Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 209:*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 25 :*
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
ہ)*
*فائدہ:*
علماءِاہلسنت کی خطاء و غلطی کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی، لغزشِ فاحش واقع ہو اس کا اِخْفاء (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذاللہ لوگ بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا، اس میں خلل واقع ہوگا، اس کی اشاعت، اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآنِ عظیم حرام۔
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 595 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/01/2019
03068209
*تصدیق و تصحیح :*
علماءِ کرام کے متعلق آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
*فائدہ:*
علماءِاہلسنت کی خطاء و غلطی کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی، لغزشِ فاحش واقع ہو اس کا اِخْفاء (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذاللہ لوگ بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا، اس میں خلل واقع ہوگا، اس کی اشاعت، اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآنِ عظیم حرام۔
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 595 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/01/2019
03068209
*تصدیق و تصحیح :*
علماءِ کرام کے متعلق آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرتِ فضیل کو ایک لڑکی سے پیار ہوا
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ڈاکو تھے!
آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ کو ایک لڑکی سے پیار ہوگیا آپ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔ اس کے لیے آپ ایک دیوار پر چڑھے تو ایک تلاوت کرنے والے کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰہ (الحديد:16)
"کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے"
حضرت فضیل بن عیاض نے جب یہ آیت سنی تو کیفیت بدل گئی اور آپ نے عرض کی اے میرے رب وہ وقت آ چکا ہے!
آپ وہاں سے واپس ہوئے اور رات ویرانے میں گزاری
وہاں کچھ مسافر آئے اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ چلو تو کہا گیا کہ نہیں صبح چلیں گے کیونکہ یہاں فضیل نام کا ڈاکو رہتا ہے۔
آپ نے یہ سن کر توبہ کی اور انھیں بھروسہ دلایا پھر آپ نے حرم میں پناہ لی حتیٰ کے آپ کا وصال ہو گیا۔
(رسالہقشیریہ، اردو، ص69)
کہتے ہیں عبرت کے لیے کبھی کبھی ایک لفظ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری کتاب سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مذکورہ آیت واقعی اہل ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔
اس میں بندوں کو رب کی یاد دلائی جا رہی ہے اور بھٹکے ہوئے کو ایک محبت بھری صدا دی جا رہی ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارے دلوں کی بھی کیفیت بدل سکتی ہے۔
عبد مصطفیٰ
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ڈاکو تھے!
آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ کو ایک لڑکی سے پیار ہوگیا آپ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔ اس کے لیے آپ ایک دیوار پر چڑھے تو ایک تلاوت کرنے والے کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰہ (الحديد:16)
"کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے"
حضرت فضیل بن عیاض نے جب یہ آیت سنی تو کیفیت بدل گئی اور آپ نے عرض کی اے میرے رب وہ وقت آ چکا ہے!
آپ وہاں سے واپس ہوئے اور رات ویرانے میں گزاری
وہاں کچھ مسافر آئے اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ چلو تو کہا گیا کہ نہیں صبح چلیں گے کیونکہ یہاں فضیل نام کا ڈاکو رہتا ہے۔
آپ نے یہ سن کر توبہ کی اور انھیں بھروسہ دلایا پھر آپ نے حرم میں پناہ لی حتیٰ کے آپ کا وصال ہو گیا۔
(رسالہقشیریہ، اردو، ص69)
کہتے ہیں عبرت کے لیے کبھی کبھی ایک لفظ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری کتاب سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مذکورہ آیت واقعی اہل ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔
اس میں بندوں کو رب کی یاد دلائی جا رہی ہے اور بھٹکے ہوئے کو ایک محبت بھری صدا دی جا رہی ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارے دلوں کی بھی کیفیت بدل سکتی ہے۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زنا ایک قرض ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اب وہ چاہے آنکھ کا زنا ہو،
ہاتھ کا زنا ہو، کانوں کا زنا ہو،
یا زبان کا زنا ہو یا کوئی اور زنا ہو
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اب وہ چاہے آنکھ کا زنا ہو،
ہاتھ کا زنا ہو، کانوں کا زنا ہو،
یا زبان کا زنا ہو یا کوئی اور زنا ہو
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے!
یہ دنیا مکافات عمل ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اپنی بہن کے لئے گوارہ نہیں کرتے
تو دوسروں کی بہن کے لئے
کیسے گوارہ کرتے ہو ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
یہ دنیا مکافات عمل ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اپنی بہن کے لئے گوارہ نہیں کرتے
تو دوسروں کی بہن کے لئے
کیسے گوارہ کرتے ہو ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سوال : نمازِ کسوف اور خسوف کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ جواب : کسوف کا معنی سورج گرہن اور خسوف کا معنی چاند گرہن ہے https://t.me/islaamic_Knowledge/5453 سورج گرہن اور چاند گرہن https://t.me/islaamic_Knowledge/5451 کیا سورج گرہن اور چاند گرہن سے حاملہ عورت…
ملک میں ²¹جون صبح سورج گہن
انقلاب ممبئ ²⁰ جون ۰۲۰۲ء صَـ⁴
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
چاند گرہن سورج گرہن سے متعلق
مسائل شرعیہ پڑھنے کے لئے لِنڪ
https://t.me/islaamic_Knowledge/7220
انقلاب ممبئ ²⁰ جون ۰۲۰۲ء صَـ⁴
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
چاند گرہن سورج گرہن سے متعلق
مسائل شرعیہ پڑھنے کے لئے لِنڪ
https://t.me/islaamic_Knowledge/7220
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بِاِسْمِہٖ وَحَمْدِہٖ تَعَالیٰ
اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَاْمُ عَلیٰ رَسُوْلِہٖ الاَعْلیٰ
۲۷؍شوال المکرم ۱۴۴۱ہجری
٢٠؍جون ۲۰۲۰ء بروز ہفتہ
🌹 گہن کی نماز کا بیان 🌹
مسائل فقہیہ :
سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لئے شرط ہیں وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جوجمعہ کی کر سکتا ہے وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں گھر میں یا مسجد میں۔
مسئلہ ❷ گہن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہناہو گہن چھوٹنے کے بعد نہیں، اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر ابر آجائے، جب بھی نماز پڑھیں۔
مسئلہ ❸ ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں بلکہ دعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دعا ختم کردیں اور مغرب کی نماز پڑھیں۔
مسئلہ ❹ یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں، یعنی ہررکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے نہ اقامت۔نہ بلند آواز سے قرات۔ اور نماز کے بعد دعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں دو رکعت پر سلام پھیریں یاچار پر۔
📔 ( بہار شریعت حصہ⁴ صفحہ⁹⁹ )
طَاْلِبِ دُعَا
مُحَمَّدْ خَلِیْلُ اللّٰہ قَادِریْؔ غُفِرَلَہٗ
🕌 امام جامع مسجد پنت نگر
منجانب : تنظیم جامع مسجد پنت
نگر اودھم سنگھ نگر ( اتراکھنڈ )
اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَاْمُ عَلیٰ رَسُوْلِہٖ الاَعْلیٰ
۲۷؍شوال المکرم ۱۴۴۱ہجری
٢٠؍جون ۲۰۲۰ء بروز ہفتہ
🌹 گہن کی نماز کا بیان 🌹
مسائل فقہیہ :
سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لئے شرط ہیں وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جوجمعہ کی کر سکتا ہے وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں گھر میں یا مسجد میں۔
مسئلہ ❷ گہن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہناہو گہن چھوٹنے کے بعد نہیں، اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر ابر آجائے، جب بھی نماز پڑھیں۔
مسئلہ ❸ ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں بلکہ دعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دعا ختم کردیں اور مغرب کی نماز پڑھیں۔
مسئلہ ❹ یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں، یعنی ہررکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے نہ اقامت۔نہ بلند آواز سے قرات۔ اور نماز کے بعد دعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں دو رکعت پر سلام پھیریں یاچار پر۔
📔 ( بہار شریعت حصہ⁴ صفحہ⁹⁹ )
طَاْلِبِ دُعَا
مُحَمَّدْ خَلِیْلُ اللّٰہ قَادِریْؔ غُفِرَلَہٗ
🕌 امام جامع مسجد پنت نگر
منجانب : تنظیم جامع مسجد پنت
نگر اودھم سنگھ نگر ( اتراکھنڈ )
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سوال : نمازِ کسوف اور خسوف کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ جواب : کسوف کا معنی سورج گرہن اور خسوف کا معنی چاند گرہن ہے https://t.me/islaamic_Knowledge/5453 سورج گرہن اور چاند گرہن https://t.me/islaamic_Knowledge/5451 کیا سورج گرہن اور چاند گرہن سے حاملہ عورت…
سورج گرہن ²¹ جون کو (یعنی آج)
رستم القادری پچہی شریف مدھوبنی
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
چاند گرہن سورج گرہن سے متعلق
مسائل شرعیہ پڑھنے کے لئے لِنڪ
https://t.me/islaamic_Knowledge/7220
رستم القادری پچہی شریف مدھوبنی
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
چاند گرہن سورج گرہن سے متعلق
مسائل شرعیہ پڑھنے کے لئے لِنڪ
https://t.me/islaamic_Knowledge/7220
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سورج گرہن کے بارے میں اسلامی
نظریہ اور لوگوں کے باطل خیالات
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#دارالافتاء_اہلسنت_دعوت_اسلامی
نظریہ اور لوگوں کے باطل خیالات
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#دارالافتاء_اہلسنت_دعوت_اسلامی