Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمر بن عبد العزیزکا دور خلافت
تحریر: احمد ذیشان رائٹرز کلب
.
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ لسانی عصبیت، نسلی تفاخر اور موروثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پاش پاش کر دیے تھے دوبارہ تعمیر ہو چکے تھے۔ بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔ ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست جسے سید الانبیاﷺ نے قائم فرمایا تھا۔ جس میں ہر مسلم غیر مسلم کے جان مال اور عزت محفوظ تھی مگراب اموی شاہوں کہ رحم کرم پر تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ زمانہ جاہلیت پھر سے لوٹ رہا ہے۔ جسے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ شجر اسلام جسے خلفائے راشدین نے بے شمار قربانیوں سے سینچا تھا۔ جس میں برتری کی بنیاد تقوی پر تھی اس کی جڑیں اکھڑ رہی تھیں۔ خلافت کی جگہ ملوکیت لے چکی تھی۔ خدا کے نام لیواؤں کے گر د زمین تنگ کی جارہی تھی۔ انسانیت خلافت راشدہ کے خاتمے کا سوگ منارہی تھی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آتے ہی سب سے پہلے اپنی ساری جائداد سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ انسانیت کو خلافت راشدہ کی یاد دلا دی۔ ظالم عمال کو معزول کر کے نیک پارسا اور متقی حضرات کو عہدوں پہ بٹھایا۔ اسلام کی پھر سے وہی شان و شوکت اور جاہ و جلال بحال ہو گی۔ بیت المال کو خلیفہ کی ملکیت سے نکال کر عوامی ملکیت میں دے دیا۔ موروثیت کے بجائے قابلیت اور خدا خوفی کو ترجیح دی جانے لگی۔ پوری ریاست میں امن کا بول بالا ہو نے لگا۔ آپ نے زکوۃ کا نظام قائم کیا اور ظالمانہ ٹیکسوں سے عوام کی جان چھڑائی۔ قبل اس سے ہر نو مسلم سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ مگر آپ نے اسے غیر اسلامی فعل قرار دے کر منسوخ کر دیا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنادیا۔ ملک سے غربت کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ سارا دن زکوۃ لے کے پھرنے کے باوجود کو ئی زکوۃ لینے والا نظر نہیں آتا تھا۔
اپنے دربار کو جسے اموی شاہوں نے قیصر وکسری کی طرز پر ڈھال دیا تھا۔ اسے واپس خلفائے راشدین کی طرز پہ لاکھڑا کیا۔ جہاں ہر ناکس وناتواں کی رسائی ممکن تھی۔ اموی حکومت جو کے فوجی طاقت پر مستحکم تھی۔ اس کی بنیادیں ہلانا اتنا آسان تو نہ تھا۔ کوئی داخلی یا خارجی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی تھی۔ ماضی میں بھی اس سے ٹکرانے کی دو کوششیں ہوچکی تھیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے دلیرانہ اقدام اٹھا چکے تھے۔ مگر اموی حکومت کی ظالمانہ اقدام سے ٹکر لینا ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف تھا۔ انہی اصلاحات کی بدولت کفر جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگا اور جزیہ کم وصول ہو نے لگا تو خزانچی نے اس بات کا ذکر آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ سارا کفر اسلام میں داخل ہو جائے تو تم کھیتی باڑی کرو۔
غریب عوام کی زمینیں جائیدادیں جو کہ شاہی خاندان نے اپنی ملکیت شامل کر لی تھیں۔ انہیں واگزار کرا کے غریبوں کو واپس کروائیں اور غلام اور لونڈیاں آزاد کروا کے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا۔ افسران اور وزراء کو تحائف لینے پہ پابندی عائد کر دی۔ پوری ریاست میں یکساں طور پر قانون کا نفاذ کیا۔ جس امیر غریب کو یکساں طور بے لاگ انصاف ملنے لگا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون اپنی موت آپ مرچکا تھا۔ خلیفہ اور دیگر عمال کی ایک مزدور کے مساوی تنخواہیں مقرر کیں۔
آج میرے دیس کے حالات بھی اموی شہنشاہیت سے مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی سیاستی، مذہبی اور لسانی دہشت گردی عروج پہ ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا کے ڈکار مار جاتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسلام پسندوں کے گر د ہر طرح کی ریاستی پابندیوں کا نفاذ ہے۔ اسلام کے نام پہ بننے والی ریاست پاکستان میں اسلام کانام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ انصاف کے لیے عدالتوں کا چکر کاٹ کاٹ کر تین نسلیں اپنی عمر گزار دیتی ہیں۔ غریب آدمی کل جمع پونجی لٹا کر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ یہاں بھی انسانیت بلک بلک کر کسی عمر بن عبدالعزیز کو پکار رہی ہے۔ جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/3309
تحریر: احمد ذیشان رائٹرز کلب
.
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ لسانی عصبیت، نسلی تفاخر اور موروثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پاش پاش کر دیے تھے دوبارہ تعمیر ہو چکے تھے۔ بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔ ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست جسے سید الانبیاﷺ نے قائم فرمایا تھا۔ جس میں ہر مسلم غیر مسلم کے جان مال اور عزت محفوظ تھی مگراب اموی شاہوں کہ رحم کرم پر تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ زمانہ جاہلیت پھر سے لوٹ رہا ہے۔ جسے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ شجر اسلام جسے خلفائے راشدین نے بے شمار قربانیوں سے سینچا تھا۔ جس میں برتری کی بنیاد تقوی پر تھی اس کی جڑیں اکھڑ رہی تھیں۔ خلافت کی جگہ ملوکیت لے چکی تھی۔ خدا کے نام لیواؤں کے گر د زمین تنگ کی جارہی تھی۔ انسانیت خلافت راشدہ کے خاتمے کا سوگ منارہی تھی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آتے ہی سب سے پہلے اپنی ساری جائداد سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ انسانیت کو خلافت راشدہ کی یاد دلا دی۔ ظالم عمال کو معزول کر کے نیک پارسا اور متقی حضرات کو عہدوں پہ بٹھایا۔ اسلام کی پھر سے وہی شان و شوکت اور جاہ و جلال بحال ہو گی۔ بیت المال کو خلیفہ کی ملکیت سے نکال کر عوامی ملکیت میں دے دیا۔ موروثیت کے بجائے قابلیت اور خدا خوفی کو ترجیح دی جانے لگی۔ پوری ریاست میں امن کا بول بالا ہو نے لگا۔ آپ نے زکوۃ کا نظام قائم کیا اور ظالمانہ ٹیکسوں سے عوام کی جان چھڑائی۔ قبل اس سے ہر نو مسلم سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ مگر آپ نے اسے غیر اسلامی فعل قرار دے کر منسوخ کر دیا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنادیا۔ ملک سے غربت کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ سارا دن زکوۃ لے کے پھرنے کے باوجود کو ئی زکوۃ لینے والا نظر نہیں آتا تھا۔
اپنے دربار کو جسے اموی شاہوں نے قیصر وکسری کی طرز پر ڈھال دیا تھا۔ اسے واپس خلفائے راشدین کی طرز پہ لاکھڑا کیا۔ جہاں ہر ناکس وناتواں کی رسائی ممکن تھی۔ اموی حکومت جو کے فوجی طاقت پر مستحکم تھی۔ اس کی بنیادیں ہلانا اتنا آسان تو نہ تھا۔ کوئی داخلی یا خارجی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی تھی۔ ماضی میں بھی اس سے ٹکرانے کی دو کوششیں ہوچکی تھیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے دلیرانہ اقدام اٹھا چکے تھے۔ مگر اموی حکومت کی ظالمانہ اقدام سے ٹکر لینا ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف تھا۔ انہی اصلاحات کی بدولت کفر جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگا اور جزیہ کم وصول ہو نے لگا تو خزانچی نے اس بات کا ذکر آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ سارا کفر اسلام میں داخل ہو جائے تو تم کھیتی باڑی کرو۔
غریب عوام کی زمینیں جائیدادیں جو کہ شاہی خاندان نے اپنی ملکیت شامل کر لی تھیں۔ انہیں واگزار کرا کے غریبوں کو واپس کروائیں اور غلام اور لونڈیاں آزاد کروا کے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا۔ افسران اور وزراء کو تحائف لینے پہ پابندی عائد کر دی۔ پوری ریاست میں یکساں طور پر قانون کا نفاذ کیا۔ جس امیر غریب کو یکساں طور بے لاگ انصاف ملنے لگا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون اپنی موت آپ مرچکا تھا۔ خلیفہ اور دیگر عمال کی ایک مزدور کے مساوی تنخواہیں مقرر کیں۔
آج میرے دیس کے حالات بھی اموی شہنشاہیت سے مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی سیاستی، مذہبی اور لسانی دہشت گردی عروج پہ ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا کے ڈکار مار جاتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسلام پسندوں کے گر د ہر طرح کی ریاستی پابندیوں کا نفاذ ہے۔ اسلام کے نام پہ بننے والی ریاست پاکستان میں اسلام کانام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ انصاف کے لیے عدالتوں کا چکر کاٹ کاٹ کر تین نسلیں اپنی عمر گزار دیتی ہیں۔ غریب آدمی کل جمع پونجی لٹا کر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ یہاں بھی انسانیت بلک بلک کر کسی عمر بن عبدالعزیز کو پکار رہی ہے۔ جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/3309
Telegram
✍ اُردُو ہندی تحریر 📄
حضرت عمر بن عبد العزیزکا دور خلافت
تحریر: احمد ذیشان رائٹرز کلب
.
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ لسانی عصبیت، نسلی تفاخر اور موروثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاء صلی…
تحریر: احمد ذیشان رائٹرز کلب
.
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ لسانی عصبیت، نسلی تفاخر اور موروثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاء صلی…
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے نظام مصطفیﷺ کو عملی شکل میں نافذ کیا:
پیراعجاز اشرفی
May 30, 2020
مرکز اہلسنت درگاہ و جامع قطب شاہ میں صاحبزادہ پیر اعجاز اشرفی نے اجتماع سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا خلیفہ ثانی عمر بن عبد العزیز نے عدل و انصاف کو عام کیا۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے دور میں 8 ضلعوں سے زکوۃ اس لئے واپس آگئی کہ کوئی لینے والا نہیں تھا۔عمر بن عبدالعزیز نے نفاذ نظام مصطفیﷺ کا عمل اپنے گھر بیوی بچوں اپنی جائداد بیت المال میں جمع کروانے سے شروع کیا۔ جو پوری سلطنت میں پھیل گیا اور عام لوگ خوشحال ہو گئے۔ثانی عمر بن عبدالعزیز کی اسلامی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔جو قومیں اپنے ہیروز کو یاد نہیں رکھتی وہ پستی کی جانب دھکیلی جاتی ہیں۔ پیر اعجازاشرفی نے انتہائی افسوس سے کہا شام کے شہر ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور انکی اہلیہ کے مزار شریف کی بے حرمتی کر کے شہید کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/3310
پیراعجاز اشرفی
May 30, 2020
مرکز اہلسنت درگاہ و جامع قطب شاہ میں صاحبزادہ پیر اعجاز اشرفی نے اجتماع سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا خلیفہ ثانی عمر بن عبد العزیز نے عدل و انصاف کو عام کیا۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے دور میں 8 ضلعوں سے زکوۃ اس لئے واپس آگئی کہ کوئی لینے والا نہیں تھا۔عمر بن عبدالعزیز نے نفاذ نظام مصطفیﷺ کا عمل اپنے گھر بیوی بچوں اپنی جائداد بیت المال میں جمع کروانے سے شروع کیا۔ جو پوری سلطنت میں پھیل گیا اور عام لوگ خوشحال ہو گئے۔ثانی عمر بن عبدالعزیز کی اسلامی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔جو قومیں اپنے ہیروز کو یاد نہیں رکھتی وہ پستی کی جانب دھکیلی جاتی ہیں۔ پیر اعجازاشرفی نے انتہائی افسوس سے کہا شام کے شہر ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور انکی اہلیہ کے مزار شریف کی بے حرمتی کر کے شہید کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/3310
Telegram
✍ اُردُو ہندی تحریر 📄
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے نظام مصطفیﷺ کو عملی شکل میں نافذ کیا:
پیراعجاز اشرفی
May 30, 2020
مرکز اہلسنت درگاہ و جامع قطب شاہ میں صاحبزادہ پیر اعجاز اشرفی نے اجتماع سے خطاب میں فرمایا۔انہوں نے کہا خلیفہ ثانی عمر بن عبد العزیز نے عدل و انصاف کو عام کیا۔خلیفہ…
پیراعجاز اشرفی
May 30, 2020
مرکز اہلسنت درگاہ و جامع قطب شاہ میں صاحبزادہ پیر اعجاز اشرفی نے اجتماع سے خطاب میں فرمایا۔انہوں نے کہا خلیفہ ثانی عمر بن عبد العزیز نے عدل و انصاف کو عام کیا۔خلیفہ…
6231.pdf
17.9 MB
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیه رحمة اللہ العزیز کی 425 حکایات
Hazrat Umar Bin Abdul Aziz Ki 425 Hikayaat in Urdu
Hazrat Umar Bin Abdul Aziz Ki 425 Hikayaat in Urdu
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=691534121417109&id=388280455075812
*عقائد کی مضبوطی کیسے ہو؟*
از *محمد زبیر قادری*
روشن مستقبل دہلی
..ایک بار میں جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک دیوبندی کتب فروش کے مکتبہ پر کچھ کتب لینے وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں چند نوجوان لڑکے آئے اور تقویت الایمان، حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعہ وغیرہ قابلِ اعتراض کتب طلب کرنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ خیر کتب تو نہ ملی۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ مہاراشٹر کے کسی علاقے سے آئے تھے اور بدمذہبوں کے رد کے لیے حوالے کے لیے یہ کتب طلب کر رہے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہمارے اسٹیج کے مقررین علما نے عوام کو مناظروں میں اُلجھا رکھا ہے جبکہ عوام بنیادی عقائد سے ہی ناواقف ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی تقریروں میں چیخ چیخ کر یہ بتانا کہ تھانوی نے یہ لکھا، گنگوہی نے یہ لکھا، قاسمی نے یہ لکھا؟۔۔ لیکن ان مقررین حضرات کو یہ نہیں پتہ کہ دیوبندیوں نے اپنی اکثر کتب میں تحریفات کردی ہیں، جس وجہ سے ان کی گستاخیاں نرم پڑ گئیں۔.. اہم بات یہ کہ ہمارے یہ نوجوان جب یہ کتب ان کو دکھاتے ہیں تو دیوبندی کہتے ہیں کہ یہ کتابیں تم لوگ چھاپ کر ہم کو بدنام کرتے ہو۔ یہ دیکھو ہماری کتابیں...
جس میں وہ عبارتیں نہیں ہوتیں۔ تو نوجوان ناکام ہوجاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے یہ نوجوان جو ہمیشہ دیوبندیوں سے مناظرہ کرکے فتح کا جشن منانا چاہتے ہیں، ان کی دینی معلومات نہایت کمزور ہوتی ہیں۔ عقائد اہلِ سنّت کا علم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ غسل، وضو، نماز جیسی بنیادی چیزوں کے فرائض کا علم بھی کم ہی نوجوانوں کو ہوتا ہے، جس پر عبادتوں کا انحصار ہے۔
افسوس ان مقرروں پر جو ردِ وہابیہ پر ہمیشہ ایسی بے سروپا و غیر مستند تقریریں کرتے ہیں کہ کوئی دیوبندی سوال کردے تو جواب نہ بن پڑے۔ مگر ان کی تقاریر سن کر نوجوان طبقہ جوش میں ہوش کھودیتا ہے۔ کیا ایسی تقریروں سے نوجوان نسل کا ایمان محفوظ ہوسکتا ہے؟
جب کہ ضرورت ہے عقائد اہلِ سنّت کی تعلیم کی۔ اللہ و رسول کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ کفر، شرک اور بدعت کیا ہے، اور عبادات کے لیے ضروری علم سے واقفیت ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان بہکتے ہیں بنیادی عقائد میں کمزوری کی وجہ سے۔ عقائد مضبوط کردیجیے، پھر ان شاء اللہ نوجوان باطل فرقوں کی گمراہ کن تعلیمات سے بہکیں گے نہیں۔
اصل کام عقیدے اور ایمان کا تحفظ ہے، جسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی آج سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔
*عقائد کی مضبوطی کیسے ہو؟*
از *محمد زبیر قادری*
روشن مستقبل دہلی
..ایک بار میں جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک دیوبندی کتب فروش کے مکتبہ پر کچھ کتب لینے وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں چند نوجوان لڑکے آئے اور تقویت الایمان، حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعہ وغیرہ قابلِ اعتراض کتب طلب کرنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ خیر کتب تو نہ ملی۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ مہاراشٹر کے کسی علاقے سے آئے تھے اور بدمذہبوں کے رد کے لیے حوالے کے لیے یہ کتب طلب کر رہے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہمارے اسٹیج کے مقررین علما نے عوام کو مناظروں میں اُلجھا رکھا ہے جبکہ عوام بنیادی عقائد سے ہی ناواقف ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی تقریروں میں چیخ چیخ کر یہ بتانا کہ تھانوی نے یہ لکھا، گنگوہی نے یہ لکھا، قاسمی نے یہ لکھا؟۔۔ لیکن ان مقررین حضرات کو یہ نہیں پتہ کہ دیوبندیوں نے اپنی اکثر کتب میں تحریفات کردی ہیں، جس وجہ سے ان کی گستاخیاں نرم پڑ گئیں۔.. اہم بات یہ کہ ہمارے یہ نوجوان جب یہ کتب ان کو دکھاتے ہیں تو دیوبندی کہتے ہیں کہ یہ کتابیں تم لوگ چھاپ کر ہم کو بدنام کرتے ہو۔ یہ دیکھو ہماری کتابیں...
جس میں وہ عبارتیں نہیں ہوتیں۔ تو نوجوان ناکام ہوجاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے یہ نوجوان جو ہمیشہ دیوبندیوں سے مناظرہ کرکے فتح کا جشن منانا چاہتے ہیں، ان کی دینی معلومات نہایت کمزور ہوتی ہیں۔ عقائد اہلِ سنّت کا علم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ غسل، وضو، نماز جیسی بنیادی چیزوں کے فرائض کا علم بھی کم ہی نوجوانوں کو ہوتا ہے، جس پر عبادتوں کا انحصار ہے۔
افسوس ان مقرروں پر جو ردِ وہابیہ پر ہمیشہ ایسی بے سروپا و غیر مستند تقریریں کرتے ہیں کہ کوئی دیوبندی سوال کردے تو جواب نہ بن پڑے۔ مگر ان کی تقاریر سن کر نوجوان طبقہ جوش میں ہوش کھودیتا ہے۔ کیا ایسی تقریروں سے نوجوان نسل کا ایمان محفوظ ہوسکتا ہے؟
جب کہ ضرورت ہے عقائد اہلِ سنّت کی تعلیم کی۔ اللہ و رسول کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ کفر، شرک اور بدعت کیا ہے، اور عبادات کے لیے ضروری علم سے واقفیت ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان بہکتے ہیں بنیادی عقائد میں کمزوری کی وجہ سے۔ عقائد مضبوط کردیجیے، پھر ان شاء اللہ نوجوان باطل فرقوں کی گمراہ کن تعلیمات سے بہکیں گے نہیں۔
اصل کام عقیدے اور ایمان کا تحفظ ہے، جسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی آج سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صحيح مسلم - 996
كُنَّا جُلُوسًا مع عبدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو، إذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ له فَدَخَلَ، فَقالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قالَ: لَا، قالَ: فَانْطَلِقْ فأعْطِهِمْ، قالَ: قالَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ: كَفَى بالمَرْءِ إثْمًا أَنْ يَحْبِسَ، عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ.
◼ الراوي: عبدالله بن عمرو
◼ المحدث: مسلم
◼ المصدر: صحيح مسلم - 996
◼ خلاصة حكم المحدث: صحيح
ابحث عن حديث • آية
شرح الحديث :
في هذا الحَديثِ يَقولُ خَيثمةُ بنُ عبدِ الرَّحمنِ وهوَ أحدُ التَّابعينَ: كنَّا جُلوسًا مَع عبدِ اللهِ بنِ عمرٍو رضِي اللهُ عنهما، إِذ جاءَه قَهرَمانٌ له، وهوَ القائمُ بأُمورِه الحافظُ لِمَا تَحت يَدِه، فدَخلَ القَهرَمانُ، فَقال لَه عبدُ اللهِ بنُ عَمرٍو: أَعطيتَ الرَّقيقَ قُوتَهم؟ فَقال: لا، فَقالَ عبدُ اللهِ بنُ عَمرٍو: فَانطلِقْ فأَعطِهم، ثُمَّ بيَّن لَه السَّببَ وهوَ زَجرُه صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم، فقالَ: قالَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم: (كفَى بالمَرءِ إثمًا أنْ يَحبِسَ، عمَّن يَملِكُ، قُوتَه)، يَعني مَن تَلزمُه نَفقتُه مِن أَهلِه وعِيالِه وعَبيدِه .
كُنَّا جُلُوسًا مع عبدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو، إذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ له فَدَخَلَ، فَقالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قالَ: لَا، قالَ: فَانْطَلِقْ فأعْطِهِمْ، قالَ: قالَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ: كَفَى بالمَرْءِ إثْمًا أَنْ يَحْبِسَ، عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ.
◼ الراوي: عبدالله بن عمرو
◼ المحدث: مسلم
◼ المصدر: صحيح مسلم - 996
◼ خلاصة حكم المحدث: صحيح
ابحث عن حديث • آية
شرح الحديث :
في هذا الحَديثِ يَقولُ خَيثمةُ بنُ عبدِ الرَّحمنِ وهوَ أحدُ التَّابعينَ: كنَّا جُلوسًا مَع عبدِ اللهِ بنِ عمرٍو رضِي اللهُ عنهما، إِذ جاءَه قَهرَمانٌ له، وهوَ القائمُ بأُمورِه الحافظُ لِمَا تَحت يَدِه، فدَخلَ القَهرَمانُ، فَقال لَه عبدُ اللهِ بنُ عَمرٍو: أَعطيتَ الرَّقيقَ قُوتَهم؟ فَقال: لا، فَقالَ عبدُ اللهِ بنُ عَمرٍو: فَانطلِقْ فأَعطِهم، ثُمَّ بيَّن لَه السَّببَ وهوَ زَجرُه صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم، فقالَ: قالَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم: (كفَى بالمَرءِ إثمًا أنْ يَحبِسَ، عمَّن يَملِكُ، قُوتَه)، يَعني مَن تَلزمُه نَفقتُه مِن أَهلِه وعِيالِه وعَبيدِه .
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
کرونا_وائرس_اورجمعہ_کا_اذن_عام_فتوی.pdf
کرونا وائرس کے سبب
منھ پر ماسک لگاکر اور صف میں
فرجہ چھوڑ کــر نماز ادا کــرنا اور
مسجد میں سینیٹائزر کا استعمال
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
منھ پر ماسک لگاکر اور صف میں
فرجہ چھوڑ کــر نماز ادا کــرنا اور
مسجد میں سینیٹائزر کا استعمال
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
✍ #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
📇 نوری دارالافتاء مدینہ مسجد
محلہ علی خان کاشی پور اتراکهنڈ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا تھا:
" مجھے امام مالک رحمہ اللہ سے محبت ہے ، لیکن ......... آپ سے بڑھ کر حق سے محبت ہے ۔ "
( کجدار و مریز ، ص 14 ، ط سرمد اکادمی اٹک ، س 2007 ء )
اللہ کرے ، آج کے مُریدینِ باصفا بھی اِس بات کو دل میں جگہ دے دیں ۔
پیرانِ عظام کا وُجُودِ مَسعود یقیناً باعثِ برکت ہے ، لیکن وہ " حق " نہیں ہوتے ، حق تک پہنچانے والے ہوتے ہیں ۔
اُن سے محبت کی جانی چاہیے ، مگر " حق " سے بڑھ کر نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
1-6-2020 ء
" مجھے امام مالک رحمہ اللہ سے محبت ہے ، لیکن ......... آپ سے بڑھ کر حق سے محبت ہے ۔ "
( کجدار و مریز ، ص 14 ، ط سرمد اکادمی اٹک ، س 2007 ء )
اللہ کرے ، آج کے مُریدینِ باصفا بھی اِس بات کو دل میں جگہ دے دیں ۔
پیرانِ عظام کا وُجُودِ مَسعود یقیناً باعثِ برکت ہے ، لیکن وہ " حق " نہیں ہوتے ، حق تک پہنچانے والے ہوتے ہیں ۔
اُن سے محبت کی جانی چاہیے ، مگر " حق " سے بڑھ کر نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
1-6-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM