حضرت صاحبزادہ پیر محمد کرم شاہ مدظلہ ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۴ء تک جامعہ ازہر میں رہے آخری امتحان میں پورے جامعہ ازہر میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور کلیۃ الشرعتیہ الاسلامیہ کی سب سے بڑی ڈگری لے کر واپس آئے۔اس عرصے میں حضرت پیر محمد شاہ قدس سرہ کی بیماری نے بڑی شدت اختیار کرلی لیکن آپ نے متعلقین کو تاکید ی حکم فرمایا کہ انہیں میری علالت کی شدت کی ہرگز اطلاع نہ دی جائے بلکہ اگر خدا نخواستہ کوئی سانحہ پیش آجائے تو بھی مطلع نہ کرنا تاکہ ان کی تعلیم میں خلل واقع نہ ہو،علم دین کی اس قدر والہانہ محبت کی مثال آج کے دور میں شاید کہیں پیش کی جا سکے ۔
۲۴شعبان،۲۶،مارچ(۱۳۷۶ھ؍۱۹۵۷ئ) منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو مجامد و غازی حضرت الحاج حافظ پیر محمد شاہ سجادہ نشینو امیر جند اللہ بھیرہ (سرگودھا) کا وصال ہوا۔انتقال کے روز سخت نقاہت تھی،اکثر اوقات خاموش رہتے جب کبھی آواز سنائی دیتی تو پتہ چلتا کہ سورئہ یٰسین یا سورئہ ملک کی کوئی آیت تلاوت کر رہے ہیں۔
وصال سے چند دن پہلے اکثر اس آیت مبارکہ کا ورد کرتے رہے شھد اللہ انہ لا انہ لا الہ الا ھو والملٰئکۃ واولو العلم قائما با لقسط(الاٰیۃ)
بھیرہ شریف میں ہر سال نہایت اہتمام سے آپ کا عرس ہوتا ہے جس میں بصد حسن و خوبی دین مبین کی تبلیغ ہوا کرتی ہے [1]
نوٹ:۔ یہ تمام حالات مولانا بنوارز اجمیری مدرس دار العلوم محمد یہ غوثیہ بھیرہ نے فراہم کئے جس کے لئے راقم ان کا شکر گزار ہے۔
[1] محمد عبد الحکیم شرف قادری
پیر محمد شاہ غازی ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، اکتوبر ۱۹۷۴ء ص ۸۱۔۸۶
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-shah-ghazi-bhervi
۲۴شعبان،۲۶،مارچ(۱۳۷۶ھ؍۱۹۵۷ئ) منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو مجامد و غازی حضرت الحاج حافظ پیر محمد شاہ سجادہ نشینو امیر جند اللہ بھیرہ (سرگودھا) کا وصال ہوا۔انتقال کے روز سخت نقاہت تھی،اکثر اوقات خاموش رہتے جب کبھی آواز سنائی دیتی تو پتہ چلتا کہ سورئہ یٰسین یا سورئہ ملک کی کوئی آیت تلاوت کر رہے ہیں۔
وصال سے چند دن پہلے اکثر اس آیت مبارکہ کا ورد کرتے رہے شھد اللہ انہ لا انہ لا الہ الا ھو والملٰئکۃ واولو العلم قائما با لقسط(الاٰیۃ)
بھیرہ شریف میں ہر سال نہایت اہتمام سے آپ کا عرس ہوتا ہے جس میں بصد حسن و خوبی دین مبین کی تبلیغ ہوا کرتی ہے [1]
نوٹ:۔ یہ تمام حالات مولانا بنوارز اجمیری مدرس دار العلوم محمد یہ غوثیہ بھیرہ نے فراہم کئے جس کے لئے راقم ان کا شکر گزار ہے۔
[1] محمد عبد الحکیم شرف قادری
پیر محمد شاہ غازی ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، اکتوبر ۱۹۷۴ء ص ۸۱۔۸۶
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-shah-ghazi-bhervi
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت: مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں…
پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے ـ مزید تفصیل کے لئے علمی محاسبہ نامی کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں ـ یہ مکمل کتاب pdf فائِل میں نیچے ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/71130
https://t.me/islaamic_Knowledge/71130
👌1
علمی محاسبہ ilmi Muhasaba
@islaamic_Knowledge
پچاس 50 سے زائد علماء ؤ مفتیان کرام کے فتاوی و تصدیقات کے ساتھ جسٹس کرم شاہ ازہری کے اہلسنت و جماعت سے اعتزالی نظریات کا تحقیقی و علمی محاسبہ
@Maslake_Aalaa_Hazrat
✍ مولانا محمد فاروق رضوی UK
کرم شاہ کا اللہ تعالی کو ستم ظریف
کہنا اور اس پر مکمل رد پیش ہے ...
@islaamic_Knowledge
پچاس 50 سے زائد علماء ؤ مفتیان کرام کے فتاوی و تصدیقات کے ساتھ جسٹس کرم شاہ ازہری کے اہلسنت و جماعت سے اعتزالی نظریات کا تحقیقی و علمی محاسبہ
@Maslake_Aalaa_Hazrat
✍ مولانا محمد فاروق رضوی UK
کرم شاہ کا اللہ تعالی کو ستم ظریف
کہنا اور اس پر مکمل رد پیش ہے ...
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Qawwamuddin Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1445 ᴴ | 06-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1