Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چار شادیاں کرنے کا آسان طریقہ
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Husain
مسلم خواتين ضرور پڑھیں
--------------------------
★ *ایک گمنام بہن کا درد بھرا خط*
*{{اس خط میں جو حقائق لکھے گئے ہیں اس کی افادئت عام اذہان تک پہنچانے کے لئے اس نامہ بر کو من و عن ترسیل کررہے ہیں ابن بھٹکلی }}*
*تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا.... اےآپ کو مردکہنے والو ! "اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو."*عربی مقولہ
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعده ہوش وحواس صحیح لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امهات المؤمنين رضى الله عنهن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میر اشوہر ایسا ایسا ہو گا۔ ہم مل جل کر ایسے رہیں گے پھرہمارے بچے ہوں گے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کریں گے وغیرہ وغیرہ اور *میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنے والے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی* اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کرو ادیتی۔
اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا۔ یا اللہ ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی اور مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ *بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔* خوشی يا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔
*جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔*
وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ا یک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گهر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابهی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نےکچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنےسے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پت
--------------------------
★ *ایک گمنام بہن کا درد بھرا خط*
*{{اس خط میں جو حقائق لکھے گئے ہیں اس کی افادئت عام اذہان تک پہنچانے کے لئے اس نامہ بر کو من و عن ترسیل کررہے ہیں ابن بھٹکلی }}*
*تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا.... اےآپ کو مردکہنے والو ! "اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو."*عربی مقولہ
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعده ہوش وحواس صحیح لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امهات المؤمنين رضى الله عنهن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میر اشوہر ایسا ایسا ہو گا۔ ہم مل جل کر ایسے رہیں گے پھرہمارے بچے ہوں گے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کریں گے وغیرہ وغیرہ اور *میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنے والے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی* اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کرو ادیتی۔
اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا۔ یا اللہ ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی اور مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ *بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔* خوشی يا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔
*جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔*
وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ا یک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گهر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابهی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نےکچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنےسے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پت
Forwarded from Husain
ہ تھا کہ آپ کبھی بھی دوسری شادی والے مرد کو قبول نہیں کریں گی۔ آپ تو دوسری شادی کرنے والوں کے سخت خلاف ہیں.. میں نے کہا نہیں بھائی نہیں! اب وہ بات نہیں ! جب سے میں نے بھابهی جان کے پاس قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے،سیرت نبوی پڑھی ہے تو قرآن وحدیث کے نور سے میرے دماغ کی گرہیں کھلنا شروع ہوئیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں ،اب تو میں کسی مرد کی دوسری کیا تیسری یا چوتھی بیوی بننے کیلئے بھی خوشی سےتیار ہوں اور میں نے جو اب تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی اس پر میں استغفار کرتی ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جیسے میں نے پہلے اس حکم کی مخالفت کی اب اس حکم کو جہاں تک میرے بس میں ہے پھیلاؤں۔
اس لیے آپ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہی ہوں ما شاء اللہ آپ کا ماہنامہ کثیر الاشاعت اسلامی رسالہ ہے اور اس میں آپ نے نکاح آسان تحریک کا شعبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ *اللہ کی قسم ! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور صلى الله عليه وسلم اور صحابہ رضى الله عنهم کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ ، بیوہ ، غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کا شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔*
اللہ کرے میری یہ تحریر اللہ کے اس حکم کے زندہ ہونے کا ذریعہ بن جائے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاید میری یہ کاوش میرے اس سخت گناہ کی بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری : *ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ کَرِهوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ...*
ترجمہ : *یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے( بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔*
اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے *میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو ، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لے کر آئے گی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتايا ہے۔*
اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ *ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنےکے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟ کیا حکومت انہیں شاباش دے گی؟ اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت۔ اب اسے کیا کہا جائے گا۔ کہیں اس معاملے میں آپ کے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا !*
عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ قال الله تعالیٰ: *فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ...*
*قرآن کریم میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آرہا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔*
*جب آپ اپنے ملاز م کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور صلى الله عليه وسلم ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضى الله عنهم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے۔*
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ
اس لیے آپ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہی ہوں ما شاء اللہ آپ کا ماہنامہ کثیر الاشاعت اسلامی رسالہ ہے اور اس میں آپ نے نکاح آسان تحریک کا شعبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ *اللہ کی قسم ! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور صلى الله عليه وسلم اور صحابہ رضى الله عنهم کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ ، بیوہ ، غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کا شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔*
اللہ کرے میری یہ تحریر اللہ کے اس حکم کے زندہ ہونے کا ذریعہ بن جائے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاید میری یہ کاوش میرے اس سخت گناہ کی بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری : *ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ کَرِهوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ...*
ترجمہ : *یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے( بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔*
اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے *میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو ، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لے کر آئے گی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتايا ہے۔*
اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ *ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنےکے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟ کیا حکومت انہیں شاباش دے گی؟ اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت۔ اب اسے کیا کہا جائے گا۔ کہیں اس معاملے میں آپ کے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا !*
عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ قال الله تعالیٰ: *فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ...*
*قرآن کریم میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آرہا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔*
*جب آپ اپنے ملاز م کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور صلى الله عليه وسلم ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضى الله عنهم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے۔*
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ
Forwarded from Husain
جلوس کی شکل میں نکل کر مردوں کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہہ رہی تھیں : *تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا .... کہ اے مردو ! اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو..*
*ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها میں(نعوذ باللہ) کیا کمی تھی کہ آپ نے ان کے بعد اتنے نکاح فرمائے۔*
اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کو *اللہ تعالیٰ نے شوہر کی نعمت سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بغیر نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بغیر نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کی وجہ سےگناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنیے۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے..*
*آپ بھی حضرت عائشه رضى الله عنها کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آپ کا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے اپنی استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کرنے کا ذریعہ بنيے۔ اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو !* *خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو پھر آپ پر کیا بیتے گی؟*
ذرا سوچيے ! *حديث کى رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتےجب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہيں وه هى دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگيں۔ لهذا جیسے آپ کو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کے لیے بھی یهی پسند کیجيے اور اگر اس سلسلے میں آپ کو کوئی قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیليے قبول کیجيے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجيے۔ میری پیاری بہنو ! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیليے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ تعالیٰ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ ان کا اندزہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آ پ کو اس سلسلے میں آنے والی تمام مشکلات، مشقتوں اور تکلیفوں کو بھلا دے گی۔*
*میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔*
ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں :
*ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت کرنا آسان ہوسکتا ہے۔*
*سوکن بن کر رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیليے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔*
*پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ھی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔*
*اس کے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کرے گا تو اس طرح آپ
*ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها میں(نعوذ باللہ) کیا کمی تھی کہ آپ نے ان کے بعد اتنے نکاح فرمائے۔*
اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کو *اللہ تعالیٰ نے شوہر کی نعمت سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بغیر نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بغیر نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کی وجہ سےگناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنیے۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے..*
*آپ بھی حضرت عائشه رضى الله عنها کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آپ کا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے اپنی استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کرنے کا ذریعہ بنيے۔ اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو !* *خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو پھر آپ پر کیا بیتے گی؟*
ذرا سوچيے ! *حديث کى رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتےجب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہيں وه هى دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگيں۔ لهذا جیسے آپ کو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کے لیے بھی یهی پسند کیجيے اور اگر اس سلسلے میں آپ کو کوئی قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیليے قبول کیجيے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجيے۔ میری پیاری بہنو ! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیليے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ تعالیٰ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ ان کا اندزہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آ پ کو اس سلسلے میں آنے والی تمام مشکلات، مشقتوں اور تکلیفوں کو بھلا دے گی۔*
*میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔*
ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں :
*ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت کرنا آسان ہوسکتا ہے۔*
*سوکن بن کر رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیليے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔*
*پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ھی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔*
*اس کے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کرے گا تو اس طرح آپ
Forwarded from Husain
خود کشی اور غلط راستوں پر چلنے والی مجبور بہنوں کو حلال راستہ فراہم کرنے کا ثواب پاسکتی ہیں۔*
*اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کر کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو اس میں پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں امورِ خدمت انجام دینا آسان ہوجاتے ہیں*
*چونکہ میں نے اس خط کے ساتھ نام پتہ نہیں لکھنا تھا اس لیے کھل کر لکھا ہے اور میں نے ان لڑکیوں اور خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے جو میری طرح اس بے نکاحی زندگی کے کرب وعذاب میں مبتلا ہیں.. میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سےسمجھيے.. آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آج کل ان جدید آلات کے ذریعے معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اللہ کے لیے تمام رسوم ورواج( جو خود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں اکثر رسم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجيے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجيے ۔ یہ تو حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو ... چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کے ليے اور لڑکی والے لڑکے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجيے اور دیکھيے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ ومن یتوکل علی الله فھوحسبه*
فقط و السلام
آپ کی گمنام بہن
*اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کر کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو اس میں پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں امورِ خدمت انجام دینا آسان ہوجاتے ہیں*
*چونکہ میں نے اس خط کے ساتھ نام پتہ نہیں لکھنا تھا اس لیے کھل کر لکھا ہے اور میں نے ان لڑکیوں اور خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے جو میری طرح اس بے نکاحی زندگی کے کرب وعذاب میں مبتلا ہیں.. میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سےسمجھيے.. آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آج کل ان جدید آلات کے ذریعے معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اللہ کے لیے تمام رسوم ورواج( جو خود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں اکثر رسم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجيے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجيے ۔ یہ تو حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو ... چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کے ليے اور لڑکی والے لڑکے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجيے اور دیکھيے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ ومن یتوکل علی الله فھوحسبه*
فقط و السلام
آپ کی گمنام بہن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
👈 *اپنی زندگی اپنے لئے جیئے* 👉
ایک فوٹو گرافر نے اپنی دکان کے باہر بورڈ لگایا ہوا تھا۔ جس پر درجہ ذیل 3 تحریریں لکھی ھوئی تھیں۔
20 روپے میں آپ جیسے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں۔
30 روپے میں آپ جیسا سوچتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں-
اور
50 روپے میں آپ لوگوں کے سامنے جیسے دِکھنا چاہتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں!
مرتے وقت اس فوٹو گرافر نے بتایا کہ مجھ سے ہمیشہ لوگوں نے 50 روپے والی فوٹو بنوائی ھے۔۔۔
*----------------------*
اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ( اکثر ) لوگ پوری زندگی دوسروں کو دکھانے کے لئے گزاردیتے ہیں۔
ساری زندگی دکھاوا کرتے ہیں۔
اور
20 روپے والی زندگی نہیں گزارتے!!
آپ جیسے بھی ھیں ، بہت اچھے ھیں۔
20 روپے والی زندگی گزاریں
اور
خوش رہیں۔۔۔۔
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
ایک فوٹو گرافر نے اپنی دکان کے باہر بورڈ لگایا ہوا تھا۔ جس پر درجہ ذیل 3 تحریریں لکھی ھوئی تھیں۔
20 روپے میں آپ جیسے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں۔
30 روپے میں آپ جیسا سوچتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں-
اور
50 روپے میں آپ لوگوں کے سامنے جیسے دِکھنا چاہتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں!
مرتے وقت اس فوٹو گرافر نے بتایا کہ مجھ سے ہمیشہ لوگوں نے 50 روپے والی فوٹو بنوائی ھے۔۔۔
*----------------------*
اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ( اکثر ) لوگ پوری زندگی دوسروں کو دکھانے کے لئے گزاردیتے ہیں۔
ساری زندگی دکھاوا کرتے ہیں۔
اور
20 روپے والی زندگی نہیں گزارتے!!
آپ جیسے بھی ھیں ، بہت اچھے ھیں۔
20 روپے والی زندگی گزاریں
اور
خوش رہیں۔۔۔۔
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*عرس تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق چند گزارشات*
امسال تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا عرس مبارک منایا جا رہا ہے... لاک ڈاؤن کی ان گھڑیوں میں گزارش ہے کہ:
1- عرس حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے گھروں میں فاتحہ خوانی کریں- ایصال ثواب کا نذرانہ پیش کریں-
2- سُنّی مدارس کا تعاون کریں اور مسلک اعلیٰ حضرت کو فروغ دیں-
3- حضور تاج الشریعہ کی بارگاہِ مبارک میں ایصال ثواب کی نیت سے اہلسنت کی کتابیں مثلاً تمہید ایمان از اعلیٰ حضرت، جاء الحق از مفتی احمد یار خان نعیمی، بہار شریعت از صدرالشریعہ، قانون شریعت از مفتی شمس الدین جونپوری، سیرت مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، جنتی زیور از مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی، زلزلہ از علامہ ارشد القادری وغیرہ؛ طلبہ اور غریب بھائیوں میں تحفتاً پیش کریں-
4- مدرسہ کے کسی ایک طالب علم/طالبہ کا تعلیمی خرچ اپنے ذمہ لے لیں-
5- کسی بیوہ ضرورت مند خاتون کو وظیفہ مقرر کر دیں-
6- کسی بیمار غریب بھائی/بہن کی طبی امداد اپنے ذمہ لے لیں-
7- کسی غریب بے روزگار کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے ہیلپ کر دیں-
مزید بہت کچھ طریقے سوچے جا سکتے ہیں؛ جن کے ذریعے بارگاہِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ میں عقیدت کی نذریں اور محبتوں کے توشے پیش کیے جا سکتے ہیں... اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین و سنیت پر استقامت عطا فرمائے- تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم-
ترسیل فکر صالح : نوری مشن مالیگاؤں انڈیا
26 جون 2020ء
امسال تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا عرس مبارک منایا جا رہا ہے... لاک ڈاؤن کی ان گھڑیوں میں گزارش ہے کہ:
1- عرس حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے گھروں میں فاتحہ خوانی کریں- ایصال ثواب کا نذرانہ پیش کریں-
2- سُنّی مدارس کا تعاون کریں اور مسلک اعلیٰ حضرت کو فروغ دیں-
3- حضور تاج الشریعہ کی بارگاہِ مبارک میں ایصال ثواب کی نیت سے اہلسنت کی کتابیں مثلاً تمہید ایمان از اعلیٰ حضرت، جاء الحق از مفتی احمد یار خان نعیمی، بہار شریعت از صدرالشریعہ، قانون شریعت از مفتی شمس الدین جونپوری، سیرت مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، جنتی زیور از مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی، زلزلہ از علامہ ارشد القادری وغیرہ؛ طلبہ اور غریب بھائیوں میں تحفتاً پیش کریں-
4- مدرسہ کے کسی ایک طالب علم/طالبہ کا تعلیمی خرچ اپنے ذمہ لے لیں-
5- کسی بیوہ ضرورت مند خاتون کو وظیفہ مقرر کر دیں-
6- کسی بیمار غریب بھائی/بہن کی طبی امداد اپنے ذمہ لے لیں-
7- کسی غریب بے روزگار کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے ہیلپ کر دیں-
مزید بہت کچھ طریقے سوچے جا سکتے ہیں؛ جن کے ذریعے بارگاہِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ میں عقیدت کی نذریں اور محبتوں کے توشے پیش کیے جا سکتے ہیں... اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین و سنیت پر استقامت عطا فرمائے- تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ کرم سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم-
ترسیل فکر صالح : نوری مشن مالیگاؤں انڈیا
26 جون 2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے قول خیر الاذکیا*
صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کے افکار عالیہ،نمبر 21:-
,, *حافظ ملت کا کمال یہ تھا کہ وہ راکھ کے ڈھیر سے بھی سونے کے ٹکڑے چن لیتے تھے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ سونے کے ڈھیر میں بھی راکھ کے ذرے دیکھ لیتے ہیں اور ان ہی کو کریدتے ہوئے نظر آتے ہیں* _،،
(ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور، انوار حافظ ملت نمبر، نومبر دسمبر 1992ء،ص:40)
صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کے افکار عالیہ،نمبر 21:-
,, *حافظ ملت کا کمال یہ تھا کہ وہ راکھ کے ڈھیر سے بھی سونے کے ٹکڑے چن لیتے تھے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ سونے کے ڈھیر میں بھی راکھ کے ذرے دیکھ لیتے ہیں اور ان ہی کو کریدتے ہوئے نظر آتے ہیں* _،،
(ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور، انوار حافظ ملت نمبر، نومبر دسمبر 1992ء،ص:40)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
میوچول فنڈ میں حصہ داری کا حکم؟؟
الجواب۔ میوچول فنڈ میں کمپنیاں دو طرح سے سرمایہ کاری کرتی ہیں نمبر ایک ایکویٹی شیرز(مساواتی حصص)یعنی نفع و نقصان دونوں میں برابری اور یہ شرکت عنان کی صورت ہے جوکہ جائز ہے
نمبر دو پریفرنس شیرز(ترجیحی حصص)یعنی صرف نفع کا حقدار چاہے کمپنی کو فائدہ ہو یا نقصان اور یہ عقد قرض کی صورت ہے شرط نفع کے سبب سودوحرام ہے لہذا جو کمپنیاں مساواتی حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ لیتی ہیں اور نہ دیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہو کہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا تو ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ زیادہ دنوں تک اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں بلکہ جب کمپنی فائدے میں چل رہی ہو تو اپنا پیسہ واپس لے لیں
اور جو کمپنیاں صرف ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں سرمایہ کاری کرتی ہیں یا دونوں میں یعنی ترجیحی حصص اور مساواتی حصص تو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ دونوں سرماے سود کی شرط پر دئے اور لئے جاتے ہیں
پہلی صورت کے تحت جو فائدہ ہوگا وہ جائز ہے اور دوسری کے تحت جو فائدہ ہوگا اس کا استعمال کرنا ناجائز ہے اسے فقیروں مسکینوں پر صدقہ کردے
ماخوذ از مجلس شرعی کے فیصلے
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
الجواب۔ میوچول فنڈ میں کمپنیاں دو طرح سے سرمایہ کاری کرتی ہیں نمبر ایک ایکویٹی شیرز(مساواتی حصص)یعنی نفع و نقصان دونوں میں برابری اور یہ شرکت عنان کی صورت ہے جوکہ جائز ہے
نمبر دو پریفرنس شیرز(ترجیحی حصص)یعنی صرف نفع کا حقدار چاہے کمپنی کو فائدہ ہو یا نقصان اور یہ عقد قرض کی صورت ہے شرط نفع کے سبب سودوحرام ہے لہذا جو کمپنیاں مساواتی حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ لیتی ہیں اور نہ دیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہو کہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا تو ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ زیادہ دنوں تک اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں بلکہ جب کمپنی فائدے میں چل رہی ہو تو اپنا پیسہ واپس لے لیں
اور جو کمپنیاں صرف ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں سرمایہ کاری کرتی ہیں یا دونوں میں یعنی ترجیحی حصص اور مساواتی حصص تو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ دونوں سرماے سود کی شرط پر دئے اور لئے جاتے ہیں
پہلی صورت کے تحت جو فائدہ ہوگا وہ جائز ہے اور دوسری کے تحت جو فائدہ ہوگا اس کا استعمال کرنا ناجائز ہے اسے فقیروں مسکینوں پر صدقہ کردے
ماخوذ از مجلس شرعی کے فیصلے
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from شان محمدالمصباحی القادری
✰شان محمدالمصباحی القادری✰:
💫شیر بازار کا حکم💫
شیر بازار میں شرکت کرنا شیر خریدنا فروخت کرنا کیسا بینوا توجروا
المستفتی:فدا حسین
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
الجواب۔شیر بازار میں شرکت کے حکم سے پہلے کچھ تفصیل درج ہے:
سرمایہ کمپنی میں جمع شدہ حصص(shares) کے اصل مالک حصہ دار( share holder) ہوتے ہیں اور کمپنی حصہ داروں کی طرف سے انکی وکیل عام ہوتی ہے
سرمایہ حصص خواہ فرضی ہوں یا حقیقی نفع کے تعین کے لحاظ سے دو طرح کے ہوتے ہیں
(1)ترجیحی حصص(pre ference shares)
(2)مساواتی حصص(equity shares)
ترجیحی حصص میں سرمایہ کار کے لئے اس کے جمع کردہ روپے پر فیصد کے حساب سے نفع مقرر ہوتا ہے اسے خسارہ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا
اور مساواتی حصص میں تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والے منافع میں ایک طے شدہ فیصد کے لحاظ سے تمام سرمایہ کاروں کی شرکت ہوتی ہے ساتھ ہی وہ خسارہ میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں
دونوں کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ ترجیحی حصص۔قرض ہیں جن پر نفع کے نام پر سود کا لین دین ہوتا ہے حدیث پاک میں ہے"کل قرض جر منفعۃ فھو ربا"(نصب الرایہ لاحادیث الھدایہ،ج۴،ص۶۰) لہذا ترجیحی حصص کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری سود ہے جو قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے
۲ مساواتی حصص۔کے ذریعہ شمولیت شرکت عقد کی ایک خاص قسم شرکت عنان ہے اور ان سے تجارت جائز ودرست ہے لیکن ان حصص کا حصول چونکہ ایک ناجائز کام(سود) میں تعاون یا کم ازکم رضا کا ذریعہ ہے اسلئے ان کا حصول اور انکی خرید و فروخت ناجائز و گناہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں شرکت سے مکمل اجتناب کریں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ فورا اپنے حصص کسی غیر مسلم سے بیچ کر کنارہ کش ہوجائیں ساتھ ہی توبہ بھی کریں یونہی جو لوگ پہلے ملوث رہے وہ بھی توبہ کریں۔
شیر کی دلالی کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلالی ایک قسم کی اجرت و مزدوری ہے جسے کمیشن بھی کہا جاتا ہے اور اجرت شرعی نقطہ نظر سے جائز کام پر جائز ہوتی ہے اور ناجائز کام پر ناجائز اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ترجیحی حصص اور سودی قرض کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری حرام قطعی اور مساواتی حصص کے ذریعہ ناجائز ہے لہذا اس کی فروختگی پر اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا کہ یہ ناجائز کاروبار پر تعاون اور اسکی ترغیب ورہنمائی ہے جو شرعا ناجائز ہے قال اللہ تعالی"ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۔
خلاصہ شیر بازار کے مسائل مفتی نظام الدین صاحب دام ظلہ العالی
کفار حربی سے متعلق ایک حکم۔۔۔۔۔۔۔۔
شیر بازار کمپنیوں میں جمع شدہ حصص کے اصل مالک حصہ دار ہوتے یعنی اپنے حصہ کے بقدر مالک ہوتے ہیں لہذا ترجیحی حصص کی صورت چونکہ سود پر مشتمل ہے اور سود مباح سمجھ کر کافر حربی سے لینا جائز ہے مگر یہ صورت اس وقت مباح ہوگی جبکہ اس کمپنی میں ایک بھی مسلم شریک نہ ہو ورنہ مسلم کے ساتھ سود کا معاملہ کرنا لازم آےگا جوکہ حرام ہے اور یہ بہت کم ممکن ہے لہذا حرام ہی رہےگا البتہ اگر کسی کو تحقیق سے کسی کمپنی کے بارے میں معلوم ہوجاے تو وہ ترجی حصص میں شرکت کر سکتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
نقلہ:شان محمد المصباحی القادری
💫شیر بازار کا حکم💫
شیر بازار میں شرکت کرنا شیر خریدنا فروخت کرنا کیسا بینوا توجروا
المستفتی:فدا حسین
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
الجواب۔شیر بازار میں شرکت کے حکم سے پہلے کچھ تفصیل درج ہے:
سرمایہ کمپنی میں جمع شدہ حصص(shares) کے اصل مالک حصہ دار( share holder) ہوتے ہیں اور کمپنی حصہ داروں کی طرف سے انکی وکیل عام ہوتی ہے
سرمایہ حصص خواہ فرضی ہوں یا حقیقی نفع کے تعین کے لحاظ سے دو طرح کے ہوتے ہیں
(1)ترجیحی حصص(pre ference shares)
(2)مساواتی حصص(equity shares)
ترجیحی حصص میں سرمایہ کار کے لئے اس کے جمع کردہ روپے پر فیصد کے حساب سے نفع مقرر ہوتا ہے اسے خسارہ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا
اور مساواتی حصص میں تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والے منافع میں ایک طے شدہ فیصد کے لحاظ سے تمام سرمایہ کاروں کی شرکت ہوتی ہے ساتھ ہی وہ خسارہ میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں
دونوں کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ ترجیحی حصص۔قرض ہیں جن پر نفع کے نام پر سود کا لین دین ہوتا ہے حدیث پاک میں ہے"کل قرض جر منفعۃ فھو ربا"(نصب الرایہ لاحادیث الھدایہ،ج۴،ص۶۰) لہذا ترجیحی حصص کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری سود ہے جو قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے
۲ مساواتی حصص۔کے ذریعہ شمولیت شرکت عقد کی ایک خاص قسم شرکت عنان ہے اور ان سے تجارت جائز ودرست ہے لیکن ان حصص کا حصول چونکہ ایک ناجائز کام(سود) میں تعاون یا کم ازکم رضا کا ذریعہ ہے اسلئے ان کا حصول اور انکی خرید و فروخت ناجائز و گناہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں شرکت سے مکمل اجتناب کریں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ فورا اپنے حصص کسی غیر مسلم سے بیچ کر کنارہ کش ہوجائیں ساتھ ہی توبہ بھی کریں یونہی جو لوگ پہلے ملوث رہے وہ بھی توبہ کریں۔
شیر کی دلالی کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلالی ایک قسم کی اجرت و مزدوری ہے جسے کمیشن بھی کہا جاتا ہے اور اجرت شرعی نقطہ نظر سے جائز کام پر جائز ہوتی ہے اور ناجائز کام پر ناجائز اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ترجیحی حصص اور سودی قرض کے ذریعہ کمپنی میں سرمایہ کاری حرام قطعی اور مساواتی حصص کے ذریعہ ناجائز ہے لہذا اس کی فروختگی پر اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا کہ یہ ناجائز کاروبار پر تعاون اور اسکی ترغیب ورہنمائی ہے جو شرعا ناجائز ہے قال اللہ تعالی"ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۔
خلاصہ شیر بازار کے مسائل مفتی نظام الدین صاحب دام ظلہ العالی
کفار حربی سے متعلق ایک حکم۔۔۔۔۔۔۔۔
شیر بازار کمپنیوں میں جمع شدہ حصص کے اصل مالک حصہ دار ہوتے یعنی اپنے حصہ کے بقدر مالک ہوتے ہیں لہذا ترجیحی حصص کی صورت چونکہ سود پر مشتمل ہے اور سود مباح سمجھ کر کافر حربی سے لینا جائز ہے مگر یہ صورت اس وقت مباح ہوگی جبکہ اس کمپنی میں ایک بھی مسلم شریک نہ ہو ورنہ مسلم کے ساتھ سود کا معاملہ کرنا لازم آےگا جوکہ حرام ہے اور یہ بہت کم ممکن ہے لہذا حرام ہی رہےگا البتہ اگر کسی کو تحقیق سے کسی کمپنی کے بارے میں معلوم ہوجاے تو وہ ترجی حصص میں شرکت کر سکتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
نقلہ:شان محمد المصباحی القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ضرور پڑھیں۔۔۔
طلبہ کے لیے:
اپنی یادداشت بہتر بنائیں -
آپ طالب علم ہیں اور اچھے نمبر لانا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر حاصل کرنےکےلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
-1 ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
-2 ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
-3 ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
-4 ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
-5 سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔
-6 ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
-7 آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
-8 کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
-9 ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
-10 ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلد
طلبہ کے لیے:
اپنی یادداشت بہتر بنائیں -
آپ طالب علم ہیں اور اچھے نمبر لانا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر حاصل کرنےکےلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
-1 ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
-2 ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
-3 ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
-4 ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
-5 سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔
-6 ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
-7 آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
-8 کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
-9 ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
-10 ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلد