🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964539516996793&id=100003223204679

*مفتیان کرام کی خدمت میں چند معروضات*

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

لاک ڈاؤن نافذ ہوا ہی تھا کہ مفتیان کرام نے کورونا کی "ہلاکت" اور "حفظانِ صحت" کا حوالہ دے کر لوگوں کو مساجد نہ جانے اور گھروں میں نماز پڑھنے کا حکم جاری کر دیا۔
جس وقت یہ فتاوے جاری کئے گئے اس وقت مریضوں کی تعداد 500 کے آس پاس تھی۔اب جب کہ مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے آس پاس ہے تو حکومت لاک ڈاؤن ختم کر رہی ہے۔اسی کے تحت نمازیوں پر لگی پابندی بھی ہٹائی جارہی ہے۔اب ہم یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ اب انسانی جان کے تحفظ کا خیال کیوں نہیں ہے؟
اگر واقعی بَلا کے خوف اور "حفظان صحت" کے مد نظر مساجد پر پابندیاں قبول کی گئی تھیں تو اب مساجد کھولنے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے؟
جس وبا سے حفاظت کے نام پر پہلے روکا گیا تھا کیا وہ خطرہ دور ہوگیا ہے یا یہ خطرہ صرف 8 جون تک کے لیے تھا؟
شدت وبا کے باوجود آمد ورفت کا بحال ہونا اور مفتیان کرام کا اس پر آمادگی ظاہر کرنا یہ بتاتا ہے کہ شروعاتی فتوے "ہلاکت اور حفظان صحت" کے مد نظر نہیں تھے.
عوام الناس میں یہ خیال زور پکڑنے لگا ہے کہ مفتیان کرام safe zone میں رہتے ہوئے وہی فتوے جاری کرتے ہیں جن سے حکومت سے ٹکراؤ کی صورت نہ پیدا ہو. وہ ایسی کوئی اپیل نہیں کرتے جو حکومتی فیصلوں کے خلاف ہو. !!

اب حکومت نے نئی شرطیں جاری کی ہیں جس کے تحت عبادت گاہوں میں ماسک، سینیٹائزر اور social distance لازمی قرار دیا ہے۔ امیدوں کے عین مطابق مفتیان کرام نے ایک بار پھر حکومتی موقف کی حمایت کرتے ہوئے شرعی گنجائش نکال کر پیش کردی ہے۔
حالانکہ اس بار حکومت سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ جب شدت مرض میں ان شرائط کے ساتھ نمازوں کی اجازت دی جارہی ہے تو راحت کے زمانے میں اجازت کیوں نہیں دی گئی؟
ایک طرف ماسک، سینیٹائزر کے جواز کے فتوے جاری ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ہندو تنظیموں نے مندروں میں سینیٹائزر کے استعمال کی سختی سے تردید کی ہے. بھوپال کے "وَیشنَو دَھام مَندِر" کے پجاری "چَندر شیکھر تِواری" نے کہا ہے"حکومت کا کام گائڈ لائن جاری کرنا ہے لیکن ہم سینی ٹائزر کا استعمال نہیں کریں گے کیوں اس میں الکحل(شراب) ہوتی ہے۔اس کے استعمال سے مَندِر کی پَوِترتَا(پاکی) خراب ہوتی ہے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ جب ہم شراب پی کر مندر میں نہیں جاتے تو ہاتھوں کو سینی ٹائز کرکے کیسے داخل ہو سکتے ہیں؟
پجاریوں کے ایک وفد نے صوبے کے وزیر داخلہ "نَروتّم مِشرا" سے بات کرکے انہیں ایک میمورنڈم بھی دیا ہے کہ مندروں کے باہر پانی کی ٹنکی اور صابن کا انتظام کرائیں ہم سینی ٹائزر استعمال نہیں کریں گے۔"
ہندو عبادت گاہوں میں نماز کی طرح اتصال صفوف اور چہرہ کھلا رکھنے کا concept نہیں ہے اس لیے انہوں نے ماسک اور social distance پر کوئی آواز نہیں اٹھائی ورنہ سینی ٹائزر کی طرح ان کی بھی کھلی مخالفت کرتے۔ لیکن ہمارے یہاں شراب کی سخت حرمت کے باوجود سینی ٹائزر کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ "الضرورات تبیح المحظورات" جیسے ضابطوں کا استعمال کرکے اسے جائز قرار دیا گیا. حالانکہ اس معاملے پر تو دیگر مذہبی رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہوسکتی تھی !!!
سینی ٹائزر کے جواز کی دلیلوں کے ساتھ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ عالمی ادارہ صحت (who) کے مطابق دستانے (Gloves) پہننے کے مقابلے ہاتھوں کو دھونے سے وائرس ختم ہوجانے کے امکانات زیادہ قوی ہوتے ہیں۔یعنی باوضو انسان کے ہاتھ پیر اور چہرہ وائرس کے اثر سے دوسروں کی بنسبت زیادہ محفوظ ہوتا ہے. پھر بھی محض پانچ چھ منٹ کی جماعت کے لیے ان پر سینی ٹائزر اور چھ فٹ کی دوری کی لازمیت کس لیے؟
ٹرین، ہوائی جہاز، مارکیٹ کہیں بھی چھ فٹ کا فاصلہ اور بار بار سینی ٹائز لازم نہیں ہے پھر عبادت گاہوں پر سختی کیوں؟
فتاوے جاری کرنے سے پہلے یہ سوالات حکومت سے ضرور کیے جانے چاہیے تھے.
کاش مفتیان کرام اور دینی قائدین پجاریوں کی طرح ایک وفد لے کر ارباب حکومت سے ملتے اور مذہبی روایات کے پیش نظر اپنا مطالبہ رکھتے تو شاید حالات اتنے سخت نہ ہوتے جتنے ہوگئے ہیں۔
یاد رہے, ہمیشہ ہاں میں ہاں ملانے سے بھی وقار جاتا رہتا ہے عزت کے لئے کبھی کبھی نہ کہنے کا مزاج بھی ہونا چاہیے۔

14 شوال المکرم 1441ھ
7 جون 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*’’آبروئے خاندانِ برکات‘‘*
حضور نظمی میاں مارہروی کے خطاب کے تحریری مرقع کا تجزیہ

غلام مصطفیٰ رضوی٭

پیشِ تجزیہ کتاب’’آبروئے خاندانِ برکات‘‘ مشاہداتی بزم ہے- جو حضرت سید آلِ رسول حسنین میاں نظمی مارہروی علیہ الرحمۃ کا خطاب ہے۔ محمد زبیر قادری نے تحریری صورت میں مرتب کیا۔ الحاج محمد سعید نوری کی فرمائش پر رضا اکیڈمی ممبئی نے ۲۰۰۹ء میں اشاعت کی۔ کُل صفحات۱٦؍ ہیں۔ مطالعہ کی میز پر آویزاں کرنے کے لائق ہے۔ سطر سطر سے مارہرہ شریف کی مشک بار فضا مشاہدہ ہوتی ہے۔ پس منظر کچھ یوں ہے… رمضان المبارک ۱٤۲۹ھ کے پاکیزہ ایام تھے۔ حضرت نظمی میاں مارہروی ارضِ طیبہ کی پاکیزہ فضاؤں میں تھے۔ سبز گنبد کا نور نگاہوں کو تقویت پہنچا رہا تھا۔

آخری عشرہ کی ایک شب قیام گاہ(ہوٹل) میں بصد شوق بزم سجائی گئی۔ ممبئی کے احباب کا اصرار۔ نظمی میاں کی ذات بابرکت۔ رنگ جَم گیا۔ ذکر چل پڑا عاشقِ رسول؛حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا۔ سبحان اللہ! حضور مفتی اعظم آبروئے خاندانِ برکات ہیں؛ جن کا تذکرہ جب آتا ہے تو مارہرہ شریف کی برکتوں کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ آج بھی مارہرہ شریف کی ہر محفل، ہر بزم، ہر مجلس چشم و چراغِ خاندانِ برکاتیہ اعلیٰ حضرت کے تذکروں سے گونج رہی ہے۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم کا جب ذکر آتا ہے تو شہزادگانِ صاحب البرکات والہانہ کیف میں ڈوب جاتے ہیں۔حضور امینِ ملت کی مبارک زبان سے ہم نے بکثرت ذکرِ رضاؔ و حضور مفتی اعظم سُنا۔ رفیقِ ملت بھی ہر گفتگو میں والہانہ انداز میں رضاؔ و نوریؔ کی یادوں کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ اپنے مُرشد کا ذکرِ جمیل اُلفتوں کے سائے میں کرتے ہیں-

ذکر چل رہا تھا نظمی میاں کی اُس محفل کا جو مکینِ گنبدِ خضریٰ ﷺ کی ارضِ معنبر میں سجی ہوئی تھی۔ ذکر تھا حضور مفتی اعظم کا۔ سبحان اللہ! مارہرہ مطہرہ سے اَٹوٹ رشتوں کا بیاں ہوا۔ کیسا آپ خود لُطف اندوز ہوں۔ معلومات میں اضافہ کریں۔ ایمان تازہ کریں۔ کھو جائیں۔ یادوں کے نقوش تازہ کریں۔ مارہرہ شریف کی خوشبوؤں سے دل و دماغ معطر کریں۔ پھر دربارِ مفتی اعظم میں حاضر ہو جائیں۔ سُنیے سُنیے نظمی میاں بیان کر رہے ہیں کہ:

’’میرے خاندان کے بہت چہیتے شہزادے تھے(مفتی اعظم)،اور میرے خاندان کے چشم و چراغ و چراغِ خاندانِ برکات کے بیٹے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے بیٹے تھے۔‘‘ (ص۸،۹)

اپنی رسمِ سجادگی کے ذکر میں فرماتے ہیں:

’’ابا(سیدالعلماء) نے اپنے وصیت نامے میں لکھا تھا کہ میرے چہلم کے دن حسنین اپنا عمامہ، سجادگی کا عمامہ وہ اپنے چچا حسن میاں(احسن العلماء) سے پہنیں، حسن میاں سے بندھوائیں۔ تو اسی وصیت کے مطابق چچا میاں نے جو ہے عمامے کا ایک گھیرا باندھا، اور اس کے بعد حضور مفتی اعظم ہند کے حوالے کر دیا۔ کیوں کہ یہ ان ہی کا منصب تھا، سرکار مفتی اعظم کا منصب تھا……سب سے پہلی نذر بڑے بڑے جو پہلے دس روپے کے نوٹ آتے تھے، وہ پانچ نوٹ مفتی اعظم قبلہ نے ایک لفافے میں دیے۔ الحمدللہ! وہ خزانہ آج بھی میرے پاس ہے۔ وہ خزانہ ہے اور میں اپنے آپ کو پتہ نہیں کتنا غنی سمجھتا ہوں، اُس لفافے کے بل بوتے پر۔ وہ مجھے نذر پیش کی۔میری اَمی نے اُس لفافے پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ’’حضور مفتی اعظم کی نذرِ سجادگی‘‘، وہ میرے پاس اب بھی محفوظ ہے۔میں اُس میں سے کبھی نکال لیتا ہوں؛ جب پیسوں کی کمی ہوتی ہے تو نکال کر پھر سے چوم کر رکھ دیتا ہوں۔تو پھر سے پیسہ بھر جاتا ہے۔ یہ میرے مفتی اعظم ہند کی کرامت ہے۔‘‘(ص۹،۱۰)

حضور مفتی اعظم سے متعلق نظمی میاں کے تاثرات کی جھلک دیکھیں:’’اللہ کے ولی (مفتی اعظم) اپنی روح کی نظروں سے دیکھا کرتے ہیں۔ ان کی روحانی نظریں بہت تیز ہوا کرتی ہیں…‘‘

بریلی شریف جب تشریف لے گئے تو فرمایا کہ :’’اِس وقت میری منزل مفتی اعظم ہیں…‘‘

محبتوں کا ذکر فرماتے ہیں:’’ میں نے ہاتھ بڑھا کے سرکار مفتی اعظم کی دست بوسی کی۔ اُس کے بعد حضور مفتی اعظم نے میرے ہاتھ چومے…‘‘

بارگاہِ مفتی اعظم سے واپسی کے ضمن میں فرماتے ہیں:’’کیا کیا لایا میں وہاں سے یہ تو میں جانتا ہوں یا میرا اللہ جانتا ہے…‘‘

روحانیت اور خاندانی تعلقات کی بہاروں سے متعلق گویا ہیں: ’’ان کی روحانیت کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ اور ان شاء اللہ جاری و ساری رہے گا…وہ ایسی شخصیت ہیں،جتنے پاور فل وہ مزار شریف کے اوپر تھے، اس سے کہیں زیادہ پاور فل وہ مزار شریف کے اندر ہیں…یہ ہمارا ایمان ہے، ہمارا عقیدہ ہے…الحمدللہ رب العالمین، وہ میرے خاندان کی آبرو ہیں، آبرو... وہ بپوتی ہیں ہماری…خانقاہِ برکاتیہ کی آبرو ہیں وہ مفتی اعظم ہند قبلہ…آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ضرورت کیا ہے؟ ارے مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ضرورت ہم کو ہر قدم پر ہے…اگر مسلکِ اعلیٰ حضرت نہ ہو تو ہماری زندگی بیکار ہے…اگر اعلیٰ حضرت کا خاندان نہ ہوتا تو آج ہماری دُنیا میں پتہ نہیں کیا ہوتا۔‘‘(ص۱۳)

’’مسلمان کو مسلمان رکھنا یہ اعلیٰ حضرت کا کارنام
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ہ ہے سب سے بڑا۔اور یہی اس خاندان کا کارنامہ ہے۔ سرکار مفتی اعظم کا کارنامہ ہے۔جن کی صورت دیکھ کر نہ جانے کتنے مسلمان ہو گئے۔ ایسا نورانی چہرہ۔‘‘(ص۱۳)

سبحان اللہ! نظمی میاں کیا خوب فرما گئے کہ: ’’ہاں! ہم نے غوث اعظم کو دیکھا ہے۔ ہم نے تو مصطفیٰ رضا خاں کو دیکھا ہے تو غوث اعظم کو دیکھا ہے۔ہم نے دیکھا ہے غوث اعظم کو۔بے شک دیکھا ہے۔‘‘ (ص۱۴)

پوری تقریر قیمتی موتیوں کی مالا ہے۔ہر نگینہ چمک رہا ہے۔ مارہرہ شریف کے سائے میں بریلی شریف کا گُلِ ہزارہ مہک رہا ہے۔ خوشبو بکھیر رہا ہے۔ حضور نظمی میاں نے کئی جہتوں سے مشاہدات کی محفل سجائی ہے۔ آپ بھی تقریر کے تحریری گلدستہ کی خوشبو سونگھیں۔ کتنے ہی گلوں کی کیاریاں سجی ملیں گی۔اِس قدر اہم خطاب کو برقی سطح سے قرطاس کی بزم میں لاکر طباعت کا زیور پہنانے والے الحاج محمد سعید نوری اور زبیر قادری دونوں لائق مبارک و تہنیت ہیں…

اللہ تعالیٰ ہمیں مارہرہ مطہرہ و بریلی شریف کی راہِ محبت کا مسافر بنائے…اور مَن کی دُنیا روشن رہے۔
٭٭٭
پی ڈی ایف فائل کیلئے احقر سے واٹس ایپ رابطہ کریں
+919325028586

٭نوری مشن مالیگاؤں
٨؍جون ۲۰۲۰ء
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
آبروئے خاندان برکات.pdf
1.5 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
حضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اورآپ کی زوجہ کی قبروں سے آپ کے اجسامِ مطہرہ کونکال کران کی بے حرمتی کرنے والے شیعہ ملعونین پراللّٰہ کریم کی کروڑوں لعنتیں ہوں.خذلھم اللّٰہ تعالٰی.


https://www.aa.com.tr/en/middle-east/syria-terrorist-groups-exhume-muslim-caliph-shrine/1854970

لنک 2:
https://www.dailysabah.com/world/syrian-crisis/iran-backed-terrorist-groups-exhume-shrine-of-muslim-caliph-omar-bin-abdulaziz-in-syrias-idlib

لنک 3:
https://www.muslimworldjournal.com/shia-groups-exhume-body-of-umar-bin-abdulaziz/

لنک 4:
https://www.middleeastmonitor.com/20200528-tomb-of-umayyad-caliph-exhumed-by-militias-in-syria/

لنک 5 (پاکستان ڈیفینس نیوز):
https://defence.pk/pdf/threads/iran-backed-groups-exhume-shrine-of-muslim-caliph-omar-bin-abdulaziz-in-syrias-idlib.668406/page-3

لنک 6:
https://www.eg24.news/2020/01/in-pictures-loyalists-to-the-syrian-regime-burn-the-tomb-of-caliph-omar-bin-abdul-aziz.html

لنک 7:
https://turkishpress.com/syria-terrorist-groups-exhume-muslim-caliph-shrine/

لنک 8:
Source link
http://mubasher.aljazeera.net/news/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D9%85%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%88%D8%B1%D9%8A-%D9%8A%D8%AD%D8%B1%D9%82%D9%88%D9%86-%D8%B6%D8%B1%D9%8A%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%84%D9%8A%D9%81%D8%A9-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%D9%8A%D8%B2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان صلاح الدین ایوبی ہنستے نہیں تھے ، وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے:
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وہ مسجدِ اقصیٰ جہاں میرے نبی ﷺ نے نمازپڑھی تھی ، کافروں کے قبضے میں ہے ؛ بتاؤ میں کیسے ہنس سکتا ہوں !!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*تبلیغی جماعت دیوبند کا اصلی چہرہ بےنقاب*

*طارق جمیل دیوبندی*
میں دیوبندیت کو پھیلانے کیلئے خاموشی سے خفیہ انداز پر کام کر رہا ہوں کتنے سنی بریلوی وہابی دیوبندی بنا دئیے
*طارق جمیل دیوبندی سانپ کی کال لیک 📞*

👈 کہاں ہیں وہ نام نہاد جو کہتے تھے کہ طارق جمیل فرقہ واریت کی بات نہیں کرتا

*طارق جمیل دیوبندی اپنی تقریروں میں کہتا ھے* غور کریں اس جملے پر 👇🏿
👈 امت بن کر رہو فرقے مت بنو لیکن میں دیوبندی ہوں
*مسلمانوں اب سمجھ آئی کچھ حقیقت مسلمانوں کو مشرک کہنے والے خارجی نجدی وہابی دیوبندی منافق فرقوں کے ٹولے کی*
دیوبند فرقے کو میں نے خاموشی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلایا ہے۔۔۔
طارق جمیل کی کال لیک ہوگئی ۔
آپ بھی سماعت فرمائیے۔

https://www.facebook.com/191298827702128/posts/1586683498163647/?sfnsn=scwspwa&extid=f4IhJDLJ6gdTZv2X&d=w&vh=e
.
امت بنو والا ڈرامہ کہاں چلا گیا ؟
اب آپ کیا کہتے ہیں ؟؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتنۂ دیوبندیت و وہابیت پر بے مثال تحقیق ـ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے احباب کے لئے 610 موضوعات پر 4000 سے زائد دیوبندی وہابی کتب کے سکین حوالہ جات ـ رد پر فوٹوز ـ Zip File زِپ فائِل میں ـ @islaamic_Knowledge
radde wahabia images.zip
222.1 MB
فتنۂ دیوبندیت و وہابیت پر بے مثال تحقیق ـ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے احباب کے لئے ⁶¹⁰ موضوعات پر ⁴⁰⁰⁰ سے زائد دیوبندی وہابی کتب کے سکین حوالہ جات ـ رد پر فوٹوز ـ Zip File زِپ فائِل میں ـ
@islaamic_Knowledge
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اِسے ↶ کہتے ہیں دوستی ...

امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے دوست کے پاس گیا اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا.....،
دوست نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا کہ مجھ پر چار سو درہم قرض ہیں؛ دوست نے چار سو درہم اس کے حوالے کر دیے اور روتا ہوا (گھر کے اندر) واپس آیا!

بیوی نے کہا کہ اگر ان درہموں سے تجھے اتنی محبت تھی تو دیے کیوں؟
اس نے کہا کہ میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ مجھے اپنے دوست کا حال اس کے بتائے بغیر کیوں نہ معلوم ہو سکا حتی کہ وہ میرا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو گیا-

(انظر: احیاء العلوم الدین، اردو، ج3، ص843)

امام غزالی مزید لکھتے ہیں کہ دوستی کو نکاح کے تعلق کی طرح تصور کرنا چاہیے کیوں کہ اس میں بھی حقوق ہیں- جو چیز ضرورت اور حاجت سے زائد ہو اسے بنا مانگے اپنے دوست کو دے دے؛ اگر اسے مانگنے اور کہنے کی نوبت آئے تو یہ دوستی کے درجے سے خارج ہے-

(ملخصاً: کیمیائے سعادت، اردو، ص291)

دوستی صرف ٹائم پاس کرنے کا کھلونا نہیں ہے کہ جب جی چاہا کھیلا اور ضرورت پوری ہونے پر پھینک دیا بلکہ یہ ایک بہت پیارا رشتہ ہے- اس رشتے کو نبھانا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں- دوست کی ضرورت کو محسوس کرنے کا نام دوستی ہے- اگر ہمارے پاس مال ہے اور دوست کو ضرورت ہے تو اس کے منھ کھولنے سے پہلے دے دینے کا نام دوستی ہے-

اس زمانے میں ایسے دوست بہت کم ملتے ہیں جو اس رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، شاید میں بھی ان میں سے نہیں- ہمارے دوستوں کی تعداد تو سیکڑوں میں ہے لیکن کیا ہم نے کسی ایک سے بھی اچھی طرح دوستی نبھائی ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں نے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کیا تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی کہ میں جواب میں "ہاں" کَہ سکوں..........!!!
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
Sex Knowledge (Part 7) Aurat Ke Pichhe Ke Maqam Mein Wati Karne Ki Mumana'at Ahadees Mein Sarahat Ke Saath Maujood Hai Hadees Ka Mafhoom Hai Ke Jis Shakhs Ne Haayiza Aurat (Yaani Jo Haiz Ki Haalat Mein Ho, Us) Se Jima Kiya Ya Aurat Ke Pichhe Ke Maqaam Mein…
Sex Knowledge (Part 8)

Ek Taraf Jahan Gandi Filmo Mein Anal Sex Ko Dikhaya Ja Raha Hai Wahin Dusri Taraf Gandi Web Series Ke Zariye Ye Paigham Diya Ja Raha Hai Ke Ye Koi Buri Baat Nahin Hai

Ek Daur Tha Ke Simple Mobiles Hua Karte The Aur Computer Ke Zariye Internet Ka Istemal Karne Waalo Ki Tadaad Bahut Zyada Nahin Thi Par Ab Smartphones Ne Gandi Filmo Ki Dunya Mein Indhan (Fuel) Ka Kaam Kiya Hai
Ab Har Shakhs Ke Paas Internet Ki Sahulat Maujood Hai Aur Kuchh Seconds Ke Fasile Par Laakho Balki Karodo Gandi Filmein Store Kar Ke Rakhi Huyi Hain

Na Jaane Kitni Websites Hain Jo Adult Videos Ko Promote Kar Rahi Hain
Ek Website Ki Report Ke Mutabiq Har Second 1000 Se Zyada Log Website Par Jaate Hain Aur Har Din Lakh Nahin Million Nahin Balki Billions Ki Tadaad Mein Log Gandi Filmein Dekhte Hain
Humara Andaza Hai Ke 60 Feesad Se Zyada Naujawan Balki Usse Bhi Zyada Jis Mein Ladkiya Bhi Shamil Hain, Gandi Filmo Ke Nashe Mein Mubtala Hain

Continue...

Abde Mustafa