🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*سوال نمبر 25 :*
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
ہ)*
*فائدہ:*
علماءِاہلسنت کی خطاء و غلطی کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی، لغزشِ فاحش واقع ہو اس کا اِخْفاء (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذاللہ لوگ بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا، اس میں خلل واقع ہوگا، اس کی اشاعت، اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآنِ عظیم حرام۔
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 595 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/01/2019
03068209
*تصدیق و تصحیح :*
علماءِ کرام کے متعلق آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرتِ فضیل کو ایک لڑکی سے پیار ہوا

حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ڈاکو تھے!
آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ کو ایک لڑکی سے پیار ہوگیا آپ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔ اس کے لیے آپ ایک دیوار پر چڑھے تو ایک تلاوت کرنے والے کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا:

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰہ (الحديد:16)

"کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے"

حضرت فضیل بن عیاض نے جب یہ آیت سنی تو کیفیت بدل گئی اور آپ نے عرض کی اے میرے رب وہ وقت آ چکا ہے!

آپ وہاں سے واپس ہوئے اور رات ویرانے میں گزاری
وہاں کچھ مسافر آئے اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ چلو تو کہا گیا کہ نہیں صبح چلیں گے کیونکہ یہاں فضیل نام کا ڈاکو رہتا ہے۔
آپ نے یہ سن کر توبہ کی اور انھیں بھروسہ دلایا پھر آپ نے حرم میں پناہ لی حتیٰ کے آپ کا وصال ہو گیا۔

(رسالہ‌قشیریہ، اردو، ص69)

کہتے ہیں عبرت کے لیے کبھی کبھی ایک لفظ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری کتاب سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مذکورہ آیت واقعی اہل ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔
اس میں بندوں کو رب کی یاد دلائی جا رہی ہے اور بھٹکے ہوئے کو ایک محبت بھری صدا دی جا رہی ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارے دلوں کی بھی کیفیت بدل سکتی ہے۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زنا ایک قرض ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اب وہ چاہے آنکھ کا زنا ہو،
ہاتھ کا زنا ہو، کانوں کا زنا ہو،
یا زبان کا زنا ہو یا کوئی اور زنا ہو
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے!
یہ دنیا مکافات عمل ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اپنی بہن کے لئے گوارہ نہیں کرتے
تو دوسروں کی بہن کے لئے
کیسے گوارہ کرتے ہو ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بِاِسْمِہٖ وَحَمْدِہٖ تَعَالیٰ
اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَاْمُ عَلیٰ رَسُوْلِہٖ الاَعْلیٰ

۲۷؍شوال المکرم ۱۴۴۱؁ہجری
٢٠؍جون ۲۰۲۰؁ء بروز ہفتہ

🌹 گہن کی نماز کا بیان 🌹

مسائل فقہیہ :
سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لئے شرط ہیں وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جوجمعہ کی کر سکتا ہے وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں گھر میں یا مسجد میں۔

مسئلہ ❷ گہن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہناہو گہن چھوٹنے کے بعد نہیں، اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر ابر آجائے، جب بھی نماز پڑھیں۔

مسئلہ ❸ ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں بلکہ دعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دعا ختم کردیں اور مغرب کی نماز پڑھیں۔

مسئلہ ❹ یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں، یعنی ہررکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے نہ اقامت۔نہ بلند آواز سے قرات۔ اور نماز کے بعد دعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں دو رکعت پر سلام پھیریں یاچار پر۔

📔 ( بہار شریعت حصہ⁴ صفحہ⁹⁹ )

طَاْلِبِ دُعَا
مُحَمَّدْ خَلِیْلُ اللّٰہ قَادِریْؔ غُفِرَلَہٗ
🕌 امام جامع مسجد پنت نگر
منجانب : تنظیم جامع مسجد پنت
نگر اودھم سنگھ نگر ( اتراکھنڈ )
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سورج گرہن کی نماز کے احکام 📋
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#دارالافتاء_اہلسنت_دعوت_اسلامی
سورج_گرہن_کی_نماز_کے_احکام_دارالافتاء_اہلسنت.pdf
7.5 MB
سورج گہن & چاند گہن
@islaamic_Knowledge
سے متعلق شرعی مسائل
سورج گرہن کے بارے میں اسلامی
نظریہ اور لوگوں کے باطل خیالات
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#دارالافتاء_اہلسنت_دعوت_اسلامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM