🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سید صدر الدین المعروف راجن قتال بخاری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔

لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔

سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
1
آپ خدا کی ذات میں اس قدر مست و مستغرق تھے اس کے سوا کسی کو جانتے نہ تھے۔ مخلوق سےبالکل کنارہ کش رہتے تھے۔آپ کی تربیت وصحبت سے کئی افرادفسق وفجورسےتائب ہوکرتقویٰ والی زندگی گزارنےلگے۔شیخ سارنگ کےبارےمیں آتاہےانہوں نےآپ سےکہاحضرت !مجھے اپنےکھانےسےبچا ہواروٹی کاٹکڑاعنایت فرمائیں میں بطورِ تبرک تناول کروںگا۔آپ نےفرمایا:تم نمازِپنجگانہ کی پابندی کاوعدہ کروہم تبرک کاوعدہ کرتےہیں۔جب وہ نمازی بن گئے توآپ نےفرمایا:آگرآپ اشراق چاشت کاوعدہ کریں تو ہم اپنےساتھ تمہیں کھاناکھلائیں گے۔اللہ اکبر۔کیانیکی کاجذبہ تھا۔صرف اس کوتبرک دیکرتھپکی نہ دی بلکہ اس کونمازی وکامل  بناکرچھوڑا۔

(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی  کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)

اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ  غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس  پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت  وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔

ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت ذوالنو ن مصری رحمتہ اللہ علیہ

طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ، سفینہ تحقیق و کرامت، صمصامِ شرف و ولایت حضرت ذوالنون ابن ابر اہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔

آپ کا نام ثوبان تھا ۔ اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے۔ آپ نے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند رکھا تھا ۔

انتظار رسول ﷺ:
مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کو پہنچاننے میں عاجز رہے اور اہل زمانہ آپ کے حال سے نا واقف رہے، یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہنچانا، جس رات آپ نے رحلت فرمائی تو اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے۔ میں اس کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔

بوقتِ وفات:
جب حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا تھا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ قتیل اللہ ۔ یہ اللہ کا محبوب ہے ۔ اللہ کی محبت میں فوت ہوا، یہ خدا کا شہید ہے۔

پرندوں کا سایہ کرنا:
لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کند ھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پر باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا، ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم و جفا پر لوگ پشیمان ہو ئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ۔

عارف کی ہر گھڑی:
طریقت و حقیقت اور علوم معرفت میں آپ کے کلمات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا: العارف کل یوم اخشع لانہ فی کل ساعتہ من الرب اَلاقرب ۔ یعنی خیثت الہیٰ میں عارف کا ہر لمحہ بڑھ کر ہے، اس لئے کہ اس کی ہر گھڑی رب سے زیادہ قریب ہے ۔ کیو نکہ بندہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کی حیرت و خشوع اور زیادہ ہوگی، چو نکہ وہ بارگاہ حق کے دبدبہ کا زیادہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے دل پر جلال حق غالب ہوتا ہے، جب وہ خود کو اس سے دور دیکھے گا تو اس کے وصال میں اور کوشِش کرےگا اس طرح خشوع پر خشوع کی حالت میں اضافہ ہوتا رہے گا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مکالمہ کے وقت عرض کیا: یا رب این اطلبک ۔ خدایا؟ تجھے کہاں تلاش کروں؟ حق تعالیٰ نے فرمایا: عند المنکسرۃ قلو بھم ۔ شکستہ دل اور اپنے صفائے قلب سے مایوس شدہ لوگوں کے پاس ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب ۔ مجھ سے زیادہ شکستہ دل اور نا امید شخص اور کون ہوگا؟ ارشاد فرمایا: میں وہیں ہو جہاں تم ہو ۔ معلوم ہوا کہ اسیا مدعی معرفت جو بے خوف و خشوع ہو وہ جاہل ہے، عارف نہیں ہے، کیو نکہ معر فت کی حقیقت کی سب سے بڑی علامت صدقِ ارادت ہے صدقِ ارادت خدا کے سوا سبب کے فنا کرنے والی اور تمام نسبتو ں کو قطع کرنے والی ہوتی ہے۔

اسم اعظم:
یو سف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتا یا گیا کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ اسم اعظم جانتے تھے۔میں مصر گیا اور ایک سال ان کی خدمت کی، پھر گزارش کی: استاذِ محترم! میں نے ایک سال آپ کی خدمت کی ہے، اب میرا آپ پر ایک حق ہے ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسم اعظم جانتے ہیں ۔ آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کرلی ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بھی اس امانت کا حق دار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم سِکھا دیں ۔ حضرت ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ عنقریب بتا دیں گے، چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت ذوالنون حیرہ میں رہتے تھے، آپ نے فرمایا: فطاط میں ہمارے فلاں دوست کے پاس لے جاؤ اور یہ برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا، اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص فلاں کو تحفہ بھیج رہا ہے، ؟ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے، مجھ سےصبر نہ ہو سکا۔ اس دوران میں دریائے نیل کے پل پر پہنچ گیا تھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چو ہے نے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا ۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا: حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں ۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ میں غصہ سے بھرا ہوا واپس آیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: احمق؟ ہم نے ایک چوہا بطور امانت دے کر تمہیں آزمایا لیکن تم آزمائش میں پورے نہ اترے، اسم اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کروگے؟

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-faiz-soban-bin-ibrahim-zunnoon-misri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
خواجہ غریب نواز سے روحانی نسبت:
آپ نے سلطان الہند حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ مبارک پر بھی حاضری کاشرف حاصل فرمایا۔ جب آپ مزارِ مقدس پر گئے تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ ظاہر ہوئے اور آپ سے یہ ارشاد فرمایا:

’’ جب تم میرے مُلک میں آئے ہو تو تمہیں چاہیے کہ میرے طریقے کو اپناؤ۔‘‘

چناں چہ حضرت خواجہ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فیضانِ چشتیہ سے نواز کر دیگر سلاسل کی اجازت بھی مرحمت فرمائی جس سے آپ مراتبِ عُلیا پر فائز ہوئے یہاں تک کہ آپ کا معمول تھا کہ ہر سال سلطان الہند رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ پُر اَنوار کی زیارت کے لیے اجمیر تشریف لے جاتے، ایک روز آپ مزارِ مبارک کے رو بَہ و و حاضر تھے کہ یکایک آپ پر حالت طاری ہوئی اور بےہوش ہوگئے۔ بَعْدَہٗ حضرت خواجہ غریب نواز عالمِ باطن میں تشریف لائے اور آپ کے مُنھ میں پان رکھا۔ آپ جب اپنی حالت پر آئے تو آپ کےمُنھ میں پان موجود تھا۔حضرت خواجہ کی بارگاہ سےاتنی قربت ہوگئی تھی کہ جس جگہ بھی آپ چاہتے روحانی ملاقات و زیارت سے مشرف ہوجاتے اور فُیوض و برکات سے ہم کنار ہوتے۔(خزینۃ الاصفیاء، ص405)

بدکار کو نیک بنا دیا:
منقول ہے کہ ایک شخص صاحب ِثروت تھا اور متعدد گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ جس درویش کا شہرہ سنتا ان کی صحبت میں جاتا۔ بالآخر ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ کالپی شریف حضرت میر سیّد محمد قَدَّسَ اللہُ سِرَّہُ الْعَزِیْز کی بارگاہ میں چلنا چاہیے اور اپنے دل میں یہ خیال باندھا کہ اگر پہلی بار دیکھنے کے ساتھ ہی میرے اوپر کوئی کیفیت طاری ہو گئی تومیں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو جاؤں گا اور اگر کوئی کیفیت ظاہرنہیں ہو گی تو علی الاعلان شراب نوشی کروں گا۔ جب وہ حضرت کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا اور کافی دیر تک عالمِ بے ہوشی میں پڑا رہا ۔جب اِفاقہ ہو ا تو اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور فقر اختیار کر کے تارکُ الدنیا ہو گیا۔ آپ نے اپنے کشف سے اس کے آئندہ حالات کا مشاہدہ فرمایا اور ایک عمدہ جوڑا مع خادم کے اس کے پاس روانہ فرمایا۔ اس نے خلعت کو قبول نہ کیا ۔ خادم نے ہر چند کوشش کی مگر وہ انکار ہی کرتا رہا۔

آخر کار حضرت خود تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:

’’تم میری اِرادت کی وجہ سے مرجعِ اَربابِ سعادت ہو چکے ہو ، اس لیے جو کچھ بھی تمہیں دیا جا رہا ہے اسے قبول کر لو، تم کیا جانتے ہو کہ اس میں کیا راز ہے؟‘‘

یہاں تک کہ اُس نے خلعت کو پہنا اور پھر اُس پر رازِ سر بستہ منکشف ہوئے اور وہ آپ کے درکا خادم ہو گیا ۔

فرزندِ ارجمند:
واقفِ اَسرارِ حقائق حضرت سیّد احمد کالپوی علیہ الرحمہ آپ کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔

تصانیف:
آپ کی مختلف موضوعات پر عربی و فارسی میں کثیر تصانیف ہیں ۔

شعرِ اعلیٰ حضرت علیہ‌ الرحمہ:
شجرۂ قادریہ رضویہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح ہے:

دے محمد کے لیے ، روزی کر احمد کے لیے
خوانِ فضل اللہ سے حصّہ گدا کے واسطے

وصال:
آپ کا وصال 26 شعبان المعظّم 1071ھ، مطابق 25 اپریل 1661ء کو ہوا ۔

مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار ’’ کالپی شریف ‘‘ ہند میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع :
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-muhammad-kalpwi
1
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-08-1445 ᴴ | 07-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1445 ᴴ | 08-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1