🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جورو کا غلام بننے میں فائدہ ہے

جورو یعنی بیوی کا غلام کسے کہتے ہیں؟
اگر بیوی کی عزت کرنا، اس کے ساتھ گھر کا کام کرنا، اس سے اچھی طرح پیش آنا، اس کی ڈانٹ یا کڑوی باتوں کو خاموشی سے سن لینے کا نام غلامی ہے تو یقین کریں بیوی کا غلام بننے میں ہی فائدہ ہے۔
میری باتوں سے ہو سکتا ہے کہ آپ کی مردانگی کو تکلیف پہنچے لیکن حقیقت یہی ہے۔

بیوی کی عزت کریں گے تو وہ آپ کو بھی عزت دے گی،
اگر ساتھ میں گھر کا کام کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی گھر کے کاموں میں مدد فرمایا کرتے تھے،
اب رہا بیوی کی چار باتیں سننا تو اس میں بھی ہرج کیا ہے؟
حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمہ اللہ کی بیوی ان کے لیے سخت الفاظ استعمال کیا کرتی تھی پر آپ صبر کرتے تھے۔ ایک شخص آپ کے گھر گیا اور آپ کی بیوی سے پوچھا کہ شیخ صاحب کہاں ہیں تو بیوی نے کہا کہ تم اسے شیخ کہتے ہو، وہ تو جاہل اور جھوٹا ہے! شیخ کا تو نہیں پتہ لیکن میرا شوہر جنگل کی طرف گیا ہے۔ وہ شخص جب جنگل کی طرف گیا تو دیکھا کہ آپ رحمہ اللہ شیر پر لکڑیاں لادے تشریف لا رہے ہیں۔
اس شخص نے بیوی کے سخت رویے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں بیوی کا بوجھ برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹھاتا (یعنی میں اللہ کی رضا کے لیے بیوی کی زبان درازی پر صبر کرتا ہوں تو اللہ تعالی نے اس شیر کو میرا اطاعت گزار بنا دیا ہے)

(تذکرۃ الاولیاء، جز2، ص174)

ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی بیوی کی شکایت کرنے کے لیے آیا لیکن جب دروازے پر پہنچا تو حضرت عمر فاروق کی بیوی حضرت ام کلثوم کی بلند آواز سنائی دی، وہ حضرت عمر فاروق پر (غصے کی حالت میں) برس رہی تھیں۔ اس شخص نے سوچا کہ میں کیا شکایت کروں یہاں تو حضرت عمر فاروق بھی اسی مسئلے سے دو چار ہیں اور وہ واپس ہو لیا۔
حضرت عمر فاروق نے اس شخص کو بعد میں بلایا اور پوچھا تو اس نے بتایا کہ بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا مگر آپ کی محترمہ...
حضرت عمر فاروق نے فرمایا: مجھ پر میری بیوی کے کچھ حقوق ہیں جن کی وجہ سے میں در گزر کرتا ہوں۔ وہ مجھے جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے، اس کی وجہ سے میرا دل حرام کی خواہش سے بچا رہتا ہے،
جب میں گھر سے باہر ہوتا ہوں تو وہ میرے مال کی حفاظت کرتی ہے،
میرے کپڑے دھوتی ہے، میرے بچوں کی پرورش کرتی ہے، میرے لیے کھانا پکاتی ہے۔
یہ سن کر اس شخص کو احساس ہوا کہ یہ فائدے تو مجھے بھی اپنی بیوی سے حاصل ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ میں نے ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی کوتاہیوں اور کمیوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ پھر اس شخص نے بھی اس دن سے در گزر سے کام لینے کی نیت کر لی۔

(تنبیہ الغافلين، ص280 بہ حوالہ اسلامی شادی)

بیوی اگر دو چار باتیں غصے میں کَہ دیتی ہے تو تھوڑا برداشت کر لیں، آپ کا کیا جائے گا؟ پھر جب اسے احساس ہوگا تو ہو سکتا ہے آپ سے معافی مانگ لے۔ آپ در گزر سے کام لیں اور اگر یہ غلامی کہلاتی ہے تو یہی صحیح، بیوی کا غلام بن کے رہنے میں فائدہ ہے۔
اس کی غلطی، اس کی کوتاہی کو دیکھ کر فوراً غصہ ہو جانا اور اپنی مردانگی دکھانے کے چکر میں اپنی جہالت دکھانا صحیح نہیں ہے۔ یہ دیکھیں کہ اس نے آپ کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ وہ آپ سے کتنا پیار کرتی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ بے عیب بیوی مل جائے؟ اگر نہیں تو پھر در گزر سے کام لینے میں ہی فائدہ ہے یعنی جورو کا غلام بننے میں ہی فائدہ ہے۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
सेक्स नॉलेज (पार्ट 3)

शुरुआत इस बात से करते हैं कि निकाह करने का मक़सद क्या है?
अगर कोई ये सोचता है कि निकाह का मक़सद सिर्फ सेक्स की लज़्ज़त हासिल करना है तो ये सहीह नही है।
ये भी है लेकिन असल है औलाद का हुसूल।

हज़रते उमर फ़ारूक़ रदिअल्लाहु त'आला अन्हु फरमाते हैं कि मैं सिर्फ क़ज़ा -ए- शहवत के लिए अपनी अज़वाज (बीवियों) के पास नही जाता बल्कि मेरी निय्यत अवलाद का हुसूल है, अगर ये मक़सद ना होता तो मेरी एक ही ज़ौजा (बीवी) होती।

(انساب الاشراف، عمر بن الخطاب، ج10، ص343 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم، ج1، ص77)

एक मर्तबा आप रदिअल्लाहु त'आला अन्हु ने फरमाया कि मै खुद को जिमा (Sex) करने पर इसलिए मजबूर करता हूँ कि मुमकिन है अल्लाह त'आला मुझे ऐसी नेक और सालेह औलाद अता फरमाए जो उसकी तस्बीह करे और हर वक़्त उसकी याद में मगन रहे।

(سنن کبری، کتاب النکاح، باب الرغبة فی النکاح، ج7، ص126، حدیث13460 بہ حوالہ ایضاً)

हज़रते सय्यिदुना अब्दुल्लाह बिन उमर रदिअल्लाहु त'आला अन्हु फरमाते हैं कि मेरे वालिद (हज़रते उमर फ़ारूक़) शहवत के लिए निकाह नही करते थे बल्कि औलाद के हुसूल के लिए निकाह करते थे।

(طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج3، ص247 بہ حوالہ ایضاً)

जारी है.......

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
Sex Knowledge (Part 3)

Shuru'aat Is Baat Se Karte Hain Ke Nikah Karne Ka Maqsad Kya Hai?
Agar Koi Ye Sochta Hai Ke Nikah Ka Maqsad Sirf Sex Ki Lazzat Haasil Karna Hai To Ye Sahih Nahin Hai
Ye Bhi Hai Lekin Asal Maqsad Hai Awlaad Ka Husool

Hazrate Umar Faruque Radiallaho Ta'ala Anho Farmate Hain Ke Main Sirf Qaza -e- Shahwat Ke Liye Apni Azwaaj (Biwiyo) Ke Paas Nahin Jaata Balki Meri Niyyat Awlaad Ka Husool Hai, Agar Ye Maqsad Na Hota To Meri Ek Hi Zauja (Biwi) Hoti

(انساب الاشراف، عمر بن الخطاب، ج10، ص343 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم، ج1، ص77)

Ek Martaba Aap Radiallaho Ta'ala Anho Ne Farmaya Ke Main Khud Ko Jima (Sex) Karne Par Isliye Majboor Karta Hoon Ke Mumkin Hai Allah Ta'ala Mujhe Aisi Nek Aur Saaleh Awlaad Ata Farmaye Jo Uski Tasbeeh Kare Aur Har Waqt Uski Yaad Mein Magan Rahe

(سنن کبری، کتاب النکاح، باب الرغبة فی النکاح، ج7، ص126، حدیث13460 بہ حوالہ ایضاً)

Hazrate Sayyiduna Abdullah Bin Umar Radiallaho Ta'ala Anho Farmate Hain Ke Mere Walid (Hazrate Umar Faruque) Shahwat Ke Liye Nikah Nahin Karte The Balki Awlaad Ke Husool Ke Liye Nikah Karte The

(طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج3، ص247 بہ حوالہ ایضاً)

Continue...

Abde Mustafa
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مَدرِسہ_کا_پڑھا_ہوا_صدر*

گُزشتہ دِنوں مَدرِسے کی ایک بڑی تقرِیب سے خطاب کرتے ہوئے تُرکی کے صدر جناب حافظ رجب طیب اردگان صاحب نے فرمایا:-

جب بچپن میں، میں مدرسے میں پڑھنے جاتا تو ہمارے عِلاقے کے کئی لوگ مُجھ سے کہا کرتے کہ بیٹے!
کیوں اپنا مُستقِبل خراب کررہے ہو؟
کیا تمہیں بڑے ہو کر مُردے نہلانے کی نوکری کرنی ہے؟
مدرسے میں پڑھنے والے کو غُسّال کے علاوہ کوئی روزگار مل سکتا ہے؟
لِہذا کِسی اچھے اِسکول میں داخلہ لے لو اور اپنا مُستقبل سَنوارنے کی فِکر کرو۔
اِس قِسم کی نِصیحت کرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہوتے اور میں بڑے ادب سے اُن کی باتیں سُنتا اور مُسکراتے ہوئے اپنی کِتابیں بَغل میں دبائے مدرِسۃ اِمام الخطیب کی طرَف گامزَن ہوتا۔
فرمایا کہ میرے والد پھل فروش تھے۔ اُن کے مالی حالات اِس بات کے مُتحَمل نہیں تھے کہ وہ مُجھے کسی اسکول میں ڈالتے۔ ہمارے گھر میں بعض اوقات سالن کے بجائے خربوزے کے ساتھ روٹی کھائی جاتی۔ پھر والد کی دین سے والہانہ محبت تھی کہ مُجھے حِفظ قرآن کی کلاس میں ڈال دیا تھا۔
پِھر وقت گولی کی رفتار سے چلتا رہا اور میں نے استنبول کے اُسی مدرسے سے 1973ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ قُرآن مجید تجوید کے ساتھ حِفظ کیا۔ گو کہ بعد میں یونیورسٹی سے بھی پڑھا۔ میں نے تُرکی کی معروف مَرمرَہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اکنامکس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنس میں ماسٹر کیا۔ مگر ابتدائی تعلیم مدرسے سے ہی حاصل کی تھی۔ اب جب بھی مُجھے اُن بزرگوں کی نصیحتیں یاد آتی ہیں اور خود پر کریم رب کی رحمتوں کی بارش دیکھتا ہوں تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ یہ کہہ کر اردگان نے حاضرین کو بھی اشک بار کر دیا۔

واضح رہے کہ مُسلم حکمرانوں میں اردگان پورے عالم اسلام میں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ ٹیوٹر میں سب سے زیادہ فالورز اُنہی کے ہیں اور اُن میں بھی ستر فیصد عرب ہیں۔ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد عرب دنیا میں انہیں ''البطل'' (ہیرو) کا خطاب مِل چُکا ہے۔
یاد رہے اِس وقت دُنیا میں سب سے زیادہ بچے ترکی کے دینی مدارس میں زیرِ تعلیم ہیں۔ 2015ء کے اوائل میں جاری اعداد و شمار کے مُطابق اِن طلبہ کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چُکی تھی۔ تاہم وہاں کے مدارس کا نظام تعلیم بھی مُکمل جدید خطوط پر اِستوار ہے۔
(رپورٹ، الجزیرہ)

اللَّه سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى اِن کو تُرکی اور عالمِ اسلام کی ترقی کے لئیے اپنے حِفظ و امان میں رکھے
🌺🌺🌺
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ترکوں کی نسل کے بارے تحقیق
کشف الباری کتاب الجہاد صَـ⁶⁹⁹
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم
 (کنیت: ابو حفص) خلافت بنو امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے اور سلیمان بن عبدالملک کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے۔ انہیں ان کی نیک سیرتی کے باعث چھٹا خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے جبکہ آپ خلیفہ صالح کے نام سے بھی مشہور ہیں۔
عمر_بن_عبد_العزیز_آزاد_دائرۃ_المعارف،_ویکیپیڈیا.pdf
296.4 KB
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا

https://t.me/SirfUrduTahrir/3307
حضرت عمر بن عبد العزیزکا دور خلافت
تحریر: احمد ذیشان رائٹرز کلب
.
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ لسانی عصبیت، نسلی تفاخر اور موروثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پاش پاش کر دیے تھے دوبارہ تعمیر ہو چکے تھے۔ بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔ ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست جسے سید الانبیاﷺ نے قائم فرمایا تھا۔ جس میں ہر مسلم غیر مسلم کے جان مال اور عزت محفوظ تھی مگراب اموی شاہوں کہ رحم کرم پر تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ زمانہ جاہلیت پھر سے لوٹ رہا ہے۔ جسے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ شجر اسلام جسے خلفائے راشدین نے بے شمار قربانیوں سے سینچا تھا۔ جس میں برتری کی بنیاد تقوی پر تھی اس کی جڑیں اکھڑ رہی تھیں۔ خلافت کی جگہ ملوکیت لے چکی تھی۔ خدا کے نام لیواؤں کے گر د زمین تنگ کی جارہی تھی۔ انسانیت خلافت راشدہ کے خاتمے کا سوگ منارہی تھی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آتے ہی سب سے پہلے اپنی ساری جائداد سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ انسانیت کو خلافت راشدہ کی یاد دلا دی۔ ظالم عمال کو معزول کر کے نیک پارسا اور متقی حضرات کو عہدوں پہ بٹھایا۔ اسلام کی پھر سے وہی شان و شوکت اور جاہ و جلال بحال ہو گی۔ بیت المال کو خلیفہ کی ملکیت سے نکال کر عوامی ملکیت میں دے دیا۔ موروثیت کے بجائے قابلیت اور خدا خوفی کو ترجیح دی جانے لگی۔ پوری ریاست میں امن کا بول بالا ہو نے لگا۔ آپ نے زکوۃ کا نظام قائم کیا اور ظالمانہ ٹیکسوں سے عوام کی جان چھڑائی۔ قبل اس سے ہر نو مسلم سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ مگر آپ نے اسے غیر اسلامی فعل قرار دے کر منسوخ کر دیا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنادیا۔ ملک سے غربت کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ سارا دن زکوۃ لے کے پھرنے کے باوجود کو ئی زکوۃ لینے والا نظر نہیں آتا تھا۔
اپنے دربار کو جسے اموی شاہوں نے قیصر وکسری کی طرز پر ڈھال دیا تھا۔ اسے واپس خلفائے راشدین کی طرز پہ لاکھڑا کیا۔ جہاں ہر ناکس وناتواں کی رسائی ممکن تھی۔ اموی حکومت جو کے فوجی طاقت پر مستحکم تھی۔ اس کی بنیادیں ہلانا اتنا آسان تو نہ تھا۔ کوئی داخلی یا خارجی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی تھی۔ ماضی میں بھی اس سے ٹکرانے کی دو کوششیں ہوچکی تھیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے دلیرانہ اقدام اٹھا چکے تھے۔ مگر اموی حکومت کی ظالمانہ اقدام سے ٹکر لینا ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف تھا۔ انہی اصلاحات کی بدولت کفر جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگا اور جزیہ کم وصول ہو نے لگا تو خزانچی نے اس بات کا ذکر آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ سارا کفر اسلام میں داخل ہو جائے تو تم کھیتی باڑی کرو۔
غریب عوام کی زمینیں جائیدادیں جو کہ شاہی خاندان نے اپنی ملکیت شامل کر لی تھیں۔ انہیں واگزار کرا کے غریبوں کو واپس کروائیں اور غلام اور لونڈیاں آزاد کروا کے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا۔ افسران اور وزراء کو تحائف لینے پہ پابندی عائد کر دی۔ پوری ریاست میں یکساں طور پر قانون کا نفاذ کیا۔ جس امیر غریب کو یکساں طور بے لاگ انصاف ملنے لگا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون اپنی موت آپ مرچکا تھا۔ خلیفہ اور دیگر عمال کی ایک مزدور کے مساوی تنخواہیں مقرر کیں۔
آج میرے دیس کے حالات بھی اموی شہنشاہیت سے مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی سیاستی، مذہبی اور لسانی دہشت گردی عروج پہ ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا کے ڈکار مار جاتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسلام پسندوں کے گر د ہر طرح کی ریاستی پابندیوں کا نفاذ ہے۔ اسلام کے نام پہ بننے والی ریاست پاکستان میں اسلام کانام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ انصاف کے لیے عدالتوں کا چکر کاٹ کاٹ کر تین نسلیں اپنی عمر گزار دیتی ہیں۔ غریب آدمی کل جمع پونجی لٹا کر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ یہاں بھی انسانیت بلک بلک کر کسی عمر بن عبدالعزیز کو پکار رہی ہے۔ جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/3309
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے نظام مصطفیﷺ کو عملی شکل میں نافذ کیا:
پیراعجاز اشرفی

May 30, 2020

مرکز اہلسنت درگاہ و جامع قطب شاہ میں صاحبزادہ پیر اعجاز اشرفی نے اجتماع سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا خلیفہ ثانی عمر بن عبد العزیز نے عدل و انصاف کو عام کیا۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے دور میں 8 ضلعوں سے زکوۃ اس لئے واپس آگئی کہ کوئی لینے والا نہیں تھا۔عمر بن عبدالعزیز نے نفاذ نظام مصطفیﷺ کا عمل اپنے گھر بیوی بچوں اپنی جائداد بیت المال میں جمع کروانے سے شروع کیا۔ جو پوری سلطنت میں پھیل گیا اور عام لوگ خوشحال ہو گئے۔ثانی عمر بن عبدالعزیز کی اسلامی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔جو قومیں اپنے ہیروز کو یاد نہیں رکھتی وہ پستی کی جانب دھکیلی جاتی ہیں۔ پیر اعجازاشرفی نے انتہائی افسوس سے کہا شام کے شہر ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور انکی اہلیہ کے مزار شریف کی بے حرمتی کر کے شہید کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/3310
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیه رحمة اللہ العزیز کی 425 حکایات
Hazrat Umar Bin Abdul Aziz Ki 425 Hikayaat in Urdu
6231.pdf
17.9 MB
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیه رحمة اللہ العزیز کی 425 حکایات
Hazrat Umar Bin Abdul Aziz Ki 425 Hikayaat in Urdu
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=691534121417109&id=388280455075812

*عقائد کی مضبوطی کیسے ہو؟*
از *محمد زبیر قادری*
روشن مستقبل دہلی

..ایک بار میں جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک دیوبندی کتب فروش کے مکتبہ پر کچھ کتب لینے وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں چند نوجوان لڑکے آئے اور تقویت الایمان، حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعہ وغیرہ قابلِ اعتراض کتب طلب کرنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ خیر کتب تو نہ ملی۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ مہاراشٹر کے کسی علاقے سے آئے تھے اور بدمذہبوں کے رد کے لیے حوالے کے لیے یہ کتب طلب کر رہے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہمارے اسٹیج کے مقررین علما نے عوام کو مناظروں میں اُلجھا رکھا ہے جبکہ عوام بنیادی عقائد سے ہی ناواقف ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی تقریروں میں چیخ چیخ کر یہ بتانا کہ تھانوی نے یہ لکھا، گنگوہی نے یہ لکھا، قاسمی نے یہ لکھا؟۔۔ لیکن ان مقررین حضرات کو یہ نہیں پتہ کہ دیوبندیوں نے اپنی اکثر کتب میں تحریفات کردی ہیں، جس وجہ سے ان کی گستاخیاں نرم پڑ گئیں۔.. اہم بات یہ کہ ہمارے یہ نوجوان جب یہ کتب ان کو دکھاتے ہیں تو دیوبندی کہتے ہیں کہ یہ کتابیں تم لوگ چھاپ کر ہم کو بدنام کرتے ہو۔ یہ دیکھو ہماری کتابیں...
جس میں وہ عبارتیں نہیں ہوتیں۔ تو نوجوان ناکام ہوجاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے یہ نوجوان جو ہمیشہ دیوبندیوں سے مناظرہ کرکے فتح کا جشن منانا چاہتے ہیں، ان کی دینی معلومات نہایت کمزور ہوتی ہیں۔ عقائد اہلِ سنّت کا علم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ غسل، وضو، نماز جیسی بنیادی چیزوں کے فرائض کا علم بھی کم ہی نوجوانوں کو ہوتا ہے، جس پر عبادتوں کا انحصار ہے۔
افسوس ان مقرروں پر جو ردِ وہابیہ پر ہمیشہ ایسی بے سروپا و غیر مستند تقریریں کرتے ہیں کہ کوئی دیوبندی سوال کردے تو جواب نہ بن پڑے۔ مگر ان کی تقاریر سن کر نوجوان طبقہ جوش میں ہوش کھودیتا ہے۔ کیا ایسی تقریروں سے نوجوان نسل کا ایمان محفوظ ہوسکتا ہے؟
جب کہ ضرورت ہے عقائد اہلِ سنّت کی تعلیم کی۔ اللہ و رسول کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ کفر، شرک اور بدعت کیا ہے، اور عبادات کے لیے ضروری علم سے واقفیت ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان بہکتے ہیں بنیادی عقائد میں کمزوری کی وجہ سے۔ عقائد مضبوط کردیجیے، پھر ان شاء اللہ نوجوان باطل فرقوں کی گمراہ کن تعلیمات سے بہکیں گے نہیں۔
اصل کام عقیدے اور ایمان کا تحفظ ہے، جسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی آج سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM