Forwarded from اعلیٰ حضرت لائبریری 📚
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
وَداعِ تاج الشریعہ .pdf
33.5 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
زبیر قادری دہلی:
*دوسری شادی پر ہماری سوچ اور انصاف کی شرط*
بہت حساس موضوع ہے لیکن ایسا لگا کہ شیئر کرنا چاہئے تو رسک لے رہا ہوں آپ حضرات بھی اپنی ذمہ داری پر پڑھیں اور کسی بھی ٹوٹ پھوٹ کی گروپ انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہو گی آپ سب کے لیے اور اپنے لیے دعاگو ہوں اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین
اللہ پاک نے ہر چیز کو فطرت پر پیدا فرمایا ہے! اور اسی فطرت پر یہ معاشرہ درست سمت میں چل سکتا ہے، لیکن جب جب کسی نے اس فطرت سے چھیڑ چھاڑ کی اس کو بدلنے کی کوشش تو معاشرے میں بگاڑ ہی پیدا ہوا ہے!!
اللہ پاک نے مرد و عورت کو بنایا،
اور انکی تکمیل و افزائش نسل کے لیے انکے جوڑے بنائے،
اور مزید مرد کی فطرت کے مطابق فرمایا
🌷فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع
(القرآن)
پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چار،
مگر ہمارے معاشرے میں قرآن کی اس آیت کا مذاق بنایا جاتا ہے، نا صرف مذاق بنایا جاتا ہے بلک اس آیت پر عمل کرنے والے کو طرح طرح کے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے،
🌷جبکہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں،
کہ اس امت کے بہترین مرد وہ ہیں جنکی بیویاں زیادہ ہیں،
(بخاری)
لیکن ہندوانہ معاشرے میں رہ رہ کر ہمارے ہاں ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ دوسری شادی گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے ،
دوسری شادی کا نام سن کر نا صرف پہلی بیمار اہلیہ بھلی چنگی ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے بلکہ رشتہ دار طعنے دے دے کر جینا دو بھر کر دیتے ہیں،
دوسری شادی کا نام لینے والے ایک حافظ صاحب بتلاتے ہیں کہ جب میں اپنے گاؤں میں گیا تو ان میں سے بعض پوری سنجیدگی سے کہتے تھے
’’حافظ جی! اساں تے تہانوں شریف آدمی سمجھدے ساں‘‘
(ہم تو آپ کو شریف آدمی سمجھتے تھے)
شور کوٹ میں ایک مدرسے کے شیخ الحدیث اور پیر صاحب جو کہ بیعت بھی لیتے تھے انہوں نے دوسری شادی کر لی تو کئی مریدوں نے بیعت توڑ دی ۔ ایک مریدنی نے خط لکھا کہ پہلے میں تہجد میں آپ کے لئے دعا کیا کرتی تھی اب بد دعا کرتی ہوں اور ایک سلجھا ہوا اور صاحب ثروت ڈاکٹر ان کے گھر میں راشن دیا کرتا تھا، اس نے راشن بند کر دیا ۔کئی دوسرے دوستوں نے قطع تعلقی کر لی،
میں ابھی اسی گزرے جمعہ کے دن رشتہ داروں کے گھر گیا تو انکے گاؤں میں ہی ایک ہماری فیملی سے ریلیٹڈ شخص نے دوسری شادی کر لی تھی، اور اچھا کھاتا پیتا بھی ہے، دوسری بیوی کو الگ گھر میں رکھا ہوا ہے،
مجھے پتا چلا کہ پورے خاندان نے اس بندے کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ بیچارہ ایک ماہ بعد ہی دوسری بیوی کو طلاق دینے پر مجبور ہو گیا ،مگر پھر عقل آئی تو واپس اسکو لے آیا اور اب پھر اسکی پہلی بیگم اور اسکے رشتے دار اسکو ذلیل و خوار کر رہے ہیں،
میں نے کہا یار کوئی خدا کا خوف کرو، اگر اس نے کر ہی لی ہے تو اسکو سپورٹ کرو، اور جینے دو، کوئی حرام کام تو نہیں کیا اس نے، نکاح کیا ہے،
لیکن اسے سمجھانے کی بجائے الٹا سب میرے گلے پڑنے لگے ،
یہ ایک دو واقعے نہیں اس جیسے بے شمار واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت اور دجالی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کے نصوص ، حدیث کی تصریحات ، انبیاء کے حالات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، قدیم اور جدید مشاہدات و تجربات اور عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے بلکہ اس مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے فوائد اور اس سے اعراض کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔
مانا کہ ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا مانا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی زبانیں کھلتی اور انگلیاں اٹھتی ہیں،
مانا کہ دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرنے والے کو عیاش اور شہوت پرست سمجھا جاتا ہے ،
مگر کیا محض رسم و رواج اور طعن و تشنیع کے ڈر سے اللہ اور رسول کے حکموں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ؟
خواہ اس کے نتیجے میں لاکھوں بیٹیاں بے نکاحی بیٹھی رہیں، بدکاری عام ہوتی رہے؟
کون نہیں جانتا کہ فطرتاً مرد تعدد پسند ہے ۔ اس کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بعض عرب ممالک میں ’’نکاح یسیر‘‘ کے جواز کی بات چل رہی ہے ۔ اہل مغرب نے مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ہر رات نئی عورت کے ساتھ گزار سکتے ہیں،
اور اس نئی عورت میں وہ رشتوں کا تقدس تک کھو چکے ہیں،
اس میں شک نہیں کہ اکثر مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں اور اس پر مطمئن رہتے ہیں مگر ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بے شمار ایسے بھی ہیں جو تعدد چاہتے ہیں شریعت انہیں اجازت بھی دیتی ہے مگر وہ پہلی بیوی یا اپنے خاندان اور معاشرے کے عام افراد کے طعنوں کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتے پھر یا تو دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ناجائز تعلقات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔،
اور میں نے بہت سے اسیے لوگوں کو دیکھا ہے جو بیوی اور معاشرے سے ڈرتےہیں شادی کا نام تو نہیں لیتے مگر زنا کرتے ہیں،
اسلام فطری اور جائز راستہ اختیار کرنے کی
*دوسری شادی پر ہماری سوچ اور انصاف کی شرط*
بہت حساس موضوع ہے لیکن ایسا لگا کہ شیئر کرنا چاہئے تو رسک لے رہا ہوں آپ حضرات بھی اپنی ذمہ داری پر پڑھیں اور کسی بھی ٹوٹ پھوٹ کی گروپ انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہو گی آپ سب کے لیے اور اپنے لیے دعاگو ہوں اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین
اللہ پاک نے ہر چیز کو فطرت پر پیدا فرمایا ہے! اور اسی فطرت پر یہ معاشرہ درست سمت میں چل سکتا ہے، لیکن جب جب کسی نے اس فطرت سے چھیڑ چھاڑ کی اس کو بدلنے کی کوشش تو معاشرے میں بگاڑ ہی پیدا ہوا ہے!!
اللہ پاک نے مرد و عورت کو بنایا،
اور انکی تکمیل و افزائش نسل کے لیے انکے جوڑے بنائے،
اور مزید مرد کی فطرت کے مطابق فرمایا
🌷فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع
(القرآن)
پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چار،
مگر ہمارے معاشرے میں قرآن کی اس آیت کا مذاق بنایا جاتا ہے، نا صرف مذاق بنایا جاتا ہے بلک اس آیت پر عمل کرنے والے کو طرح طرح کے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے،
🌷جبکہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں،
کہ اس امت کے بہترین مرد وہ ہیں جنکی بیویاں زیادہ ہیں،
(بخاری)
لیکن ہندوانہ معاشرے میں رہ رہ کر ہمارے ہاں ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ دوسری شادی گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے ،
دوسری شادی کا نام سن کر نا صرف پہلی بیمار اہلیہ بھلی چنگی ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے بلکہ رشتہ دار طعنے دے دے کر جینا دو بھر کر دیتے ہیں،
دوسری شادی کا نام لینے والے ایک حافظ صاحب بتلاتے ہیں کہ جب میں اپنے گاؤں میں گیا تو ان میں سے بعض پوری سنجیدگی سے کہتے تھے
’’حافظ جی! اساں تے تہانوں شریف آدمی سمجھدے ساں‘‘
(ہم تو آپ کو شریف آدمی سمجھتے تھے)
شور کوٹ میں ایک مدرسے کے شیخ الحدیث اور پیر صاحب جو کہ بیعت بھی لیتے تھے انہوں نے دوسری شادی کر لی تو کئی مریدوں نے بیعت توڑ دی ۔ ایک مریدنی نے خط لکھا کہ پہلے میں تہجد میں آپ کے لئے دعا کیا کرتی تھی اب بد دعا کرتی ہوں اور ایک سلجھا ہوا اور صاحب ثروت ڈاکٹر ان کے گھر میں راشن دیا کرتا تھا، اس نے راشن بند کر دیا ۔کئی دوسرے دوستوں نے قطع تعلقی کر لی،
میں ابھی اسی گزرے جمعہ کے دن رشتہ داروں کے گھر گیا تو انکے گاؤں میں ہی ایک ہماری فیملی سے ریلیٹڈ شخص نے دوسری شادی کر لی تھی، اور اچھا کھاتا پیتا بھی ہے، دوسری بیوی کو الگ گھر میں رکھا ہوا ہے،
مجھے پتا چلا کہ پورے خاندان نے اس بندے کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ بیچارہ ایک ماہ بعد ہی دوسری بیوی کو طلاق دینے پر مجبور ہو گیا ،مگر پھر عقل آئی تو واپس اسکو لے آیا اور اب پھر اسکی پہلی بیگم اور اسکے رشتے دار اسکو ذلیل و خوار کر رہے ہیں،
میں نے کہا یار کوئی خدا کا خوف کرو، اگر اس نے کر ہی لی ہے تو اسکو سپورٹ کرو، اور جینے دو، کوئی حرام کام تو نہیں کیا اس نے، نکاح کیا ہے،
لیکن اسے سمجھانے کی بجائے الٹا سب میرے گلے پڑنے لگے ،
یہ ایک دو واقعے نہیں اس جیسے بے شمار واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت اور دجالی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کے نصوص ، حدیث کی تصریحات ، انبیاء کے حالات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، قدیم اور جدید مشاہدات و تجربات اور عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے بلکہ اس مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے فوائد اور اس سے اعراض کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔
مانا کہ ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا مانا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی زبانیں کھلتی اور انگلیاں اٹھتی ہیں،
مانا کہ دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرنے والے کو عیاش اور شہوت پرست سمجھا جاتا ہے ،
مگر کیا محض رسم و رواج اور طعن و تشنیع کے ڈر سے اللہ اور رسول کے حکموں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ؟
خواہ اس کے نتیجے میں لاکھوں بیٹیاں بے نکاحی بیٹھی رہیں، بدکاری عام ہوتی رہے؟
کون نہیں جانتا کہ فطرتاً مرد تعدد پسند ہے ۔ اس کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بعض عرب ممالک میں ’’نکاح یسیر‘‘ کے جواز کی بات چل رہی ہے ۔ اہل مغرب نے مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ہر رات نئی عورت کے ساتھ گزار سکتے ہیں،
اور اس نئی عورت میں وہ رشتوں کا تقدس تک کھو چکے ہیں،
اس میں شک نہیں کہ اکثر مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں اور اس پر مطمئن رہتے ہیں مگر ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بے شمار ایسے بھی ہیں جو تعدد چاہتے ہیں شریعت انہیں اجازت بھی دیتی ہے مگر وہ پہلی بیوی یا اپنے خاندان اور معاشرے کے عام افراد کے طعنوں کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتے پھر یا تو دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ناجائز تعلقات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔،
اور میں نے بہت سے اسیے لوگوں کو دیکھا ہے جو بیوی اور معاشرے سے ڈرتےہیں شادی کا نام تو نہیں لیتے مگر زنا کرتے ہیں،
اسلام فطری اور جائز راستہ اختیار کرنے کی
Forwarded from چینل صدائے حق
تلقین کرتا ہے یعن
ی اپنی ضرورت و حالات کے مطابق دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرلو۔
دوسری،تیسری شادی اس وقت ضرورت بن چکی کہ جب،
57 فیصد شرح عورتوں کی ہے،
اور 43 فیصد مردوں کی،بوڑھے، بچے بھی شامل،
یہ تقریبا چار سال پرانا حساب ہے، ابھی تو اور بڑھ گئی ہو گی،
اس حساب سے آپ دیکھیں کہ 43 فیصد مرودں میں دس فیصد وہ لوگ ہونگے جو بیچارے ایک شادی کے قابل بھی نہیں یا کرتے نہیں یا اگر قابل بھی ہیں تو وہ ذمہ داری نبھا نہیں سکتے، طلاق دے دیتےہیں، اس 33 فیصد میں سے بچے نکالیں،
بوڑھے نکالیں،
پیچھے آپ حساب لگائیں کہ کتنی خواتین اضافی ہیں،
پاکستانی اخبار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ خواتین گھروں میں شادی کی منتظر ہیں اور تقریباً 40 لاکھ کنواری بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو گئی ہیں...
اگر ہر شخص انصاف نا کرنے کے ڈر سے ایک شادی کرے تو باقی خواتین کہاں جائیں؟؟
اور پھر اس بات پر حیرت ہوتی کہ لوگ بلکہ دین دار طبقہ بھی چور اچکوں، رشوت خوروں، بے نمازیوں، داڑھی منڈوں اور گمراہوں کو اپنی بیٹیاں دے دیتے ہیں مگر دیندار یا سلجھے لوگوں کو نہیں دیتے جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
اور پھر نتائج بھی بھگتتے ہیں،
مردوں کی قلت کے باعث تو کئی ممالک میں دوسری شادی کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اور دوسرے ممالک کو چھوڑیں ابھی آپکے ملک پاکستان میں بھی کئی علاقے والوں نے باقاعدہ اسمبلی میں بل پیش کر دیا ہے کہ وہاں مرد کم ہو رہے ہیں، اور عورتیں زیادہ ہیں ، لہذا دوسری شادی کو لازم قرار دیا جائے اور جو دوسری شادی نا کرے گا وہ جیل جائے گا ،
لڑکیوں کے رشتے نا ہونے کی سب سے بڑی وجہ رشتے نا ملنا ہے،
میری قریب قریب فیملی میں تقریبا سو سے زیادہ بچیاں ہیں جنکی شادی رشتے نا ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار،
اور رشتے نا ملنے کی وجہ اچھا رشتہ نہیں، جو اچھے رشتےہیں وہ شادی شدہ ہیں،
اور شادی شدہ سے کرنی نہیں،
تو ںیٹھ بیٹھ کر بوڑھا ہوناہے،
کچھ والدین ہیں جو پڑھائی جیسے سبب کی وجہ سے غیر ذمےداری کا مظاہرہ کرتےہیں بچیوں کی شادی کے بارےمیں،
جبکہ اکثریت بیچاری رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی ہیں،
اور لڑکیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے ہی انکی تذلیل بھی کی جاتی ہے،
کہ جب رشتے عام ہوتے تو لڑکے دس دس بیس بیس لڑکیاں دیکھتے اور ناک چڑھاتے،
اور چھوٹی چھوٹی خامیاں نکال کر رشتے ٹھکرا دیے ہیں، جب لڑکیاں کم ہونگی ،رشتے کم ہونگے تو چاند جیسی بہو کی خواہش لیے ماؤں کو ہر طرح کی لڑکی پسند کرنا پڑے گی ،
مسائل جہیز کے، والدین کی سستی کے، پڑھائی کے، جاب کے، وغیرہ وغیرہ بہت ہیں،مگر ان سب سے بڑا مسئلہ دوسری شادی پر اعتراض ہے،
اور دوسری شادی پر اعتراض کا بہانہ انصاف ہے، کہ طرح طرح کی فضول دلیلیں گھڑنے اور بنانے کے بعد بھی جب راہ فرار نہیں ملتی تو ہر عورت کے پاس بس ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ مرد انصاف نہیں۔کرتے اس لیے ہم منع کرتی ہیں،
کیا انصاف نا کرنا دوسری تیسری شادی سے روکنے کی دلیل ہے؟؟
میں مانتا ہوں چند لوگ انصاف نہیں کرتے،
مگر کیا آج کے معاشرے میں صرف ایک شادی کرنے والا اپنی بیوی ساتھ انصاف کرتا ہے؟
تو ایک شادی والی کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ کہ تم انصاف تو کر نہیں سکتے لہذا شادی کیوں کر رہے ہو؟؟
یا کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ تم انصاف کرو گے یا نہیں؟
کیا شادی کے بعد عورتوں سے ناجائز تعلقات بنانا بیوی کے ساتھ بے انصافی نہیں؟
انکے خلاف کیوں نہیں انصاف کا کیس کیا جاتا؟؟
کیا ایک بیوی کےساتھ انصاف کرنا ضروری نہیں ہے؟؟
ہمارے معاشرے میں لاکھوں کیا کروڑوں لوگ پہلی شادی والے اپنی بیوی کے حقوق پورے نہیں کرتے، انصاف نہیں کرتے،
کئی لوگ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں،کئی لوگ تو کھانے پینے تک کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے، اور کئی لوگ تو دوجے تیجے مہینے ہی طلاق دے دیتےہیں،
کیا یہ عورت کے حقوق کی پامالی نہیں؟؟؟
کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
کوئی 18 سال میں بیوہ بن کے بیٹھی ہوتی ہےاور کوئی 20 سال میں،
کیا یہ بے انصافی نہیں؟
انکو انصاف کا کیوں نہیں کہا جاتا،،
کیوں ہم انصاف کا پابند صرف دوسری شادی والوں کو کرتے ہیں؟؟
اگر انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی ہے تو یہ پہلی والے انصاف کیوں نہیں کرتے؟؟
یہی تو ہماری غلط فہمی ہے،
انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی نہیں،
بلکہ انصاف نا کرنے کی وجہ دین سے دوری، تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے،
ہم اس تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کہ بجائے دوسری شادی کو بیچ میں کھینچ لاتے ہیں،
جبکہ ایک شادی والے بھی انصاف نہیں کرتے،
تو آپ جتنا زور اس بات پر دیتے ہیں کہ دوجی شادی نا کرو،
اتنا زور انصاف پر لگائیں، کہ بھائی دوجی شادی ضرور کرو، اور انصاف بھی ضرور کرو، شادی کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور انصاف کرنا ایک الگ مسئلہ ہے،
تو ہم انصاف پر ، توجہ کیوں نہیں دیتے، لیکچر کیوں نہیں دیتے،
کہ لوگو بیوی ایک ہو یا دو انصاف کو لازم پکڑو، یہ انصاف صرف بیوی کےساتھ نہیں اپنے ارد گرد ہر شخص ساتھ کیا جاتا ہے،
لہذا اس انصاف ک
ی اپنی ضرورت و حالات کے مطابق دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرلو۔
دوسری،تیسری شادی اس وقت ضرورت بن چکی کہ جب،
57 فیصد شرح عورتوں کی ہے،
اور 43 فیصد مردوں کی،بوڑھے، بچے بھی شامل،
یہ تقریبا چار سال پرانا حساب ہے، ابھی تو اور بڑھ گئی ہو گی،
اس حساب سے آپ دیکھیں کہ 43 فیصد مرودں میں دس فیصد وہ لوگ ہونگے جو بیچارے ایک شادی کے قابل بھی نہیں یا کرتے نہیں یا اگر قابل بھی ہیں تو وہ ذمہ داری نبھا نہیں سکتے، طلاق دے دیتےہیں، اس 33 فیصد میں سے بچے نکالیں،
بوڑھے نکالیں،
پیچھے آپ حساب لگائیں کہ کتنی خواتین اضافی ہیں،
پاکستانی اخبار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ خواتین گھروں میں شادی کی منتظر ہیں اور تقریباً 40 لاکھ کنواری بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو گئی ہیں...
اگر ہر شخص انصاف نا کرنے کے ڈر سے ایک شادی کرے تو باقی خواتین کہاں جائیں؟؟
اور پھر اس بات پر حیرت ہوتی کہ لوگ بلکہ دین دار طبقہ بھی چور اچکوں، رشوت خوروں، بے نمازیوں، داڑھی منڈوں اور گمراہوں کو اپنی بیٹیاں دے دیتے ہیں مگر دیندار یا سلجھے لوگوں کو نہیں دیتے جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
اور پھر نتائج بھی بھگتتے ہیں،
مردوں کی قلت کے باعث تو کئی ممالک میں دوسری شادی کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اور دوسرے ممالک کو چھوڑیں ابھی آپکے ملک پاکستان میں بھی کئی علاقے والوں نے باقاعدہ اسمبلی میں بل پیش کر دیا ہے کہ وہاں مرد کم ہو رہے ہیں، اور عورتیں زیادہ ہیں ، لہذا دوسری شادی کو لازم قرار دیا جائے اور جو دوسری شادی نا کرے گا وہ جیل جائے گا ،
لڑکیوں کے رشتے نا ہونے کی سب سے بڑی وجہ رشتے نا ملنا ہے،
میری قریب قریب فیملی میں تقریبا سو سے زیادہ بچیاں ہیں جنکی شادی رشتے نا ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار،
اور رشتے نا ملنے کی وجہ اچھا رشتہ نہیں، جو اچھے رشتےہیں وہ شادی شدہ ہیں،
اور شادی شدہ سے کرنی نہیں،
تو ںیٹھ بیٹھ کر بوڑھا ہوناہے،
کچھ والدین ہیں جو پڑھائی جیسے سبب کی وجہ سے غیر ذمےداری کا مظاہرہ کرتےہیں بچیوں کی شادی کے بارےمیں،
جبکہ اکثریت بیچاری رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی ہیں،
اور لڑکیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے ہی انکی تذلیل بھی کی جاتی ہے،
کہ جب رشتے عام ہوتے تو لڑکے دس دس بیس بیس لڑکیاں دیکھتے اور ناک چڑھاتے،
اور چھوٹی چھوٹی خامیاں نکال کر رشتے ٹھکرا دیے ہیں، جب لڑکیاں کم ہونگی ،رشتے کم ہونگے تو چاند جیسی بہو کی خواہش لیے ماؤں کو ہر طرح کی لڑکی پسند کرنا پڑے گی ،
مسائل جہیز کے، والدین کی سستی کے، پڑھائی کے، جاب کے، وغیرہ وغیرہ بہت ہیں،مگر ان سب سے بڑا مسئلہ دوسری شادی پر اعتراض ہے،
اور دوسری شادی پر اعتراض کا بہانہ انصاف ہے، کہ طرح طرح کی فضول دلیلیں گھڑنے اور بنانے کے بعد بھی جب راہ فرار نہیں ملتی تو ہر عورت کے پاس بس ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ مرد انصاف نہیں۔کرتے اس لیے ہم منع کرتی ہیں،
کیا انصاف نا کرنا دوسری تیسری شادی سے روکنے کی دلیل ہے؟؟
میں مانتا ہوں چند لوگ انصاف نہیں کرتے،
مگر کیا آج کے معاشرے میں صرف ایک شادی کرنے والا اپنی بیوی ساتھ انصاف کرتا ہے؟
تو ایک شادی والی کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ کہ تم انصاف تو کر نہیں سکتے لہذا شادی کیوں کر رہے ہو؟؟
یا کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ تم انصاف کرو گے یا نہیں؟
کیا شادی کے بعد عورتوں سے ناجائز تعلقات بنانا بیوی کے ساتھ بے انصافی نہیں؟
انکے خلاف کیوں نہیں انصاف کا کیس کیا جاتا؟؟
کیا ایک بیوی کےساتھ انصاف کرنا ضروری نہیں ہے؟؟
ہمارے معاشرے میں لاکھوں کیا کروڑوں لوگ پہلی شادی والے اپنی بیوی کے حقوق پورے نہیں کرتے، انصاف نہیں کرتے،
کئی لوگ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں،کئی لوگ تو کھانے پینے تک کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے، اور کئی لوگ تو دوجے تیجے مہینے ہی طلاق دے دیتےہیں،
کیا یہ عورت کے حقوق کی پامالی نہیں؟؟؟
کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
کوئی 18 سال میں بیوہ بن کے بیٹھی ہوتی ہےاور کوئی 20 سال میں،
کیا یہ بے انصافی نہیں؟
انکو انصاف کا کیوں نہیں کہا جاتا،،
کیوں ہم انصاف کا پابند صرف دوسری شادی والوں کو کرتے ہیں؟؟
اگر انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی ہے تو یہ پہلی والے انصاف کیوں نہیں کرتے؟؟
یہی تو ہماری غلط فہمی ہے،
انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی نہیں،
بلکہ انصاف نا کرنے کی وجہ دین سے دوری، تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے،
ہم اس تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کہ بجائے دوسری شادی کو بیچ میں کھینچ لاتے ہیں،
جبکہ ایک شادی والے بھی انصاف نہیں کرتے،
تو آپ جتنا زور اس بات پر دیتے ہیں کہ دوجی شادی نا کرو،
اتنا زور انصاف پر لگائیں، کہ بھائی دوجی شادی ضرور کرو، اور انصاف بھی ضرور کرو، شادی کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور انصاف کرنا ایک الگ مسئلہ ہے،
تو ہم انصاف پر ، توجہ کیوں نہیں دیتے، لیکچر کیوں نہیں دیتے،
کہ لوگو بیوی ایک ہو یا دو انصاف کو لازم پکڑو، یہ انصاف صرف بیوی کےساتھ نہیں اپنے ارد گرد ہر شخص ساتھ کیا جاتا ہے،
لہذا اس انصاف ک
Forwarded from چینل صدائے حق
ی تربیت لازم ہے،
اس
کو دوسری شادی کے ساتھ نتھی نا کریں،
انصاف کا معنی ہر کسی کو اسکا پورا حق دینا،بہن ہو بیٹی ہو ماں ہو بھائی ہو ،پڑوسی سب کے ساتھ انصاف کریں ،
جب شوہر کا حق نہیں ملے گا ، اسکے ساتھ انصاف نہیں ہو گا، کیا وہ انصاف کرے گا ؟
بالکل نہیں کرے گا،
کچھ لوگ انصاف کو دوسری شادی سے مشروط کرتے ہیں،
آپکو مثال دیتا ہوں،
مسجد میں بیٹھا شخص اذان ہونے کے باوجود بھی نماز نہیں پڑھتا، پوچھو تو کہتا ہے کہ جی وضو نہیں، جب وضو نہیں تو نماز کیسے پڑھوں؟ کیونکہ نماز کی شرط وضو ہے،
اور وضو کے بنا نماز نہیں!!
تو بھائی وضو کی شرط کس نے پوری کرنی ہے؟ فرشتوں نے تو وضو نہیں کروانا؟
وہ بھی تو نے کرنا ہےاٹھ وضو کر اور نماز پڑھ،
تو انصاف کی شرط بھی مرد نے پوری کرنی ہے اسے کہا جائے، ڈانٹا جائے، نصیحت کی جائے کہ بھائی شادی کرو اور ساتھ انصاف بھی قائم کرو،
میں نے بچوں کی تربیت پر ، والدین کی اطاعت پر، والدین کی سستیوں پر ،
ہر موضوع پر لکھا ہے، وہ سب مسائل اپنی جگہ ہیں،
مگر بے حیائی کی سب سے بڑی وجہ دوسری شادی کا مسئلہ ہے،
مرد کی فطری خواہش پوری نہیں ہوتی،
جسکی وجہ عورت کی کمزوری، فطری وظائف،کہ عورت سال میں اکثر اوقات شوہر کے قابل نہیں ہوتی، خاص کر بچوں وغیرہ میں پڑھ کر،
ایسی صورت میں جب شوہر بیوی سے دور ہے تو تقوی و ایمان سے بھرپور صحابہ کرام بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے کہ اللہ کے رسول ہمیں اجازت دیں ہم خصی ہو جائیں، کہ بیویاں پاس نہیں ہیں، گزارا مشکل ہے،
فرمایا نہیں جاؤ ، عارضی نکاح (معتہ)کر لو،
جو بعد میں حرام ٹھہرا،
اسی طرح بعض دفعہ عورت کی طرف کشش جو اللہ نے رکھی ہے مرد میں وہ کشش کسی وقت بھی لے ڈوبتی ہےمرد کو، خاص کر آج کل کے معاشرے میں جہاں بے پردگی عام ہے، کوئی عورت پسند آ جاتی ہے
یہ نظر پڑنا بھی فطرت ہے،
حدیث سنیے!
فرمایا جب بازار میں کسی عورت پر نظر پڑے تو بیوی کے پاس جاؤ، تو جس عورت کو دیکھا اسکی خواہش ختم ہو جائیگی،
اب اگر وہ گھر آئے اور بیوی اس قابل نا ہو تو؟؟ وہ کیا کرے؟؟ ،
اب وہ سیدھے راستے پر جائے تو بیوی کو گھر والوں کو اعتراض،
تو پھر غلط راستہ اسکے سامنے،!
وہ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو بھی بہکائے گا،
ادھر وہ بہنیں بیٹیاں جو بیچاری فطرتی خواہش کی مجبور ، گھر میں رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی، کنواری ہوں یا بیوہ ،مطلقہ وہ آسانی سے ٹریک سے اتر جاتی ہیں اور اس طرح یہ معاملہ بے حیائی کی طرف پروان چڑھتا جاتا ہے
اسکا حل صرف شادی ہے شادی ہے،
بیوہ عورتیں، کنواری، شکل و صورت میں ماٹھی، سب کا جوڑ موجود ہے معاشرے میں،
مگر مشکل ہے تو دوسری اور تیسری شادی !!
اگر یہ مسئلہ سمجھ آ جائے تو رشتوں کے مسائل ختم ہو جائیں اور آدھی سے زیادہ بے حیائی اور معاشرے کے مسائل ختم ہو جائیں،
کیا دوسری شادی اور اسلام کے ایک اہم مسئلہ سے پریشان خواتین کی دلیل صرف مرد کا انصاف نا کرنا ہے؟
آپ کے ارد گرد کتنے مرد ہیں جو ایک بیوی کو خوش رکھتے اور اس ایک کےساتھ انصاف کرتےہیں؟؟
ذرا گوگل کریں اور چیک کریں ایک شادی والوں کی بھی طلاق کی شرح کیا ہے!!!
جو ایک شادی والے انصاف نہیں کرتے تو پھر انکو ایک شادی سے منع کیوں نہیں کیا جاتا؟؟
پھر کیا ایک شادی بھی جائز نہیں!!؟؟
دوسرا سوال👇
کیا کپڑا جوتی ،میں انصاف نا کرنے کے ڈر سے آپ کسی کو زنا ، بدکاری جیسے بھیانک گناہ میں جانے دیں گے؟؟
خاص کر جب وہ آپکا شوہر ہو، ؟ جسکی آخرت سنوارنے میں آپکا ایک کردار ہوتاہے آپکی ذمہ داری ہوتی ہے
کیا آپ چاہیں گی آپکا مستقبل کا جنت کا شہزادہ فطری ضرورت اور کمزوری کے سبب نکاح کی بجائے گرل فرینڈ رکھے؟
اور جہنم کا ایندھن بنے؟
آپکے انصاف انصاف کے راگ الاپنے کے ڈر سے بدکاری کی طرف جائے؟
بات آپ سے کرے، ہاتھ آپکا تھامے اور دل میں کسی اور کا خیال رکھے؟؟؟
کیا یہ سارے گناہ ٬
جوتی کپڑے میں انصاف نا کرنے سے چھوٹے گناہ ہیں؟؟ خدارا سوچ بدلیں،
اس ہندوانہ سوچ نے ہمارے معاشرے پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کہ خدا کی قسم آج مرد بھی دوسری شادی کو گناہ سمجھنے لگ گئے ہیں،
یورپی ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی گرل فرینڈ کا ٹرینڈ چل چکا ہے،
جہالت اور بد بختی کی انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی زنا کرتا ہے ،بدکاری کرتا ہے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا،
بلکہ جسکے جتنے زیادہ لڑکیوں سے گندے تعلقات ہوتے ہیں اسکو ہیرو سمجھا جاتاہے،
اور ظلم یہ کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ جیسے ملک کے سیاستدان سر عام ٹی وی پر ،
شادی نا کرنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ جسکو تازہ دودھ ملے روزانہ اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے،؟؟؟؟
اور ہمارا بے حس معاشرہ ان الفاظ کو انجوائے کرتا ہے اور مسکرا کے ٹال دیتا ہے!!!
اور بچپن سے جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ بدکار شخص ایک شادی کے بھی قابل نہیں ہوتا،
وہ دوسری شادی کا نام کیوں لے گا؟؟
میرا ایک قریبی کزن اپنی بیوی کو چھوڑ کر پڑوسی کی بیوی کے پاس رہتا، بیسیوں بار پکڑا جا چکا ، حتی کہ
اس
کو دوسری شادی کے ساتھ نتھی نا کریں،
انصاف کا معنی ہر کسی کو اسکا پورا حق دینا،بہن ہو بیٹی ہو ماں ہو بھائی ہو ،پڑوسی سب کے ساتھ انصاف کریں ،
جب شوہر کا حق نہیں ملے گا ، اسکے ساتھ انصاف نہیں ہو گا، کیا وہ انصاف کرے گا ؟
بالکل نہیں کرے گا،
کچھ لوگ انصاف کو دوسری شادی سے مشروط کرتے ہیں،
آپکو مثال دیتا ہوں،
مسجد میں بیٹھا شخص اذان ہونے کے باوجود بھی نماز نہیں پڑھتا، پوچھو تو کہتا ہے کہ جی وضو نہیں، جب وضو نہیں تو نماز کیسے پڑھوں؟ کیونکہ نماز کی شرط وضو ہے،
اور وضو کے بنا نماز نہیں!!
تو بھائی وضو کی شرط کس نے پوری کرنی ہے؟ فرشتوں نے تو وضو نہیں کروانا؟
وہ بھی تو نے کرنا ہےاٹھ وضو کر اور نماز پڑھ،
تو انصاف کی شرط بھی مرد نے پوری کرنی ہے اسے کہا جائے، ڈانٹا جائے، نصیحت کی جائے کہ بھائی شادی کرو اور ساتھ انصاف بھی قائم کرو،
میں نے بچوں کی تربیت پر ، والدین کی اطاعت پر، والدین کی سستیوں پر ،
ہر موضوع پر لکھا ہے، وہ سب مسائل اپنی جگہ ہیں،
مگر بے حیائی کی سب سے بڑی وجہ دوسری شادی کا مسئلہ ہے،
مرد کی فطری خواہش پوری نہیں ہوتی،
جسکی وجہ عورت کی کمزوری، فطری وظائف،کہ عورت سال میں اکثر اوقات شوہر کے قابل نہیں ہوتی، خاص کر بچوں وغیرہ میں پڑھ کر،
ایسی صورت میں جب شوہر بیوی سے دور ہے تو تقوی و ایمان سے بھرپور صحابہ کرام بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے کہ اللہ کے رسول ہمیں اجازت دیں ہم خصی ہو جائیں، کہ بیویاں پاس نہیں ہیں، گزارا مشکل ہے،
فرمایا نہیں جاؤ ، عارضی نکاح (معتہ)کر لو،
جو بعد میں حرام ٹھہرا،
اسی طرح بعض دفعہ عورت کی طرف کشش جو اللہ نے رکھی ہے مرد میں وہ کشش کسی وقت بھی لے ڈوبتی ہےمرد کو، خاص کر آج کل کے معاشرے میں جہاں بے پردگی عام ہے، کوئی عورت پسند آ جاتی ہے
یہ نظر پڑنا بھی فطرت ہے،
حدیث سنیے!
فرمایا جب بازار میں کسی عورت پر نظر پڑے تو بیوی کے پاس جاؤ، تو جس عورت کو دیکھا اسکی خواہش ختم ہو جائیگی،
اب اگر وہ گھر آئے اور بیوی اس قابل نا ہو تو؟؟ وہ کیا کرے؟؟ ،
اب وہ سیدھے راستے پر جائے تو بیوی کو گھر والوں کو اعتراض،
تو پھر غلط راستہ اسکے سامنے،!
وہ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو بھی بہکائے گا،
ادھر وہ بہنیں بیٹیاں جو بیچاری فطرتی خواہش کی مجبور ، گھر میں رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی، کنواری ہوں یا بیوہ ،مطلقہ وہ آسانی سے ٹریک سے اتر جاتی ہیں اور اس طرح یہ معاملہ بے حیائی کی طرف پروان چڑھتا جاتا ہے
اسکا حل صرف شادی ہے شادی ہے،
بیوہ عورتیں، کنواری، شکل و صورت میں ماٹھی، سب کا جوڑ موجود ہے معاشرے میں،
مگر مشکل ہے تو دوسری اور تیسری شادی !!
اگر یہ مسئلہ سمجھ آ جائے تو رشتوں کے مسائل ختم ہو جائیں اور آدھی سے زیادہ بے حیائی اور معاشرے کے مسائل ختم ہو جائیں،
کیا دوسری شادی اور اسلام کے ایک اہم مسئلہ سے پریشان خواتین کی دلیل صرف مرد کا انصاف نا کرنا ہے؟
آپ کے ارد گرد کتنے مرد ہیں جو ایک بیوی کو خوش رکھتے اور اس ایک کےساتھ انصاف کرتےہیں؟؟
ذرا گوگل کریں اور چیک کریں ایک شادی والوں کی بھی طلاق کی شرح کیا ہے!!!
جو ایک شادی والے انصاف نہیں کرتے تو پھر انکو ایک شادی سے منع کیوں نہیں کیا جاتا؟؟
پھر کیا ایک شادی بھی جائز نہیں!!؟؟
دوسرا سوال👇
کیا کپڑا جوتی ،میں انصاف نا کرنے کے ڈر سے آپ کسی کو زنا ، بدکاری جیسے بھیانک گناہ میں جانے دیں گے؟؟
خاص کر جب وہ آپکا شوہر ہو، ؟ جسکی آخرت سنوارنے میں آپکا ایک کردار ہوتاہے آپکی ذمہ داری ہوتی ہے
کیا آپ چاہیں گی آپکا مستقبل کا جنت کا شہزادہ فطری ضرورت اور کمزوری کے سبب نکاح کی بجائے گرل فرینڈ رکھے؟
اور جہنم کا ایندھن بنے؟
آپکے انصاف انصاف کے راگ الاپنے کے ڈر سے بدکاری کی طرف جائے؟
بات آپ سے کرے، ہاتھ آپکا تھامے اور دل میں کسی اور کا خیال رکھے؟؟؟
کیا یہ سارے گناہ ٬
جوتی کپڑے میں انصاف نا کرنے سے چھوٹے گناہ ہیں؟؟ خدارا سوچ بدلیں،
اس ہندوانہ سوچ نے ہمارے معاشرے پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کہ خدا کی قسم آج مرد بھی دوسری شادی کو گناہ سمجھنے لگ گئے ہیں،
یورپی ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی گرل فرینڈ کا ٹرینڈ چل چکا ہے،
جہالت اور بد بختی کی انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی زنا کرتا ہے ،بدکاری کرتا ہے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا،
بلکہ جسکے جتنے زیادہ لڑکیوں سے گندے تعلقات ہوتے ہیں اسکو ہیرو سمجھا جاتاہے،
اور ظلم یہ کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ جیسے ملک کے سیاستدان سر عام ٹی وی پر ،
شادی نا کرنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ جسکو تازہ دودھ ملے روزانہ اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے،؟؟؟؟
اور ہمارا بے حس معاشرہ ان الفاظ کو انجوائے کرتا ہے اور مسکرا کے ٹال دیتا ہے!!!
اور بچپن سے جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ بدکار شخص ایک شادی کے بھی قابل نہیں ہوتا،
وہ دوسری شادی کا نام کیوں لے گا؟؟
میرا ایک قریبی کزن اپنی بیوی کو چھوڑ کر پڑوسی کی بیوی کے پاس رہتا، بیسیوں بار پکڑا جا چکا ، حتی کہ
Forwarded from چینل صدائے حق
اسکا شوہر نکل گیا وہا
ں سے اور وہ نکاح کے بغیر وہاں اسکے پاس رہتا ہے، اپنی بیوی بنا کے رکھا ہواہے، کوئی پوچھنے والا نہیں اسے،
مگر میں جب لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کا تقاضا ہے دو دو تین تین نکاح کرو تو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جاتاہے
اور دوسری طرف اگر کوئی اللہ سے ڈرنے والا ،کوئی تقوی رکھنے والا ،
جس نے ساری زندگی خود کو بدکاری سے ، بے حیائی سے بچا کر رکھا، اللہ سے ڈرتا رہا ،وہ اگر
دوسری شادی کا نام لے دے تو لوگ کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، گھر والے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی گناہ کا کام کرنے لگا ہو!!طعنے دیے جاتے ہیں کہ بس یہ ایک سنت یاد ہے ،
مولویوں کو آگ لگی ہوتی ہے!!!
اوہ بھائی کیوں نا لگے آگ؟؟؟
کیا کرے وہ؟؟
حرام نہیں چاہتا تو کیا حلال رستہ بھی چھوڑ دے؟؟
اللہ نے اسکی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے!!
اور خدا کی فطرت کو آپ بدل نہیں سکتے!
خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ایک سے زائد عورتوں سے تعلق مرد کی فطرت میں اللہ نے رکھا ہے،
اور یہ فطرت آپ تبدیل نہیں کر سکتے!!
ہاں یہ ہے کہ انصاف اور ظلم کا راگ الاپ کر آپ اس مرد کو حلال سے حرام کا رستہ دکھا سکتے ہیں جو دکھایا جا رہا آج کل،
اس میں نا صرف عورتیں اپنے شوہر کی دنیا و آخرت برباد کرتی بلکہ، اپنی زندگی بھی برباد کر لیتی،
بچوں کی تربیت پر برا اثر،
والدین کو الگ پریشانی،
اور آپکی اپنی ہمنوا عورت ذات
کی بے نکاحی عورتوں کو شوہر ملنے کی بجائے کوٹھا ملتاہے، زہر کا پیالہ ملتاہے
بچپن سے سپنوں کے شہزادے کا خواب دیکھنی والی اس صنف نازک کو آپکے انصاف انصاف کی ضد کی وجہ سے شہزادے کی بجائے سفید بال ملتےہیں،
بابا کی شرمندگی کے آنسو ملتےہیں
اور ماں کی بے بسی ملتی ہے
بیوہ اور طلاقِ یافتہ بیچاری والدین کے گھروں میں کڑھ کڑھ کر مرتی ہیں کوئی انکا سہارا نہیں بنتا،..!
کنوارا مرد ان سے کرتا نہیں اور شادی شدہ کو بیوی دوسری شادی کرنے نہیں دیتی،
لہذا وہ بیچاری ساری زندگی ماں باپ اور بھائیوں کے طعنے سنتے گزار دیتی ہیں،
خدا کی قسم!!!!
آپ نہیں جانتے زمانے میں کتنا دکھ صرف اس ایک وجہ سے ہے،
نا میں بیان کر سکتا ہوں نا آپ سن سکتے ہیں!!!
بس یوں سمجھ لیں ایک معصوم لڑکی کی خواہشوں کو چور کرنے کے پیچھے،۔سپنوں کو توڑنے کے پیچھے،۔ گھر بیٹھے بوڑھی ہونے کے پیچھے، کوٹھے کی زینت بننے کے پیچھے، زہر کا پیالا پینے کے پیچھے،
گھر کی دہلیز پھلانگنے کے پیچھے،
ایک باپ کا سولی پر لٹکنے کے پیچھے ، ایک ماں کی ممتا مرنے کے پیچھے،
ایک نیک شخص کے بدکار بننے کے پیچھے،
ایک خاندان لٹنے کے پیچھے!!!!
خدا کی قسم سب سے بڑا ہاتھ ان خواتین کا ہے جو انصاف انصاف کہہ کر مرد کو دوسری، تیسری شادی سے دور کر کے یہ سارے گناہ کرواتی ہیں،
میں جذبات میں نہیں!!
واللہ اپنے دس برسوں کے مطالعہ کی بنیاد پر کہہ رہا،میرا واسطہ بہت سارے لوگوں سے ہے،
میں حقائق کی بنیاد پر کہہ رہا،
خدارا!!
اس سوچ کو بدلیں!!!
دل کرتا ہے اس موضوع پر اتنا لکھوں کہ میرے ہاتھوں کی انگلیوں گھس گھس ختم ہو جائیں، اور شائید کہ لوگوں کے دل میں اتر جائے میری بات.!!!😔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور سیدھے راستے پر چلنے کیu توفیق دے،
آمین ثم آمین۔
*اہلِ قلم *
ں سے اور وہ نکاح کے بغیر وہاں اسکے پاس رہتا ہے، اپنی بیوی بنا کے رکھا ہواہے، کوئی پوچھنے والا نہیں اسے،
مگر میں جب لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کا تقاضا ہے دو دو تین تین نکاح کرو تو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جاتاہے
اور دوسری طرف اگر کوئی اللہ سے ڈرنے والا ،کوئی تقوی رکھنے والا ،
جس نے ساری زندگی خود کو بدکاری سے ، بے حیائی سے بچا کر رکھا، اللہ سے ڈرتا رہا ،وہ اگر
دوسری شادی کا نام لے دے تو لوگ کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، گھر والے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی گناہ کا کام کرنے لگا ہو!!طعنے دیے جاتے ہیں کہ بس یہ ایک سنت یاد ہے ،
مولویوں کو آگ لگی ہوتی ہے!!!
اوہ بھائی کیوں نا لگے آگ؟؟؟
کیا کرے وہ؟؟
حرام نہیں چاہتا تو کیا حلال رستہ بھی چھوڑ دے؟؟
اللہ نے اسکی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے!!
اور خدا کی فطرت کو آپ بدل نہیں سکتے!
خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ایک سے زائد عورتوں سے تعلق مرد کی فطرت میں اللہ نے رکھا ہے،
اور یہ فطرت آپ تبدیل نہیں کر سکتے!!
ہاں یہ ہے کہ انصاف اور ظلم کا راگ الاپ کر آپ اس مرد کو حلال سے حرام کا رستہ دکھا سکتے ہیں جو دکھایا جا رہا آج کل،
اس میں نا صرف عورتیں اپنے شوہر کی دنیا و آخرت برباد کرتی بلکہ، اپنی زندگی بھی برباد کر لیتی،
بچوں کی تربیت پر برا اثر،
والدین کو الگ پریشانی،
اور آپکی اپنی ہمنوا عورت ذات
کی بے نکاحی عورتوں کو شوہر ملنے کی بجائے کوٹھا ملتاہے، زہر کا پیالہ ملتاہے
بچپن سے سپنوں کے شہزادے کا خواب دیکھنی والی اس صنف نازک کو آپکے انصاف انصاف کی ضد کی وجہ سے شہزادے کی بجائے سفید بال ملتےہیں،
بابا کی شرمندگی کے آنسو ملتےہیں
اور ماں کی بے بسی ملتی ہے
بیوہ اور طلاقِ یافتہ بیچاری والدین کے گھروں میں کڑھ کڑھ کر مرتی ہیں کوئی انکا سہارا نہیں بنتا،..!
کنوارا مرد ان سے کرتا نہیں اور شادی شدہ کو بیوی دوسری شادی کرنے نہیں دیتی،
لہذا وہ بیچاری ساری زندگی ماں باپ اور بھائیوں کے طعنے سنتے گزار دیتی ہیں،
خدا کی قسم!!!!
آپ نہیں جانتے زمانے میں کتنا دکھ صرف اس ایک وجہ سے ہے،
نا میں بیان کر سکتا ہوں نا آپ سن سکتے ہیں!!!
بس یوں سمجھ لیں ایک معصوم لڑکی کی خواہشوں کو چور کرنے کے پیچھے،۔سپنوں کو توڑنے کے پیچھے،۔ گھر بیٹھے بوڑھی ہونے کے پیچھے، کوٹھے کی زینت بننے کے پیچھے، زہر کا پیالا پینے کے پیچھے،
گھر کی دہلیز پھلانگنے کے پیچھے،
ایک باپ کا سولی پر لٹکنے کے پیچھے ، ایک ماں کی ممتا مرنے کے پیچھے،
ایک نیک شخص کے بدکار بننے کے پیچھے،
ایک خاندان لٹنے کے پیچھے!!!!
خدا کی قسم سب سے بڑا ہاتھ ان خواتین کا ہے جو انصاف انصاف کہہ کر مرد کو دوسری، تیسری شادی سے دور کر کے یہ سارے گناہ کرواتی ہیں،
میں جذبات میں نہیں!!
واللہ اپنے دس برسوں کے مطالعہ کی بنیاد پر کہہ رہا،میرا واسطہ بہت سارے لوگوں سے ہے،
میں حقائق کی بنیاد پر کہہ رہا،
خدارا!!
اس سوچ کو بدلیں!!!
دل کرتا ہے اس موضوع پر اتنا لکھوں کہ میرے ہاتھوں کی انگلیوں گھس گھس ختم ہو جائیں، اور شائید کہ لوگوں کے دل میں اتر جائے میری بات.!!!😔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور سیدھے راستے پر چلنے کیu توفیق دے،
آمین ثم آمین۔
*اہلِ قلم *
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Bilal Khan
مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام کریں ( بشرطِ استطاعت)۔ ورنہ آنے والی نسل میں ایک بڑی تعداد مطلقہ، بیوہ اور بوڑھی عمر کی کنواری اور غیر شادی شدہ۔ مسلمان عورتوں کی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک انتہائی خطرناک پہلو یہ بھی پیش نظر رہے کہ زنا و بدکاری میں اضافہ بھی ہو گا۔
نکاح کو ہند و پاک کے معاشرے یا رواج کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور عمل صحابہ علیہم الرضوان کی روشنی میں دیکھا جائے۔
گزارش: اس سنجیدہ نوعیت کے مسئلہ کو ہرگز مذاق نہ سمجھا جائے بلکہ مسلمان بیٹیوں کی پریشان کن حالت پر غور کیجیے۔
افتخار الحسن رضوی
نکاح کو ہند و پاک کے معاشرے یا رواج کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور عمل صحابہ علیہم الرضوان کی روشنی میں دیکھا جائے۔
گزارش: اس سنجیدہ نوعیت کے مسئلہ کو ہرگز مذاق نہ سمجھا جائے بلکہ مسلمان بیٹیوں کی پریشان کن حالت پر غور کیجیے۔
افتخار الحسن رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چار شادیاں کرنے کا آسان طریقہ
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Husain
مسلم خواتين ضرور پڑھیں
--------------------------
★ *ایک گمنام بہن کا درد بھرا خط*
*{{اس خط میں جو حقائق لکھے گئے ہیں اس کی افادئت عام اذہان تک پہنچانے کے لئے اس نامہ بر کو من و عن ترسیل کررہے ہیں ابن بھٹکلی }}*
*تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا.... اےآپ کو مردکہنے والو ! "اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو."*عربی مقولہ
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعده ہوش وحواس صحیح لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امهات المؤمنين رضى الله عنهن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میر اشوہر ایسا ایسا ہو گا۔ ہم مل جل کر ایسے رہیں گے پھرہمارے بچے ہوں گے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کریں گے وغیرہ وغیرہ اور *میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنے والے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی* اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کرو ادیتی۔
اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا۔ یا اللہ ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی اور مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ *بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔* خوشی يا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔
*جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔*
وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ا یک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گهر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابهی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نےکچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنےسے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پت
--------------------------
★ *ایک گمنام بہن کا درد بھرا خط*
*{{اس خط میں جو حقائق لکھے گئے ہیں اس کی افادئت عام اذہان تک پہنچانے کے لئے اس نامہ بر کو من و عن ترسیل کررہے ہیں ابن بھٹکلی }}*
*تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا.... اےآپ کو مردکہنے والو ! "اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو."*عربی مقولہ
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعده ہوش وحواس صحیح لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امهات المؤمنين رضى الله عنهن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میر اشوہر ایسا ایسا ہو گا۔ ہم مل جل کر ایسے رہیں گے پھرہمارے بچے ہوں گے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کریں گے وغیرہ وغیرہ اور *میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنے والے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی* اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کرو ادیتی۔
اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا۔ یا اللہ ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی اور مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ *بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔* خوشی يا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔
*جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔*
وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ا یک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گهر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابهی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نےکچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنےسے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پت
Forwarded from Husain
ہ تھا کہ آپ کبھی بھی دوسری شادی والے مرد کو قبول نہیں کریں گی۔ آپ تو دوسری شادی کرنے والوں کے سخت خلاف ہیں.. میں نے کہا نہیں بھائی نہیں! اب وہ بات نہیں ! جب سے میں نے بھابهی جان کے پاس قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے،سیرت نبوی پڑھی ہے تو قرآن وحدیث کے نور سے میرے دماغ کی گرہیں کھلنا شروع ہوئیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں ،اب تو میں کسی مرد کی دوسری کیا تیسری یا چوتھی بیوی بننے کیلئے بھی خوشی سےتیار ہوں اور میں نے جو اب تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی اس پر میں استغفار کرتی ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جیسے میں نے پہلے اس حکم کی مخالفت کی اب اس حکم کو جہاں تک میرے بس میں ہے پھیلاؤں۔
اس لیے آپ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہی ہوں ما شاء اللہ آپ کا ماہنامہ کثیر الاشاعت اسلامی رسالہ ہے اور اس میں آپ نے نکاح آسان تحریک کا شعبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ *اللہ کی قسم ! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور صلى الله عليه وسلم اور صحابہ رضى الله عنهم کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ ، بیوہ ، غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کا شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔*
اللہ کرے میری یہ تحریر اللہ کے اس حکم کے زندہ ہونے کا ذریعہ بن جائے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاید میری یہ کاوش میرے اس سخت گناہ کی بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری : *ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ کَرِهوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ...*
ترجمہ : *یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے( بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔*
اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے *میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو ، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لے کر آئے گی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتايا ہے۔*
اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ *ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنےکے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟ کیا حکومت انہیں شاباش دے گی؟ اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت۔ اب اسے کیا کہا جائے گا۔ کہیں اس معاملے میں آپ کے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا !*
عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ قال الله تعالیٰ: *فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ...*
*قرآن کریم میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آرہا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔*
*جب آپ اپنے ملاز م کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور صلى الله عليه وسلم ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضى الله عنهم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے۔*
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ
اس لیے آپ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہی ہوں ما شاء اللہ آپ کا ماہنامہ کثیر الاشاعت اسلامی رسالہ ہے اور اس میں آپ نے نکاح آسان تحریک کا شعبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ *اللہ کی قسم ! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور صلى الله عليه وسلم اور صحابہ رضى الله عنهم کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ ، بیوہ ، غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کا شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔*
اللہ کرے میری یہ تحریر اللہ کے اس حکم کے زندہ ہونے کا ذریعہ بن جائے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاید میری یہ کاوش میرے اس سخت گناہ کی بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری : *ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ کَرِهوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ...*
ترجمہ : *یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے( بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔*
اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے *میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو ، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لے کر آئے گی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتايا ہے۔*
اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ *ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنےکے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟ کیا حکومت انہیں شاباش دے گی؟ اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت۔ اب اسے کیا کہا جائے گا۔ کہیں اس معاملے میں آپ کے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا !*
عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ قال الله تعالیٰ: *فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ...*
*قرآن کریم میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آرہا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔*
*جب آپ اپنے ملاز م کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور صلى الله عليه وسلم ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضى الله عنهم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے۔*
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ
Forwarded from Husain
جلوس کی شکل میں نکل کر مردوں کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہہ رہی تھیں : *تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا .... کہ اے مردو ! اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو..*
*ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها میں(نعوذ باللہ) کیا کمی تھی کہ آپ نے ان کے بعد اتنے نکاح فرمائے۔*
اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کو *اللہ تعالیٰ نے شوہر کی نعمت سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بغیر نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بغیر نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کی وجہ سےگناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنیے۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے..*
*آپ بھی حضرت عائشه رضى الله عنها کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آپ کا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے اپنی استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کرنے کا ذریعہ بنيے۔ اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو !* *خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو پھر آپ پر کیا بیتے گی؟*
ذرا سوچيے ! *حديث کى رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتےجب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہيں وه هى دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگيں۔ لهذا جیسے آپ کو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کے لیے بھی یهی پسند کیجيے اور اگر اس سلسلے میں آپ کو کوئی قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیليے قبول کیجيے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجيے۔ میری پیاری بہنو ! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیليے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ تعالیٰ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ ان کا اندزہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آ پ کو اس سلسلے میں آنے والی تمام مشکلات، مشقتوں اور تکلیفوں کو بھلا دے گی۔*
*میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔*
ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں :
*ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت کرنا آسان ہوسکتا ہے۔*
*سوکن بن کر رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیليے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔*
*پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ھی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔*
*اس کے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کرے گا تو اس طرح آپ
*ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها میں(نعوذ باللہ) کیا کمی تھی کہ آپ نے ان کے بعد اتنے نکاح فرمائے۔*
اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کو *اللہ تعالیٰ نے شوہر کی نعمت سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بغیر نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بغیر نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کی وجہ سےگناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنیے۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے..*
*آپ بھی حضرت عائشه رضى الله عنها کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آپ کا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے اپنی استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کرنے کا ذریعہ بنيے۔ اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو !* *خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو پھر آپ پر کیا بیتے گی؟*
ذرا سوچيے ! *حديث کى رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتےجب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہيں وه هى دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگيں۔ لهذا جیسے آپ کو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کے لیے بھی یهی پسند کیجيے اور اگر اس سلسلے میں آپ کو کوئی قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیليے قبول کیجيے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجيے۔ میری پیاری بہنو ! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیليے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ تعالیٰ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ ان کا اندزہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آ پ کو اس سلسلے میں آنے والی تمام مشکلات، مشقتوں اور تکلیفوں کو بھلا دے گی۔*
*میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔*
ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں :
*ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت کرنا آسان ہوسکتا ہے۔*
*سوکن بن کر رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیليے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔*
*پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ھی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔*
*اس کے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کرے گا تو اس طرح آپ
Forwarded from Husain
خود کشی اور غلط راستوں پر چلنے والی مجبور بہنوں کو حلال راستہ فراہم کرنے کا ثواب پاسکتی ہیں۔*
*اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کر کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو اس میں پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں امورِ خدمت انجام دینا آسان ہوجاتے ہیں*
*چونکہ میں نے اس خط کے ساتھ نام پتہ نہیں لکھنا تھا اس لیے کھل کر لکھا ہے اور میں نے ان لڑکیوں اور خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے جو میری طرح اس بے نکاحی زندگی کے کرب وعذاب میں مبتلا ہیں.. میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سےسمجھيے.. آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آج کل ان جدید آلات کے ذریعے معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اللہ کے لیے تمام رسوم ورواج( جو خود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں اکثر رسم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجيے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجيے ۔ یہ تو حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو ... چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کے ليے اور لڑکی والے لڑکے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجيے اور دیکھيے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ ومن یتوکل علی الله فھوحسبه*
فقط و السلام
آپ کی گمنام بہن
*اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کر کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو اس میں پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔*
*زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں امورِ خدمت انجام دینا آسان ہوجاتے ہیں*
*چونکہ میں نے اس خط کے ساتھ نام پتہ نہیں لکھنا تھا اس لیے کھل کر لکھا ہے اور میں نے ان لڑکیوں اور خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے جو میری طرح اس بے نکاحی زندگی کے کرب وعذاب میں مبتلا ہیں.. میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سےسمجھيے.. آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آج کل ان جدید آلات کے ذریعے معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اللہ کے لیے تمام رسوم ورواج( جو خود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں اکثر رسم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجيے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجيے ۔ یہ تو حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو ... چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کے ليے اور لڑکی والے لڑکے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجيے اور دیکھيے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ ومن یتوکل علی الله فھوحسبه*
فقط و السلام
آپ کی گمنام بہن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
👈 *اپنی زندگی اپنے لئے جیئے* 👉
ایک فوٹو گرافر نے اپنی دکان کے باہر بورڈ لگایا ہوا تھا۔ جس پر درجہ ذیل 3 تحریریں لکھی ھوئی تھیں۔
20 روپے میں آپ جیسے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں۔
30 روپے میں آپ جیسا سوچتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں-
اور
50 روپے میں آپ لوگوں کے سامنے جیسے دِکھنا چاہتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں!
مرتے وقت اس فوٹو گرافر نے بتایا کہ مجھ سے ہمیشہ لوگوں نے 50 روپے والی فوٹو بنوائی ھے۔۔۔
*----------------------*
اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ( اکثر ) لوگ پوری زندگی دوسروں کو دکھانے کے لئے گزاردیتے ہیں۔
ساری زندگی دکھاوا کرتے ہیں۔
اور
20 روپے والی زندگی نہیں گزارتے!!
آپ جیسے بھی ھیں ، بہت اچھے ھیں۔
20 روپے والی زندگی گزاریں
اور
خوش رہیں۔۔۔۔
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
ایک فوٹو گرافر نے اپنی دکان کے باہر بورڈ لگایا ہوا تھا۔ جس پر درجہ ذیل 3 تحریریں لکھی ھوئی تھیں۔
20 روپے میں آپ جیسے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں۔
30 روپے میں آپ جیسا سوچتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں-
اور
50 روپے میں آپ لوگوں کے سامنے جیسے دِکھنا چاہتے ہیں ، ویسی فوٹو بنوائیں!
مرتے وقت اس فوٹو گرافر نے بتایا کہ مجھ سے ہمیشہ لوگوں نے 50 روپے والی فوٹو بنوائی ھے۔۔۔
*----------------------*
اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ( اکثر ) لوگ پوری زندگی دوسروں کو دکھانے کے لئے گزاردیتے ہیں۔
ساری زندگی دکھاوا کرتے ہیں۔
اور
20 روپے والی زندگی نہیں گزارتے!!
آپ جیسے بھی ھیں ، بہت اچھے ھیں۔
20 روپے والی زندگی گزاریں
اور
خوش رہیں۔۔۔۔
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
آج بعد عشا کی نششت میں، مناظر اعظم،فقیہ النفس،حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب نے موجودہ دور میں علم و تحقیق، حکمت و بصیرت سے خالی ناقلین (مفتیوں) پر نقد کرتے ہوئے امام نووی کی شرح المھذب کے حوالے سےحضرت عبد اللہ ابن عباس کے طرز افتا کا ذکر فرمایا کہ: وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟
چنانچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے کچھ دیر توقف فرمانے کے بعد جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا، آپ کے شاگردوں نے مسئلہ نوٹ کر لیا، دو یا تین مہینے بعد اسی سوال کو لے کر دوسرا شخص آیا آپ نے کچھ دیر تک توقف فرمایا، سائل کی نفسیات کا جائزہ لیا اور کہا ہاں توبہ قبول ہے،
شاگردوں نے حضرت ابنِ عباس سے عرض کیا کہ : حضرت! تقریباً دو تین مہینے قبل نے آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوتی، اور آج آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
آپ نے فرمایا کہ پہلے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو وہ مجھے کافی غصے میں نظر آیا جس سے اندازہ لگا کہ یہ ضرور کسی سے لڑ، جھگڑ کر میرے پاس آیا ہے اگر میں نے اسے قبولیت توبہ کی امید دلائی تو یہ واپس جا کر اس کا قتل کر دے گا پھر توبہ کے ذریعے اپنی معافی چاہے گا، اسے قتل سے بچانے کے لیے میں نے اس وقت عدم قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا تھا۔
دوسرے سائل کا جب میں نے بہ غور جائزہ لیا تو اس کے چہرے اور گفتگو سے ندامت جھلک رہی تھی گویا اس سے قتل کی خطا واقع ہو چکی تھی اگر میں نے قبولیت توبہ کی امید نہ دلائی ہوتی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہوجاتا اور مزید قتل و غارت گری میں ملوث ہو جاتا، اس کے اسلام کی حفاظت اور اسے گناہ سے بچانے کے لیے میں نے قبولیت توبہ کا فتویٰ دیا۔۔۔۔
پھر مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ آج لوگ مفتی بنے بیٹھے ہیں مگر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کون سا فتویٰ کب دینا ہے، ایک مفتی کے لیےاحوال زمانہ، مقتضائے حال اور مستفتی کی نفسیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔
منظر محسن
نزیل جامعہ نوریہ شام پور، راے گنج، اتر دیناج پور بنگال
25 جون 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM