Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اپنا کام بنتا ... میں جائے جنتا
حضرت سری سقتی رحمہ اللہ تعالی نے ایک بار الحمدللہ کہا تو 30 سال تک استغفار کرتے رہے!
کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟
آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ بغداد میں آگ لگ گئی ہے جس سے مکانات وغیرہ جل گئے ہیں لیکن آپ کی دوکان بچ گئی ہے تو میں نے اس پر الحمدللہ کَہ دیا اور اس پر میں نادم ہوں کہ میں نے مسلمانوں کے نقصان کو نظر انداز کرکے اپنے فائدے کو دیکھ کر الحمدللہ کہا اسی وجہ سے میں 30 سال سے استغفار کر رہا ہوں۔
(رسالہ قشیریہ، اردو، ص74)
آج کل ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ تک کَہ دیتے ہیں کہ اپنا کام بنتا...... میں جائے جنتا۔
ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھنا اچھی بات نہیں ہے۔
دوسروں کو بھی دیکھ کر چلنا چاہیے چاہے وہ علم کا معاملہ ہو، مال کا معاملہ ہو یا تجارت ہو۔
عبد مصطفی
حضرت سری سقتی رحمہ اللہ تعالی نے ایک بار الحمدللہ کہا تو 30 سال تک استغفار کرتے رہے!
کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟
آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ بغداد میں آگ لگ گئی ہے جس سے مکانات وغیرہ جل گئے ہیں لیکن آپ کی دوکان بچ گئی ہے تو میں نے اس پر الحمدللہ کَہ دیا اور اس پر میں نادم ہوں کہ میں نے مسلمانوں کے نقصان کو نظر انداز کرکے اپنے فائدے کو دیکھ کر الحمدللہ کہا اسی وجہ سے میں 30 سال سے استغفار کر رہا ہوں۔
(رسالہ قشیریہ، اردو، ص74)
آج کل ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ تک کَہ دیتے ہیں کہ اپنا کام بنتا...... میں جائے جنتا۔
ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھنا اچھی بات نہیں ہے۔
دوسروں کو بھی دیکھ کر چلنا چاہیے چاہے وہ علم کا معاملہ ہو، مال کا معاملہ ہو یا تجارت ہو۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
بس تین سوالات کے جواب دے دو کیا اللہ بغیر وسیلے کے نہیں سنتا. اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا یا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب:وہابیت سے ہمارا اختلاف ان باتوں پہ نہیں ہے وہابی اپنے کفریات کی وجہ سے کافر ہیں۔
(1):بغیر وسیلے کے نہیں سنتا؟
جواب:اللہ تعالی بغیر وسیلے کے سنتا ہے لیکن اس سے یہ کیسے نفی ہو سکتی ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی دی ہوئی طاقت سے کوئی نہیں سنتا؟
(2):اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا؟
جواب:بالکل بغیر وسیلے کے بھی قبول کرتا ہے لیکن اس میں اس بات کی نفی کہاں ہے کہ وہ وسیلے کے ساتھ قبول نہیں کرتا؟
(3):کیا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے؟
جواب:اللہ تعالی پابند نہیں ہے وہ ڈائریکٹ بھی نہ ہی کسی کی سنے چاہے وسیلہ ہو چاہے نہ ہو لیکن ہاں یہ کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور محبت فرماتا ہے اور ان کی بات کو نہیں ٹالتا اگر وہ پیار سے عرض کرتے ہیں الا یہ کہ وہ کوئی تقدیر مبرم کے بارے میں سوال نہ کریں جن کے فیصلے پہلے ہوچکے ہیں۔
آپ اس آیت کا معنٰی و مفہوم سمجھا دیں "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ" (سورۃ المائدہ، آیت 35)
ہم اللہ کی مانیں یا آپ کی؟
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب:وہابیت سے ہمارا اختلاف ان باتوں پہ نہیں ہے وہابی اپنے کفریات کی وجہ سے کافر ہیں۔
(1):بغیر وسیلے کے نہیں سنتا؟
جواب:اللہ تعالی بغیر وسیلے کے سنتا ہے لیکن اس سے یہ کیسے نفی ہو سکتی ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی دی ہوئی طاقت سے کوئی نہیں سنتا؟
(2):اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا؟
جواب:بالکل بغیر وسیلے کے بھی قبول کرتا ہے لیکن اس میں اس بات کی نفی کہاں ہے کہ وہ وسیلے کے ساتھ قبول نہیں کرتا؟
(3):کیا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے؟
جواب:اللہ تعالی پابند نہیں ہے وہ ڈائریکٹ بھی نہ ہی کسی کی سنے چاہے وسیلہ ہو چاہے نہ ہو لیکن ہاں یہ کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور محبت فرماتا ہے اور ان کی بات کو نہیں ٹالتا اگر وہ پیار سے عرض کرتے ہیں الا یہ کہ وہ کوئی تقدیر مبرم کے بارے میں سوال نہ کریں جن کے فیصلے پہلے ہوچکے ہیں۔
آپ اس آیت کا معنٰی و مفہوم سمجھا دیں "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ" (سورۃ المائدہ، آیت 35)
ہم اللہ کی مانیں یا آپ کی؟
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کبوتر کھانا کیسا ؟
نماز کے انتظار کی برکت
مینڈک کو بلا ضرورت نہ ماریں
اب آپ بنائیں Quarantine کو قرآن ٹائم
for more information please visit
https://www.quranteacher.net/
لوگوں سے کیسا سلوک کریں؟
مبارک اوقات میں نیک اعمال کی فضیلت
پانچوں نمازیں با جماعت پڑھنے کا انعام
حالات پر غور کریں اور آخرت کی تیاری کریں
اللہ پاک ہمیں گناہوں سے بچائے
جمعہ مبارک
نسوار لگانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
نماز کے انتظار کی برکت
مینڈک کو بلا ضرورت نہ ماریں
اب آپ بنائیں Quarantine کو قرآن ٹائم
for more information please visit
https://www.quranteacher.net/
لوگوں سے کیسا سلوک کریں؟
مبارک اوقات میں نیک اعمال کی فضیلت
پانچوں نمازیں با جماعت پڑھنے کا انعام
حالات پر غور کریں اور آخرت کی تیاری کریں
اللہ پاک ہمیں گناہوں سے بچائے
جمعہ مبارک
نسوار لگانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
STATEMENT BY HUZOOR SAYYIDI MUHAD'DITH E KABEER HAZRAT ALLAMA MUFTI ZIA UL MUSTAFA QADRI AMJADI
*Any Disrespect in The Court of Ata e Rasool Huzoor Khwaja Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu Will Not Be Tolerated*
More than 800 years have passed since the Wisaal of Sultan ul Hind Sayyiduna Khwaja Ghareeb Nawaaz Rahmatullahi Ta'aala Alaih, and in all this time none had the audacity of directly showing any disrespect to him. Rather, people of all Religions and from all walks of life have chanted his praises. A vast number of people from India and other countries have always praised him and acknowledged his excellence, paying tribute to him in their devotion.
After 800 years this is the first time that such a thing has happened, and the Anchor of News 18 Amish Devogan used words which are completely blasphemous in the Court of Hazrat Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu; and what other reason could he have had for this, except for causing instability and strife in India's peaceful environment.
These depraved words of Amish Devogan have not only hurt the sentiments of the Muslims, but all those who respect and honour Hazrat Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu have been appalled and hurt
My Institution and I strongly condemn Amish Devogan, and in showing our displeasure we call upon the Government of India to arrest this blasphemer and bring a case against him in the Court Law.
Amish Devogan's harsh words has caused such pain to the Muslims that they were unable to bear this, and have thus opened F.I.R's against him in many cities and states, due to which he has released a brief so-called apologetic statement, in which neither is he directly showing any remorse, nor is he unequivocally retracting his disrespectful statement. Hence, none should be misled by his statement thinking that he has apologised to Hazrat Khwaja Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu or to his devotees.
*Faqeer Zia ul Mustafa Qadri Ghufiralahu*
Chief in charge Tayyibatul Ulama Jamia Amjadia, Ghosi Mau U.P. Date: 18/06/2020
*Any Disrespect in The Court of Ata e Rasool Huzoor Khwaja Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu Will Not Be Tolerated*
More than 800 years have passed since the Wisaal of Sultan ul Hind Sayyiduna Khwaja Ghareeb Nawaaz Rahmatullahi Ta'aala Alaih, and in all this time none had the audacity of directly showing any disrespect to him. Rather, people of all Religions and from all walks of life have chanted his praises. A vast number of people from India and other countries have always praised him and acknowledged his excellence, paying tribute to him in their devotion.
After 800 years this is the first time that such a thing has happened, and the Anchor of News 18 Amish Devogan used words which are completely blasphemous in the Court of Hazrat Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu; and what other reason could he have had for this, except for causing instability and strife in India's peaceful environment.
These depraved words of Amish Devogan have not only hurt the sentiments of the Muslims, but all those who respect and honour Hazrat Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu have been appalled and hurt
My Institution and I strongly condemn Amish Devogan, and in showing our displeasure we call upon the Government of India to arrest this blasphemer and bring a case against him in the Court Law.
Amish Devogan's harsh words has caused such pain to the Muslims that they were unable to bear this, and have thus opened F.I.R's against him in many cities and states, due to which he has released a brief so-called apologetic statement, in which neither is he directly showing any remorse, nor is he unequivocally retracting his disrespectful statement. Hence, none should be misled by his statement thinking that he has apologised to Hazrat Khwaja Ghareeb Nawaaz Radi Allahu Anhu or to his devotees.
*Faqeer Zia ul Mustafa Qadri Ghufiralahu*
Chief in charge Tayyibatul Ulama Jamia Amjadia, Ghosi Mau U.P. Date: 18/06/2020
عطائے رسول حضور خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کی شان میں گستاخی نا قابل برداشت!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍🏻 شـہـزادۂ صدر الشریعہ حضور
محدث کبیر علامہ ضیاءالمصطفیٰ
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍🏻 شـہـزادۂ صدر الشریعہ حضور
محدث کبیر علامہ ضیاءالمصطفیٰ
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
*پانی بھی آپ کی آواز کو سنتا ہے*
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ پانی بھی آپ کی آواز کو سن سکتا ہے؟!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پانی بھی آپ کے کہے گیے جملے سے متاثر ہوتا ہے؟!
ایک ریسرچ سینٹر نے پانی کے عناصر واجزا پر تحقیق کی، جس سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ پانی بھی اپنے اوپر پیش کیے گیے جملے سے یقیناً اثر انداز ہوتا ہے.
یہ تحقیقاتی تجربہ یورپ کے کسی ایک ملک میں اس طور پر انجام پایا کہ چند لوگوں کو جمع کیا گیا اور ان کے ہاتھوں میں پانے سے بھرے گلاس دیے گیے. پھر جس کے دل میں جو آیا وہ بولا اور پڑھا. ان میں سے بعض نے کہا: I love you.
اور سی طرح کئی خوب صورت جملے کہے گیے مثلا You are kind(تم رحم دل ہو) وغیرہ.
اسکے مقابل دوسرے گروپ والوں نے گلاس سے بھدے جملے کے ساتھ گفتگو کی : میں تم کو پسند نہیں کرتا ہوں، تو حاسد ہے وغیرہ.
پھر سب نے اپنا اپنا گلاس اٹھایا.
تو جنہوں نے اچھے جملے کہے تھے تو (ان گلاسوں کے) پانی کے اجزا ایک خوب صورت عناصر کی شکل میں ظاہر ہوکر جمع ہونے لگے. جس کی ترکیبی شکل ہیرے جیسی تھی.
اور جس نے بھدے جملے کا استعمال کیا تھا ان پانیوں کے اجزا کی شکل عادی تھی یعنی پانی کے اجزا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی.
پھر آخر میں جو گلاس تھا اس میں موجود پانی کی ترکیب اس طور پر ظاہر ہوئی کہ ماہرین خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے. اور حاضرین بہت محظوظ ہورہے تھے.
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے پس پردہ آخر وہ راز کیا تھا؟ اس لیے کہ اس گلاس والے نے بسم اللہ شریف پڑھی تھی.
پھر اس مسلم شخص نے وہ گلاس ماہرین کے حوالے کردیا. لیکن ان ماہرین نے اس عجیب وغریب واقعے کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا. اور اس سے دوبارہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس تجربے کے اعادہ کا مطالبہ کیا. ہمارا اسلامی بھائی بھی بہت ذہین تھا. اس نے وضو کرنے کی اجازت طلب کی. وضو کرکے لوٹا، گلاس لیا سورئہ فاتحہ آیٖت الکرسی وغیرہ پڑھی اور ماہرین کو اجزا کی تحقیق کے لیے دے دیا.
وہاں موجود حاضرین و ماہرین کی آنکھیں اس الہی تخلیق اور نہایت خوب صورت اس اثر انگیز ترکیبی عناصر کو قبول کرنے سے دوبارہ انکار کر رہی تھیں. ماہرین نے ان سے اس چیز کی معرفت چاہی آخر وہ کیا چیز ہے جسے تو نے پڑھا ہے ؟ اس نے مذکورہ باتیں بتادی. چونکہ وہ پانی کے اجزا نہایت خوب رو تھے اور ماہرین نے اپنی تحقیقات میں بھی کوئی کمی نہ کی تھی.
چنانچہ ایک فرانسی سائینس داں نے اس سے متاثر ہوکر ایک کتاب "Message from water" تالیف کی ، جس میں قرآن کے ذریعے پانی پر ہونے والے اثرات پر گفتگو کی ہے.
اب اس نظریے سے ثابت ہوگیا کہ پانی بھی اپنے اندر کلمات کے اثرات کو قبول کرتا ہے. مسلمانوں کو چاہیے کہ پانی پینے سے قبل بسم اللہ ضرور پڑھیں جہاں اس کے روحانی فائدے ہیں تو وہی جسمانی فوائد بھی بے شمار ہیں.
عربی سے ماخوذ
از: نفیس احمد قادری
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ پانی بھی آپ کی آواز کو سن سکتا ہے؟!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پانی بھی آپ کے کہے گیے جملے سے متاثر ہوتا ہے؟!
ایک ریسرچ سینٹر نے پانی کے عناصر واجزا پر تحقیق کی، جس سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ پانی بھی اپنے اوپر پیش کیے گیے جملے سے یقیناً اثر انداز ہوتا ہے.
یہ تحقیقاتی تجربہ یورپ کے کسی ایک ملک میں اس طور پر انجام پایا کہ چند لوگوں کو جمع کیا گیا اور ان کے ہاتھوں میں پانے سے بھرے گلاس دیے گیے. پھر جس کے دل میں جو آیا وہ بولا اور پڑھا. ان میں سے بعض نے کہا: I love you.
اور سی طرح کئی خوب صورت جملے کہے گیے مثلا You are kind(تم رحم دل ہو) وغیرہ.
اسکے مقابل دوسرے گروپ والوں نے گلاس سے بھدے جملے کے ساتھ گفتگو کی : میں تم کو پسند نہیں کرتا ہوں، تو حاسد ہے وغیرہ.
پھر سب نے اپنا اپنا گلاس اٹھایا.
تو جنہوں نے اچھے جملے کہے تھے تو (ان گلاسوں کے) پانی کے اجزا ایک خوب صورت عناصر کی شکل میں ظاہر ہوکر جمع ہونے لگے. جس کی ترکیبی شکل ہیرے جیسی تھی.
اور جس نے بھدے جملے کا استعمال کیا تھا ان پانیوں کے اجزا کی شکل عادی تھی یعنی پانی کے اجزا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی.
پھر آخر میں جو گلاس تھا اس میں موجود پانی کی ترکیب اس طور پر ظاہر ہوئی کہ ماہرین خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے. اور حاضرین بہت محظوظ ہورہے تھے.
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے پس پردہ آخر وہ راز کیا تھا؟ اس لیے کہ اس گلاس والے نے بسم اللہ شریف پڑھی تھی.
پھر اس مسلم شخص نے وہ گلاس ماہرین کے حوالے کردیا. لیکن ان ماہرین نے اس عجیب وغریب واقعے کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا. اور اس سے دوبارہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس تجربے کے اعادہ کا مطالبہ کیا. ہمارا اسلامی بھائی بھی بہت ذہین تھا. اس نے وضو کرنے کی اجازت طلب کی. وضو کرکے لوٹا، گلاس لیا سورئہ فاتحہ آیٖت الکرسی وغیرہ پڑھی اور ماہرین کو اجزا کی تحقیق کے لیے دے دیا.
وہاں موجود حاضرین و ماہرین کی آنکھیں اس الہی تخلیق اور نہایت خوب صورت اس اثر انگیز ترکیبی عناصر کو قبول کرنے سے دوبارہ انکار کر رہی تھیں. ماہرین نے ان سے اس چیز کی معرفت چاہی آخر وہ کیا چیز ہے جسے تو نے پڑھا ہے ؟ اس نے مذکورہ باتیں بتادی. چونکہ وہ پانی کے اجزا نہایت خوب رو تھے اور ماہرین نے اپنی تحقیقات میں بھی کوئی کمی نہ کی تھی.
چنانچہ ایک فرانسی سائینس داں نے اس سے متاثر ہوکر ایک کتاب "Message from water" تالیف کی ، جس میں قرآن کے ذریعے پانی پر ہونے والے اثرات پر گفتگو کی ہے.
اب اس نظریے سے ثابت ہوگیا کہ پانی بھی اپنے اندر کلمات کے اثرات کو قبول کرتا ہے. مسلمانوں کو چاہیے کہ پانی پینے سے قبل بسم اللہ ضرور پڑھیں جہاں اس کے روحانی فائدے ہیں تو وہی جسمانی فوائد بھی بے شمار ہیں.
عربی سے ماخوذ
از: نفیس احمد قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*آؤ!خود کو بدلیں*
تحریر: *محمداسمٰعیل بدایونی*
یہ شاید 2001 کی بات تھی میں اپنے والد کے ساتھ اردو بازار کراچی میں ضیاء القرآن کی بک شاپ پر کھڑا تھا میرے والد میری رہنمائی کررہے تھے کہ کون سی کتابیں لینی چاہییں ۔
مجھے کتب بنی کا شوق والد صاحب سے ہی ورثے میں ملا تھا میرے والد نے میرے اس شوق کو خوب بڑھاوا دیا اور پھر یوں ہونے لگا کہ میں اکثر اپنی آدھی تنخواہ سے صرف کتابیں خریدتا اور جب گھر لاتا تو میں اور میرے والد اِن کتابوں کودیکھ کر خوش ہوتے جب کہ والدہ محترمہ کے ماتھے پر شکنیں نمودا ر ہوتیں اور ساتھ آواز سُنائی دیتی کیا پہلے ہی گھر میں کتابیں کم ہیں ؟
ان کے پیار بھرے جاہ و جلال کو دیکھ کر میں اور میرے والد مسکرا دیتے ۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد اردو بازار سے گزرتے ہوئے میری نگاہ ایک کتاب ’’ امریکہ کہ اسلام دشمنی‘‘ پر پڑی ۔۔۔یہ پال فنڈلے کی انگریزی کتاب :
Silent no more : confronting America's false images of Islam کا ترجمہ تھا ۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ کتاب خرید لی۔۔۔
گھر لا کر کتابیں رکھ دیں اور اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ۔۔۔شفٹوں کی ڈیوٹی تھی رات ۱۲ بجے گھر آ یا کھانا کھا کر یہ کتاب اٹھا لی اور پڑھنے لگا ۔
اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو میں اس کتاب کے اصل عنوان کے بجائے ماضی کے بارے میں سوچتا چلا گیا، کیسا عروج تھا مسلمانوں کا ۔۔۔
اور اب میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔بھیڑئیے جمع ہو چکے ہیں ۔۔۔
بہت مہذب بھیڑئیے ہیں یہ دسترخوان لگا رہے ہیں اور مسلمانوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں ۔۔۔کبھی شام کا مسلمان پریشان ہے تو کبھی عراق کی سر زمین کو آگ اور خون میں نہلایا جا رہاہے ۔۔۔کبھی افغانستان ،کبھی فلسطین اور کبھی کشمیر و برما کا یہاں تک کہ چین کا مسلمان بھی پریشان ہے ۔۔۔
میری آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی اور میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور سو گیا دوسرے دن شام کے وقت میں نے اپنے باباجان سے کہا ۔
بابا جان !مجھے میرے چند سوالات کا جواب دیجیے ۔
کیا دینِ اسلام سچا دین نہیں ؟
اگر ہاں اور یقینا ًہاں ! تو پھر ہم پریشان حال کیوں ہیں ؟
بابا جان نے کہا : تم نے کتاب پڑھ لی ؟
میں نے کہا :نہیں ۔
بابا جان نے کہا :میں نے کل اس کا پہلا باب پڑھا تھا ۔
اس باب کی ابتداء میں ہی پال فنڈلے لکھتا ہے اسلام کے بارے میں اس کا اولین تعارف ہی کچھ اچھا نہیں ہوا تھا اس کے اسکول میں اس کی ایک مس تھیں جو رضا کارانہ طور پر پڑھایا کرتی تھیں اس مس کو اسلام سے شدید بغض تھا اس نے اسلام کے بارے میں منفی خیالات ان بچوں کو دل و دماغ میں بٹھا دئیے اور شاید پورے مغرب میں اسی طرح اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں زہر یلا پروپیگنڈا کیا گیاہے ۔ بابا جان نے پہلے باب کے ابتدائی صفحات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن اب مسلمان کیسے عروج حاصل کریں ؟میں نے بابا جان سے کہا ۔
قرآن کریم نے حل دیاہے ۔۔۔
میں نے بے ساختہ پوچھا : وہ کیا؟
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ سورہ رعد 11
بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾ انفال
یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۔
اب ذرا انفرادی اور اجتماعی طور پر دیکھو کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی ؟
کیا ہم نے ہم نے اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانا چاہا ؟
بابا جان نے کہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے کہا:بچے تو سب ہی مسلمان ہیں اور سچے مسلمان ہیں۔
ہاں ! ہم اور ہمارے بچے !!!ہم بچوں کو صبح فجر میں نہیں جگاتے البتہ اسکول کے لیے مار کر بھی جگاتے ہیں ۔۔۔ یہ تو صرف ایک مثال دی ہے ورنہ چوبیس گھنٹوں میں مسلمان والدین کتنا وقت اس کو شش میں گزارتے ہیں کہ ان کا بچہ سچا مسلمان بنے ۔۔۔
بابا جان نےکے لہجے میں شکایت صاف موجود تھی ۔میں خا موش ہو گیا ۔
کیا ہم نے کوشش کی کہ ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی حقیقی تصویر پہنچا سکیں ؟
نہ تو ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی تعلیمات پہنچارہے ہیں اور نہ ہی ہم اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری حالت بدل دے ۔۔۔(ہمارے بچوں کی جو اس وقت سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے اپنے مسلک و مشرب کی جنگ گالیوں سے لڑ رہے ہیں ان کی اخلاقی حالت ملاحظہ کیجیے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہمارے حالوں پر )
شاعر کہتا ہے ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پیارے بچو ! کیا آپ چاہتے ہیں دنیا بھر سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کاخاتمہ ہو جا
تحریر: *محمداسمٰعیل بدایونی*
یہ شاید 2001 کی بات تھی میں اپنے والد کے ساتھ اردو بازار کراچی میں ضیاء القرآن کی بک شاپ پر کھڑا تھا میرے والد میری رہنمائی کررہے تھے کہ کون سی کتابیں لینی چاہییں ۔
مجھے کتب بنی کا شوق والد صاحب سے ہی ورثے میں ملا تھا میرے والد نے میرے اس شوق کو خوب بڑھاوا دیا اور پھر یوں ہونے لگا کہ میں اکثر اپنی آدھی تنخواہ سے صرف کتابیں خریدتا اور جب گھر لاتا تو میں اور میرے والد اِن کتابوں کودیکھ کر خوش ہوتے جب کہ والدہ محترمہ کے ماتھے پر شکنیں نمودا ر ہوتیں اور ساتھ آواز سُنائی دیتی کیا پہلے ہی گھر میں کتابیں کم ہیں ؟
ان کے پیار بھرے جاہ و جلال کو دیکھ کر میں اور میرے والد مسکرا دیتے ۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد اردو بازار سے گزرتے ہوئے میری نگاہ ایک کتاب ’’ امریکہ کہ اسلام دشمنی‘‘ پر پڑی ۔۔۔یہ پال فنڈلے کی انگریزی کتاب :
Silent no more : confronting America's false images of Islam کا ترجمہ تھا ۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ کتاب خرید لی۔۔۔
گھر لا کر کتابیں رکھ دیں اور اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ۔۔۔شفٹوں کی ڈیوٹی تھی رات ۱۲ بجے گھر آ یا کھانا کھا کر یہ کتاب اٹھا لی اور پڑھنے لگا ۔
اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو میں اس کتاب کے اصل عنوان کے بجائے ماضی کے بارے میں سوچتا چلا گیا، کیسا عروج تھا مسلمانوں کا ۔۔۔
اور اب میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔بھیڑئیے جمع ہو چکے ہیں ۔۔۔
بہت مہذب بھیڑئیے ہیں یہ دسترخوان لگا رہے ہیں اور مسلمانوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں ۔۔۔کبھی شام کا مسلمان پریشان ہے تو کبھی عراق کی سر زمین کو آگ اور خون میں نہلایا جا رہاہے ۔۔۔کبھی افغانستان ،کبھی فلسطین اور کبھی کشمیر و برما کا یہاں تک کہ چین کا مسلمان بھی پریشان ہے ۔۔۔
میری آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی اور میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور سو گیا دوسرے دن شام کے وقت میں نے اپنے باباجان سے کہا ۔
بابا جان !مجھے میرے چند سوالات کا جواب دیجیے ۔
کیا دینِ اسلام سچا دین نہیں ؟
اگر ہاں اور یقینا ًہاں ! تو پھر ہم پریشان حال کیوں ہیں ؟
بابا جان نے کہا : تم نے کتاب پڑھ لی ؟
میں نے کہا :نہیں ۔
بابا جان نے کہا :میں نے کل اس کا پہلا باب پڑھا تھا ۔
اس باب کی ابتداء میں ہی پال فنڈلے لکھتا ہے اسلام کے بارے میں اس کا اولین تعارف ہی کچھ اچھا نہیں ہوا تھا اس کے اسکول میں اس کی ایک مس تھیں جو رضا کارانہ طور پر پڑھایا کرتی تھیں اس مس کو اسلام سے شدید بغض تھا اس نے اسلام کے بارے میں منفی خیالات ان بچوں کو دل و دماغ میں بٹھا دئیے اور شاید پورے مغرب میں اسی طرح اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں زہر یلا پروپیگنڈا کیا گیاہے ۔ بابا جان نے پہلے باب کے ابتدائی صفحات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن اب مسلمان کیسے عروج حاصل کریں ؟میں نے بابا جان سے کہا ۔
قرآن کریم نے حل دیاہے ۔۔۔
میں نے بے ساختہ پوچھا : وہ کیا؟
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ سورہ رعد 11
بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾ انفال
یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۔
اب ذرا انفرادی اور اجتماعی طور پر دیکھو کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی ؟
کیا ہم نے ہم نے اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانا چاہا ؟
بابا جان نے کہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے کہا:بچے تو سب ہی مسلمان ہیں اور سچے مسلمان ہیں۔
ہاں ! ہم اور ہمارے بچے !!!ہم بچوں کو صبح فجر میں نہیں جگاتے البتہ اسکول کے لیے مار کر بھی جگاتے ہیں ۔۔۔ یہ تو صرف ایک مثال دی ہے ورنہ چوبیس گھنٹوں میں مسلمان والدین کتنا وقت اس کو شش میں گزارتے ہیں کہ ان کا بچہ سچا مسلمان بنے ۔۔۔
بابا جان نےکے لہجے میں شکایت صاف موجود تھی ۔میں خا موش ہو گیا ۔
کیا ہم نے کوشش کی کہ ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی حقیقی تصویر پہنچا سکیں ؟
نہ تو ہم دنیا بھر کے بچوں تک اسلام کی تعلیمات پہنچارہے ہیں اور نہ ہی ہم اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری حالت بدل دے ۔۔۔(ہمارے بچوں کی جو اس وقت سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے اپنے مسلک و مشرب کی جنگ گالیوں سے لڑ رہے ہیں ان کی اخلاقی حالت ملاحظہ کیجیے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہمارے حالوں پر )
شاعر کہتا ہے ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پیارے بچو ! کیا آپ چاہتے ہیں دنیا بھر سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کاخاتمہ ہو جا