🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-08-1445 ᴴ | 07-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا بہارِ شریعت کا یہ تراویح پر اجرت لینے اور دینے کا مسئلہ منسوخ ہو گیا ہے؟ اگر یہ مسئلہ منسوخ نہیں ہوا ہے تو ایسے حافظِ قرآن، کمیٹی کے لوگ، امام صاحب اور جو جو لوگ حافظ صاحب کے لئے چندہ کرکے اُجرت دینے میں شریک رہتے ہیں ـ ان سب پر شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نیز لینے والے اور دینے والے یا دِلانے والوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب: یہ حکم منسوخ نہیں ہے ـ سب ناجائز کے مرتکب، توبہ کریں بعدِ توبہ امامت جائز ۔ واللہ تعالٰی اعلم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا
مکمل جواب پڑھنے کے لئے لِنک ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/45849
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دارالافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
الجواب: یہ حکم منسوخ نہیں ہے ـ سب ناجائز کے مرتکب، توبہ کریں بعدِ توبہ امامت جائز ۔ واللہ تعالٰی اعلم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا
مکمل جواب پڑھنے کے لئے لِنک ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/45849
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دارالافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-08-1445 ᴴ | 07-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-08-1445 ᴴ | 07-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ تراویح پر اجرت کا مسئلہ ـ بہار شریعت ـ ❷ تراویح پڑھانے کی اجرت لینے کا حکم ـ اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ بھی نہ ہو اور اجرت بھی جائز ہو جائے تو اس کی درج ذیل دو صورتیں ہو سکتی ہیں ـ مفتی قاسم عطاری صاحب ـ ❸ کیا مسجد کی چھت پر امام کے لئے مکان بنا سکتے ہیں ـ ❹ پیسے اور دوکان دے کر عقد مضاربت کی شرعی حیثیت ـ مفتی علی اصغر عطاری ـ ❺ اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہے کہنا کیسا ہے ـ ❻ مسجد کے قرآن پاک گھر لے جانا کیسا ہے ـ ❼ مکان گروی لینا کیسا ہے ـ ❽ گروی رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا کیسا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دارالافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ تراویح پر اجرت کا مسئلہ ـ بہار شریعت ـ ❷ تراویح پڑھانے کی اجرت لینے کا حکم ـ اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ بھی نہ ہو اور اجرت بھی جائز ہو جائے تو اس کی درج ذیل دو صورتیں ہو سکتی ہیں ـ مفتی قاسم عطاری صاحب ـ ❸ کیا مسجد کی چھت پر امام کے لئے مکان بنا سکتے ہیں ـ ❹ پیسے اور دوکان دے کر عقد مضاربت کی شرعی حیثیت ـ مفتی علی اصغر عطاری ـ ❺ اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہے کہنا کیسا ہے ـ ❻ مسجد کے قرآن پاک گھر لے جانا کیسا ہے ـ ❼ مکان گروی لینا کیسا ہے ـ ❽ گروی رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا کیسا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دارالافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سید صدر الدین المعروف راجن قتال بخاری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔
لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔
لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
❤1
آپ خدا کی ذات میں اس قدر مست و مستغرق تھے اس کے سوا کسی کو جانتے نہ تھے۔ مخلوق سےبالکل کنارہ کش رہتے تھے۔آپ کی تربیت وصحبت سے کئی افرادفسق وفجورسےتائب ہوکرتقویٰ والی زندگی گزارنےلگے۔شیخ سارنگ کےبارےمیں آتاہےانہوں نےآپ سےکہاحضرت !مجھے اپنےکھانےسےبچا ہواروٹی کاٹکڑاعنایت فرمائیں میں بطورِ تبرک تناول کروںگا۔آپ نےفرمایا:تم نمازِپنجگانہ کی پابندی کاوعدہ کروہم تبرک کاوعدہ کرتےہیں۔جب وہ نمازی بن گئے توآپ نےفرمایا:آگرآپ اشراق چاشت کاوعدہ کریں تو ہم اپنےساتھ تمہیں کھاناکھلائیں گے۔اللہ اکبر۔کیانیکی کاجذبہ تھا۔صرف اس کوتبرک دیکرتھپکی نہ دی بلکہ اس کونمازی وکامل بناکرچھوڑا۔
(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)
اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔
ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)
اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔
ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
❤1
حضرت ذوالنو ن مصری رحمتہ اللہ علیہ
طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ، سفینہ تحقیق و کرامت، صمصامِ شرف و ولایت حضرت ذوالنون ابن ابر اہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔
آپ کا نام ثوبان تھا ۔ اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے۔ آپ نے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند رکھا تھا ۔
انتظار رسول ﷺ:
مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کو پہنچاننے میں عاجز رہے اور اہل زمانہ آپ کے حال سے نا واقف رہے، یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہنچانا، جس رات آپ نے رحلت فرمائی تو اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے۔ میں اس کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔
بوقتِ وفات:
جب حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا تھا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ قتیل اللہ ۔ یہ اللہ کا محبوب ہے ۔ اللہ کی محبت میں فوت ہوا، یہ خدا کا شہید ہے۔
پرندوں کا سایہ کرنا:
لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کند ھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پر باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا، ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم و جفا پر لوگ پشیمان ہو ئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ۔
عارف کی ہر گھڑی:
طریقت و حقیقت اور علوم معرفت میں آپ کے کلمات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا: العارف کل یوم اخشع لانہ فی کل ساعتہ من الرب اَلاقرب ۔ یعنی خیثت الہیٰ میں عارف کا ہر لمحہ بڑھ کر ہے، اس لئے کہ اس کی ہر گھڑی رب سے زیادہ قریب ہے ۔ کیو نکہ بندہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کی حیرت و خشوع اور زیادہ ہوگی، چو نکہ وہ بارگاہ حق کے دبدبہ کا زیادہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے دل پر جلال حق غالب ہوتا ہے، جب وہ خود کو اس سے دور دیکھے گا تو اس کے وصال میں اور کوشِش کرےگا اس طرح خشوع پر خشوع کی حالت میں اضافہ ہوتا رہے گا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مکالمہ کے وقت عرض کیا: یا رب این اطلبک ۔ خدایا؟ تجھے کہاں تلاش کروں؟ حق تعالیٰ نے فرمایا: عند المنکسرۃ قلو بھم ۔ شکستہ دل اور اپنے صفائے قلب سے مایوس شدہ لوگوں کے پاس ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب ۔ مجھ سے زیادہ شکستہ دل اور نا امید شخص اور کون ہوگا؟ ارشاد فرمایا: میں وہیں ہو جہاں تم ہو ۔ معلوم ہوا کہ اسیا مدعی معرفت جو بے خوف و خشوع ہو وہ جاہل ہے، عارف نہیں ہے، کیو نکہ معر فت کی حقیقت کی سب سے بڑی علامت صدقِ ارادت ہے صدقِ ارادت خدا کے سوا سبب کے فنا کرنے والی اور تمام نسبتو ں کو قطع کرنے والی ہوتی ہے۔
اسم اعظم:
یو سف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتا یا گیا کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ اسم اعظم جانتے تھے۔میں مصر گیا اور ایک سال ان کی خدمت کی، پھر گزارش کی: استاذِ محترم! میں نے ایک سال آپ کی خدمت کی ہے، اب میرا آپ پر ایک حق ہے ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسم اعظم جانتے ہیں ۔ آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کرلی ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بھی اس امانت کا حق دار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم سِکھا دیں ۔ حضرت ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ عنقریب بتا دیں گے، چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت ذوالنون حیرہ میں رہتے تھے، آپ نے فرمایا: فطاط میں ہمارے فلاں دوست کے پاس لے جاؤ اور یہ برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا، اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص فلاں کو تحفہ بھیج رہا ہے، ؟ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے، مجھ سےصبر نہ ہو سکا۔ اس دوران میں دریائے نیل کے پل پر پہنچ گیا تھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چو ہے نے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا ۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا: حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں ۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ میں غصہ سے بھرا ہوا واپس آیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: احمق؟ ہم نے ایک چوہا بطور امانت دے کر تمہیں آزمایا لیکن تم آزمائش میں پورے نہ اترے، اسم اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کروگے؟
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-faiz-soban-bin-ibrahim-zunnoon-misri
طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ، سفینہ تحقیق و کرامت، صمصامِ شرف و ولایت حضرت ذوالنون ابن ابر اہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔
آپ کا نام ثوبان تھا ۔ اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے۔ آپ نے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند رکھا تھا ۔
انتظار رسول ﷺ:
مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کو پہنچاننے میں عاجز رہے اور اہل زمانہ آپ کے حال سے نا واقف رہے، یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہنچانا، جس رات آپ نے رحلت فرمائی تو اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے۔ میں اس کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔
بوقتِ وفات:
جب حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا تھا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ قتیل اللہ ۔ یہ اللہ کا محبوب ہے ۔ اللہ کی محبت میں فوت ہوا، یہ خدا کا شہید ہے۔
پرندوں کا سایہ کرنا:
لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کند ھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پر باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا، ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم و جفا پر لوگ پشیمان ہو ئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ۔
عارف کی ہر گھڑی:
طریقت و حقیقت اور علوم معرفت میں آپ کے کلمات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا: العارف کل یوم اخشع لانہ فی کل ساعتہ من الرب اَلاقرب ۔ یعنی خیثت الہیٰ میں عارف کا ہر لمحہ بڑھ کر ہے، اس لئے کہ اس کی ہر گھڑی رب سے زیادہ قریب ہے ۔ کیو نکہ بندہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کی حیرت و خشوع اور زیادہ ہوگی، چو نکہ وہ بارگاہ حق کے دبدبہ کا زیادہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے دل پر جلال حق غالب ہوتا ہے، جب وہ خود کو اس سے دور دیکھے گا تو اس کے وصال میں اور کوشِش کرےگا اس طرح خشوع پر خشوع کی حالت میں اضافہ ہوتا رہے گا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مکالمہ کے وقت عرض کیا: یا رب این اطلبک ۔ خدایا؟ تجھے کہاں تلاش کروں؟ حق تعالیٰ نے فرمایا: عند المنکسرۃ قلو بھم ۔ شکستہ دل اور اپنے صفائے قلب سے مایوس شدہ لوگوں کے پاس ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب ۔ مجھ سے زیادہ شکستہ دل اور نا امید شخص اور کون ہوگا؟ ارشاد فرمایا: میں وہیں ہو جہاں تم ہو ۔ معلوم ہوا کہ اسیا مدعی معرفت جو بے خوف و خشوع ہو وہ جاہل ہے، عارف نہیں ہے، کیو نکہ معر فت کی حقیقت کی سب سے بڑی علامت صدقِ ارادت ہے صدقِ ارادت خدا کے سوا سبب کے فنا کرنے والی اور تمام نسبتو ں کو قطع کرنے والی ہوتی ہے۔
اسم اعظم:
یو سف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتا یا گیا کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ اسم اعظم جانتے تھے۔میں مصر گیا اور ایک سال ان کی خدمت کی، پھر گزارش کی: استاذِ محترم! میں نے ایک سال آپ کی خدمت کی ہے، اب میرا آپ پر ایک حق ہے ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسم اعظم جانتے ہیں ۔ آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کرلی ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بھی اس امانت کا حق دار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم سِکھا دیں ۔ حضرت ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ عنقریب بتا دیں گے، چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت ذوالنون حیرہ میں رہتے تھے، آپ نے فرمایا: فطاط میں ہمارے فلاں دوست کے پاس لے جاؤ اور یہ برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا، اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص فلاں کو تحفہ بھیج رہا ہے، ؟ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے، مجھ سےصبر نہ ہو سکا۔ اس دوران میں دریائے نیل کے پل پر پہنچ گیا تھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چو ہے نے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا ۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا: حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں ۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ میں غصہ سے بھرا ہوا واپس آیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: احمق؟ ہم نے ایک چوہا بطور امانت دے کر تمہیں آزمایا لیکن تم آزمائش میں پورے نہ اترے، اسم اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کروگے؟
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-faiz-soban-bin-ibrahim-zunnoon-misri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Faiz Soban Bin Ibrahim Zunnoon Misri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1