🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-08-1445 ᴴ | 08-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1445 ᴴ | 08-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Mahe Ramadan Aane Wala Hai
اِستقبال رمضان | رمضان آنے والا ہے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 128
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Mahe Ramadan Aane Wala Hai
اِستقبال رمضان | رمضان آنے والا ہے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 128
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1💯1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-08-1445 ᴴ | 08-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1445 ᴴ | 08-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسلام عورت لڑکی پردہ حیا حجاب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسلام عورت لڑکی پردہ حیا حجاب
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
حضرت شیخ ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
آپ کا اسم گرامی عبد الرحمٰن بن احمد بن عطیہ تھا ۔ شام کے قدماء مشائخ میں سے تھے ۔ زہد و ورع میں یگانہ اور مقتدائے زمانہ میں سربر آوردہ تھے ۔
وطن:
دمشق کے مضافات میں ایک گاؤں میں رہا کرتے تھے ۔ آپ زبان کے شیرین اور مخلوق خدا پر بے پناہ شفقت فرماتے لوگ آپ کی اس عادت کی بنا پر آپ کو ایمان القلب کہا کرتے ۔
علم و عمل اور تقویٰ:
حدیث اور تفسیر کے علوم میں ماہر تھے ۔ صبر و تقویٰ میں لاثانی آپ نے بھوک اور فاقہ پر جس قدر صبر و شکر کیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔
آپ نے اپنا واقعہ اپنی زبانی بیان کیا کہ موسم سرما کہ شدت میں ایک رات مجھے مسجد میں اس قدر سردی لگی کہ اسے دُور کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی، میں نے اپنا ایک ہاتھ دعا کے لیے اور دوسرا بغل میں دبایا، مجھے قدرے سکون ملا، نیند آگئی، خواب میں ہاتف نے کہا: اے سلیمان تم نے ایک ہاتھ دعا کے لیے بڑھایا اگر دوسرا بھی پھیلا دیتے تو اس سے زیادہ سکون ملتا ۔ اس کے بعد میں نے ارادہ کر لیا کہ گرمی ہو یا سردی میں دعا کے وقت دونوں ہاتھ پھیلایا کروںگا ۔
آپ نے اپنی ایک اور خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک حور کو دیکھا جس کی مسکراہٹ سے ایک ایسا حسن چمکا جس سے مشرق و مغرب روشن ہو گئے، میں نے حور سے پوچھا تمہیں یہ نور کہاں سے ملا ؟ کہنے لگی اللہ کے خوف کے چند آنسو گرنے سے مجھے اللہ نے یہ عظمت دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۱۵ھ میں ہوئی ۔
مزار: مزار مبارک واران میں ہے ۔
چو سلیماں ولیِ دارانی
سیّد عالم است وہم طاہر ۲۱۵
ختم بر ذات او سلیمانی
سال ترحیل دے اگر دانی
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-sulaiman-ad-darani
اسم گرامی:
آپ کا اسم گرامی عبد الرحمٰن بن احمد بن عطیہ تھا ۔ شام کے قدماء مشائخ میں سے تھے ۔ زہد و ورع میں یگانہ اور مقتدائے زمانہ میں سربر آوردہ تھے ۔
وطن:
دمشق کے مضافات میں ایک گاؤں میں رہا کرتے تھے ۔ آپ زبان کے شیرین اور مخلوق خدا پر بے پناہ شفقت فرماتے لوگ آپ کی اس عادت کی بنا پر آپ کو ایمان القلب کہا کرتے ۔
علم و عمل اور تقویٰ:
حدیث اور تفسیر کے علوم میں ماہر تھے ۔ صبر و تقویٰ میں لاثانی آپ نے بھوک اور فاقہ پر جس قدر صبر و شکر کیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔
آپ نے اپنا واقعہ اپنی زبانی بیان کیا کہ موسم سرما کہ شدت میں ایک رات مجھے مسجد میں اس قدر سردی لگی کہ اسے دُور کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی، میں نے اپنا ایک ہاتھ دعا کے لیے اور دوسرا بغل میں دبایا، مجھے قدرے سکون ملا، نیند آگئی، خواب میں ہاتف نے کہا: اے سلیمان تم نے ایک ہاتھ دعا کے لیے بڑھایا اگر دوسرا بھی پھیلا دیتے تو اس سے زیادہ سکون ملتا ۔ اس کے بعد میں نے ارادہ کر لیا کہ گرمی ہو یا سردی میں دعا کے وقت دونوں ہاتھ پھیلایا کروںگا ۔
آپ نے اپنی ایک اور خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک حور کو دیکھا جس کی مسکراہٹ سے ایک ایسا حسن چمکا جس سے مشرق و مغرب روشن ہو گئے، میں نے حور سے پوچھا تمہیں یہ نور کہاں سے ملا ؟ کہنے لگی اللہ کے خوف کے چند آنسو گرنے سے مجھے اللہ نے یہ عظمت دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۱۵ھ میں ہوئی ۔
مزار: مزار مبارک واران میں ہے ۔
چو سلیماں ولیِ دارانی
سیّد عالم است وہم طاہر ۲۱۵
ختم بر ذات او سلیمانی
سال ترحیل دے اگر دانی
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-sulaiman-ad-darani
❤1
شیخ المحدثین، حضرت علامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی ۔ لقب: شیخ الحدیث، استاذ العلماء، نائبِ محدث اعظم پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا غلام رسول رضوی بن چوہدری نبی بخش علیہ الرحمہ، آپ علاقے کے معروف زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحبِ مجاز بھی تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1338ھ، مطابق 1920ء کو قصبہ "سیسنہ" ضلع امرتسر (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
شیخ الحدیث مولانا غلام رسول کے والد ِماجد کا پیشہ زمینداری تھا ،لیکن وہ اپنے بیٹے کو ایک جید عالم دین کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے اسکول کی مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ قران مجید صرف ونحو اور اصول فقہ کی ابتدائی کتب امر تسر کی مسجد خیر الدین سےمتصل مدرسہ نعمانیہ میں پڑھیں۔ بعد ازاں جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں علامہ مولانا مہر محمد سے فنون کی بقیہ کتب پڑھیں، اور یہیں سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد سند فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ پھر صحاح ستہ کی تکرار کی غرض سے لاہور سے بریلی شریف پہنچے اور حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دوبارہ کتب احادیث مکمل طور پر پڑھیں ۔ اسی طرح مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ سے بھی علمی استفادہ کرنے کا موقع ملا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضاخان علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور انہوں نے آپ کوتمام اوراد و وظائف، اور سلسلہ عالیہ رضویہ کی خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔ حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت وخلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الحدیثِ و التفسیر، استاذ العلماء و الفضلاء، امام المدرسین، جامع العلوم، جامع شریعت و حقیقت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ کاشمار اکابرین علماء اہل سنت میں ہوتاہے۔ آپ نے تقریباً ستر سال حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپ علیہ الرحمہ ایک کہنہ مشق مدرس، اور عظیم محقق تھے ۔ آپ نے ساری زندگی محنت و لگن سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کی آبیاری فرمائی، فروغِ مسلک حق اہل سنت وجماعت میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔ کثیر طلباء نےآپ سے علمی استفادہ کیا، جو بعد میں آسمانِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،فیصل آباد میں دینی خدمات اور بالخصوص دورۂ حدیث شریف میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ کےبعد آپ کا اسم گرامی آتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے زندگی اسلام کی وقف کر دی تھی یہی وجہ ہے کہ تاحیات درس ووتدریس، تالیف و تصنیف، وعظ و نصیحت، اور علم دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔
دینی مدارس و مساجد کے قیام پر خصوصی توجہ تھی، آج بھی آپ کا فیضان علمی و روحانی جاری وساری ہے۔ جامعہ نظامیہ لاہور، جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد، تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری، تفسیر رضوی، ترجمہ جامع کرامات اولیاء، تذکرہ غوث اعظم، حبیب اعظم، شرح مسلم الثبوت، حاشیہ کنز الدقائق، حاشیہ سلم العلوم، ترجمہ جواہر البحار، اور ہزاروں تلامذہ، جن میں شرف ملت مولانا عبدالحکیم شرف قادری، مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالقیوم ہزاروی، فقیہ العصر مولانا مفتی محمد امین، مولانا مفتی گل احمد عتیقی، مولانا غلام محمد سیالوی، و دیگر علماء آپ کا عظیم علمی صدقہ جاریہ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 1422ھ / مطابق 14 نومبر 2001ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ محدث اعظم پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-rizvi
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی ۔ لقب: شیخ الحدیث، استاذ العلماء، نائبِ محدث اعظم پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا غلام رسول رضوی بن چوہدری نبی بخش علیہ الرحمہ، آپ علاقے کے معروف زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحبِ مجاز بھی تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1338ھ، مطابق 1920ء کو قصبہ "سیسنہ" ضلع امرتسر (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
شیخ الحدیث مولانا غلام رسول کے والد ِماجد کا پیشہ زمینداری تھا ،لیکن وہ اپنے بیٹے کو ایک جید عالم دین کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے اسکول کی مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ قران مجید صرف ونحو اور اصول فقہ کی ابتدائی کتب امر تسر کی مسجد خیر الدین سےمتصل مدرسہ نعمانیہ میں پڑھیں۔ بعد ازاں جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں علامہ مولانا مہر محمد سے فنون کی بقیہ کتب پڑھیں، اور یہیں سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد سند فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ پھر صحاح ستہ کی تکرار کی غرض سے لاہور سے بریلی شریف پہنچے اور حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دوبارہ کتب احادیث مکمل طور پر پڑھیں ۔ اسی طرح مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ سے بھی علمی استفادہ کرنے کا موقع ملا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضاخان علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور انہوں نے آپ کوتمام اوراد و وظائف، اور سلسلہ عالیہ رضویہ کی خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔ حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت وخلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الحدیثِ و التفسیر، استاذ العلماء و الفضلاء، امام المدرسین، جامع العلوم، جامع شریعت و حقیقت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ کاشمار اکابرین علماء اہل سنت میں ہوتاہے۔ آپ نے تقریباً ستر سال حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپ علیہ الرحمہ ایک کہنہ مشق مدرس، اور عظیم محقق تھے ۔ آپ نے ساری زندگی محنت و لگن سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کی آبیاری فرمائی، فروغِ مسلک حق اہل سنت وجماعت میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔ کثیر طلباء نےآپ سے علمی استفادہ کیا، جو بعد میں آسمانِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،فیصل آباد میں دینی خدمات اور بالخصوص دورۂ حدیث شریف میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ کےبعد آپ کا اسم گرامی آتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے زندگی اسلام کی وقف کر دی تھی یہی وجہ ہے کہ تاحیات درس ووتدریس، تالیف و تصنیف، وعظ و نصیحت، اور علم دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔
دینی مدارس و مساجد کے قیام پر خصوصی توجہ تھی، آج بھی آپ کا فیضان علمی و روحانی جاری وساری ہے۔ جامعہ نظامیہ لاہور، جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد، تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری، تفسیر رضوی، ترجمہ جامع کرامات اولیاء، تذکرہ غوث اعظم، حبیب اعظم، شرح مسلم الثبوت، حاشیہ کنز الدقائق، حاشیہ سلم العلوم، ترجمہ جواہر البحار، اور ہزاروں تلامذہ، جن میں شرف ملت مولانا عبدالحکیم شرف قادری، مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالقیوم ہزاروی، فقیہ العصر مولانا مفتی محمد امین، مولانا مفتی گل احمد عتیقی، مولانا غلام محمد سیالوی، و دیگر علماء آپ کا عظیم علمی صدقہ جاریہ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 1422ھ / مطابق 14 نومبر 2001ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ محدث اعظم پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-rizvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ghulam Rasool Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1