Forwarded from Deleted Account
Madariyon Men Bahut Se Aise Log Hain Jo Sarkare Alahazrat Aur Hamare Doosre Akabireen (Buzurgon) Ki Shan Men Gustakhi (Tauheen) Karte Hain Aise Logon Ki Kitaben Na Bheji Jayen, Han Jo Sunni Saheehul Aqidah Aur Hamare Akabireen (Buzurgon) Ka Adab & Ehtiram Karte Hon Sirf Un Ki Hi Kataben Share Kiya Karen ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from फ़ैज़ाने मस्लके आ़ला ह़ज़रत 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
हमारे लिये यही↑बातें काफ़ी हैं!
अब इस बारे में किसी को इस ग्रूप में बह़स या सुवाल करने की इजाज़त नहीं है, वरना उसे ब्लॉक कर दिया जायेगा!
अब इस ग्रूप में मदारियों की लिखी हुई किताबें नहीं भेजी जाएंगी और न ही फ़रमाइश करने की इजाज़त है! वरना ब्लॉक...
ह़ज़़रत ज़िंदा शाह मदार عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ की सवानेह़ ह़यात Hostory सीरत पर जब किसी मोअ़्तबर सुन्नी स़ह़ीह़ुल अ़क़ीदह आ़लिमे दीन की लिखी हुई किताब pdf फ़ाइल में मिलेगी तो बिग़ैर फ़रमाइश किये इस चैनल & ग्रूप में भेज दिया जायेगा! إِنۡ شَآءَ الله تَعَالیٰ ﷻ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
सिलसिलए मदारिया में बैअ़त :
मदारी सिलसिले से मुरीद होना स़ह़ी नहीं है! इस लिये कि ह़ज़़रत ज़िन्दा शाह मदार عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ ने किसी को ख़िलाफ़त नहीं दिया था!
[सबए़ सनाबिल शरीफ़ पेज¹¹²-¹¹⁵]
वारसी सिलसिले में बैअ़त :
वारसी सिलसिले से भी मुरीद होना स़ह़ी नहीं है! इस लिये कि ह़ज़़रत सय्यिदुना वारिस पाक عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ ने भी किसी को ख़िलाफ़त नहीं दिया था!
[ फ़तावा शारेह़े बुख़ारी जिल्द² पेज²⁴⁴
फ़तावा फ़क़ीहे मिल्लत जिल्द² पेज⁴¹²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
लिहाज़ा आप ह़ज़़रात ह़ज़़रत सय्यिदुना ज़िन्दह शाह मदार और ह़ज़़रत सय्यिदुना वारिस पाक عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ और तमाम बुज़ुरगाने दीन से अ़क़ीदत व मह़ब्बत रखिये, उन के नाम से नियाज़ दिलाइये! और बुज़ुर्गों की शान में गुस्ताख़ी करने वालों से ज़रूर दूर रहिये!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ग्रूप मेम्ब्रान को मअ़्लूम होना चाहिये कि अल अशहर अकेडमी ग्रूप स़िर्फ़ मोअ़्तबर सुन्नी आ़लिमे दीन की लिखी हुई किताबों के लिये बनाया गया है, सवाल जवाब करने के लिये नहीं,
दीनी सुवाल करना है तो शरई़ अ़दालत ग्रूप जोइन करें, और वहाँ भी जल्द बाज़ी हरगिज़ न करें! जब मुफ़्तियाने किराम के पास वक़्त होगा तभी जवाब मिलेगा...
शरई़ अ़दालत ग्रूप FM फ़ाउन्डेशन
ग्रूप लिंक 🆔 @fmFoundation
दीनी सुवाल इस ↟ ग्रूप में कीजिये
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ᴹʸ ᵀᵉˡᵉᵍʳᵃᵐ ᴳʳᵒᵘᵖ ᴶᵒⁱⁿ & ˢʰᵃʳᵉ↴
@AhleSunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
@Al_Ashhar_Academy_English
@Al_Ashhar_Academy_Gujarati
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ग्रूप में सर्च करना बहुत ज़रूरी है!
Pinned Message ज़रूर पढ़ें!
फ़रमाइश से पहले सर्च ज़रूर करें!
अब इस बारे में किसी को इस ग्रूप में बह़स या सुवाल करने की इजाज़त नहीं है, वरना उसे ब्लॉक कर दिया जायेगा!
अब इस ग्रूप में मदारियों की लिखी हुई किताबें नहीं भेजी जाएंगी और न ही फ़रमाइश करने की इजाज़त है! वरना ब्लॉक...
ह़ज़़रत ज़िंदा शाह मदार عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ की सवानेह़ ह़यात Hostory सीरत पर जब किसी मोअ़्तबर सुन्नी स़ह़ीह़ुल अ़क़ीदह आ़लिमे दीन की लिखी हुई किताब pdf फ़ाइल में मिलेगी तो बिग़ैर फ़रमाइश किये इस चैनल & ग्रूप में भेज दिया जायेगा! إِنۡ شَآءَ الله تَعَالیٰ ﷻ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
सिलसिलए मदारिया में बैअ़त :
मदारी सिलसिले से मुरीद होना स़ह़ी नहीं है! इस लिये कि ह़ज़़रत ज़िन्दा शाह मदार عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ ने किसी को ख़िलाफ़त नहीं दिया था!
[सबए़ सनाबिल शरीफ़ पेज¹¹²-¹¹⁵]
वारसी सिलसिले में बैअ़त :
वारसी सिलसिले से भी मुरीद होना स़ह़ी नहीं है! इस लिये कि ह़ज़़रत सय्यिदुना वारिस पाक عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ ने भी किसी को ख़िलाफ़त नहीं दिया था!
[ फ़तावा शारेह़े बुख़ारी जिल्द² पेज²⁴⁴
फ़तावा फ़क़ीहे मिल्लत जिल्द² पेज⁴¹²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
लिहाज़ा आप ह़ज़़रात ह़ज़़रत सय्यिदुना ज़िन्दह शाह मदार और ह़ज़़रत सय्यिदुना वारिस पाक عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ और तमाम बुज़ुरगाने दीन से अ़क़ीदत व मह़ब्बत रखिये, उन के नाम से नियाज़ दिलाइये! और बुज़ुर्गों की शान में गुस्ताख़ी करने वालों से ज़रूर दूर रहिये!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ग्रूप मेम्ब्रान को मअ़्लूम होना चाहिये कि अल अशहर अकेडमी ग्रूप स़िर्फ़ मोअ़्तबर सुन्नी आ़लिमे दीन की लिखी हुई किताबों के लिये बनाया गया है, सवाल जवाब करने के लिये नहीं,
दीनी सुवाल करना है तो शरई़ अ़दालत ग्रूप जोइन करें, और वहाँ भी जल्द बाज़ी हरगिज़ न करें! जब मुफ़्तियाने किराम के पास वक़्त होगा तभी जवाब मिलेगा...
शरई़ अ़दालत ग्रूप FM फ़ाउन्डेशन
ग्रूप लिंक 🆔 @fmFoundation
दीनी सुवाल इस ↟ ग्रूप में कीजिये
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ᴹʸ ᵀᵉˡᵉᵍʳᵃᵐ ᴳʳᵒᵘᵖ ᴶᵒⁱⁿ & ˢʰᵃʳᵉ↴
@AhleSunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
@Al_Ashhar_Academy_English
@Al_Ashhar_Academy_Gujarati
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ग्रूप में सर्च करना बहुत ज़रूरी है!
Pinned Message ज़रूर पढ़ें!
फ़रमाइश से पहले सर्च ज़रूर करें!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
افسوس ناک خبر۔۔۔
اہل علم وعمل اٹھ رہےہیں۔۔۔
اُستاذالاساتذہ ،مفسر قرآن
شیخ الحدیث والتفسیر
مصنفِ کتبِ کثیرہ
* حضرت علامہ مفتی
حافظ عبدالرزاق بھترالوی صاحب کا
اسلام آ باد میں انتقال ہوگیا ھے.
*اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیهِ رَاجِعُوْن*
اہل علم وعمل اٹھ رہےہیں۔۔۔
اُستاذالاساتذہ ،مفسر قرآن
شیخ الحدیث والتفسیر
مصنفِ کتبِ کثیرہ
* حضرت علامہ مفتی
حافظ عبدالرزاق بھترالوی صاحب کا
اسلام آ باد میں انتقال ہوگیا ھے.
*اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیهِ رَاجِعُوْن*
Forwarded from Jam Akhlaq
(خبر غم، بہت بڑا صدمہ)
عظیم عالم محقق مصنف مدرس حضرت علامہ مولانا عبد الرزاق بھترالوی صاحب وفات پا گئے
انا للہ وانا الیہ راجعون
عظیم عالم محقق مصنف مدرس حضرت علامہ مولانا عبد الرزاق بھترالوی صاحب وفات پا گئے
انا للہ وانا الیہ راجعون
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
علامہ قاضی عبد الرزاق بھترالوی صاحب کا انتقال ؛ ایک سنجیدہ علمی روایت کا خاتمہ
مولانا قاضی عبد الرزاق بھترالوی ( راولپنڈی) علم و فضل کی ایک سنجیدہ و متین روایت کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
درسیات کی ابتدا سے ہی قبلہ قاضی صاحب کا نام نامی دل میں گھر کر گیا تھا۔ گو کہ نہ کبھی ان کو دیکھا نہ گفتگو سنی۔ لیکن اس میں حیرت کی بھی کوئی بات نہیں۔ وہ خود بھی کہاں اس راہ چلے کہ کوئی ان کو دیکھے یا بات سنے۔ وہ تو قلم کی دنیا کے شہسوار تھے۔ اور زندگی بھر اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ ایسا کون شخص ہو گا جس کو عربی و اسلامی درس و تدریس سے واسطہ رہا ہو اور اس نے علامہ بھترالوی کے قلم کی ضیافت سے حظ نہ اٹھایا ہو۔
یاد آتا ہے کہ ہم لوگ فقہ کی بنیادی درسی کتاب "نور الایضاح" پر تحریر کردہ علامہ صاحب کے حواشی بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ ان حواشی کی خصوصیت یہ تھی کہ ایک تو بہت عمدہ نکات پر مشتمل ہوتے تھے۔ دوسرے یہ کہ نہایت سہل اور رواں عربی زبان میں ہوتے تھے جس سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوتا کہ کتاب کا متن بھی خوب واضح ہو جاتا ، متن سے جڑی ہوئی کئی مفید علمی و فقہی ابحاث بھی سامنے آ جاتیں اور ساتھ ہی ساتھ غیر محسوس انداز میں عربی زبان کی استعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا۔ بعد میں جب کبھی غور کیا اسی نتیجے پر پہنچے کہ یہ علامہ بھترالوی کے حواشی کا بخشا ہوا اعتبار ہے جس کی وجہ سے آج چار لوگ ہمیں جانتے ہیں۔
عربی گرائمر کے فلسفے پر مشتمل ایک نہایت عظیم و جلیل کتاب 'مراح الارواح' ہے جس کے متن کو علامہ بھترالوی نے بڑے خوبصورت اور سہل انداز میں حل کیا ہے۔ شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ اس وقت اگر کوئی شخص اس کتاب کے فہم سے دور ہے تو اس وجہ سے دور ہے کہ اس نے علامہ بھترالوی کے حواشی سے استفادہ نہیں کیا ہو گا۔ اور جس نے استفادہ کیا ہے اس کے پاس عربی گرائمر و ادبیات و انشاء کا وہ خزانہ ہے جو کم ہی کسی کے پاس ہو گا۔
اس سے آگے چلیے تو فقہ حنفی کے مقبولِ عام متنِ متین "قدُوری" پر علامہ بھترالوی کے حواشی بھی نہایت عمدہ ہیں مگر ایک نہایت پیچیدہ فقہی متن " کنز الدقائق " (جس کو سمجھنے کی لیاقت بھی اب چند ایک گنے چنے افراد میں رہ گئی ہو گی) پر حواشی بھی علامہ صاحب قبلہ کا صدیوں یاد رکھا جانے والا کارنامہ ہے۔ فقہ حنفی و شافعی و مالکی و حنبلی کے مابین تقابل اور خصوصا ائمہ احناف کے فقہی نکتہ نظر کے درمیان تقابل کے حوالے سے قدوری کی شرح "الہدایہ" مشہور و مقبولِ شرق و غرب ہے۔ جس کے حواشی و شروحات اور ان میں زبانوں کے تنوع کا سلسلہ دراز ہے۔ اس کتاب پر بھی علامہ بھترالوی کے گرانقدر عربی حواشی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے اردو میں بھی کئی اہم تحقیقی تصانیف اور قرآن کریم کی ایک اردو تفسیر بھی لکھی ہے۔ علامہ بھترالوی کی کتب و حواشی کا انداز تحقیقی اور سنجیدہ ہے اور خالص علمی ہے۔ ان کی تصانیف پر یونیورسٹیز میں بھی تحقیق ہونی چاہیے اور اچھا کام کرنے والے محققین کو بھی اس پہلو پر لکھنا چاہیے۔
اس وقت جو بات سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان سے خودکش بےاعتنائی کے اس دور میں ایسے کسی عالم کا اٹھ جانا جو عربی زبان میں اس قدر سنجیدہ و علمی کام کر رہے ہوں ایک ایسا خسارہ ہے جس کے ازالے کی بھی شاید کوئی صورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ اب ہمارے درمیان ایسے نفوس کتنے ہیں جن پر واقعتاً عالم کا اطلاق ہو سکے اور جو موجودہ جذباتیت زدہ ماحول و روش سے ہٹ کر خالصتاً علمی انداز میں کام کرنے پر یقین رکھتے ہوں اور کسی وقتی نعرہ و بازی و چٹکلے بازی سے دور رہتے ہوئے جادۂ اسلاف پر گامزن ہوں بلکہ سلف صالحین کی جیتی جاگتی تصویر ہوں۔
شاعر نے سچ ہی تو کہا ہے:
و افجع من فقدنا من وجدنا
قبیل الفقد مفقود المثال
جس کو ہم کھویا ہے
اس کے حوالے سے
سب سے المناک بات یہ ہے
کہ اس کا مثل کوئی نہیں ہے
یقینا کسی پیمانے سے اس سانحے کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو یہ اسی قسم کا خسارہ ہے جو استاذ الاساتذہ علامہ عطا محمد بندیالوی ، مفتی عبد القیوم ہزاروی ، علامہ عبد الحکیم شرف قادری ، علامہ مفتی محمد اشرف سیالوی ، استاذ العصر مفتی ارشاد صاحب ( خانیوال) اور علامہ غلام رسول سعیدی کے انتقال کی صورت میں ہوا تھا۔
خدا تعالی ان بزرگوں کے وسیلے سے ان کے امثال پیدا فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہماری بےحساب بخشش فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم
از قلم:
احمد رضا عطاری المدنی
جامعۃ المدینہ گلزار حبیب ، سبزہ زار ، لاہور۔
مولانا قاضی عبد الرزاق بھترالوی ( راولپنڈی) علم و فضل کی ایک سنجیدہ و متین روایت کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
درسیات کی ابتدا سے ہی قبلہ قاضی صاحب کا نام نامی دل میں گھر کر گیا تھا۔ گو کہ نہ کبھی ان کو دیکھا نہ گفتگو سنی۔ لیکن اس میں حیرت کی بھی کوئی بات نہیں۔ وہ خود بھی کہاں اس راہ چلے کہ کوئی ان کو دیکھے یا بات سنے۔ وہ تو قلم کی دنیا کے شہسوار تھے۔ اور زندگی بھر اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ ایسا کون شخص ہو گا جس کو عربی و اسلامی درس و تدریس سے واسطہ رہا ہو اور اس نے علامہ بھترالوی کے قلم کی ضیافت سے حظ نہ اٹھایا ہو۔
یاد آتا ہے کہ ہم لوگ فقہ کی بنیادی درسی کتاب "نور الایضاح" پر تحریر کردہ علامہ صاحب کے حواشی بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ ان حواشی کی خصوصیت یہ تھی کہ ایک تو بہت عمدہ نکات پر مشتمل ہوتے تھے۔ دوسرے یہ کہ نہایت سہل اور رواں عربی زبان میں ہوتے تھے جس سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوتا کہ کتاب کا متن بھی خوب واضح ہو جاتا ، متن سے جڑی ہوئی کئی مفید علمی و فقہی ابحاث بھی سامنے آ جاتیں اور ساتھ ہی ساتھ غیر محسوس انداز میں عربی زبان کی استعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا۔ بعد میں جب کبھی غور کیا اسی نتیجے پر پہنچے کہ یہ علامہ بھترالوی کے حواشی کا بخشا ہوا اعتبار ہے جس کی وجہ سے آج چار لوگ ہمیں جانتے ہیں۔
عربی گرائمر کے فلسفے پر مشتمل ایک نہایت عظیم و جلیل کتاب 'مراح الارواح' ہے جس کے متن کو علامہ بھترالوی نے بڑے خوبصورت اور سہل انداز میں حل کیا ہے۔ شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ اس وقت اگر کوئی شخص اس کتاب کے فہم سے دور ہے تو اس وجہ سے دور ہے کہ اس نے علامہ بھترالوی کے حواشی سے استفادہ نہیں کیا ہو گا۔ اور جس نے استفادہ کیا ہے اس کے پاس عربی گرائمر و ادبیات و انشاء کا وہ خزانہ ہے جو کم ہی کسی کے پاس ہو گا۔
اس سے آگے چلیے تو فقہ حنفی کے مقبولِ عام متنِ متین "قدُوری" پر علامہ بھترالوی کے حواشی بھی نہایت عمدہ ہیں مگر ایک نہایت پیچیدہ فقہی متن " کنز الدقائق " (جس کو سمجھنے کی لیاقت بھی اب چند ایک گنے چنے افراد میں رہ گئی ہو گی) پر حواشی بھی علامہ صاحب قبلہ کا صدیوں یاد رکھا جانے والا کارنامہ ہے۔ فقہ حنفی و شافعی و مالکی و حنبلی کے مابین تقابل اور خصوصا ائمہ احناف کے فقہی نکتہ نظر کے درمیان تقابل کے حوالے سے قدوری کی شرح "الہدایہ" مشہور و مقبولِ شرق و غرب ہے۔ جس کے حواشی و شروحات اور ان میں زبانوں کے تنوع کا سلسلہ دراز ہے۔ اس کتاب پر بھی علامہ بھترالوی کے گرانقدر عربی حواشی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے اردو میں بھی کئی اہم تحقیقی تصانیف اور قرآن کریم کی ایک اردو تفسیر بھی لکھی ہے۔ علامہ بھترالوی کی کتب و حواشی کا انداز تحقیقی اور سنجیدہ ہے اور خالص علمی ہے۔ ان کی تصانیف پر یونیورسٹیز میں بھی تحقیق ہونی چاہیے اور اچھا کام کرنے والے محققین کو بھی اس پہلو پر لکھنا چاہیے۔
اس وقت جو بات سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان سے خودکش بےاعتنائی کے اس دور میں ایسے کسی عالم کا اٹھ جانا جو عربی زبان میں اس قدر سنجیدہ و علمی کام کر رہے ہوں ایک ایسا خسارہ ہے جس کے ازالے کی بھی شاید کوئی صورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ اب ہمارے درمیان ایسے نفوس کتنے ہیں جن پر واقعتاً عالم کا اطلاق ہو سکے اور جو موجودہ جذباتیت زدہ ماحول و روش سے ہٹ کر خالصتاً علمی انداز میں کام کرنے پر یقین رکھتے ہوں اور کسی وقتی نعرہ و بازی و چٹکلے بازی سے دور رہتے ہوئے جادۂ اسلاف پر گامزن ہوں بلکہ سلف صالحین کی جیتی جاگتی تصویر ہوں۔
شاعر نے سچ ہی تو کہا ہے:
و افجع من فقدنا من وجدنا
قبیل الفقد مفقود المثال
جس کو ہم کھویا ہے
اس کے حوالے سے
سب سے المناک بات یہ ہے
کہ اس کا مثل کوئی نہیں ہے
یقینا کسی پیمانے سے اس سانحے کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو یہ اسی قسم کا خسارہ ہے جو استاذ الاساتذہ علامہ عطا محمد بندیالوی ، مفتی عبد القیوم ہزاروی ، علامہ عبد الحکیم شرف قادری ، علامہ مفتی محمد اشرف سیالوی ، استاذ العصر مفتی ارشاد صاحب ( خانیوال) اور علامہ غلام رسول سعیدی کے انتقال کی صورت میں ہوا تھا۔
خدا تعالی ان بزرگوں کے وسیلے سے ان کے امثال پیدا فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہماری بےحساب بخشش فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم
از قلم:
احمد رضا عطاری المدنی
جامعۃ المدینہ گلزار حبیب ، سبزہ زار ، لاہور۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
Sex Knowledge (Part 9) Shariat Mein Anal Sex (Yaani Aurat Ke Pichhe Ke Maqaam Mein Mard Ka Uzwe Khaas Dakhil Karne Ki) Ijazat To Bilkul Nahin Lekin Agar Ek Aam Shakhs Ki Tarah Bhi Socha Jaaye To Ye Harkat Badi Ghatiya Aur Ghinauni Maloom Hoti Hai Aurat Ke…
सेक्स नॉलेज (पार्ट 10)
ओरल सेक्स (Oral Sex) :
एक अजीब तरीक़ा जो आज कल गंदी फिल्मों के ज़रिए आम किया जा रहा है वो है ओरल सेक्स यानी एक दूसरे की शर्मगाह को मुँह में लेना, चूमना और चूसना (सुनने में ही कितना खराब लगता है)
जिस मुँह से क़ुरआन की तिलावत की जाती है उस मुँह के साथ ऐसी हरकत कैसे की जा सकती है पर आज कल नौजवानों में ये तरीका आम होता जा रहा है और कुछ तो ये समझते है कि इस के बिना लज़्ज़त अधूरी रह जाती है।
जो मियाँ बीवी ऐसा करते है, वो पता नही कैसे एक दूसरे से नज़रें मिलाते है। ये शर्म से डूब मरने का मकाम है।
इमाम बुरहानुद्दीन हनफ़ी रहिमहुल्लाहु त'आला (मुतवफ्फा 616 हिजरी) लिखते है के जब मर्द अपने आले (Penis) को अपनी बीवी के मुँह में दाखिल करे तो कहा गया है के ये मकरूह है इसलिए के मुँह क़ुरआन पढ़ने की जगह है पस इस वजह से आले का मुँह में दाखिल करना मुनासिब नही।
(محیط برہانی، ج1، ص134)
जारी है...
अब्दे मुस्तफ़ा
ओरल सेक्स (Oral Sex) :
एक अजीब तरीक़ा जो आज कल गंदी फिल्मों के ज़रिए आम किया जा रहा है वो है ओरल सेक्स यानी एक दूसरे की शर्मगाह को मुँह में लेना, चूमना और चूसना (सुनने में ही कितना खराब लगता है)
जिस मुँह से क़ुरआन की तिलावत की जाती है उस मुँह के साथ ऐसी हरकत कैसे की जा सकती है पर आज कल नौजवानों में ये तरीका आम होता जा रहा है और कुछ तो ये समझते है कि इस के बिना लज़्ज़त अधूरी रह जाती है।
जो मियाँ बीवी ऐसा करते है, वो पता नही कैसे एक दूसरे से नज़रें मिलाते है। ये शर्म से डूब मरने का मकाम है।
इमाम बुरहानुद्दीन हनफ़ी रहिमहुल्लाहु त'आला (मुतवफ्फा 616 हिजरी) लिखते है के जब मर्द अपने आले (Penis) को अपनी बीवी के मुँह में दाखिल करे तो कहा गया है के ये मकरूह है इसलिए के मुँह क़ुरआन पढ़ने की जगह है पस इस वजह से आले का मुँह में दाखिल करना मुनासिब नही।
(محیط برہانی، ج1، ص134)
जारी है...
अब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Sex Knowledge (Part 10)
Oral Sex :
Ek Ajeeb Tariqa Jo Aaj Kal Gandi Filmo Ke Zariye Aam Kiya Ja Raha Hai Wo Hai Oral Sex Yaani Ek Dusre Ki Sharmgah Ko Moonh Mein Lena, Chumna Aur Choosna (Sunne Mein Hi Kitna Kharaab Lagta Hai)
Jis Moonh Se Quraan Ki Tilawat Ki Jaati Hai, Jisse Durood Padha Jaata Hai Us Moonh Ke Saath Aisi Harkat Kaise Ki Ja Sakti Hai Par Aaj Kal Naujawano Mein Ye Tariqa Aam Hota Ja Raha Hai Aur Kuchh To Ye Samajhte Hain Ke Iske Bina Lazzat Adhuri Reh Jaati Hai
Jo Miya Biwi Aisa Karte Hain, Wo Pata Nahin Kaise Ek Dusre Se Nazrein Milate Hain
Ye Sharm Se Doob Marne Ka Maqaam Hai
Imam Burhanuddin Hanafi Rahimahullahu Ta'ala (Mutawaffa 616 Hijri) Likhte Hain Ke Jab Mard Apne Aale (Penis) Ko Apni Biwi Ke Moonh Mein Dakhil Kare To Kaha Gaya Hai Ke Ye Makrooh Hai Isliye Ke Moonh Quraan Padhne Ki Jagah Hai Pas Is Wajah Se Aale Ka Moonh Mein Dakhil Karna Munasib Nahin
(محیط برہانی، ج1، ص134)
Continue...
Abde Mustafa
Oral Sex :
Ek Ajeeb Tariqa Jo Aaj Kal Gandi Filmo Ke Zariye Aam Kiya Ja Raha Hai Wo Hai Oral Sex Yaani Ek Dusre Ki Sharmgah Ko Moonh Mein Lena, Chumna Aur Choosna (Sunne Mein Hi Kitna Kharaab Lagta Hai)
Jis Moonh Se Quraan Ki Tilawat Ki Jaati Hai, Jisse Durood Padha Jaata Hai Us Moonh Ke Saath Aisi Harkat Kaise Ki Ja Sakti Hai Par Aaj Kal Naujawano Mein Ye Tariqa Aam Hota Ja Raha Hai Aur Kuchh To Ye Samajhte Hain Ke Iske Bina Lazzat Adhuri Reh Jaati Hai
Jo Miya Biwi Aisa Karte Hain, Wo Pata Nahin Kaise Ek Dusre Se Nazrein Milate Hain
Ye Sharm Se Doob Marne Ka Maqaam Hai
Imam Burhanuddin Hanafi Rahimahullahu Ta'ala (Mutawaffa 616 Hijri) Likhte Hain Ke Jab Mard Apne Aale (Penis) Ko Apni Biwi Ke Moonh Mein Dakhil Kare To Kaha Gaya Hai Ke Ye Makrooh Hai Isliye Ke Moonh Quraan Padhne Ki Jagah Hai Pas Is Wajah Se Aale Ka Moonh Mein Dakhil Karna Munasib Nahin
(محیط برہانی، ج1، ص134)
Continue...
Abde Mustafa
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Padha Likha Gu Khayega
Ye Jumla Mash'hoor Hai Aur Shayad Aapne Bhi Suna Hoga Ke Log Kehte Huye Nazar Aate Hain Ke Ek Zamana Aisa Aayega Ke Padha Likha Gu Khayega Aur Kuchh Log Is Par Ek Riwayat Tak Bayaan Karte Hain Ke Sahaba Ne Dekha Ke Ek Parinda Hai Jis Ke Paro Par Kalima Likha Hua Hai Aur Wo Gandagi Kha Raha Hai Aur Phir Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ne Dekha To Irshad Farmaya Ke Ek Zamana Aisa Aayega Ke Padhe Likhe Log Gande Kaamo Mein Mubtila Ho Jaayenge Aur Ulama Ghair Sharayi Harkatein Karenge, Ye Usi Ki Taraf Ishara Hai (Ye Mafhoom Hai Jo Humne Bayaan Kiya)
Is Riwayat Ke Baare Mein Mufti Muhammad Niyaz Barkati Misbahi Hafizahullahu Ta'ala Likhte Hain Ke Talashe Bisyaar Ke Bawajood Aisi Koi Riwayat Nahin Mili Aur Ye Mauzu Maloom Hoti Hai (Yaani Aisi Hadees Nahin Hai) Aur Hadeesein Ghadna Haraame Qatayi Aur Gunahe Kabira Hai
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص513)
Jo Log Aisi Riwayat Bayaan Karte Hain Aur Phir Ise Bunyad Bana Kar Ulama Ki Tauheen Karte Huye Kehte Hain Ke Ye Padhe Likhe Gu Khaate Hain, Unhein Chahiye Ke Is Riwayat Ka Hawala Pesh Karein Aur Agar Na Kar Sakein To Suni Sunayi Baat Bayaan Karne Se Tauba Karein Aur Ise Hadees Batane Waalo Par Lazim Hai Ke Iski Sanad Aur Ibarat Pesh Karein Warna Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Par Jhoot Bandh Kar Jahannam Mein Apna Thikana Na Banayein
Abde Mustafa
Ye Jumla Mash'hoor Hai Aur Shayad Aapne Bhi Suna Hoga Ke Log Kehte Huye Nazar Aate Hain Ke Ek Zamana Aisa Aayega Ke Padha Likha Gu Khayega Aur Kuchh Log Is Par Ek Riwayat Tak Bayaan Karte Hain Ke Sahaba Ne Dekha Ke Ek Parinda Hai Jis Ke Paro Par Kalima Likha Hua Hai Aur Wo Gandagi Kha Raha Hai Aur Phir Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ne Dekha To Irshad Farmaya Ke Ek Zamana Aisa Aayega Ke Padhe Likhe Log Gande Kaamo Mein Mubtila Ho Jaayenge Aur Ulama Ghair Sharayi Harkatein Karenge, Ye Usi Ki Taraf Ishara Hai (Ye Mafhoom Hai Jo Humne Bayaan Kiya)
Is Riwayat Ke Baare Mein Mufti Muhammad Niyaz Barkati Misbahi Hafizahullahu Ta'ala Likhte Hain Ke Talashe Bisyaar Ke Bawajood Aisi Koi Riwayat Nahin Mili Aur Ye Mauzu Maloom Hoti Hai (Yaani Aisi Hadees Nahin Hai) Aur Hadeesein Ghadna Haraame Qatayi Aur Gunahe Kabira Hai
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص513)
Jo Log Aisi Riwayat Bayaan Karte Hain Aur Phir Ise Bunyad Bana Kar Ulama Ki Tauheen Karte Huye Kehte Hain Ke Ye Padhe Likhe Gu Khaate Hain, Unhein Chahiye Ke Is Riwayat Ka Hawala Pesh Karein Aur Agar Na Kar Sakein To Suni Sunayi Baat Bayaan Karne Se Tauba Karein Aur Ise Hadees Batane Waalo Par Lazim Hai Ke Iski Sanad Aur Ibarat Pesh Karein Warna Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Par Jhoot Bandh Kar Jahannam Mein Apna Thikana Na Banayein
Abde Mustafa
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
پڑھا لکھا گو کھائے گا
یہ جملہ مشہور ہے اور شاید آپ نے بھی سنا ہوگا کے لوگ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ پڑھا لکھا گو کھائے گا۔
کچھ لوگ اس پر ایک روایت تک بیان کرتے ہیں کے صحابہ نے دیکھا کہ ایک پرندہ ہے جس کے پروں پر کلمہ لکھا ہوا ہے اور وہ گندگی کھا رہا ہے اور پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ پڑھے لکھے لوگ گندے کاموں میں مبتلا ہو جائیں گے اور علما غیر شرعی حرکت کریں گے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے (یہ مفہوم ہے جو ہم نے بیان کیا)
اس روایت کے بارے میں مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ تلاشِ بسیار کے باوجود ایسی کوئی روایت نہیں ملی اور یہ موضوع معلوم ہوتی ہے (یعنی ایسی حدیث نہیں ہے) اور حدیثیں گھڑنا حرامِ قطعی اور گناہ کبیرہ ہے۔
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص513)
جو لوگ ایسی روایت بیان کرتے ہیں اور پھر اسے بنیاد بنا کر علما کی توہین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پڑھے لکھےگو کھاتے ہیں انھیں چاہیے کہ اس روایت کا حوالہ پیش کریں اور اگر نہ کر سکیں تو سنی سنائی بات بیان کرنے سے توبہ کریں اور اسے حدیث بتانے والوں پر لازم ہے کے اس کی سند اور عبارت پیش کریں ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ کر جہنم میں اپنا ٹھکانہ نہ بنائیں!
عبد مصطفی
یہ جملہ مشہور ہے اور شاید آپ نے بھی سنا ہوگا کے لوگ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ پڑھا لکھا گو کھائے گا۔
کچھ لوگ اس پر ایک روایت تک بیان کرتے ہیں کے صحابہ نے دیکھا کہ ایک پرندہ ہے جس کے پروں پر کلمہ لکھا ہوا ہے اور وہ گندگی کھا رہا ہے اور پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ پڑھے لکھے لوگ گندے کاموں میں مبتلا ہو جائیں گے اور علما غیر شرعی حرکت کریں گے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے (یہ مفہوم ہے جو ہم نے بیان کیا)
اس روایت کے بارے میں مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ تلاشِ بسیار کے باوجود ایسی کوئی روایت نہیں ملی اور یہ موضوع معلوم ہوتی ہے (یعنی ایسی حدیث نہیں ہے) اور حدیثیں گھڑنا حرامِ قطعی اور گناہ کبیرہ ہے۔
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص513)
جو لوگ ایسی روایت بیان کرتے ہیں اور پھر اسے بنیاد بنا کر علما کی توہین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پڑھے لکھےگو کھاتے ہیں انھیں چاہیے کہ اس روایت کا حوالہ پیش کریں اور اگر نہ کر سکیں تو سنی سنائی بات بیان کرنے سے توبہ کریں اور اسے حدیث بتانے والوں پر لازم ہے کے اس کی سند اور عبارت پیش کریں ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ کر جہنم میں اپنا ٹھکانہ نہ بنائیں!
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Paaon Par Khade Hone Ke Baad Shadi Karenge
Yahi Kehte Hain Hum Ki Pehle Paaon Par Khade Ho Jayein Phir Shaadi Karenge. Ab Paaon Par Khade Kab Honge Ye Humein Bhi Pata Nahi Hota.
Padhne Ke Liye Ja Rahe Kuchh Ladko Ko Dekh Kar Lagta Hai Ki Kam Se Kam Do Teen Baccho Ke Baap Honge Lekin Maloom Karne Par Kunware Nikalte Hai. Phir Poochne Par Kahte Hain Ki Apne Paaon Par Khade Ho Jaayein Phir...
Nursery Se Matric Phir Inter, Bachelor, Master, Doctor, Engineer Waghaira Ke Maqam Tak Pahuchte Pahuchte Ek Tihayi Umar Mukammal Ho Jati Hai Phir Baari Aati Hai Naukri Ki Jis Mein Aaj Kal Accha Khaasa Waqt Lag Jaata Hai. Agar Naukri Na Kar Ke Apna Business Karein To Use Jamane Ke Liye Kaafi Waqt Dena Padta Hai. Is Tarah Taqreeban Aadhi Zindagi Paar Ho Jati Hai. Is Ke Baad Jab Lagta Hai Ki Ek Paaon Par To Khade Ho Hi Gaye Hain Phir Shaadi Ki Niyyat Ki Jati Hai. Shaadi Ke Waqt Aisa Bhi Dekha Gaya Hai Ki Ladka, Ladke Ka Waalid Nazar Aata Hai.
Kya Shaadi Ke Baad Paaon Par Khade Nahi Ho Sakte? Bilkul Ho Sakte Hai. Shaadi Ko Rukawat Samajhna Sahih Nahi Hai Balki Shaadi Ke Baad Kamyaabi Ke Imkanaat Zyaada Ho Jate Hain. Ghar Me Aisa Hota Hi Hai Ki Kayi Logo Ka Aana Jaana, Khaana Peena Laga Rahta Hai Phir Ek Aurat Ke Aane Se Kya Bhuke Rahne Ki Haalat Ho Jayegi. Ab Baat Aati Hai Kharche Ki To Fuzool Kharchi Ko Zaroori Samajhna Aap Ki Ghalati Hai.
Jis Umar Me Aaj Kal Aksar Ladke Shaadi Karte Hai, Utne Mein To Chaar Shaadiya Ho Jaani Chahiye. Jitna Paisa Jama Kar Ke Shaadi Karte Hain Utne Me Chaar Beewiyo Ka Nahi To Kam Se Kam Do Beewiyo Ka Kharch Zaroor Uthaya Jaa Sakta Hai.
Ek Woh Log Hua Karte The Jo Ikkis Saal Ki Umar Me Qustuntuniya Ki Diwarein Gira Kar Aage Badh Jaate The Aur Ek Hum Hai Ki Is Umr Ko Khelne Koodne, Angrezi Padhne Aur Mauj Masti Karne Ki Umar Samjhte Hain.
Abde Mustafa
Yahi Kehte Hain Hum Ki Pehle Paaon Par Khade Ho Jayein Phir Shaadi Karenge. Ab Paaon Par Khade Kab Honge Ye Humein Bhi Pata Nahi Hota.
Padhne Ke Liye Ja Rahe Kuchh Ladko Ko Dekh Kar Lagta Hai Ki Kam Se Kam Do Teen Baccho Ke Baap Honge Lekin Maloom Karne Par Kunware Nikalte Hai. Phir Poochne Par Kahte Hain Ki Apne Paaon Par Khade Ho Jaayein Phir...
Nursery Se Matric Phir Inter, Bachelor, Master, Doctor, Engineer Waghaira Ke Maqam Tak Pahuchte Pahuchte Ek Tihayi Umar Mukammal Ho Jati Hai Phir Baari Aati Hai Naukri Ki Jis Mein Aaj Kal Accha Khaasa Waqt Lag Jaata Hai. Agar Naukri Na Kar Ke Apna Business Karein To Use Jamane Ke Liye Kaafi Waqt Dena Padta Hai. Is Tarah Taqreeban Aadhi Zindagi Paar Ho Jati Hai. Is Ke Baad Jab Lagta Hai Ki Ek Paaon Par To Khade Ho Hi Gaye Hain Phir Shaadi Ki Niyyat Ki Jati Hai. Shaadi Ke Waqt Aisa Bhi Dekha Gaya Hai Ki Ladka, Ladke Ka Waalid Nazar Aata Hai.
Kya Shaadi Ke Baad Paaon Par Khade Nahi Ho Sakte? Bilkul Ho Sakte Hai. Shaadi Ko Rukawat Samajhna Sahih Nahi Hai Balki Shaadi Ke Baad Kamyaabi Ke Imkanaat Zyaada Ho Jate Hain. Ghar Me Aisa Hota Hi Hai Ki Kayi Logo Ka Aana Jaana, Khaana Peena Laga Rahta Hai Phir Ek Aurat Ke Aane Se Kya Bhuke Rahne Ki Haalat Ho Jayegi. Ab Baat Aati Hai Kharche Ki To Fuzool Kharchi Ko Zaroori Samajhna Aap Ki Ghalati Hai.
Jis Umar Me Aaj Kal Aksar Ladke Shaadi Karte Hai, Utne Mein To Chaar Shaadiya Ho Jaani Chahiye. Jitna Paisa Jama Kar Ke Shaadi Karte Hain Utne Me Chaar Beewiyo Ka Nahi To Kam Se Kam Do Beewiyo Ka Kharch Zaroor Uthaya Jaa Sakta Hai.
Ek Woh Log Hua Karte The Jo Ikkis Saal Ki Umar Me Qustuntuniya Ki Diwarein Gira Kar Aage Badh Jaate The Aur Ek Hum Hai Ki Is Umr Ko Khelne Koodne, Angrezi Padhne Aur Mauj Masti Karne Ki Umar Samjhte Hain.
Abde Mustafa
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
پاؤں پر کھڑے ہونے کے بعد شادی کریں گے
یہی کہتے ہیں ہم کہ پہلے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں پھر شادی کریں گے۔ اب پاؤں پر کھڑے کب ہوں گے یہ ہمیں بھی پتا نہیں ہوتا۔ پڑھنے کے لیے جا رہے کچھ لڑکوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کم سے کم دو تین بچوں کے باپ ہوں گے لیکن معلوم کرنے پر کنوارے نکلتے ہیں۔ پھر پوچھنے پر کہتے ہیں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں پھر...
نرسری سے میٹرک، پھر انٹر، بیچلر، ماسٹر، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ کے مقام تک پہنچتے پہنچتے ایک تہائی عمر مکمل ہو جاتی ہے پھر باری آتی ہے نوکری کی جس میں آج کل اچھا خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ اگر نوکری نہ کر کے اپنا بزنس کرے تو اسے جمانے کے لیے کافی وقت دینا پڑتا ہے۔ اس طرح تقریباً آدھی زندگی پار ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جب لگتا ہے کہ ایک پاؤں پر تو کھڑے ہو ہی گئے ہیں پھر شادی کی نیت کی جاتی ہے۔ شادی کے وقت ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکا، لڑکے کا والد نظر آتا ہے۔
کیا شادی کے بعد پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے؟ بالکل ہو سکتے ہیں۔ شادی کو رکاوٹ سمجھنا صحیح نہیں ہے بلکہ شادی کے بعد کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ گھر میں ایسا ہوتا ہی ہے کہ کئی لوگوں کا آنا جانا، کھانا پینا لگا رہتا ہے پھر ایک عورت کے آنے سے کیا بھوکا رہنے کی حالت ہو جائے گی۔ اب بات آتی ہے خرچے کی تو فضول خرچی کو ضروری سمجھنا آپ کی غلطی ہے۔
جس عمر میں آج کل اکثر لڑکے شادی کرتے ہیں، اتنے میں تو چار شادیاں ہو جانی چاہیے۔ جتنا پیسا جمع کر کے شادی کرتے ہیں اتنے میں چار بیویوں کا نہیں تو کم سے کم دو بیویوں کا خرچ ضرور اٹھایا جا سکتا ہے۔
ایک وہ لوگ ہوا کرتے تھے جو اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ کی دیواریں گرا کر آگے بڑھ جاتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ اس عمر کو کھیلنے کودنے، انگریزی پڑھنے اور موج مستی کرنے کی عمر سمجھتے ہیں۔
عبد مصطفی
یہی کہتے ہیں ہم کہ پہلے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں پھر شادی کریں گے۔ اب پاؤں پر کھڑے کب ہوں گے یہ ہمیں بھی پتا نہیں ہوتا۔ پڑھنے کے لیے جا رہے کچھ لڑکوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کم سے کم دو تین بچوں کے باپ ہوں گے لیکن معلوم کرنے پر کنوارے نکلتے ہیں۔ پھر پوچھنے پر کہتے ہیں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں پھر...
نرسری سے میٹرک، پھر انٹر، بیچلر، ماسٹر، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ کے مقام تک پہنچتے پہنچتے ایک تہائی عمر مکمل ہو جاتی ہے پھر باری آتی ہے نوکری کی جس میں آج کل اچھا خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ اگر نوکری نہ کر کے اپنا بزنس کرے تو اسے جمانے کے لیے کافی وقت دینا پڑتا ہے۔ اس طرح تقریباً آدھی زندگی پار ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جب لگتا ہے کہ ایک پاؤں پر تو کھڑے ہو ہی گئے ہیں پھر شادی کی نیت کی جاتی ہے۔ شادی کے وقت ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکا، لڑکے کا والد نظر آتا ہے۔
کیا شادی کے بعد پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے؟ بالکل ہو سکتے ہیں۔ شادی کو رکاوٹ سمجھنا صحیح نہیں ہے بلکہ شادی کے بعد کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ گھر میں ایسا ہوتا ہی ہے کہ کئی لوگوں کا آنا جانا، کھانا پینا لگا رہتا ہے پھر ایک عورت کے آنے سے کیا بھوکا رہنے کی حالت ہو جائے گی۔ اب بات آتی ہے خرچے کی تو فضول خرچی کو ضروری سمجھنا آپ کی غلطی ہے۔
جس عمر میں آج کل اکثر لڑکے شادی کرتے ہیں، اتنے میں تو چار شادیاں ہو جانی چاہیے۔ جتنا پیسا جمع کر کے شادی کرتے ہیں اتنے میں چار بیویوں کا نہیں تو کم سے کم دو بیویوں کا خرچ ضرور اٹھایا جا سکتا ہے۔
ایک وہ لوگ ہوا کرتے تھے جو اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ کی دیواریں گرا کر آگے بڑھ جاتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ اس عمر کو کھیلنے کودنے، انگریزی پڑھنے اور موج مستی کرنے کی عمر سمجھتے ہیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
قبلہ محترم میرا سوال یہ ہےجیسے کہ آج کے جدید دور میں واش روم میں شاور وغیرہ لگے ہوتے ہیں تو شاور کے نیچے غسل جنابت کرنا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غسل کے تین فرائض ہیں، وہ کسی بھی طرح پورے کر لئے، تو غسل ہو جائے گا۔ وہ تین فرائض یہ ہیں:(1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا۔ (3) تمام ظاہر بدن پر پانی بہانا۔ لہذا اگر کسی نے شاور کے نیچے کھڑے ہو کر غسل کیا اور غسل کے فرائض پورے کر لئے، تو اس کا فرض ادا ہو جائے گا۔
غسل کے متعلق مزید معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ’’غسل کا طریقہ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غسل کے تین فرائض ہیں، وہ کسی بھی طرح پورے کر لئے، تو غسل ہو جائے گا۔ وہ تین فرائض یہ ہیں:(1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا۔ (3) تمام ظاہر بدن پر پانی بہانا۔ لہذا اگر کسی نے شاور کے نیچے کھڑے ہو کر غسل کیا اور غسل کے فرائض پورے کر لئے، تو اس کا فرض ادا ہو جائے گا۔
غسل کے متعلق مزید معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ’’غسل کا طریقہ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری المدنی
سوال نمبر:38
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
میرے بھائی کیا حال ہیں مجھے یہ بتائیں کہ یہ جو ٹڈیاں ہوتی ہیں یہ کھانا جائز ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
ٹڈی کھانا حلال ہے ! صحابہ کرام علیھم الرضوان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی موجودگی میں ٹڈی کھائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الجَرَادَ» قَالَ سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَإِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى: «سَبْعَ غَزَوَاتٍ»
(صحیح البخاری)
روایت ہے حضرت ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوہ کیے ہم حضور کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:ٹڈی حلال ہے حضور کے سامنے صحابہ کرام نے کھائی ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کبھی نہ کھائی بلکہ فرمایا کہ یہ اللہ تعالٰی کی بڑی مخلوق ہے میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ حرام کرتا ہوں۔(مراۃ المناجیح)
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ وَدَمَانِ الْمَیْتَتَانِ الْحُوتُ وَالْجرَادُ وَالدَّمَانِ الْکَبِدُ وَالطِّحَالُ‘‘۔
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ہمارے لیے دو مردار جانور اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ مردار جانور تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔
(مسند امام احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)
بہارِ شریعت میں ہے:ٹڈی حلال جانور ہے اسے کھانے کے لیے مار سکتے ہیں اور ضرر سے بچنے کے لیے بھی اسے مار سکتے ہیں۔(بہار شریعت)
جَرَاد ایک قسم کا پَروں والا کیڑا ہے جو دَرَخْتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسے ٹڈی بھی کہا جاتا ہے۔ حَیَاتُ الْحیَوَان میں ہے کہ اس ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں ان میں سے دو ہاتھ سینے پر، دو ٹانگیں درمیان میں سیدھی کھڑی ہوتی ہیں اور دو آخر میں ہوتی ہیں۔ اس کی پچھلی دو ٹانگوں کے اَطراف میں آری کی طرح دندانے ہوتے ہیں۔ یہ ان جانوروں میں سے ہے جو اپنے سردار کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور ایک لشکر کی طرح جمع ہو جاتے ہیں، جب ان میں سے پہلا کسی طرف کوچ کرتا ہے تو سب اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور جب پہلا کسی جگہ اترتا ہے تو سب اتر پڑتے ہیں۔ اس کا لُعَاب نباتات کے لیے زَہْرِ قاتِل ہے، جس حصّے پر بھی پڑتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔(حياة الحيوان الكبرىٰ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی
اپنے سوالات اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
میرے بھائی کیا حال ہیں مجھے یہ بتائیں کہ یہ جو ٹڈیاں ہوتی ہیں یہ کھانا جائز ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
ٹڈی کھانا حلال ہے ! صحابہ کرام علیھم الرضوان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی موجودگی میں ٹڈی کھائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الجَرَادَ» قَالَ سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَإِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى: «سَبْعَ غَزَوَاتٍ»
(صحیح البخاری)
روایت ہے حضرت ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوہ کیے ہم حضور کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:ٹڈی حلال ہے حضور کے سامنے صحابہ کرام نے کھائی ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کبھی نہ کھائی بلکہ فرمایا کہ یہ اللہ تعالٰی کی بڑی مخلوق ہے میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ حرام کرتا ہوں۔(مراۃ المناجیح)
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ وَدَمَانِ الْمَیْتَتَانِ الْحُوتُ وَالْجرَادُ وَالدَّمَانِ الْکَبِدُ وَالطِّحَالُ‘‘۔
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ہمارے لیے دو مردار جانور اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ مردار جانور تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔
(مسند امام احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)
بہارِ شریعت میں ہے:ٹڈی حلال جانور ہے اسے کھانے کے لیے مار سکتے ہیں اور ضرر سے بچنے کے لیے بھی اسے مار سکتے ہیں۔(بہار شریعت)
جَرَاد ایک قسم کا پَروں والا کیڑا ہے جو دَرَخْتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسے ٹڈی بھی کہا جاتا ہے۔ حَیَاتُ الْحیَوَان میں ہے کہ اس ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں ان میں سے دو ہاتھ سینے پر، دو ٹانگیں درمیان میں سیدھی کھڑی ہوتی ہیں اور دو آخر میں ہوتی ہیں۔ اس کی پچھلی دو ٹانگوں کے اَطراف میں آری کی طرح دندانے ہوتے ہیں۔ یہ ان جانوروں میں سے ہے جو اپنے سردار کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور ایک لشکر کی طرح جمع ہو جاتے ہیں، جب ان میں سے پہلا کسی طرف کوچ کرتا ہے تو سب اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور جب پہلا کسی جگہ اترتا ہے تو سب اتر پڑتے ہیں۔ اس کا لُعَاب نباتات کے لیے زَہْرِ قاتِل ہے، جس حصّے پر بھی پڑتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔(حياة الحيوان الكبرىٰ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی
اپنے سوالات اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470