Forwarded from Zubair 006
❣🤲🏻 🌙۔
*جو ایک ڈیڑھ لیٹر پیپسی کی بوتل کو کاٹ کر اس میں تھوڑی سی مٹی ڈال کر سبز مرچ کا پودا نہیں لگا سکتے وہ چاہتے ہیں ہر چیز سستی ہوجائے،*
جو چھوٹی سی پلاسٹک کی بالٹی میں مٹی ڈال کر ٹماٹر کا پودا نہیں لگا سکتے وہ مہنگائی کا رونا روتے ہیں،
سیکھو چائینیز سے،
جنہوں نے اپنے گھر کے معاملات چلانے کیلیئے یہ چھوٹے چھوٹے کام کیے،
جب ہر شخص اپنے معاملات میں خود مختار ہوگا تو بازار سستا ترین ہوجائے گا۔
جب ہر وقت بےایمانی اور سستی کاہلی چھائی رہے گی تو مہنگائی کا رونا کیسا۔۔؟؟
ہم ایسی قوم ہیں جو چھوٹے چھوٹے کاموں کا مزاق اڑاتے ہیں اور بڑے کاموں کی طرف ویسے نہیں جاتے کہ یہ ہم سے ہوگا نہیں،
*پھر رونا ہی بچتا ہے روتے رہیں، یہ آپ کے نصیب میں آپ نے خود لکھا ہے*
پیش کش: زبیر قادری
*جو ایک ڈیڑھ لیٹر پیپسی کی بوتل کو کاٹ کر اس میں تھوڑی سی مٹی ڈال کر سبز مرچ کا پودا نہیں لگا سکتے وہ چاہتے ہیں ہر چیز سستی ہوجائے،*
جو چھوٹی سی پلاسٹک کی بالٹی میں مٹی ڈال کر ٹماٹر کا پودا نہیں لگا سکتے وہ مہنگائی کا رونا روتے ہیں،
سیکھو چائینیز سے،
جنہوں نے اپنے گھر کے معاملات چلانے کیلیئے یہ چھوٹے چھوٹے کام کیے،
جب ہر شخص اپنے معاملات میں خود مختار ہوگا تو بازار سستا ترین ہوجائے گا۔
جب ہر وقت بےایمانی اور سستی کاہلی چھائی رہے گی تو مہنگائی کا رونا کیسا۔۔؟؟
ہم ایسی قوم ہیں جو چھوٹے چھوٹے کاموں کا مزاق اڑاتے ہیں اور بڑے کاموں کی طرف ویسے نہیں جاتے کہ یہ ہم سے ہوگا نہیں،
*پھر رونا ہی بچتا ہے روتے رہیں، یہ آپ کے نصیب میں آپ نے خود لکھا ہے*
پیش کش: زبیر قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=701070060463515&id=388280455075812
*لاک ڈاؤن کے فائدے!*
از: محمد زبیر قادری
رکن روشن مستقبل، دہلی
یہ کتنی عجیب سی بات ہےکہ دنیا کو ایک ایسی بیماری نے گھیر لیا جس کے لیے پوری دنیا کے کاروبارِ زندگی کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہر کسی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اب تک آپ نے لاک ڈاؤن نے بے شمار نقصانات کا ذکر سنا ہوگا، ہم آپ کو لاک ڈاؤن میں ہونے والے فائدوں کا ذکر کریں گے۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب سے بڑا فائدہ اہلِ علم مذہبی طبقے کا ہوا اور ہو رہا ہے۔ اس طویل قید تنہائی میں مطالعہ کا بھرپور موقع ملا۔ آج کتابیں نہ ہونے کی شکایت بھی کوئی نہیں کرسکتا کیوں کہ لاکھوں کتابیں آپ اپنے موبائل فون کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس دوران بہت زیادہ کتابیں پڑھی گئیں۔ تصنیف و تالیف سے وابستہ افراد کے لیے یہ بڑی خوشی کا موقع ثابت ہوا، ان کے کئی کام جو عرصے سے التوا میں پڑے ہوئے تھے، وہ اس بند کے دوران مکمل ہوگئے۔
👈 مولانا سید رضوان شافعی نے بتایا کہ انھوں نے فقہ شافعی پر ۱۰۰۰ صفحات پر کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ مکمل کرلیا، جو لاک ڈاؤن کے بعد شائع کیا جائے گا۔
👈 مفتی ذوالفقار خان نعیمی صاحب عرصے سے’’ سوانح صدر الافاضل‘‘ پر کام کرنا چاہتے تھے، ان کو بھی اس کام کا بہترین موقع ہاتھ لگا اور ہزار سے زائد صفحات پر کتاب تیار ہوگئی۔
👈 مولانا افروز قادری چریا کوٹی ایک بڑے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
ٹ مولانا طارق انور مصباحی (کیرالہ) نے فیض رسول قادری پاکستانی کا ۵۰۰ صفحات پر مشتمل رد لکھا۔
👈 مولانا زاہد مرکزی صاحب نے غیر مسلموں کو دعوت کے لیے ’’آؤ اسلام کو جانیں‘‘ ہندی میں مرتب کی، جو عن قریب شائع ہوگی۔
👈 مسلمانوں (سنیوں) کا میڈیا نہ ہونے کے سبب اسلام دشمن میڈیا مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرکے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کا کام دن رات کر رہا ہے۔ عرصۂ دراز سے اپنا میڈیا نہ ہونے کی شکایت تھی۔ اس جانب مولانا عبدالمالک مصباحی نے خصوصی توجہ فرمائی اور لاک ڈاؤن میں ہی اپنے چینل Global 20 Channel کا آغاز کردیا۔ فی الحال یہ چینل یو ٹیوب پر جاری ہے اور حضرت اسے ٹی وی چینل پر لانے کی کوشش میں لگے ہیں۔
👈 خواتین کے لیے اہلِ سنّت کا کوئی یو ٹیوب چینل نہیں تھا۔ اس جانب توجہ دی مولانا بہاء الدین صاحب کی اہلیہ محترمہ عالمہ فاضلہ ، جو گلبرگہ شریف میں ایک مدرسہ کی مہتمم اور مصنفہ میرے نبی جیسا کوئی نہیں اور اسلامی نصابِ تعلیم کورس کی مرتبہ نے یو ٹیوب پر خواتین کے لیے Empowered Muslim Women نام سے چینل شروع کیا۔ جس میں خواتین کے لیے مذہبی، اصلاحی، فکری رہنمائی کی جاتی ہے۔ شرعی تقاضے کے مطابق یہ چینل خواتین کی تصاویر سے پاک ہے۔
👈 اس کے علاوہ بہت سے احباب نے یو ٹیوب پر اپنے چینل بناکر سنیت کی تبلیغ و اشاعت کا شروع کردیا۔ یعنی مختلف موضوعات پر مختصربیانات کی ویڈیو کلپ بناکر یو ٹیوب کے ذریعے عام کرنے کا سلسلہ لاک ڈاؤن میں بہت بڑھ گیا۔
👈 احقر (زبیر قادری) نے بہارِ شریعت کو رومن اردو منتقلی کا کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ مفتی اسلم رضا تحسینی صاحب کی مرتبہ ’’اسلامی عقائد و مسائل‘‘ کا رومن اردو کا کام شروع کیا۔ پھر بخاری شریف جلد دوم کی ہندی کا کام بھی مکمل ہوگیا۔ تیسری جلد پر کام جاری ہے۔
یہ مختصر چند جھلکیاں یہاں پیش کیں، ورنہ تو کثیر کام ہوا اور اب بھی جاری ہے۔
*ہمارے فیس بک پیج Roshan Mustaqbil کو ضرور لائک اور فالو کریں*
*لاک ڈاؤن کے فائدے!*
از: محمد زبیر قادری
رکن روشن مستقبل، دہلی
یہ کتنی عجیب سی بات ہےکہ دنیا کو ایک ایسی بیماری نے گھیر لیا جس کے لیے پوری دنیا کے کاروبارِ زندگی کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہر کسی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اب تک آپ نے لاک ڈاؤن نے بے شمار نقصانات کا ذکر سنا ہوگا، ہم آپ کو لاک ڈاؤن میں ہونے والے فائدوں کا ذکر کریں گے۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب سے بڑا فائدہ اہلِ علم مذہبی طبقے کا ہوا اور ہو رہا ہے۔ اس طویل قید تنہائی میں مطالعہ کا بھرپور موقع ملا۔ آج کتابیں نہ ہونے کی شکایت بھی کوئی نہیں کرسکتا کیوں کہ لاکھوں کتابیں آپ اپنے موبائل فون کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس دوران بہت زیادہ کتابیں پڑھی گئیں۔ تصنیف و تالیف سے وابستہ افراد کے لیے یہ بڑی خوشی کا موقع ثابت ہوا، ان کے کئی کام جو عرصے سے التوا میں پڑے ہوئے تھے، وہ اس بند کے دوران مکمل ہوگئے۔
👈 مولانا سید رضوان شافعی نے بتایا کہ انھوں نے فقہ شافعی پر ۱۰۰۰ صفحات پر کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ مکمل کرلیا، جو لاک ڈاؤن کے بعد شائع کیا جائے گا۔
👈 مفتی ذوالفقار خان نعیمی صاحب عرصے سے’’ سوانح صدر الافاضل‘‘ پر کام کرنا چاہتے تھے، ان کو بھی اس کام کا بہترین موقع ہاتھ لگا اور ہزار سے زائد صفحات پر کتاب تیار ہوگئی۔
👈 مولانا افروز قادری چریا کوٹی ایک بڑے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
ٹ مولانا طارق انور مصباحی (کیرالہ) نے فیض رسول قادری پاکستانی کا ۵۰۰ صفحات پر مشتمل رد لکھا۔
👈 مولانا زاہد مرکزی صاحب نے غیر مسلموں کو دعوت کے لیے ’’آؤ اسلام کو جانیں‘‘ ہندی میں مرتب کی، جو عن قریب شائع ہوگی۔
👈 مسلمانوں (سنیوں) کا میڈیا نہ ہونے کے سبب اسلام دشمن میڈیا مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرکے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کا کام دن رات کر رہا ہے۔ عرصۂ دراز سے اپنا میڈیا نہ ہونے کی شکایت تھی۔ اس جانب مولانا عبدالمالک مصباحی نے خصوصی توجہ فرمائی اور لاک ڈاؤن میں ہی اپنے چینل Global 20 Channel کا آغاز کردیا۔ فی الحال یہ چینل یو ٹیوب پر جاری ہے اور حضرت اسے ٹی وی چینل پر لانے کی کوشش میں لگے ہیں۔
👈 خواتین کے لیے اہلِ سنّت کا کوئی یو ٹیوب چینل نہیں تھا۔ اس جانب توجہ دی مولانا بہاء الدین صاحب کی اہلیہ محترمہ عالمہ فاضلہ ، جو گلبرگہ شریف میں ایک مدرسہ کی مہتمم اور مصنفہ میرے نبی جیسا کوئی نہیں اور اسلامی نصابِ تعلیم کورس کی مرتبہ نے یو ٹیوب پر خواتین کے لیے Empowered Muslim Women نام سے چینل شروع کیا۔ جس میں خواتین کے لیے مذہبی، اصلاحی، فکری رہنمائی کی جاتی ہے۔ شرعی تقاضے کے مطابق یہ چینل خواتین کی تصاویر سے پاک ہے۔
👈 اس کے علاوہ بہت سے احباب نے یو ٹیوب پر اپنے چینل بناکر سنیت کی تبلیغ و اشاعت کا شروع کردیا۔ یعنی مختلف موضوعات پر مختصربیانات کی ویڈیو کلپ بناکر یو ٹیوب کے ذریعے عام کرنے کا سلسلہ لاک ڈاؤن میں بہت بڑھ گیا۔
👈 احقر (زبیر قادری) نے بہارِ شریعت کو رومن اردو منتقلی کا کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ مفتی اسلم رضا تحسینی صاحب کی مرتبہ ’’اسلامی عقائد و مسائل‘‘ کا رومن اردو کا کام شروع کیا۔ پھر بخاری شریف جلد دوم کی ہندی کا کام بھی مکمل ہوگیا۔ تیسری جلد پر کام جاری ہے۔
یہ مختصر چند جھلکیاں یہاں پیش کیں، ورنہ تو کثیر کام ہوا اور اب بھی جاری ہے۔
*ہمارے فیس بک پیج Roshan Mustaqbil کو ضرور لائک اور فالو کریں*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
🌹 پَہلا عُرس First Urs पहला उ़र्स Urse Huzur TajushShareeah Date ⁵/⁶ Zî Qa'adah ⁹/¹⁰ July عرسِ حضور تاج الشریعہ عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ بَـتارِیخ ⁶/⁵ ذِیقعدہ = ¹⁰/⁹ جُـولائی उ़र्से ताजुश्शरीअ़ः ઉ઼ર્સે તાજુશ્શરીઅ઼ઃ तारीख़ ⁵/⁶ ज़ीक़अ़्दह ⁹/¹⁰ जुलाई ➻═══════════➻…
🌹 دوسرا عُرس दूसरा उ़र्स OnLine
Urs Huzoor TajushShareeah
Date ⁶ Zee Qaadah / ²⁸ June
عرسِ حضور تاج الشریعہ عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
بَتارِیخ ⁶ذِیقعدہ ۱۴۴۱ھ ²⁸جون ۰۲۰۲ء
उ़र्से ताजुश्शरीअ़ः ઉ઼ર્સે તાજુશ્શરીઅ઼ઃ
तारीख़ ⁶ज़ीक़अ़्दह¹⁴⁴¹ | ²⁸जून²⁰²⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Urs Huzoor TajushShareeah
Date ⁶ Zee Qaadah / ²⁸ June
عرسِ حضور تاج الشریعہ عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
بَتارِیخ ⁶ذِیقعدہ ۱۴۴۱ھ ²⁸جون ۰۲۰۲ء
उ़र्से ताजुश्शरीअ़ः ઉ઼ર્સે તાજુશ્શરીઅ઼ઃ
तारीख़ ⁶ज़ीक़अ़्दह¹⁴⁴¹ | ²⁸जून²⁰²⁰
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ہر گھر میں ایک چھوٹا وائٹ بورڈ اور مارکر ضرور ہونا چاہیے.
والدین کی ذمہ داری بچوں کو وقت دیں، جب بچے تھوڑا بہت سبق یاد کر لیں تو انہیں سبق کو بورڈ پر سمجھانے کا کہیے اور والدین میں سے کوئی ایک بڑی ہی توجہ اور دلجمعی سے اس کو سنے..
اس کے کثیر فوائد ہیں:
١ بچوں کو سبق یاد کرنے سمجھنے میں آسانی پیدا ہو گی.
٢ بچوں میں خود اعتمادی (confidence) میں اضافہ ہو گا.
٣ بچوں کے بولنے کی صلاحیت ابھرے گی.
٤ والدین اور بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول پیدا ہو گا.
٥ بچے گھر کی دیواروں کی بجائے بورڈ پر ہی لکھا کریں گے.
پیش کش: فرحان قادری
والدین کی ذمہ داری بچوں کو وقت دیں، جب بچے تھوڑا بہت سبق یاد کر لیں تو انہیں سبق کو بورڈ پر سمجھانے کا کہیے اور والدین میں سے کوئی ایک بڑی ہی توجہ اور دلجمعی سے اس کو سنے..
اس کے کثیر فوائد ہیں:
١ بچوں کو سبق یاد کرنے سمجھنے میں آسانی پیدا ہو گی.
٢ بچوں میں خود اعتمادی (confidence) میں اضافہ ہو گا.
٣ بچوں کے بولنے کی صلاحیت ابھرے گی.
٤ والدین اور بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول پیدا ہو گا.
٥ بچے گھر کی دیواروں کی بجائے بورڈ پر ہی لکھا کریں گے.
پیش کش: فرحان قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*خوبصورت اقوال*
*شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔*
*اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے*۔
*ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں*۔
*آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں*۔
*کہتے ہیں ہر وہ جاندار جو آج دنیا میں موجود ہے حضرت نوح کی کشتی میں موجود تھا جس میں گھونگا بھی شامل ہے*۔
*اگر اللہ ایک گھونگے کا نوحؑ کی کشتی تک پہنچنے کا انتظار کر سکتا ہے تو وہ اللہ آپ مجھ پر بھی اپنے فضل کا دروازہ اُس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک کہ آپ زندگی میں اپنے متوقع مقام تک نہیں پہنچ جاتے*۔
*کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں*۔
*یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے*۔
*اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں*۔
*وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے*۔
*مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں*۔
*کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا۔ ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگر ہو*۔
*اللہ کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو اللہ نے دوسروں کو دیے ہیں*۔
*خوش رہیں سلامت رہیں.*
پیش کش: زبیر قادری
*شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔*
*اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے*۔
*ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں*۔
*آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں*۔
*کہتے ہیں ہر وہ جاندار جو آج دنیا میں موجود ہے حضرت نوح کی کشتی میں موجود تھا جس میں گھونگا بھی شامل ہے*۔
*اگر اللہ ایک گھونگے کا نوحؑ کی کشتی تک پہنچنے کا انتظار کر سکتا ہے تو وہ اللہ آپ مجھ پر بھی اپنے فضل کا دروازہ اُس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک کہ آپ زندگی میں اپنے متوقع مقام تک نہیں پہنچ جاتے*۔
*کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں*۔
*یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے*۔
*اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں*۔
*وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے*۔
*مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں*۔
*کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا۔ ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگر ہو*۔
*اللہ کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو اللہ نے دوسروں کو دیے ہیں*۔
*خوش رہیں سلامت رہیں.*
پیش کش: زبیر قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
سادات ہندو پاک پر ایرانی یلغار
محمد عزیر علي
کہتے ہیں جب بندہ خود کسی سے مقابلے کا اہل نہیں ہوتا تو وہ اغیار کے کندھے استعمال کرتا ہے اب یہ دشمن کی عقل پر ہے کہ وہ کتنے قريبی لوگوں کے کندھوں تک پہنچ سکتا ہے، جتنے قریب کے کندھے استعمال کرے گا وار بھی اتنا ہی کاری ہوگا.
ایسا ہی پچھلے کچھ سالوں دیکھنے کو مل رہا ہے ایرانی کرنسی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور رافضیت کے فروغ میں اہل سنت جانے انجانے وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو روافض بھارت میں کبھی نہ کرپاے.
روافض مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات کو ڈھال بناکر سادات کرام پر اپنی گرفت مضبوط کرتے رہے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضیلت میں غلو کیا پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو انکے مقابلے میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی، نتیجہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بیجا کلمات استعمال ہونے لگے جب وہ اس پر کامیاب ہوے تو انھوں نے باغ فدک کو لیکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا ذکر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کیا، رافضیت کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت معصوم ہیں، باغ فدک کو لیکر حضرات شیخین پر بھدی زبان استعمال کی گئی، ایمان ابو طالب پر بھی اہل سنت کو مذبذبیت کی طرف لانے کی کوشش کی،گویا روافض منظم انداز میں ہندو پاک کے سادات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے سادات کم علمی کی بنا پر اپنے کندھے روافض کیلئے کھلے چھوڑے ہوے ہیں(الا ماشاء اللہ)
محمد عزیر علي
کہتے ہیں جب بندہ خود کسی سے مقابلے کا اہل نہیں ہوتا تو وہ اغیار کے کندھے استعمال کرتا ہے اب یہ دشمن کی عقل پر ہے کہ وہ کتنے قريبی لوگوں کے کندھوں تک پہنچ سکتا ہے، جتنے قریب کے کندھے استعمال کرے گا وار بھی اتنا ہی کاری ہوگا.
ایسا ہی پچھلے کچھ سالوں دیکھنے کو مل رہا ہے ایرانی کرنسی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور رافضیت کے فروغ میں اہل سنت جانے انجانے وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو روافض بھارت میں کبھی نہ کرپاے.
روافض مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات کو ڈھال بناکر سادات کرام پر اپنی گرفت مضبوط کرتے رہے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضیلت میں غلو کیا پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو انکے مقابلے میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی، نتیجہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بیجا کلمات استعمال ہونے لگے جب وہ اس پر کامیاب ہوے تو انھوں نے باغ فدک کو لیکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا ذکر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کیا، رافضیت کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت معصوم ہیں، باغ فدک کو لیکر حضرات شیخین پر بھدی زبان استعمال کی گئی، ایمان ابو طالب پر بھی اہل سنت کو مذبذبیت کی طرف لانے کی کوشش کی،گویا روافض منظم انداز میں ہندو پاک کے سادات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے سادات کم علمی کی بنا پر اپنے کندھے روافض کیلئے کھلے چھوڑے ہوے ہیں(الا ماشاء اللہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کافر کے لیے دعا کرنا
کافر کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعا ہرگز نہیں کر سکتے ہدایت کے لیے دعا کرنے میں ہرج نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے کہ :
ولا یدعو للذمی بالمغفرۃ ولو دعا لہ بالھدی جاز لانہ علیہ السلام قال اللھم اھدی قومی فانھم لا یعلمون کذا فی التبیین ۔
"کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کریں، ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے کہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود کافروں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان کو ہدایت دے جو نہیں جانتے۔
(فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، ج5، ص348)
حضرت طفیل بن عمر نے اپنی قوم کی شکایت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ ان کے خلاف دعا کیجیے تو نبئ رحمت نے ہدایت کی دعا فرمائی ۔
(صحیح بخاری، کتاب الجھاد، ج2، ص291، حدیث2937)
اسی طرح صحابہ نے قبیلۂ ثقیف کے خلاف دعا کرنے کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، ج5، ص492، حدیث3968)
ثابت ہوا کہ ہدایت کی دعا کرنے میں ہرج نہیں اور جو مر جائیں ان کی لیے تو ہدایت کی دعا نہیں ہو سکتی لہٰذا مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سخت ناجائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر بھی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے اس سے پرہیز کریں۔
آج کل کچھ مسلمان کافروں کے مرنے کے بعد ان کے نام ساتھ RIP لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے اور بچنا ضروری ہے۔
عبد مصطفی
کافر کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعا ہرگز نہیں کر سکتے ہدایت کے لیے دعا کرنے میں ہرج نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے کہ :
ولا یدعو للذمی بالمغفرۃ ولو دعا لہ بالھدی جاز لانہ علیہ السلام قال اللھم اھدی قومی فانھم لا یعلمون کذا فی التبیین ۔
"کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کریں، ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے کہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود کافروں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان کو ہدایت دے جو نہیں جانتے۔
(فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، ج5، ص348)
حضرت طفیل بن عمر نے اپنی قوم کی شکایت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ ان کے خلاف دعا کیجیے تو نبئ رحمت نے ہدایت کی دعا فرمائی ۔
(صحیح بخاری، کتاب الجھاد، ج2، ص291، حدیث2937)
اسی طرح صحابہ نے قبیلۂ ثقیف کے خلاف دعا کرنے کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، ج5، ص492، حدیث3968)
ثابت ہوا کہ ہدایت کی دعا کرنے میں ہرج نہیں اور جو مر جائیں ان کی لیے تو ہدایت کی دعا نہیں ہو سکتی لہٰذا مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سخت ناجائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر بھی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے اس سے پرہیز کریں۔
آج کل کچھ مسلمان کافروں کے مرنے کے بعد ان کے نام ساتھ RIP لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے اور بچنا ضروری ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
کسی بھی مسئلہ کا جزئیہ تلاش کرنا ہو تو سب سے پہلے آپ "بہارِ شریعت" میں اسے دیکھیں اس سے مل جائے تو ٹھیک ورنہ، "فتاوی رضویہ" کو چیک کریں اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر "فتاوی شامی" دیکھیں اگر ان تینوں میں آپ کو مطلوبہ جزئیہ نہ ملے تو پھر دیگر فتاوی جات کی طرف رجوع کریں۔ مگر یہ فائدہ مند اس وقت ہو گا جب آپ نے مطالعہ کیا ہوا ہو۔
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
کسی حدیث کی شرح دیکھنی ہو تو سب سے پہلے اس حدیث کے عربی متن کو شاملہ میں "مشکوۃ شریف" میں سرچ کریں اگر مل جائے تو باب اور حدیث نمبر نوٹ کر کے
ان تین شروحات سے اس کی شرح دیکھ لیں "مراۃ المناجیح" "اشعۃ اللمعات" "مرقات المفاتیح"
اگر مشکوۃ شریف میں نہ ملے تو پھر شاملہ میں صحاح ستہ سلیکٹ کریں اور حدیث تلاش کریں۔
ان تین شروحات سے اس کی شرح دیکھ لیں "مراۃ المناجیح" "اشعۃ اللمعات" "مرقات المفاتیح"
اگر مشکوۃ شریف میں نہ ملے تو پھر شاملہ میں صحاح ستہ سلیکٹ کریں اور حدیث تلاش کریں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
*قبلہ مفتی ابن مفتی، محقق ابن محقق، فاضل ابن فاضل، صوفی ابن صوفی سیدی حق النبی سکندری ازہری حفظہ اللہ کی عالی تحریر۔*
#نشر_مكرر
*روحانی تجربہ اور ايک علمی حقيقت۔*
*اہلسنت وجماعت کے متفقہ عقائد میں دو ضروری باتیں ہیں :*
*ایک۔ حضرت سيدنا أبوبكر صديق رضي الله تعالي عنه،تمام صحابہ کرام میں سے افضل ہیں، اس پر قطع نظر ادلہ کے (جو کہ سینکڑوں ہیں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ عقیدہ لاکھوں فقہاء مجتہدین محدثين صوفياء و اولياء كا ہے۔*
جب کوئی شخص اسكی مخالفت كرتا ہے تو وہ عقلی و نقلی ادلہ کی مخالفت تو كرتا ہی ہے پر اسکے ساتھ وہ روحانی طور ان لاکھوں نفوس قدسيہ کے طريق كو چھوڑ کر جماعت کے طريقے کی مخالفت كا مرتكب ہوتا ہے،جو کہ ایک نہایت مہلک امر ہے۔
*دو۔صحابہ کرام کے آپس کے بعض ظاہری ناخشگوار معاملات میں اہلسنت کا موقف نہایت ہی محتاط، معتدل اور ادب پر قائم ہے وہ یہ ہیکہ کسی بھی صحابی کے متعلق زبان درازی،بدنيتی آپکے ایمان کے ضياع كا سبب بن سكتی ہے لہذا اسمیں ادب پاس خاطر رہے اور احترام صحابيت کے طريق كو نہ چھوڑنا چاہئے۔*
اب آئیے اس تجربے کی طرف جو سمجهانا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ عالم يا شخص جس نے اہلسنت کے اس راستے کو چھوڑا اسمیں فقير نے ذاتی طور یہ باتیں دیکھیں:
*آخر كار وه شخص اہلسنت سے نکل کر رفض كا مذہب اختيار كرليتا ہے۔*
اسکے اعمال وعقائد حتی کہ طبيعت ميں بھی ایک عجیب تشنج (بےقراری،سختی،بےچینی) دیکھا گیا ہے۔
تاريخ ميں ایسے لائق علماء بھی گذرے ہیں جنکی صلاحيت علم فہم کے سب معترف تھے مگر صحابہ کے حق میں بے احتياطی کی وجہ سے انکی سب محنت رائیگاں گئی اور تاريخ كا گم گشتہ باب بن گئے،انکا علم اور انکی زندگی سے برکت ختم ہوگئی۔
*ماضي قريب كی فقط ايک مثال اور عصر حاضر سے آنکھوں دیکھي عبرت پیش کرکے بات ختم كرتا ہوں۔*
ماضي قريب ميں *علامہ زاہد الکوثري* جيسا محقق حنفي عالم تركي اور عرب ممالك ميں نہیں دیکھا گیا انکی خدمت میں جو شخص سب سے زیادہ رہا وہ انکا شاگرد *احمد خيري مصري* عالم تها،ایک ذہین محنتی عالم دین *احمد خيري مصري* اپنی اس صلاحيت اور شاندار كتب خانے کے باوجود ايک عيب ميں مبتلا تھا کہ وہ صحابي جليل. حضرت سيدنا امير معاوية كے متعلق اچھے خيالات نہ رکھتا تھا، افضليت صديق اکبر كا بھی قائل نہ تھا .
وہ *احمد خيري* جسکا مستقبل ایک محقق حنفي عالم کا مستقبل تھا،وہ گمنامی میں چلا گیا ،حتي كہ اسکی وفات كا بھی اکثر لوگوں کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔
انکا مایہ ناز کتب خانہ کوڑیوں کے عيوض مصر، سعودي اور تركي ميں بکا۔
انكا مستقبل تو روشن نہ ہوسکا پر انکا نام تک کسی کو یاد نہیں۔
دوسری مثال: عصر حاضر میں افضليت كے موضوع پر بھبکیاں مارنے والے ہندوستانی وپاکستانی منتسبین علم کے روح رواں جنہوں نے کچھ لوگوں کو افضليت اور صحابہ پر جری کیا،بولنے لکھنے کے قابل بنایا وہ مصري عالم دين محدث *محمود سعيد ممدوح* ہیں۔
پہلے انکے علم و فہم کا کچھ سنئے،عرب ممالک میں شیخ البانی ۔جو وہابی فكر کے حامل تھے۔ نے علم حديث میں اپنی انوکھی کھچڑی نما تحقيق سے دھوم مچائی،حديث كے فن پر ایک نئے باب کو کھولا، *لوگوں کو امام بخاري سے لیکر ابن حجر عسقلاني جيسے اکابر کی تحقيقات پر انگلیاں اٹھانا سکھایا۔*
ساری عرب دنیا مین اکثريت انکے اس علمي منہج وطريق كی مخالفت میں کھڑی ہوئی،شورمچا،مگر اس عالم کے رد میں کوئی محققانہ رد نہ لکھا جاسکا،جو کچھ لکھا گیا وہ اس درجے کا نہ تھا جس سے شیخ البانی کا سحر ٹوٹتا یا جسے ایک تفصيلی رد کہا جاسکتا،جو کچھ لکھا گیا تھا وہ محدود تھا،یا قابل اعتناء نہ تھا۔
شيخ الباني كا خالص علمي رد جس نے کیا وہ مصري عالم *محمود سعيد ممدوح* ہی تھے، جنہوں نے *"التعريف في اوہام من قسم السنن الی الصحيح والضعيف"* لکھ کر اسكا قرض بھی اتارا اور شيخ الباني كی حديث دانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔اس کتاب اور اسکے مصنف كو شہرت کی بلندیاں نصيب ہوئیں۔
علم حديث پر اتنی مہارت، ذہن ثاقب رکھنے کے باوجود شيخ *محمود سعيد ممدوح* تفضيلي نکلے، سیدنا امیر معاویہ پر وہ گستاخانہ گفتگو کرتے ہیں، جسکا شاہد خود يہ فقير ہے۔
انہوں نے پہلے تو تفضيل پر کتاب لکھی پھر ترقی کرتے گئے اور اب وہ زیدی مذہب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
*امام مالک ،امام ابو حنيفہ کے متعلق انتہائی برے خيالات محض اسلئے رکھتے ہیں کہ وہ تمام صحابہ کے ادب کا حكم ديتے ہیں،* سني علماء سے ملتے ہوئے انہیں کوفت ہوتی ہے پر شیعہ علماء سے انہیں خاص انس ہے۔
انکے علم فضل کا چرچہ مانند پڑچکا ہے،صلاحيت کے باوجود اپنے گھر تک محدودہیں،نہ تو علم پھیلا سکے نہ ہی کسی کو بافيض بناسكے۔
*یہ سب کیوں ہوا ؟*
کیونکہ وہ صحابہ کرام کے حق میں اہلسنت وجماعت کے نہایت ہی محتاط مذہب سے الگ ہوئے،انہیں اس بات نے دھوکے میں ڈال دیا کہ میرا موقف بھی تو اسلامی تاريخ كے چند علماء کے موافق ہے! حالانکہ انکو یہ دیکھنا تھا کہ
#نشر_مكرر
*روحانی تجربہ اور ايک علمی حقيقت۔*
*اہلسنت وجماعت کے متفقہ عقائد میں دو ضروری باتیں ہیں :*
*ایک۔ حضرت سيدنا أبوبكر صديق رضي الله تعالي عنه،تمام صحابہ کرام میں سے افضل ہیں، اس پر قطع نظر ادلہ کے (جو کہ سینکڑوں ہیں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ عقیدہ لاکھوں فقہاء مجتہدین محدثين صوفياء و اولياء كا ہے۔*
جب کوئی شخص اسكی مخالفت كرتا ہے تو وہ عقلی و نقلی ادلہ کی مخالفت تو كرتا ہی ہے پر اسکے ساتھ وہ روحانی طور ان لاکھوں نفوس قدسيہ کے طريق كو چھوڑ کر جماعت کے طريقے کی مخالفت كا مرتكب ہوتا ہے،جو کہ ایک نہایت مہلک امر ہے۔
*دو۔صحابہ کرام کے آپس کے بعض ظاہری ناخشگوار معاملات میں اہلسنت کا موقف نہایت ہی محتاط، معتدل اور ادب پر قائم ہے وہ یہ ہیکہ کسی بھی صحابی کے متعلق زبان درازی،بدنيتی آپکے ایمان کے ضياع كا سبب بن سكتی ہے لہذا اسمیں ادب پاس خاطر رہے اور احترام صحابيت کے طريق كو نہ چھوڑنا چاہئے۔*
اب آئیے اس تجربے کی طرف جو سمجهانا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ عالم يا شخص جس نے اہلسنت کے اس راستے کو چھوڑا اسمیں فقير نے ذاتی طور یہ باتیں دیکھیں:
*آخر كار وه شخص اہلسنت سے نکل کر رفض كا مذہب اختيار كرليتا ہے۔*
اسکے اعمال وعقائد حتی کہ طبيعت ميں بھی ایک عجیب تشنج (بےقراری،سختی،بےچینی) دیکھا گیا ہے۔
تاريخ ميں ایسے لائق علماء بھی گذرے ہیں جنکی صلاحيت علم فہم کے سب معترف تھے مگر صحابہ کے حق میں بے احتياطی کی وجہ سے انکی سب محنت رائیگاں گئی اور تاريخ كا گم گشتہ باب بن گئے،انکا علم اور انکی زندگی سے برکت ختم ہوگئی۔
*ماضي قريب كی فقط ايک مثال اور عصر حاضر سے آنکھوں دیکھي عبرت پیش کرکے بات ختم كرتا ہوں۔*
ماضي قريب ميں *علامہ زاہد الکوثري* جيسا محقق حنفي عالم تركي اور عرب ممالك ميں نہیں دیکھا گیا انکی خدمت میں جو شخص سب سے زیادہ رہا وہ انکا شاگرد *احمد خيري مصري* عالم تها،ایک ذہین محنتی عالم دین *احمد خيري مصري* اپنی اس صلاحيت اور شاندار كتب خانے کے باوجود ايک عيب ميں مبتلا تھا کہ وہ صحابي جليل. حضرت سيدنا امير معاوية كے متعلق اچھے خيالات نہ رکھتا تھا، افضليت صديق اکبر كا بھی قائل نہ تھا .
وہ *احمد خيري* جسکا مستقبل ایک محقق حنفي عالم کا مستقبل تھا،وہ گمنامی میں چلا گیا ،حتي كہ اسکی وفات كا بھی اکثر لوگوں کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔
انکا مایہ ناز کتب خانہ کوڑیوں کے عيوض مصر، سعودي اور تركي ميں بکا۔
انكا مستقبل تو روشن نہ ہوسکا پر انکا نام تک کسی کو یاد نہیں۔
دوسری مثال: عصر حاضر میں افضليت كے موضوع پر بھبکیاں مارنے والے ہندوستانی وپاکستانی منتسبین علم کے روح رواں جنہوں نے کچھ لوگوں کو افضليت اور صحابہ پر جری کیا،بولنے لکھنے کے قابل بنایا وہ مصري عالم دين محدث *محمود سعيد ممدوح* ہیں۔
پہلے انکے علم و فہم کا کچھ سنئے،عرب ممالک میں شیخ البانی ۔جو وہابی فكر کے حامل تھے۔ نے علم حديث میں اپنی انوکھی کھچڑی نما تحقيق سے دھوم مچائی،حديث كے فن پر ایک نئے باب کو کھولا، *لوگوں کو امام بخاري سے لیکر ابن حجر عسقلاني جيسے اکابر کی تحقيقات پر انگلیاں اٹھانا سکھایا۔*
ساری عرب دنیا مین اکثريت انکے اس علمي منہج وطريق كی مخالفت میں کھڑی ہوئی،شورمچا،مگر اس عالم کے رد میں کوئی محققانہ رد نہ لکھا جاسکا،جو کچھ لکھا گیا وہ اس درجے کا نہ تھا جس سے شیخ البانی کا سحر ٹوٹتا یا جسے ایک تفصيلی رد کہا جاسکتا،جو کچھ لکھا گیا تھا وہ محدود تھا،یا قابل اعتناء نہ تھا۔
شيخ الباني كا خالص علمي رد جس نے کیا وہ مصري عالم *محمود سعيد ممدوح* ہی تھے، جنہوں نے *"التعريف في اوہام من قسم السنن الی الصحيح والضعيف"* لکھ کر اسكا قرض بھی اتارا اور شيخ الباني كی حديث دانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔اس کتاب اور اسکے مصنف كو شہرت کی بلندیاں نصيب ہوئیں۔
علم حديث پر اتنی مہارت، ذہن ثاقب رکھنے کے باوجود شيخ *محمود سعيد ممدوح* تفضيلي نکلے، سیدنا امیر معاویہ پر وہ گستاخانہ گفتگو کرتے ہیں، جسکا شاہد خود يہ فقير ہے۔
انہوں نے پہلے تو تفضيل پر کتاب لکھی پھر ترقی کرتے گئے اور اب وہ زیدی مذہب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
*امام مالک ،امام ابو حنيفہ کے متعلق انتہائی برے خيالات محض اسلئے رکھتے ہیں کہ وہ تمام صحابہ کے ادب کا حكم ديتے ہیں،* سني علماء سے ملتے ہوئے انہیں کوفت ہوتی ہے پر شیعہ علماء سے انہیں خاص انس ہے۔
انکے علم فضل کا چرچہ مانند پڑچکا ہے،صلاحيت کے باوجود اپنے گھر تک محدودہیں،نہ تو علم پھیلا سکے نہ ہی کسی کو بافيض بناسكے۔
*یہ سب کیوں ہوا ؟*
کیونکہ وہ صحابہ کرام کے حق میں اہلسنت وجماعت کے نہایت ہی محتاط مذہب سے الگ ہوئے،انہیں اس بات نے دھوکے میں ڈال دیا کہ میرا موقف بھی تو اسلامی تاريخ كے چند علماء کے موافق ہے! حالانکہ انکو یہ دیکھنا تھا کہ
Forwarded from چینل صدائے حق
چند کی موافقت تو ہے پر دوسری جانب لاکھوں محققين،علماء و اولياء ہیں،غلطي كا امكان ان چند لوگوں میں زیادہ ہے لیکن لاکھون علماء و اولیاء غلطی پر متفق نہیں ہوسکتے۔
الله تعالى ہم سبھی کو صحابه اور اہلبیت کا سچا ادب نصيب كرے اور اہلسنت وجماعت کے طريقے پر ثابت قدم رکھے۔
*كتبه:أبوالبركات حق النبي سكندري ازهري.*
الله تعالى ہم سبھی کو صحابه اور اہلبیت کا سچا ادب نصيب كرے اور اہلسنت وجماعت کے طريقے پر ثابت قدم رکھے۔
*كتبه:أبوالبركات حق النبي سكندري ازهري.*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM