Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
خواجہ غریب نواز کی توہین نفرتوں کو بڑھاوا دینے کی سازش
نوری مشن ناسک کا نیوز 18 کے اینکر امیش دیوگن پر کارروائی کا مطالبہ
ناسک: نیوز 18 کے اینکرامیش دیوگن نے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس سے پورے ملک کے مسلمان اور امن پسند بھارتی شدید رنجیدہ ہیں۔ خانقاہوں، تنظیموں، اداروں اور سماجی و ملی تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ ڈیمانڈ کی جا رہی ہے کہ مذکورہ اینکر کو فوری گرفتار کیا جائے اور سخت دفعات عائد کی جائیں تا کہ پھر کوئی اِس طرح نفرت پھیلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ اِس طرح کا بیان نوری مشن ناسک نے 18؍جون کو جاری کیا۔ اسی دن دوپہر میں نوری مشن کا ایک وفد ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک میں پولیس پی آئی وجے کمار دھمال سے ملاقات کو پہنچا۔جہاں تحریری عریضہ پیش کیا گیا جس میں مذکورہ چینل کے گستاخ اینکر پر کارروائی کا مطالبہ درج تھا۔ اِسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ بھارت میں امن واخوت کی علامت حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس ہے جہاں سے کروڑوں لوگوں کا روحانی رشتہ ہے۔ ایسی عظیم ہستی کے خلاف دہشت گردانہ ریمارک کا مقصد ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینا ہے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے ایسی سازش کو ناکام بنانے کے لیے گستاخ اینکر پر سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک کے وجے کمار دھمال نے بھی یہ بات کہی کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے جس کی میں بھی مذمت کرتا ہوں۔موصوف نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس اس معاملے میں کارروائی کرے گی۔ واضح ہو کہ اہلسنّت سے وابستہ خانقاہوں، تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پورے ملک میں مذکورہ حرکت پر پُر امن و جمہوری طریقے سے احتجاج درج کروایاجا رہا ہے۔ وفد میں ڈاکٹر امام خان، احمد رضا شیخ، خضر رضوی، تنظیم رضوی، صوفی رضا، شعیب پٹیل، عظیم اشرفی، عابد نواز، مدثر پٹھان وغیرہ شامل تھے۔
***
١٨ جون ٢٠٢٠ء
نوری مشن ناسک کا نیوز 18 کے اینکر امیش دیوگن پر کارروائی کا مطالبہ
ناسک: نیوز 18 کے اینکرامیش دیوگن نے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس سے پورے ملک کے مسلمان اور امن پسند بھارتی شدید رنجیدہ ہیں۔ خانقاہوں، تنظیموں، اداروں اور سماجی و ملی تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ ڈیمانڈ کی جا رہی ہے کہ مذکورہ اینکر کو فوری گرفتار کیا جائے اور سخت دفعات عائد کی جائیں تا کہ پھر کوئی اِس طرح نفرت پھیلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ اِس طرح کا بیان نوری مشن ناسک نے 18؍جون کو جاری کیا۔ اسی دن دوپہر میں نوری مشن کا ایک وفد ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک میں پولیس پی آئی وجے کمار دھمال سے ملاقات کو پہنچا۔جہاں تحریری عریضہ پیش کیا گیا جس میں مذکورہ چینل کے گستاخ اینکر پر کارروائی کا مطالبہ درج تھا۔ اِسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ بھارت میں امن واخوت کی علامت حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس ہے جہاں سے کروڑوں لوگوں کا روحانی رشتہ ہے۔ ایسی عظیم ہستی کے خلاف دہشت گردانہ ریمارک کا مقصد ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینا ہے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے ایسی سازش کو ناکام بنانے کے لیے گستاخ اینکر پر سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک کے وجے کمار دھمال نے بھی یہ بات کہی کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے جس کی میں بھی مذمت کرتا ہوں۔موصوف نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس اس معاملے میں کارروائی کرے گی۔ واضح ہو کہ اہلسنّت سے وابستہ خانقاہوں، تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پورے ملک میں مذکورہ حرکت پر پُر امن و جمہوری طریقے سے احتجاج درج کروایاجا رہا ہے۔ وفد میں ڈاکٹر امام خان، احمد رضا شیخ، خضر رضوی، تنظیم رضوی، صوفی رضا، شعیب پٹیل، عظیم اشرفی، عابد نواز، مدثر پٹھان وغیرہ شامل تھے۔
***
١٨ جون ٢٠٢٠ء
عطائے رسول حضور خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کی شان میں گستاخی نا قابل برداشت!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
مہراج گنج شبیر احمد نظامی
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
مہراج گنج شبیر احمد نظامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمدگل رضا القادری
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
حضور : نماز میں مقتدی امام سے پہلے رکوع ، سجود کریں ، تو نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ اور سجود کےلئے امام سے پہلے جھک جائے ، یعنی کمر سیدھی نہ رکھے اس نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ یہ ارشاد فرمائے دے ۔
سائل : محمد ذوالفقار عطاری پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* امام سے پہلے کسی رکن میں سبقت کرنا خواہ سجدے میں ہو یا رکوع میں وغیرہ میں مکروہِ تحریمی ہے ، اس سے بچنا ضروری ہےجیسا ہے فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " ویکرہ للمأموم أن یسبق الإمام بالرکوع أو السجود وأن یرفع رأسه فیهما قبل الإمام " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 107 ) در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " قوله : ( و متابعته لامامه فى الفروض ) اى بان ياتى بها معه او بعده حتى لو ركع امامه و رفع فركع هو بعده صح بخلاف ما لو ركع قبل امامه و رفع ثم ركع امامه ولم يركع ثانيا مع امامه او بعده بطلت صلاته " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 173 : کتاب الصلاۃ ، باب صفة الصلاۃ ، بحث الخروج بصنعه ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور غنیة المستملى میں ہے کہ " رفع رأسه من الرکوع أو السجود قبل الامام عاد لتزول المخالفة بالموافقة " اھ ( غنیة المستملی ص 533 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی متابعت مقتدی پر فرض ہے یعنی ان میں کا کوئی فعل امام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا ، تو نماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی ، ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتدی نے ابھی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھا لیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے ۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا لیا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے ، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا ، گناہ گار ہوگا " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 517 / 526 : نماز پڑھنے کا بیان ) اور رکوع و سجود کے لئے امام سے پہلے جھکنے کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " أما یخشی أحدکم أو ألا یخشی أحدکم اذا رفع رأسه قبل الامام أن یجعل اللّٰہ رأسه رأس حمار أو یجعل اللّٰہ صورته صورةَ حمار " اھ ( الصحیح للبخاری ج 1 ص 96 : کتاب الأذان ، باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام ) اور مؤطا امام مالک میں ہے کہ " حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اِمام سے پہلے سر اٹھاتا اور جُھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں " اھ (موطا امام مالک ج 1 ص 201 رقم حدیث 212 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
حضور : نماز میں مقتدی امام سے پہلے رکوع ، سجود کریں ، تو نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ اور سجود کےلئے امام سے پہلے جھک جائے ، یعنی کمر سیدھی نہ رکھے اس نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ یہ ارشاد فرمائے دے ۔
سائل : محمد ذوالفقار عطاری پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* امام سے پہلے کسی رکن میں سبقت کرنا خواہ سجدے میں ہو یا رکوع میں وغیرہ میں مکروہِ تحریمی ہے ، اس سے بچنا ضروری ہےجیسا ہے فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " ویکرہ للمأموم أن یسبق الإمام بالرکوع أو السجود وأن یرفع رأسه فیهما قبل الإمام " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 107 ) در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " قوله : ( و متابعته لامامه فى الفروض ) اى بان ياتى بها معه او بعده حتى لو ركع امامه و رفع فركع هو بعده صح بخلاف ما لو ركع قبل امامه و رفع ثم ركع امامه ولم يركع ثانيا مع امامه او بعده بطلت صلاته " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 173 : کتاب الصلاۃ ، باب صفة الصلاۃ ، بحث الخروج بصنعه ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور غنیة المستملى میں ہے کہ " رفع رأسه من الرکوع أو السجود قبل الامام عاد لتزول المخالفة بالموافقة " اھ ( غنیة المستملی ص 533 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی متابعت مقتدی پر فرض ہے یعنی ان میں کا کوئی فعل امام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا ، تو نماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی ، ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتدی نے ابھی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھا لیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے ۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا لیا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے ، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا ، گناہ گار ہوگا " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 517 / 526 : نماز پڑھنے کا بیان ) اور رکوع و سجود کے لئے امام سے پہلے جھکنے کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " أما یخشی أحدکم أو ألا یخشی أحدکم اذا رفع رأسه قبل الامام أن یجعل اللّٰہ رأسه رأس حمار أو یجعل اللّٰہ صورته صورةَ حمار " اھ ( الصحیح للبخاری ج 1 ص 96 : کتاب الأذان ، باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام ) اور مؤطا امام مالک میں ہے کہ " حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اِمام سے پہلے سر اٹھاتا اور جُھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں " اھ (موطا امام مالک ج 1 ص 201 رقم حدیث 212 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 204:*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا کیسا ہے اور اس علم کی منت ماننا کیسا ہے ؟
سائل : تنویر عطاری
*جواب :*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا مُرَوَّجَہ، تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا اور اس علم کے لگانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے کیونکہ پہلی بات یہ کہ غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کا تین کونوں والا اور کالا ہونا ثابت ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض ان کے جھنڈے کا ایسا ہونا ثابت ہو بھی جائے تو فی زمانہ چونکہ یہ بدمذھبوں کا شِعَار (یعنی ان کی علامت اور نشانی) ہے اور وہ بدمذھب اس علم سے پہچانے جاتے ہیں لہذا اس کو گھر پر نہیں لگایا جائے گا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ :
*"من تشبہ بقوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے تو وہ اسی قوم میں سے ہے۔
*(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، جلد دوم صفحہ 203 آفتاب عالم پریس لاہور، مسند احمد بن حنبل، از مسند عبد ﷲ ابن عمر، جلد دوم صفحہ 50، 92 مطبوعہ دارالفکر بیروت، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط، کتاب الزہد جلد 10 صفحہ 271 مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت، منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر، فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً صفحہ 185 مصطفی البابی مصر وغیرہ)*
دوسری بات یہ ہے کہ گھر پر ایسا علم لگانا اپنے آپ کو تہمت کی جگہ پر پیش کرنا ہے کیونکہ جو اپنے گھروں پر ایسا عَلَم لگائیں گے تو دیکھنے والے انہیں بدمذھب سمجھیں گے اور حدیثِ مبارکہ میں تہمت کی جگہوں پر کھڑا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من کان یؤمن باللہ و الیوم الاخر فلایقف مواقف التھم"*
یعنی جو شخص اللہ پاک اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ تہمت کی جگہ پر نہ ٹھہرے۔
*(کشف الخفا جلد اول صفحہ 37 رقم الحدیث : 88 دارالکتب العلمیہ بیروت، مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادراک الفریضۃ صفحہ 249 نور محمد کارخانہ تجارت کراچی، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب ما یفسد الصوم و یوجب القضاء صفحہ 371 نور محمد کتب خانہ کراچی)*
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
*"اتقوا مواضع التھم"*
یعنی تم تہمت کی جگہوں سے بچو۔
*(کشف الخفاء جلد اول صفحہ 45 رقم الحدیث 88 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
تیسری بات یہ ہے کہ اس میں بدمذھبوں کی رونق اور تعداد کو بڑھانا بھی ہے کیونکہ جب گھر پر علم لگائیں گے تو بدمذھب اسے دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، اس طرح ان کی رونق و شان بڑھے گی اور دیکھنے والوں کی نظر میں ان کی تعداد زیادہ معلوم ہو گی اور حدیثِ مبارکہ میں ایسا کرنے والوں کے لئے یہ فرمایا کہ :
*"من کثر سواد قوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
*(تاریخ بغداد، ترجمہ عبداللہ بن عتاب 5147، جلد 10 صفحہ 40 دارالکتاب العربی بیروت، المقاصد الحسنۃ، صفحہ 426، رقم الحدیث : 1170 دارالکتب العلمیۃ بیروت، الفردوس بماثور الخطاب، جلس 3 صفحہ 519 رقم الحدیث : 5621 دارالکتب العلمیہ بیروت، کنزالعمال جلد 9 صفحہ 22 رقم الحدیث : 24735 مؤسسۃ الرسالہ بیروت، کنزالعمال وغیرہ)*
اب علم کے متعلق علمائے متاخرین کے کچھ فتاوٰی بھی ملاحظہ فرمائیں :
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"علم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 498 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں، بدعت ہیں اور بدعت سے شوکتِ اسلام نہیں ہوتی۔"
*(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 499 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"تعزیہ داری کہ ہمچو مبتدعاں می کنند بدعت ست و ہمچنیں ساختن ضرائح و صورت قبور و علم وغیرہ ایں ہم بدعت ست و ظاہر ست کہ بدعت سیئہ است"*
یعنی تعزیہ داری جیسا کہ بدمذھب کرتے ہیں، بدعتِ سیئہ ہے اور ایسے ہی تابوت، قبروں کی صورت اور عَلَم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ بدعتِ سیئہ ہے۔
*(خطباتِ محرم بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ 75)*
خطباتِ محرم میں ہے :
"نظرِ غائر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم اور شدے جو نیزوں اور جھنڈوں کی شکل میں ہوتے ہیں غالباََ یزیدی فوج کے اس فعل کی نقل ہے جو انہوں نے کربلا میں ظلم و جفا کے پہاڑ توڑنے کے بعد امامِ عالی مقام کا سر مبارک نیزوں پر کوفہ کی گلیوں میں بطورِ شادیانہ و مبارک بادی گھمایا تھا۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 394، 395 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
ال
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا کیسا ہے اور اس علم کی منت ماننا کیسا ہے ؟
سائل : تنویر عطاری
*جواب :*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا مُرَوَّجَہ، تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا اور اس علم کے لگانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے کیونکہ پہلی بات یہ کہ غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کا تین کونوں والا اور کالا ہونا ثابت ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض ان کے جھنڈے کا ایسا ہونا ثابت ہو بھی جائے تو فی زمانہ چونکہ یہ بدمذھبوں کا شِعَار (یعنی ان کی علامت اور نشانی) ہے اور وہ بدمذھب اس علم سے پہچانے جاتے ہیں لہذا اس کو گھر پر نہیں لگایا جائے گا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ :
*"من تشبہ بقوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے تو وہ اسی قوم میں سے ہے۔
*(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، جلد دوم صفحہ 203 آفتاب عالم پریس لاہور، مسند احمد بن حنبل، از مسند عبد ﷲ ابن عمر، جلد دوم صفحہ 50، 92 مطبوعہ دارالفکر بیروت، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط، کتاب الزہد جلد 10 صفحہ 271 مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت، منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر، فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً صفحہ 185 مصطفی البابی مصر وغیرہ)*
دوسری بات یہ ہے کہ گھر پر ایسا علم لگانا اپنے آپ کو تہمت کی جگہ پر پیش کرنا ہے کیونکہ جو اپنے گھروں پر ایسا عَلَم لگائیں گے تو دیکھنے والے انہیں بدمذھب سمجھیں گے اور حدیثِ مبارکہ میں تہمت کی جگہوں پر کھڑا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من کان یؤمن باللہ و الیوم الاخر فلایقف مواقف التھم"*
یعنی جو شخص اللہ پاک اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ تہمت کی جگہ پر نہ ٹھہرے۔
*(کشف الخفا جلد اول صفحہ 37 رقم الحدیث : 88 دارالکتب العلمیہ بیروت، مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادراک الفریضۃ صفحہ 249 نور محمد کارخانہ تجارت کراچی، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب ما یفسد الصوم و یوجب القضاء صفحہ 371 نور محمد کتب خانہ کراچی)*
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
*"اتقوا مواضع التھم"*
یعنی تم تہمت کی جگہوں سے بچو۔
*(کشف الخفاء جلد اول صفحہ 45 رقم الحدیث 88 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
تیسری بات یہ ہے کہ اس میں بدمذھبوں کی رونق اور تعداد کو بڑھانا بھی ہے کیونکہ جب گھر پر علم لگائیں گے تو بدمذھب اسے دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، اس طرح ان کی رونق و شان بڑھے گی اور دیکھنے والوں کی نظر میں ان کی تعداد زیادہ معلوم ہو گی اور حدیثِ مبارکہ میں ایسا کرنے والوں کے لئے یہ فرمایا کہ :
*"من کثر سواد قوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
*(تاریخ بغداد، ترجمہ عبداللہ بن عتاب 5147، جلد 10 صفحہ 40 دارالکتاب العربی بیروت، المقاصد الحسنۃ، صفحہ 426، رقم الحدیث : 1170 دارالکتب العلمیۃ بیروت، الفردوس بماثور الخطاب، جلس 3 صفحہ 519 رقم الحدیث : 5621 دارالکتب العلمیہ بیروت، کنزالعمال جلد 9 صفحہ 22 رقم الحدیث : 24735 مؤسسۃ الرسالہ بیروت، کنزالعمال وغیرہ)*
اب علم کے متعلق علمائے متاخرین کے کچھ فتاوٰی بھی ملاحظہ فرمائیں :
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"علم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 498 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں، بدعت ہیں اور بدعت سے شوکتِ اسلام نہیں ہوتی۔"
*(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 499 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"تعزیہ داری کہ ہمچو مبتدعاں می کنند بدعت ست و ہمچنیں ساختن ضرائح و صورت قبور و علم وغیرہ ایں ہم بدعت ست و ظاہر ست کہ بدعت سیئہ است"*
یعنی تعزیہ داری جیسا کہ بدمذھب کرتے ہیں، بدعتِ سیئہ ہے اور ایسے ہی تابوت، قبروں کی صورت اور عَلَم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ بدعتِ سیئہ ہے۔
*(خطباتِ محرم بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ 75)*
خطباتِ محرم میں ہے :
"نظرِ غائر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم اور شدے جو نیزوں اور جھنڈوں کی شکل میں ہوتے ہیں غالباََ یزیدی فوج کے اس فعل کی نقل ہے جو انہوں نے کربلا میں ظلم و جفا کے پہاڑ توڑنے کے بعد امامِ عالی مقام کا سر مبارک نیزوں پر کوفہ کی گلیوں میں بطورِ شادیانہ و مبارک بادی گھمایا تھا۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 394، 395 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
ال
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 67:*
کیا موبائل میں فلمیں اور گانے باجے وغیرہ بھر کر دینا اور اس کی اجرت و مزدوری لینا جائز ہے ؟
*جواب :*
موبائل میں فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور قرآنِ پاک میں گناہوں اور نافرمانی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے.
چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے :
*"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان"*
ترجمہ : گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
*(پارہ 6، سورۃالمائدہ : 2)*
فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"کذلک الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر"*
یعنی گناہوں اور برائیوں پر مدد کرنا اور ان پر اکسانا (ابھارنا) جملہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے. *(فتاوی عالمگیری، کتاب الشھادات، جلد 3 صفحہ 420 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
اور موبائل کے اندر فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینے کی اجرت لینا (یعنی آمدنی لینا) بھی ناجائز و حرام ہے.
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"و لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو"*
یعنی اور گانا، نوحہ، مزامیر (یعنی آلاتِ موسیقی)، ڈھول اور لھو (یعنی کھیل کود) میں سے کسی بھی چیز پر اجارہ (یعنی مزدوری) جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارۃ، جلد 4 صفحہ 508 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/04/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں، ڈرامے اور گانے، باجے وغیرہ بھر کر دینے کے حرام ہونے کے تعلق سے جو آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
کیا موبائل میں فلمیں اور گانے باجے وغیرہ بھر کر دینا اور اس کی اجرت و مزدوری لینا جائز ہے ؟
*جواب :*
موبائل میں فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور قرآنِ پاک میں گناہوں اور نافرمانی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے.
چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے :
*"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان"*
ترجمہ : گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
*(پارہ 6، سورۃالمائدہ : 2)*
فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"کذلک الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر"*
یعنی گناہوں اور برائیوں پر مدد کرنا اور ان پر اکسانا (ابھارنا) جملہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے. *(فتاوی عالمگیری، کتاب الشھادات، جلد 3 صفحہ 420 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
اور موبائل کے اندر فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینے کی اجرت لینا (یعنی آمدنی لینا) بھی ناجائز و حرام ہے.
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"و لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو"*
یعنی اور گانا، نوحہ، مزامیر (یعنی آلاتِ موسیقی)، ڈھول اور لھو (یعنی کھیل کود) میں سے کسی بھی چیز پر اجارہ (یعنی مزدوری) جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارۃ، جلد 4 صفحہ 508 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/04/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں، ڈرامے اور گانے، باجے وغیرہ بھر کر دینے کے حرام ہونے کے تعلق سے جو آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 206:*
اگر کسی شادی شدہ انسان کی زبان سے بے اختیاری میں اللہ پاک کی ذات کو گالی نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟
سائل : خلیل الرحمٰن بہاولنگر
*جواب :*
اگر بے اختیاری سے (یعنی غلطی سے) شادی شدہ شخص کی زبان سے اللہ پاک کی ذات کے لئے معاذاللہ گالی نکل گئی، یعنی کہنا کچھ اور چاہتا تھا لیکن زبان سے گالی نکل گئی تو اس سے کافر نہیں ہوگا مگر اس پر لازم ہے کہ اس سے رجوع اور نفرت کا اظہار کرے اور توبہ و اِسْتِغْفار کرے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ غلطی سے اس کی زبان سے گالی نکلی ہے اور اگر اُس نے اِس گالی سے رجوع اور نفرت کا اظہار نہ کیا بلکہ اس پر اڑا رہا تو پھر کافر ہوجائے گا کیونکہ ایسی صورت میں یہ کلمہ کفر کی تائید (حمایت) کرنے والا ہو گیا ہے۔
چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
*"الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً لم يكن ذلك كفرًا عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."*
یعنی وہ خاطی جس نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کر دیا بطورِ خطا کے اس طور پر کہ اس کلمے کے ساتھ کلام کرنا چاہتا تھا جو کفر نہیں تھا مگر بطورِ خطا کے زبان پر کلمہ کفر جاری کردیا تو یہ تمام کے نزدیک کفر نہیں ہے، ایسے ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔
*(فتاوى عالمگیری جلد 2 صفحہ 276)*
فتاوی تتارخانیہ میں ہے:
*"و ما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك"*
یعنی اور جو (کفریہ) الفاظ غلطی سے صادر ہوں تو کفر کو ثابت نہیں کریں گے پس ان کا قائل اپنی (سابقہ) حالت پر مؤمن ہوگا اور اور لیکن استغفار اور اس سے رجوع کا حکم دیا جائے گا۔
*(فتاوی تتارخانیہ، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، جلد 7 صفحہ 284 زكريا)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و من تكلم بها مخطئاً أو مكرهاً لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامداً عالماً كفر عند الكل، و من تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف"*
یعنی جس نے غلطی یا مجبور ہو کر کلمہ کفر کے ساتھ تکَلُّم کیا تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، اور جس نے جان بوجھ کر کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر کی جائے گی، اور جس نے اختیار سے کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو اس میں اختلاف ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب : مایشک انہ ردۃ لا یحکم بھا، جلد 6، صفحہ 346 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے تھے :
"کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پَچْ کی (یعنی اگر کی ہوئی بات پر اڑا رہا) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔"
*(بہارِ شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ 174 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله عليه وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
اگر کسی شادی شدہ انسان کی زبان سے بے اختیاری میں اللہ پاک کی ذات کو گالی نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟
سائل : خلیل الرحمٰن بہاولنگر
*جواب :*
اگر بے اختیاری سے (یعنی غلطی سے) شادی شدہ شخص کی زبان سے اللہ پاک کی ذات کے لئے معاذاللہ گالی نکل گئی، یعنی کہنا کچھ اور چاہتا تھا لیکن زبان سے گالی نکل گئی تو اس سے کافر نہیں ہوگا مگر اس پر لازم ہے کہ اس سے رجوع اور نفرت کا اظہار کرے اور توبہ و اِسْتِغْفار کرے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ غلطی سے اس کی زبان سے گالی نکلی ہے اور اگر اُس نے اِس گالی سے رجوع اور نفرت کا اظہار نہ کیا بلکہ اس پر اڑا رہا تو پھر کافر ہوجائے گا کیونکہ ایسی صورت میں یہ کلمہ کفر کی تائید (حمایت) کرنے والا ہو گیا ہے۔
چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
*"الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً لم يكن ذلك كفرًا عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."*
یعنی وہ خاطی جس نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کر دیا بطورِ خطا کے اس طور پر کہ اس کلمے کے ساتھ کلام کرنا چاہتا تھا جو کفر نہیں تھا مگر بطورِ خطا کے زبان پر کلمہ کفر جاری کردیا تو یہ تمام کے نزدیک کفر نہیں ہے، ایسے ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔
*(فتاوى عالمگیری جلد 2 صفحہ 276)*
فتاوی تتارخانیہ میں ہے:
*"و ما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك"*
یعنی اور جو (کفریہ) الفاظ غلطی سے صادر ہوں تو کفر کو ثابت نہیں کریں گے پس ان کا قائل اپنی (سابقہ) حالت پر مؤمن ہوگا اور اور لیکن استغفار اور اس سے رجوع کا حکم دیا جائے گا۔
*(فتاوی تتارخانیہ، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، جلد 7 صفحہ 284 زكريا)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و من تكلم بها مخطئاً أو مكرهاً لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامداً عالماً كفر عند الكل، و من تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف"*
یعنی جس نے غلطی یا مجبور ہو کر کلمہ کفر کے ساتھ تکَلُّم کیا تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، اور جس نے جان بوجھ کر کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر کی جائے گی، اور جس نے اختیار سے کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو اس میں اختلاف ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب : مایشک انہ ردۃ لا یحکم بھا، جلد 6، صفحہ 346 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے تھے :
"کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پَچْ کی (یعنی اگر کی ہوئی بات پر اڑا رہا) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔"
*(بہارِ شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ 174 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله عليه وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 209:*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 25 :*
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
ہ)*
*فائدہ:*
علماءِاہلسنت کی خطاء و غلطی کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی، لغزشِ فاحش واقع ہو اس کا اِخْفاء (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذاللہ لوگ بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا، اس میں خلل واقع ہوگا، اس کی اشاعت، اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآنِ عظیم حرام۔
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 595 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/01/2019
03068209
*تصدیق و تصحیح :*
علماءِ کرام کے متعلق آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
*فائدہ:*
علماءِاہلسنت کی خطاء و غلطی کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی، لغزشِ فاحش واقع ہو اس کا اِخْفاء (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذاللہ لوگ بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا، اس میں خلل واقع ہوگا، اس کی اشاعت، اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآنِ عظیم حرام۔
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 595 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/01/2019
03068209
*تصدیق و تصحیح :*
علماءِ کرام کے متعلق آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرتِ فضیل کو ایک لڑکی سے پیار ہوا
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ڈاکو تھے!
آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ کو ایک لڑکی سے پیار ہوگیا آپ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔ اس کے لیے آپ ایک دیوار پر چڑھے تو ایک تلاوت کرنے والے کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰہ (الحديد:16)
"کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے"
حضرت فضیل بن عیاض نے جب یہ آیت سنی تو کیفیت بدل گئی اور آپ نے عرض کی اے میرے رب وہ وقت آ چکا ہے!
آپ وہاں سے واپس ہوئے اور رات ویرانے میں گزاری
وہاں کچھ مسافر آئے اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ چلو تو کہا گیا کہ نہیں صبح چلیں گے کیونکہ یہاں فضیل نام کا ڈاکو رہتا ہے۔
آپ نے یہ سن کر توبہ کی اور انھیں بھروسہ دلایا پھر آپ نے حرم میں پناہ لی حتیٰ کے آپ کا وصال ہو گیا۔
(رسالہقشیریہ، اردو، ص69)
کہتے ہیں عبرت کے لیے کبھی کبھی ایک لفظ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری کتاب سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مذکورہ آیت واقعی اہل ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔
اس میں بندوں کو رب کی یاد دلائی جا رہی ہے اور بھٹکے ہوئے کو ایک محبت بھری صدا دی جا رہی ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارے دلوں کی بھی کیفیت بدل سکتی ہے۔
عبد مصطفیٰ
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ڈاکو تھے!
آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ کو ایک لڑکی سے پیار ہوگیا آپ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔ اس کے لیے آپ ایک دیوار پر چڑھے تو ایک تلاوت کرنے والے کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰہ (الحديد:16)
"کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے"
حضرت فضیل بن عیاض نے جب یہ آیت سنی تو کیفیت بدل گئی اور آپ نے عرض کی اے میرے رب وہ وقت آ چکا ہے!
آپ وہاں سے واپس ہوئے اور رات ویرانے میں گزاری
وہاں کچھ مسافر آئے اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ چلو تو کہا گیا کہ نہیں صبح چلیں گے کیونکہ یہاں فضیل نام کا ڈاکو رہتا ہے۔
آپ نے یہ سن کر توبہ کی اور انھیں بھروسہ دلایا پھر آپ نے حرم میں پناہ لی حتیٰ کے آپ کا وصال ہو گیا۔
(رسالہقشیریہ، اردو، ص69)
کہتے ہیں عبرت کے لیے کبھی کبھی ایک لفظ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری کتاب سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مذکورہ آیت واقعی اہل ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔
اس میں بندوں کو رب کی یاد دلائی جا رہی ہے اور بھٹکے ہوئے کو ایک محبت بھری صدا دی جا رہی ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارے دلوں کی بھی کیفیت بدل سکتی ہے۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زنا ایک قرض ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اب وہ چاہے آنکھ کا زنا ہو،
ہاتھ کا زنا ہو، کانوں کا زنا ہو،
یا زبان کا زنا ہو یا کوئی اور زنا ہو
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اب وہ چاہے آنکھ کا زنا ہو،
ہاتھ کا زنا ہو، کانوں کا زنا ہو،
یا زبان کا زنا ہو یا کوئی اور زنا ہو
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے!
یہ دنیا مکافات عمل ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اپنی بہن کے لئے گوارہ نہیں کرتے
تو دوسروں کی بہن کے لئے
کیسے گوارہ کرتے ہو ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب
یہ دنیا مکافات عمل ہے!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
اپنی بہن کے لئے گوارہ نہیں کرتے
تو دوسروں کی بہن کے لئے
کیسے گوارہ کرتے ہو ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍️ سید کامران قادری صاحب