خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
اس اعزاز و اکرام کا سبب یہ ہوا کہ دورانِ جماعت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نے مولانا کی رفعتِ مرتبت کے باعث اجازت و خلافت عطاء کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت ص:47 / خلفائے اعلی حضرت ص:127)
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
scholars.pk
Hazrat Molana Khawaja Ahmed Hussain Amrohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ
حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں رونق افزائے وار دنیا ہوئے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ الاسلام بہاء الحق و الدین ابو محمد زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ (جن کی دینی خدمات تاریخ اسلامی کا روشن ترین باب ہیں) سے ہوتا ہوا اصحاب صفہ میں سے صحابیٔ رسول حضرت ہبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
قریباً تین سو سال پہلے حضرت شیخ الاسلام کے خاندان کے ممتاز فرد حضرت دیوان پیر فتح شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھیرہ میں تشریف لائے اور رشد و ہدایت اور تبلیغ اسلام کا وہ چراغ روشن کیا جو آپ کی اولاد امجاد کی بدولت ہمیشہ در خشندہ و تابندہ رہا حتیٰ کہ یہ مرکزیت اور دینی قیادت حضرت پیر محمد اہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی ۔
حضرت پیر محمد شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ سن شعور کو پہنچے تو مکتب میں بٹھائے گئے جہاں آپ نے حافظ محمد موسیٰ اور حافظ جہان سے قرآن کریم حفظ کیا بعد ازاں اگرچہ درس نظامی کی تکمیل نہیں کی لیکن بہت سے اساتذہ سے بہت حد تک ضروری مسائل کی واقفیت حاصل کر لی ۔
قرآن پاک کے ساتھ آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا ۔ رمضان شریف میں تراویح کے علاوہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں قرآن مجید کا ختم آپ کا معمول تھا ۔ قدرت نے آپ کو لحن داوٗدی عطا فرمایا تھا، جب آپ تراویح میں قرآن پاک پڑھتے تو بعض ہندو مسجد کے باہر بیٹھ کر ذوق و شوق سے سُنا کرتے تھے ۔
والد گرامی نے بڑی توجہ سے آپ کی تربیت فرمائی اور مناسب وقت پر حضرت خواجہ ضیا ء الدین سیالوی قدس سرہ العزیز سے بیعت کرا دیا حضرت خواجہ نے مختلف ریاضتیں کرانے کے بعد آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور خلق خدا کی رہنمائی کا کام آپ کے سپرد کیا جسے آپ نے اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید، عبادت و ریاضت میں حویت کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر صوم داوٗدی (ایک دن روزہ اور ایک دن افطار) رکھتے اور نماز تہجد اور دیگر نوافل اس پابندی سے ادا کرتے کہ حالت علالت میں بھی شاید ہی کبھی قضا ہوئے ہوںگے ۔ نماز با جماعت ادا کرنے کے خیال سے سفر میں کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ضرور رکھتے ۔ پندرہ شعبان سے آخر رمضان تک اعتکاف میں رہتے، وصال سے چند سال قبل تک آپ کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد دریائے جہلم کے کنارے تشریف لے جاتے اور رات کو نو، دس بجے تک اور اوراد و وظائف میں مشغول رہ کر واپس تشریف لاتے ۔
علوم دینیہ کی ترویج سے آپ کو فطری لگاؤ تھا جس کی بنا پر آپ نے والد گرامی کی موجودگی میں مدرسہ تدریس القرآن قائم کیا جو اب تک جاری ہے، ایک پرائمری اِسکول کھولا تاکہ قوم کے نونہال لکھنے پڑھنے کے قابل بن سکیں ۔ ۱۹۲۵ء میں تعلیم المسلمین کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم کی جس میں اپنے دور کے مقتدر فضلاء کو تدریس کے لئے مقرر کیا ۔ اس دار العلوم نے خاطر خواہ ترقی کی اور قابل قدر دینی و علمی خدمات انجام دیں ـ
۱۹۵۶ء میں آپ کے فرزند پیر کرم شاہ ازہری (پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے) مدین ماہنامہ ضیائے حرم نے دار العلوم غوثیہ (بھیرہ) کے نام سے ایک خوشگوار انقلاب پیدا کیا اور دار العلوم کے نصاب میں قدیم و جدید علوم کو یکجا کر دیا، اپنی نوع کا یہ منفرد دار العلوم بڑی کامیابی سے جانبِ منزل گامزن ہے ۔
قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی زبوں حالی اور بے عملی آپ کو ہمیشہ بے چین رکھتی اور خاص طور پر جب مسلمانوں کو ہدنو نبیوں کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا دیکھتے تو بے قرار ہو جاتے اس لئے آپ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کا تبلیغی دورہ کرتے اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے، سودی قرضوں سے نجات پانے کے لئے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور تجارت میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی بھر پور تبلیغ فرماتے ۔
تحریک پاکستان کے زمانے میں بڑی گر مجوشی سے مسلم لیگ کی تائد و حمایت کی، اپنے حلقۂ اثر میں بکثرت طوفانی دور ے کئے اور مسلم لیگی امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے فضا ہموار کی، اگر کسی مرید نے کسی مجبوری کے تحت مسلم لیگ کو ووٹ دینے میں پس و پیش کی تو اس سے تعلق قطع کرلیا جب قائد اعظم کے ایماء پر نا فرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور قید بند کی صعوبتوں کی خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔
حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں رونق افزائے وار دنیا ہوئے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ الاسلام بہاء الحق و الدین ابو محمد زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ (جن کی دینی خدمات تاریخ اسلامی کا روشن ترین باب ہیں) سے ہوتا ہوا اصحاب صفہ میں سے صحابیٔ رسول حضرت ہبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
قریباً تین سو سال پہلے حضرت شیخ الاسلام کے خاندان کے ممتاز فرد حضرت دیوان پیر فتح شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھیرہ میں تشریف لائے اور رشد و ہدایت اور تبلیغ اسلام کا وہ چراغ روشن کیا جو آپ کی اولاد امجاد کی بدولت ہمیشہ در خشندہ و تابندہ رہا حتیٰ کہ یہ مرکزیت اور دینی قیادت حضرت پیر محمد اہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی ۔
حضرت پیر محمد شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ سن شعور کو پہنچے تو مکتب میں بٹھائے گئے جہاں آپ نے حافظ محمد موسیٰ اور حافظ جہان سے قرآن کریم حفظ کیا بعد ازاں اگرچہ درس نظامی کی تکمیل نہیں کی لیکن بہت سے اساتذہ سے بہت حد تک ضروری مسائل کی واقفیت حاصل کر لی ۔
قرآن پاک کے ساتھ آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا ۔ رمضان شریف میں تراویح کے علاوہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں قرآن مجید کا ختم آپ کا معمول تھا ۔ قدرت نے آپ کو لحن داوٗدی عطا فرمایا تھا، جب آپ تراویح میں قرآن پاک پڑھتے تو بعض ہندو مسجد کے باہر بیٹھ کر ذوق و شوق سے سُنا کرتے تھے ۔
والد گرامی نے بڑی توجہ سے آپ کی تربیت فرمائی اور مناسب وقت پر حضرت خواجہ ضیا ء الدین سیالوی قدس سرہ العزیز سے بیعت کرا دیا حضرت خواجہ نے مختلف ریاضتیں کرانے کے بعد آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور خلق خدا کی رہنمائی کا کام آپ کے سپرد کیا جسے آپ نے اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید، عبادت و ریاضت میں حویت کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر صوم داوٗدی (ایک دن روزہ اور ایک دن افطار) رکھتے اور نماز تہجد اور دیگر نوافل اس پابندی سے ادا کرتے کہ حالت علالت میں بھی شاید ہی کبھی قضا ہوئے ہوںگے ۔ نماز با جماعت ادا کرنے کے خیال سے سفر میں کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ضرور رکھتے ۔ پندرہ شعبان سے آخر رمضان تک اعتکاف میں رہتے، وصال سے چند سال قبل تک آپ کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد دریائے جہلم کے کنارے تشریف لے جاتے اور رات کو نو، دس بجے تک اور اوراد و وظائف میں مشغول رہ کر واپس تشریف لاتے ۔
علوم دینیہ کی ترویج سے آپ کو فطری لگاؤ تھا جس کی بنا پر آپ نے والد گرامی کی موجودگی میں مدرسہ تدریس القرآن قائم کیا جو اب تک جاری ہے، ایک پرائمری اِسکول کھولا تاکہ قوم کے نونہال لکھنے پڑھنے کے قابل بن سکیں ۔ ۱۹۲۵ء میں تعلیم المسلمین کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم کی جس میں اپنے دور کے مقتدر فضلاء کو تدریس کے لئے مقرر کیا ۔ اس دار العلوم نے خاطر خواہ ترقی کی اور قابل قدر دینی و علمی خدمات انجام دیں ـ
۱۹۵۶ء میں آپ کے فرزند پیر کرم شاہ ازہری (پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے) مدین ماہنامہ ضیائے حرم نے دار العلوم غوثیہ (بھیرہ) کے نام سے ایک خوشگوار انقلاب پیدا کیا اور دار العلوم کے نصاب میں قدیم و جدید علوم کو یکجا کر دیا، اپنی نوع کا یہ منفرد دار العلوم بڑی کامیابی سے جانبِ منزل گامزن ہے ۔
قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی زبوں حالی اور بے عملی آپ کو ہمیشہ بے چین رکھتی اور خاص طور پر جب مسلمانوں کو ہدنو نبیوں کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا دیکھتے تو بے قرار ہو جاتے اس لئے آپ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کا تبلیغی دورہ کرتے اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے، سودی قرضوں سے نجات پانے کے لئے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور تجارت میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی بھر پور تبلیغ فرماتے ۔
تحریک پاکستان کے زمانے میں بڑی گر مجوشی سے مسلم لیگ کی تائد و حمایت کی، اپنے حلقۂ اثر میں بکثرت طوفانی دور ے کئے اور مسلم لیگی امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے فضا ہموار کی، اگر کسی مرید نے کسی مجبوری کے تحت مسلم لیگ کو ووٹ دینے میں پس و پیش کی تو اس سے تعلق قطع کرلیا جب قائد اعظم کے ایماء پر نا فرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور قید بند کی صعوبتوں کی خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔
قیام پاکستان کے بعد جب آزادیٔ کشمیر کی جنگ شروع ہوئی تو حضرت پیر محمد شاہ قدس سرہ نے اپنے پچاس مریدوں کے ساتھ (جو سابق فوجی تھے) میدان کا رازا ر میں عملی طورپر مردانہ وار حصہ لیا۔سچیت گڑھ(بھارت) کے مقابل موضع بولے ونیس (ضلع سیال کوٹ) میں ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔آپ کے پاس روسی ساخت کی ایک بہترین رائفل تھی،آپ کے حکم پر ایک مرید نے اسی رائفل سے دشمن کے جہاز پر تین فائز کئے نتیجۃً وہ بھارت کے علاقہ میں جاکر گر گیا۔ایک دن مغرب کے وقت بھارتی ہوائی جہاز نے آکر گولیوں کی بارش کردی۔آپ اپنے تمام ساتھیوں سمیت اطمینان سے نماز ادا کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی کو خراش تک نہ آئی۔
کچھ دنوں بعد آپ کو باجرہ گڑھی (آزاد کشمیر) کے محاذ پر مقرر کردیا گیا جہاں آپ نے کرنل کیانی(راجہ حامد مختار سابق ایڈمنسٹر یٹر محکمہ اوقاف پنجاب کے برادر محترم) کی قیادت میں مجاہدانہ کار وائیاں جاری رکھیں دسمبر اور جنوری کی برفانی راتوں میں پیرانہ سالی کی پرواکئے بغیر مجاہدین کے ہمراہندی نالوں ار نشیب و فراز کو طے کرتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچ جاتے اور دادشجاعت دیتے،بعض احباب جب آپ کو آرام کرے کا مشورہ دیتے تو آپ فرماتے: ’’میں یہاں آرام کرنے کی خاطر نہیں آیا، مجھے تو شوق شہادت کشاں کشاں یہاں تک لے آیا ہے،دعا کیجئے کہ مجھے یہ سعادت نصیب ہو جاتے ۔‘‘
اس جگہ آپ نے قریباً تین ماہ گزارے،ہر شخص آپ کے جوش ایمانی اور جذبۂ جہاد سے متاثر تھا،ذیل میں وہ سر ٹیفکیٹ درج کیا جاتا ہے جو کرنل کیانی ن ے اعتراف خدمت کے طور پر ااپ کو لکھ کر دیا تھا:
I feel great honour in introuducing pir Muhammad Shah Sahib Sajjada Nashin and Amir Jund-ullah Bhera Shrif
He together With his worked in my sector for about three months
in his old age he him self led his men in the battefield
A true patriot and a great inspiration all i wish we had more sodiers like him
(I.J. KIANI)
A.K.F.
Sialkot
ترجمہ: ’’میں پیر محد شاہ صاحب کا تعارف کراتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کر رہا ہوں، آپ نے اپنے پچاس مجاہدین کے ساتھ تقریباً تین ماہ تک میرے سیکڑ میں کام کیا، پیرانہ سالی کے باوجود میدان کا راز میں بہ تفس نفیس اپنے مجاہدین کی قیادت کی، آپ سچے محب وطن اور سب کے لئے عطیم مشعل راہ ہیں،میری تمنا ہے کہ آپ جیسے مزید سپاہی ہماری میراث بنیں۔‘‘
ٓٓٓٓٗٓٓآئی جے کیانی
آزاد کشمیر فوز
آپ کی اولاد میں سے دو صاحبزادے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں:۔
۱۔ حضرت مولانا پیر محمد کرم شاہ مدظلہ فاضل جامعہ ازہر (فرزند اکبر)
۲۔ جناب صاحبزادہ غلام حیدر شاہ انچارج سول ہسپتال سکھیگی(گوجرانوالہ) چونکہ آپ کو اس امر کا قوی احساس تھا کہ گہر تعلیمی شعو ہی مسلمانوں کو پستی سے نکال کر باعزت مقام پر پہنچا سکتا ہے اس لئے اپنی اولاد کو زیور علم سے آراستہ کرنے میںکوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا،خاص طور پر رفرزند اکبر مولاناپیر محمد کرم شاہ مدظلہ کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی چنانچہ علوم عقلیہ کی تعلیم کے لئے امامالمناطقہ مولانا محمد دین بدھوی (کیمبلپور) اور فقہ،تفسیر،عروض اور ریاضی وغیرہ علوم کے لئے قدوۃ الفضلاء مولانا غلام محمود قدس سرہ(پیلاں۔میانوالی) مصنف نجم الرحمن و محشی تکملہ عبد الغفور کو مدو کیا، دورئہ حدیث کے لئے قائد اہل سنت صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں جامہ نعیمیہ مراد آباد بھیجا،بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی ۔اے کرایا۔
اس کے باوجود آپ کو اپنے لخت جگر کو مزیا تعلیم دلانے کا اشتیاق تھا۔ اس مقصد کے لئے اپنے نور نظر کو جامعہ ازہر (مصر) بھیجا۔بلڈ پریشر کے عارضہ میں مبتلا ہونے کے با وجود اس طویل سفر پر روانہ کیا اور رخصت کرتے وقت فرمایا:۔
’’اس وقت جب کہ مجھے تمہاری اشد ضرورت ہے دور دراز سفر پر اس لئے روانہ کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دولت علم سے نوازے اور اپنے دین کی خدمت کی توفیق ارزانی فرمائے ۔ ‘‘
کچھ دنوں بعد آپ کو باجرہ گڑھی (آزاد کشمیر) کے محاذ پر مقرر کردیا گیا جہاں آپ نے کرنل کیانی(راجہ حامد مختار سابق ایڈمنسٹر یٹر محکمہ اوقاف پنجاب کے برادر محترم) کی قیادت میں مجاہدانہ کار وائیاں جاری رکھیں دسمبر اور جنوری کی برفانی راتوں میں پیرانہ سالی کی پرواکئے بغیر مجاہدین کے ہمراہندی نالوں ار نشیب و فراز کو طے کرتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچ جاتے اور دادشجاعت دیتے،بعض احباب جب آپ کو آرام کرے کا مشورہ دیتے تو آپ فرماتے: ’’میں یہاں آرام کرنے کی خاطر نہیں آیا، مجھے تو شوق شہادت کشاں کشاں یہاں تک لے آیا ہے،دعا کیجئے کہ مجھے یہ سعادت نصیب ہو جاتے ۔‘‘
اس جگہ آپ نے قریباً تین ماہ گزارے،ہر شخص آپ کے جوش ایمانی اور جذبۂ جہاد سے متاثر تھا،ذیل میں وہ سر ٹیفکیٹ درج کیا جاتا ہے جو کرنل کیانی ن ے اعتراف خدمت کے طور پر ااپ کو لکھ کر دیا تھا:
I feel great honour in introuducing pir Muhammad Shah Sahib Sajjada Nashin and Amir Jund-ullah Bhera Shrif
He together With his worked in my sector for about three months
in his old age he him self led his men in the battefield
A true patriot and a great inspiration all i wish we had more sodiers like him
(I.J. KIANI)
A.K.F.
Sialkot
ترجمہ: ’’میں پیر محد شاہ صاحب کا تعارف کراتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کر رہا ہوں، آپ نے اپنے پچاس مجاہدین کے ساتھ تقریباً تین ماہ تک میرے سیکڑ میں کام کیا، پیرانہ سالی کے باوجود میدان کا راز میں بہ تفس نفیس اپنے مجاہدین کی قیادت کی، آپ سچے محب وطن اور سب کے لئے عطیم مشعل راہ ہیں،میری تمنا ہے کہ آپ جیسے مزید سپاہی ہماری میراث بنیں۔‘‘
ٓٓٓٓٗٓٓآئی جے کیانی
آزاد کشمیر فوز
آپ کی اولاد میں سے دو صاحبزادے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں:۔
۱۔ حضرت مولانا پیر محمد کرم شاہ مدظلہ فاضل جامعہ ازہر (فرزند اکبر)
۲۔ جناب صاحبزادہ غلام حیدر شاہ انچارج سول ہسپتال سکھیگی(گوجرانوالہ) چونکہ آپ کو اس امر کا قوی احساس تھا کہ گہر تعلیمی شعو ہی مسلمانوں کو پستی سے نکال کر باعزت مقام پر پہنچا سکتا ہے اس لئے اپنی اولاد کو زیور علم سے آراستہ کرنے میںکوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا،خاص طور پر رفرزند اکبر مولاناپیر محمد کرم شاہ مدظلہ کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی چنانچہ علوم عقلیہ کی تعلیم کے لئے امامالمناطقہ مولانا محمد دین بدھوی (کیمبلپور) اور فقہ،تفسیر،عروض اور ریاضی وغیرہ علوم کے لئے قدوۃ الفضلاء مولانا غلام محمود قدس سرہ(پیلاں۔میانوالی) مصنف نجم الرحمن و محشی تکملہ عبد الغفور کو مدو کیا، دورئہ حدیث کے لئے قائد اہل سنت صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں جامہ نعیمیہ مراد آباد بھیجا،بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی ۔اے کرایا۔
اس کے باوجود آپ کو اپنے لخت جگر کو مزیا تعلیم دلانے کا اشتیاق تھا۔ اس مقصد کے لئے اپنے نور نظر کو جامعہ ازہر (مصر) بھیجا۔بلڈ پریشر کے عارضہ میں مبتلا ہونے کے با وجود اس طویل سفر پر روانہ کیا اور رخصت کرتے وقت فرمایا:۔
’’اس وقت جب کہ مجھے تمہاری اشد ضرورت ہے دور دراز سفر پر اس لئے روانہ کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دولت علم سے نوازے اور اپنے دین کی خدمت کی توفیق ارزانی فرمائے ۔ ‘‘
حضرت صاحبزادہ پیر محمد کرم شاہ مدظلہ ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۴ء تک جامعہ ازہر میں رہے آخری امتحان میں پورے جامعہ ازہر میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور کلیۃ الشرعتیہ الاسلامیہ کی سب سے بڑی ڈگری لے کر واپس آئے۔اس عرصے میں حضرت پیر محمد شاہ قدس سرہ کی بیماری نے بڑی شدت اختیار کرلی لیکن آپ نے متعلقین کو تاکید ی حکم فرمایا کہ انہیں میری علالت کی شدت کی ہرگز اطلاع نہ دی جائے بلکہ اگر خدا نخواستہ کوئی سانحہ پیش آجائے تو بھی مطلع نہ کرنا تاکہ ان کی تعلیم میں خلل واقع نہ ہو،علم دین کی اس قدر والہانہ محبت کی مثال آج کے دور میں شاید کہیں پیش کی جا سکے ۔
۲۴شعبان،۲۶،مارچ(۱۳۷۶ھ؍۱۹۵۷ئ) منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو مجامد و غازی حضرت الحاج حافظ پیر محمد شاہ سجادہ نشینو امیر جند اللہ بھیرہ (سرگودھا) کا وصال ہوا۔انتقال کے روز سخت نقاہت تھی،اکثر اوقات خاموش رہتے جب کبھی آواز سنائی دیتی تو پتہ چلتا کہ سورئہ یٰسین یا سورئہ ملک کی کوئی آیت تلاوت کر رہے ہیں۔
وصال سے چند دن پہلے اکثر اس آیت مبارکہ کا ورد کرتے رہے شھد اللہ انہ لا انہ لا الہ الا ھو والملٰئکۃ واولو العلم قائما با لقسط(الاٰیۃ)
بھیرہ شریف میں ہر سال نہایت اہتمام سے آپ کا عرس ہوتا ہے جس میں بصد حسن و خوبی دین مبین کی تبلیغ ہوا کرتی ہے [1]
نوٹ:۔ یہ تمام حالات مولانا بنوارز اجمیری مدرس دار العلوم محمد یہ غوثیہ بھیرہ نے فراہم کئے جس کے لئے راقم ان کا شکر گزار ہے۔
[1] محمد عبد الحکیم شرف قادری
پیر محمد شاہ غازی ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، اکتوبر ۱۹۷۴ء ص ۸۱۔۸۶
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-shah-ghazi-bhervi
۲۴شعبان،۲۶،مارچ(۱۳۷۶ھ؍۱۹۵۷ئ) منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو مجامد و غازی حضرت الحاج حافظ پیر محمد شاہ سجادہ نشینو امیر جند اللہ بھیرہ (سرگودھا) کا وصال ہوا۔انتقال کے روز سخت نقاہت تھی،اکثر اوقات خاموش رہتے جب کبھی آواز سنائی دیتی تو پتہ چلتا کہ سورئہ یٰسین یا سورئہ ملک کی کوئی آیت تلاوت کر رہے ہیں۔
وصال سے چند دن پہلے اکثر اس آیت مبارکہ کا ورد کرتے رہے شھد اللہ انہ لا انہ لا الہ الا ھو والملٰئکۃ واولو العلم قائما با لقسط(الاٰیۃ)
بھیرہ شریف میں ہر سال نہایت اہتمام سے آپ کا عرس ہوتا ہے جس میں بصد حسن و خوبی دین مبین کی تبلیغ ہوا کرتی ہے [1]
نوٹ:۔ یہ تمام حالات مولانا بنوارز اجمیری مدرس دار العلوم محمد یہ غوثیہ بھیرہ نے فراہم کئے جس کے لئے راقم ان کا شکر گزار ہے۔
[1] محمد عبد الحکیم شرف قادری
پیر محمد شاہ غازی ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، اکتوبر ۱۹۷۴ء ص ۸۱۔۸۶
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-shah-ghazi-bhervi
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت: مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں…
پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے ـ مزید تفصیل کے لئے علمی محاسبہ نامی کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں ـ یہ مکمل کتاب pdf فائِل میں نیچے ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/71130
https://t.me/islaamic_Knowledge/71130
👌1
علمی محاسبہ ilmi Muhasaba
@islaamic_Knowledge
پچاس 50 سے زائد علماء ؤ مفتیان کرام کے فتاوی و تصدیقات کے ساتھ جسٹس کرم شاہ ازہری کے اہلسنت و جماعت سے اعتزالی نظریات کا تحقیقی و علمی محاسبہ
@Maslake_Aalaa_Hazrat
✍ مولانا محمد فاروق رضوی UK
کرم شاہ کا اللہ تعالی کو ستم ظریف
کہنا اور اس پر مکمل رد پیش ہے ...
@islaamic_Knowledge
پچاس 50 سے زائد علماء ؤ مفتیان کرام کے فتاوی و تصدیقات کے ساتھ جسٹس کرم شاہ ازہری کے اہلسنت و جماعت سے اعتزالی نظریات کا تحقیقی و علمی محاسبہ
@Maslake_Aalaa_Hazrat
✍ مولانا محمد فاروق رضوی UK
کرم شاہ کا اللہ تعالی کو ستم ظریف
کہنا اور اس پر مکمل رد پیش ہے ...
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Qawwamuddin Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1445 ᴴ | 06-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1