🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مجدد الفِ ثانی و مجدد بریلی میں مناسبت و مماثلت*
(ولادتِ مجددینِ اسلام کے ماہِ مبارک کی مناسبت سے...)

*از:* ابوزہرہ رضوی مالیگ

اعلیٰ حضرت کے پیغام اور تعلیمات میں دسویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی آواز بازِگشت سُنی جا سکتی ہے۔

    دونوں نے عقیدۂ توحید اور عشق و اتباعِ مصطفیٰ پر زور دیا۔
    دونوں نے سلفِ صالحین کے عقائد و افکار کی ترویج کی۔
    دونوں نے شریعت و طریقت میں فرق کرنے والوں کا محاسبہ کیا۔
    دونوں نے اہلِ بدعت اور باطل فرقوں کے خلاف قلمی اور عملی جہاد کیا۔
    دونوں نے گستاخانِ رسول، مدعیانِ نبوت، صحابہ و اہلبیت کے دشمنوں کا تعاقب کیا۔
    دونوں نے دو قومی نظریے کا احیاء کیا-
    دونوں نے عوام و خواص کی اصلاح کا بیڑہ اُٹھایا۔
    دونوں کے خلفا نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا اور برصغیر پاک و ہند پر انقلابی اثر ڈالا۔
    دونوں نے ایسی تصانیف یادگار چھوڑیں جو پچھلوں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہیں۔
(ص۔۲۸۳، انتخاب حدائق بخشش، از ڈاکٹر محمد مسعود احمد)

    دونوں شخصیات میں علمی و فکری یک جہتی، دینی و ملی کارناموں میں یک رنگی، اپنی ہمہ گیر خدمات و اثرات میں غیر معمولی یکسانیت کے علاوہ تاریخی اور واقعاتی حوالہ سے ذاتی اور شخصی نوعیت کی مماثلت اور وحدت بھی نظر آتی ہے،
*مثلاً :* دونوں کی ولادت و وفات کے زمانے... کہا جاتا ہے کہ جس دن امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اسی دن امام شافعی کی ولادت ہوئی ہے۔ (ص۔۵۳۴، سیرالاولیاء) جس سے قدرت کا یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجتہد کا دور ختم ہوتے ہی دوسرا مجتہد دُنیا میں آ رہا ہے؛ یا یہ کہ ایک مجتہد کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے دوسرا مجتہد جلوہ گر ہو رہا ہے۔
    مجدد سرہندی کی ولادت ١٤؍ شوال کو ہوئی۔ اعلیٰ حضرت کی ولادت ۱۰؍ شوال کو دونوں کے مہینے ایک ہیں؛ اور ایام بھی قریب قریب ہیں۔
    سال اور سنہ دیکھیں تو مجدد الف ثانی ۹۷۱ھ میں پیدا ہوئے تو اعلیٰ حضرت ۱۲۷۲ھ میں گویا اپنی اپنی صدیوں میں ایک ہی عرصہ اور وقت ہے؛ اسی طرح وقتِ وفات میں بھی یہی یکسانیت موجود ہے۔
    مجدد سرہندی نے ۲۸؍ صفر کو وصال فرمایا؛ تو اعلیٰ حضرت کا وصال ۲۵؍ صفر کو؛ یہاں بھی وہی چیز ہے۔ دونوں کا مہینہ ایک اور تاریخیں بھی قریباً ایک سی؛ البتہ سنہ و سال میں معمولی فرق ہے کہ مجدد صاحب ١٠٣٤ھ میں فوت ہوئے تو اعلیٰ حضرت ١٣٤٠ھ میں۔
    جس طرح زمینی اور مکانی اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تمام علاقے تھانیسر، گووندوال، نگر کوٹ اور امرتسر ایک دائرہ کی شکل بنتے ہیں جہاں سے ہندوؤں کی احیائی تحریکیں اُٹھی تھیں اور جس کے نتیجہ میں دین الٰہی کا فتنہ ظاہر ہوا۔ قدرت نے ٹھیک انہی مقامات کے درمیان سرہند میں آپ (مجدد الف ثانی) کو پیدا فرمایا... اسی طرح اعلیٰ حضرت کے دور میں وہ تمام مقامات دیوبند، قادیان، سہارنپور، علی گڑھ، ندوہ (لکھنؤ) اور دہلی جہاں سے وہابیت، دیوبندیت، قادیانیت، نیچریت، غیر مقلدیت اور صلح کلیت کے فتنے اٹھے تھے ان تمام علاقوں کے بیچ ایک مرکزی مقام "شہر بریلی" میں آپ کو پیدا فرمایا؛ تاکہ وہ ہر محاذ پر بیک وقت نبرد آزما ہو سکیں۔

[ماخوذ: امام احمد رضا خدمات و اثرات، از ابوزہرہ رضوی، مطبوعہ رضا ریسرچ اینڈ پبلشنگ بورڈ مانچسٹر/نوری مشن مالیگاؤں]
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ڈاکٹروں میں بڑھتا تعصب اور ہماری بے حسی !!

*غلام مصطفےٰ نعیمی*
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام
روشن مستقبل دہلی

چند دن سے کانپور میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر آرتی لال چندانی کا ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے، جس میں ڈاکٹر صاحبہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہی ہیں۔مسلم مریضوں کو علاج کی بجائے کال کوٹھری میں ڈال کر مارنے اور جنگل میں چھوڑنے کا مشورہ دیتی ہیں۔اتنا ہی نہیں اسپتال میں داخل مسلم مریضوں کے لیے یوپی حکومت پر منہ بھرائی کا الزام بھی لگاتی ہیں۔
یہ متعصبانہ ویڈیو دیکھا تو تاریخ کا ایک گم شدہ ورق سطح ذہن پر ابھر آیا۔1936 کا زمانہ تھا،ملک میں کانگریس کی عبوری حکومت بن چکی تھی کہ بہی خواہان انگریز کی مہربانی سے بریلی کے گاؤں متوچندر پور میں ہندو مسلم فساد ہوگیا۔ لٹے پٹے زخمی مسلمان آنولہ سِوِل اسپتال پہنچے تو ہندو سرجن نے مسلمانوں کا علاج کرنے سے صاف منع کر دیا تھا۔ آج ڈاکٹر چندانی کا متعصانہ چہرہ دیکھ کر تاریخ کا وہ سَرجن بھی یاد آگیا جس نے ڈاکٹری کے مقدس پیشے کو بدنام کیا تھا۔
بھارت میں تقریباً 800 سال مسلم سلطنت قائم رہی لیکن اِکّا دُکّا واقعات کے علاوہ نفرت وشدت کا ماحول نظر نہیں آتا۔سلطنت مغلیہ کے زوال اور انگریزوں کی آمد سے وطن عزیز میں منصوبہ بندی کے ساتھ ہندو مسلم منافرت کا آغاز ہوا۔زوال سلطنت کے بعد بھی مسلمانوں کے مالی،علمی اور عوامی دبدبے کے باعث نفرت وتعصب بہت کھل کر پروان نہیں چڑھ سکی لیکن مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری سے شدت پسندوں کو شہ ملتی گئی۔انگریزی سازش اور اقتدار کے سہارے مسلم دشمنی کا بیج پھلتا پھولتا رہا جو آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔آج بھلے ہی ہم آزاد بھارت کی ہوا میں سانس لے رہے ہیں لیکن اس ہوا میں مسلم دشمنی کا وائرس گھلا ہوا ہے جو کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔برطانوی بھارت سے آزاد بھارت تک مسلم دشمنی کا بھوت کس طرح سروں پر سوار رہا اس کا اندازہ مذکورہ دو مثالوں سے لگا سکتے ہیں۔دونوں واقعات کے مابین تقریباً 84 سال کا فاصلہ ہے لیکن اتنا لمبا فاصلہ بھی مسلم دشمنی ختم نہیں کر سکا۔مسلم دشمنی کا جو جذبہ اس وقت تھا وہ آج تک برقرار ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تعلیم یافتہ افراد میں مسلم دشمنی کا زہر بڑھتا ہی جارہا ہے۔ 1936 میں جو شدت پسند جماعتیں انگریزوں کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھ رہی تھیں آج وہ ملکی اقتدار پر قابض ہیں۔کل ان کے پاس افراد اور وسائل کی سخت کمی تھی لیکن آج ہر شعبہ حیات کے لیے ان کے پاس ایک مستقل ذیلی تنظیم موجود ہے۔
لوگ افسوس کرتے ہیں کہ ڈاکٹری جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد میں اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے؟انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جن اداروں سے ڈاکٹرز تیار ہوتے ہیں وہاں ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر مسلم دشمنی سے متاثر کر دی گئی ہے۔دوران تعلیم وہ لوگ اپنے جراثیم طلبہ کے ذہنوں میں منتقل کرتے ہیں۔یہی طلبہ جب ڈاکٹر بن کر نکلتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں مسلم دشمنی کا وائرس موجود ہوتا ہے جو موقع ملتے ہی اپنا رنگ دکھاتا ہے اور ڈاکٹر آرتی لال چندانی جیسا گھنونا معاملہ سامنے آتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے ایام میں ہی میرٹھ کے valantis اسپتال نے اخبارات میں مسلم مریضوں کے علاج پر پابندی لگانے کا اشتہار جاری کیا۔ہنگامہ ہونے پر اسپتال انتظامیہ نے بھلے ہی معافی مانگ لی لیکن یہ سوال پھر بھی برقرار رہتا ہے کہ مسلمانوں کی خلاف اتنی نفرت محض اتفاقی اور انتظامی بھول ہے؟
آج بھی اس پیشے میں کتنے ہی انسانیت نواز غیر مسلم ڈاکٹرز موجود ہیں جو مریض کو مذہب کے چشمے سے نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔لیکن جس طرح لگاتار ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں وہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
*دو باتیں مسلم ذمہ داران سے:*
مابعد آزادی سے اب تک کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو مسائل1947 میں تھے وہ ختم یا کم ہونے کی بجائے لگاتار بڑھتے گئے لیکن ہماری قیادت نے یہ نہیں سوچا کہ آخر ان مشکلات کا کوئی حل ہے کہ نہیں!
پہلے پہل مسلم آبادیوں میں فسادات کارڈ کھیلا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے مسلم آبادیاں اور کاروبار فسادات کی زد میں آتے گئے۔بڑے بڑے مسلم کاروباری شہر تباہ وبرباد ہوگئے، ہزاروں لاکھوں لوگ افراد جاں بحق ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے لیکن 70 سال گزر جانے کے باوجود ہمارے قائدین آج تک فسادات کا کوئی مؤثر علاج نہیں تلاش کر پائے نتیجتاً فسادات آج تک جاری ہیں۔
تعلیمی اداروں میں گھس پیٹھ کرکے ایسے افراد بٹھا دئے گئے ہیں جو طلبہ کو انسانیت کی بجائے نفرت وتعصب کا سبق پڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں قوموں کے مابین کھائی بڑھتی جارہی ہے۔نفرت کی آگ اسپتال اور شفاخانوں تک آ پہنچی ہے لیکن قوم کے ذمہ داران ابھی تک خواب خرگوش میں مست ہیں !!

ہمارے ملک میں ریلوے کے بعد سب سے زیادہ وقف کی زمین مسلمانوں کے پاس ہے۔اوقاف کی رجسٹرڈ جائیدادوں کی تعداد تقریباََ پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ جس کا رقبہ 6 لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہے۔ سرکا
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ری حساب سے اس زمین کی مالیت 6 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے مگر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اتنی قیمتی جائداد کی آمدنی محض 163 کروڑ روپے ہے۔یعنی کل سرمایہ کا محض 2.7% فیصد!
اگر ایماندانہ طور پر وقف پراپرٹی کی موجودہ مارکیٹ ویلو نکالی جائے تو وقف بورڈ کی سالانہ آمدنی 12 سے 15 ہزار کروڑ روپے ہو سکتی ہے۔ راجدھانی دہلی کی ہی بات کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دہلی کی موجودہ وقف جائیداد کی قیمت 60 ارب روپے ہے لیکن ذمہ داران قوم نے وقف کی اس زمین کی بندر بانٹ کرکے ذاتی فوائد تو خوب حاصل کئے لیکن قومی مفاد کے لیے اسپتال اور کالج قائم نہیں کئے!
اس زمین کا کیا استعمال ہورہا ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے؟
ہر سال مذہبی جلسوں، اجتماعات پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچنے والی قوم میڈیکل کالج کیوں نہیں بناتی؟
سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں مہنگی فیس وصولی جاتی ہے مسلمان پائی پائی جوڑ کر ڈاکٹروں کی فیس ادا کرتے ہیں، زمین جائداد بیچ کر علاج کراتے ہیں، زیور گروی رکھ کر دوائیاں خریدتے ہیں لیکن ہمارے سیاسی اور دینی قائدین کو یہ سب نظر نہیں آتا۔سرمایہ دار طبقہ واہ واہی کے لیے غیروں کو کروڑوں کا چندہ دینے میں فخر محسوس کرتا ہے لیکن قوم کو دینے میں بہانے بازیاں کرتا ہے۔ذاتی تشہیر اور پرچار کے لیے لاکھوں کے پوسٹر چھپوانے میں ذرا نہیں سوچتا لیکن قومی فلاح کا منصوبہ سامنے رکھ دیں تو کاروباری نقصانات گنانے لگتا ہے۔
مسلمان سرکاری اسپتال میں دھکے کھاتا ہے یا پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیس چکانے میں مقروض ہوجاتا ہے۔حاملہ مسلم خواتین اپنی غربت کی وجہ سے غیروں کے چیرٹی اسپتالوں میں شرم وحیا چھوڑنے پر مجبور ہوتی ہیں۔میڈیکل جانچ کے نام پر انہیں برہنہ ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے،لمبی قطاروں سے بچانے کے نام پر وارڈ بوائے جنسی ہراسانی کرتے ہیں۔ولادت کے وقت میں جان بوجھ کر آپریشن پر مجبور کیا جاتا ہے۔دنیا سے پردہ کرنے والی ہماری بیٹیاں غیر محرم ڈاکٹروں کے سامنے برہنہ ہونے پر مجبور ہوتی ہیں اور مرد موٹی رقم دینے پر!
کاش ہمارے پاس اپنے میڈیکل کالج ہوتے جہاں ہمارے بیٹے تعلیم حاصل کرتے۔شرعی پاسداری کے ساتھ بیٹیوں کو ڈاکٹر بنایا جاتا تاکہ قوم کی بیٹیاں غیروں کے سامنے برہنگی کی شرمندگی سے بچ سکتیں لیکن خدا جانے ہمیں کب ہوش آئے گا؟
جس قوم نے ادویات بنانے کے علم کو متعارف کرانے والے ابن سینا،آپریشن سے قبل مریض کو بے ہوش کرنے اور مصنوعی دانت لگانے والے زکریا الرازی، آنکھ ناک کان اور پِتّے کا آپریشن سے علاج کرنے والے ابوالقاسم الزہراوی ،مریضوں کو دی جانے والی ادویات کی درست مقدار کی تعین کرنے والے یعقوب الکندی جیسے ماہرین علاج پیدا کئے ہوں وہی قوم آج غیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہر چھوٹی،متوسط آبادی میں چیرٹی ڈسپنسری اور بڑی مسلم آبادیوں میں چیرٹی اسپتال قائم کئے جائیں تاکہ ضرورت مند افراد دھکے کھانے پر مجبور نہ ہوں اور ہمارے بچے بچیاں بھی اعلی تعلیم حاصل کریں اور کمزوروں کی خدمت کرکے اچھی نظیر قائم کر سکیں۔
علما ومشائخ،سیاسی قائدین اور سرمایہ دار طبقہ آگے آئے اور اپنے اسلاف کی روایت کو زندہ کرکے متعصب ڈاکٹروں کے مقابلے خدمت گار ڈاکٹر تیار کریں تاکہ ہم دنیا کو خدمت خلق سکھا کر نفرت وتعصب کا خاتمہ کرسکیں۔

14 شوال المکرم 1441ھ
7 جون 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
اسرا فاٶنڈیشن ناگپور

جسکے زیر اہتمام جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر پیتھالوجی لیب شروع کی گٸی

پھر دوسرے برس عید میلاد کے موقع پر اسرا ٕ چیریٹی ایبل ملٹی اسپیشیلٹی کلیکنک کا آغاز کیا گیا h
پھر ڈیجیٹل ایکسرے مشین لاٸی گٸی اور اب ایک چھت کی نیچے پیتھالوجی لیب ایکسرے اور کلنیک موجود ہے
ضرورت کے پیش نظر دوسرے علاقہ میں بھی پیتھالوجی لیب قاٸم کی گٸی جہاں کافی رعایتی فیس پر جانچ ہوتی ہے

بہت سے کنسلٹینٹ ڈاکٹرز سے اسرا کے ذریعہ کم فیس پر رابطہ کرادیا جاتا ہے
اسکے علاوہ مختلف کنسلٹینٹ ڈاکٹرز بھی وزٹ کرتے ہیں
وقفے وقفے سے میڈیکل کیمپ منعقد کیا جاتا ہے
صدقات فنڈ سے خصوصی حاجتمند حضرات کی مدد کی جاتی ہے
اسرا کا مسقبل کا منصوبہ ایک عظیم الشان ہاسپیٹل کا قیام ہے


اسرا سے متاثر ہوکر ایک مسجد کمیٹی نے اپنے وساٸل سے چیریٹی ایبل کلینک شروع کیا ہے اور ان شا ٕ اللہ اسلامی بہنوں کے لیے جلد ہی خصوصی اسپتال بنانے کا منصوبہ ہے جہاں ان کی ڈیلوری وغیرہ کے معاملات شرعی حدود میں انجام پاٸیں ان شا ٕ اللہ اس بھی عمل ہوگا

*اور اسرا فاٶنڈیشن کی شان دار میڈکلی خدمات کا سہرا اسرا کے ڈاکٹرز کے سر ہے*
*ڈاکٹر اویس حسن*
*ڈاکٹر عزیز سولنکی*
*ڈاکٹر سید توصیف علی*
*ڈاکٹر راشد*
*جنہوں نے اپنے ذاتی اوقات کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا*
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964539516996793&id=100003223204679

*مفتیان کرام کی خدمت میں چند معروضات*

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

لاک ڈاؤن نافذ ہوا ہی تھا کہ مفتیان کرام نے کورونا کی "ہلاکت" اور "حفظانِ صحت" کا حوالہ دے کر لوگوں کو مساجد نہ جانے اور گھروں میں نماز پڑھنے کا حکم جاری کر دیا۔
جس وقت یہ فتاوے جاری کئے گئے اس وقت مریضوں کی تعداد 500 کے آس پاس تھی۔اب جب کہ مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے آس پاس ہے تو حکومت لاک ڈاؤن ختم کر رہی ہے۔اسی کے تحت نمازیوں پر لگی پابندی بھی ہٹائی جارہی ہے۔اب ہم یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ اب انسانی جان کے تحفظ کا خیال کیوں نہیں ہے؟
اگر واقعی بَلا کے خوف اور "حفظان صحت" کے مد نظر مساجد پر پابندیاں قبول کی گئی تھیں تو اب مساجد کھولنے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے؟
جس وبا سے حفاظت کے نام پر پہلے روکا گیا تھا کیا وہ خطرہ دور ہوگیا ہے یا یہ خطرہ صرف 8 جون تک کے لیے تھا؟
شدت وبا کے باوجود آمد ورفت کا بحال ہونا اور مفتیان کرام کا اس پر آمادگی ظاہر کرنا یہ بتاتا ہے کہ شروعاتی فتوے "ہلاکت اور حفظان صحت" کے مد نظر نہیں تھے.
عوام الناس میں یہ خیال زور پکڑنے لگا ہے کہ مفتیان کرام safe zone میں رہتے ہوئے وہی فتوے جاری کرتے ہیں جن سے حکومت سے ٹکراؤ کی صورت نہ پیدا ہو. وہ ایسی کوئی اپیل نہیں کرتے جو حکومتی فیصلوں کے خلاف ہو. !!

اب حکومت نے نئی شرطیں جاری کی ہیں جس کے تحت عبادت گاہوں میں ماسک، سینیٹائزر اور social distance لازمی قرار دیا ہے۔ امیدوں کے عین مطابق مفتیان کرام نے ایک بار پھر حکومتی موقف کی حمایت کرتے ہوئے شرعی گنجائش نکال کر پیش کردی ہے۔
حالانکہ اس بار حکومت سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ جب شدت مرض میں ان شرائط کے ساتھ نمازوں کی اجازت دی جارہی ہے تو راحت کے زمانے میں اجازت کیوں نہیں دی گئی؟
ایک طرف ماسک، سینیٹائزر کے جواز کے فتوے جاری ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ہندو تنظیموں نے مندروں میں سینیٹائزر کے استعمال کی سختی سے تردید کی ہے. بھوپال کے "وَیشنَو دَھام مَندِر" کے پجاری "چَندر شیکھر تِواری" نے کہا ہے"حکومت کا کام گائڈ لائن جاری کرنا ہے لیکن ہم سینی ٹائزر کا استعمال نہیں کریں گے کیوں اس میں الکحل(شراب) ہوتی ہے۔اس کے استعمال سے مَندِر کی پَوِترتَا(پاکی) خراب ہوتی ہے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ جب ہم شراب پی کر مندر میں نہیں جاتے تو ہاتھوں کو سینی ٹائز کرکے کیسے داخل ہو سکتے ہیں؟
پجاریوں کے ایک وفد نے صوبے کے وزیر داخلہ "نَروتّم مِشرا" سے بات کرکے انہیں ایک میمورنڈم بھی دیا ہے کہ مندروں کے باہر پانی کی ٹنکی اور صابن کا انتظام کرائیں ہم سینی ٹائزر استعمال نہیں کریں گے۔"
ہندو عبادت گاہوں میں نماز کی طرح اتصال صفوف اور چہرہ کھلا رکھنے کا concept نہیں ہے اس لیے انہوں نے ماسک اور social distance پر کوئی آواز نہیں اٹھائی ورنہ سینی ٹائزر کی طرح ان کی بھی کھلی مخالفت کرتے۔ لیکن ہمارے یہاں شراب کی سخت حرمت کے باوجود سینی ٹائزر کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ "الضرورات تبیح المحظورات" جیسے ضابطوں کا استعمال کرکے اسے جائز قرار دیا گیا. حالانکہ اس معاملے پر تو دیگر مذہبی رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہوسکتی تھی !!!
سینی ٹائزر کے جواز کی دلیلوں کے ساتھ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ عالمی ادارہ صحت (who) کے مطابق دستانے (Gloves) پہننے کے مقابلے ہاتھوں کو دھونے سے وائرس ختم ہوجانے کے امکانات زیادہ قوی ہوتے ہیں۔یعنی باوضو انسان کے ہاتھ پیر اور چہرہ وائرس کے اثر سے دوسروں کی بنسبت زیادہ محفوظ ہوتا ہے. پھر بھی محض پانچ چھ منٹ کی جماعت کے لیے ان پر سینی ٹائزر اور چھ فٹ کی دوری کی لازمیت کس لیے؟
ٹرین، ہوائی جہاز، مارکیٹ کہیں بھی چھ فٹ کا فاصلہ اور بار بار سینی ٹائز لازم نہیں ہے پھر عبادت گاہوں پر سختی کیوں؟
فتاوے جاری کرنے سے پہلے یہ سوالات حکومت سے ضرور کیے جانے چاہیے تھے.
کاش مفتیان کرام اور دینی قائدین پجاریوں کی طرح ایک وفد لے کر ارباب حکومت سے ملتے اور مذہبی روایات کے پیش نظر اپنا مطالبہ رکھتے تو شاید حالات اتنے سخت نہ ہوتے جتنے ہوگئے ہیں۔
یاد رہے, ہمیشہ ہاں میں ہاں ملانے سے بھی وقار جاتا رہتا ہے عزت کے لئے کبھی کبھی نہ کہنے کا مزاج بھی ہونا چاہیے۔

14 شوال المکرم 1441ھ
7 جون 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*’’آبروئے خاندانِ برکات‘‘*
حضور نظمی میاں مارہروی کے خطاب کے تحریری مرقع کا تجزیہ

غلام مصطفیٰ رضوی٭

پیشِ تجزیہ کتاب’’آبروئے خاندانِ برکات‘‘ مشاہداتی بزم ہے- جو حضرت سید آلِ رسول حسنین میاں نظمی مارہروی علیہ الرحمۃ کا خطاب ہے۔ محمد زبیر قادری نے تحریری صورت میں مرتب کیا۔ الحاج محمد سعید نوری کی فرمائش پر رضا اکیڈمی ممبئی نے ۲۰۰۹ء میں اشاعت کی۔ کُل صفحات۱٦؍ ہیں۔ مطالعہ کی میز پر آویزاں کرنے کے لائق ہے۔ سطر سطر سے مارہرہ شریف کی مشک بار فضا مشاہدہ ہوتی ہے۔ پس منظر کچھ یوں ہے… رمضان المبارک ۱٤۲۹ھ کے پاکیزہ ایام تھے۔ حضرت نظمی میاں مارہروی ارضِ طیبہ کی پاکیزہ فضاؤں میں تھے۔ سبز گنبد کا نور نگاہوں کو تقویت پہنچا رہا تھا۔

آخری عشرہ کی ایک شب قیام گاہ(ہوٹل) میں بصد شوق بزم سجائی گئی۔ ممبئی کے احباب کا اصرار۔ نظمی میاں کی ذات بابرکت۔ رنگ جَم گیا۔ ذکر چل پڑا عاشقِ رسول؛حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا۔ سبحان اللہ! حضور مفتی اعظم آبروئے خاندانِ برکات ہیں؛ جن کا تذکرہ جب آتا ہے تو مارہرہ شریف کی برکتوں کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ آج بھی مارہرہ شریف کی ہر محفل، ہر بزم، ہر مجلس چشم و چراغِ خاندانِ برکاتیہ اعلیٰ حضرت کے تذکروں سے گونج رہی ہے۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم کا جب ذکر آتا ہے تو شہزادگانِ صاحب البرکات والہانہ کیف میں ڈوب جاتے ہیں۔حضور امینِ ملت کی مبارک زبان سے ہم نے بکثرت ذکرِ رضاؔ و حضور مفتی اعظم سُنا۔ رفیقِ ملت بھی ہر گفتگو میں والہانہ انداز میں رضاؔ و نوریؔ کی یادوں کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ اپنے مُرشد کا ذکرِ جمیل اُلفتوں کے سائے میں کرتے ہیں-

ذکر چل رہا تھا نظمی میاں کی اُس محفل کا جو مکینِ گنبدِ خضریٰ ﷺ کی ارضِ معنبر میں سجی ہوئی تھی۔ ذکر تھا حضور مفتی اعظم کا۔ سبحان اللہ! مارہرہ مطہرہ سے اَٹوٹ رشتوں کا بیاں ہوا۔ کیسا آپ خود لُطف اندوز ہوں۔ معلومات میں اضافہ کریں۔ ایمان تازہ کریں۔ کھو جائیں۔ یادوں کے نقوش تازہ کریں۔ مارہرہ شریف کی خوشبوؤں سے دل و دماغ معطر کریں۔ پھر دربارِ مفتی اعظم میں حاضر ہو جائیں۔ سُنیے سُنیے نظمی میاں بیان کر رہے ہیں کہ:

’’میرے خاندان کے بہت چہیتے شہزادے تھے(مفتی اعظم)،اور میرے خاندان کے چشم و چراغ و چراغِ خاندانِ برکات کے بیٹے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے بیٹے تھے۔‘‘ (ص۸،۹)

اپنی رسمِ سجادگی کے ذکر میں فرماتے ہیں:

’’ابا(سیدالعلماء) نے اپنے وصیت نامے میں لکھا تھا کہ میرے چہلم کے دن حسنین اپنا عمامہ، سجادگی کا عمامہ وہ اپنے چچا حسن میاں(احسن العلماء) سے پہنیں، حسن میاں سے بندھوائیں۔ تو اسی وصیت کے مطابق چچا میاں نے جو ہے عمامے کا ایک گھیرا باندھا، اور اس کے بعد حضور مفتی اعظم ہند کے حوالے کر دیا۔ کیوں کہ یہ ان ہی کا منصب تھا، سرکار مفتی اعظم کا منصب تھا……سب سے پہلی نذر بڑے بڑے جو پہلے دس روپے کے نوٹ آتے تھے، وہ پانچ نوٹ مفتی اعظم قبلہ نے ایک لفافے میں دیے۔ الحمدللہ! وہ خزانہ آج بھی میرے پاس ہے۔ وہ خزانہ ہے اور میں اپنے آپ کو پتہ نہیں کتنا غنی سمجھتا ہوں، اُس لفافے کے بل بوتے پر۔ وہ مجھے نذر پیش کی۔میری اَمی نے اُس لفافے پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ’’حضور مفتی اعظم کی نذرِ سجادگی‘‘، وہ میرے پاس اب بھی محفوظ ہے۔میں اُس میں سے کبھی نکال لیتا ہوں؛ جب پیسوں کی کمی ہوتی ہے تو نکال کر پھر سے چوم کر رکھ دیتا ہوں۔تو پھر سے پیسہ بھر جاتا ہے۔ یہ میرے مفتی اعظم ہند کی کرامت ہے۔‘‘(ص۹،۱۰)

حضور مفتی اعظم سے متعلق نظمی میاں کے تاثرات کی جھلک دیکھیں:’’اللہ کے ولی (مفتی اعظم) اپنی روح کی نظروں سے دیکھا کرتے ہیں۔ ان کی روحانی نظریں بہت تیز ہوا کرتی ہیں…‘‘

بریلی شریف جب تشریف لے گئے تو فرمایا کہ :’’اِس وقت میری منزل مفتی اعظم ہیں…‘‘

محبتوں کا ذکر فرماتے ہیں:’’ میں نے ہاتھ بڑھا کے سرکار مفتی اعظم کی دست بوسی کی۔ اُس کے بعد حضور مفتی اعظم نے میرے ہاتھ چومے…‘‘

بارگاہِ مفتی اعظم سے واپسی کے ضمن میں فرماتے ہیں:’’کیا کیا لایا میں وہاں سے یہ تو میں جانتا ہوں یا میرا اللہ جانتا ہے…‘‘

روحانیت اور خاندانی تعلقات کی بہاروں سے متعلق گویا ہیں: ’’ان کی روحانیت کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ اور ان شاء اللہ جاری و ساری رہے گا…وہ ایسی شخصیت ہیں،جتنے پاور فل وہ مزار شریف کے اوپر تھے، اس سے کہیں زیادہ پاور فل وہ مزار شریف کے اندر ہیں…یہ ہمارا ایمان ہے، ہمارا عقیدہ ہے…الحمدللہ رب العالمین، وہ میرے خاندان کی آبرو ہیں، آبرو... وہ بپوتی ہیں ہماری…خانقاہِ برکاتیہ کی آبرو ہیں وہ مفتی اعظم ہند قبلہ…آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ضرورت کیا ہے؟ ارے مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ضرورت ہم کو ہر قدم پر ہے…اگر مسلکِ اعلیٰ حضرت نہ ہو تو ہماری زندگی بیکار ہے…اگر اعلیٰ حضرت کا خاندان نہ ہوتا تو آج ہماری دُنیا میں پتہ نہیں کیا ہوتا۔‘‘(ص۱۳)

’’مسلمان کو مسلمان رکھنا یہ اعلیٰ حضرت کا کارنام
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ہ ہے سب سے بڑا۔اور یہی اس خاندان کا کارنامہ ہے۔ سرکار مفتی اعظم کا کارنامہ ہے۔جن کی صورت دیکھ کر نہ جانے کتنے مسلمان ہو گئے۔ ایسا نورانی چہرہ۔‘‘(ص۱۳)

سبحان اللہ! نظمی میاں کیا خوب فرما گئے کہ: ’’ہاں! ہم نے غوث اعظم کو دیکھا ہے۔ ہم نے تو مصطفیٰ رضا خاں کو دیکھا ہے تو غوث اعظم کو دیکھا ہے۔ہم نے دیکھا ہے غوث اعظم کو۔بے شک دیکھا ہے۔‘‘ (ص۱۴)

پوری تقریر قیمتی موتیوں کی مالا ہے۔ہر نگینہ چمک رہا ہے۔ مارہرہ شریف کے سائے میں بریلی شریف کا گُلِ ہزارہ مہک رہا ہے۔ خوشبو بکھیر رہا ہے۔ حضور نظمی میاں نے کئی جہتوں سے مشاہدات کی محفل سجائی ہے۔ آپ بھی تقریر کے تحریری گلدستہ کی خوشبو سونگھیں۔ کتنے ہی گلوں کی کیاریاں سجی ملیں گی۔اِس قدر اہم خطاب کو برقی سطح سے قرطاس کی بزم میں لاکر طباعت کا زیور پہنانے والے الحاج محمد سعید نوری اور زبیر قادری دونوں لائق مبارک و تہنیت ہیں…

اللہ تعالیٰ ہمیں مارہرہ مطہرہ و بریلی شریف کی راہِ محبت کا مسافر بنائے…اور مَن کی دُنیا روشن رہے۔
٭٭٭
پی ڈی ایف فائل کیلئے احقر سے واٹس ایپ رابطہ کریں
+919325028586

٭نوری مشن مالیگاؤں
٨؍جون ۲۰۲۰ء
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
آبروئے خاندان برکات.pdf
1.5 MB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
حضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اورآپ کی زوجہ کی قبروں سے آپ کے اجسامِ مطہرہ کونکال کران کی بے حرمتی کرنے والے شیعہ ملعونین پراللّٰہ کریم کی کروڑوں لعنتیں ہوں.خذلھم اللّٰہ تعالٰی.


https://www.aa.com.tr/en/middle-east/syria-terrorist-groups-exhume-muslim-caliph-shrine/1854970

لنک 2:
https://www.dailysabah.com/world/syrian-crisis/iran-backed-terrorist-groups-exhume-shrine-of-muslim-caliph-omar-bin-abdulaziz-in-syrias-idlib

لنک 3:
https://www.muslimworldjournal.com/shia-groups-exhume-body-of-umar-bin-abdulaziz/

لنک 4:
https://www.middleeastmonitor.com/20200528-tomb-of-umayyad-caliph-exhumed-by-militias-in-syria/

لنک 5 (پاکستان ڈیفینس نیوز):
https://defence.pk/pdf/threads/iran-backed-groups-exhume-shrine-of-muslim-caliph-omar-bin-abdulaziz-in-syrias-idlib.668406/page-3

لنک 6:
https://www.eg24.news/2020/01/in-pictures-loyalists-to-the-syrian-regime-burn-the-tomb-of-caliph-omar-bin-abdul-aziz.html

لنک 7:
https://turkishpress.com/syria-terrorist-groups-exhume-muslim-caliph-shrine/

لنک 8:
Source link
http://mubasher.aljazeera.net/news/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D9%85%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%88%D8%B1%D9%8A-%D9%8A%D8%AD%D8%B1%D9%82%D9%88%D9%86-%D8%B6%D8%B1%D9%8A%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%84%D9%8A%D9%81%D8%A9-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%D9%8A%D8%B2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان صلاح الدین ایوبی ہنستے نہیں تھے ، وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے:
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وہ مسجدِ اقصیٰ جہاں میرے نبی ﷺ نے نمازپڑھی تھی ، کافروں کے قبضے میں ہے ؛ بتاؤ میں کیسے ہنس سکتا ہوں !!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*تبلیغی جماعت دیوبند کا اصلی چہرہ بےنقاب*

*طارق جمیل دیوبندی*
میں دیوبندیت کو پھیلانے کیلئے خاموشی سے خفیہ انداز پر کام کر رہا ہوں کتنے سنی بریلوی وہابی دیوبندی بنا دئیے
*طارق جمیل دیوبندی سانپ کی کال لیک 📞*

👈 کہاں ہیں وہ نام نہاد جو کہتے تھے کہ طارق جمیل فرقہ واریت کی بات نہیں کرتا

*طارق جمیل دیوبندی اپنی تقریروں میں کہتا ھے* غور کریں اس جملے پر 👇🏿
👈 امت بن کر رہو فرقے مت بنو لیکن میں دیوبندی ہوں
*مسلمانوں اب سمجھ آئی کچھ حقیقت مسلمانوں کو مشرک کہنے والے خارجی نجدی وہابی دیوبندی منافق فرقوں کے ٹولے کی*
دیوبند فرقے کو میں نے خاموشی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلایا ہے۔۔۔
طارق جمیل کی کال لیک ہوگئی ۔
آپ بھی سماعت فرمائیے۔

https://www.facebook.com/191298827702128/posts/1586683498163647/?sfnsn=scwspwa&extid=f4IhJDLJ6gdTZv2X&d=w&vh=e
.
امت بنو والا ڈرامہ کہاں چلا گیا ؟
اب آپ کیا کہتے ہیں ؟؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتنۂ دیوبندیت و وہابیت پر بے مثال تحقیق ـ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے احباب کے لئے 610 موضوعات پر 4000 سے زائد دیوبندی وہابی کتب کے سکین حوالہ جات ـ رد پر فوٹوز ـ Zip File زِپ فائِل میں ـ @islaamic_Knowledge