں- ایصال ثواب کا نذرانہ پیش کریں-
2- سُنّی مدارس کا تعاون کریں اور مسلک اعلیٰ حضرت کو فروغ دیں-
3- حضور تاج الشریعہ کی بارگاہِ مبارک میں ایصال ثواب کی نیت سے اہلسنت کی کتابیں مثلاً تمہید ایمان از اعلیٰ حضرت، جاء الحق از مفتی احمد یار خان نعیمی، بہار شریعت از صدرالشریعہ، قانون شریعت از مفتی شمس الدین جونپوری، سیرت مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، جنتی زیور از مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی، زلزلہ از علامہ ارشد القادری وغیرہ؛ طلبہ اور غریب بھائیوں میں تحفتاً پیش کریں-
4- مدرسہ کے کسی ایک طالب علم/طالبہ کا تعلیمی خرچ اپنے ذمہ لے لیں-
5- کسی بیوہ ضرورت مند خاتون کو وظیفہ مقرر کر دیں-
6- کسی بیمار غریب بھائی/بہن کی طبی امداد اپنے ذمہ لے لیں-
7- کسی غریب بے روزگار کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے ہیلپ کر دیں-
مزید بہت کچھ طریقے سوچے جا سکتے ہیں؛ جن کے ذریعے بارگاہِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ میں عقیدت کی نذریں اور محبتوں کے توشے پیش کیے جا سکتے ہیں... اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین و سنیت پر استقامت عطا فرمائے- تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم-
ترسیل فکر صالح : نوری مشن مالیگاؤں انڈیا
26 جون 2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے قول خیر الاذکیا*
صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کے افکار عالیہ،نمبر 21:-
,, *حافظ ملت کا کمال یہ تھا کہ وہ راکھ کے ڈھیر سے بھی سونے کے ٹکڑے چن لیتے تھے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ سونے کے ڈھیر میں بھی راکھ کے ذرے دیکھ لیتے ہیں اور ان ہی کو کریدتے ہوئے نظر آتے ہیں* _،،
(ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور، انوار حافظ ملت نمبر، نومبر دسمبر 1992ء،ص:40)
صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کے افکار عالیہ،نمبر 21:-
,, *حافظ ملت کا کمال یہ تھا کہ وہ راکھ کے ڈھیر سے بھی سونے کے ٹکڑے چن لیتے تھے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ سونے کے ڈھیر میں بھی راکھ کے ذرے دیکھ لیتے ہیں اور ان ہی کو کریدتے ہوئے نظر آتے ہیں* _،،
(ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور، انوار حافظ ملت نمبر، نومبر دسمبر 1992ء،ص:40)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
میوچول فنڈ میں حصہ داری کا حکم؟؟
الجواب۔ میوچول فنڈ میں کمپنیاں دو طرح سے سرمایہ کاری کرتی ہیں نمبر ایک ایکویٹی شیرز(مساواتی حصص)یعنی نفع و نقصان دونوں میں برابری اور یہ شرکت عنان کی صورت ہے جوکہ جائز ہے
نمبر دو پریفرنس شیرز(ترجیحی حصص)یعنی صرف نفع کا حقدار چاہے کمپنی کو فائدہ ہو یا نقصان اور یہ عقد قرض کی صورت ہے شرط نفع کے سبب سودوحرام ہے لہذا جو کمپنیاں مساواتی حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ لیتی ہیں اور نہ دیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہو کہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا تو ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ زیادہ دنوں تک اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں بلکہ جب کمپنی فائدے میں چل رہی ہو تو اپنا پیسہ واپس لے لیں
اور جو کمپنیاں صرف ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں سرمایہ کاری کرتی ہیں یا دونوں میں یعنی ترجیحی حصص اور مساواتی حصص تو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ دونوں سرماے سود کی شرط پر دئے اور لئے جاتے ہیں
پہلی صورت کے تحت جو فائدہ ہوگا وہ جائز ہے اور دوسری کے تحت جو فائدہ ہوگا اس کا استعمال کرنا ناجائز ہے اسے فقیروں مسکینوں پر صدقہ کردے
ماخوذ از مجلس شرعی کے فیصلے
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
الجواب۔ میوچول فنڈ میں کمپنیاں دو طرح سے سرمایہ کاری کرتی ہیں نمبر ایک ایکویٹی شیرز(مساواتی حصص)یعنی نفع و نقصان دونوں میں برابری اور یہ شرکت عنان کی صورت ہے جوکہ جائز ہے
نمبر دو پریفرنس شیرز(ترجیحی حصص)یعنی صرف نفع کا حقدار چاہے کمپنی کو فائدہ ہو یا نقصان اور یہ عقد قرض کی صورت ہے شرط نفع کے سبب سودوحرام ہے لہذا جو کمپنیاں مساواتی حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ لیتی ہیں اور نہ دیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہو کہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا تو ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ زیادہ دنوں تک اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں بلکہ جب کمپنی فائدے میں چل رہی ہو تو اپنا پیسہ واپس لے لیں
اور جو کمپنیاں صرف ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں سرمایہ کاری کرتی ہیں یا دونوں میں یعنی ترجیحی حصص اور مساواتی حصص تو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ دونوں سرماے سود کی شرط پر دئے اور لئے جاتے ہیں
پہلی صورت کے تحت جو فائدہ ہوگا وہ جائز ہے اور دوسری کے تحت جو فائدہ ہوگا اس کا استعمال کرنا ناجائز ہے اسے فقیروں مسکینوں پر صدقہ کردے
ماخوذ از مجلس شرعی کے فیصلے
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
✰شان محمدالمصباحی القادری✰:
💫شیر بازار کا حکم💫
شیر بازار میں شرکت کرنا شیر خریدنا فروخت کرنا کیسا بینوا توجروا
المستفتی:فدا حسین
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
الجواب۔شیر بازار میں شرکت کے حکم سے پہلے کچھ تفصیل درج ہے:
سرمایہ کمپنی میں جمع شدہ حصص(shares) کے اصل مالک حصہ دار( share holder) ہوتے ہیں اور کمپنی حصہ داروں کی طرف سے انکی وکیل عام ہوتی ہے
سرمایہ حصص خواہ فرضی ہوں یا حقیقی نفع کے تعین کے لحاظ سے دو طرح کے ہوتے ہیں
(1)ترجیحی حصص(pre ference shares)
(2)مساواتی حصص(equity shares)
ترجیحی حصص میں سرمایہ کار کے لئے اس کے جمع کردہ روپے پر فیصد کے حساب سے نفع مقرر ہوتا ہے اسے خسارہ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا
اور مساواتی حصص میں تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والے منافع میں ایک طے شدہ فیصد کے لحاظ سے تمام سرمایہ کاروں کی شرکت ہوتی ہے ساتھ ہی وہ خسارہ میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں
دونوں کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ ترجیحی حصص۔قرض ہیں جن پر نفع کے نام پر سود کا لین دین ہوتا ہے حدیث پاک میں ہے"کل قرض جر منفعۃ فھو ربا"(نصب الرایہ لاحادیث الھدایہ،ج۴،ص۶۰) لہذا ترجیحی حصص کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری سود ہے جو قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے
۲ مساواتی حصص۔کے ذریعہ شمولیت شرکت عقد کی ایک خاص قسم شرکت عنان ہے اور ان سے تجارت جائز ودرست ہے لیکن ان حصص کا حصول چونکہ ایک ناجائز کام(سود) میں تعاون یا کم ازکم رضا کا ذریعہ ہے اسلئے ان کا حصول اور انکی خرید و فروخت ناجائز و گناہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں شرکت سے مکمل اجتناب کریں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ فورا اپنے حصص کسی غیر مسلم سے بیچ کر کنارہ کش ہوجائیں ساتھ ہی توبہ بھی کریں یونہی جو لوگ پہلے ملوث رہے وہ بھی توبہ کریں۔
شیر کی دلالی کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلالی ایک قسم کی اجرت و مزدوری ہے جسے کمیشن بھی کہا جاتا ہے اور اجرت شرعی نقطہ نظر سے جائز کام پر جائز ہوتی ہے اور ناجائز کام پر ناجائز اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ترجیحی حصص اور سودی قرض کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری حرام قطعی اور مساواتی حصص کے ذریعہ ناجائز ہے لہذا اس کی فروختگی پر اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا کہ یہ ناجائز کاروبار پر تعاون اور اسکی ترغیب ورہنمائی ہے جو شرعا ناجائز ہے قال اللہ تعالی"ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۔
خلاصہ شیر بازار کے مسائل مفتی نظام الدین صاحب دام ظلہ العالی
کفار حربی سے متعلق ایک حکم۔۔۔۔۔۔۔۔
شیر بازار کمپنیوں میں جمع شدہ حصص کے اصل مالک حصہ دار ہوتے یعنی اپنے حصہ کے بقدر مالک ہوتے ہیں لہذا ترجیحی حصص کی صورت چونکہ سود پر مشتمل ہے اور سود مباح سمجھ کر کافر حربی سے لینا جائز ہے مگر یہ صورت اس وقت مباح ہوگی جبکہ اس کمپنی میں ایک بھی مسلم شریک نہ ہو ورنہ مسلم کے ساتھ سود کا معاملہ کرنا لازم آےگا جوکہ حرام ہے اور یہ بہت کم ممکن ہے لہذا حرام ہی رہےگا البتہ اگر کسی کو تحقیق سے کسی کمپنی کے بارے میں معلوم ہوجاے تو وہ ترجی حصص میں شرکت کر سکتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
نقلہ:شان محمد المصباحی القادری
💫شیر بازار کا حکم💫
شیر بازار میں شرکت کرنا شیر خریدنا فروخت کرنا کیسا بینوا توجروا
المستفتی:فدا حسین
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
الجواب۔شیر بازار میں شرکت کے حکم سے پہلے کچھ تفصیل درج ہے:
سرمایہ کمپنی میں جمع شدہ حصص(shares) کے اصل مالک حصہ دار( share holder) ہوتے ہیں اور کمپنی حصہ داروں کی طرف سے انکی وکیل عام ہوتی ہے
سرمایہ حصص خواہ فرضی ہوں یا حقیقی نفع کے تعین کے لحاظ سے دو طرح کے ہوتے ہیں
(1)ترجیحی حصص(pre ference shares)
(2)مساواتی حصص(equity shares)
ترجیحی حصص میں سرمایہ کار کے لئے اس کے جمع کردہ روپے پر فیصد کے حساب سے نفع مقرر ہوتا ہے اسے خسارہ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا
اور مساواتی حصص میں تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والے منافع میں ایک طے شدہ فیصد کے لحاظ سے تمام سرمایہ کاروں کی شرکت ہوتی ہے ساتھ ہی وہ خسارہ میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں
دونوں کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ ترجیحی حصص۔قرض ہیں جن پر نفع کے نام پر سود کا لین دین ہوتا ہے حدیث پاک میں ہے"کل قرض جر منفعۃ فھو ربا"(نصب الرایہ لاحادیث الھدایہ،ج۴،ص۶۰) لہذا ترجیحی حصص کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری سود ہے جو قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے
۲ مساواتی حصص۔کے ذریعہ شمولیت شرکت عقد کی ایک خاص قسم شرکت عنان ہے اور ان سے تجارت جائز ودرست ہے لیکن ان حصص کا حصول چونکہ ایک ناجائز کام(سود) میں تعاون یا کم ازکم رضا کا ذریعہ ہے اسلئے ان کا حصول اور انکی خرید و فروخت ناجائز و گناہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں شرکت سے مکمل اجتناب کریں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ فورا اپنے حصص کسی غیر مسلم سے بیچ کر کنارہ کش ہوجائیں ساتھ ہی توبہ بھی کریں یونہی جو لوگ پہلے ملوث رہے وہ بھی توبہ کریں۔
شیر کی دلالی کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلالی ایک قسم کی اجرت و مزدوری ہے جسے کمیشن بھی کہا جاتا ہے اور اجرت شرعی نقطہ نظر سے جائز کام پر جائز ہوتی ہے اور ناجائز کام پر ناجائز اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ترجیحی حصص اور سودی قرض کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری حرام قطعی اور مساواتی حصص کے ذریعہ ناجائز ہے لہذا اس کی فروختگی پر اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا کہ یہ ناجائز کاروبار پر تعاون اور اسکی ترغیب ورہنمائی ہے جو شرعا ناجائز ہے قال اللہ تعالی"ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۔
خلاصہ شیر بازار کے مسائل مفتی نظام الدین صاحب دام ظلہ العالی
کفار حربی سے متعلق ایک حکم۔۔۔۔۔۔۔۔
شیر بازار کمپنیوں میں جمع شدہ حصص کے اصل مالک حصہ دار ہوتے یعنی اپنے حصہ کے بقدر مالک ہوتے ہیں لہذا ترجیحی حصص کی صورت چونکہ سود پر مشتمل ہے اور سود مباح سمجھ کر کافر حربی سے لینا جائز ہے مگر یہ صورت اس وقت مباح ہوگی جبکہ اس کمپنی میں ایک بھی مسلم شریک نہ ہو ورنہ مسلم کے ساتھ سود کا معاملہ کرنا لازم آےگا جوکہ حرام ہے اور یہ بہت کم ممکن ہے لہذا حرام ہی رہےگا البتہ اگر کسی کو تحقیق سے کسی کمپنی کے بارے میں معلوم ہوجاے تو وہ ترجی حصص میں شرکت کر سکتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
نقلہ:شان محمد المصباحی القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ضرور پڑھیں۔۔۔
طلبہ کے لیے:
اپنی یادداشت بہتر بنائیں -
آپ طالب علم ہیں اور اچھے نمبر لانا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر حاصل کرنےکےلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
-1 ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
-2 ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
-3 ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
-4 ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
-5 سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔
-6 ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
-7 آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
-8 کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
-9 ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
-10 ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلد
طلبہ کے لیے:
اپنی یادداشت بہتر بنائیں -
آپ طالب علم ہیں اور اچھے نمبر لانا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر حاصل کرنےکےلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
-1 ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
-2 ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
-3 ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
-4 ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
-5 سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔
-6 ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
-7 آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
-8 کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
-9 ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
-10 ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلد
Forwarded from Zubair 006
ی اٹھنے کے عادی ہیں تو دوپہر کو تھوڑی دیر کیلئے آرام ضرور کریں اس طرح آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔
-11 آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔
-12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔
ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر دیکھئے نتیجہ۔
#منقول: زبیر قادری
-11 آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔
-12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔
ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر دیکھئے نتیجہ۔
#منقول: زبیر قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
"اسلامی ہند کے آسمان پر جو ستارے علم و آگہی کے روشن ہوئے؛ ان میں ایک ممتاز اور نمایاں نام حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے..."
عرسِ حضور تاج الشریعہ مبارک...اِس عزم کے ساتھ کہ تصانیفِ تاج الشریعہ عام کریں گے....
(نوری مشن مالیگاؤں)
٢٧ جون ٢٠٢٠ء
عرسِ حضور تاج الشریعہ مبارک...اِس عزم کے ساتھ کہ تصانیفِ تاج الشریعہ عام کریں گے....
(نوری مشن مالیگاؤں)
٢٧ جون ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM