🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from چینل صدائے حق
ایک بیوی والوں کی خدمت میں؛ یہ مزاح تو ہے ہی لیکن بہت گہرا میسج بھی ہے۔
--------------------------------------------------------------------------------
ابن عباد کہتے ہیں کہ میں کئی ایک ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو کہ لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے ہیں تو جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے کہ فلاں شخص فوت ہو گیا اور اس کے نیچے فلاں فلاں تھی یعنی اس کی بیویاں [مات وكانت تحته فلانة وفلانة]۔ لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے کہ جس کی ایک ہی بیوی ہوتی تھی تو یوں لکھتے تھے کہ فلاں شخص فوت ہو گیا اور اس کے اوپر فلاں تھی یعنی بیوی [مات وترك فوقه فلانة]۔ اس قول کا خلاصہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں ایک بیوی عام ہو جائے وہ عورتوں کا معاشرہ ہے، مردوں کا نہیں، بنایا ہوا بھی اور چلایا ہوا بھی۔

ابن سینا کہتے ہیں کہ جس کی ایک ہی بیوی ہو، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اسے ہڈیوں، کمر، گردن اور جوڑوں کے درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے، محنت کم ہو جاتی ہے، ہنسی اڑ جاتی ہے اور وہ شکوے اور شکایات کا گڑھ بن جاتا ہے یعنی ہر وقت شکوے شکایات ہی کرتا نظر آئے گا۔ قاضی ابو مسعود کہتے ہیں کہ جس کی ایک بیوی ہو، اس کے لیے لوگوں کے مابین فیصلے کرنا جائز نہیں یعنی اس کا قاضی بننا درست نہیں [کہ ہر وقت غصے کی حالت میں ہو گا اور غصے میں فیصلہ جائز نہیں]۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور وفکر کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے۔

ابن میسار کہتے ہیں کہ اس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی کہ جس کی بیوی ایک ہو۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا کہ بصرہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کی ایک ہی بیوی ہے۔ تو مامون الرشید نے کہا کہ وہ مرد نہیں ہیں۔ مرد تو وہ ہیں کہ جن کی بیویاں ہوں۔ اور یہ فطرت اور سنت دونوں کے خلاف چل رہے ہیں۔ ابن یونس سے کہا گیا کہ یہود و نصاری نے تعدد ازواج یعنی ایک زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا۔ انہوں نے جواب دیا، اس لیے کہ اللہ عزوجل ذلت اور مسکنت کو ان کا مقدر بنانا چاہتے تھے۔

ابو معروف کرخی سے سوال ہوا کہ آپ کی ان کے بارے کیا رائے ہیں جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں لیکن ایک بیوی رکھنے کے قائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زاہد نہیں بلکہ مجنون ہیں۔ یہ ابوبکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنہم کے زہد کو نہیں پہنچ سکے۔ ابن فیاض سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا کہ جن کی ایک ہی بیوی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ مردہ ہیں، بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں۔ والی کرک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ اللہ عزوجل نے سفہاء یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا ہے [کہ وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں]۔

ابن عطاء اللہ نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں کہ جنہوں نے اپنے بڑوں کی سنت کو چھوڑ دیا یعنی صحابہ کی سنت کو۔ حصری کہتے ہیں کہ جب اللہ نے شادی کا حکم دیا تو دو سے شروع کیا۔ اور ایک کی اجازت ان کو دی جو خوف میں مبتلا ہوں۔ تقی الدین مزنی سمرقند کے فقیہ بنے تو ان کو بتلایا گیا کہ یہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ کیا وہ مسلمان ہیں؟ پھر اہل شہر کو وعظ کیا تو اگلے چاند سے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئیں اور شہر میں کوئی کنواری، مطلقہ اور بیوی نہ رہی۔

ڈس کلیمر؛ پوسٹ سے موٹیویٹ ہو کر کچھ کرنے والوں کے لیے نکلنے والے نتائج پر کمپنی ذمہ دار نہیں ہو گی۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*جان لو قسم کی تین قسم ہے*
یمین (قسم)
یمین غموس
یمین لغو
یمین منعقدہ
جب بھی کوئی قسم کھائے تو دیکھا جائے گا کہ اس نے کونسی قسم کھائی ہے پھر مسائل بتانے چاہیے
بعض لوگ قسم کھاتے ہیں غیر خدا کی قسم کھاتے ہیں مثلاً آپ کے سر کی قسم. میری ماں کی قسم. آپکی قسم. وغیرہ اسکے بارے میں بہار شریعت میں ہے
*غیر خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعا قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں۔*


*یمین غموس*: کسے کہتے ہیں؟

کسی گذشتہ کام کے متعلق جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا مثلا قسم کھائی کہ فلاں شخص آگیا ہے حالانکہ وہ ابھی تک نہیں آیا اسے غموس کہتے ہیں
اس کا حکم یہ ہے کہ
*غموس میں سخت گنہگار ہوا استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں*

یمین غموس کے متعلق امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان
*یمین غموس مال کو زائل کردیتی ہے اور آبادی کو ویرانہ کردیتی ہے*
----------------------------

قسم دوم *یمین لغو* :
آدمی گزشتہ زمانے میں کسی کام کے ہونے کی قسم کھائے اور اس کا گمان یہ ہو کہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے جبکہ امر اس کے خلاف ہو ، یعنی اپنے گمان میں سچی قسم کھائے مگر حقیقت میں جھوٹی ہو اسے یمین لغو کہتے ہیں

*یمین لغو میں نہ گناہ ہے اور نہ ہی کفارہ*
-----------------------
قسم سوم *یمین منعقدہ* :
آنے والے زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانا
*مثلا* قسم کھائی کہ میں یہ کام کروں گا
یہ منعقدہ ہے.
*اب اگر منعقدہ کو توڑے گا تو کفارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گناہ گار بھی ہوگا*


📝 حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین
8485880123
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قسم کا کفارہ
قال الإمام: قسم کا کفارہ لازم ہوگا کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو جوڑے (کپڑے کے) دے یا دس مسکینوں کو فی مسکین ایک صاع جَو یا نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت دے الخ. اور جس سے یہ نہ ہوسکے وہ تین روزے رکھے۔ (فتاوی رضویہ، ٥٠٧/١٣).
وقال: اور کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو متوسط کھانا یا کپڑا دینا جو تین مہینہ سے زیادہ چلے اور سب بدن ڈھک لے، اور جو کچھ نہ ہوسکے تو متواتر تین روزے رکھناہے. (فتاوی رضویہ، ٤٩٩/١٣)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
सेक्स नॉलेज (पार्ट 13) सुहागरात (शबे ज़ुफाफ़) में लड़के और लड़की दोनों में डर, हेसिटेशन, हिचकिचाहट और एक घबराहट का होना आम बात है और ये भी होता है कि कुछ लोग बिल्कुल नहीं डरते। डरने वाला मामला अक्सर अरेंज मेरिज में होता है क्योंकि लड़का और लड़की एक दूसरे से अंजान…
सेक्स नॉलेज (पार्ट 14)

हम यहाँ इस की तफ़सील में नहीं जायेंगे कि लव और अरेंज में क्या अच्छा और क्या बुरा है लेकिन इतना ज़रूर कहेन्गे कि अरेंज मेरिज ही बेहतर है और लव मेरिज वो बेहतर है जिस में प्यार होते ही निकाह कर किया जाये।

प्यार होने के बाद प्रपोस करना, मिलना, बातें करना, तोहफ़े देना और घूमने फिरने फिर लास्ट में भाग जाने का जो प्रोसेस है वो बिल्कुल गलत है, ऐसा करने वाले खुश नहीं रहते और इसी तरह अरेंज मेरिज में शादी होने से पहले फोन पर बातें, चेटिंग, घूमना फिरना और बाज़ अवक़ात पहले ही रिलेशन बना लेने का जो प्रोसेस है वो भी बिल्कुल गलत है, ऐसा करने वाले भी अच्छे नहीं हैं।

सिम्पल ये जान लें कि या तो अरेंज करें यानी अस्ली अरेंज या फिर असली लव मेरिज यानी प्यार हुआ और निकाह।

अब चलते हैं वापस पहली रात की तरफ के इस स्टेज को पार किस तरह किया जाये कि मियाँ बीवी में मुहब्बत बढ़े और दोनों एक दूसरे के बारे में बदगुमानी से बच जायें।

सबसे पहले लड़कों को चाहिये कि सुकून और अदब से काम लें क्योंकि जल्दी का काम शैतान का होता है।
सुहागरात में जब आप कमरे में दाखिल हों तो अपनी बीवी को सलाम करें और अगर वो कर दे तो जवाब दें (वैसे लड़के को पहले करने का ज़्यादा मौक़ा मिलता है।)

सलाम करने से ये ना सोचें कि आप की इज़्ज़त उसकी नज़र में कम हो जायेगी या आप की वेल्यू गिर जायेगी।
जो ऐसा समझते हैं कि मै मर्द हूँ, मै आक़ा हूँ यो मै क्यों सलाम करूँ! उन्हें जान लेना चाहिये कि सलाम करने से कोई छोटा या बड़ा नही हो जाता बल्कि इस से इज़्ज़त मज़ीद बढ़ जाती है।

जारी है.......

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
Sex Knowledge (Part 14)

Hum Yahan Is Ki Tafseel Mein Nahin Jayenge Ke Love Aur Arrange Mein Kya Achha Aur Kya Bura Hai Lekin Itna Zaroor Kahenge Ke Arrange Marriage Hi Behtar Hai Aur Love Marriage Wo Behtar Hai Jis Mein Pyaar Hote Hi Nikah Kar Liya Jaaye

Pyaar Hone Ke Baad Propose Karna, Milna, Baatein Karna, Tohfe Dena Aur Ghoomne Phirne Phir Last Mein Bhaag Jaane Ka Jo Process Hai Wo Bilkul Ghalat Hai, Aisa Karne Waale Khush Nahin Rehte Aur Isi Tarah Arrange Mein Shadi Hone Se Pehle Phone Par Baatein, Chatting, Ghoomna Phirna Aur Baaz Awqaat Pehle Hi Relation Bana Lene Ka Jo Process Hai Wo Bhi Bilkul Ghalat Hai, Aisa Karne Waale Bhi Achhe Nahin Hain

Simple Ye Jaan Lein Ke Ya To Arrange Karein Yaani Asli Arrange Ya Phir Asli Love Marriage Yaani Pyaar Hua Aur Nikah

Ab Chalte Hain Waapas Pehli Raat Ki Taraf Ke Is Stage Ko Paar Kis Tarah Kiya Jaaye Ke Miya Biwi Mein Muhabbat Badhe Aur Dono Ek Dusre Ke Baare Mein Badgumani Se Bach Jaayein

Sabse Pehle Ladko Ko Chahiye Ke Sukoon Aur Adab Se Kaam Lein Kyunki Jaldi Ka Kaam Shaitan Ka Hota Hai
Suhagraat Mein Jab Aap Kamre Mein Dakhil Ho To Apni Biwi Ko Salam Karein Aur Agar Wo Kar De To Jawab Dein (Waise Ladke Ko Pehle Karne Ka Zyada Mauqa Milta Hai)

Salam Karne Se Ye Na Sochein Ke Aapki Izzat Uski Nazar Mein Kam Ho Jayegi Ya Aapki Value Gir Jayegi
Jo Aisa Samajhte Hain Ke Main Mard Hoon, Main Aaqa Hoon To Main Kyun Salam Karoon Unhein Jaan Lena Chahiye Ke Salam Karne Se Koi Chhota Ya Bada Nahin Ho Jaata Balki Isse Izzat Mazeed Badh Jaati Hai

Continue...

Abde Mustafa
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
عرسِ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ پر اَہم پیش کش....
*’’وَداعِ تاجُ الشریعہ‘‘*
مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی کے مشاہدات کا قلمی گلدستہ

اخترِ قادری خلد میں چل دیا
خلد وا ہے ہر اِک قادری کے لیے

ہاں! وہ خلد میں چَل دیے۔اہلِ سُنّت سوگوار ہو گئے۔ علم کی بزم سٗونی ہو گئی۔ تقویٰ کی بزم میں اُداسی چھا گئی۔ وہ کون ہیں جو دِلوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ جن کا تذکرہ ایمان کو تازگی عطا کرتا ہے۔ وہ عالمِ ربانی حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ جن کے وصال کے زخم ابھی بھی تازہ ہیں۔ دو سال کی مدت گزری؛ ان کے وصال کو۔ لیکن اب تک ہر اِک بزم میں چرچا اُنھیں کا ہے۔ اِس باب میں ہم آج مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) کے قلم سے مبارک تذکروں کی سوغات لُٹانے جا رہے ہیں۔

علامہ اعظمی اپنے مشاہدات سے کئی گُہرہاے علمیہ؛ تفقہ اور استقامت فی الدین کے قیمتی موتی نثار کر رہے ہیں؛ جن سے بزمِ سُنیّت میں نور پھیلا ہوا ہے۔ آپ مشاہدات کی اِن کڑیوں کو کتاب میں تلاش کیجیے؛ اِن شاء اللہ دل اور دماغ تازہ ہو جائیں گے۔ ایمان کی فصل ہری ہو جائے گی۔

علامہ قمرالزماں اعظمی تحریر فرماتے ہیں:

٭ خاندانِ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے کم و بیش ۲۰۰؍ سال تک برصغیر کے مسلمانوں کی علمی اور فکری، دینی اور سیاسی قیادت کا عظیم فریضہ انجام دیا۔

٭ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد حضرت تاج الشریعہ مطلع ہند پر علم و فضل کے آفتابِ عالمتاب بن کر جلوہ گر ہوئے اور تھوڑے ہی دنوں میں اربابِ علم و دانش نے اُن کی علمی عظمت اور عبقریت کو تسلیم کر لیا۔ انھوں نے بیک وقت تدریس، افتا، تصنیف و تالیف کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ملک اور بیرون ملک تبلیغی دَوروں اور بیعت و ارشاد کے ذریعے لاکھوں افراد کو تصلب فی الدین کی دولت سے مالا مال فرمایا۔

٭ ہندُستان اور بیرونِ ہند تبلیغی دَوروں کے ذریعے مسلک کی اشاعت فرمائی اور بیعت و ارشاد کے ذریعے ہزاروں مریدین اور سیکڑوں خلفا کی جماعت دُنیا کے حوالے کی، تقویٰ اور پرہیزگاری کے بلند مقام پر فائز ہوکر علما اور داعیانِ دین کے لیے نمونہ بن گئے،

٭ لندن کی تاریخی حجاز کانفرنس کے ضمن میں علامہ اعظمی لکھتے ہیں: ’’کانفرنس پورے شباب پر تھی کہ تاج الشریعہ ہال میں داخل ہوئے۔ ان کے حکم کے مطابق کیمرے بند کردیے گئے۔ کیمروں کی روشنی تو بند ہو گئی مگر علامہ ازہری کے چہرۂ پاک کی روشنی سے پورا ہال جگمگا اُٹھا۔ لوگ دیوانہ وار ان کی زیارت کے لیے اُٹھ اُٹھ کر شرف یابِ زیارت ہو رہے تھے۔اور دُنیا نے پہلی بار احتیاط اور تقویٰ کا یہ منظر دیکھا۔‘‘

٭ دورۂ امریکہ سے متعلق لکھتے ہیں: ’’امریکہ میں ٹیکساس اسٹیٹ کے مشہور شہر ہیوسٹن میں قادیانیوں نے قادیانیت کی تبلیغ کے لیے ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کیا اور شب و روز مسیلمۂ قادیاں غلام احمد کی باطل نبوت کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ اس صورتِ حال سے مسلمانانِ امریکہ بہت پریشان تھے، چنان چہ ہیوسٹن کی النور سوسائٹی نے قادیانیوں کے رَد کے لیے ایک عظیم الشان جلسہ کا اہتمام کیا، اور ہندُستان سے تاج الشریعہ اور محدث کبیر اور مجھ خاکسار کو مدعو کیا گیا۔ بحمداللہ! اس اجتماع کے بعد قادیانیوں کی تحریک انڈر گرائونڈ ہو گئی۔‘‘

٭ مکہ مکرمہ کی بہاروں میں شرفِ ملاقات کے ضمن میں علامہ اعظمی لکھتے ہیں: ’’حضرت؛ طوافِ زیارت کے بعد مقامِ ابراہیم پر نماز ادا کرنے کے لیے آئے تو عوام کا اتنا ہجوم ہوا کہ نجدی پولس نے عوام پر تشدد کیا۔ اس ہجوم میں عربی، مصری، ترکش، ہندی، پاکستانی سبھی شامل تھے، جو حضرت کی زیارت کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہجوم جب ذرا کم ہوا اور حضرت جب اپنے رفقا کے ہجوم میں اوپر تشریف لائے تو میں نے دست بوسی کا شرف حاصل کیا۔ انھوں نے گلے لگایا اور دُعاؤں سے نوازا۔‘‘

یہ اقتباسات ’’وَداعِ تاجُ الشریعہ‘‘ کے مختلف صفحات سے پیش کیے گئے۔ پوری کتاب مشاہدات کی آئینہ دار ہے۔حضور تاج الشریعہ کی تصانیف، تراجم، علمی رسوخ، عبقریب، تفقہ کی اِک جھلک دکھا دی ہے۔ ادبی بصیرت اور تدبر پر بھی روشنی ڈالی ہے- علامہ اعظمی نے اندھیروں میں اُجالا برپا کر دیا ہے۔ آپ بھی مشاہدات کے اِن اوراق کو ڈاؤن لوڈ کیجیے۔ اور ایک ایک لفظ پڑھ جائیے۔ اِن شاء اللہ دل روشن اور دماغ معطر ہوگا۔ نخلِ تمنا بار آور ہوگی۔ ایمان تازہ ہوگا۔ واضح رہے کہ 'نوری مشن مالیگاؤں' نے اِس خزینے کو ۱۰۹؍ویں اشاعت کے بطور ۲۰۱۹ء میں شائع کیا، جسے ہزاروں اہلِ علم نے توجہ سے پڑھا اور علامہ اعظمی کے مشاہدات سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ بھی اِسے پڑھ کر اپنے رہبر کے نقوش سے منزل تک کا سفر طے کریں۔
٭٭٭
(غلام مصطفیٰ رضوی)
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
۲۵؍جون ۲۰۲۰ء
وداع تاج الشریعہ عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ📖
@Aalaa_Hazrat_Library
علامہ قمر الزماں خاں اعظمی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
وَداعِ تاج الشریعہ .pdf
33.5 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
زبیر قادری دہلی:
*دوسری شادی پر ہماری سوچ اور انصاف کی شرط*

بہت حساس موضوع ہے لیکن ایسا لگا کہ شیئر کرنا چاہئے تو رسک لے رہا ہوں آپ حضرات بھی اپنی ذمہ داری پر پڑھیں اور کسی بھی ٹوٹ پھوٹ کی گروپ انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہو گی آپ سب کے لیے اور اپنے لیے دعاگو ہوں اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین

اللہ پاک نے ہر چیز کو فطرت پر پیدا فرمایا ہے! اور اسی فطرت پر یہ معاشرہ درست سمت میں چل سکتا ہے، لیکن جب جب کسی نے اس فطرت سے چھیڑ چھاڑ کی اس کو بدلنے کی کوشش تو معاشرے میں بگاڑ ہی پیدا ہوا ہے!!

اللہ پاک نے مرد و عورت کو بنایا،
اور انکی تکمیل و افزائش نسل کے لیے انکے جوڑے بنائے،

اور مزید مرد کی فطرت کے مطابق فرمایا
🌷فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع
(القرآن)
پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چار،

مگر ہمارے معاشرے میں قرآن کی اس آیت کا مذاق بنایا جاتا ہے، نا صرف مذاق بنایا جاتا ہے بلک اس آیت پر عمل کرنے والے کو طرح طرح کے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے،

🌷جبکہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں،
کہ اس امت کے بہترین مرد وہ ہیں جنکی بیویاں زیادہ ہیں،
(بخاری)

لیکن ہندوانہ معاشرے میں رہ رہ کر ہمارے ہاں ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ دوسری شادی گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے ،

دوسری شادی کا نام سن کر نا صرف پہلی بیمار اہلیہ بھلی چنگی ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے بلکہ رشتہ دار طعنے دے دے کر جینا دو بھر کر دیتے ہیں،

دوسری شادی کا نام لینے والے ایک حافظ صاحب بتلاتے ہیں کہ جب میں اپنے گاؤں میں گیا تو ان میں سے بعض پوری سنجیدگی سے کہتے تھے
’’حافظ جی! اساں تے تہانوں شریف آدمی سمجھدے ساں‘‘
(ہم تو آپ کو شریف آدمی سمجھتے تھے)

شور کوٹ میں ایک مدرسے کے شیخ الحدیث اور پیر صاحب جو کہ بیعت بھی لیتے تھے انہوں نے دوسری شادی کر لی تو کئی مریدوں نے بیعت توڑ دی ۔ ایک مریدنی نے خط لکھا کہ پہلے میں تہجد میں آپ کے لئے دعا کیا کرتی تھی اب بد دعا کرتی ہوں اور ایک سلجھا ہوا اور صاحب ثروت ڈاکٹر ان کے گھر میں راشن دیا کرتا تھا، اس نے راشن بند کر دیا ۔کئی دوسرے دوستوں نے قطع تعلقی کر لی،

میں ابھی اسی گزرے جمعہ کے دن رشتہ داروں کے گھر گیا تو انکے گاؤں میں ہی ایک ہماری فیملی سے ریلیٹڈ شخص نے دوسری شادی کر لی تھی، اور اچھا کھاتا پیتا بھی ہے، دوسری بیوی کو الگ گھر میں رکھا ہوا ہے،

مجھے پتا چلا کہ پورے خاندان نے اس بندے کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ بیچارہ ایک ماہ بعد ہی دوسری بیوی کو طلاق دینے پر مجبور ہو گیا ،مگر پھر عقل آئی تو واپس اسکو لے آیا اور اب پھر اسکی پہلی بیگم اور اسکے رشتے دار اسکو ذلیل و خوار کر رہے ہیں،
میں نے کہا یار کوئی خدا کا خوف کرو، اگر اس نے کر ہی لی ہے تو اسکو سپورٹ کرو، اور جینے دو، کوئی حرام کام تو نہیں کیا اس نے، نکاح کیا ہے،

لیکن اسے سمجھانے کی بجائے الٹا سب میرے گلے پڑنے لگے ،

یہ ایک دو واقعے نہیں اس جیسے بے شمار واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت اور دجالی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کے نصوص ، حدیث کی تصریحات ، انبیاء کے حالات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، قدیم اور جدید مشاہدات و تجربات اور عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے بلکہ اس مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے فوائد اور اس سے اعراض کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔
مانا کہ ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا مانا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی زبانیں کھلتی اور انگلیاں اٹھتی ہیں،
مانا کہ دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرنے والے کو عیاش اور شہوت پرست سمجھا جاتا ہے ،
مگر کیا محض رسم و رواج اور طعن و تشنیع کے ڈر سے اللہ اور رسول کے حکموں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ؟
خواہ اس کے نتیجے میں لاکھوں بیٹیاں بے نکاحی بیٹھی رہیں، بدکاری عام ہوتی رہے؟

کون نہیں جانتا کہ فطرتاً مرد تعدد پسند ہے ۔ اس کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بعض عرب ممالک میں ’’نکاح یسیر‘‘ کے جواز کی بات چل رہی ہے ۔ اہل مغرب نے مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ہر رات نئی عورت کے ساتھ گزار سکتے ہیں،
اور اس نئی عورت میں وہ رشتوں کا تقدس تک کھو چکے ہیں،
اس میں شک نہیں کہ اکثر مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں اور اس پر مطمئن رہتے ہیں مگر ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بے شمار ایسے بھی ہیں جو تعدد چاہتے ہیں شریعت انہیں اجازت بھی دیتی ہے مگر وہ پہلی بیوی یا اپنے خاندان اور معاشرے کے عام افراد کے طعنوں کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتے پھر یا تو دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ناجائز تعلقات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔،
اور میں نے بہت سے اسیے لوگوں کو دیکھا ہے جو بیوی اور معاشرے سے ڈرتےہیں شادی کا نام تو نہیں لیتے مگر زنا کرتے ہیں،

اسلام فطری اور جائز راستہ اختیار کرنے کی
Forwarded from چینل صدائے حق
تلقین کرتا ہے یعن

ی اپنی ضرورت و حالات کے مطابق دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرلو۔
دوسری،تیسری شادی اس وقت ضرورت بن چکی کہ جب،
57 فیصد شرح عورتوں کی ہے،
اور 43 فیصد مردوں کی،بوڑھے، بچے بھی شامل،
یہ تقریبا چار سال پرانا حساب ہے، ابھی تو اور بڑھ گئی ہو گی،
اس حساب سے آپ دیکھیں کہ 43 فیصد مرودں میں دس فیصد وہ لوگ ہونگے جو بیچارے ایک شادی کے قابل بھی نہیں یا کرتے نہیں یا اگر قابل بھی ہیں تو وہ ذمہ داری نبھا نہیں سکتے، طلاق دے دیتےہیں، اس 33 فیصد میں سے بچے نکالیں،
بوڑھے نکالیں،
پیچھے آپ حساب لگائیں کہ کتنی خواتین اضافی ہیں،
پاکستانی اخبار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ خواتین گھروں میں شادی کی منتظر ہیں اور تقریباً 40 لاکھ کنواری بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو گئی ہیں...
اگر ہر شخص انصاف نا کرنے کے ڈر سے ایک شادی کرے تو باقی خواتین کہاں جائیں؟؟

اور پھر اس بات پر حیرت ہوتی کہ لوگ بلکہ دین دار طبقہ بھی چور اچکوں، رشوت خوروں، بے نمازیوں، داڑھی منڈوں اور گمراہوں کو اپنی بیٹیاں دے دیتے ہیں مگر دیندار یا سلجھے لوگوں کو نہیں دیتے جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔

اور پھر نتائج بھی بھگتتے ہیں،

مردوں کی قلت کے باعث تو کئی ممالک میں دوسری شادی کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اور دوسرے ممالک کو چھوڑیں ابھی آپکے ملک پاکستان میں بھی کئی علاقے والوں نے باقاعدہ اسمبلی میں بل پیش کر دیا ہے کہ وہاں مرد کم ہو رہے ہیں، اور عورتیں زیادہ ہیں ، لہذا دوسری شادی کو لازم قرار دیا جائے اور جو دوسری شادی نا کرے گا وہ جیل جائے گا ،

لڑکیوں کے رشتے نا ہونے کی سب سے بڑی وجہ رشتے نا ملنا ہے،
میری قریب قریب فیملی میں تقریبا سو سے زیادہ بچیاں ہیں جنکی شادی رشتے نا ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار،
اور رشتے نا ملنے کی وجہ اچھا رشتہ نہیں، جو اچھے رشتےہیں وہ شادی شدہ ہیں،
اور شادی شدہ سے کرنی نہیں،
تو ںیٹھ بیٹھ کر بوڑھا ہوناہے،
کچھ والدین ہیں جو پڑھائی جیسے سبب کی وجہ سے غیر ذمےداری کا مظاہرہ کرتےہیں بچیوں کی شادی کے بارےمیں،
جبکہ اکثریت بیچاری رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی ہیں،

اور لڑکیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے ہی انکی تذلیل بھی کی جاتی ہے،
کہ جب رشتے عام ہوتے تو لڑکے دس دس بیس بیس لڑکیاں دیکھتے اور ناک چڑھاتے،
اور چھوٹی چھوٹی خامیاں نکال کر رشتے ٹھکرا دیے ہیں، جب لڑکیاں کم ہونگی ،رشتے کم ہونگے تو چاند جیسی بہو کی خواہش لیے ماؤں کو ہر طرح کی لڑکی پسند کرنا پڑے گی ،

مسائل جہیز کے، والدین کی سستی کے، پڑھائی کے، جاب کے، وغیرہ وغیرہ بہت ہیں،مگر ان سب سے بڑا مسئلہ دوسری شادی پر اعتراض ہے،

اور دوسری شادی پر اعتراض کا بہانہ انصاف ہے، کہ طرح طرح کی فضول دلیلیں گھڑنے اور بنانے کے بعد بھی جب راہ فرار نہیں ملتی تو ہر عورت کے پاس بس ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ مرد انصاف نہیں۔کرتے اس لیے ہم منع کرتی ہیں،

کیا انصاف نا کرنا دوسری تیسری شادی سے روکنے کی دلیل ہے؟؟

میں مانتا ہوں چند لوگ انصاف نہیں کرتے،

مگر کیا آج کے معاشرے میں صرف ایک شادی کرنے والا اپنی بیوی ساتھ انصاف کرتا ہے؟

تو ایک شادی والی کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ کہ تم انصاف تو کر نہیں سکتے لہذا شادی کیوں کر رہے ہو؟؟

یا کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ تم انصاف کرو گے یا نہیں؟
کیا شادی کے بعد عورتوں سے ناجائز تعلقات بنانا بیوی کے ساتھ بے انصافی نہیں؟

انکے خلاف کیوں نہیں انصاف کا کیس کیا جاتا؟؟
کیا ایک بیوی کےساتھ انصاف کرنا ضروری نہیں ہے؟؟
ہمارے معاشرے میں لاکھوں کیا کروڑوں لوگ پہلی شادی والے اپنی بیوی کے حقوق پورے نہیں کرتے، انصاف نہیں کرتے،
کئی لوگ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں،کئی لوگ تو کھانے پینے تک کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے، اور کئی لوگ تو دوجے تیجے مہینے ہی طلاق دے دیتےہیں،
کیا یہ عورت کے حقوق کی پامالی نہیں؟؟؟
کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
کوئی 18 سال میں بیوہ بن کے بیٹھی ہوتی ہےاور کوئی 20 سال میں،
کیا یہ بے انصافی نہیں؟
انکو انصاف کا کیوں نہیں کہا جاتا،،
کیوں ہم انصاف کا پابند صرف دوسری شادی والوں کو کرتے ہیں؟؟

اگر انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی ہے تو یہ پہلی والے انصاف کیوں نہیں کرتے؟؟
یہی تو ہماری غلط فہمی ہے،
انصاف نا کرنے کی وجہ دوسری شادی نہیں،
بلکہ انصاف نا کرنے کی وجہ دین سے دوری، تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے،
ہم اس تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کہ بجائے دوسری شادی کو بیچ میں کھینچ لاتے ہیں،
جبکہ ایک شادی والے بھی انصاف نہیں کرتے،
تو آپ جتنا زور اس بات پر دیتے ہیں کہ دوجی شادی نا کرو،
اتنا زور انصاف پر لگائیں، کہ بھائی دوجی شادی ضرور کرو، اور انصاف بھی ضرور کرو، شادی کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور انصاف کرنا ایک الگ مسئلہ ہے،

تو ہم انصاف پر ، توجہ کیوں نہیں دیتے، لیکچر کیوں نہیں دیتے،
کہ لوگو بیوی ایک ہو یا دو انصاف کو لازم پکڑو، یہ انصاف صرف بیوی کےساتھ نہیں اپنے ارد گرد ہر شخص ساتھ کیا جاتا ہے،
لہذا اس انصاف ک
Forwarded from چینل صدائے حق
ی تربیت لازم ہے،
اس

کو دوسری شادی کے ساتھ نتھی نا کریں،
انصاف کا معنی ہر کسی کو اسکا پورا حق دینا،بہن ہو بیٹی ہو ماں ہو بھائی ہو ،پڑوسی سب کے ساتھ انصاف کریں ،
جب شوہر کا حق نہیں ملے گا ، اسکے ساتھ انصاف نہیں ہو گا، کیا وہ انصاف کرے گا ؟
بالکل نہیں کرے گا،

کچھ لوگ انصاف کو دوسری شادی سے مشروط کرتے ہیں،
آپکو مثال دیتا ہوں،
مسجد میں بیٹھا شخص اذان ہونے کے باوجود بھی نماز نہیں پڑھتا، پوچھو تو کہتا ہے کہ جی وضو نہیں، جب وضو نہیں تو نماز کیسے پڑھوں؟ کیونکہ نماز کی شرط وضو ہے،
اور وضو کے بنا نماز نہیں!!
تو بھائی وضو کی شرط کس نے پوری کرنی ہے؟ فرشتوں نے تو وضو نہیں کروانا؟
وہ بھی تو نے کرنا ہےاٹھ وضو کر اور نماز پڑھ،

تو انصاف کی شرط بھی مرد نے پوری کرنی ہے اسے کہا جائے، ڈانٹا جائے، نصیحت کی جائے کہ بھائی شادی کرو اور ساتھ انصاف بھی قائم کرو،

میں نے بچوں کی تربیت پر ، والدین کی اطاعت پر، والدین کی سستیوں پر ،
ہر موضوع پر لکھا ہے، وہ سب مسائل اپنی جگہ ہیں،
مگر بے حیائی کی سب سے بڑی وجہ دوسری شادی کا مسئلہ ہے،
مرد کی فطری خواہش پوری نہیں ہوتی،
جسکی وجہ عورت کی کمزوری، فطری وظائف،کہ عورت سال میں اکثر اوقات شوہر کے قابل نہیں ہوتی، خاص کر بچوں وغیرہ میں پڑھ کر،

ایسی صورت میں جب شوہر بیوی سے دور ہے تو تقوی و ایمان سے بھرپور صحابہ کرام بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے کہ اللہ کے رسول ہمیں اجازت دیں ہم خصی ہو جائیں، کہ بیویاں پاس نہیں ہیں، گزارا مشکل ہے،
فرمایا نہیں جاؤ ، عارضی نکاح (معتہ)کر لو،
جو بعد میں حرام ٹھہرا،

اسی طرح بعض دفعہ عورت کی طرف کشش جو اللہ نے رکھی ہے مرد میں وہ کشش کسی وقت بھی لے ڈوبتی ہےمرد کو، خاص کر آج کل کے معاشرے میں جہاں بے پردگی عام ہے، کوئی عورت پسند آ جاتی ہے
یہ نظر پڑنا بھی فطرت ہے،
حدیث سنیے!
فرمایا جب بازار میں کسی عورت پر نظر پڑے تو بیوی کے پاس جاؤ، تو جس عورت کو دیکھا اسکی خواہش ختم ہو جائیگی،
اب اگر وہ گھر آئے اور بیوی اس قابل نا ہو تو؟؟ وہ کیا کرے؟؟ ،

اب وہ سیدھے راستے پر جائے تو بیوی کو گھر والوں کو اعتراض،
تو پھر غلط راستہ اسکے سامنے،!
وہ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو بھی بہکائے گا،
ادھر وہ بہنیں بیٹیاں جو بیچاری فطرتی خواہش کی مجبور ، گھر میں رشتے نا ملنے کی وجہ سے بیٹھی، کنواری ہوں یا بیوہ ،مطلقہ وہ آسانی سے ٹریک سے اتر جاتی ہیں اور اس طرح یہ معاملہ بے حیائی کی طرف پروان چڑھتا جاتا ہے
اسکا حل صرف شادی ہے شادی ہے،
بیوہ عورتیں، کنواری، شکل و صورت میں ماٹھی، سب کا جوڑ موجود ہے معاشرے میں،

مگر مشکل ہے تو دوسری اور تیسری شادی !!
اگر یہ مسئلہ سمجھ آ جائے تو رشتوں کے مسائل ختم ہو جائیں اور آدھی سے زیادہ بے حیائی اور معاشرے کے مسائل ختم ہو جائیں،

کیا دوسری شادی اور اسلام کے ایک اہم مسئلہ سے پریشان خواتین کی دلیل صرف مرد کا انصاف نا کرنا ہے؟

آپ کے ارد گرد کتنے مرد ہیں جو ایک بیوی کو خوش رکھتے اور اس ایک کےساتھ انصاف کرتےہیں؟؟
ذرا گوگل کریں اور چیک کریں ایک شادی والوں کی بھی طلاق کی شرح کیا ہے!!!

جو ایک شادی والے انصاف نہیں کرتے تو پھر انکو ایک شادی سے منع کیوں نہیں کیا جاتا؟؟
پھر کیا ایک شادی بھی جائز نہیں!!؟؟

دوسرا سوال👇

کیا کپڑا جوتی ،میں انصاف نا کرنے کے ڈر سے آپ کسی کو زنا ، بدکاری جیسے بھیانک گناہ میں جانے دیں گے؟؟
خاص کر جب وہ آپکا شوہر ہو، ؟ جسکی آخرت سنوارنے میں آپکا ایک کردار ہوتاہے آپکی ذمہ داری ہوتی ہے
کیا آپ چاہیں گی آپکا مستقبل کا جنت کا شہزادہ فطری ضرورت اور کمزوری کے سبب نکاح کی بجائے گرل فرینڈ رکھے؟
اور جہنم کا ایندھن بنے؟

آپکے انصاف انصاف کے راگ الاپنے کے ڈر سے بدکاری کی طرف جائے؟
بات آپ سے کرے، ہاتھ آپکا تھامے اور دل میں کسی اور کا خیال رکھے؟؟؟
کیا یہ سارے گناہ ٬
جوتی کپڑے میں انصاف نا کرنے سے چھوٹے گناہ ہیں؟؟ خدارا سوچ بدلیں،
اس ہندوانہ سوچ نے ہمارے معاشرے پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کہ خدا کی قسم آج مرد بھی دوسری شادی کو گناہ سمجھنے لگ گئے ہیں،
یورپی ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی گرل فرینڈ کا ٹرینڈ چل چکا ہے،

جہالت اور بد بختی کی انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی زنا کرتا ہے ،بدکاری کرتا ہے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا،
بلکہ جسکے جتنے زیادہ لڑکیوں سے گندے تعلقات ہوتے ہیں اسکو ہیرو سمجھا جاتاہے،
اور ظلم یہ کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ جیسے ملک کے سیاستدان سر عام ٹی وی پر ،
شادی نا کرنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ جسکو تازہ دودھ ملے روزانہ اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے،؟؟؟؟
اور ہمارا بے حس معاشرہ ان الفاظ کو انجوائے کرتا ہے اور مسکرا کے ٹال دیتا ہے!!!

اور بچپن سے جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ بدکار شخص ایک شادی کے بھی قابل نہیں ہوتا،

وہ دوسری شادی کا نام کیوں لے گا؟؟

میرا ایک قریبی کزن اپنی بیوی کو چھوڑ کر پڑوسی کی بیوی کے پاس رہتا، بیسیوں بار پکڑا جا چکا ، حتی کہ
Forwarded from چینل صدائے حق
اسکا شوہر نکل گیا وہا

ں سے اور وہ نکاح کے بغیر وہاں اسکے پاس رہتا ہے، اپنی بیوی بنا کے رکھا ہواہے، کوئی پوچھنے والا نہیں اسے،

مگر میں جب لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کا تقاضا ہے دو دو تین تین نکاح کرو تو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جاتاہے

اور دوسری طرف اگر کوئی اللہ سے ڈرنے والا ،کوئی تقوی رکھنے والا ،
جس نے ساری زندگی خود کو بدکاری سے ، بے حیائی سے بچا کر رکھا، اللہ سے ڈرتا رہا ،وہ اگر
دوسری شادی کا نام لے دے تو لوگ کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، گھر والے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی گناہ کا کام کرنے لگا ہو!!طعنے دیے جاتے ہیں کہ بس یہ ایک سنت یاد ہے ،
مولویوں کو آگ لگی ہوتی ہے!!!
اوہ بھائی کیوں نا لگے آگ؟؟؟
کیا کرے وہ؟؟
حرام نہیں چاہتا تو کیا حلال رستہ بھی چھوڑ دے؟؟

اللہ نے اسکی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے!!
اور خدا کی فطرت کو آپ بدل نہیں سکتے!

خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ایک سے زائد عورتوں سے تعلق مرد کی فطرت میں اللہ نے رکھا ہے،
اور یہ فطرت آپ تبدیل نہیں کر سکتے!!

ہاں یہ ہے کہ انصاف اور ظلم کا راگ الاپ کر آپ اس مرد کو حلال سے حرام کا رستہ دکھا سکتے ہیں جو دکھایا جا رہا آج کل،

اس میں نا صرف عورتیں اپنے شوہر کی دنیا و آخرت برباد کرتی بلکہ، اپنی زندگی بھی برباد کر لیتی،
بچوں کی تربیت پر برا اثر،
والدین کو الگ پریشانی،
اور آپکی اپنی ہمنوا عورت ذات
کی بے نکاحی عورتوں کو شوہر ملنے کی بجائے کوٹھا ملتاہے، زہر کا پیالہ ملتاہے
بچپن سے سپنوں کے شہزادے کا خواب دیکھنی والی اس صنف نازک کو آپکے انصاف انصاف کی ضد کی وجہ سے شہزادے کی بجائے سفید بال ملتےہیں،
بابا کی شرمندگی کے آنسو ملتےہیں
اور ماں کی بے بسی ملتی ہے

بیوہ اور طلاقِ یافتہ بیچاری والدین کے گھروں میں کڑھ کڑھ کر مرتی ہیں کوئی انکا سہارا نہیں بنتا،..!

کنوارا مرد ان سے کرتا نہیں اور شادی شدہ کو بیوی دوسری شادی کرنے نہیں دیتی،
لہذا وہ بیچاری ساری زندگی ماں باپ اور بھائیوں کے طعنے سنتے گزار دیتی ہیں،

خدا کی قسم!!!!
آپ نہیں جانتے زمانے میں کتنا دکھ صرف اس ایک وجہ سے ہے،
نا میں بیان کر سکتا ہوں نا آپ سن سکتے ہیں!!!

بس یوں سمجھ لیں ایک معصوم لڑکی کی خواہشوں کو چور کرنے کے پیچھے،۔سپنوں کو توڑنے کے پیچھے،۔ گھر بیٹھے بوڑھی ہونے کے پیچھے، کوٹھے کی زینت بننے کے پیچھے، زہر کا پیالا پینے کے پیچھے،
گھر کی دہلیز پھلانگنے کے پیچھے،
ایک باپ کا سولی پر لٹکنے کے پیچھے ، ایک ماں کی ممتا مرنے کے پیچھے،
ایک نیک شخص کے بدکار بننے کے پیچھے،
ایک خاندان لٹنے کے پیچھے!!!!

خدا کی قسم سب سے بڑا ہاتھ ان خواتین کا ہے جو انصاف انصاف کہہ کر مرد کو دوسری، تیسری شادی سے دور کر کے یہ سارے گناہ کرواتی ہیں،

میں جذبات میں نہیں!!
واللہ اپنے دس برسوں کے مطالعہ کی بنیاد پر کہہ رہا،میرا واسطہ بہت سارے لوگوں سے ہے،
میں حقائق کی بنیاد پر کہہ رہا،
خدارا!!
اس سوچ کو بدلیں!!!
دل کرتا ہے اس موضوع پر اتنا لکھوں کہ میرے ہاتھوں کی انگلیوں گھس گھس ختم ہو جائیں، اور شائید کہ لوگوں کے دل میں اتر جائے میری بات.!!!😔

اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور سیدھے راستے پر چلنے کیu توفیق دے،

آمین ثم آمین۔

*اہلِ قلم *
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Bilal Khan
مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام کریں ( بشرطِ استطاعت)۔ ورنہ آنے والی نسل میں ایک بڑی تعداد مطلقہ، بیوہ اور بوڑھی عمر کی کنواری اور غیر شادی شدہ۔ مسلمان عورتوں کی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک انتہائی خطرناک پہلو یہ بھی پیش نظر رہے کہ زنا و بدکاری میں اضافہ بھی ہو گا۔
نکاح کو ہند و پاک کے معاشرے یا رواج کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور عمل صحابہ علیہم الرضوان کی روشنی میں دیکھا جائے۔
گزارش: اس سنجیدہ نوعیت کے مسئلہ کو ہرگز مذاق نہ سمجھا جائے بلکہ مسلمان بیٹیوں کی پریشان کن حالت پر غور کیجیے۔
افتخار الحسن رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
چار شادیاں کرنے کا آسان طریقہ

آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔

یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔

کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:

(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔

ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:

(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔

یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔

عبد مصطفی