Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*آؤ!خود کو بدلیں*
تحریر: *محمداسمٰعیل بدایونی*
یہ شاید 2001 کی بات تھی میں اپنے والد کے ساتھ اردو بازار کراچی میں ضیاء القرآن کی بک شاپ پر کھڑا تھا میرے والد میری رہنمائی کررہے تھے کہ کون سی کتابیں لینی چاہییں ۔
مجھے کتب بنی کا شوق والد صاحب سے ہی ورثے میں ملا تھا میرے والد نے میرے اس شوق کو خوب بڑھاوا دیا اور پھر یوں ہونے لگا کہ میں اکثر اپنی آدھی تنخواہ سے صرف کتابیں خریدتا اور جب گھر لاتا تو میں اور میرے والد اِن کتابوں کودیکھ کر خوش ہوتے جب کہ والدہ محترمہ کے ماتھے پر شکنیں نمودا ر ہوتیں اور ساتھ آواز سُنائی دیتی کیا پہلے ہی گھر میں کتابیں کم ہیں ؟
ان کے پیار بھرے جاہ و جلال کو دیکھ کر میں اور میرے والد مسکرا دیتے ۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد اردو بازار سے گزرتے ہوئے میری نگاہ ایک کتاب ’’ امریکہ کہ اسلام دشمنی‘‘ پر پڑی ۔۔۔یہ پال فنڈلے کی انگریزی کتاب :
Silent no more : confronting America's false images of Islam کا ترجمہ تھا ۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ کتاب خرید لی۔۔۔
گھر لا کر کتابیں رکھ دیں اور اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ۔۔۔شفٹوں کی ڈیوٹی تھی رات ۱۲ بجے گھر آ یا کھانا کھا کر یہ کتاب اٹھا لی اور پڑھنے لگا ۔
اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو میں اس کتاب کے اصل عنوان کے بجائے ماضی کے بارے میں سوچتا چلا گیا، کیسا عروج تھا مسلمانوں کا ۔۔۔
اور اب میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔بھیڑئیے جمع ہو چکے ہیں ۔۔۔
بہت مہذب بھیڑئیے ہیں یہ دسترخوان لگا رہے ہیں اور مسلمانوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں ۔۔۔کبھی شام کا مسلمان پریشان ہے تو کبھی عراق کی سر زمین کو آگ اور خون میں نہلایا جا رہاہے ۔۔۔کبھی افغانستان ،کبھی فلسطین اور کبھی کشمیر و برما کا یہاں تک کہ چین کا مسلمان بھی پریشان ہے ۔۔۔
میری آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی اور میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور سو گیا دوسرے دن شام کے وقت میں نے اپنے باباجان سے کہا ۔
بابا جان !مجھے میرے چند سوالات کا جواب دیجیے ۔
کیا دینِ اسلام سچا دین نہیں ؟
اگر ہاں اور یقینا ًہاں ! تو پھر ہم پریشان حال کیوں ہیں ؟
بابا جان نے کہا : تم نے کتاب پڑھ لی ؟
میں نے کہا :نہیں ۔
بابا جان نے کہا :میں نے کل اس کا پہلا باب پڑھا تھا ۔
اس باب کی ابتداء میں ہی پال فنڈلے لکھتا ہے اسلام کے بارے میں اس کا اولین تعارف ہی کچھ اچھا نہیں ہوا تھا اس کے اسکول میں اس کی ایک مس تھیں جو رضا کارانہ طور پر پڑھایا کرتی تھیں اس مس کو اسلام سے شدید بغض تھا اس نے اسلام کے بارے میں منفی خیالات ان بچوں کو دل و دماغ میں بٹھا دئیے اور شاید پورے مغرب میں اسی طرح اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں زہر یلا پروپیگنڈا کیا گیاہے ۔ بابا جان نے پہلے باب کے ابتدائی صفحات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن اب مسلمان کیسے عروج حاصل کریں ؟میں نے بابا جان سے کہا ۔
قرآن کریم نے حل دیاہے ۔۔۔
میں نے بے ساختہ پوچھا : وہ کیا؟
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ سورہ رعد 11
بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾ انفال
یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۔
اب ذرا انفرادی اور اجتماعی طور پر دیکھو کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی ؟
کیا ہم نے ہم نے اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانا چاہا ؟
بابا جان نے کہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے کہا:بچے تو سب ہی مسلمان ہیں اور سچے مسلمان ہیں۔
ہاں ! ہم اور ہمارے بچے !!!ہم بچوں کو صبح فجر میں نہیں جگاتے البتہ اسکول کے لیے مار کر بھی جگاتے ہیں ۔۔۔ یہ تو صرف ایک مثال دی ہے ورنہ چوبیس گھنٹوں میں مسلمان والدین کتنا وقت اس کو شش میں گزارتے ہیں کہ ان کا بچہ سچا مسلمان بنے ۔۔۔
بابا جان نےکے لہجے میں شکایت صاف موجود تھی ۔میں خا موش ہو گیا ۔
کیا ہم نے کوشش کی کہ ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی حقیقی تصویر پہنچا سکیں ؟
نہ تو ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی تعلیمات پہنچارہے ہیں اور نہ ہی ہم اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری حالت بدل دے ۔۔۔(ہمارے بچوں کی جو اس وقت سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے اپنے مسلک و مشرب کی جنگ گالیوں سے لڑ رہے ہیں ان کی اخلاقی حالت ملاحظہ کیجیے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہمارے حالوں پر )
شاعر کہتا ہے ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پیارے بچو ! کیا آپ چاہتے ہیں دنیا بھر سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کاخاتمہ ہو جا
تحریر: *محمداسمٰعیل بدایونی*
یہ شاید 2001 کی بات تھی میں اپنے والد کے ساتھ اردو بازار کراچی میں ضیاء القرآن کی بک شاپ پر کھڑا تھا میرے والد میری رہنمائی کررہے تھے کہ کون سی کتابیں لینی چاہییں ۔
مجھے کتب بنی کا شوق والد صاحب سے ہی ورثے میں ملا تھا میرے والد نے میرے اس شوق کو خوب بڑھاوا دیا اور پھر یوں ہونے لگا کہ میں اکثر اپنی آدھی تنخواہ سے صرف کتابیں خریدتا اور جب گھر لاتا تو میں اور میرے والد اِن کتابوں کودیکھ کر خوش ہوتے جب کہ والدہ محترمہ کے ماتھے پر شکنیں نمودا ر ہوتیں اور ساتھ آواز سُنائی دیتی کیا پہلے ہی گھر میں کتابیں کم ہیں ؟
ان کے پیار بھرے جاہ و جلال کو دیکھ کر میں اور میرے والد مسکرا دیتے ۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد اردو بازار سے گزرتے ہوئے میری نگاہ ایک کتاب ’’ امریکہ کہ اسلام دشمنی‘‘ پر پڑی ۔۔۔یہ پال فنڈلے کی انگریزی کتاب :
Silent no more : confronting America's false images of Islam کا ترجمہ تھا ۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ کتاب خرید لی۔۔۔
گھر لا کر کتابیں رکھ دیں اور اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ۔۔۔شفٹوں کی ڈیوٹی تھی رات ۱۲ بجے گھر آ یا کھانا کھا کر یہ کتاب اٹھا لی اور پڑھنے لگا ۔
اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو میں اس کتاب کے اصل عنوان کے بجائے ماضی کے بارے میں سوچتا چلا گیا، کیسا عروج تھا مسلمانوں کا ۔۔۔
اور اب میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔بھیڑئیے جمع ہو چکے ہیں ۔۔۔
بہت مہذب بھیڑئیے ہیں یہ دسترخوان لگا رہے ہیں اور مسلمانوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں ۔۔۔کبھی شام کا مسلمان پریشان ہے تو کبھی عراق کی سر زمین کو آگ اور خون میں نہلایا جا رہاہے ۔۔۔کبھی افغانستان ،کبھی فلسطین اور کبھی کشمیر و برما کا یہاں تک کہ چین کا مسلمان بھی پریشان ہے ۔۔۔
میری آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی اور میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور سو گیا دوسرے دن شام کے وقت میں نے اپنے باباجان سے کہا ۔
بابا جان !مجھے میرے چند سوالات کا جواب دیجیے ۔
کیا دینِ اسلام سچا دین نہیں ؟
اگر ہاں اور یقینا ًہاں ! تو پھر ہم پریشان حال کیوں ہیں ؟
بابا جان نے کہا : تم نے کتاب پڑھ لی ؟
میں نے کہا :نہیں ۔
بابا جان نے کہا :میں نے کل اس کا پہلا باب پڑھا تھا ۔
اس باب کی ابتداء میں ہی پال فنڈلے لکھتا ہے اسلام کے بارے میں اس کا اولین تعارف ہی کچھ اچھا نہیں ہوا تھا اس کے اسکول میں اس کی ایک مس تھیں جو رضا کارانہ طور پر پڑھایا کرتی تھیں اس مس کو اسلام سے شدید بغض تھا اس نے اسلام کے بارے میں منفی خیالات ان بچوں کو دل و دماغ میں بٹھا دئیے اور شاید پورے مغرب میں اسی طرح اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں زہر یلا پروپیگنڈا کیا گیاہے ۔ بابا جان نے پہلے باب کے ابتدائی صفحات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن اب مسلمان کیسے عروج حاصل کریں ؟میں نے بابا جان سے کہا ۔
قرآن کریم نے حل دیاہے ۔۔۔
میں نے بے ساختہ پوچھا : وہ کیا؟
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ سورہ رعد 11
بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾ انفال
یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۔
اب ذرا انفرادی اور اجتماعی طور پر دیکھو کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی ؟
کیا ہم نے ہم نے اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانا چاہا ؟
بابا جان نے کہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے کہا:بچے تو سب ہی مسلمان ہیں اور سچے مسلمان ہیں۔
ہاں ! ہم اور ہمارے بچے !!!ہم بچوں کو صبح فجر میں نہیں جگاتے البتہ اسکول کے لیے مار کر بھی جگاتے ہیں ۔۔۔ یہ تو صرف ایک مثال دی ہے ورنہ چوبیس گھنٹوں میں مسلمان والدین کتنا وقت اس کو شش میں گزارتے ہیں کہ ان کا بچہ سچا مسلمان بنے ۔۔۔
بابا جان نےکے لہجے میں شکایت صاف موجود تھی ۔میں خا موش ہو گیا ۔
کیا ہم نے کوشش کی کہ ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی حقیقی تصویر پہنچا سکیں ؟
نہ تو ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی تعلیمات پہنچارہے ہیں اور نہ ہی ہم اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری حالت بدل دے ۔۔۔(ہمارے بچوں کی جو اس وقت سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے اپنے مسلک و مشرب کی جنگ گالیوں سے لڑ رہے ہیں ان کی اخلاقی حالت ملاحظہ کیجیے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہمارے حالوں پر )
شاعر کہتا ہے ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پیارے بچو ! کیا آپ چاہتے ہیں دنیا بھر سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کاخاتمہ ہو جا
Forwarded from Zubair 006
ئے ؟
تو آپ کو سچا پکا مسلمان بننا ہو گا ۔۔۔
آپ کا اخلاق ۔۔۔آپ کا کردار ۔۔۔آپ کا عمل گواہی دے کہ آپ محمد عربی ﷺ کے سچے امتی اور سچے غلام ہیں ۔۔۔آپ نے مسلمانوں کی تاریخ کو بدلنا ہے اور انہیں واپس اس عروج پر لے کر جانا ہے ۔۔۔
دنیا آپ کے کردار کو دیکھ کر کہے دیکھو نبی آخر الزماں ﷺ کا غلام جا رہاہے ۔۔۔جن کے غلاموں کا یہ حال ہو اس کے آقا کیسے ہوں گے اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو نے لگیں
تو آپ کو سچا پکا مسلمان بننا ہو گا ۔۔۔
آپ کا اخلاق ۔۔۔آپ کا کردار ۔۔۔آپ کا عمل گواہی دے کہ آپ محمد عربی ﷺ کے سچے امتی اور سچے غلام ہیں ۔۔۔آپ نے مسلمانوں کی تاریخ کو بدلنا ہے اور انہیں واپس اس عروج پر لے کر جانا ہے ۔۔۔
دنیا آپ کے کردار کو دیکھ کر کہے دیکھو نبی آخر الزماں ﷺ کا غلام جا رہاہے ۔۔۔جن کے غلاموں کا یہ حال ہو اس کے آقا کیسے ہوں گے اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو نے لگیں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ایک اہل تشیع اپنےمسلک کےاعتبارسےبڑےعلمی گھرانےسےتعلق رکھتاتھا۔
اس کےپاس کافی معلومات بھی تھیں ۔اس کےبقول میرے ان سوالات کاجواب کسی مولوی کےپاس نہیں ہے۔
میں نےاس سےجب ملاقات کی تواسکی ہرہراداسے گویاعلماءسے حتّٰی کہ صحابہ کرامؓ سےبھی نفرت وحقارت کی جھلک واضح تھی۔
میں نے میزبان ہونےکی حیثیت سے بڑےاخلاق سےانہیں بٹھایا۔تھوڑی دیر حال ،احوال دریافت کرنے کےبعد گفتگوشروع ہوگئی۔
اس کاپہلاسوال ہی بزعم خودبڑاجاندارتھا اوروہ یہ کہ تم ابوبکر(رضی اللہ عنہ)کونبی ؐکاخلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکرصدیق(رضی اللہ عنہ)کو خلیفہ رسولؐ اسلیےنہیں مانتےکہ انہوں نےسیدہ کائنات،خاتون جنت کوان کاحق نہیں دیاتھا۔بلکہ ان کاحق غصب کرلیاتھا۔
میں نےکہاذراکھل کربولیں جوآپ کہناچاہ رہےہیں۔اوراس حق کی وضاحت کردیں کہ وہ حق کیاتھا؟۔
کہنےلگاوہ ،باغ فدک؛ جوحضورؐنےوراثت میں چھوڑاتھا۔وہ حضورؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓکوملناتھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکرؓنےنہیں دیاتھا۔
یہ صرف میرادعوی ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوےہرمسلک کی کتابوں سے ایسےوزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کاکوئی عالم جھٹلانہیں سکتا۔
یہ بات اس نےبڑےپراعتماداورمضبوط اندازمیں کہی۔
مزیداس نےکہاکہ میری بات کےثبوت کیلیےیہی کافی ہےکہ وہ،باغ فدک ؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیرتصرف ہے۔اوروہ حکومتی مصارف کیلیےوقف ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہےکہ آج تک آل رسولؐ کوان کاحق نہیں ملاہے۔
اب آپ ہی بتائیں جنہوں نےآل رسولؐ کےساتھ یہ کیاہوہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کرلیں؟؟؟
میں نےاسکی گفتگوبڑےتحمل سےسنی۔اوراس کااعتراض سن کرمیں نےپوچھاکہ آپ کاسوال مکمل ہوگیایاکچھ باقی ہے؟
وہ کہنےلگامیراسوال مکمل ہوگیاہےاب آپ جواب دیں۔
میں نےعرض کیا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےبعدپہلاخلیفہ کن کومانتےہو؟؟؟
وہ کہنےلگاہم مولٰی علی ؑکوخلیفہ بلافصل مانتےہیں ۔
میں نےکہاکہ عوام وخواص کےجان ومال اورانکےحقوق کاتحفظ خلیفةالمسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہےکسی اورکی نہیں۔مجھےآپ پرتعجب ہورہاہےکہ آپ خلیفہ بلافصل توحضرت علیؓ ؓکومان رہےہیں اوراعتراض حضرت ابوبکرپرکررہےہیں۔یاتوابوبکرؓ کوپہلاخلیفہ مانوپھرآپ کاان پراعتراض کرنےکاکسی حدتک جواز بھی بنتاہے ورنہ جن کو آپ پہلاخلیفہ مانتےہویہ اعتراض بھی انہی پرکرسکتےہوکہ آپ کی خلافت کےزمانےمیں خاتون جنت کاحق کیوں ماراگیا؟؟؟
میری بات سن کراسےحیرت کاایک جھٹکالگامگرساتھ ہی اس نےخودکوسنبھالتےہوئےکہا جی بات دراصل یہ ہےکہ ہمارےہاں مولیٰ علی ؑ کی خلافت ظاہری آپکے خلفاء ثلاثہ کےبعدشروع ہوتی ہےاس سےپہلےتوہم ان کی خلافت کوغصب مانتےہیں یعنی آپ کےخلفائےثلاثہ نےمولیٰ علی کی خلافت کوظاہری طورپرغصب کیاہوا تھا۔اسلیےمولاعلی تواس وقت مجبورتھے وہ یہ حق کیسےدےسکتےتھے؟۔
اس کی یہ تاویل سن کرمیں نےکہاعزیزم !میرے تعجب میں آپ نےمزیداضافہ کردیاہے ایک طرف توآپ کایہ عقیدہ ہے کہ مولاعلیؓ مشکل کشاہیں۔عجیب بات ہےکہ انہیں کے گھر کی ایک کےبعددوسری مشکل آپ نےذکرکردی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق ماراگیا لیکن وہ مجبورتھےاوروہ مشکل کشاہونےکے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کرسکے۔پھران کااپناحق (خلافت)غصب ہوالیکن وہ خوداپنی مشکل کشائی بھی نہ کرسکے۔یاتوان کی مشکل کشائی کاانکارکردواوراگرانہیں مشکل کشامانتےہوتویہ من گھڑت باتیں کہناچھوڑدو کہ طاقتوروں نےان کےحقوق غصب کرلیےتھے۔
دوسری بات یہ ہےکہ اگربالفرض والمحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کرلی جائےکہ اصحاب ثلاثہ نےان کی خلافت غصب کرلی تھی،اب سوال یہ ہےکہ خلفاءثلاثہ کےبعدجب حضرت علی ؓ کوظاہری خلافت مل گئی اوران کی شہادت کےبعدانہی کےصاحبزادےحضرت حسن ؓ خلیفہ بنےتوکیااس وقت انہوں نےباغ فدک لےلیاتھا؟؟؟
جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کےزمانےمیں غصب کیاگیاتھا،اب توانہی کی حکومت تھی جن کاحق غصب کیاگیا۔لیکن انہوں نےاپنی حکومت ہونےکےباوجوداس حق کوکیوں چھوڑدیاتھا؟۔آج بھی آپ کےبقول وہ سعودی حکومت کےکنٹرول میں ہے تو بھائی وہ باغ جن کاحق تھاجب انہوں نےچھوڑ دیاہےتوآپ بھی اب مہربانی کرکےان قصوں کوچھوڑدیں اوراگرآپ کااعتراض حضرت ابوبکرپرہےکہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کوباغ فدک کیوں نہیں ملا؟تویہی اعتراض آپ کاحضرت علی پربھی ہوگاکہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کوباغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟
میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنےلگامگرمیں نےاسی لمحہ اس پرایک اور سوال کردیاکہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولادکوہی ملتی ہےیابیویوں اوردوسرے ورثاءکوبھی ملتی ہے؟؟؟
کہنےلگا۔۔۔بیویوں اوردوسرےورثاء کوبھی ملتی ہے۔
میں نےکہاپھرآپ کااعتراض صرف حضرت فاطمہؓ کےبارےکیوں ہے؟حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کےبارے آپ نےکیوں نہیں کہاکہ انہیں بھی وراثت سےمحروم رکھاگیاہے۔اورآپ جانتےہیں کہ ازواج مطہرات میں حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت عائشہؓ اورحضرت عمرؓکی صاحبزادی حضرت حفصہ ؓبھی ہیں۔آپ نےخلفاء رسول پریہ الزام دھرنےسےپہلےکبھی نہیں سوچاکہ اگرانہوں نےنبی صلی اللہ
اس کےپاس کافی معلومات بھی تھیں ۔اس کےبقول میرے ان سوالات کاجواب کسی مولوی کےپاس نہیں ہے۔
میں نےاس سےجب ملاقات کی تواسکی ہرہراداسے گویاعلماءسے حتّٰی کہ صحابہ کرامؓ سےبھی نفرت وحقارت کی جھلک واضح تھی۔
میں نے میزبان ہونےکی حیثیت سے بڑےاخلاق سےانہیں بٹھایا۔تھوڑی دیر حال ،احوال دریافت کرنے کےبعد گفتگوشروع ہوگئی۔
اس کاپہلاسوال ہی بزعم خودبڑاجاندارتھا اوروہ یہ کہ تم ابوبکر(رضی اللہ عنہ)کونبی ؐکاخلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکرصدیق(رضی اللہ عنہ)کو خلیفہ رسولؐ اسلیےنہیں مانتےکہ انہوں نےسیدہ کائنات،خاتون جنت کوان کاحق نہیں دیاتھا۔بلکہ ان کاحق غصب کرلیاتھا۔
میں نےکہاذراکھل کربولیں جوآپ کہناچاہ رہےہیں۔اوراس حق کی وضاحت کردیں کہ وہ حق کیاتھا؟۔
کہنےلگاوہ ،باغ فدک؛ جوحضورؐنےوراثت میں چھوڑاتھا۔وہ حضورؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓکوملناتھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکرؓنےنہیں دیاتھا۔
یہ صرف میرادعوی ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوےہرمسلک کی کتابوں سے ایسےوزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کاکوئی عالم جھٹلانہیں سکتا۔
یہ بات اس نےبڑےپراعتماداورمضبوط اندازمیں کہی۔
مزیداس نےکہاکہ میری بات کےثبوت کیلیےیہی کافی ہےکہ وہ،باغ فدک ؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیرتصرف ہے۔اوروہ حکومتی مصارف کیلیےوقف ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہےکہ آج تک آل رسولؐ کوان کاحق نہیں ملاہے۔
اب آپ ہی بتائیں جنہوں نےآل رسولؐ کےساتھ یہ کیاہوہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کرلیں؟؟؟
میں نےاسکی گفتگوبڑےتحمل سےسنی۔اوراس کااعتراض سن کرمیں نےپوچھاکہ آپ کاسوال مکمل ہوگیایاکچھ باقی ہے؟
وہ کہنےلگامیراسوال مکمل ہوگیاہےاب آپ جواب دیں۔
میں نےعرض کیا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےبعدپہلاخلیفہ کن کومانتےہو؟؟؟
وہ کہنےلگاہم مولٰی علی ؑکوخلیفہ بلافصل مانتےہیں ۔
میں نےکہاکہ عوام وخواص کےجان ومال اورانکےحقوق کاتحفظ خلیفةالمسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہےکسی اورکی نہیں۔مجھےآپ پرتعجب ہورہاہےکہ آپ خلیفہ بلافصل توحضرت علیؓ ؓکومان رہےہیں اوراعتراض حضرت ابوبکرپرکررہےہیں۔یاتوابوبکرؓ کوپہلاخلیفہ مانوپھرآپ کاان پراعتراض کرنےکاکسی حدتک جواز بھی بنتاہے ورنہ جن کو آپ پہلاخلیفہ مانتےہویہ اعتراض بھی انہی پرکرسکتےہوکہ آپ کی خلافت کےزمانےمیں خاتون جنت کاحق کیوں ماراگیا؟؟؟
میری بات سن کراسےحیرت کاایک جھٹکالگامگرساتھ ہی اس نےخودکوسنبھالتےہوئےکہا جی بات دراصل یہ ہےکہ ہمارےہاں مولیٰ علی ؑ کی خلافت ظاہری آپکے خلفاء ثلاثہ کےبعدشروع ہوتی ہےاس سےپہلےتوہم ان کی خلافت کوغصب مانتےہیں یعنی آپ کےخلفائےثلاثہ نےمولیٰ علی کی خلافت کوظاہری طورپرغصب کیاہوا تھا۔اسلیےمولاعلی تواس وقت مجبورتھے وہ یہ حق کیسےدےسکتےتھے؟۔
اس کی یہ تاویل سن کرمیں نےکہاعزیزم !میرے تعجب میں آپ نےمزیداضافہ کردیاہے ایک طرف توآپ کایہ عقیدہ ہے کہ مولاعلیؓ مشکل کشاہیں۔عجیب بات ہےکہ انہیں کے گھر کی ایک کےبعددوسری مشکل آپ نےذکرکردی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق ماراگیا لیکن وہ مجبورتھےاوروہ مشکل کشاہونےکے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کرسکے۔پھران کااپناحق (خلافت)غصب ہوالیکن وہ خوداپنی مشکل کشائی بھی نہ کرسکے۔یاتوان کی مشکل کشائی کاانکارکردواوراگرانہیں مشکل کشامانتےہوتویہ من گھڑت باتیں کہناچھوڑدو کہ طاقتوروں نےان کےحقوق غصب کرلیےتھے۔
دوسری بات یہ ہےکہ اگربالفرض والمحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کرلی جائےکہ اصحاب ثلاثہ نےان کی خلافت غصب کرلی تھی،اب سوال یہ ہےکہ خلفاءثلاثہ کےبعدجب حضرت علی ؓ کوظاہری خلافت مل گئی اوران کی شہادت کےبعدانہی کےصاحبزادےحضرت حسن ؓ خلیفہ بنےتوکیااس وقت انہوں نےباغ فدک لےلیاتھا؟؟؟
جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کےزمانےمیں غصب کیاگیاتھا،اب توانہی کی حکومت تھی جن کاحق غصب کیاگیا۔لیکن انہوں نےاپنی حکومت ہونےکےباوجوداس حق کوکیوں چھوڑدیاتھا؟۔آج بھی آپ کےبقول وہ سعودی حکومت کےکنٹرول میں ہے تو بھائی وہ باغ جن کاحق تھاجب انہوں نےچھوڑ دیاہےتوآپ بھی اب مہربانی کرکےان قصوں کوچھوڑدیں اوراگرآپ کااعتراض حضرت ابوبکرپرہےکہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کوباغ فدک کیوں نہیں ملا؟تویہی اعتراض آپ کاحضرت علی پربھی ہوگاکہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کوباغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟
میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنےلگامگرمیں نےاسی لمحہ اس پرایک اور سوال کردیاکہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولادکوہی ملتی ہےیابیویوں اوردوسرے ورثاءکوبھی ملتی ہے؟؟؟
کہنےلگا۔۔۔بیویوں اوردوسرےورثاء کوبھی ملتی ہے۔
میں نےکہاپھرآپ کااعتراض صرف حضرت فاطمہؓ کےبارےکیوں ہے؟حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کےبارے آپ نےکیوں نہیں کہاکہ انہیں بھی وراثت سےمحروم رکھاگیاہے۔اورآپ جانتےہیں کہ ازواج مطہرات میں حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت عائشہؓ اورحضرت عمرؓکی صاحبزادی حضرت حفصہ ؓبھی ہیں۔آپ نےخلفاء رسول پریہ الزام دھرنےسےپہلےکبھی نہیں سوچاکہ اگرانہوں نےنبی صلی اللہ
Forwarded from Zubair 006
علیہ وسلم کی صاحبزادی کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت نہیں دی تواپنی صاحبزادیوں کوبھی تواس سےمحروم رکھاہے۔
میری گفتگوسن کراب وہ مکمل خاموش تھا۔ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوباہوابھی معلوم ہوا۔
میں نےاسےپھرمتوجہ کرتے ہوئےکہاکہ عزیزم !کب تک ان پاک ہستیوں کےبارےبدگمانی پیداکرنےوالی بےسروپاجھوٹی باتوں کی وجہ سےحقائق سےآنکھیں بندکرکےرکھوگے؟۔
آ۔۔۔۔اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتادوں جس کی وجہ سےحضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت آپؐ کےکسی وارث کونہیں دی گئی۔وہ خودجناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے
؛نحن معشرالانبیاء لانرث ولانورث،ماترکناصدقة؛
یعنی ہم انبیاء دنیاکی وراثت میں نہ کسی کےوارث بنتےہیں اورنہ کوئی ہماراوارث بنتاہے۔ہم جومال وجائیدادچھوڑتےہیں وہ امت پرصدقہ ہوتاہے۔
میں نےاسےکہاعزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ سےلےکرحضرت علیؓ اورحضرت حسنؓ تک کسی بھی خلیفہ نے؛باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لےکرآج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنےکی کوشش کررہےہیں۔
نوجوان اب میری گفتگوسن کرپریشان اورنادم محسوس ہونےلگا۔پھرانتہائی عاجزی سےاس نےمجھےدیکھااورگویاہوا۔آپ کابہت بہت شکریہ آپ نےمیری آنکھیں کھول دیں۔آج سےمیں اس طرح کےاعتراضات کرنےسےتوبہ کرتاہوں۔اب میں رب تعالی سےبھی وعدہ کرتاہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہؓ کےبارےمیں اپنی سوچ کومثبت بناوں گا۔
میں نےاس نوجوان کومبارک دی اورایک محبت سےبھرپورمعانقہ ومصافحہ ہوا۔
پھروہ نوجوان شکریہ اداکرتےہوئےچلاگیا۔
والسلام ۔۔۔۔{منقول}
🌹یہ جو پوسٹ آپ نے پڑھ لیاہے میرےدوستوں اوربہن بھاٸیوں ، یہ ایک لاجواب کالم اورہزاروں کتابوں سے زیادہ پُرمغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کواتناپھیلادیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرےپر بھی واضح ہوجاٸیں۔ لھذا آپ کی ایک کلک دوسرے کی رہنماٸ کاباعث بن سکتاہے!!!
اسلام اورمعاشرہ کے ساتھ منسلک رہیں!!
میری گفتگوسن کراب وہ مکمل خاموش تھا۔ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوباہوابھی معلوم ہوا۔
میں نےاسےپھرمتوجہ کرتے ہوئےکہاکہ عزیزم !کب تک ان پاک ہستیوں کےبارےبدگمانی پیداکرنےوالی بےسروپاجھوٹی باتوں کی وجہ سےحقائق سےآنکھیں بندکرکےرکھوگے؟۔
آ۔۔۔۔اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتادوں جس کی وجہ سےحضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت آپؐ کےکسی وارث کونہیں دی گئی۔وہ خودجناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے
؛نحن معشرالانبیاء لانرث ولانورث،ماترکناصدقة؛
یعنی ہم انبیاء دنیاکی وراثت میں نہ کسی کےوارث بنتےہیں اورنہ کوئی ہماراوارث بنتاہے۔ہم جومال وجائیدادچھوڑتےہیں وہ امت پرصدقہ ہوتاہے۔
میں نےاسےکہاعزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ سےلےکرحضرت علیؓ اورحضرت حسنؓ تک کسی بھی خلیفہ نے؛باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لےکرآج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنےکی کوشش کررہےہیں۔
نوجوان اب میری گفتگوسن کرپریشان اورنادم محسوس ہونےلگا۔پھرانتہائی عاجزی سےاس نےمجھےدیکھااورگویاہوا۔آپ کابہت بہت شکریہ آپ نےمیری آنکھیں کھول دیں۔آج سےمیں اس طرح کےاعتراضات کرنےسےتوبہ کرتاہوں۔اب میں رب تعالی سےبھی وعدہ کرتاہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہؓ کےبارےمیں اپنی سوچ کومثبت بناوں گا۔
میں نےاس نوجوان کومبارک دی اورایک محبت سےبھرپورمعانقہ ومصافحہ ہوا۔
پھروہ نوجوان شکریہ اداکرتےہوئےچلاگیا۔
والسلام ۔۔۔۔{منقول}
🌹یہ جو پوسٹ آپ نے پڑھ لیاہے میرےدوستوں اوربہن بھاٸیوں ، یہ ایک لاجواب کالم اورہزاروں کتابوں سے زیادہ پُرمغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کواتناپھیلادیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرےپر بھی واضح ہوجاٸیں۔ لھذا آپ کی ایک کلک دوسرے کی رہنماٸ کاباعث بن سکتاہے!!!
اسلام اورمعاشرہ کے ساتھ منسلک رہیں!!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
خواجہ غریب نواز کی توہین نفرتوں کو بڑھاوا دینے کی سازش
نوری مشن ناسک کا نیوز 18 کے اینکر امیش دیوگن پر کارروائی کا مطالبہ
ناسک: نیوز 18 کے اینکرامیش دیوگن نے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس سے پورے ملک کے مسلمان اور امن پسند بھارتی شدید رنجیدہ ہیں۔ خانقاہوں، تنظیموں، اداروں اور سماجی و ملی تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ ڈیمانڈ کی جا رہی ہے کہ مذکورہ اینکر کو فوری گرفتار کیا جائے اور سخت دفعات عائد کی جائیں تا کہ پھر کوئی اِس طرح نفرت پھیلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ اِس طرح کا بیان نوری مشن ناسک نے 18؍جون کو جاری کیا۔ اسی دن دوپہر میں نوری مشن کا ایک وفد ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک میں پولیس پی آئی وجے کمار دھمال سے ملاقات کو پہنچا۔جہاں تحریری عریضہ پیش کیا گیا جس میں مذکورہ چینل کے گستاخ اینکر پر کارروائی کا مطالبہ درج تھا۔ اِسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ بھارت میں امن واخوت کی علامت حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس ہے جہاں سے کروڑوں لوگوں کا روحانی رشتہ ہے۔ ایسی عظیم ہستی کے خلاف دہشت گردانہ ریمارک کا مقصد ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینا ہے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے ایسی سازش کو ناکام بنانے کے لیے گستاخ اینکر پر سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک کے وجے کمار دھمال نے بھی یہ بات کہی کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے جس کی میں بھی مذمت کرتا ہوں۔موصوف نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس اس معاملے میں کارروائی کرے گی۔ واضح ہو کہ اہلسنّت سے وابستہ خانقاہوں، تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پورے ملک میں مذکورہ حرکت پر پُر امن و جمہوری طریقے سے احتجاج درج کروایاجا رہا ہے۔ وفد میں ڈاکٹر امام خان، احمد رضا شیخ، خضر رضوی، تنظیم رضوی، صوفی رضا، شعیب پٹیل، عظیم اشرفی، عابد نواز، مدثر پٹھان وغیرہ شامل تھے۔
***
١٨ جون ٢٠٢٠ء
نوری مشن ناسک کا نیوز 18 کے اینکر امیش دیوگن پر کارروائی کا مطالبہ
ناسک: نیوز 18 کے اینکرامیش دیوگن نے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس سے پورے ملک کے مسلمان اور امن پسند بھارتی شدید رنجیدہ ہیں۔ خانقاہوں، تنظیموں، اداروں اور سماجی و ملی تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ ڈیمانڈ کی جا رہی ہے کہ مذکورہ اینکر کو فوری گرفتار کیا جائے اور سخت دفعات عائد کی جائیں تا کہ پھر کوئی اِس طرح نفرت پھیلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ اِس طرح کا بیان نوری مشن ناسک نے 18؍جون کو جاری کیا۔ اسی دن دوپہر میں نوری مشن کا ایک وفد ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک میں پولیس پی آئی وجے کمار دھمال سے ملاقات کو پہنچا۔جہاں تحریری عریضہ پیش کیا گیا جس میں مذکورہ چینل کے گستاخ اینکر پر کارروائی کا مطالبہ درج تھا۔ اِسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ بھارت میں امن واخوت کی علامت حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس ہے جہاں سے کروڑوں لوگوں کا روحانی رشتہ ہے۔ ایسی عظیم ہستی کے خلاف دہشت گردانہ ریمارک کا مقصد ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینا ہے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے ایسی سازش کو ناکام بنانے کے لیے گستاخ اینکر پر سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن ناسک کے وجے کمار دھمال نے بھی یہ بات کہی کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے جس کی میں بھی مذمت کرتا ہوں۔موصوف نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس اس معاملے میں کارروائی کرے گی۔ واضح ہو کہ اہلسنّت سے وابستہ خانقاہوں، تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پورے ملک میں مذکورہ حرکت پر پُر امن و جمہوری طریقے سے احتجاج درج کروایاجا رہا ہے۔ وفد میں ڈاکٹر امام خان، احمد رضا شیخ، خضر رضوی، تنظیم رضوی، صوفی رضا، شعیب پٹیل، عظیم اشرفی، عابد نواز، مدثر پٹھان وغیرہ شامل تھے۔
***
١٨ جون ٢٠٢٠ء
عطائے رسول حضور خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کی شان میں گستاخی نا قابل برداشت!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
مہراج گنج شبیر احمد نظامی
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
مہراج گنج شبیر احمد نظامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمدگل رضا القادری
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
حضور : نماز میں مقتدی امام سے پہلے رکوع ، سجود کریں ، تو نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ اور سجود کےلئے امام سے پہلے جھک جائے ، یعنی کمر سیدھی نہ رکھے اس نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ یہ ارشاد فرمائے دے ۔
سائل : محمد ذوالفقار عطاری پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* امام سے پہلے کسی رکن میں سبقت کرنا خواہ سجدے میں ہو یا رکوع میں وغیرہ میں مکروہِ تحریمی ہے ، اس سے بچنا ضروری ہےجیسا ہے فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " ویکرہ للمأموم أن یسبق الإمام بالرکوع أو السجود وأن یرفع رأسه فیهما قبل الإمام " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 107 ) در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " قوله : ( و متابعته لامامه فى الفروض ) اى بان ياتى بها معه او بعده حتى لو ركع امامه و رفع فركع هو بعده صح بخلاف ما لو ركع قبل امامه و رفع ثم ركع امامه ولم يركع ثانيا مع امامه او بعده بطلت صلاته " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 173 : کتاب الصلاۃ ، باب صفة الصلاۃ ، بحث الخروج بصنعه ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور غنیة المستملى میں ہے کہ " رفع رأسه من الرکوع أو السجود قبل الامام عاد لتزول المخالفة بالموافقة " اھ ( غنیة المستملی ص 533 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی متابعت مقتدی پر فرض ہے یعنی ان میں کا کوئی فعل امام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا ، تو نماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی ، ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتدی نے ابھی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھا لیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے ۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا لیا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے ، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا ، گناہ گار ہوگا " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 517 / 526 : نماز پڑھنے کا بیان ) اور رکوع و سجود کے لئے امام سے پہلے جھکنے کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " أما یخشی أحدکم أو ألا یخشی أحدکم اذا رفع رأسه قبل الامام أن یجعل اللّٰہ رأسه رأس حمار أو یجعل اللّٰہ صورته صورةَ حمار " اھ ( الصحیح للبخاری ج 1 ص 96 : کتاب الأذان ، باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام ) اور مؤطا امام مالک میں ہے کہ " حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اِمام سے پہلے سر اٹھاتا اور جُھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں " اھ (موطا امام مالک ج 1 ص 201 رقم حدیث 212 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
حضور : نماز میں مقتدی امام سے پہلے رکوع ، سجود کریں ، تو نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ اور سجود کےلئے امام سے پہلے جھک جائے ، یعنی کمر سیدھی نہ رکھے اس نماز کا حکم کیا ہوگا ؟ یہ ارشاد فرمائے دے ۔
سائل : محمد ذوالفقار عطاری پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* امام سے پہلے کسی رکن میں سبقت کرنا خواہ سجدے میں ہو یا رکوع میں وغیرہ میں مکروہِ تحریمی ہے ، اس سے بچنا ضروری ہےجیسا ہے فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " ویکرہ للمأموم أن یسبق الإمام بالرکوع أو السجود وأن یرفع رأسه فیهما قبل الإمام " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 107 ) در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " قوله : ( و متابعته لامامه فى الفروض ) اى بان ياتى بها معه او بعده حتى لو ركع امامه و رفع فركع هو بعده صح بخلاف ما لو ركع قبل امامه و رفع ثم ركع امامه ولم يركع ثانيا مع امامه او بعده بطلت صلاته " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 173 : کتاب الصلاۃ ، باب صفة الصلاۃ ، بحث الخروج بصنعه ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور غنیة المستملى میں ہے کہ " رفع رأسه من الرکوع أو السجود قبل الامام عاد لتزول المخالفة بالموافقة " اھ ( غنیة المستملی ص 533 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی متابعت مقتدی پر فرض ہے یعنی ان میں کا کوئی فعل امام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا ، تو نماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی ، ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتدی نے ابھی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھا لیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے ۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا لیا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے ، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا ، گناہ گار ہوگا " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 517 / 526 : نماز پڑھنے کا بیان ) اور رکوع و سجود کے لئے امام سے پہلے جھکنے کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " أما یخشی أحدکم أو ألا یخشی أحدکم اذا رفع رأسه قبل الامام أن یجعل اللّٰہ رأسه رأس حمار أو یجعل اللّٰہ صورته صورةَ حمار " اھ ( الصحیح للبخاری ج 1 ص 96 : کتاب الأذان ، باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام ) اور مؤطا امام مالک میں ہے کہ " حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اِمام سے پہلے سر اٹھاتا اور جُھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں " اھ (موطا امام مالک ج 1 ص 201 رقم حدیث 212 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 204:*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا کیسا ہے اور اس علم کی منت ماننا کیسا ہے ؟
سائل : تنویر عطاری
*جواب :*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا مُرَوَّجَہ، تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا اور اس علم کے لگانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے کیونکہ پہلی بات یہ کہ غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کا تین کونوں والا اور کالا ہونا ثابت ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض ان کے جھنڈے کا ایسا ہونا ثابت ہو بھی جائے تو فی زمانہ چونکہ یہ بدمذھبوں کا شِعَار (یعنی ان کی علامت اور نشانی) ہے اور وہ بدمذھب اس علم سے پہچانے جاتے ہیں لہذا اس کو گھر پر نہیں لگایا جائے گا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ :
*"من تشبہ بقوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے تو وہ اسی قوم میں سے ہے۔
*(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، جلد دوم صفحہ 203 آفتاب عالم پریس لاہور، مسند احمد بن حنبل، از مسند عبد ﷲ ابن عمر، جلد دوم صفحہ 50، 92 مطبوعہ دارالفکر بیروت، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط، کتاب الزہد جلد 10 صفحہ 271 مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت، منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر، فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً صفحہ 185 مصطفی البابی مصر وغیرہ)*
دوسری بات یہ ہے کہ گھر پر ایسا علم لگانا اپنے آپ کو تہمت کی جگہ پر پیش کرنا ہے کیونکہ جو اپنے گھروں پر ایسا عَلَم لگائیں گے تو دیکھنے والے انہیں بدمذھب سمجھیں گے اور حدیثِ مبارکہ میں تہمت کی جگہوں پر کھڑا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من کان یؤمن باللہ و الیوم الاخر فلایقف مواقف التھم"*
یعنی جو شخص اللہ پاک اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ تہمت کی جگہ پر نہ ٹھہرے۔
*(کشف الخفا جلد اول صفحہ 37 رقم الحدیث : 88 دارالکتب العلمیہ بیروت، مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادراک الفریضۃ صفحہ 249 نور محمد کارخانہ تجارت کراچی، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب ما یفسد الصوم و یوجب القضاء صفحہ 371 نور محمد کتب خانہ کراچی)*
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
*"اتقوا مواضع التھم"*
یعنی تم تہمت کی جگہوں سے بچو۔
*(کشف الخفاء جلد اول صفحہ 45 رقم الحدیث 88 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
تیسری بات یہ ہے کہ اس میں بدمذھبوں کی رونق اور تعداد کو بڑھانا بھی ہے کیونکہ جب گھر پر علم لگائیں گے تو بدمذھب اسے دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، اس طرح ان کی رونق و شان بڑھے گی اور دیکھنے والوں کی نظر میں ان کی تعداد زیادہ معلوم ہو گی اور حدیثِ مبارکہ میں ایسا کرنے والوں کے لئے یہ فرمایا کہ :
*"من کثر سواد قوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
*(تاریخ بغداد، ترجمہ عبداللہ بن عتاب 5147، جلد 10 صفحہ 40 دارالکتاب العربی بیروت، المقاصد الحسنۃ، صفحہ 426، رقم الحدیث : 1170 دارالکتب العلمیۃ بیروت، الفردوس بماثور الخطاب، جلس 3 صفحہ 519 رقم الحدیث : 5621 دارالکتب العلمیہ بیروت، کنزالعمال جلد 9 صفحہ 22 رقم الحدیث : 24735 مؤسسۃ الرسالہ بیروت، کنزالعمال وغیرہ)*
اب علم کے متعلق علمائے متاخرین کے کچھ فتاوٰی بھی ملاحظہ فرمائیں :
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"علم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 498 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں، بدعت ہیں اور بدعت سے شوکتِ اسلام نہیں ہوتی۔"
*(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 499 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"تعزیہ داری کہ ہمچو مبتدعاں می کنند بدعت ست و ہمچنیں ساختن ضرائح و صورت قبور و علم وغیرہ ایں ہم بدعت ست و ظاہر ست کہ بدعت سیئہ است"*
یعنی تعزیہ داری جیسا کہ بدمذھب کرتے ہیں، بدعتِ سیئہ ہے اور ایسے ہی تابوت، قبروں کی صورت اور عَلَم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ بدعتِ سیئہ ہے۔
*(خطباتِ محرم بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ 75)*
خطباتِ محرم میں ہے :
"نظرِ غائر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم اور شدے جو نیزوں اور جھنڈوں کی شکل میں ہوتے ہیں غالباََ یزیدی فوج کے اس فعل کی نقل ہے جو انہوں نے کربلا میں ظلم و جفا کے پہاڑ توڑنے کے بعد امامِ عالی مقام کا سر مبارک نیزوں پر کوفہ کی گلیوں میں بطورِ شادیانہ و مبارک بادی گھمایا تھا۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 394، 395 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
ال
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا کیسا ہے اور اس علم کی منت ماننا کیسا ہے ؟
سائل : تنویر عطاری
*جواب :*
غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے نام کا مُرَوَّجَہ، تین کونوں والا عَلَم یعنی کالا جھنڈا لگانا اور اس علم کے لگانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے کیونکہ پہلی بات یہ کہ غازی عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کا تین کونوں والا اور کالا ہونا ثابت ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض ان کے جھنڈے کا ایسا ہونا ثابت ہو بھی جائے تو فی زمانہ چونکہ یہ بدمذھبوں کا شِعَار (یعنی ان کی علامت اور نشانی) ہے اور وہ بدمذھب اس علم سے پہچانے جاتے ہیں لہذا اس کو گھر پر نہیں لگایا جائے گا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ :
*"من تشبہ بقوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے تو وہ اسی قوم میں سے ہے۔
*(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب لبس الشہرۃ، جلد دوم صفحہ 203 آفتاب عالم پریس لاہور، مسند احمد بن حنبل، از مسند عبد ﷲ ابن عمر، جلد دوم صفحہ 50، 92 مطبوعہ دارالفکر بیروت، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط، کتاب الزہد جلد 10 صفحہ 271 مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت، منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر، فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً صفحہ 185 مصطفی البابی مصر وغیرہ)*
دوسری بات یہ ہے کہ گھر پر ایسا علم لگانا اپنے آپ کو تہمت کی جگہ پر پیش کرنا ہے کیونکہ جو اپنے گھروں پر ایسا عَلَم لگائیں گے تو دیکھنے والے انہیں بدمذھب سمجھیں گے اور حدیثِ مبارکہ میں تہمت کی جگہوں پر کھڑا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من کان یؤمن باللہ و الیوم الاخر فلایقف مواقف التھم"*
یعنی جو شخص اللہ پاک اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ تہمت کی جگہ پر نہ ٹھہرے۔
*(کشف الخفا جلد اول صفحہ 37 رقم الحدیث : 88 دارالکتب العلمیہ بیروت، مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادراک الفریضۃ صفحہ 249 نور محمد کارخانہ تجارت کراچی، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب ما یفسد الصوم و یوجب القضاء صفحہ 371 نور محمد کتب خانہ کراچی)*
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
*"اتقوا مواضع التھم"*
یعنی تم تہمت کی جگہوں سے بچو۔
*(کشف الخفاء جلد اول صفحہ 45 رقم الحدیث 88 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
تیسری بات یہ ہے کہ اس میں بدمذھبوں کی رونق اور تعداد کو بڑھانا بھی ہے کیونکہ جب گھر پر علم لگائیں گے تو بدمذھب اسے دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، اس طرح ان کی رونق و شان بڑھے گی اور دیکھنے والوں کی نظر میں ان کی تعداد زیادہ معلوم ہو گی اور حدیثِ مبارکہ میں ایسا کرنے والوں کے لئے یہ فرمایا کہ :
*"من کثر سواد قوم فھو منھم"*
یعنی جو کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
*(تاریخ بغداد، ترجمہ عبداللہ بن عتاب 5147، جلد 10 صفحہ 40 دارالکتاب العربی بیروت، المقاصد الحسنۃ، صفحہ 426، رقم الحدیث : 1170 دارالکتب العلمیۃ بیروت، الفردوس بماثور الخطاب، جلس 3 صفحہ 519 رقم الحدیث : 5621 دارالکتب العلمیہ بیروت، کنزالعمال جلد 9 صفحہ 22 رقم الحدیث : 24735 مؤسسۃ الرسالہ بیروت، کنزالعمال وغیرہ)*
اب علم کے متعلق علمائے متاخرین کے کچھ فتاوٰی بھی ملاحظہ فرمائیں :
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"علم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 498 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں، بدعت ہیں اور بدعت سے شوکتِ اسلام نہیں ہوتی۔"
*(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 499 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"تعزیہ داری کہ ہمچو مبتدعاں می کنند بدعت ست و ہمچنیں ساختن ضرائح و صورت قبور و علم وغیرہ ایں ہم بدعت ست و ظاہر ست کہ بدعت سیئہ است"*
یعنی تعزیہ داری جیسا کہ بدمذھب کرتے ہیں، بدعتِ سیئہ ہے اور ایسے ہی تابوت، قبروں کی صورت اور عَلَم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ بدعتِ سیئہ ہے۔
*(خطباتِ محرم بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ 75)*
خطباتِ محرم میں ہے :
"نظرِ غائر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم اور شدے جو نیزوں اور جھنڈوں کی شکل میں ہوتے ہیں غالباََ یزیدی فوج کے اس فعل کی نقل ہے جو انہوں نے کربلا میں ظلم و جفا کے پہاڑ توڑنے کے بعد امامِ عالی مقام کا سر مبارک نیزوں پر کوفہ کی گلیوں میں بطورِ شادیانہ و مبارک بادی گھمایا تھا۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 394، 395 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
ال
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 67:*
کیا موبائل میں فلمیں اور گانے باجے وغیرہ بھر کر دینا اور اس کی اجرت و مزدوری لینا جائز ہے ؟
*جواب :*
موبائل میں فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور قرآنِ پاک میں گناہوں اور نافرمانی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے.
چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے :
*"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان"*
ترجمہ : گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
*(پارہ 6، سورۃالمائدہ : 2)*
فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"کذلک الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر"*
یعنی گناہوں اور برائیوں پر مدد کرنا اور ان پر اکسانا (ابھارنا) جملہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے. *(فتاوی عالمگیری، کتاب الشھادات، جلد 3 صفحہ 420 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
اور موبائل کے اندر فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینے کی اجرت لینا (یعنی آمدنی لینا) بھی ناجائز و حرام ہے.
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"و لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو"*
یعنی اور گانا، نوحہ، مزامیر (یعنی آلاتِ موسیقی)، ڈھول اور لھو (یعنی کھیل کود) میں سے کسی بھی چیز پر اجارہ (یعنی مزدوری) جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارۃ، جلد 4 صفحہ 508 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/04/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں، ڈرامے اور گانے، باجے وغیرہ بھر کر دینے کے حرام ہونے کے تعلق سے جو آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
کیا موبائل میں فلمیں اور گانے باجے وغیرہ بھر کر دینا اور اس کی اجرت و مزدوری لینا جائز ہے ؟
*جواب :*
موبائل میں فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور قرآنِ پاک میں گناہوں اور نافرمانی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے.
چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے :
*"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان"*
ترجمہ : گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
*(پارہ 6، سورۃالمائدہ : 2)*
فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"کذلک الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر"*
یعنی گناہوں اور برائیوں پر مدد کرنا اور ان پر اکسانا (ابھارنا) جملہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے. *(فتاوی عالمگیری، کتاب الشھادات، جلد 3 صفحہ 420 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
اور موبائل کے اندر فلمیں اور گانے باجے بھر کر دینے کی اجرت لینا (یعنی آمدنی لینا) بھی ناجائز و حرام ہے.
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"و لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو"*
یعنی اور گانا، نوحہ، مزامیر (یعنی آلاتِ موسیقی)، ڈھول اور لھو (یعنی کھیل کود) میں سے کسی بھی چیز پر اجارہ (یعنی مزدوری) جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارۃ، جلد 4 صفحہ 508 قدیمی کتب خانہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
01/04/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں، ڈرامے اور گانے، باجے وغیرہ بھر کر دینے کے حرام ہونے کے تعلق سے جو آپ کا یہ فتوی درست ہے، بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 206:*
اگر کسی شادی شدہ انسان کی زبان سے بے اختیاری میں اللہ پاک کی ذات کو گالی نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟
سائل : خلیل الرحمٰن بہاولنگر
*جواب :*
اگر بے اختیاری سے (یعنی غلطی سے) شادی شدہ شخص کی زبان سے اللہ پاک کی ذات کے لئے معاذاللہ گالی نکل گئی، یعنی کہنا کچھ اور چاہتا تھا لیکن زبان سے گالی نکل گئی تو اس سے کافر نہیں ہوگا مگر اس پر لازم ہے کہ اس سے رجوع اور نفرت کا اظہار کرے اور توبہ و اِسْتِغْفار کرے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ غلطی سے اس کی زبان سے گالی نکلی ہے اور اگر اُس نے اِس گالی سے رجوع اور نفرت کا اظہار نہ کیا بلکہ اس پر اڑا رہا تو پھر کافر ہوجائے گا کیونکہ ایسی صورت میں یہ کلمہ کفر کی تائید (حمایت) کرنے والا ہو گیا ہے۔
چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
*"الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً لم يكن ذلك كفرًا عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."*
یعنی وہ خاطی جس نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کر دیا بطورِ خطا کے اس طور پر کہ اس کلمے کے ساتھ کلام کرنا چاہتا تھا جو کفر نہیں تھا مگر بطورِ خطا کے زبان پر کلمہ کفر جاری کردیا تو یہ تمام کے نزدیک کفر نہیں ہے، ایسے ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔
*(فتاوى عالمگیری جلد 2 صفحہ 276)*
فتاوی تتارخانیہ میں ہے:
*"و ما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك"*
یعنی اور جو (کفریہ) الفاظ غلطی سے صادر ہوں تو کفر کو ثابت نہیں کریں گے پس ان کا قائل اپنی (سابقہ) حالت پر مؤمن ہوگا اور اور لیکن استغفار اور اس سے رجوع کا حکم دیا جائے گا۔
*(فتاوی تتارخانیہ، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، جلد 7 صفحہ 284 زكريا)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و من تكلم بها مخطئاً أو مكرهاً لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامداً عالماً كفر عند الكل، و من تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف"*
یعنی جس نے غلطی یا مجبور ہو کر کلمہ کفر کے ساتھ تکَلُّم کیا تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، اور جس نے جان بوجھ کر کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر کی جائے گی، اور جس نے اختیار سے کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو اس میں اختلاف ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب : مایشک انہ ردۃ لا یحکم بھا، جلد 6، صفحہ 346 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے تھے :
"کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پَچْ کی (یعنی اگر کی ہوئی بات پر اڑا رہا) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔"
*(بہارِ شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ 174 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله عليه وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
اگر کسی شادی شدہ انسان کی زبان سے بے اختیاری میں اللہ پاک کی ذات کو گالی نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟
سائل : خلیل الرحمٰن بہاولنگر
*جواب :*
اگر بے اختیاری سے (یعنی غلطی سے) شادی شدہ شخص کی زبان سے اللہ پاک کی ذات کے لئے معاذاللہ گالی نکل گئی، یعنی کہنا کچھ اور چاہتا تھا لیکن زبان سے گالی نکل گئی تو اس سے کافر نہیں ہوگا مگر اس پر لازم ہے کہ اس سے رجوع اور نفرت کا اظہار کرے اور توبہ و اِسْتِغْفار کرے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ غلطی سے اس کی زبان سے گالی نکلی ہے اور اگر اُس نے اِس گالی سے رجوع اور نفرت کا اظہار نہ کیا بلکہ اس پر اڑا رہا تو پھر کافر ہوجائے گا کیونکہ ایسی صورت میں یہ کلمہ کفر کی تائید (حمایت) کرنے والا ہو گیا ہے۔
چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
*"الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأً لم يكن ذلك كفرًا عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."*
یعنی وہ خاطی جس نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کر دیا بطورِ خطا کے اس طور پر کہ اس کلمے کے ساتھ کلام کرنا چاہتا تھا جو کفر نہیں تھا مگر بطورِ خطا کے زبان پر کلمہ کفر جاری کردیا تو یہ تمام کے نزدیک کفر نہیں ہے، ایسے ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔
*(فتاوى عالمگیری جلد 2 صفحہ 276)*
فتاوی تتارخانیہ میں ہے:
*"و ما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك"*
یعنی اور جو (کفریہ) الفاظ غلطی سے صادر ہوں تو کفر کو ثابت نہیں کریں گے پس ان کا قائل اپنی (سابقہ) حالت پر مؤمن ہوگا اور اور لیکن استغفار اور اس سے رجوع کا حکم دیا جائے گا۔
*(فتاوی تتارخانیہ، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، جلد 7 صفحہ 284 زكريا)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"و من تكلم بها مخطئاً أو مكرهاً لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامداً عالماً كفر عند الكل، و من تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف"*
یعنی جس نے غلطی یا مجبور ہو کر کلمہ کفر کے ساتھ تکَلُّم کیا تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، اور جس نے جان بوجھ کر کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو تمام کے نزدیک اس کی تکفیر کی جائے گی، اور جس نے اختیار سے کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کیا یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو اس میں اختلاف ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب : مایشک انہ ردۃ لا یحکم بھا، جلد 6، صفحہ 346 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے تھے :
"کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پَچْ کی (یعنی اگر کی ہوئی بات پر اڑا رہا) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔"
*(بہارِ شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ 174 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله عليه وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 209:*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں کسی کے عشق میں مرنے والا، شہیدِ حکمی کا مرتبہ پاتا ہے (یعنی اسے شہادت کا ثواب ملتا ہے) لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1- وہ اپنے عشق کا کسی پر اظہار نہ کرے، نہ معشوق پر اور نہ ہی کسی اور پر۔
2- اپنے آپ کو پاکدامنی کے ساتھ متصف رکھے۔
3- اور اسی حالت پر (یعنی عشق کو چھپاتے ہوئے اور پاکدامن رہتے ہوئے) وہ مر جائے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"من عشق فکتم و عف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جس نے عشق کیا، پھر اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا، پھر (اسی کے باعث) مرگیا تو شہید مرا۔
*(میٹھا زہر صفحہ 97 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البدایہ و النھایہ لابن کثیر)*
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*"من عشق فعف و کتم ثم مات فھو شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشِق ہوا، پس اُس نے پاکدامَنی اختیار کی اور عشق کو چُھپایا پھر (اسی حال میں) مر گیا تو وہ شہید ہے۔
*(تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 185 رقم الحدیث: 7160 دارالکتب العلمیہ بیروت، ذم الھوی صفحہ 314، العلل المتناھہ جلد دوم صفحہ 771)*
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے :
*"من عشق فعف ثم مات، مات شھیدا"*
یعنی جو کسی پر عاشق ہوا، پس اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر (اسی حالت میں) مر گیا تو شہید ہوکر مرا۔
*(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 416 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)*
معلوم ہوا کہ کسی کے عشق میں مرنے والا شہیدِ حکمی تب بنے گا (یعنی شہادت کا ثواب تب حاصل کرے گا) جب وہ پاکدامَنی اختیار کرے اور اپنے عشق کو ہر ایک سے حتی کہ محبوبہ سے بھی چُھپائے رکھے کیونکہ روایات میں عشق چھپانے کا حکم مطلقاً ہے (یعنی بغیر کسی قید کے ہے) لہذا شہادت کا مرتبہ پانے کے لئے ہر ایک سے عشق چھپانا ہوگا۔
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"بالعشق مع العفاف و الکتم و ان کان سیئۃ حماما"*
یعنی (اگر کوئی) عشق کے (مرا) باوجود یہ کہ وہ پاکدامن رہا اور اس کو چھپایا (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا) اگرچہ ازروئے موت کے یہ بُرا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الشھید، مطلب في تعداد الشھداء، جلد 3 صفحہ 195 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو (تو اسے شہادت کا ثواب ملے گا)۔"
*(بہارشریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 859 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر مرد کی کسی غیر عورت پر اچانک نظر پڑ گئی اور فوراً نظر ہٹا لینے کے باوُجُود اگر وہ دل میں گڑ گئی اور اس کے بعد نہ قصداً اس کا تصوُّر جمایا نہ ہی اِرادۃً اس کو دیکھا، نہ کبھی اُس سے ملاقات کی، نہ ہی فون پر بات کی، نہ اُس کو عِشقیہ خط لکھا اور نہ ہی کبھی کوئی تُحفہ بھجوایا اَلغَرَض اُس ہو جانے والے غیر اختیاری عشقِ مَجازی کو ایسا چُھپایا کہ کسی دوسرے پر کُجا خود اُس لڑکی کو بھی پتا نہ چلنے دیا تو ایسا *’’عاشِقِ صادِق‘‘* اگر عِشق میں گُھل گُھل کر مَر جائے تو شہید ہے۔"
*(پردے کے بارے میں سوال جواب 319 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
05/06/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
جواب درست ہے، جزاک اللہ، ماشاء اللہ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود قادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 25 :*
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ
علماءِ اہلِ سنت کے متعلق سخت الفاظ میں اظھارِ رائے کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
علماءِ اہلِ سنت کے بارے میں سخت کلام کرنے یا لکھنے کی عموماً یہ صورتیں ہو سکتی ہیں :
1- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالمِ دین کو برا کہنا اگر اس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
2- عالمِ دین کے بارے میں سخت کلام کسی دنیاوی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہو تو یہ عام دنیاوی بغض و کینہ سے بڑھ کر خبیث اور حرام ہےـ
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بوجہ علم اس (عالم) کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خصومت (یعنی لڑائی) کے باعث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا، تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق، فاجر ہےـ"
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
3- عالم کے بارے میں سخت کلام بغیر کسی ظاہری سبب کے ہے تو ایسے کلام کرنے والے پر کفر کا خوف ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اگر بےسبب (عالِم سے) رنج (یعنی غصہ و غضب) رکھتا ہے تو مریضُ الْقَلب، خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
*(فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 129 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
4- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا استاد ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ استاد کی شرعی ذمہ داری ہے جیسا کہ تمام مدارس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
5- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا جامع شرائط پیر ہو تو نہ صرف جائز ہے بلکہ پیر صاحب کے اہم فرائض میں سے ہے۔
چنانچہ مولانا روم اور شمس تبریز رحمۃ اللہ علیھما کا واقعہ مثال کے لئے کافی ہے۔
6- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا اس عالم کا نہ استاد ہو اور نہ ہی پیر ہو بلکہ اس عالم سے بڑا عالم ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اتفاق علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں" لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔
اب فرمائیں کہ وہ قوم کو اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل، قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 598 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
7- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا نہ اس عالم کا استاد ہو، نہ پیر ہو اور نہ اس سے بڑا عالم ہو مگر سخت کلام کرنے والا اصلاح کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے اور جس عالم کے سامنے اصلاح کر رہا ہے وہ اپنی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہو تو یہ بھی جائز ہےـ
چنانچہ ہمارے زمانے میں ختمِ بخاری و دستار بندی کے جلسے اور علمی و تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں علماء دیگر علماء و طلباء کے سامنے اصلاح کے لئے علماء کی خرابیاں بیان کرتے ہیں اور سننے والے اسی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ ان باتوں کے سمجھانے کے یہی مواقع ہوتے ہیں۔
8- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا عالم ہو خواہ اس عالم سے بڑا ہو یا نہ ہو مگر اس کا کلام خالصةً علمی شعبے والوں کی اصلاح کیلیے ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
چنانچہ بہت سے علماءِ کرام نے علم اور علماء کے آداب کے متعلق کتابیں اور مقالات لکھے ہیں جن میں اچھی نیت سے علماءِ کرام کی عموماً خرابیوں کو بیان کیا ہے۔
اس کی مثال پاکستان اور ہندوستان میں چھپنے والے سنی رسائل اور مختلف علمی مقالات و کتابیں ہیں۔
9- عالم کے بارے میں سخت کلام اس کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے ہو اور کلام کرنے والا جاھل ہو تو اس کیلیے علماء کی خرابیاں بیان کرنا ناجائز و حرام ہے۔
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"عالم سنی العقیدہ کی توہین جاھل کو جائز نہیں، اگرچہ اس (عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں۔
*(فتاوی رضویہ جلد21صفحہ 294 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*(ملخصاً فتاویٰ اہلسنت، آٹھواں حصہ، صفحہ 83، 84، 85، 86 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
جاھل وہ ہے جو ان مسائل کو نہیں جانتا، جن کا جاننا اس پر شرعی طور پر واجب ہے۔
چنانچہ درمختار میں ہے :
*" و فی فتاویٰ المصنف : لاتقبل شھادۃ الجاھل علی العالم لفسقہ بترک ما یجب تعلمہ شرعاً"*
یعنی اور مصنف کے فتاویٰ میں ہے :
"جاہل کی گواہی، عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان مسائل کے سیکھنے کو چھوڑنے کی وجہ سے فاسق ہے جن کا سیکھنا شرعاً اس پر واجب ہے۔"
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الشھادۃ، باب القبول و عدمہ، جلد 8 صفحہ 226 مکتبہ رشیدیہ کوئٹ