Forwarded from Zubair 006
سادات ہندو پاک پر ایرانی یلغار
محمد عزیر علي
کہتے ہیں جب بندہ خود کسی سے مقابلے کا اہل نہیں ہوتا تو وہ اغیار کے کندھے استعمال کرتا ہے اب یہ دشمن کی عقل پر ہے کہ وہ کتنے قريبی لوگوں کے کندھوں تک پہنچ سکتا ہے، جتنے قریب کے کندھے استعمال کرے گا وار بھی اتنا ہی کاری ہوگا.
ایسا ہی پچھلے کچھ سالوں دیکھنے کو مل رہا ہے ایرانی کرنسی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور رافضیت کے فروغ میں اہل سنت جانے انجانے وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو روافض بھارت میں کبھی نہ کرپاے.
روافض مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات کو ڈھال بناکر سادات کرام پر اپنی گرفت مضبوط کرتے رہے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضیلت میں غلو کیا پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو انکے مقابلے میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی، نتیجہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بیجا کلمات استعمال ہونے لگے جب وہ اس پر کامیاب ہوے تو انھوں نے باغ فدک کو لیکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا ذکر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کیا، رافضیت کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت معصوم ہیں، باغ فدک کو لیکر حضرات شیخین پر بھدی زبان استعمال کی گئی، ایمان ابو طالب پر بھی اہل سنت کو مذبذبیت کی طرف لانے کی کوشش کی،گویا روافض منظم انداز میں ہندو پاک کے سادات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے سادات کم علمی کی بنا پر اپنے کندھے روافض کیلئے کھلے چھوڑے ہوے ہیں(الا ماشاء اللہ)
محمد عزیر علي
کہتے ہیں جب بندہ خود کسی سے مقابلے کا اہل نہیں ہوتا تو وہ اغیار کے کندھے استعمال کرتا ہے اب یہ دشمن کی عقل پر ہے کہ وہ کتنے قريبی لوگوں کے کندھوں تک پہنچ سکتا ہے، جتنے قریب کے کندھے استعمال کرے گا وار بھی اتنا ہی کاری ہوگا.
ایسا ہی پچھلے کچھ سالوں دیکھنے کو مل رہا ہے ایرانی کرنسی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور رافضیت کے فروغ میں اہل سنت جانے انجانے وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو روافض بھارت میں کبھی نہ کرپاے.
روافض مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات کو ڈھال بناکر سادات کرام پر اپنی گرفت مضبوط کرتے رہے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضیلت میں غلو کیا پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو انکے مقابلے میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی، نتیجہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بیجا کلمات استعمال ہونے لگے جب وہ اس پر کامیاب ہوے تو انھوں نے باغ فدک کو لیکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا ذکر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کیا، رافضیت کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت معصوم ہیں، باغ فدک کو لیکر حضرات شیخین پر بھدی زبان استعمال کی گئی، ایمان ابو طالب پر بھی اہل سنت کو مذبذبیت کی طرف لانے کی کوشش کی،گویا روافض منظم انداز میں ہندو پاک کے سادات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے سادات کم علمی کی بنا پر اپنے کندھے روافض کیلئے کھلے چھوڑے ہوے ہیں(الا ماشاء اللہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کافر کے لیے دعا کرنا
کافر کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعا ہرگز نہیں کر سکتے ہدایت کے لیے دعا کرنے میں ہرج نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے کہ :
ولا یدعو للذمی بالمغفرۃ ولو دعا لہ بالھدی جاز لانہ علیہ السلام قال اللھم اھدی قومی فانھم لا یعلمون کذا فی التبیین ۔
"کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کریں، ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے کہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود کافروں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان کو ہدایت دے جو نہیں جانتے۔
(فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، ج5، ص348)
حضرت طفیل بن عمر نے اپنی قوم کی شکایت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ ان کے خلاف دعا کیجیے تو نبئ رحمت نے ہدایت کی دعا فرمائی ۔
(صحیح بخاری، کتاب الجھاد، ج2، ص291، حدیث2937)
اسی طرح صحابہ نے قبیلۂ ثقیف کے خلاف دعا کرنے کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، ج5، ص492، حدیث3968)
ثابت ہوا کہ ہدایت کی دعا کرنے میں ہرج نہیں اور جو مر جائیں ان کی لیے تو ہدایت کی دعا نہیں ہو سکتی لہٰذا مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سخت ناجائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر بھی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے اس سے پرہیز کریں۔
آج کل کچھ مسلمان کافروں کے مرنے کے بعد ان کے نام ساتھ RIP لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے اور بچنا ضروری ہے۔
عبد مصطفی
کافر کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعا ہرگز نہیں کر سکتے ہدایت کے لیے دعا کرنے میں ہرج نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے کہ :
ولا یدعو للذمی بالمغفرۃ ولو دعا لہ بالھدی جاز لانہ علیہ السلام قال اللھم اھدی قومی فانھم لا یعلمون کذا فی التبیین ۔
"کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کریں، ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے کہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود کافروں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان کو ہدایت دے جو نہیں جانتے۔
(فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، ج5، ص348)
حضرت طفیل بن عمر نے اپنی قوم کی شکایت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ ان کے خلاف دعا کیجیے تو نبئ رحمت نے ہدایت کی دعا فرمائی ۔
(صحیح بخاری، کتاب الجھاد، ج2، ص291، حدیث2937)
اسی طرح صحابہ نے قبیلۂ ثقیف کے خلاف دعا کرنے کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، ج5، ص492، حدیث3968)
ثابت ہوا کہ ہدایت کی دعا کرنے میں ہرج نہیں اور جو مر جائیں ان کی لیے تو ہدایت کی دعا نہیں ہو سکتی لہٰذا مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سخت ناجائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر بھی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے اس سے پرہیز کریں۔
آج کل کچھ مسلمان کافروں کے مرنے کے بعد ان کے نام ساتھ RIP لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے اور بچنا ضروری ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
کسی بھی مسئلہ کا جزئیہ تلاش کرنا ہو تو سب سے پہلے آپ "بہارِ شریعت" میں اسے دیکھیں اس سے مل جائے تو ٹھیک ورنہ، "فتاوی رضویہ" کو چیک کریں اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر "فتاوی شامی" دیکھیں اگر ان تینوں میں آپ کو مطلوبہ جزئیہ نہ ملے تو پھر دیگر فتاوی جات کی طرف رجوع کریں۔ مگر یہ فائدہ مند اس وقت ہو گا جب آپ نے مطالعہ کیا ہوا ہو۔
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
کسی حدیث کی شرح دیکھنی ہو تو سب سے پہلے اس حدیث کے عربی متن کو شاملہ میں "مشکوۃ شریف" میں سرچ کریں اگر مل جائے تو باب اور حدیث نمبر نوٹ کر کے
ان تین شروحات سے اس کی شرح دیکھ لیں "مراۃ المناجیح" "اشعۃ اللمعات" "مرقات المفاتیح"
اگر مشکوۃ شریف میں نہ ملے تو پھر شاملہ میں صحاح ستہ سلیکٹ کریں اور حدیث تلاش کریں۔
ان تین شروحات سے اس کی شرح دیکھ لیں "مراۃ المناجیح" "اشعۃ اللمعات" "مرقات المفاتیح"
اگر مشکوۃ شریف میں نہ ملے تو پھر شاملہ میں صحاح ستہ سلیکٹ کریں اور حدیث تلاش کریں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
*قبلہ مفتی ابن مفتی، محقق ابن محقق، فاضل ابن فاضل، صوفی ابن صوفی سیدی حق النبی سکندری ازہری حفظہ اللہ کی عالی تحریر۔*
#نشر_مكرر
*روحانی تجربہ اور ايک علمی حقيقت۔*
*اہلسنت وجماعت کے متفقہ عقائد میں دو ضروری باتیں ہیں :*
*ایک۔ حضرت سيدنا أبوبكر صديق رضي الله تعالي عنه،تمام صحابہ کرام میں سے افضل ہیں، اس پر قطع نظر ادلہ کے (جو کہ سینکڑوں ہیں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ عقیدہ لاکھوں فقہاء مجتہدین محدثين صوفياء و اولياء كا ہے۔*
جب کوئی شخص اسكی مخالفت كرتا ہے تو وہ عقلی و نقلی ادلہ کی مخالفت تو كرتا ہی ہے پر اسکے ساتھ وہ روحانی طور ان لاکھوں نفوس قدسيہ کے طريق كو چھوڑ کر جماعت کے طريقے کی مخالفت كا مرتكب ہوتا ہے،جو کہ ایک نہایت مہلک امر ہے۔
*دو۔صحابہ کرام کے آپس کے بعض ظاہری ناخشگوار معاملات میں اہلسنت کا موقف نہایت ہی محتاط، معتدل اور ادب پر قائم ہے وہ یہ ہیکہ کسی بھی صحابی کے متعلق زبان درازی،بدنيتی آپکے ایمان کے ضياع كا سبب بن سكتی ہے لہذا اسمیں ادب پاس خاطر رہے اور احترام صحابيت کے طريق كو نہ چھوڑنا چاہئے۔*
اب آئیے اس تجربے کی طرف جو سمجهانا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ عالم يا شخص جس نے اہلسنت کے اس راستے کو چھوڑا اسمیں فقير نے ذاتی طور یہ باتیں دیکھیں:
*آخر كار وه شخص اہلسنت سے نکل کر رفض كا مذہب اختيار كرليتا ہے۔*
اسکے اعمال وعقائد حتی کہ طبيعت ميں بھی ایک عجیب تشنج (بےقراری،سختی،بےچینی) دیکھا گیا ہے۔
تاريخ ميں ایسے لائق علماء بھی گذرے ہیں جنکی صلاحيت علم فہم کے سب معترف تھے مگر صحابہ کے حق میں بے احتياطی کی وجہ سے انکی سب محنت رائیگاں گئی اور تاريخ كا گم گشتہ باب بن گئے،انکا علم اور انکی زندگی سے برکت ختم ہوگئی۔
*ماضي قريب كی فقط ايک مثال اور عصر حاضر سے آنکھوں دیکھي عبرت پیش کرکے بات ختم كرتا ہوں۔*
ماضي قريب ميں *علامہ زاہد الکوثري* جيسا محقق حنفي عالم تركي اور عرب ممالك ميں نہیں دیکھا گیا انکی خدمت میں جو شخص سب سے زیادہ رہا وہ انکا شاگرد *احمد خيري مصري* عالم تها،ایک ذہین محنتی عالم دین *احمد خيري مصري* اپنی اس صلاحيت اور شاندار كتب خانے کے باوجود ايک عيب ميں مبتلا تھا کہ وہ صحابي جليل. حضرت سيدنا امير معاوية كے متعلق اچھے خيالات نہ رکھتا تھا، افضليت صديق اکبر كا بھی قائل نہ تھا .
وہ *احمد خيري* جسکا مستقبل ایک محقق حنفي عالم کا مستقبل تھا،وہ گمنامی میں چلا گیا ،حتي كہ اسکی وفات كا بھی اکثر لوگوں کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔
انکا مایہ ناز کتب خانہ کوڑیوں کے عيوض مصر، سعودي اور تركي ميں بکا۔
انكا مستقبل تو روشن نہ ہوسکا پر انکا نام تک کسی کو یاد نہیں۔
دوسری مثال: عصر حاضر میں افضليت كے موضوع پر بھبکیاں مارنے والے ہندوستانی وپاکستانی منتسبین علم کے روح رواں جنہوں نے کچھ لوگوں کو افضليت اور صحابہ پر جری کیا،بولنے لکھنے کے قابل بنایا وہ مصري عالم دين محدث *محمود سعيد ممدوح* ہیں۔
پہلے انکے علم و فہم کا کچھ سنئے،عرب ممالک میں شیخ البانی ۔جو وہابی فكر کے حامل تھے۔ نے علم حديث میں اپنی انوکھی کھچڑی نما تحقيق سے دھوم مچائی،حديث كے فن پر ایک نئے باب کو کھولا، *لوگوں کو امام بخاري سے لیکر ابن حجر عسقلاني جيسے اکابر کی تحقيقات پر انگلیاں اٹھانا سکھایا۔*
ساری عرب دنیا مین اکثريت انکے اس علمي منہج وطريق كی مخالفت میں کھڑی ہوئی،شورمچا،مگر اس عالم کے رد میں کوئی محققانہ رد نہ لکھا جاسکا،جو کچھ لکھا گیا وہ اس درجے کا نہ تھا جس سے شیخ البانی کا سحر ٹوٹتا یا جسے ایک تفصيلی رد کہا جاسکتا،جو کچھ لکھا گیا تھا وہ محدود تھا،یا قابل اعتناء نہ تھا۔
شيخ الباني كا خالص علمي رد جس نے کیا وہ مصري عالم *محمود سعيد ممدوح* ہی تھے، جنہوں نے *"التعريف في اوہام من قسم السنن الی الصحيح والضعيف"* لکھ کر اسكا قرض بھی اتارا اور شيخ الباني كی حديث دانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔اس کتاب اور اسکے مصنف كو شہرت کی بلندیاں نصيب ہوئیں۔
علم حديث پر اتنی مہارت، ذہن ثاقب رکھنے کے باوجود شيخ *محمود سعيد ممدوح* تفضيلي نکلے، سیدنا امیر معاویہ پر وہ گستاخانہ گفتگو کرتے ہیں، جسکا شاہد خود يہ فقير ہے۔
انہوں نے پہلے تو تفضيل پر کتاب لکھی پھر ترقی کرتے گئے اور اب وہ زیدی مذہب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
*امام مالک ،امام ابو حنيفہ کے متعلق انتہائی برے خيالات محض اسلئے رکھتے ہیں کہ وہ تمام صحابہ کے ادب کا حكم ديتے ہیں،* سني علماء سے ملتے ہوئے انہیں کوفت ہوتی ہے پر شیعہ علماء سے انہیں خاص انس ہے۔
انکے علم فضل کا چرچہ مانند پڑچکا ہے،صلاحيت کے باوجود اپنے گھر تک محدودہیں،نہ تو علم پھیلا سکے نہ ہی کسی کو بافيض بناسكے۔
*یہ سب کیوں ہوا ؟*
کیونکہ وہ صحابہ کرام کے حق میں اہلسنت وجماعت کے نہایت ہی محتاط مذہب سے الگ ہوئے،انہیں اس بات نے دھوکے میں ڈال دیا کہ میرا موقف بھی تو اسلامی تاريخ كے چند علماء کے موافق ہے! حالانکہ انکو یہ دیکھنا تھا کہ
#نشر_مكرر
*روحانی تجربہ اور ايک علمی حقيقت۔*
*اہلسنت وجماعت کے متفقہ عقائد میں دو ضروری باتیں ہیں :*
*ایک۔ حضرت سيدنا أبوبكر صديق رضي الله تعالي عنه،تمام صحابہ کرام میں سے افضل ہیں، اس پر قطع نظر ادلہ کے (جو کہ سینکڑوں ہیں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ عقیدہ لاکھوں فقہاء مجتہدین محدثين صوفياء و اولياء كا ہے۔*
جب کوئی شخص اسكی مخالفت كرتا ہے تو وہ عقلی و نقلی ادلہ کی مخالفت تو كرتا ہی ہے پر اسکے ساتھ وہ روحانی طور ان لاکھوں نفوس قدسيہ کے طريق كو چھوڑ کر جماعت کے طريقے کی مخالفت كا مرتكب ہوتا ہے،جو کہ ایک نہایت مہلک امر ہے۔
*دو۔صحابہ کرام کے آپس کے بعض ظاہری ناخشگوار معاملات میں اہلسنت کا موقف نہایت ہی محتاط، معتدل اور ادب پر قائم ہے وہ یہ ہیکہ کسی بھی صحابی کے متعلق زبان درازی،بدنيتی آپکے ایمان کے ضياع كا سبب بن سكتی ہے لہذا اسمیں ادب پاس خاطر رہے اور احترام صحابيت کے طريق كو نہ چھوڑنا چاہئے۔*
اب آئیے اس تجربے کی طرف جو سمجهانا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ عالم يا شخص جس نے اہلسنت کے اس راستے کو چھوڑا اسمیں فقير نے ذاتی طور یہ باتیں دیکھیں:
*آخر كار وه شخص اہلسنت سے نکل کر رفض كا مذہب اختيار كرليتا ہے۔*
اسکے اعمال وعقائد حتی کہ طبيعت ميں بھی ایک عجیب تشنج (بےقراری،سختی،بےچینی) دیکھا گیا ہے۔
تاريخ ميں ایسے لائق علماء بھی گذرے ہیں جنکی صلاحيت علم فہم کے سب معترف تھے مگر صحابہ کے حق میں بے احتياطی کی وجہ سے انکی سب محنت رائیگاں گئی اور تاريخ كا گم گشتہ باب بن گئے،انکا علم اور انکی زندگی سے برکت ختم ہوگئی۔
*ماضي قريب كی فقط ايک مثال اور عصر حاضر سے آنکھوں دیکھي عبرت پیش کرکے بات ختم كرتا ہوں۔*
ماضي قريب ميں *علامہ زاہد الکوثري* جيسا محقق حنفي عالم تركي اور عرب ممالك ميں نہیں دیکھا گیا انکی خدمت میں جو شخص سب سے زیادہ رہا وہ انکا شاگرد *احمد خيري مصري* عالم تها،ایک ذہین محنتی عالم دین *احمد خيري مصري* اپنی اس صلاحيت اور شاندار كتب خانے کے باوجود ايک عيب ميں مبتلا تھا کہ وہ صحابي جليل. حضرت سيدنا امير معاوية كے متعلق اچھے خيالات نہ رکھتا تھا، افضليت صديق اکبر كا بھی قائل نہ تھا .
وہ *احمد خيري* جسکا مستقبل ایک محقق حنفي عالم کا مستقبل تھا،وہ گمنامی میں چلا گیا ،حتي كہ اسکی وفات كا بھی اکثر لوگوں کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔
انکا مایہ ناز کتب خانہ کوڑیوں کے عيوض مصر، سعودي اور تركي ميں بکا۔
انكا مستقبل تو روشن نہ ہوسکا پر انکا نام تک کسی کو یاد نہیں۔
دوسری مثال: عصر حاضر میں افضليت كے موضوع پر بھبکیاں مارنے والے ہندوستانی وپاکستانی منتسبین علم کے روح رواں جنہوں نے کچھ لوگوں کو افضليت اور صحابہ پر جری کیا،بولنے لکھنے کے قابل بنایا وہ مصري عالم دين محدث *محمود سعيد ممدوح* ہیں۔
پہلے انکے علم و فہم کا کچھ سنئے،عرب ممالک میں شیخ البانی ۔جو وہابی فكر کے حامل تھے۔ نے علم حديث میں اپنی انوکھی کھچڑی نما تحقيق سے دھوم مچائی،حديث كے فن پر ایک نئے باب کو کھولا، *لوگوں کو امام بخاري سے لیکر ابن حجر عسقلاني جيسے اکابر کی تحقيقات پر انگلیاں اٹھانا سکھایا۔*
ساری عرب دنیا مین اکثريت انکے اس علمي منہج وطريق كی مخالفت میں کھڑی ہوئی،شورمچا،مگر اس عالم کے رد میں کوئی محققانہ رد نہ لکھا جاسکا،جو کچھ لکھا گیا وہ اس درجے کا نہ تھا جس سے شیخ البانی کا سحر ٹوٹتا یا جسے ایک تفصيلی رد کہا جاسکتا،جو کچھ لکھا گیا تھا وہ محدود تھا،یا قابل اعتناء نہ تھا۔
شيخ الباني كا خالص علمي رد جس نے کیا وہ مصري عالم *محمود سعيد ممدوح* ہی تھے، جنہوں نے *"التعريف في اوہام من قسم السنن الی الصحيح والضعيف"* لکھ کر اسكا قرض بھی اتارا اور شيخ الباني كی حديث دانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔اس کتاب اور اسکے مصنف كو شہرت کی بلندیاں نصيب ہوئیں۔
علم حديث پر اتنی مہارت، ذہن ثاقب رکھنے کے باوجود شيخ *محمود سعيد ممدوح* تفضيلي نکلے، سیدنا امیر معاویہ پر وہ گستاخانہ گفتگو کرتے ہیں، جسکا شاہد خود يہ فقير ہے۔
انہوں نے پہلے تو تفضيل پر کتاب لکھی پھر ترقی کرتے گئے اور اب وہ زیدی مذہب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
*امام مالک ،امام ابو حنيفہ کے متعلق انتہائی برے خيالات محض اسلئے رکھتے ہیں کہ وہ تمام صحابہ کے ادب کا حكم ديتے ہیں،* سني علماء سے ملتے ہوئے انہیں کوفت ہوتی ہے پر شیعہ علماء سے انہیں خاص انس ہے۔
انکے علم فضل کا چرچہ مانند پڑچکا ہے،صلاحيت کے باوجود اپنے گھر تک محدودہیں،نہ تو علم پھیلا سکے نہ ہی کسی کو بافيض بناسكے۔
*یہ سب کیوں ہوا ؟*
کیونکہ وہ صحابہ کرام کے حق میں اہلسنت وجماعت کے نہایت ہی محتاط مذہب سے الگ ہوئے،انہیں اس بات نے دھوکے میں ڈال دیا کہ میرا موقف بھی تو اسلامی تاريخ كے چند علماء کے موافق ہے! حالانکہ انکو یہ دیکھنا تھا کہ
Forwarded from چینل صدائے حق
چند کی موافقت تو ہے پر دوسری جانب لاکھوں محققين،علماء و اولياء ہیں،غلطي كا امكان ان چند لوگوں میں زیادہ ہے لیکن لاکھون علماء و اولیاء غلطی پر متفق نہیں ہوسکتے۔
الله تعالى ہم سبھی کو صحابه اور اہلبیت کا سچا ادب نصيب كرے اور اہلسنت وجماعت کے طريقے پر ثابت قدم رکھے۔
*كتبه:أبوالبركات حق النبي سكندري ازهري.*
الله تعالى ہم سبھی کو صحابه اور اہلبیت کا سچا ادب نصيب كرے اور اہلسنت وجماعت کے طريقے پر ثابت قدم رکھے۔
*كتبه:أبوالبركات حق النبي سكندري ازهري.*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*🔷الیاس گھمن کے جھوٹ🔷*
گھمن دیوبندی نےایک ہیڈنگ بنائی، اعلی حضرت کےجھوٹ، اس میں گھمن نے زبردستی اعلی حضرت کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ اس میں یہ خود جھوٹا ثابت ہوا ہے۔
*1: پہلا جھوٹ:*
*قیامت والے دن ماں کی نسبت سے پکارے جائیں گے یا باپ کی نسبت سے؟*
فاضل بریلی لکھتے ہیں: لوگ اپنی ماؤں کی طرف نسبت کرکے پکارے جائیں گے۔ احکام شریعت حصہ 2 ص 204۔
دوسری جگہ لکھتےہیں:
نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ تم قیامت کے دن اپنےاور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤ گے۔احکام شریعت حصہ 1 ص 91۔
اب دیکھیے یہ تو حدیث ہےلہذا سچ ہوا اور پہلا قول فاضل صاحب کا ہےجو یقینا جھوٹ ہے۔
📗(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 106)
یہاں گھمن نے اپنے گمان فاسد میں اعلی حضرت کو جھوٹا ثابت کیا ہے وہ بالک باطل ہے۔ اعلی حضرت نے دو مختلف اقوال تو بیان کیےہی نہیں ہیں بلکہ صرف ایک قول بیان کیا ہے کہ لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے اور دوسری جگہ گھمن نےجو حدیث نقل کی ہےیہ اس پر نہیں ہے کہ لوگ قیامت والے دن کس کے نام سے پکارے جائیں گے بلکہ اعلی حضرت نام رکھنے کے متعلق کلام کرتے ہوئے اس حدیث پاک کو نقل کرکے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بچوں کےاچھے نام رکھے جائیں،
لیکن گھمن نےصرف آدھی مطلب کی حدیث نقل کرکے باطل استدلال کیا پوری حدیث پاک یوں ہے:
ترجمہ: بے شک تم روز قیامت اپنےاور والدوں کے نام سے پکارے جاؤ گے تو اپنے نام اچھے رکھو۔
📗(احکام شریعت ج 1 ص 88)
باقی یہ کہ اعلی حضرت نے کس دلیل پر کہہ دیا کہ لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے؟ تو یہ بھی حدیث پاک سے ثابت ہے :
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نےارشاد فرمایا بے شک اللہ پوشیدہ طور پر لوگوں کو قیامت کےدن ان کی ماں کے نام سے پکارے گا۔
📗(المعجم الکبیر، ج 11، ص 122، القاہرہ)
اس مسئلہ میں اختلا ف ہے بعض علماء اس طرف ہیں کہ ماؤں کی نسبت سے پکارے جائیں گے اور بعض نے کہا کہ باپوں کی نسبت پکارے جائیں گے، علامہ ابن بطال، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ عبدالرؤف مناوی وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔
بعض نے کہا کہ عمومی طور پر باپ کی نسبت سے پکارے جائیں گے لیکن جس کا نسب زنا، لعان وغیرہ کی وجہ سے والدہ کی طرف منسوب ہوگا وہ والدہ کی نسبت سے پکارا جائے گا اور بعض کو خصوصی طور پر بطور شان والدہ کی نسبت سے پکارا جائے گا جیسے حضرت عیسی علیہ السلام ہیں۔
بہر حال یہ مسئلہ مختلف فیہ لیکن گھمن کی کم علمی واضح ہےاور ان کا خود جھوٹ واضح ہے کہ اپنی کم علمی اسے نظر نہ آئی الٹا اعلی حضرت پر جھوٹ کا الزام لگادیا۔
اس طرح مخلتف اقوال میں ایک کو ترجیح دینا اگر جھوٹ ہے تو پھر دنیا کا کوئی عالم سچا نہیں رہے گا۔
*2: دوسرا جھوٹ،*
*شیطان اور جھوٹ۔*
گھمن دیوبندی لکھتا ہے:
فاضل بریلوی شیطان کے متعلق لکھتے ہیں؛ وہ کذب کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ احکام شریعت ج 1 ص 135۔
کون نہیں جانتا کہ ا س نے آدم و حوا علیھم السلام سےجھوٹ بولا تھا کہ میں تمہار اخیر خواہ ہوں، حالانکہ تھا دشمن۔ یہ بھی جھوٹ ہوا۔
📗 (حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 107)
گھمن دیوبندی بوکھلا گیا ہے اور اسے دعوی اور دلیل میں فرق بھی سمجھ نہیں آتا۔ اعلی حضرت نے یہ کب فرمایا کہ شیطان نےکبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اعلی حضرت کا پورا کلام ملاحظہ ہو:
وہابیہ گمراہ نہ ہوں گے تو ابلیس بھی گمراہ نہ ہوگا کہ اس کی گمراہی ان سے ہلکی ہے۔ وہ کذب کو اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتا اسی لیے اس نے الا عبادک منھم المخلصین استثنا کردیا تھا۔ یہ اللہ عزوجل پر جھوٹ کی تہمت رکھتے ہیں۔ قٰتلھم اللہ انی یوفکون۔
📗 (احکام شریعت ج 1 ص 132، نظامیہ کتاب گھر لاہور)
یہاں اعلی حضر ت یہ نہیں فرما رہے کہ شیطان جھوٹ نہیں بولتا بلکہ ایک مسئلہ کے اعتبار سے فرمارہے ہیں کہ وہابیوں نے جھوٹ کی نسبت اللہ کی طرف کرکے اتنی گمراہی مول لی اور اس کےبرعکس شیطان دیکھیں کہ اس نے اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کی بلکہ خود بھی جھوٹ نہیں بولا اور صاف کہہ دیا کہ تیرے مخلف بندوں پر میرا زور نہیں۔
دینی معلومات اور فتنہ پرور لوگوں کے فتنہ انگیز تحاریر و تقاریر کے علمی محاسبہ کے لیے ہمارے ٹیلی گرام اور واٹس ایپ چینل کو جوائن فرمائیں...⬇️⬇️
*Telegram channel ki link⬇️*
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
*WhatsApp channel ki link⬇️*
https://chat.whatsapp.com/EXywwntb7roFN7qGWYLnvJ
گھمن دیوبندی نےایک ہیڈنگ بنائی، اعلی حضرت کےجھوٹ، اس میں گھمن نے زبردستی اعلی حضرت کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ اس میں یہ خود جھوٹا ثابت ہوا ہے۔
*1: پہلا جھوٹ:*
*قیامت والے دن ماں کی نسبت سے پکارے جائیں گے یا باپ کی نسبت سے؟*
فاضل بریلی لکھتے ہیں: لوگ اپنی ماؤں کی طرف نسبت کرکے پکارے جائیں گے۔ احکام شریعت حصہ 2 ص 204۔
دوسری جگہ لکھتےہیں:
نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ تم قیامت کے دن اپنےاور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤ گے۔احکام شریعت حصہ 1 ص 91۔
اب دیکھیے یہ تو حدیث ہےلہذا سچ ہوا اور پہلا قول فاضل صاحب کا ہےجو یقینا جھوٹ ہے۔
📗(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 106)
یہاں گھمن نے اپنے گمان فاسد میں اعلی حضرت کو جھوٹا ثابت کیا ہے وہ بالک باطل ہے۔ اعلی حضرت نے دو مختلف اقوال تو بیان کیےہی نہیں ہیں بلکہ صرف ایک قول بیان کیا ہے کہ لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے اور دوسری جگہ گھمن نےجو حدیث نقل کی ہےیہ اس پر نہیں ہے کہ لوگ قیامت والے دن کس کے نام سے پکارے جائیں گے بلکہ اعلی حضرت نام رکھنے کے متعلق کلام کرتے ہوئے اس حدیث پاک کو نقل کرکے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بچوں کےاچھے نام رکھے جائیں،
لیکن گھمن نےصرف آدھی مطلب کی حدیث نقل کرکے باطل استدلال کیا پوری حدیث پاک یوں ہے:
ترجمہ: بے شک تم روز قیامت اپنےاور والدوں کے نام سے پکارے جاؤ گے تو اپنے نام اچھے رکھو۔
📗(احکام شریعت ج 1 ص 88)
باقی یہ کہ اعلی حضرت نے کس دلیل پر کہہ دیا کہ لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے؟ تو یہ بھی حدیث پاک سے ثابت ہے :
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نےارشاد فرمایا بے شک اللہ پوشیدہ طور پر لوگوں کو قیامت کےدن ان کی ماں کے نام سے پکارے گا۔
📗(المعجم الکبیر، ج 11، ص 122، القاہرہ)
اس مسئلہ میں اختلا ف ہے بعض علماء اس طرف ہیں کہ ماؤں کی نسبت سے پکارے جائیں گے اور بعض نے کہا کہ باپوں کی نسبت پکارے جائیں گے، علامہ ابن بطال، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ عبدالرؤف مناوی وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔
بعض نے کہا کہ عمومی طور پر باپ کی نسبت سے پکارے جائیں گے لیکن جس کا نسب زنا، لعان وغیرہ کی وجہ سے والدہ کی طرف منسوب ہوگا وہ والدہ کی نسبت سے پکارا جائے گا اور بعض کو خصوصی طور پر بطور شان والدہ کی نسبت سے پکارا جائے گا جیسے حضرت عیسی علیہ السلام ہیں۔
بہر حال یہ مسئلہ مختلف فیہ لیکن گھمن کی کم علمی واضح ہےاور ان کا خود جھوٹ واضح ہے کہ اپنی کم علمی اسے نظر نہ آئی الٹا اعلی حضرت پر جھوٹ کا الزام لگادیا۔
اس طرح مخلتف اقوال میں ایک کو ترجیح دینا اگر جھوٹ ہے تو پھر دنیا کا کوئی عالم سچا نہیں رہے گا۔
*2: دوسرا جھوٹ،*
*شیطان اور جھوٹ۔*
گھمن دیوبندی لکھتا ہے:
فاضل بریلوی شیطان کے متعلق لکھتے ہیں؛ وہ کذب کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ احکام شریعت ج 1 ص 135۔
کون نہیں جانتا کہ ا س نے آدم و حوا علیھم السلام سےجھوٹ بولا تھا کہ میں تمہار اخیر خواہ ہوں، حالانکہ تھا دشمن۔ یہ بھی جھوٹ ہوا۔
📗 (حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 107)
گھمن دیوبندی بوکھلا گیا ہے اور اسے دعوی اور دلیل میں فرق بھی سمجھ نہیں آتا۔ اعلی حضرت نے یہ کب فرمایا کہ شیطان نےکبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اعلی حضرت کا پورا کلام ملاحظہ ہو:
وہابیہ گمراہ نہ ہوں گے تو ابلیس بھی گمراہ نہ ہوگا کہ اس کی گمراہی ان سے ہلکی ہے۔ وہ کذب کو اپنے لیے بھی پسند نہیں کرتا اسی لیے اس نے الا عبادک منھم المخلصین استثنا کردیا تھا۔ یہ اللہ عزوجل پر جھوٹ کی تہمت رکھتے ہیں۔ قٰتلھم اللہ انی یوفکون۔
📗 (احکام شریعت ج 1 ص 132، نظامیہ کتاب گھر لاہور)
یہاں اعلی حضر ت یہ نہیں فرما رہے کہ شیطان جھوٹ نہیں بولتا بلکہ ایک مسئلہ کے اعتبار سے فرمارہے ہیں کہ وہابیوں نے جھوٹ کی نسبت اللہ کی طرف کرکے اتنی گمراہی مول لی اور اس کےبرعکس شیطان دیکھیں کہ اس نے اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کی بلکہ خود بھی جھوٹ نہیں بولا اور صاف کہہ دیا کہ تیرے مخلف بندوں پر میرا زور نہیں۔
دینی معلومات اور فتنہ پرور لوگوں کے فتنہ انگیز تحاریر و تقاریر کے علمی محاسبہ کے لیے ہمارے ٹیلی گرام اور واٹس ایپ چینل کو جوائن فرمائیں...⬇️⬇️
*Telegram channel ki link⬇️*
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
*WhatsApp channel ki link⬇️*
https://chat.whatsapp.com/EXywwntb7roFN7qGWYLnvJ
Telegram
چینل تحریک اصلاح عقائد
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from E Nikah Service
ईज़ी निकाह (Easy Nikah)
अब अहले सुन्नत (सुन्नियों) में निकाह के लिये रिश्ते तलाश करना हुआ और भी आसान!
सुन्नी लड़कियों के लिये सुन्नी लड़के और लड़कों के लिये तलाश कीजिये लड़कियाँ "ईज़ी निकाह सर्विस" के ज़रिये।
ये सर्विस अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफ़िशियल की तरफ से शुरू की गयी है जहाँ आप अपनी या अपने घर के लड़कों और लड़कियों के निकाह के लिये रिश्ते तलाश कर सकते हैं।
ईज़ी निकाह सर्विस के काम करने का तरीक़ा और शराइत :
(1) ई-निकाह के ऑफ़िशियल वॉट्सएप्प ग्रुप और टेलीग्राम चेनल में शामिल होने के लिये इस नम्बर पर मेसेज करें।
(+919102520764)
(2) प्रोफाइल बनाने के लिये अपना बॉयो डाटा भी इसी नम्बर पर भेजें।
(3) लड़के के प्रोफाइल में नाम, पता, डेट ऑफ़ बर्थ, क़्वालिफिकेशन और कॉन्टेक्ट नम्बर का होना ज़रूरी है।
इन के अलावा अगर लड़का शादी शुदा है और दूसरी, तीसरी या चौथी बीवी के लिये प्रोफाइल बनाना चाहता है तो इस का ज़िक्र ज़रूर करे। इस का भी ज़िक्र करें कि प्रोफाइल किस के लिये बनाया है।
(4) लड़की के प्रोफाइल में नाम, डेट ऑफ़ बर्थ, एड्रेस, क़्वालिफिकेशन और घर का कॉन्टेक्ट नम्बर होना चाहिये ताकि ख्वाहिशमन्द हज़रात राब्ता कर सकें।
तलाक़ शुदा, बेवा और माज़ूर ल़डकियों का भी प्रोफाइल बनाया जा सकता है।
(5) लड़के के प्रोफाइल में फोटो दी जा सकती है लेकिन लड़की के प्रोफाइल में नहीं। लड़की को देखने के लिये लड़के वाले नम्बर के ज़रिये राब्ता कर सकते हैं।
(6) प्रोफाइल बनाते वक़्त इस बात का ज़िक्र ज़रूर करें कि आप निकाह जहेज़, नक़दी, बारात और रस्मो रिवाज के बगैर करना चाहते हैं और अगर इस के बर अक्स है तो ई-निकाह सर्विस इस से इत्तिफाक़ नहीं रखती लिहाज़ा अगर आप प्रोफ़ाइल में इस का ज़िक्र नहीं करते हैं तो प्रोफाइल बन जायेगा लेकिन बाद में किसी भी तरह की लेन देन से मुत्तलिक़ ई-निकाह सर्विस की कोई ज़िम्मेदारी नहीं होगी।
(7) रिश्ता हो जाने के बाद या निकाह के बाद ई-निकाह सर्विस किसी भी चीज़ की ज़िम्मेदार (Responsible) नहीं है।
(8) ये सर्विस बिल्कुल मुफ्त है और सिर्फ अहले सुन्नत (सुन्नियों) की खिदमत के लिये बनायी गयी है।
अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफ़िशियल
अब अहले सुन्नत (सुन्नियों) में निकाह के लिये रिश्ते तलाश करना हुआ और भी आसान!
सुन्नी लड़कियों के लिये सुन्नी लड़के और लड़कों के लिये तलाश कीजिये लड़कियाँ "ईज़ी निकाह सर्विस" के ज़रिये।
ये सर्विस अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफ़िशियल की तरफ से शुरू की गयी है जहाँ आप अपनी या अपने घर के लड़कों और लड़कियों के निकाह के लिये रिश्ते तलाश कर सकते हैं।
ईज़ी निकाह सर्विस के काम करने का तरीक़ा और शराइत :
(1) ई-निकाह के ऑफ़िशियल वॉट्सएप्प ग्रुप और टेलीग्राम चेनल में शामिल होने के लिये इस नम्बर पर मेसेज करें।
(+919102520764)
(2) प्रोफाइल बनाने के लिये अपना बॉयो डाटा भी इसी नम्बर पर भेजें।
(3) लड़के के प्रोफाइल में नाम, पता, डेट ऑफ़ बर्थ, क़्वालिफिकेशन और कॉन्टेक्ट नम्बर का होना ज़रूरी है।
इन के अलावा अगर लड़का शादी शुदा है और दूसरी, तीसरी या चौथी बीवी के लिये प्रोफाइल बनाना चाहता है तो इस का ज़िक्र ज़रूर करे। इस का भी ज़िक्र करें कि प्रोफाइल किस के लिये बनाया है।
(4) लड़की के प्रोफाइल में नाम, डेट ऑफ़ बर्थ, एड्रेस, क़्वालिफिकेशन और घर का कॉन्टेक्ट नम्बर होना चाहिये ताकि ख्वाहिशमन्द हज़रात राब्ता कर सकें।
तलाक़ शुदा, बेवा और माज़ूर ल़डकियों का भी प्रोफाइल बनाया जा सकता है।
(5) लड़के के प्रोफाइल में फोटो दी जा सकती है लेकिन लड़की के प्रोफाइल में नहीं। लड़की को देखने के लिये लड़के वाले नम्बर के ज़रिये राब्ता कर सकते हैं।
(6) प्रोफाइल बनाते वक़्त इस बात का ज़िक्र ज़रूर करें कि आप निकाह जहेज़, नक़दी, बारात और रस्मो रिवाज के बगैर करना चाहते हैं और अगर इस के बर अक्स है तो ई-निकाह सर्विस इस से इत्तिफाक़ नहीं रखती लिहाज़ा अगर आप प्रोफ़ाइल में इस का ज़िक्र नहीं करते हैं तो प्रोफाइल बन जायेगा लेकिन बाद में किसी भी तरह की लेन देन से मुत्तलिक़ ई-निकाह सर्विस की कोई ज़िम्मेदारी नहीं होगी।
(7) रिश्ता हो जाने के बाद या निकाह के बाद ई-निकाह सर्विस किसी भी चीज़ की ज़िम्मेदार (Responsible) नहीं है।
(8) ये सर्विस बिल्कुल मुफ्त है और सिर्फ अहले सुन्नत (सुन्नियों) की खिदमत के लिये बनायी गयी है।
अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफ़िशियल
Forwarded from E Nikah Service
Easy Nikah
Ab Ahle Sunnat (Sunniyo) Mein Nikah Ke Liye Rishte Talash Karna Hua Aur Bhi Aasan!
Sunni Ladkiyo Ke Liye Sunni Ladke Aur Ladko Ke Liye Talash Kijiye Ladkiya "Easy Nikah Service" Ke Zariye
Ye Service Abde Mustafa Official Ki Taraf Se Shuru Ki Gayi Hai Jahan Aap Apni Ya Apne Ghar Ke Ladko Aur Ladkiyo Ke Nikah Ke Liye Rishte Talash Kar Sakte Hain
Easy Nikah Service Ke Kaam Karne Ka Tariqa Aur Sharait :
(1) ENikah Ke Official WhatsApp Group Aur Telegram Channel Mein Shamil Hone Ke Liye Is Number Par Message Karein (+919102520764)
(2) Profile Banane Ke Liye Apna Bio Data Bhi Isi Number Par Bhejein
(3) Ladke Ke Profile Mein Naam, Pata, Date Of Birth, Qualification Aur Contact Number Ka Hona Zaroori Hai
In Ke Ilawa Agar Ladka Shadi Shuda Hai Aur Dusri, Teesri Ya Chauthi Biwi Ke Liye Profile Banana Chahta Hai To Is Ka Zikr Zaroor Kare
Is Ka Bhi Zikr Karein Ke Profile Kis Ke Liye Banaya Hai
(4) Ladki Ke Profile Mein Naam, Date of Birth, Address, Qualification Aur Ghar Ka Contact Number Hona Chahiye Taaki Khwahishmand Hazraat Rabta Kar Sakein
Talaq Shuda, Bewa Aur Mazoor Ladkiyo Ka Bhi Profile Banaya Ja Sakta Hai
(5) Ladke Ke Profile Mein Photo Di Ja Sakti Hai Lekin Ladki Ke Profile Mein Nahin
Ladki Ko Dekhne Ke Liye Ladke Waale Number Ke Zariye Rabta Kar Sakte Hain
(6) Profile Banate Waqt Is Baat Ka Zikr Zaroor Karein Ke Aap Nikah Jahez, Naqdi, Baraat Aur Rasmo Riwaaj Ke Baghair Karna Chahte Hain Aur Agar Iske Bar Aks Hai To ENikah Service Isse Ittefaq Nahin Rakhti Lihaza Agar Aap Profile Mein Iska Zikr Nahin Karte Hain To Profile Ban Jayega Lekin Baad Mein Kisi Bhi Tarah Ki Len Den Se Mutalliq ENikah Service Ki Koi Zimmedari Nahin Hogi
(7) Rishta Ho Jaane Ke Baad Ya Nikah Ke Baad ENikah Service Kisi Bhi Cheez Ki Zimmedar (Responsible) Nahin Hai
(8) Ye Service Bilkul Muft Hai Aur Sirf Ahle Sunnat (Sunniyo) Ki Khidmat Ke Liye Banayi Gayi Hai
By Abde Mustafa Official
Ab Ahle Sunnat (Sunniyo) Mein Nikah Ke Liye Rishte Talash Karna Hua Aur Bhi Aasan!
Sunni Ladkiyo Ke Liye Sunni Ladke Aur Ladko Ke Liye Talash Kijiye Ladkiya "Easy Nikah Service" Ke Zariye
Ye Service Abde Mustafa Official Ki Taraf Se Shuru Ki Gayi Hai Jahan Aap Apni Ya Apne Ghar Ke Ladko Aur Ladkiyo Ke Nikah Ke Liye Rishte Talash Kar Sakte Hain
Easy Nikah Service Ke Kaam Karne Ka Tariqa Aur Sharait :
(1) ENikah Ke Official WhatsApp Group Aur Telegram Channel Mein Shamil Hone Ke Liye Is Number Par Message Karein (+919102520764)
(2) Profile Banane Ke Liye Apna Bio Data Bhi Isi Number Par Bhejein
(3) Ladke Ke Profile Mein Naam, Pata, Date Of Birth, Qualification Aur Contact Number Ka Hona Zaroori Hai
In Ke Ilawa Agar Ladka Shadi Shuda Hai Aur Dusri, Teesri Ya Chauthi Biwi Ke Liye Profile Banana Chahta Hai To Is Ka Zikr Zaroor Kare
Is Ka Bhi Zikr Karein Ke Profile Kis Ke Liye Banaya Hai
(4) Ladki Ke Profile Mein Naam, Date of Birth, Address, Qualification Aur Ghar Ka Contact Number Hona Chahiye Taaki Khwahishmand Hazraat Rabta Kar Sakein
Talaq Shuda, Bewa Aur Mazoor Ladkiyo Ka Bhi Profile Banaya Ja Sakta Hai
(5) Ladke Ke Profile Mein Photo Di Ja Sakti Hai Lekin Ladki Ke Profile Mein Nahin
Ladki Ko Dekhne Ke Liye Ladke Waale Number Ke Zariye Rabta Kar Sakte Hain
(6) Profile Banate Waqt Is Baat Ka Zikr Zaroor Karein Ke Aap Nikah Jahez, Naqdi, Baraat Aur Rasmo Riwaaj Ke Baghair Karna Chahte Hain Aur Agar Iske Bar Aks Hai To ENikah Service Isse Ittefaq Nahin Rakhti Lihaza Agar Aap Profile Mein Iska Zikr Nahin Karte Hain To Profile Ban Jayega Lekin Baad Mein Kisi Bhi Tarah Ki Len Den Se Mutalliq ENikah Service Ki Koi Zimmedari Nahin Hogi
(7) Rishta Ho Jaane Ke Baad Ya Nikah Ke Baad ENikah Service Kisi Bhi Cheez Ki Zimmedar (Responsible) Nahin Hai
(8) Ye Service Bilkul Muft Hai Aur Sirf Ahle Sunnat (Sunniyo) Ki Khidmat Ke Liye Banayi Gayi Hai
By Abde Mustafa Official
Join Telegram Channel
Of Easy Nikah Service :
🆔 t.me/Enikah
To Join WhatsApp Group
Message on this Number
📱 +919102520764
Abde Mustafa Official
@AbdeMustafaOfficial
Of Easy Nikah Service :
🆔 t.me/Enikah
To Join WhatsApp Group
Message on this Number
📱 +919102520764
Abde Mustafa Official
@AbdeMustafaOfficial
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اپنا کام بنتا ... میں جائے جنتا
حضرت سری سقتی رحمہ اللہ تعالی نے ایک بار الحمدللہ کہا تو 30 سال تک استغفار کرتے رہے!
کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟
آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ بغداد میں آگ لگ گئی ہے جس سے مکانات وغیرہ جل گئے ہیں لیکن آپ کی دوکان بچ گئی ہے تو میں نے اس پر الحمدللہ کَہ دیا اور اس پر میں نادم ہوں کہ میں نے مسلمانوں کے نقصان کو نظر انداز کرکے اپنے فائدے کو دیکھ کر الحمدللہ کہا اسی وجہ سے میں 30 سال سے استغفار کر رہا ہوں۔
(رسالہ قشیریہ، اردو، ص74)
آج کل ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ تک کَہ دیتے ہیں کہ اپنا کام بنتا...... میں جائے جنتا۔
ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھنا اچھی بات نہیں ہے۔
دوسروں کو بھی دیکھ کر چلنا چاہیے چاہے وہ علم کا معاملہ ہو، مال کا معاملہ ہو یا تجارت ہو۔
عبد مصطفی
حضرت سری سقتی رحمہ اللہ تعالی نے ایک بار الحمدللہ کہا تو 30 سال تک استغفار کرتے رہے!
کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟
آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ بغداد میں آگ لگ گئی ہے جس سے مکانات وغیرہ جل گئے ہیں لیکن آپ کی دوکان بچ گئی ہے تو میں نے اس پر الحمدللہ کَہ دیا اور اس پر میں نادم ہوں کہ میں نے مسلمانوں کے نقصان کو نظر انداز کرکے اپنے فائدے کو دیکھ کر الحمدللہ کہا اسی وجہ سے میں 30 سال سے استغفار کر رہا ہوں۔
(رسالہ قشیریہ، اردو، ص74)
آج کل ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ تک کَہ دیتے ہیں کہ اپنا کام بنتا...... میں جائے جنتا۔
ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھنا اچھی بات نہیں ہے۔
دوسروں کو بھی دیکھ کر چلنا چاہیے چاہے وہ علم کا معاملہ ہو، مال کا معاملہ ہو یا تجارت ہو۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
بس تین سوالات کے جواب دے دو کیا اللہ بغیر وسیلے کے نہیں سنتا. اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا یا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب:وہابیت سے ہمارا اختلاف ان باتوں پہ نہیں ہے وہابی اپنے کفریات کی وجہ سے کافر ہیں۔
(1):بغیر وسیلے کے نہیں سنتا؟
جواب:اللہ تعالی بغیر وسیلے کے سنتا ہے لیکن اس سے یہ کیسے نفی ہو سکتی ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی دی ہوئی طاقت سے کوئی نہیں سنتا؟
(2):اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا؟
جواب:بالکل بغیر وسیلے کے بھی قبول کرتا ہے لیکن اس میں اس بات کی نفی کہاں ہے کہ وہ وسیلے کے ساتھ قبول نہیں کرتا؟
(3):کیا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے؟
جواب:اللہ تعالی پابند نہیں ہے وہ ڈائریکٹ بھی نہ ہی کسی کی سنے چاہے وسیلہ ہو چاہے نہ ہو لیکن ہاں یہ کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور محبت فرماتا ہے اور ان کی بات کو نہیں ٹالتا اگر وہ پیار سے عرض کرتے ہیں الا یہ کہ وہ کوئی تقدیر مبرم کے بارے میں سوال نہ کریں جن کے فیصلے پہلے ہوچکے ہیں۔
آپ اس آیت کا معنٰی و مفہوم سمجھا دیں "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ" (سورۃ المائدہ، آیت 35)
ہم اللہ کی مانیں یا آپ کی؟
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب:وہابیت سے ہمارا اختلاف ان باتوں پہ نہیں ہے وہابی اپنے کفریات کی وجہ سے کافر ہیں۔
(1):بغیر وسیلے کے نہیں سنتا؟
جواب:اللہ تعالی بغیر وسیلے کے سنتا ہے لیکن اس سے یہ کیسے نفی ہو سکتی ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی دی ہوئی طاقت سے کوئی نہیں سنتا؟
(2):اگر سنتا ہے تو بغیر وسیلے کے قبول نہیں کرتا؟
جواب:بالکل بغیر وسیلے کے بھی قبول کرتا ہے لیکن اس میں اس بات کی نفی کہاں ہے کہ وہ وسیلے کے ساتھ قبول نہیں کرتا؟
(3):کیا وسیلے کے بعد قبول کرنے کا پابند ہے؟
جواب:اللہ تعالی پابند نہیں ہے وہ ڈائریکٹ بھی نہ ہی کسی کی سنے چاہے وسیلہ ہو چاہے نہ ہو لیکن ہاں یہ کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور محبت فرماتا ہے اور ان کی بات کو نہیں ٹالتا اگر وہ پیار سے عرض کرتے ہیں الا یہ کہ وہ کوئی تقدیر مبرم کے بارے میں سوال نہ کریں جن کے فیصلے پہلے ہوچکے ہیں۔
آپ اس آیت کا معنٰی و مفہوم سمجھا دیں "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ" (سورۃ المائدہ، آیت 35)
ہم اللہ کی مانیں یا آپ کی؟
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM